Baaghi TV

Tag: ایران

  • اسرائیل میں سیکڑوں افراد کا ایران جنگ کے خلاف احتجاج

    اسرائیل میں سیکڑوں افراد کا ایران جنگ کے خلاف احتجاج

    اسرائیل میں سیکڑوں افراد ایران جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں عوامی اجتماعات پر پابندی کے باوجود سیکڑوں افراد نے یران جنگ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شرکت کی اور وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف نعرے لگائے، اس دوران مظاہرین نے” بمباری نہیں بات کرو”، "نہ ختم ہونے والی جنگ ختم کرو "کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

    اس کے علاوہ مظاہرین نے ایران، لبنان، غزہ میں جنگ اور مغربی کنارے میں منظم تشدد روکنے کا بھی مطالبہ کیا جبکہ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا۔

    امریکا اسرائیل کے ایران پر حملے، خوزستان میں پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

    دوسری جانب جنگ نے ایک نیا اور تشویشناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں تعلیمی ادارے بھی نشانے پر آ گئے ہیں شمالی تہران میں واقع شاہد بہشتی یونیورسٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں قائم لیزر اینڈ پلازما ریسرچ انسٹیٹیوٹ فضائی حملے کے بعد کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔

    جمعہ کے روز ہونے والے اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی تمام جامعات کی کلاسز آن لائن منتقل کر دی گئی تھیں تاہم قریبی ہاسٹلز کو جزوی نقصان پہنچا، یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حملے کو علمی آزادی، تحقیق اور تعلیمی ماحول پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی تعلیمی برادری سے آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔

    امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ادھر ایران کے وزیر سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف نے انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران اب تک ملک بھر میں کم از کم 30 جامعات کے مختلف حصے امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہو چکے ہیں۔

  • امریکا اسرائیل کے ایران پر  حملے، خوزستان میں پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

    امریکا اسرائیل کے ایران پر حملے، خوزستان میں پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر کیے گئے حملوں میں خوزستان کے 6 پیٹروکیمیکل پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا-

    ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل نے ایران کے جنوب مغربی صوبے خوزستان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن میں 6 پیٹروکیمیکل پلانٹس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ان حملوں کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد ہلاک جبکہ 170 زخمی ہو گئے۔

    خبر رساں ایجنسی فارس نے خوزستان کے ڈپٹی گورنر کے حوالے سے بتایا کہ شہر ماہشہر کے اسپیشل پیٹروکیمیکل زون میں زور دار دھماکے سنے گئے حملوں میں علاقے میں قائم کم از کم تین کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق حملوں سے ہونے والے نقصانات کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں، تاہم پلانٹس کو براہِ راست نشانہ بنائے جانے کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے یہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے سات بجے ہوئے، جن کے ساتھ فضا میں ڈرون جیسی تیز آواز بھی سنائی دی۔

    دوسری جانب بوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ کے قریب بھی ایک شہری جاں بحق ہوا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا دارالحکومت تہران میں بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جہاں شہید بہشتی یونیورسٹی اور ایک ریسرچ سینٹر کو نقصان پہنچا ہے، جس سے تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیا ں متاثر ہوئی ہیں پاسدارانِ انقلاب کے ایک ائیر ڈیفنس مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے نقصانات کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں-

  • امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی پائلٹ کے ریسکیو آپریشن میں مصروف ایک اور امریکی طیارے کو نشانہ بنا کر گرایا ہے –

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق یہ کارروائی صوبہ اصفہان کے جنوبی علاقے میں کی گئی، جہاں امریکی طیارہ لاپتہ افسر کی تلاش کے لیے پرواز کر رہا تھا۔

    ایرانی میڈیا نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں کھیتوں کے درمیان سے کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں،ایرانی حکام نے اس واقعے کو صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کا جواب قرار دیا ہے جن میں وہ ریسکیو آپریشن کی کامیابی کی باتیں کر رہے تھے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی نے اس کارروائی کو ”صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک بڑی شکست پر پردہ ڈالنے کی مایوس کن کوشش“ کا انجام قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ یا عملے کے رکن (ایئرمین) کو تلاش کرکے باحفاظت ایران سے نکال لیا گیا ہےہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب امریکی فورسز نے ایران کے صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے شہر دہشت میں اپنے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور خطرناک آپریشن کیا،رات بھر جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرائے گئے جنگی طیارے کا لاپتہ پائلٹ کو امریکی افواج نے باحفاظت نکال لیا ہے۔

  • ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ کی بازیابی،صدر ٹرمپ نے  مشن کو امریکی تاریخ کا سب سے مشکل اور نڈر  آپریشن قرار دیا

    ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ کی بازیابی،صدر ٹرمپ نے مشن کو امریکی تاریخ کا سب سے مشکل اور نڈر آپریشن قرار دیا

    ایران کے اندر گرنے والے امریکی جنگی طیارے ایف-15 ای کے عملے کو بچانے کے لیے جاری آپریشن کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ ایران میں گرائے گئے جنگی طیارے کا لاپتہ پائلٹ کو امریکی افواج نے باحفاظت نکال لیا ہے سماجی رابطے کی سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر کی گئی اپنی پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ”ہم نے اسے نکال لیا ہے،ا نہوں نے اس مشن کو امریکی تاریخ کے سب سے مشکل اور نڈر ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ آپریشنز میں سے ایک قرار دیا، جس میں امریکی فوج نے دشمن کے علاقے کے اندر جا کر اپنے افسر کو بچایا۔

    صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار کوئی معمولی افسر نہیں بلکہ ایک انتہائی قابلِ احترام ’کرنل‘ ہے، جو اب مکمل طور پر محفوظ ہے اگرچہ اس خطرناک مشن اور طیارہ گرنے کے دوران کرنل کو کچھ زخم آئے ہیں، لیکن وہ اب خطرے سے باہر ہے اور جلد ہی مکمل صحت یاب ہو جائے گا،اس مشن میں درجنوں جدید ترین جنگی طیارے اور مہلک ترین ہتھیار استعمال کیے گئے تاکہ دشمن کے علاقے میں پھنسے ہوئے اہلکار کو ہر قیمت پر نکالا جا سکے۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ گزشتہ دو دنوں میں دوسری بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایک اور بہادر پائلٹ کو بھی بچایا گیا تھا جس کی تصدیق اس وقت اس لیے نہیں کی گئی تاکہ دوسرے جاری آپریشن کو کسی خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

    صدر ٹرمپ نے اس دہری کامیابی کو امریکی فوجی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ دو الگ الگ پائلٹس کو دشمن کی سرزمین کے اندر سے باحفاظت نکالا گیا ہو امریکا اپنے کسی بھی سپاہی کو کبھی پیچھے نہیں چھوڑے گا۔

    صدر ٹرمپ نے اس کامیابی کو ایرانی فضائی حدود پر امریکی غلبے اور برتری کا ثبوت قرار دیا، لیکن اس بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا کہ آخر وہ ایف-15 طیارہ ایرانی فورسز نے گرایا کیسے تھاصدر ٹرمپ نے تمام امریکیوں، چاہے وہ ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، سے اپیل کی کہ وہ اس فخر کے لمحے میں متحد ہو جائیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ یا عملے کے رکن (ایئرمین) کو تلاش کرکے باحفاظت ایران سے نکال لیا گیا ہےہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب امریکی فورسز نے ایران کے صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے شہر دہشت میں اپنے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور خطرناک آپریشن کیا،رات بھر جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    ’الجزیرہ‘ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران کم از کم چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہے، تاہم غیر سرکاری اطلاعات بتاتی ہیں کہ جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہےاگرچہ ان مسلح جھڑپوں کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، لیکن دہشت کے گردونواح میں ہونے والی ہلچل سے یہ واضح تھا کہ امریکی کمانڈوز پائلٹ کو بازیاب کرانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے۔

    یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ تھی کیونکہ گزشتہ دو دنوں سے ایرانی حکام بھی اس پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے اور انہوں نے عام شہریوں کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی ایرانی حکام نے پائلٹ کا سراغ لگانے والے کسی بھی شہری کے لیے بڑے انعام کا اعلان کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے مقامی آبادی بھی اس تلاش میں سرگرم تھی۔

    لیکن اسی دوران امریکی ٹیموں نے ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ مشن کے تحت پائلٹ تک پہنچنے کی کوشش کی امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ اگرچہ لاپتہ اہلکار کو ڈھونڈ نکالنا ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن ریسکیو ٹیم کے لیے اصل چیلنج اسے بحفاظت ایران سے باہر نکالنا تھا ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار مرد ہے یا خاتون، کیونکہ امریکی فوجی اصطلاح میں ’ایئرمین‘ کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

