Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران فی الحال یورینیم افزودگی نہیں کر رہا،امریکا

    ایران فی الحال یورینیم افزودگی نہیں کر رہا،امریکا

    امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس صلاحیت کے حصول کی کوشش ضرور کر رہا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش میں بھی مصروف ہے ایران کے پاس ایسے روایتی ہتھیار موجود ہیں جو امریکا پر حملے کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات زیادہ تر اس کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوں گے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ سفارت کاری کبھی مکمل طور پر ختم ہوتی یا میز سے ہٹتی ہے۔

    دوسری جانب امریکا نے ایران کے جواہری معاہدے کے لیے مذاکرات سے قبل ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں۔

    30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ،ڈرون ایکٹیویٹی پر پابندی

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے 30 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے ، جن پر ایرانی پیٹرولیم کی غیر قانونی فروخت اور اسلحہ سازی میں معاونت کرنے کا الزام ہے،ایران کے مبینہ شیڈو فلیٹ میں شامل جہازوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو ایرانی تیل و پیٹرولیم مصنوعات کو بیرونی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں،اس اقدام کا مقصد ایرانی حکومت کے مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران مالیاتی نظام کا استعمال غیر قانونی تیل فروخت کرنے، اس کی آمدنی چھپانے، اپنے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کیلئے پرزہ جات حاصل کرنے اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت کیلیے کرتا ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کی ہتھیاروں کی صلاحیت اور دہشتگردی کی حمایت کو ختم کرنے کیلئےٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے گی۔

  • سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایران کے خلاف طاقت کا آپشن موجود ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس

    سفارتکاری ناکام ہوئی تو ایران کے خلاف طاقت کا آپشن موجود ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس

    واشنگٹن:امریکہ نےعندیہ دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئیں تو فوجی آپشن کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارتکاری رہی ہے، تاہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کے استعمال کا فیصلہ بھی ان کے اختیار میں ہے۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت کو ایران سے متعلق تازہ صورتحال پر بریفنگ دیں گے جہاں خطے میں بڑھتی کشیدگی اور جوہری پروگرام کے معاملات زیر بحث آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے ہی ایران کو معاہدے کے لیے محدود مہلت دے چکے ہیں جبکہ توقع ہے کہ وہ آئندہ خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ اقدامات کے حوالے سے اپنا واضح مؤقف پیش کریں گے۔

    ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب

    بھارتی شہری نے اپنی اہلیہ کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    بھارتی حیدرآباد:رمضان کے دوران5 خصوصی پکوان ، جن کے بغیر سحری ممکن نہیں

  • ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب

    ایران چین سے سپرسونک اینٹی شپ میزائل خریدنے کے قریب

    ایران چین کےساتھ اینٹی شپ کروز میزائل خریدنے کے معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے-

    امریکا ممکنہ حملوں سے قبل ایرانی ساحل کے قریب بڑی بحری قوت تعینات کر رہا ہےچین ساختہ سی ایم 302 میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ تکمیل کے قریب ہے، تاہم ترسیل کی تاریخ طے نہیں ہوئی، یہ سپرسونک میزائل تقریباً 290 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نچلی پرواز اور تیز رفتار کے ذریعے جہازوں کے دفاعی نظام سے بچنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران یہ میزائل حاصل کر لیتا ہے تو اس سے اس کی دفاعی اور حملہ کرنے کی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا جو خطے میں موجود امریکی بحری افواج کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے اس معاہدے کے لیے مذاکرات گزشتہ دو سالوں سے جاری تھے لیکن جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے بعد ان میں تیزی آگئی گزشتہ موسم گرما میں ایران کے نائب وزیر دفاع مسعود اورائی نے خود چین کا دورہ کیا تاکہ اس سودے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    بھارتی شہری نے اپنی اہلیہ کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ان میزائلوں کی موجودگی جنگ کی صورتحال کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے کیونکہ انہیں روکنا انتہائی مشکل کام ہے۔

    دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے اس قسم کے کسی بھی معاہدے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی وائٹ ہاؤس نے اس پر براہ راست تبصرہ کرنے کے بجائے یہ کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا موقف واضح ہے کہ یا تو ایران کے ساتھ نیا معاہدہ ہوگا یا پھر سخت کارروائی کی جائے گی امریکا اس وقت ایر ان کے قریب اپنے دو بڑے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ روانہ کر چکا ہے، جن پر 5 ہزار سے زائد اہلکار اور 150 کے قریب جنگی طیارے موجود ہیں۔

    میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    اس صورتحال میں چین اور ایران کے بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات امریکا کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں جو ایران کے میزائل پروگرام اور ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران پر ماضی میں اقوام متحدہ کی جانب سے اسلحے کی پابندی عائد تھی جو مختلف ادوار میں معطل اور پھر بحال ہوتی رہی ہےحالیہ کشیدگی کے دوران صدر شی جن پنگ نے بھی ایرانی صدر کی حمایت کا یقین دلایا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایر ا ن کے ساتھ کھڑا ہے،ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیے گئے سیکیورٹی معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔

    سعودی عرب کا شاندار ماضی، مستحکم حال اور روشن مستقبل،تحریر: کامران اشرف

  • میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تاریخ کا طویل ترین اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا، جو تقریباً ایک گھنٹہ 48 منٹ جاری رہا اپنے دوسرے دور صدارت کے پہلا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا ک ہمیں پاکستان اور انڈیا جنگ سمیت 8 جنگیں رکوائیں، پاکستان اور انڈیا ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں نے 35 ملین انسانوں کی جانیں بچائیں۔

    ٹرمپ نے اپنی تقریر کا بڑا حصہ امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے پر مرکوز رکھا۔انہوں نے اعلان کیا کہ رواں سال 4جولائی کی تقریبات غیر معمولی ہوں گی، ‘ٹیکساس کے سرحدی قصبوں سے لے کر مشی گن کے دیہات تک اور فلوریڈا کے ساحلوں سے ڈکوٹا کے کھلے میدانوں تک، امریکا کا سنہری دور آ چکا ہے،صدر نے اپنی دوسری حلف برداری کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ‘گولڈن ایج’ کا وعدہ پورا کر دکھایا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کررہے ہیں، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو ایران میں حکومت نے 32 ہزار مظاہرین کو قتل کیا، ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں، ہم امن بزور طاقت پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے گزشتہ برس کی کارروائی ‘آپریشن مڈنائٹ ہیمر’ کا ذکر کیا جس میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں نے ملک کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا،ہم سننا چاہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنارہا، تہران نے یہ واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

    ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ‘آمرانہ دور کا خاتمہ’ قرار دیا انہوں نے میکسیکو میں بدنام زمانہ منشیات فروش ایل مینچو کی ہلاکت اور جنوبی امریکا کے ساحلی پانیوں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کو بھی سراہا ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے امریکا میں منشیات کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    صدر نے کہا کہ ان کی ‘امن بذریعہ طاقت’ حکمت عملی کے تحت امریکی فوج کو دنیا کی طاقتور ترین فوج بنایا جا رہا ہے انہوں نے ریپبلکن ارکان کو دفاعی بجٹ میں اضافے پر سراہا اور نیٹو اتحادیوں پر بھی دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ذکر کیا۔

    صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکاغیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں، فینٹانائل کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے اور غیر قانونی سرحدی عبور کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

    معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے اسٹاک مارکیٹ نے درجنوں ریکارڈ قائم کیےانہوں نے کہا کہ ‘امریکی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک ایک سال میں ‘تاریخی تبدیلی’ سے گزرا ہے۔

    ٹرمپ نے ‘جرائم کے حامی سیاست دانوں’ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کانگریس سے سخت قوانین منظور کرنے کا مطالبہ کیا خطاب کے دوران متعدد ڈیمو کریٹ ارکان نے احتجاج کیاٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن ایل گرین کو احتجاجی پلے کارڈ اٹھانے پر ایوان سے باہر لے جایا گیا مینیسوٹا سے کانگریس کی رکن الہان عمر نے بھی نعرے بازی کی،صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ‘دھوکہ دہی کے خلاف جنگ’ کی قیادت سونپنے کا اعلان کیا۔

    خطاب کے دوران صدر نے واشنگٹن میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والی نیشنل گارڈ رکن کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور زخمی اہلکار کو ‘پرپل ہارٹ’ تمغہ دینے کا اعلان کیاانہوں نے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی امریکی مردوں کی ہاکی ٹیم کو بھی متعارف کرایا اور گول کیپر کو صدارتی تمغۂ آزادی دینے کا اعلان کیا۔

