Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اسرائیل میں ہائی الرٹ

    ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اسرائیل میں ہائی الرٹ

    تل ابیب: ایران میں ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل میں سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت بیانات کے بعد اسرائیلی حکام میں تشویش بڑھ گئی ہے امریکی صدر نے متعدد بار ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر مداخلت کی دھمکی دی ہے، جس کے بعد اسرائیل نے اپنی سکیورٹی صورتحال کا ازسرِنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہائی الرٹ کی عملی صورت کیا ہوگی۔

    خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کی صورتحال اور ممکنہ امریکی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے اس رابطے کی تصدیق کی، تاہم گفتگو کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

    ٹرمپ نے گرین لینڈ پر خفیہ حملے کی تیاری کا حکم دے دیا، برطانوی میڈیا کا دعوی

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران ایسی آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہےاس سے قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا، ایران کے بعض شہروں میں عوام کا کنٹرول بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور ایرانی حکومت کو اپنے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

  • ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    ٹرمپ انتظامیہ ایران میں فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع کیا گیا ہے یہ غور و فکر ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔

    امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں،ممکنہ کارروائی کا مقصد براہِ راست فوجی تنصیبات کے بجائے غیر فوجی اہداف ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔

    امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات

    واضح رہے کہ ایران میں پُرتشدد مظاہرے تیرہویں روز بھی جاری ہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایک معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 217 تک پہنچ چکی ہے، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے تہران کے قریب ایک قصبے سے 100 مسلح افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہےملک میں مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس بند ہے، جس کے باعث اطلاعات کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں ایرانی قیادت کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا ایران ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکا اس کی حمایت کے لیے تیار ہےمریکا ایران میں جاری مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    انڈونیشیا کے تلاؤد جزیرے پر 6.8 شدت کا زلزلہ

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے، ایسی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کئی برسوں سے حکومتی ظلم کا شکار رہے ہیں اور اب ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اس سے قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہوگا ایران کے بعض شہروں میں مظاہرین نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حکومتی رِٹ کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

  • آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    آسٹریلیا کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    سڈنی: آسٹریلیا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہروں اور غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال کے باعث ایران چھوڑ دیں۔

    بین لاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی آسٹریلوی شہری اس وقت ایران میں موجود ہے تو اسے فوراً واپسی کے انتظامات کرنے کی ضرورت ہےبیان میں خبردار کیا گیا کہ ایران میں جاری پرتشدد مظاہرے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں اور مجموعی سکیورٹی صورتحال نہایت غیر یقینی ہے۔

    واضح رہے کہ تہران میں آسٹریلوی سفارت خانے نے گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    آسٹریلوی حکومت کے مطابق ایران میں آسٹریلوی شہریوں کو قونصلر مدد فراہم کرنے کی صلاحیت اس وقت انتہائی محدود ہےجاری کی گئی ایڈوائزری میں خبردار کیا گیا ہے کہ آسٹریلوی شہریوں، بالخصوص دوہری شہریت رکھنے والوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

    یہ احتجاج 28 دسمبر کو تہران میں تاجروں کی ہڑتال اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف غصے کے نتیجے میں شروع ہوا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔ خاص طور پر مغربی علاقوں میں، جہاں کرد اور لور آبادی کی بڑی تعداد رہتی ہے، احتجاج زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

  • امریکا کی ایران کیخلاف حملوں کی تیاری؟ جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس  امریکی فوجی طیارےمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ

    امریکا کی ایران کیخلاف حملوں کی تیاری؟ جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس امریکی فوجی طیارےمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ

    امریکہ کے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فوجی طیاروں کی بڑی تعدادمشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہوچکی ہے جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق چند گھنٹوں کے دوران امریکی فضائیہ کے درجنوں فضائی ایندھن بھرنے والے ٹینکر اور C-5 اور C-17 قسم کے بھاری ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے امریکہ سے اور برطانیہ کے ایک امریکی ایئربیس سے مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں مختلف ذرائع کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف حملوں کی تیاری کر رہا ہے اور خطے میں افواج کی منتقلی کی جاری تحریک کو آگے بڑھا رہا ہے۔