  • ایران جنگ:امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    ایران جنگ:امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

    امریکا میں گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، فی گیلن گیس کی قیمت $4.10 تک پہنچ گئی۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے ، وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، جبکہ امریکا میں گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں فی گیلن گیس کی قیمت $4.10 تک پہنچ گئی، یہ اضافہ پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 12 سینٹ کا اضافہ ہے جو غیر معمولی اضافہ ہے۔

    قیمتوں میں یہ اضافہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے 37 فیصد تک ہو چکا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ خلیج فارس میں ہرمز کے تنگ راستے کی تقریباً بندش ہے س آبی گذرگاہ سے دنیا کے لیے تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کے لیے اہم ہے اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی پیداوار میں کمی بھی ہے،ریاست کیلیفورنیا میں فی گیلن گیس کی سب سے زیادہ اوسط قیمت $5.92 کے قریب ہے جبکہ اوکلاہوما میں سب سے کم قیمت $3.29 فی گیلن ہے۔

  • امریکا میں قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی  گرفتار

    امریکا میں قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی گرفتار

    امریکی حکام نے ایران کے مرحوم جنرل قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی کو گرفتار کرتے ہوئے ان کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا،امریکی وفاقی ایجنٹوں نے مرحوم ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی بھانجی اور نواسی کو سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کی جانب سے ان کی قانونی مستقل رہائشی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد حراست میں لے لیا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وفاقی حکام نے سابق ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی شہید کی بھانجی حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کو گرفتار کر لیا ہے یہ اقدام اس کے بعد کیا گیا جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان کا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ) کا درجہ منسوخ کر دیا، ان کی گرفتاری امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفارسمینٹ کی تحویل میں ہونے کے بعد سامنے آئی۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق، حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی اب امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی حراست میں ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین کارڈ کی منسوخی اور گرفتاری امریکی قوانین کے مطابق کی گئی کارروائی ہے۔

    واضح رہے جنرل قاسم سلیمانی کو جنوری 2020 کی صبح بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکی فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا اسی حملے میں عراقی ملیشیا کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی مارے گئے تھےمرحوم جنرل قاسم سلیمانی ایران کی اسلامی انقلاب گارڈز کور پاسدارانِ انقلاب کی بیرونی شاخ، قدس فورس کے سربراہ تھ وہ ایران اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے تھے اور عراق و شام میں لڑائیوں میں اہم قائد کے طور پر جانے جاتے تھے، ان کی شہرت ایران کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ تھی۔

  • معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم

    معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس 48 گھنٹے ہیں کہ وہ کوئی معاہدہ کر لے یا آبنائے ہرمز کھول دے، ورنہ اس پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں جاری بیان میں کہا کہ ‘یاد رکھیں جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن دیے تھے،وقت نکلتا جا رہا ہے، اب 10 دن کا دیا وقت ختم ہو رہا ہے، معاہدہ نہ ہوا تو ان پر جہنم برسانے کے لیے 48 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں-

    ایک اور بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایف 16 طیارےکی تباہی سے ایران سے مذاکرات پر اثر نہیں پڑےگایہ جنگ ہے اور ہم حالت جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی نہیں کہہ سکتاکہ لاپتا عملے کے رکن کو نقصان پہنچایاگیا تو امریکاکیا اقدام کرےگا۔

    امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری ایران پر حملوں کا آغاز کیا تھا، ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے مرکزی کمانڈرز اور اہم شخصیات شہید ہوگئی تھیں جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں قائم امریکی بیسز اور اسرائیل کو نشانہ بنایا۔

    بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کو جنگ بندی معاہدہ کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بدترین کارروائیوں کی دھمکی دی تھی،ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 مارچ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدہ نہ کرنے اور 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھولنے کی صورت میں ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر حملے کیے جائیں گے۔

