Baaghi TV

Tag: ایران

  • امریکی کلب ڈانسر نے  ایران کے خلاف نئی ممکنہ فوجی تعیناتیوں کا پردہ فاش کر دیا

    امریکی کلب ڈانسر نے ایران کے خلاف نئی ممکنہ فوجی تعیناتیوں کا پردہ فاش کر دیا

    امریکا کے شہر سان ڈیاگو سے تعلق رکھنے والی ایک کلب ڈانسر چارم ڈیز نے ٹک ٹاک ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ نوجوان امریکی فوجی اپنی اگلی تعیناتیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے خلاف ممکنہ جنگی مشن کے حوالے سے حساس معلومات عام جگہوں پر شیئر کر رہے ہیں۔

    ویڈیو میں چارم نے بتایا کہ حال ہی میں بڑی فوجی چھاؤنیوں کے قریب واقع کلبوں میں اُداس اور پریشان حال فوجیوں کا رش بڑھ گیا ہے جو اپنی روانگی سے قبل بڑی رقم خرچ کر رہے ہیں کئی نوجوان فوجیوں نے انہیں صاف بتایا کہ وہ اگلے ہفتے ایران کے خلاف محاذ پر روانہ ہو رہے ہیں، جن میں سے کئی بہت ہی کم عمر اور معصوم شکلوں والے ہیں۔

    سان ڈیاگو کا علاقہ امریکا کے بڑے فوجی مراکز کے قریب واقع ہے جہاں بحری اور زمینی فوج کے اہم اڈے موجود ہیں اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ کے پیشِ نظر امریکا کسی بڑی عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے،ہزاروں اضافی امریکی فوجی، جن میں میرین یونٹس اور ایلیٹ فورسز شامل ہیں، پہلے ہی خطے میں پوزیشن سنبھال چکے ہیں۔

    امریکی عوام میں اس ممکنہ جنگ کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور کئی خاندان اسے ایک غیر ضروری تنازع قرار دے کر اپنے پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں فکر مند ہیں اگرچہ پینٹاگون کی جانب سے ان معلومات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی اور ویڈیو بنانے والی خاتون نے اسے محض ایک ذاتی مشاہدہ قرار دیا ہے، لیکن اس واقعے نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے دور میں فوجی رازوں کو چھپانا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔

  • یو اے ای آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے، وال سٹریٹ جرنل

    یو اے ای آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے، وال سٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ایران کے حملوں کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی تیاری کر رہا ہے۔

    امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کے لیے لابنگ کر رہا ہے جس کے تحت اس کارروائی کی اجازت حاصل کی جاسکے اماراتی سفارتکاروں نے امریکا اور یورپ و ایشیا کی عسکری طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک مشترکہ اتحاد قائم کریں جو طاقت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھول سکےیو اے ای کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امارات نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے اپنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا ہے جس میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر معاون خدمات شامل ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ میں واقع بعض جزائر، بشمول ابو موسیٰ جزیرے پر قبضہ کرنا چاہیے جو گزشتہ نصف صدی سے ایران کے کنٹرول میں ہے جبکہ امارات بھی اس پر دعویٰ کرتا ہے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک بھی اب ایرانی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے جب تک ایران کو کمزور یا اس کی حکومت کو ختم نہ کر دیا جائے بحرین جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈ کوارٹر ہے اس قرارداد کی تیاری کر رہا ہے اور اس پر ووٹنگ جمعرات کو متوقع ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب یو اے ای اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کے قریب آ رہا ہے جس میں اتحادی ممالک سے جنگ کا زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہےٹرمپ اپنے مشیروں سے کہہ چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوائے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ ہیں اور اس معاملے کو دیگر ممالک پر چھوڑ سکتے ہیں۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ یو اے ای کو یقین ہے کہ ایشیا اور یورپ کے وہ ممالک جو اس وقت ہچکچاہٹ کا شکار ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کی صورت میں اس کارروائی میں شامل ہو جائیں گےروس اور چین اس قرارداد کو ویٹو کر سکتے ہیں جبکہ فرانس ایک متبادل مسودہ پیش کر رہا ہے تاہم اگر قرارداد منظور نہ بھی ہو تو بھی یو اے ای آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کسی بھی کوشش میں شامل ہونے کے لیے تیار رہے گا۔