    خطاب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ‘ریاستِ متحدہ مضبوط ہے، دشمن خوفزدہ ہیں اور امریکا دوبارہ جیت رہا ہےملک ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے،صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

  • جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ایران

    جنگ ہوئی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ایران

    تہران: ایران نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے تک پھیل جائیں گے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکا اور اسرائیل کا نام لیے بغیر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ جنگ کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے ایران کے دشمن کو مبینہ 12 روزہ جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور اب افراتفری اور بدامنی پھیلا کر ایک اور فوجی آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ دشمن جنگ شروع کرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں تاہم اسے اپنے انجام تک پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایسے بیانات سفارتی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایران ممکنہ جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسیع تیاریوں میں مصروف ہے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک کے اہم اختیارات بڑی حد تک نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو سونپ دیے ہیں۔

    امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے چھ اعلیٰ حکام، پاسداران انقلاب کے تین ارکان اور دو سابق سفارت کاروں نے بتایا کہ جنوری کے اوائل میں ملک میں مظاہروں اور امریکہ کی جانب سے بڑھتی ہوئی دھمکیوں کے بعد علی لاریجانی عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں 67 سالہ علی لاریجانی ماضی میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر رہ چکے ہیں اور اس وقت سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کی نگرانی بھی علی لاریجانی کر رہے ہیں اور سپریم لیڈر کو ان پر مکمل اعتماد حاصل ہے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جب اسٹیو وٹکوف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے کی کوشش کی تو اس کے لیے بھی علی لاریجانی سے اجازت طلب کی گئی۔

    اخبار کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے چار سطحوں پر مشتمل جانشینی کا نظام بھی ترتیب دے دیا ہے ہر اس فوجی یا سرکاری عہدے کے لیے، جس پر تقرری ان کے اختیار میں ہے، چار چار متبادل افراد نامزد کیے گئے ہیں تمام کمانڈروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ممکنہ جانشینوں کے نام پہلے سے طے کریں اس کے علاوہ سپریم لیڈر نے قریبی ساتھیوں کے ایک محدود حلقے کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر ان سے رابطہ منقطع ہو جائے یا انہیں نشانہ بنایا جائے تو وہ فیصلے کر سکیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کی صورت میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو مسلح افواج کی کمان سونپی جا سکتی ہے اگر اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچتا ہے تو عبوری انتظام میں علی لاریجانی سرفہرست ہو سکتے ہیں، جبکہ محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی کے نام بھی زیر غور بتائے گئے ہیں۔

    امریکی اخبار کے مطابق ایرانی حکام اس خدشے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ ممکنہ حملے میں سپریم لیڈر اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں خلیج فارس کے ساحلوں پر میزائل نصب کیے جانے اور افواج کو ہائی الرٹ رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ جوہری معاملے پر سفارتی مذاکرات جاری ہیں اور کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے، تاہم ایرانی قیادت بدترین صورتحال کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق ریاستی نظام کے تسلسل کے لیے مختلف منظرنامے تیار کیے گئے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت ہلاک ہو جائے تو ملک کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہو گی۔

    رپورٹ کے مطابق ایرانی قیادت اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگر ہنگامی صورتحال پیدا ہو تو کون سا رہنما بیرونی دنیا سے مذاکرات کی قیادت کرے گا، جیسا کہ وینزویلا میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے صدر نکولس مادورو کے معاملے میں کیا تھا موجودہ حالات میں صدر مسعود پزشکیان بظاہر اہم اختیارات علی لاریجانی کو منتقل کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف امریکہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے، اور ایرانی قیادت دونوں امکانات کو سامنے رکھ کر حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے۔

  • ایرانی فوج کا ہیلی کاپٹر  گر کر تباہ، چار افراد ہلاک

    ایرانی فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، چار افراد ہلاک

    ایرانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر منگل کی علی الصبح صوبہ اصفہان میں خمینی شہر کے علاقے دورچے میں پھلوں اور سبزیوں کی مارکیٹ میں گر گیا، جس میں پائلٹ، کو پائلٹ اور دو شہری ہلاک ہو گئے-