    دوسری جانب واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی تو امریکا مدا خلت کر سکتا ہے، تاہم اس مداخلت میں زمینی فوج اتارنا شامل نہیں ہوگا، ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب عوامی ردِ عمل کی صورت میں اس کی قیمت چکائی جا رہی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چند ہفتے قبل نا قابلِ تصور تھا، اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے اقدامات کرے گا جو ایران کو وہاں ضرب لگائیں گے جہاں سب سے زیادہ اثر ہو، اور اس تمام صورتحال کو دنیا بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔

    قبل ازیں برطانوی میڈیا کے مطابق امریکہ کے جدید اور بھاری ہتھیاروں سے لیس فوجی طیاروں کی بڑی تعداد حالیہ دنوں میں برطانیہ پہنچ گئی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق کم از کم دس C-17 گلوب ماسٹر فوجی ٹرانسپورٹ طیارے اور دو AC-130J گھوسٹ رائیڈر گن شپ طیارے رائل ایئر فورس کے مختلف اڈوں پر تعینات کیے گئے ہیں یہ طیارے بھاری اسلحہ، فوجی ساز وسامان اور دستوں کی منتقلی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    یہ پیش رفت مبینہ طور پر وینزویلا میں امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد امریکہ نے برطانیہ میں اپنی فوجی فضائی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ آئندہ فوجی کارروائیوں کی تیاری کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں گلوسیسٹرشائر میں رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اور سفوک میں آر اے ایف ملڈن ہال پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں ہوائی اڈے رائل ایئر فورس اور امریکی افواج مشترکہ طور پر استعمال کرتی ہیں۔

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں امریکی فوجی طیاروں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو مشرقِ وسطیٰ یا دیگر حساس خطوں میں ممکنہ آپریشنز سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب برطانوی وزارتِ دفاع نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی نقل و حرکت پر عمومی طور پر کوئی بیان جاری نہیں کرتی۔

    ماہرین کے مطابق عالمی حالات کے تناظر میں یہ پیش رفت بین الاقوامی سیاست میں ایک اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے، تاہم صورتحال کی مکمل نوعیت آئندہ دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

  • ایرانی مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

    ایرانی مظاہرین کے قتل پر امریکا مداخلت کرسکتا ہے، ٹرمپ کی وارننگ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مریکا ایران میں جاری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کی تو امریکا مدا خلت کر سکتا ہے، تاہم اس مداخلت میں زمینی فوج اتارنا شامل نہیں ہوگا، ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ برا سلوک کیا اور اب عوامی ردِ عمل کی صورت میں اس کی قیمت چکائی جا رہی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ایرانی شہروں میں عوام نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جو چند ہفتے قبل نا قابلِ تصور تھا، اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایسے اقدامات کرے گا جو ایران کو وہاں ضرب لگائیں گے جہاں سب سے زیادہ اثر ہو، اور اس تمام صورتحال کو دنیا بہت قریب سے دیکھ رہی ہے۔

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکا وینزویلا کے تیل پر قبضہ نہ کرتا تو روس اور چین اس پر کنٹرول حاصل کر لیتے امریکا وینزویلا میں تیل کے شعبے میں سو ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہےصدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ روس اور چین اگر چاہیں تو امریکا سے تیل خرید سکتے ہیں، تاہم وینزویلا میں کون سی تیل کی کمپنیاں کام کریں گی، اس کا فیصلہ امریکا خود کرے گا،وینزویلا میں کام کرنے والی کمپنیوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

    مقابلے کے امتحان سی ایس ایس 2026 کی باقاعدہ ڈیٹ شیٹ جاری

    جبکہ امریکا کی سب سے بڑی آئل کمپنی ایکسن موبل نے وینزویلا کو سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں ملک قرار دے دیا ہے، جس سے وہاں مستقبل کی سرمایہ کاری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    دوسری جانب ایران نے اقوامِ متحدہ میں امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کو پُرتشدد اور تخریبی سرگرمیوں میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرکے عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    باجوڑ: وزیرِ مملکت کے گھر پر دستی بم سے حملہ

    رپورٹس کے مطابق دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی قدر میں کمی اور مغربی پابندیوں کے باعث شدت اختیار کر گئے ہیں انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔

  • پاکستان کی شہریوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    پاکستان کی شہریوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

    پاکستان نے ایران کے حالات کے پیش نظر اپنے شہریوں کے لئے ٹریول ایڈوائزری جاری کردی-

    دفتر خارجہ کی جانب سے سے جاری ٹریول ایڈوائزری میں پاکستانی شہریوں سے کہاگیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت اور سلامتی کے لئے حالات بہتر ہونے تک اسلامی جمہوریہ ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں،ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط برتیں، چوکس رہیں، غیر ضروری نقل و حرکت کم سے کم رکھیں اور پاکستانی سفارتی مشنز سے باقاعدہ رابطے میں رہیں۔