  • ایران نے ٹرمپ کے  جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی آر آئی بی نیوز‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی پیشکش نہیں کی، امریکا اور اسرائیل کو سزا اور ایران کو ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہ ملنے تک جنگ جاری رہے گی، میڈیا میں سامنے آنے والے مبینہ پانچ نکاتی پلان کی خبریں سچائی پر مبنی نہیں بلکہ قیاس آرائی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات یا سفارت کاری کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ امریکا نے ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے یا حملوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

    مصر کے روزنامے ’المصری الیوم‘ کو دیے گئے انٹرویو اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں اب کسی کو بھی امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے دھیان بھٹکانے کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔

    ایران کی جانب سے یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، تاہم وہ جنگ بندی پر تب ہی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گااس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے دعوے کرچکے ہیں تاہم ایرانی حکام مسلسل ان دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

  • یو اے ای کا ایران کے 5 میزائل، 35 ڈرون گرانے کا دعویٰ

    یو اے ای کا ایران کے 5 میزائل، 35 ڈرون گرانے کا دعویٰ

    متحدہ عرب مارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فضائی دفاع نے آج 5 بلیسٹک میزائل اور 35 ڈرونز مار گرائے ہیں

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے فائر کیے گئے 5 بلیسٹک میزائل اور 35 ڈرونز مار گرائے ہیں، جس کے بعد اب تک گرائے گئے ایرانی میزائلوں کی تعداد بڑھ کر 438 اور ڈرونز کی تعداد دو ہزار 12 ہوگئی ہے۔

    اس سے قبل مقامی میڈیا نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے علاقے ال قووین میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک اور شہری جاں بحق ہوگیا ہے، اس کے علاوہ فجیرہ میں علی الصبح ناکارہ بنائے گئے ڈرون کا ملبہ لگنے سے بھی ایک شہری دم توڑ گیا تھا۔

    ایرانی خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران کی اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات پر ڈرونز اور میزائل گرنے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور اسی دوران ایک ہزار 232 ایرانی شہر دبئی سے واپس ایران پہنچ گئے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ دبئی سے اکثر ایرانی افغانستان اور آرمینہ کے راستے واپس آ رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروزیں معطل ہیں جبکہ ایرانی حکومت نے متحدہ عرب امارات سے درخواست کی ہے کہ ان کے شہریوں کو بحری جہازوں کے ذریعے واپس بھیج دیا جائے۔

  • ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    ٹرمپ نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم اس درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے حال ہی میں امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے انہوں نے ایران کے نئے رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر اس وقت غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز پر آزادانہ آمد ورفت بحال ہوجائے گی اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے اور انہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔

    اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص اہداف پر حملے کرے گا انہوں نے نیٹو کے بارے میں بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں ایران کے معاملے میں دوست ممالک نے امریکا کی حمایت نہیں کی،ہم نے کبھی ان سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، لیکن جب ہمیں ضرورت پڑی تو دو ستوں نے ساتھ نہیں دیا، ایران جنگ کے اختتام کے حتمی اوقات سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں بالکل نہیں بتا سکتا مگر ہم جلد ہی نکل جائیں گے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم اعلانات متوقع ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران جنگ کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں امریکا کے اہم ترین اتحادی ممالک (نیٹو) نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کردیا ہے۔

  • سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے،جواد ظریف

    سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے،جواد ظریف

    ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے خلیج میں اپنے پڑوسی عرب ممالک کو پیغام دیا ہے کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تجزیے میں ایران کے سابق وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ جنوبی خلیج فارس میں ہمارے پڑوسیوں کو ایک یاد دہانی کہ سیکیورٹی باہر سے خریدی نہیں جاسکتی ہے، بیرونی فوجی بیسز استحکام نہیں لاتے بلکہ وہ جنگ کے لیے میدان ہموار کرتے ہیں،خلیج تعاون تنظیم کے اکثر ممالک نے گزشتہ 50 سال سے ایران کے خلاف سیکیورٹی کو فروخت کیا ہوا ہے۔