    ایرانی سرکاری میڈیا اور مقامی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران پیش آیا، ابتدائی رپورٹ میں تکنیکی خرابی کی طرف اشارہ کیا گیا جس کی وجہ سے طیارہ کنٹرول کھو بیٹھا اور براہ راست مارکیٹ کے احاطے میں گر کر تباہ ہوگیا ریڈ کریسنٹ کی ٹیموں سمیت دیگر امدادی ٹیمیں امداد فراہم کرنے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں-

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے ابتدائی طور پر عملے کے دو ارکان کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی، جب کہ متعدد ذرائع اور ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اس مقام پر سٹال چلانے والے دو شہری بھی اس حملے میں مارے گئے کم از کم ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ،اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

    راولپنڈی کے 60 سالہ حکیم کی کم عمر لڑکی سے شادی،ویڈیو وائرل

    اصفہان شہر کے مغرب میں ایک مضافاتی ضلع، دورچہ میں حادثے کی جگہ، خطے میں تازہ پیداوار کی تقسیم کا ایک اہم مرکز ہے حکام نے کسی قسم کی دراندازی کی تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ پرواز معیاری آرمی ایوی ایشن کی تربیتی کارروائیوں کا حصہ تھی تکنیکی خرابی کی صحیح وجہ کا تعین کرنے کے لیے ایک سرکاری انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل کا مشروط شیڈول جاری

  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہو گا، عمانی وزیرِ خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہو گا، عمانی وزیرِ خارجہ

    عمان کے وزیرِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوں گے-

    عمان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات ’ایک مثبت پیش رفت کے ساتھ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے اضافی کوشش کے طور پر طے پائے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 17 فروری کو جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مذاکرات کی دوسری نشست کے بعد واشنگٹن اور تہران کی جانب سے تشویش کے اظہار کے ساتھ ساتھ چند حوصلہ افزا بیانات بھی سامنے آئے تھے۔

    ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع

    17 فروری کو مذاکراتی نشست کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات ’کچھ حوالوں سے‘ اچھے رہے ہیں اور فریقین نے آئندہ ایک اور اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’بنیاد ی اصولوں پر مفاہمت‘ طے پا گئی ہے،ایران اب بھی صدر ٹرمپ کی متعین کردہ ’کچھ ریڈ لائنز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

    انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اس ضمن میں امریکہ سفارتی راستے پر ’سفر جاری رکھے گا‘ لیکن صدر ٹرمپ ہی یہ طے کریں گے کہ ’سفارتکاری کب ترک کرنی ہے،واشنگٹن یہ امید نہیں رکھتا ’کہ معاملات اس حد تک پہنچیں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو فیصلہ صدر ٹرمپ کا ہو گا۔

    پھلوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام و دکانداروں کا احتجاج

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے پہلے دور کے مقابلے میں دوسرے دور کو زیادہ مثبت قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’دونوں فریق معاہدے کی ممکنہ دستاویز کے دو مسودے تیار کر کے اُن کا تبادلہ کریں گے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد ہی کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے لیکن ہم معاہدے تک پہنچنے کے راستے پر ضرور چل پڑے ہیں۔

  • ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع

    ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا نیا سلسلہ شروع

    ایران میں ایک بار پھر حکومت مخالف احتجاج شروع ہو گیا ہے،خاص طور پر یونیورسٹیوں میں طلبہ نے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کیے ہیں۔

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے دوسرے اور تیسرے روز بھی جاری ہیں، جہاں یونیورسٹیوں جیسے تہران یونیورسٹی، امیر کبیر، شریف یونیورسٹی وغیرہ میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ‌ ای اور حکومت کے خلاف نعرے لگائےمظاہرین نے انقلاب ایران سے پہلے والا پرانا پرچم (شیر و سورج) بھی لہرایا جو حکومت مخالف علامت کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

    مظاہرے زیادہ تر جامعات اور طلبہ کی جانب سے شروع ہوئے ہیں، جس میں کچھ جگہوں پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں، طلبہ نے ’ہم اس حکومت کو نہیں چاہتے‘ جیسے نعرے لگائے ہیں کچھ طلباء نے کھلے عام امریکہ کو حملہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ وہ "کام ختم کر دیں اور احتجاج کو ایک سیاسی تحریک کی شکل دی جا رہی ہے۔

    مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں توسیع،سعودی عرب سمیت 19 ممالک کی مذمت

    واضح رہے کہ یہ نئی احتجاجی لہر، پچھلے مہینے کے بڑے احتجاجوں اور حکومت کے شدید کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آئی ہے جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوئے تھے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کے بعد حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین پر تشدد کا سلسلہ نہ روکا گیا تو نتائج بہت بُرے ہوں گے۔

    پمز اسپتال میں آنکھ کے اہم آپریشن کے بعد عمران خان اڈیالہ جیل منتقل

  • روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار  کا دعویٰ

    روس اور ایران کے درمیان خفیہ اسلحہ معاہدہ طے ہو گیا،برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے روس کے ساتھ 50 کروڑ یورو مالیت کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے-

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے روس کے ساتھ 50 کروڑ یورو مالیت کا خفیہ اسلحہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ایران جدید کندھے پر رکھ کر فائر کیے جانے والے ہزاروں میزائل حاصل کرے گا یہ معاہدہ گزشتہ دسمبر میں ماسکو میں طے پایا،روس آئند ہ 3 برس میں 500 ’وربا‘ لانچر یونٹس اور 2,500 ’9 ایم 336‘میزائل ایران کو فراہم کرے گا۔

    اخبار کے مطابق یہ معلومات مبینہ طور پر روسی دستاویزات اور معاہدے سے واقف ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے فوری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی یہ معاہدہ روس کی سرکاری اسلحہ برآمد کرنے والی کمپنی روس اوبورون ایکسپورٹ اور ایران کی وزارتِ دفاع و مسلح افواج لاجسٹکس کے ماسکو میں نمائندے کے درمیان طے پایا،ایران نے گزشتہ سال جولائی میں باضابطہ طور پر ان نظاموں کی درخواست کی تھی۔

    سابق اہلیہ کے الزامات: عماد وسیم نے قانونی نوٹس بھیج دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکی افواج نے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی اہم جوہری صلاحیت تباہ کر دی گئی ہے،تاہم ابتدائی امریکی انٹیلی جنس جائزے کے مطابق فضائی حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے چند ماہ پیچھے دھکیل دیا گیا۔

    یاد رہے کہ روس اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ موجود ہے، تاہم اس میں باہمی دفاع کی شق شامل نہیں، حال ہی میں روسی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے خلیج عمان میں ایرانی بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں بھی کی ہیں، ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصان پر قابو پا لیا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے-

    وزیراعظم شہباز آج دو روزہ دورے پر قطر جائیں گے

  • عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں،ہم جھکیں گے نہیں،ایرانی صدر

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

    ہفتے کے روز ایرانی پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان مشکلات میں سے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے عالمی طاقتیں بزدلی کے ساتھ ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں، لیکن جس طرح آپ مشکلات کے سامنے نہیں جھکے، ہم بھی ان مسائل کے آگے نہیں جھکیں گے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب خلیج میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا نے اپنے فوجی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہوئے 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں جنگی طیارے خطے میں تعینات کر دیے ہیں۔

    ایران اور امریکا نے رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے اور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوسرا دور بھی ہوااگرچہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا، تاہم کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ سفارتی حل ہماری پہنچ میں ہے اور ایران اگلے 2 سے 3 دن میں معاہدے کا مسودہ حتمی شکل دے کر واشنگٹن کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    گزشتہ سال بھی ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ہوئے تھے، تاہم جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تو یہ عمل منقطع ہو گیابعد ازاں امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری میں حصہ لیاجنوری میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ایرانی کریک ڈاؤن کے بعد ٹرمپ نے نئی فوجی دھمکیاں جاری کیں تہران نے جواباً خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور خلیج کی تیل برآمدات کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خطے میں جمع کی جانے والی امریکی فضائی طاقت 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی ہےحالیہ دنوں میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 120 سے زائد طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یوایس ایس جیرالڈ فورڈ پہلے سے بحیرۂ عرب میں موجود یوایس ایس ابراہام لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے روانہ ہے۔

    ایران نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا کہ اس فوجی اجتماع کو ’محض بیان بازی‘ نہ سمجھا جائےایران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم کسی بھی امریکی جارحیت کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