Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کے ‘غیر قانونی اور بلاجواز’ اقدام کے ردعمل میں کیا گیا ہے،ایران نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق یورپی حکومتوں نے آئی آر جی سی کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فہرست میں شامل کیا، حالانکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا باقاعدہ اور سرکاری حصہ ہے،اسلامی جمہوریہ ایران ‘اصولِ باہمیّت’ کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔

    دوسری جانب کونسل آف دی یورپین یونین نے جمعرات کو جاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ آئی آر جی سی کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے اس فیصلے پر رکن ممالک کے درمیان چند ہفتے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔

    یورپی کونسل کے مطابق فہرست میں شمولیت کے بعد آئی آر جی سی پر یورپی یونین کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کے نظام کے تحت سخت اقدامات لاگو ہوں گے، جن میں رکن ممالک میں اس کے فنڈز اور دیگر مالی اثاثوں کو منجمد کرنا اور یورپی اداروں کے لیے اس تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے، اس وقت مجموعی طور پر 13 افراد اور 23 گروہ و ادارے یورپی یونین کی دہشت گرد فہرست کے تحت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بعض یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے یورپی رہنماؤں نے مظاہرین کے خلاف کاررو ا ئیوں کی مذمت کی تھی، جسے انہوں نے کریک ڈاؤن قرار دیا۔

    اس سے قبل ایرانی پارلیمان نے بھی اعلان کیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کی منظوری کے بعد یورپی یونین کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جائے گا بعد ازاں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

    وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر یورپی اقدام کو ‘غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

  • اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار

    جنیوا:اقوامِ متحدہ نے امریکا ایران کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی اپیل کر دی۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی پر تشویش ہے۔

    جبکہ گز شتہ روز ایران نے اقوامِ متحدہ کو خط میں خبردار کیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمے داری امریکا پر ہوگی۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں لڑاکا طیاروں سے بھرا امریکا کا دوسرا بحرہ بیڑا جیرالڈ فورڈ بحیرہ روم میں داخل ہوگیا جبکہ پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے برطانوی خبر ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ایران پر حملے میں امریکا ایرانی رہنماؤں کو براہ راست نشانہ بنائے گا، امریکی فوج ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے گی۔

  • معاہدہ نہ ہونے پر  ٹرمپ کا ایران کے خلاف خفیہ منصوبہ سامنے آگیا

    معاہدہ نہ ہونے پر ٹرمپ کا ایران کے خلاف خفیہ منصوبہ سامنے آگیا

    معاہدہ نہ ہونے پر ٹرمپ کا ایران کے خلاف خفیہ منصوبہ سامنے آگیا-

    امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایٹمی توانائی کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں، بشرطیکہ تہران یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی ایٹمی بم نہیں بنائےگا اگر تہران واشنگٹن کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو ٹرمپ کے پاس ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے بیٹے مجتبیٰ اور دیگر مذہبی قیادت کے ارکان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ موجود ہے، یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں فوجی طاقت کو بڑھا رہے ہیں، جس سے ایران کے ایٹمی پروگرام پر کوئی ڈیل کیے بغیر جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    ایک سینیئر امریکی اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ ایسے معاہدے کے لیے تیار ہیں جو سیاسی طور پر بھی قابل قبول ہو اگر ایران امریکی حملے کو روکنا چاہتا ہے تو اسے ایسی پیشکش کرنا ہوگی جو رد نہ کی جا سکے، تاہم ایرانی ابھی تک یہ موقع گنوانے میں مصروف ہیں، پینٹاگون نے بدترین صورتحال کے لیے تیار یاں کر رکھی ہیں اور مختلف آپشنز ٹرمپ کے سامنے رکھے ہیں۔

    امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    ایک مشیر نے بتایا کہ ہر ممکنہ صورت حال کے لیے منصوبہ موجود ہے۔ ایک آپشن آیت اللہ اور ان کے بیٹے سمیت مذہبی قیادت کو ہلاک کرنا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کیا فیصلہ کریں گے، یہ کوئی نہیں جانتا ایران اور امریکہ تیزی سے عسکری تصادم کے قریب پہنچ رہے ہیں کیونکہ تہران کے ایٹمی پروگرام پر سفارتی حل کی امیدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل بھی سمجھتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کا راستہ بند ہو چکا ہے اور ممکنہ طور پر امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی تیاری کررہا ہے، حالانکہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

