Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران نے  خارگ جزیرے پر  اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا

    ایران نے خارگ جزیرے پر اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا

    خلیج فارس میں واقع ایران نے اپنے خارگ جزیرے کی حفاظت کے لیے اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

    امریکی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع نے نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو بتایا کہ ایران نے جزیرے پر اضافی فوجی دستے تعینات کیے ہیں اور فضائی دفاعی نظام کو بھی مزید فعال بنایا ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ امریکا اس جزیرے پر قبضے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات یہیں سے ہوتی ہیں امریکی انتظامیہ اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

    تاہم امریکی حکام اور فوجی ماہرین اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں ان کے مطابق ایران نے جزیرے پر تہہ در تہہ دفاعی نظام قائم کر رکھا ہے، جس میں کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں اس کے علاوہ ایران نے جزیرے کے اطراف میں بارودی سرنگیں بھی بچھا دی ہیں، خاص طور پر ساحلی علاقوں میں، جہاں امریکی فوج ممکنہ طور پر سمندر کے راستے آکر اتر سکتی ہے۔

    امریکی فوج اس سے قبل 13 مارچ کو خارگ جزیرے پر حملے کر چکی ہے، جن میں تقریباً 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں بارودی سرنگوں کے ذخیرے، میزا ئل بنکرز اور دیگر فوجی تنصیبات شامل تھیں اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تیل کی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہےاسرائیلی ذرائع نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکا نے خارگ جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ایران ڈرونز اور میزائل حملوں کے ذریعے شدید ردعمل دے سکتا ہے، جس سے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

    خلیجی ممالک بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور امریکا کو خبردار کر رہے ہیں کہ زمینی کارروائی سے جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے اور پورے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہےاس کے بجائے ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا زیادہ اہم ہوگا۔

    ایران کی قیادت نے بھی سخت ردعمل دیا ہے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے ایرانی جزیرے پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے ایران کی مسلح افواج دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں خطے کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    فوجی ماہرین کے مطابق خارگ جزیرہ سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود اسٹریٹیجک لحاظ سے نہایت اہم ہے، اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے امریکا کو بڑی تعداد میں فوجی اور بحری وسائل تعینات کرنے ہوں گے سی این این کا کہنا ہے کہ امریکی میرینز کے خصوصی یونٹس اور ایئر بورن ڈویژن کے اہلکار خطے میں بھیجے جا رہے ہیں، جو ایسی کارروائیوں میں مہارت رکھتے ہیں۔

  • ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی،صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی،صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نےمجھے سپریم لیڈر بننے کی پیشکش کی ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریپبلکن فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باوجود پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے انہوں نے (ایران نے) کہا آپ سپریم لیڈر بن جائیں، میں نے کہا ’نو تھینک یو‘ (معذرت)“۔

    ٹرمپ کے مطابق کسی بھی ملک کی سربراہی سے زیادہ مشکل کام ایران کی قیادت ہے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے، ایران کے خلاف کارروائیوں کو اس ملک کی ’مکمل تباہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس جنگ میں واضح برتری حاصل کر چکا ہے، ایران خفیہ طور پر جنگ بندی چاہتا ہے لیکن داخلی ردعمل کے خوف سے کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔

    دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے ایرانی مسلح افواج کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں،ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ اس طرح کا معاہدہ نہیں کرے گا۔

  • ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کا امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک امریکی ایف ایٹین لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی جنگی طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کے خبررساں ادارے آر ٹی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے اس دعوے کے ثبوت کے طور پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے، اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے،اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے-

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس دعوے کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اس قسم کے دعوے معلوماتی جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، جس میں غلط یا غیر مصدقہ ویڈیوز اور خبریں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔

    ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ معلوماتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں دونوں فریق اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    امریکا کے ساتھ جنگ کا اختتام کیا ہو گا؟ایران کی جانب سے جاری اے آئی ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی

    ایران کی جانب سے جاری کی گئی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک ویڈیو نے انٹر نیٹ پر ہلچل مچا دی ہے-

