Baaghi TV

Tag: ایران

  • بھارت نے ایران کے مزید 3 جہاز قبضے میں لے لیے

    بھارت نے ایران کے مزید 3 جہاز قبضے میں لے لیے

    بھارت نے ایران سے منسلک مزید تین آئل ٹینکرز ضبط کر لیے ہیں-

    بھارتی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارت نے غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اپنے سمندری علاقے میں نگرانی میں اضافہ کردیا ہے،بھارت کا یہ مقصد ہے کہ اس کے پانیوں کو تیل کی مال برداری چھپانے کے لیے شپ ٹو شپ منتقلی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ضبط کیے گئے جہازوں میں آسفالٹ اسٹار، اسٹیلر روبی اور آل جفزیا شامل ہیں جو اکثر اپنی شناخت بدلتے رہتے تھے تاکہ ساحلی ریا ستوں کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے بچ سکیں قبضہ ہونے والے جہازوں کے مالکان بیرون ملک مقیم ہیں۔

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہو گا

    اس سے قبل بھارتی حکام نے 6 فروری کو ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ممبئی کے مغرب میں تقریباً 100 بحری میل کی دوری پر تین جہازوں کو روکا گیا، جب بھارت کے خصوصی اقتصادی زون میں ایک ٹینکر سے مشکوک سرگرمی کا پتہ چلا تھا بعد ازاں وہ پوسٹ بعد میں ڈیلیٹ کر دی گئی تھی، تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق اس حوالے سے تصدیق کی گئی تھی کہ جہازوں کو مزید تفتیش کے لیے ممبئی لے جایا گیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ انڈین کوسٹ گارڈ نے اپنے سمندری زونز میں 55 جہاز اور 10 سے 12 طیارے تعینات کر دیے ہیں تاکہ 24 گھنٹے نگرانی کی جا سکے،یہ کارروائی امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے بعد سامنے آئی ہے رواں ماہ کے اوائل میں واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ بھارتی اشیاء پر درآمدی محصولات کو 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا، کیونکہ نئی دہلی نے روسی تیل کی درآمد بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی-

    ‎بھارتی اسپیشل فورسز کے افسر کی یورپ میں سیاسی پناہ کی درخواست، فوجی نظام پر سوالات

  • امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے،روئٹرز

    امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے،روئٹرز

    برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف ہفتوں پر محیط ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے مقابلے میں بدترین کشیدگی کا باعث ہوسکتی ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں نے اس منصوبے کی حساسیت کے پیش نظر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ امریکی فوج تیاریوں میں مصروف ہے اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حکم دیا جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گاعہدیداروں نے اس اقدام کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارت کاری کے عمل کو خطرات قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس مہم میں امریکی فوج صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایرانی ریاست اور سلامتی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مخصوص تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔

    مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کو ایران کے جوابی حملے کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ دونوں جانب سے جوابی حملوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق سوال وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی سے کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں، وہ کسی بھی مسئلہ پر مختلف پہلوؤں پر خیالات سنتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتےہیں کہ ہمارے ملک اور قومی سلامتی کے لیے کیا بہترین ہے۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے تاہم امریکا نے گزشتہ برس دو ایئرکرافٹ کیریئرز بھیج دیے تھے جب جون میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین کا خیال ہے امریکی فوج کو ایران کے خلاف اس طرح کے آپریشن سے کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہوگا کیونکہ ایران کے پاس میزائل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور ایران کے جوابی حملوں میں خطے کا تنازع وسیع ہونے کا خدشہ ہے ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مسلسل حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے بمباری کی دھمکی بھی دی تھی اور جمعرات کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا سفارتی حل کے برعکس اقدام انتہائی دلخراش ہوگا۔

    ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر حملوں کی صورت میں وہ امریکا کے کسی بھی فوجی مرکز پر حملہ کرسکتے ہیں امریکا کے فوجی بیسز پورے مشرق وسطیٰ میں بشمول اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیے میں موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا عمان کی ثالثی میں منگل کو جنیوا میں مذاکرات کریں گے جہاں امریکی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔

  • معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    معمولی حملہ بھی جنگ سمجھا جائے گا،ایران کا انتباہ

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا۔

    تہران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شمخانی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود فوجی کارروائی کو بھی جنگ کا آغاز تصور کیا جائے گا، ایران کی میزائل صلاحیت ملک کی ریڈ لائن ہے اور اسے کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، ایران اپنی دفاعی صلاحیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا امریکا کو چاہیے کہ وہ دھمکیوں کے بجائے سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے –

    ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات اور خطے میں ایک اور بحری بیڑے کی تعیناتی کا عندیہ دیا تھا ملک کی دفاعی اور میزائل صلاحیت قومی سلامتی کا اہم حصہ ہے اور اس پر کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

  • ہم ایران پر اکیلے حملہ کر دیں گے، اسرائیل کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

    ہم ایران پر اکیلے حملہ کر دیں گے، اسرائیل کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

    اسرائیل نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اس حد سے تجاوز کرتا ہے جسے وہ ایک حساس سیکیورٹی ریڈ لائن قرار دیتا ہے تو وہ یکطرفہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

    انڈیا ٹوڈے نے اسرائیلی اخبار دی یروشلم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اعلیٰ حکام نے اپنے امریکی عہدیداروں کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتیں اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ ہیں اور انہیں بغیر کسی نتیجے کے مزید آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے ایران کی میزائل تیاری اور لانچنگ انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا اسرائیلی منصوبہ حالیہ ہفتوں میں اعلیٰ سطحی سفارتی اور فوجی رابطوں کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیاحکام نے مبینہ طور پر آپریشنل تصورات بھی پیش کیے، جن میں پروگرام سے منسلک اہم پیداواری اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات پر ہدفی حملے شامل ہیں۔

    ایک ذرائع نے دی یروشلم پوسٹ کے حوالے سے کہا کہ ہم نے امریکیوں کو بتا دیا ہے کہ اگر ایران بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے ہماری مقرر کردہ ریڈ لائن عبور کرتا ہے تو ہم اکیلے حملہ کریں گے اسرائیل کے مطابق ایران ابھی اس حد تک نہیں پہنچا، تاہم وہ مسلسل نگرانی میں ہے۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی، میری ٹائم شعبے میں غیرقانونی زمین الاٹمنٹس کیخلاف کارروائی کی ہدایت

    ایک اور سینئر دفاعی شخصیت نے بتایا کہ اسرائیل تہران کو ایسے اسٹریٹجک ہتھیاروں کے نظام دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو ملک کی بقا کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں، اور اس بات پر زور دیا کہ یروشلم مکمل فوجی آزادیِ عمل محفوظ رکھتا ہے۔

    ایک عہدیدار نے موجودہ صورتحال کو ایران کے میزائل انفراسٹرکچر کو کمزور کرنے اور اسرائیل اور ہمسایہ ریاستوں کے خلاف خطرات کو ناکارہ بنانے کا ایک تاریخی موقع قرار دیا، حالیہ بات چیت کے دوران اس سے منسلک مزید تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی پیش کیے گئے۔

    پاکستان نے بہترین ڈپلومیسی سے کھیل بچا لیا، بھارتی میڈیا کا بڑا اعتراف

    کئی اسرائیلی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر محدود فوجی ردعمل کو ترجیح دے سکتے ہیں، جیسا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف حالیہ امریکی کارروائیاں تھیں ان کا خدشہ ہے کہ ایسا طریقہ کار ایران کی بنیادی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گادفاعی ذرائع کے مطابق جزوی اقدامات اس بڑے اسٹریٹجک خطرے کو ختم کرنے میں ناکام رہیں گے جسے اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے مرکزی خطرہ سمجھتا ہے۔

  • امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    امریکی بحری جہازوں کو ایران کے پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت

    امریکا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی پرچم بردار بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہنے کا مشورہ دیا ہے.

    امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے پیر کو جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو امریکی جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں اور ایران کے علاقائی پانیوں سے حتیٰ الامکان دور رہیں تاہم اگر ایرانی فورسز کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملے کو زبردستی مزاحمت نہ کرنے کا کہا گیا ہے،زبردستی مزاحمت سے گریز کا مطلب سوار ہونے کی اجازت یا رضامندی نہیں سمجھا جائے گا۔

    ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی سمندر سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر رہیں، بشرطیکہ نیویگیشنل سیفٹی متاثر نہ ہو،مشرقی سمت سفر کرنے والے جہازوں کو عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    یہ سفارشات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعے کو عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور کئی ہفتوں کی سخت بیانات بازی اور جنگ کے خدشات کے بعد منعقد ہواگزشتہ برس جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے بعد ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے عندیہ دیا تھا کہ اگر جنگ بڑھی تو آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایک آپشن ہو سکتا ہے۔

    امریکی حکومت آبنائے ہرمز کو دنیا کا سب سے اہم تیل کا بحری راستہ قرار دیتی ہے کیونکہ یہ توانائی پیدا کرنے والے خطے کو بحر ہند سے ملاتا ہے، جنوری کے اواخر میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کیں، جس پر امریکی فوج نے ایران کو ’غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ‘ رویے سے خبردار کیا تھا بعد ازاں امریکا نے دعویٰ کیا کہ اس نے علاقے میں اپنے ایک طیارہ بردار جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا۔

    واشنگٹن اس سے قبل بھی ایران پر عائد سخت پابندیوں کے تحت ایرانی تیل بردار جہاز ضبط کر چکا ہے، 2019 میں متحدہ عرب امارات نے خلیجِ عمان میں اپنے علاقائی پانیوں میں 4 جہازوں پر تخریبی حملوں کی اطلاع دی تھی، تاہم حالیہ دنوں میں خلیج کے علاقے میں جہازوں کو براہِ راست کسی نئی دھمکی کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

  • کسی بھی قوم کی اصل طاقت جدید ہتھیاروں میں نہیں ہوتی ، ایرانی سپریم لیڈر

    کسی بھی قوم کی اصل طاقت جدید ہتھیاروں میں نہیں ہوتی ، ایرانی سپریم لیڈر

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت جدید ہتھیاروں یا فضائی صلاحیت میں نہیں بلکہ عوام کی مضبوط قوتِ ارادی اور استقامت میں ہوتی ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ دشمن اس وقت تک ایرانی قوم کو دباؤ اور ہراسانی کا نشانہ بناتے رہیں گے جب تک وہ مایوسی کا شکار نہ ہو جائیں، قومی طاقت کا معیار میزائلوں اور طیاروں سے نہیں بلکہ قوم کے حوصلے اور ثابت قدمی سے ناپا جاتا ہے۔

    سپریم لیڈر نے اپنے پیغام میں ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ 11 فروری کو انقلابِ اسلامی کی سالگرہ کے موقع پر بھرپور اور عظیم الشان ریلیاں نکال کر دشمنوں کو واضح پیغام دیں اور انہیں مایوس کریں۔

    واضح رہے کہ ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر جوہری مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے کچھ روز قبل امریکا اور ایران کے حکام کے درمیان مسقط میں مذاکرات ہوئے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات بہت اچھے رہے۔

  • بھارت نے  بحیرہ عرب میں  ایران سے منسلک تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

    بھارت نے بحیرہ عرب میں ایران سے منسلک تیل بردار جہاز ضبط کر لیے

    بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ سے خاموش واپسی کے بعد ایران سے منسلک تیل بردار جہاز بھی ضبط کر لیے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں اسمگلنگ کے الزام میں 3 آئل ٹینکرز کو تحویل میں لیا آئل ٹینکرز کو ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل کے فاصلے پر بحیرہ عرب میں قبضے میں لے لیا گیا ضبط کیے گئے بحری جہازوں میں ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی شامل ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہ بہار سے واپسی کے بعد ایرانی جہازوں کی ضبطی ایران کے لیے بھارت کی جانب سے چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔

  • روس نے پابندیاں توڑنے کےلیے ایران کو ڈھائی ارب ڈالر نقد بھیجے،برطانوی اخبار  کا دعویٰ

    روس نے پابندیاں توڑنے کےلیے ایران کو ڈھائی ارب ڈالر نقد بھیجے،برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار ٹیلیگراف نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ روس نے امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے 2018 میں ایران کو خفیہ طور پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر نقد رقم منتقل کی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ رقوم روسی سرکاری بینک پرومسویاز بینک کے ذریعے 34 بڑی ترسیلات میں تہران کے مرکزی بینک تک پہنچائی گئیں، جن کا مجموعی وزن تقریباً پانچ ٹن بتایا گیا ہے یہ رقم اُس وقت بھیجی گئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں ہر کھیپ کی مالیت 57 سے 115 ملین ڈالر کے درمیان تھی اور زیادہ تر نوٹ یورپی کرنسی کے بڑے مالیت والے بلوں پر مشتمل تھے۔

    رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں روس اور ایران کے درمیان پہلے سے زیادہ گہرے تعلقات کی عکاس ہیں اور ممکنہ طور پر اسلحہ یا فوجی سازوسامان کے بدلے کی گئی ہوں امریکی سابق حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایسی ترسیلات آج بھی جاری ہوسکتی ہیں، خاص طور پر جب ایران یوکرین جنگ میں روس کو ڈرون اور میزائل فراہم کر رہا ہے مذکورہ روسی بینک کو 2017 میں دفاعی شعبے کی مالی معاونت اور پابندیوں سے بچنے کے لیے سرکاری تحویل میں لیا گیا تھا، جبکہ اس کے سابق سربراہ پر بعد میں امریکا اور برطانیہ نے پابندیاں بھی عائد کیں۔

    تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ نقد رقم کے ذریعے لین دین کا طریقہ ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے، اسی لیے روس ممکنہ طور پر مستقبل میں بھی اسی حکمتِ عملی پر انحصار کرتا رہے گا۔

  • ایران سے مذاکرات : نیتن یاہو اور ٹرمپ کی واشنگٹن میں بدھ کو اہم ملاقات

    ایران سے مذاکرات : نیتن یاہو اور ٹرمپ کی واشنگٹن میں بدھ کو اہم ملاقات

    ایران سے متعلق صورتحال پر مشاورت کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات آئندہ بدھ کو واشنگٹن میں متوقع ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق نیتن یاہو بدھ کے روز امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچیں گے جہاں وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے ملاقات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا نیتن یاہو کی رائے ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ خطے کی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے یورینیم افزودگی روکنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ علاقائی سفارتکاروں کے مطابق مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں ایران کی میزائل صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، ایران، امر یکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، ایرانی وزیر خارجہ

    وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار اور ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعہ کی صبح تقریبا دس بجے منعقد ہوں گے امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو واضح کیا کہ مذاکرات کے مقام یا فارمیٹ میں تبدیلی کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر ایران اس فارمیٹ میں واپس آتا ہے تو امریکا اس ہفتے یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہے۔

    ایرانی ذرائع نے کہا کہ امریکا نیوکلیئر مذاکرات سے باہر دفاعی اور قومی سلامتی کے دیگر امور اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو تہران کے مطابق غیر قابلِ مذاکرہ ہیں ایران کا موقف ہے کہ وہ صرف متفقہ دائرہ کار کے اندر، نیوکلیئر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

    اس سے قبل مذاکرات کے لیے استنبول کو بھی تجویز کیا گیا تھا، جس میں ترکی نے ثالثی کرکے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کی تھی عمان پہلے بھی فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں ثالث کا کردار ادا کرچکا ہے یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی فوج کی خلیج فارس میں تعیناتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

    امریکا اور اس کا اتحادی اسرائیل ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ تہران کہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس میں بجلی پیدا کرنا شامل ہے۔