    جواد ظریف نے ماضی میں پیش آنے والے واقعات کا سن وار جائزہ بھی پیش کیا اور بتایا کہ 1980 سے 88 تک صدام حسین کی ایران کے خلاف جنگ پر فنڈز دیے، 1985 میں ایران کی علاقائی سیکیورٹی تجاویز مسترد کردی 1990 سے 1992 کے دوران صدام حسین کے کویت پر مداخلت کو ختم کرنے میں مدد کے بعد ایران پر کشیدگی کا انتخاب کیا، جو ایران کے خلاف ان کے مرکزی مالی معاونت کرنے والے تھے۔

    سابق ایرانی وزیرخارجہ نے مزید واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2001 سے آج تک سانپ کا سر کاٹنے کی حکمت عملی اپنائی گئی، 2015 میں ایران کے جارحیت مخالف معاہدے کو مسترد کردیا جبکہ ایران کے خلاف امریکی بیسز کے لیے ادائیگیاں کیں، 2015 سے آج تک انہوں نے جے او پی او اے کی مخالفت میں لابنگ کی اور ایرانی عوام پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں عوام کی معاشی حالت متاثر ہوئی جبکہ ان کی ذاتی دولت میں اضافہ ہوا۔

    جواد ظریف نے حوالہ دیا کہ 2019 میں ہرمز امن معاہدہ مسترد کردیا گیا اور ایران پر پابندیوں کی حمایت کی گئی ہے جس سے ایران کے لیے آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہوجائےآج انہوں نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ میں دیگر تمام اتحادیوں سے بڑھ کر مدد کے لیے جلدی کی جبکہ اس کے بدلے انہیں ذلیل کیا گیا اور اسرائیل کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا، ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی چلاجائے گا لیکن ایران یہاں ہمیشہ رہے گا، سیکیورٹی سب کو ملنی چاہیے۔

  • چیچن قیادت نے ایران امریکا  کشیدگی کو ’’مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا

    چیچن قیادت نے ایران امریکا کشیدگی کو ’’مذہبی جنگ‘‘ قرار دیا

    چیچن فوجی یونٹس نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو وہ ایرانی افواج کی مدد کے لیے میدان میں اتریں گے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے مطابق رمضان قدیروف کے وفادار چیچن فوجی دستوں نے ایران میں تعیناتی کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، یہ دستے اس صورت میں مداخلت کریں گے جب امریکا ایران کے خلاف زمینی کارروائی شروع کرے گا، چیچن فورسز کا کہنا ہے کہ وہ جاری تنازع کو’’مذہبی جنگ‘‘ سمجھتے ہیں اور اگر براہ راست مداخلت ہوئی تو اسے “جہاد” تصور کریں گے، جسے انہوں نے ’’حق اور باطل کی جنگ‘‘ قرار دیا۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے امریکا زمینی کارروائی پر بھی غور کر رہا ہے، جبکہ جنگ کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات جاری تھے، اسی دوران ایران کی قیادت اور دیگر اعلیٰ فوجی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا، جوابی کارروائی میں ایران نے ا سرا ئیلی فوجی ٹھکانوں اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر درجنوں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو لکھے گئے خط میں الزام عائد کیا ہے کہ یوکر ین بھی اس تنازع میں شامل ہےاور اس نے سینکڑوں ماہرین خطے میں بھیجے ہیں، چیچن فورسز، جنہیں ’’کدیروفسی‘‘ بھی کہا جاتا ہے،ماضی میں روس کے ساتھ یوکرین سمیت مختلف تنازعات میں شریک رہ چکی ہیں، اور اب ممکنہ طور پر ایران کے حق میں بھی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  • ایران کیساتھ جنگ پرانا منصوبہ؟صدر ٹرمپ نے1987 میں اپنے انٹرویو کا ویڈیو کلپ  شئیر کردیا