    53 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں امریکا سے بدلہ لینے کے مناظر دکھائے گئے ہیں ویڈیو کا اختتام ایک میزائل حملے پر ہوتا ہے جو نیویارک میں نصب مشہورِ زمانہ مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ویڈیو میں مجسمہ آزادی کا سر بدل کر اس کی جگہ ایک قدیم شیطانی دیوتا ’بعل‘ کا سر لگا دکھایا گیا ہے، جسے مذ ہبی اور تاریخی حوالے سے طاقت اور برائی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    روسی خبر رساں ادارے ’آر ٹی‘ نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے یہ کلپ شیئر کیا ہے جس کا عنوان ’سب کی طرف سے ایک ہی انتقام‘ رکھا گیا ہے، ویڈیو دراصل امریکا کی جانب سے جاری طویل مظالم اور ماضی کے مختلف تنازعات کو ایک کہانی کی شکل میں پیش کرتی ہے،ویڈیو کا آغاز شمالی امریکا کے مقا می قبائل کی زمینوں سے ہوتا ہے جس کے بعد جاپان کے شہر ہیروشیما کے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے ایٹمی بمباری کی تھی۔

    اس کے بعد کہانی ویتنام کے جنگ زدہ کھیتوں، یمن کی تباہی اور غزہ کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچتی ہے ہر منظر میں وہاں موجود کردار آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، جو ان ممالک میں امریکی فوجی مداخلت یا مدد سے ہونے والی مبینہ تباہی کی طرف اشارہ ہےاس ویڈیو میں ایپسٹین جزیرے میں کھڑی ایک بچی کو بھی دکھایا گیا ہے جو آسمان کی جانب دیکھ رہی ہے، اس کا مقصد امریکی اشرافیہ اور عالمی رہنماؤں کے غلیظ کارناموں کی طرف اشارہ دلانا تھا۔

    ویڈیو میں جنوبی ایران کے شہر میناب کے ایک اسکول کی بچی کو دکھایا جاتا ہےیہ منظر اس اسکول پر ہونے والے اس ٹوما ہاک میزائل حملے کی یاد دلاتا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 160 سے زائد بچیاں جاں بحق ہوئیں اور اس کا الزام امریکا پر لگایا گیا تھا ویڈیو میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں، جو بالترتیب 2020 اور فروری 2026 میں امریکی و اسرائیلی کارروائیوں میں شہید ہوگئے تھےویڈیو کے آخر میں ایک میزائل بادلوں کو چیرتا ہوا مجسمہ آزادی سے ٹکراتا ہے اور اسے تباہ کر دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس میں ’بعل‘ کا سر دکھانا ایک گہرا علامتی پیغام ہے، کیونکہ یہ کردار تاریخی طور پر بت پرستی اور اخلاقی بگاڑ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

  • آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    آبنائےسے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائدکرنے کی قانون سازی کی تیاری شروع

    ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    ’الجزیرہ‘ کے مطابق، پارلیمنٹ میں ایک قانونی مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں اور آئل ٹینکرز سے فیس وصول کی جائے گی ایرانی پارلیمنٹ کی متعلقہ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق یہ اقدام اس بنیاد پر کیا جا رہا ہے کہ ایران اس بحری گزرگاہ کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا ہے، اس لیے دیگر عالمی تجارتی راہداریوں کی طرح یہاں بھی فیس لینا ایک ”فطری عمل“ ہے ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ آبنا ئے ہرمز پر اس کے اختیار کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جائے، اور یہ مطالبہ اس کی جنگ بندی کی شرائط میں بھی شامل ہے۔

    دوسری جانب اس پیش رفت کے عالمی معیشت پر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اس سے متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے ماہر معاشیات ولیم لی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کرنا ایک ”نفسیاتی چال“ ہے تاکہ مارکیٹ کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ تیل کی سپلائی برقرار رہے گی۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ خلیج کے علاقے سے روزانہ 10 سے 15 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا خود تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے وہ کسی حد تک محفوظ ہے، لیکن عالمی منڈی میں خلا کو مکمل طور پر پُر کرنا آسان نہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ذخائر کے استعمال سے وقتی طور پر قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں سپلائی کی کمی برقرار رہ سکتی ہے۔ ولیم لی کے مطابق اصل مسئلہ جنگ کا دورانیہ ہے، اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ دیگر بڑی معیشتیں بھی کردار ادا کریں، خاص طور پر چین، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں تاہم اب تک چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کرنے کے کوئی واضح اشارے نہیں ملے۔

  • ایران نے اسرائیل اورامریکا پر  400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران نے اسرائیل اورامریکا پر 400میزائل داغ دیئے، تل ابیب میں کئی عمارتیں تباہ