    ایران اور امریکا کے آخری دو مذاکرات بنیادی مسائل پر رکے ہوئے ہیں، جن میں یورینیم افزودگی، میزائل اور پابندیوں میں نرمی شامل ہیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ دونوں جانب رہنما اصولوں پر اتفاق ہوا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اختلافات برقرار ہیں۔

    نائیجیریا :مسلح افراد کا گاؤں پر حملہ، 50 افراد ہلاک، متعدد اغوا

    اقوام متحدہ کے ایٹمی نگرانی ادارے کے سربراہ رافائیل گروسی بھی مذاکرات میں شامل ہیں اور تکنیکی اقدامات کی سفارش کررہے ہیں تاکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے رہ سکے،امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی پیشکش بہت تفصیلی ہونی چاہیے اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پروگرام پرامن ہے۔

  • امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشن سنبھال لیں

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 روز کی واضح ڈیڈ لائن دے دی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مہلت دیئے جانے تک مذاکرات نہ کیے تو بڑا فوجی حملہ کیا جائے گا صدر ٹرمپ کی ایران کو کی دئی گئی ڈیڈ لائن کے بعد یورپ میں موجود امریکی فضائیہ نےایران کیجانب اپنی عسکری پوزیشنز سنبھالنا شروع کر دیں، پرتگال کے ایک جزیرے پر قائم امریکی ایئربیس پر جنگی طیاروں اور معاون فضائی اثاثوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی طیاروں نے ممکنہ آپریشنز کے لیے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

    دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے امریکی حملے کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

    ایک روز قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں ایران پر محدود حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے انھی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فوج کا ہدف صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا کر نظام کی تبدیلی کی کوشش ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ فضائی حملوں اور فوجی دباؤ میں اضافے کے اشاروں کے بعد تہران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر واشنگٹن سے ’ثبوت‘ پیش کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی ایران میں حالیہ کریک ڈاؤن پر شدید تشویش ظاہر کی ہے، جب کہ خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حکومت نے حالیہ احتجاجی واقعات میں 3,117 افراد کی فہرست جاری کی ہے، جنہیں انہوں نے دہشتگرد کارروائیوں کا شکار‘ قرار دیا، جن میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں اگر کوئی فریق سرکاری اعدادوشمار کو چیلنج کرتا ہے تو وہ اپنے شوا ہد پیش کرے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ایرانی عوام جہنم جیسی زندگی گزار رہے ہیں،اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق مائی ساتو سمیت 30 ماہرین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اصل تعداد کا تعین ممکن نہیں کیونکہ ایران میں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد ہیں امریکی تنظیم HRANA نے 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق اور مزید ہزاروں کیسز کی تحقیقات کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز اور جنگی طیارے شامل ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کئی ہفتوں پر مشتمل ممکنہ فضائی حملے کی تیاری جاری ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی واضح جواز عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا-

    وائٹ ہاؤس کے بعض عہدیداروں کے مطابق انتظامیہ کے اندر بھی ایران پر حملے کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں دوسری جانب ٹرمپ کے مشیروں کو خدشہ ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگی ماحول ری پبلکن پارٹی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوامی رائے عامہ میں مہنگائی اور معاشی مسائل اولین ترجیح ہیں۔

    ایران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ سخت جواب دے گا ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کو یورینیم افزودگی روکنا ہوگی اور ’منصفانہ معاہدہ‘ کرنا ہوگا، بصورت دیگر فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت

    پولینڈ کی اپنے شہریوں کو فوری ایران چھوڑنے کی ہدایت

    امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی باعث اور ممکنہ جنگ کے خدشات کے بعد پولینڈ کی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران سے نکلنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

    پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے باعث ممکن ہے آئندہ چند گھنٹوں میں انخلا بھی ممکن نہ رہےوارسا سے جاری بیان میں پولش وزیراعظم نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بلا تاخیر ایران چھوڑ دیں اور فی الحال کسی بھی صورت اس ملک کا سفر کرنے سے گریز کریں،موجودہ حالات غیر یقینی ہیں اور سیکیورٹی صورتحال اچانک مزید خراب ہو سکتی ہے۔

    پولینڈ کی جانب سے یہ ہنگامی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ممکنہ عسکری تصادم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

  • امریکی فوج رواں ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی فوج رواں ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرسکتی ہے تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بارے میں ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

    امریکی میڈیا نے کہا کہ اس کارروائی پر غور و فکر میں کافی وقت صرف کیا جارہا ہے اورساتھ ہی مختلف عسکری اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیا جارہا ہےصدر ٹرمپ بھی اس بارے میں بہت زیادہ وقت سوچنےمیں گزار رہے ہیں فوجی اہلکار اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں اور خطے میں کسی بھی ہنگامی کارروائی کے لیے الرٹ ہیں۔

    دوسری جانب ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران ممکنہ طور پر اسرائیل پر میزائل حملہ کر سکتا ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور قریبی بنکرز یا محفوظ مقامات سے آگاہ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کے دفاعی اور ہنگامی اداروں کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں،حکام نے سکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنے اور فوری ردعمل کے لیے اقدامات مکمل رکھنے کا حکم دیا ہے ممکنہ خطرے کے باعث ملک بھر میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں

  • ایران کا آبنائے ہُرمز میں بحری مشقوں کے بعد آج راکٹ لانچ کرنےکا منصوبہ، نوٹم جاری

    ایران کا آبنائے ہُرمز میں بحری مشقوں کے بعد آج راکٹ لانچ کرنےکا منصوبہ، نوٹم جاری

    ایران نے راکٹ لانچز کے منصوبے کے پیش نظر نوٹم جاری کر دیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق جاری کردہ نوٹم میں پائلٹس، فلائٹ عملے اور فضائی حدود استعمال کرنے والے دیگر افراد کو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے اور متعلقہ علاقوں میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ایران نے رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں بھی کیں جبکہ جمعرات سے روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے ان مشقوں کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • امریکا نے مزید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچا دیے

    امریکا نے مزید لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچا دیے

    اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید درجنوں لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان طیاروں میں ایف 35، ایف 16 اور ایف 22 شامل ہیں، جبکہ فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے ٹینکر طیاروں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی ہے اس پیش رفت کو خطے کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    دریں اثنا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو تباہ کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ایران دباؤ میں آنے والا نہیں اور اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا۔

    دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ختم ہوگیا ہے یہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں جاری ہیں اور دونوں ممالک کے نمائندوں نے کئی اہم امور پر بات چیت کی۔

    ہندوستان میں نبی کریم ﷺ کے دور میں بننے والی پہلی مسجد

    مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ رہنما اصولوں پر مفاہمت ہوئی ہے، تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھی ہے لیکن حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید تفصیلی مذاکرات ضروری ہیں۔

    امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آئندہ دو ہفتوں میں اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی تجاویز پیش کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جا سکے امریکی حکام نے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کا ذکر کیا، تاہم یہ بھی کہا کہ کئی اہم نکات پر ابھی مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ سے متعلق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ بات چیت بعض صورتوں میں تعمیری رہی، تاہم ابھی اہم اختلافات موجود ہیں فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تہران تاحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ بعض ریڈ لائنز پر بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔

    بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 14 دہشت گرد جہنم واصل

    جے ڈی وینس نے ریڈ لائنز کی تفصیل بیان کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کسی حل کی تلاش میں سنجیدگی سے کوشاں ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ ایران کسی بھی ذریعے سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ نائب صدر نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ممالک آئندہ ملاقات پر متفق ہو چکے ہیں اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا بالکل خواہاں نہیں اور اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے ایران اپنا پرامن جوہری پروگرام کبھی ختم نہیں کرے گا، تاہم اگر کوئی ملک یا عالمی ادارہ تصدیق کرنا چاہے تو ایران اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے،جاری مذاکرات کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن نوعیت کا ہے ایران بات چیت کے ذریعے اپنے مؤقف کو واضح کرنا چاہتا ہے تاکہ شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔

    بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

  • امریکا کا ایران کے خلاف عسکری تیاریوں میں نمایاں اضافہ،یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت

    امریکا کا ایران کے خلاف عسکری تیاریوں میں نمایاں اضافہ،یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت

    امریکا نے ایران کے خلاف یومیہ 800 فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

    برطانوی نشریاتی اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ صلاحیت کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو مؤثر طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جنگی ساز و سامان کی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے امریکی بحری بیڑا، جس میں طیارہ بردار جہاز اور جدید جنگی سازوسامان شامل ہے، ایرانی ساحل کے مزید قریب پہنچ چکا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق پہلے یہ فاصلہ تقریباً 700 کلومیٹر تھا جو اب کم ہو کر 240 کلومیٹر رہ گیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے اور وہ خود بھی بالواسطہ طور پر اس عمل میں شامل رہیں گے۔

    باجوڑ میں چیک پوسٹ پر فتنہ الخوارج کا حملہ، 11 سیکیورٹی اہلکار شہید، 12 خوارج ہلاک

    تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب عسکری دباؤ بڑھایا جا رہا ہے تو دوسری جانب سفارتی راستہ بھی کھلا رکھا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ خطے میں ہر نئی پیش رفت کو نہایت باریکی سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی غلط اندازے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس:اسحاق ڈار غزہ کا مقدمہ پیش کریں گے

  • مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این

    مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این

    امریکا نے ایران کے ساتھ منگل کو جنیوا میں متوقع اہم مذاکرات سے قبل مشرق وسطیٰ میں فضائی اور بحری وسائل کی بڑی تعیناتی شروع کر دی ہے۔

    سی این این کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران کو دباؤ میں رکھنا اور اگر ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوری ضرب لگانے کے متبادل تیار رکھنا ہے، مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں موجود امریکی فضائیہ کے وسائل، بشمول ریفولنگ ٹینکر اور فائٹر جیٹس، مشرق وسطیٰ کے قریب منتقل کیے جا رہے ہیں علاوہ ازیں، امریکا خطے میں فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کر رہا ہے اور بعض فوجی یونٹس کے قیام کے احکامات بڑھا دیے گئے ہیں حالیہ ہفتوں میں درجنوں امریکی کارگو پروازوں کے ذریعے سامان اردن، بحرین اور سعودی عرب پہنچایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں امریکا کی جانب سے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوں گےامریکی انتظامیہ کو یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایرانی حکومت کو ہٹا دیا گیا تو کون اقتدار سنبھالے گا ممکنہ طور پر اسلامی انقلابی گارڈز کسی بھی قیادت کے خلا کو پر کر سکتے ہیں، لیکن صورتحال غیر یقینی ہے۔

    سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے خطے میں بحری اور فضائی طاقتیں تعینات کر دی ہیں، جس میں 2 طیارہ بردار بحری بیڑے، ایف-15 اور ایف-35 جیٹس شامل ہیں، تاکہ اگر حملے کی ضرورت پڑی تو وسیع پیمانے پر کارروائی ممکن ہو، ممکنہ اہداف میں اسلامی انقلابی گارڈز کے ہیڈکوارٹر اور دیگر فوجی تنصیبات شامل ہیں۔

    ایرانی فوج نے بھی جنیوا مذاکرات سے پہلے مشقیں بڑھا دی ہیں انقلابی گارڈز نے 3 ایرانی جزیروں کے دفاع کا اعلان کیا، جو متحدہ عرب امارات کے ساتھ طویل سرحدی تنازع کا حصہ ہیں ایرانی چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالرحیم موسوی نے امریکی حملے کی صورت میں سخت نتائج کی وارننگ دی ہےخطے کے عرب اتحادی اور اسرائیل بھی امریکی کارروائی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، جبکہ ایران مذاکرات کے باوجود اپنی فوجی تیاری جاری رکھے ہو ئے ہے۔