    ایران کیساتھ جنگ پرانا منصوبہ؟صدر ٹرمپ نے1987 میں اپنے انٹرویو کا ویڈیو کلپ شئیر کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک 38 سال پرانا انٹرویو شیئر کیا ہے، انٹرویو میں ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہاں جائیں، تیل پر قبضہ کریں اور ایران کو اپنی جنگ خود لڑنے دیں، اس طرح ہم اپنی تمام کسر نکال سکتے ہیں-

    یہ ویڈیو کلپ 1987 کا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ محض ایک کاروباری شخصیت تھے، لیکن اس وقت بھی ان کی سوچ ایران کے حوالے سے انتہائی سخت تھی، 1987 میں معروف صحافی باربرا والٹرز کو دیے گئے اس انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے خطرات نہیں بڑھیں گے، تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ ہمیں ایرانی سمندروں میں داخل ہو کر ان کے تیل پر قبضہ کر لینا چاہیے، آپ وہاں جائیں اور تیل لے لیں، کمزوری دکھانے سے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں،اگر ایران دوبارہ حملہ کرے تو ہمیں ان کی تیل کی تنصیبات پر قبضہ کر کے اسے اپنے پاس رکھ لینا چاہیے-

    صدر ٹرمپ نے یہ کلپ ایک ایسے وقت میں خود شیئر کیا ہے جب امریکی افواج ایران کے ساتھ ایک فعال جنگ میں مصروف ہیں موجودہ حالات میں اس ویڈیو کو شیئر کرنا صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے،ایک طرف صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ معقول نظر آتے ہیں، لیکن دوسری طرف انہوں نے ایک سنگین دھمکی بھی دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر جلد ہی کوئی معاہدہ طے نہ پایا اور تیل کی تجارت کے لیے اہم راستہ آبنائے ہرمز نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور خاص طور پر ان کی سب سے بڑی بندرگاہ خارگ آئی لینڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود ایران کے بارے میں ان کا بنیادی نظریہ تبدیل نہیں ہوا جہاں وہ ایک طرف مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ ایرانی تیل پر براہِ راست حملے کی دھمکی دے کر تہران پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔

  • ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ،2 اسرائیلی جاسوس گرفتار

    ایران کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ،2 اسرائیلی جاسوس گرفتار

    ایران کے مختلف شہروں میں امریکی اور اسرائیلی حملوں، گرفتاریوں اور امدادی سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ ایران نے امریکی ڈرون مار گرا نے کا دعویٰ کردیا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایک ایم کیو-9 ریپر ڈرون مار گرایا ہے، جسے ایرا ن نے امریکی-اسرائیلی جارح دشمن کا ڈرون قرار دیا۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق یہ کارروائی منگل کو انجام دی گئی اور ایران کی جانب سے مار گرائے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 146 ہو گئی ہے، ایم کیو-9 ریپر ڈرون عام طور پر نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ ڈالر بتائی جاتی ہے۔

    دوسری جانب ایرانی سیکیورٹی فورسز نے شمال مغربی علاقے میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر حساس مقامات کی معلومات امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کو فراہم کرنے کا الزام ہے تسنیم نیوز کے مطابق ملزمان کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی کی جاتی تھی یہ گرفتاریاں صوبہ مشرقی آذربائیجان کے شہر اسکو میں عمل میں آئیں اور دونوں افراد کو عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم سے اصفہاں پر حملہ کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے،اس حملے کا ہدف اصفہان میں اسلحہ ڈپو تھا حملے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دھماکوں کی ویڈیوز سامنے آئیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جس کا مقصد ایران کو مزید سخت پیغام بھی دینا تھا۔

    واضح رہے کہ کچھ رپورٹس میں اصفہان کو جوہری تنصیبات کا حامل علاقہ بتایا گیا ہے تاہم اس مخصوص حملے کا ہدف زیادہ تر اسلحہ ڈپو اور فوجی انفراسٹرکچر بتایا جا رہا ہے۔