    ایران کے اسرائیل اورامریکا پر وارجاری، صرف 40 منٹ کے دوران 400 میزائل داغ دیے،کویت، اردن، بحرین میں بھی امریکی فوجی اڈوں کونشانہ بنایا گیا-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملوں کی ایک اور بڑی لہر میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی شہر میں خطرے کے سائرن طویل وقت تک بجتے رہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اسرائیلی ذرائع کے مطابق بنی براک کے علاقے میں حملوں کے نتیجے میں کم از کم 12افراد زخمی ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران زخمیوں کی تعداد 2 سو تک پہنچ گئی ہے ایران نے حدیرہ میں واقع ایک بڑے پاور پلانٹ کو بھی میزائل حملے میں نشانہ بنایا، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی، یہ ایک ہی دن میں ہونے والا پانچواں بڑا حملہ تھاایران نے 40 منٹ کے دوران سینکڑوں میزائل داغے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور کویت، اردن اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے گئے ہیں تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    عرب ممالک کی جانب سے دفاعی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے، اماراتی وزارت دفاع کے مطابق ایران سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو ناکام بنانے کا اعلان کیا، عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ 20 سے زائد ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

    اُدھر لبنان سے حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس کے نتیجے میں شمالی شہر کرمیل میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ مقامی اسپتالوں میں متعدد زخمیوں کو منتقل کیا گیا،لبنانی فوج کے مطابق ایرانی میزائلوں کے کچھ حصے لبنانی علاقے میں گرے ہیں، لبنان ان حملوں کا ہدف نہیں تھا میزائلوں کو راستے میں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد ان کا ملبہ مختلف علاقوں میں گرا۔

  • ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات اب پاکستان تک پہنچ چکے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں پوری قوم کو متحد اور ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا،پاک فوج اور حکومت نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایم کیو ایم حکومت کی تمام کاوشوں کے ساتھ کھڑی ہےپاک فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پوری قوم اس کے شانہ بشانہ ہے۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذہنی طور پر ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ لاک ڈاؤن جیسے آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے آئینی و انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔

    انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر لایا جائے اور اس کے ذریعے عوام کو بااختیار بنانے کے اقدامات کیے جا ئیں، ایم کیو ایم نے حکومت کی حمایت کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیاسیاسی جماعتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے تیار ہیں، اور وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ اپنے حصے کا اختیار عوام کو منتقل کیا جائے،ملک میں بلدیاتی نظام کا نفاذ ضروری ہے اور صرف آئین کے آرٹیکل 140-اے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ کراچی سمیت تمام شہروں کو ان کا حق مل سکے۔

  • صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر  عائد کر دیا

    صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا الزام وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر عائد کر دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے ان کی انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ کا آپشن اپنانے پر اکسایا۔

    ریاست ٹینیسی کے شہر ممفیس میں عوامی تحفظ کے حوالے سے منعقدہ ایک گول میز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ پیٹ ہیگسیتھ ان ابتدائی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن اختیار کرنے کی حمایت کی، تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران ایک بڑا مسئلہ ہے، جو ان کے بقول کئی دہائیوں سے دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور اب ایٹمی صلاحیت کے قریب پہنچ چکا ہے، وزیر دفاع نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک وسیع فوجی آپریشن شروع کیا امریکی سینٹرل کمانڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران ایران میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 140 سے زیادہ بحری جہاز تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ان کارروائیوں میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

  • اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ کردیا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی بحری تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر روس اور ایران کے درمیان ڈرونز، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان کی ترسیل کے لیے ایک سپلائی کوریڈور استعمال کیا جا رہا تھا یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی گئی اور اسے بحیرۂ کیسپین میں اسرائیل کی پہلی معروف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اندرونی آبی گزرگاہ ہے یہ سمندر روس اور ایران کے ان بندر گاہوں کو جوڑتا ہے جو تقریباً 600 میل کے فاصلے پر واقع ہیں،جس سے ممالک کو گندم اور تیل جیسے سامان کے ساتھ ہتھیاروں کو آزادانہ طور پر تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ راستہ جنگ کے دوران اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے، جو دونوں ممالک میں تیار کیے جا رہے ہیں روس ان ڈرونز کو یوکرین کے شہروں پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران نے انہیں خلیجی خطے میں تنصیبات اور اہداف کے خلاف استعمال کیا ہے، روس اور ایران کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں روس مبینہ طور پر سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری فراہم کر رہا ہے تاکہ اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں بندرگاہ بندر انزلی میں موجود متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جنگی بحری جہاز، بندرگاہی انفراسٹرکچر، ایک کمانڈ سینٹر اور مرمت کا شپ یارڈ شامل ہیں بندرگاہ پر موجود ایرانی بحری ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچا ہے اور کچھ بحری جہاز تباہ ہوئے ہیں، تاہم مجموعی نقصان کا مکمل اندازہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔

    سابق اسرائیلی بحری کمانڈر ایلیزر ماروم کے مطابق اس کارروائی کا مقصد روسی ہتھیاروں کی ترسیل کو محدود کرنا اور ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ بحیرۂ کیسپین میں اس کی بحری دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔

  • بحرین میں ایمیزون ویب سروسز  کے ڈیٹا سینٹرز پر  ڈرون حملہ، انفرااسٹرکچر کو نقصان

    بحرین میں ایمیزون ویب سروسز کے ڈیٹا سینٹرز پر ڈرون حملہ، انفرااسٹرکچر کو نقصان

    ایرانی ڈرونز نے خلیج میں ایمیزون ویب سروسز (AWS) کے ڈیٹا سینٹرز پر حملہ کیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ حملے ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہوئے، جو مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں اضافے کے ایک نئے مرحلے کا اشارہ ہے۔ یہ سہولیات دنیا بھر میں کاروباروں، حکومتوں اور لاکھوں صارفین کے ذریعے استعمال ہونے والی کلاؤڈ سروسز کو طاقت بخشتی ہیں، جس سے یہ حملہ عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔

    سادہ پے کی سروس بحرین میں ڈرون حملوں سے انفرااسٹرکچر کو نقصان کے بعد بند کردی گئی علاقائی تناؤ میں اضافے نے پاکستان کے فن ٹیک سیکٹر کو بھی نہیں چھوڑا۔ سادہ پے کے مطابق خلیج میں حالیہ ڈرون حملوں کے نتیجے میں انفرااسٹرکچر کی بندش کے باعث اس کی ایپ تمام صارفین کیلئے آف لائن ہوگئی ہے۔

    ان واقعات کی وجہ سے ساختی نقصان، بجلی میں خلل، اور بندش ہوئی، جس سے انٹرپرائز سافٹ ویئر، بینکنگ سسٹم، اور ضروری آن لائن خدمات متاثر ہوئیں۔ جبکہ AWS بحالی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ جدید جنگ میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں ڈیجیٹل بیک بون اب اسٹریٹجک اہداف ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی ایک اپڈیٹ میں فن ٹیک کمپنی نے بتایا کہ ایپ اس وقت صارفین کیلئے دستیاب نہیں ہے۔

    کمپنی نے بتایا کہ ہمارا انفرااسٹرکچر بحرین میں ایمازون ویب سروسز (اے ڈبلیو ایس) پر چلتا ہے جو یکم مارچ کو ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد سے تعطل کا شکار ہے خلیج اور وسیع تر خطے کی دیگر مالیاتی خدمات کی طرح، وہ بھی مشترکہ کلاؤڈ انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے فزیکل نقصان کے ذیلی اثرات سے نمٹ رہی ہے۔

    کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف سادہ پے کی انفرادی ناکامی نہیں ہے بلکہ اپنے صارفین کیلئے اسے حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم اسے مکمل طور پر ہنگامی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں تاہم ایپ کی بندش کے باوجود کمپنی نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کی رقم مکمل طور پر محفوظ ہے مزید برآں ڈیبیٹ کارڈز، اے ٹی ایم اور پی او ایس ادائیگیاں فعال ہیں کمپنی کا کہنا تھا کہ ہم اس زحمت کے لیے تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں اور آپ کے صبر و تحمل کے شکر گزار ہیں۔

    گزشتہ رات متاثرہ اے ڈبلیو ایس ریجن میں حالات مزید خراب ہوگئے جس کی وجہ سے صارفین کیلئے ایپ مکمل طور پر بند ہوگئی سادہ پے (پرائیویٹ) لمیٹڈ پاکستان میں ایک نجی لمیٹڈ کمپنی ہے جو مالیاتی خدمات بشمول ماسٹر کارڈ ڈیبٹ کارڈ اور ڈیجیٹل والٹ فراہم کرتی ہے ۔