Baaghi TV

Tag: ایران

  • کراچی بندرگاہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا

    کراچی بندرگاہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا

    کراچی بندرگاہ پر شپنگ کنٹینرز کی لمبی قطاریں، کیونکہ یہ ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ترین مقام بن گیا ہے۔

    مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں خطرات کے باعث کراچی پورٹ شپنگ کمپنیوں کے لیے محفوظ ترین متبادل ٹرانس شپمنٹ حب بن گئی ہے، جس سے بندرگاہ پر کنٹینرز کی لمبی قطاریں لگ گئیں، یہ صورتحال پاکستانی بندرگاہوں کی سٹریٹجک اہمیت کو بڑھا رہی ہے، جہاں مال بردار جہاز غیر یقینی صورتحال سے بچنے کے لیے یہاں لنگر انداز ہو رہے ہیں-

    ایران اور دیگر علاقائی ممالک میں جنگی کشیدگی کی وجہ سے سمندری راستے غیر محفوظ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں کراچی پورٹ کو ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے کراچی بندرگاہ پر ٹرانس شپمنٹ، کنٹینرز اور بلک کارگو کی نقل و حمل میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے کراچی بندرگاہ کے باہر لنگر انداز جہازوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جو اس خطے میں سمندری تجارت کے لیے ایک نیا مرکز بن رہا ہےیہ تبدیلی پاکستانی بندرگاہوں کے لیے بین الاقوامی شپنگ میں اپنا کردار بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔

  • یوگینڈا آرمی چیف کا  ایران کے خلاف اسرائیل کی حمایت کا اعلان

    یوگینڈا آرمی چیف کا ایران کے خلاف اسرائیل کی حمایت کا اعلان

    یوگینڈا کے آرمی چیف مہوذی کائنیروگابا نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جنگ میں شامل ہونے کی پیشکش کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جنرل مہوذی کائنیروگابا نے اپنے بیان میں کہا کہ یوگینڈا کی افواج اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس کی جانب سے لڑنے کے لیے تیار ہیں مشرق وسطیٰ میں جنگ بند ہونی چاہیے، تاہم اگر اسرائیل کو تباہ کرنے یا شکست دینے کی کوشش کی گئی تو یوگینڈا بھی اس جنگ میں شامل ہو جائے گا،اگر اسرائیل کو مدد درکار ہو تو یوگینڈا کی فوج صرف ایک اشارے کی منتظر ہے اور فوری طور پر تعاون فراہم کرے گی۔

    واضح رہے کہ یوگینڈا کی فوج میں تقریباً 45 ہزار اہلکار شامل ہیں، جبکہ جنرل مہوذی ملک کے صدر یواری موسیونی کے بیٹے بھی ہیں وہ سوشل میڈیا پر اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے ہیں دفاعی ماہرین کے مطابق اس بیان سے مشرق وسطیٰ کے تنازع میں مزید شدت آ سکتی ہے، کیونکہ دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔

  • ایران کا  500 امریکی فوجی ہلاک کرنے اور ایک ایف-16 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا 500 امریکی فوجی ہلاک کرنے اور ایک ایف-16 طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ حملوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں جبکہ جنوبی فارس میں ایک امریکی جنگی طیارہ ایف سکسٹین کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے-

    پاسداران انقلاب کاکہنا ہے کہ مذکورہ طیارہ سعودی عرب کے ایک ایئربیس تک پہنچنے سے قبل ہی کریش ہو گیا تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہےپاسداران انقلاب کے مطابق انہوں نے مقبوضہ فلسطین سمیت خطے میں امریکی اور اسرائیلی صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے یہ حملے جاری کشیدگی کے تناظر میں کیے گئے ہیں-

    دوسری جانب ختم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی شہر حیفا میں ایک اسٹریٹجک الیکٹرانک وارفیئر سینٹر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب ایندھن کے ذخائر پر بھی حملہ کیا گیا، اگر ایرانی صنعتی تنصیبات پر مزید حملے کیے گئے تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔

  • ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    ایرانی حملوں میں امریکا کا جدید ترین ریڈار سسٹمز سے لیس سرویلنس طیارہ تباہ

    سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں ایک امریکی سرویلنس طیارہ تباہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں امریکی ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم طیارہ کو نشانہ بنایا گیا یہ طیارہ جدید ریڈار سسٹمز سے لیس ہوتا ہے اور سیکڑوں میل دور تک دشمن طیاروں اور ڈرونز کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی انوینٹری میں کل 16 AWACS ہیں۔ جن میں سے 1 یا ممکنہ طور پر 2 تباہ ہو چکے ہیں، امریکی فوج میں فی الحال کوئی دوسرا AWACS نہیں ہے، اس کا متبادل E7A ابھی بھی آرڈرز پر ہے ابھی تک ڈیلیور نہیں ہوا ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے طیارے کسی بھی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ فضائی نگرانی، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور بروقت معلومات فراہم کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں،سابق امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ای تھری طیارے کی تباہی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے خلیج فارس کے خطے میں امریکی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات جاری کشیدگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

    تاہم اس واقعے سے متعلق ابھی تک امریکی یا سعودی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اور ماہرین اس خبر کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

  • ایران اور امریکا  کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے جاری ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز پر ایران غور کر رہا ہے-