    واضح رہے کہ ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ، انسانی حقوق کے غیر ملکی اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج 100 سے زائد شہروں میں پھیل چکا ہے۔

    نیو اسلام آباد ائیرپورٹ ، حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کیلئے کمیٹی قائم

    تہران اور مشہد میں رات گئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر مارچ کیا گیا، احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 ہوگئی ہوچکی ہےجن میں کئی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد گرفتار ہیں،ایران میں انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر بند کردی گئی ہے جبکہ ترکیے نے استنبول سے تہران جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں، ایرانی میڈیا نے کرمانشاہ میں مظاہروں کے دوران شرپسندوں کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں نقاب پوش افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    موسم کی خرابی :4 پروازیں منسوخ جبکہ 67 پروازیں تاخیر کا شکار

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جمعے کے خطاب میں کہا کہ ہے امریکا کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں، ایران کے کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگے ہیں، ایران تخریب کاروں سے نمٹنے میں پیچھے نہیں ہٹے گا، احتجاج جائز ہے مگر احتجاج اور فساد میں فرق ہے، حکومت مظاہرین سے بات کرے، تخریب کاروں سے بات کرنا فضول ہے

  • ایرانی صدر کا مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم ٰ

    ایرانی صدر کا مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم ٰ

    تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک بھر میں جاری مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کو شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے باز رہنے کی ہدایت جاری کر دی کہا کہ پُرامن مظاہرین اور مسلح شرپسند عناصر کے درمیان فرق کیا جائے۔

    کابینہ اجلاس کے بعد ایرانی نائب صدر محمد جعفر نے بتایا کہ صدر پزشکیان نے سیکیورٹی اداروں کو مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم جو افراد اسلحہ، چاقو یا دیگر ہتھیاروں کے ساتھ پولیس اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات پر حملے کرتے ہیں، انہیں مظاہرین نہیں بلکہ شرپسند سمجھا جائے حکومت عوام کے پرامن احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے، تاہم ریاستی اداروں اور عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

    امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لےلیا ۔

    واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئی شہروں میں جاری ہیں اور ان مظاہروں کے دوران مختلف مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 تک پہنچ چکی ہے تہران میں پولیس نے بعض علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    
برطانیہ کی سائیکلنگ ٹیم مکہ سے مدینہ تک دل کے مریض بچوں کے لیے سفر کرے گی

    دوسری جانب ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کی مبینہ حمایت پر خاموش نہیں رہے گا، ملک کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • ایرانی حکومت کا عوام کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان

    ایرانی حکومت کا عوام کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان

    ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مسلسل احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ماہانہ الاؤنس فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کو کم کرنا اور روزمرہ ضروریات کی خریداری میں مدد فراہم کرنا ہے ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں بتایا کہ ہر ایرانی شہری کو ماہانہ 10 لاکھ تومان دیے جائیں گے، جو تقریباً سات امریکی ڈالر کے برابر ہیں یہ رقم مسلسل چار ماہ تک شہریوں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی الاؤنس کی فراہمی بلا تفریق تمام شہریوں کے لیے ہو گی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    فاطمہ مہاجرانی نے مزید کہا کہ حکومت کو عوام کو درپیش مشکلات کا ادراک ہے اور موجودہ حالات میں فوری ریلیف دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کے ذریعے شہری اشیائے ضروریہ خرید سکیں گے اور مہنگائی کے اثرات کسی حد تک کم ہوں گے۔

    امریکی نائب صدر کے گھر پر حملہ، سیکیورٹی سخت

    واضح رہے کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے جوہری پروگرام کے باعث امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں نے ایرانی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں مہنگائی کی شرح 52 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد عوامی بے چینی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے اتوار کو آٹھویں روز میں داخل ہو گئے رپورٹس کے مطابق یہ مظاہرے ملک کے 40 مختلف شہروں تک پھیل چکے ہیں، جن میں زیادہ تر مغربی علاقوں میں درمیانے درجے کے احتجاج ریکارڈ کیے گئے۔

    پی ایس ایل کی 2 نئی ٹیموں کیلئے سب سے پہلے بولی لگانے والےخریدار کون؟

  • تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا،ایرانی سپریم لیڈر

    تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا،ایرانی سپریم لیڈر

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا امریکا کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا ہے کہ تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا، خدائی مدد اور فضل سے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے گا۔