  • آپریشن وعدہ حق 4 کی 94 ویں لہر کا آغاز،ایران کے اسرائیل پر مزید حملے

    آپریشن وعدہ حق 4 کی 94 ویں لہر کا آغاز،ایران کے اسرائیل پر مزید حملے

    ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ حق 4 کی 94 ویں لہر کا آغاز کردیا گیا ہے اور اس دوران اسرائیل کے انڈسٹریل اور فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ فوجی کمانڈرز کے جمع ہونے کے مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آپریشن وعدہ حق 4 کی 94 مہم کے تحت صبح سویرے ہی کارروائیاں شروع کی گئیں، ان حملوں میں تل ابیب سمیت فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کے جنوب، وسط اور شمال میں تنصبیات کو نشانہ بنایا گیا بیلسٹک میزائل، ٹھوس اور مائع ایندھن پروجیکٹا ئلز، خرمشہر، خیبر شکن اور عماد میزائل استعمال کیے گئے، اس کے علاوہ خودکش ڈرونز سے بھی اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    پاسداران انقلاب کا کہنا تھا کہ ڈیمونا، نیگیو، بیریشیبا اور رامات گین میں قائم تنصبیات کو جدید انداز اپناتے ہوئے نشانہ بنایا گیا، جس کے دوران اسرائیل کے انتہائی جدید فضائی نظام کی کئی لہروں کو ناکام بنایا گیا اور وہ ایرانی ڈرونز روکنے میں ناکام ثابت ہوا یہ ایرانی مسلح افواج کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور خطے کے ممالک کے لیے خوشی کا لمحہ ہے،یمنی جنگجو گروپ نے جنوبی مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر بلیسٹک میزائل حملے کیے، عراقی مزاحمتی گروپس نے ابھی 19 میزائل حملے کیے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ مرکزی علاقے میں میزائل کا ملبہ گرا ہے، جس کے بعد مذکورہ علاقے کی طرف سرچ اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں اسرائیلی فوج نے عوام سے ہنگامی بنیاد پر درخواست کی وہ متاثرہ علاقے کے قریب جانے یا وہاں جمع ہونے سے گریز کریں اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکاروں کو اپنا کام آزادانہ انداز میں کرنے دیں۔

  • سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا ،ایران

    سعودی عرب میں امریکی ایمبیسی پر حملہ اسرائیل نے کیا تھا ،ایران

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ 3 مارچ کو ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والا ڈرون حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔

    الجزیرہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی مسلح افواج سے کوئی تعلق نہیں، یہ کارروائی اسرائیل نے خطے میں اپنی حکمت عملی کے تحت انجام دی۔

    آئی آر جی سی نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا ایرانی افواج سے قطعی کوئی تعلق نہیں اور خطے میں اسرا ئیلی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کارروائی یقینی طور پر صہیونی عناصر نے کی، مسلم ممالک کو صہیونی حکومت کی خطے میں فتنہ انگیزی سے ہوشیار رہنا چاہیے اور پڑوسی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ امریکی-صہیونی اتحاد کی تخریبی کوششوں کے خلاف چوکنا رہیں، جس کا مقصد خطے کو غیر مستحکم کرنا اور تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔

    یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حملہ سعودی حکام کے بیان سے کہیں زیادہ تباہ کن تھا سعودی وزارتِ دفاع نے واقعے کو محدود نوعیت کی آگ اور معمولی نقصان قرار دیا تھا، تاہم امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ حقیقت میں لگنے والی آگ کئی گھنٹوں تک بھڑکتی رہی اور اس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، رات کے وقت کیے گئے اس حملے میں ایرانی ڈرونز نے سفارت خانے کے محفوظ حصے کو نشانہ بنایا تھا، جہاں دن کے اوقات میں سیکڑوں افراد کام میں مصروف ہوتے ہیں۔

  • ایران  کا  امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کا امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ

    ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد جعفر اسدی نے ہفتے کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں خطے کی حالیہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ جنگ کا امکان موجود ہے ماضی گواہ ہے کہ امریکا کسی بھی معاہدے، وعدے یا بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتا ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو ایران کی مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گی،کہ ملک کی دفاعی تیاری مکمل ہے اور دشمن کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کُن اور سخت جواب دیا جائے گادشمن کی سازشوں کے باوجود ریاست کے تمام ستون ایرانی قیادت کی ہدایات کے مطابق مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں، انہو ں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے اندر شدید اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے اپنی نئی مذاکراتی تجویز جمعرات کو ثالث ملک پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی، تاہم اس کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایرانی تجویز کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں جن کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ مذاکرات کا حصہ بنایا گیا ہے ان مطالبات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران بمباری سے متاثرہ جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم منتقل نہ کرے اور نہ ہی وہاں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے۔

    دوسری جانب سفارتی محاذ پر پاکستان کی امن کوششوں میں ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے، ایران نے مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھجوا دی ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے فی الحال ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو زیادہ مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