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے 15 نکات شیئر کیے ہیں، جن پر تہران غور کر رہا ہے،اس عمل میں پاکستان ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں جانب پیغامات کی ترسیل جاری ہے، مصر، ترکی اور دیگر مما لک بھی اس سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    اسحاق ڈار نے میڈیا میں زیر گردش خبروں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سفارتی سطح پر پیشرفت جاری ہے، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے موجودہ صورتحال میں مکالمہ اور سفارتکاری ہی مسائل کا واحد حل ہے اور تمام فریقین کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں امریکی اور ایرانی حکام سمیت دیگر عالمی شخصیات کو بھی مخاطب کیا، جن میں عباس عراقچی، مارکو روبیو اور اسٹیو وٹکاف شامل ہیں۔

  • اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ  کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا ایرانی بحریہ کے سربراہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے کمانڈر علی رضا تنگسیری کو بندر عباس میں ایک فضائی حملے میں شہید کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا نے ایک عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ علی رضا تنگسیری کو ساحلی شہر بندر عباس میں ایک کارروائی کے دوران شہید کیا گیا وہ آبنائے ہرمز کی بندش کے فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق تنگسیری ان چند اہم کمانڈرز میں شامل تھے جو اس سے قبل بھی حملوں میں محفوظ رہے تھ ۔ وہ 2018 سے اس عہدے پر فائز تھے اور ایران کی بحری حکمت عملی میں اہم کردار رکھتے تھے کمانڈر علی رضا آبنائے ہرمز کی بندش کے منصوبے کے مرکزی ذمہ دار سمجھے جاتے تھے تاہم ایران یا اسرائیلی فوج کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔

    آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اس پر ایران کے کنٹرول کے باعث شپنگ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، شپنگ ڈیٹا کے مطابق یکم مارچ سے 25 مارچ کے درمیان جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 95 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں عام حالات میں روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے، وہیں اس عرصے میں صرف 155 جہازوں نے یہ راستہ استعمال کیا ایران نے اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور بعض جہازوں سے چینی کرنسی یوآن میں ادائیگی لی جا رہی ہے۔

  • ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق

    ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق

    ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے مزید 2 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔

    ابو ظبی حکام کے مطابق اماراتی فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل کو تباہ کردیا جس کے بعد سویجان میں بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے،بیلسٹک میزائل کا ملبہ گرنے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے-

    حکام کے مطابق ابوظبی کے علاقے سویحان اسٹریٹ پر اماراتی فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا تباہ کیے گئے میزائل کا ملبہ گرنے سے متعدد گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور صورتِ حال کو قابو میں لے لیا گیا۔

    حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔

  • خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی : یہودیوں کی حفاظت کیلئے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز

    خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی : یہودیوں کی حفاظت کیلئے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز

    اسرائیل کے ایک سیاستدان کی جانب سے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ تجویز خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ میزائل حملوں کے خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیاسی شخصیت اوری اسٹینر نے تجویز پیش کی کہ یونان کے تقریباً 40 غیر آباد جزائر خرید کر انہیں اسرائیلی شہریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے،اس تجویز کا مقصد ممکنہ جنگی صورتحال میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا بتایا گیا ہے۔

    اسٹینر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے متبادل حفاظتی منصوبہ ضروری ہے، انہو ں نے اس تصور کو ایک ’متبادل آئرن ڈوم‘ قرار دیا تاہم اس تجویز کوجلد ہی مسترد کر دیا گیا جیوئش نیشنل فنڈ کی ذیلی کمپنی ہمنوتا کے بورڈ ممبران نے اس منصو بے کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کے بنیادی مقاصد کے خلاف ہے، بورڈ نے واضح کیا کہ ادارہ اسرائیل یا فلسطینی علاقوں سے با ہر زمین خریدنے کا مجاز نہیں، اس لیے یونان کے جزائر خریدنے کی تجویز قابل عمل نہیں ہے۔

  • پاکستان کی سفارتکاری:بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام ، بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان کیخلاف نازیبا زبان

    پاکستان کی سفارتکاری:بھارتی حکمرانوں کی نیندیں حرام ، بھارتی وزیر خارجہ کی پاکستان کیخلاف نازیبا زبان

    مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کلیدی کردار سے بھارتی حکمران تلملا اٹھے-

    آل پارٹیز اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی، جبکہ اپوزیشن نے حکومتی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھائے ہیں، اپوزیشن ارکان نے سوال اٹھایا کہ جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، تو پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے متحرک ہے، جبکہ بھارت تنہائی کا شکار نظر آ رہا ہے-

    اجلاس میں اپوزیشن نے مودی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہے،ایران اور امریکا جیسے بڑے ممالک پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، بھارت کی ’’وشو گرو‘‘ بننے کی دعویداری صرف بیانات تک محدود رہ گئی ہے،اجلاس کے دوران اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارت کا کردار محدود کیوں دکھائی دے رہا ہے۔

    اپوزیشن کے ان سوالات پر ڈاکٹر جے شنکر اپنا غصہ قابو میں نہ رکھ سکے پاکستان کا نام لیے بغیر جے شنکر نے کہا کہ بھارت کسی دوسرے ملک کے ایجنڈ ے کو آگے بڑھانے والا ’’ایجنٹ” یا ‘‘دلال ملک‘‘ نہیں بنے گا –

  • اقوام متحدہ  میں ایرانی حملوں کیخلاف قرارداد منظور، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    اقوام متحدہ میں ایرانی حملوں کیخلاف قرارداد منظور، 100 سے زائد ممالک کی حمایت

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کر لی گئی ہے، جس کی 100 سے زائد ممالک نے حمایت کی۔

    یہ قرارداد خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد منظور کی گئی، قرارداد میں ایران کے حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی ہے،اس موقع پر امارات کی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔

    قرارداد میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی میں مداخلت کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے ، ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور متاثرہ فریقین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