    ملکی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج جائز عمل ہے لیکن احتجاج اور ہنگامہ آرائی میں فرق ہے، احتجاج کرنے والوں سے بات کی جاتی ہے ، حکام کو ان سے بات کرنی چاہیے،ایرانی مظاہرین کے معاشی مطالبات جائز ہیں،صدر اوراعلیٰ حکام پابندیوں سے متاثرہ معیشت کے مسائل حل کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں،احتجاج عوام کا حق ہے لیکن ہنگامہ آرائی ناقابل قبول ہے،ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر سے نمٹا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین پر تشدد کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا،سوشل ٹروتھ اکاؤنٹ پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ایران نے پُرامن مظاہرین پرتشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے آئے گا، ہم مظاہرین کو بچانے جانےکے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

    جس کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران کے احتجاجی معاملے میں امریکی مداخلت خطے میں افراتفری پھیلانے کے مترادف ہےامریکی صدر ٹرمپ کےبیان سےاب پسِ پردہ کہانی واضح ہو گئی،اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کےمؤقف کیساتھ اس واقعےکاپس منظرواضح ہوگیا، ہم احتجاج کرنیوالےتاجروں کے مؤقف کو تخریبی عناصر سے الگ سمجھتے ہیں،امریکی مداخلت پورےخطےمیں انتشاراورتباہی کے مترادف ہو گی، ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مہم جوئی شروع کی ہے،امریکی صدر اپنےفوجیوں کا خیال رکھیں،اس سےقبل امریکی محکمہ خارجہ کابھی ایران میں جاری مظاہروں پر ردعمل سامنے آیا تھا۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: ابتدائی اسکواڈ فائنل، پاکستان نے نام آئی سی سی کو بھجوادئیے

    دوسری جانب ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے۔

    دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، احتجاج کا یہ سلسلہ دکانداروں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں بے تحاشا کمی پر برہم تھےمختلف مقامات پر ایرانی فورس اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 6 مظاہرین اور ایک پولیس اہل کار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    مظاہرین کے پتھراؤ کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، مظاہرے تہران اور فارس کے علاوہ مرو دشت اور لردگان میں بھی ہوئے ہیں، کئی صوبوں میں اسکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کیے جاچکے ہیں ، سب سے شدید جھڑپیں صوبہ لور ستان کے شہر ازنا میں ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، یہ علاقہ دارالحکومت تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

    اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق حالیہ مظاہرے 2022 میں مہاسا امینی کی مبینہ دورانِ حراست موت کے بعد ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔

  • ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پر تشدد مظاہرے میں تبدیل،2 شہری ہلاک متعدد زخمی

    ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پر تشدد مظاہرے میں تبدیل،2 شہری ہلاک متعدد زخمی

    ایران کے جنوب مغربی شہر لورڈگان میں مہنگائی کے خلاف حکومت مخالف احتجاج پُرتشدد مظاہرے میں تبدیل ہوگیا –

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں میں کم از کم 2 مظاہرین مارے گئےوزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے گورنر آفس، مسجد، ٹاؤن ہال اور بینکوں پر پتھراؤ کیا جنھیں پولیس نے آنسو گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے منشتر کرنے کی کوشش کی۔

    یہ پہلی بار ہے کہ ہوشربا مہنگائی کے خلاف احتجاج میں عام شہریوں کی موت ہوئی ہو جب کہ 10 سے زائد شدید زخمی بھی ہیں،زخمیوں میں سے دو حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ 50 سے زائد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا لورستان کے صوبے میں بسیج نامی رضا کار فورس کا ایک 21 سالہ رکن بھی ہلاک ہوا۔

    بھارت کے ساتھ اپنے موقف پر قائم ہیں،محسن نقوی

    عوامی احتجاج اتوار کو دارالحکومت تہران سے شروع ہوا تھا جہاں دکانداروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شدید مہنگائی کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کیےایران کی کرنسی اس سال کئی گنا کمزور ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، یہ مظاہرے اب ملک کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں اور زیادہ تر ان کا محور معاشی مشکلات، بے روزگاری، کم ہوتی خریداری قوت اور حکومت کے معاشی فیصلوں کے خلاف عوامی ناراضگی ہے۔

    پاکستان کی معیشت میں بہتری اور پالیسیوں‌ میں استحکام رہا،بلوم برگ