Baaghi TV

Tag: ایران

  • ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے،مذاکرات کی بات پر ایران کا جوابی وار

    ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے ٹرمپ ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب زمینی حقا ئق مختلف ہیں طنزیہ انداز میں کہا کہ ”کیا آپ خود سے ہی مذاکرات کر رہے ہیں؟ امریکا جس اسٹریٹجک طاقت کا دعویٰ کرتا تھا، وہ اب اسٹریٹجک ناکامی میں بدل چکی ہے، اور ٹرمپ کے ”کھوکھلے وعدوں“ کا دور ختم ہو چکا ہے۔

    اس سے قبل بھی ابراہیم ذوالفقاری نے ایک ویڈیو پیغام میں ٹرمپ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہائے ٹرمپ، آپ کو برطرف کیا جاتا ہے، آپ اس جملے سے واقف ہیں“، جو ٹرمپ کے مشہور جملے کی طرف اشارہ تھا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضا مند ہے، ایران میں نئی قیادت معاہدہ کرنے جا رہی ہے، ایران اس بار سمجھداری سے بات کر رہا ہے، اس نے ہمیں تیل اور گیس سے متعلق بہت بڑا تحفہ دیا۔

  • پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر اور ٹرمپ کے داماد سمیت وفد اسلام آباد روانہ

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات، امریکی نائب صدر اور ٹرمپ کے داماد سمیت وفد اسلام آباد روانہ

    امریکا کے نائب صدر جیمز ڈیود وینس (جے ڈی وینس) ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کی قیادت کریں گے اور ان کے ہمراہ امور برائے مشرقِ وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیف وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد اور ان کے خصوصی مشیر جیرڈ کُشنر بھی موجود ہوں گے، جو اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ ابتدائی بات چیت میں شامل رہ چکے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ان مذاکرات کے لیے مکمل اختیارات دے دیے ہیں، جس سے اس عمل کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران میں ”درست لوگوں“ سے بات کر رہا ہے اور مذاکرات میں پیش رفت کے آثار موجود ہیں مارکو روبیو اور جے ڈی وینس سمیت کئی اہم شخصیات اس عمل کا حصہ ہیں، جبکہ ان کے مطابق ایران کی نئی قیادت معاہدے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں ایک بڑی رکاوٹ وہاں کے مواصلاتی نظام کی خرابی ہے، جس کے باعث رابطہ مشکل ہو گیا ہےامریکا ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے روکنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ انہوں نے ایران کی موجودہ صورتحال کو ایک بڑی تبدیلی قرار دیا ہے۔

    ادھر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے اجلاس میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ممکنہ مذاکرات پر غور کیا گیا۔

    بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کی رضامندی سے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے جاری تنازع کے جامع حل کے لیے سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے اور پاکستان اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرے گا۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سفارتی سطح پر رابطے تیز کر دیے ہیں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش سے آگاہ کیا، جس پر ایرانی وزیر خارجہ نے اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد جواب دینے کی یقین دہانی کرائی، اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات اور مصر کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینا ضرو ر ی ہے۔

    دوسری جانب ایران اور چین کے درمیان بھی رابطے جاری ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ بات چیت ہمیشہ جنگ سے بہتر ہوتی ہے اور تمام فریقین کو امن کے ہر ممکن موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے،جس پر عباس عراقچی نے کہا کہ ایران عارضی نہیں بلکہ ایک جامع اور مستقل جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے۔

  • صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر  یقین کرتاہوں،سابق سربراہ سی آئی اے

    صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتاہوں،سابق سربراہ سی آئی اے

    واشنگٹن: سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتاہوں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جان برینن کا کہنا تھا کہ حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ اپنی تخلیق کردہ شکست سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں ٹرمپ کا یہ مؤقف بھی درست نہیں کہ ایران مذاکرات کے لیے سگنل دے رہا ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، میں صدر ٹرمپ سےزیادہ ایران کی باتوں پریقین کرتاہوں۔ایرانی حکومت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔

    قبل ازیں امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔

    جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو، صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

  • ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ،امریکی میڈیا

    ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے-

    امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے لیے تمام ضروری ضمانتیں دینے پر تیار ہے، تاہم وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے حق کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    رپورٹس میں ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، تاہم یہ رابطے ابھی باضابطہ مذاکرا ت کی سطح تک نہیں پہنچے، ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار تجاویز سننے پر آمادہ ہے۔

    ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور تجاویز صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے مکمل خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے،ایرانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کو بنیادی شرط کے طور پر شامل ہونا چاہیے-

    رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا سے براہ راست ملاقات یا بات چیت کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی، تاہم وہ ایسے ممکنہ معاہدے پر غور کر سکتا ہے جس میں اس کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • ٹرمپ ایران سے مذاکرات عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے: سابق امریکی عہدیدار

    ٹرمپ ایران سے مذاکرات عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے: سابق امریکی عہدیدار

    امریکا کے سابق نائب معاون وزیر خارجہ جوئل روبن نے کہا ہے کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو۔

    جوئل روبن نے منگل کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں ہوگی اگر امریکا ایرانی حکام سے رابطے میں ہو ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہونے کا دعویٰ ممکنہ طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی مارکیٹس کو پرسکون کرنے کی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے حقیقت میں کوئی بات چیت نہ ہو رہی ہو اور یہ صرف عالمی مارکیٹس کو سنبھالنے کا اشارہ دیا جا رہا ہو، صدر ٹرمپ اس بات سے آگاہ ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں دباؤ بڑھ رہا ہے، اس لیے وہ اس صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔

    سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی مشیر جیسمین ایل جمال نے کہا ہے کہ ایران کو اس وقت امریکا پر زیادہ برتری حاصل ہو چکی ہے کیونکہ وہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث وہ کسی بھی نئے مذاکرات میں زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، ایرا ن ممکنہ طور پر مذاکرات میں سیکیورٹی ضمانتوں جیسے مطالبات سامنے رکھ سکتا ہے اور یہ بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا نظام ایران کی سرزمین سے جڑا رہے، ایران کے پاس یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ اگر اسے اشتعال دلایا جائے تو وہ پورے خطے میں افراتفری پھیلا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی دی تھی جس کے فوراً بعد تہران کے ساتھ نئی بات چیت کے آغاز کا دعویٰ کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔

  • ایران میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 466 افراد گرفتار

    ایران میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 466 افراد گرفتار

    ایران میں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے مبینہ گروہ کے 466 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق یہ گرفتاریاں منگل کے روز کی گئیں، جو اسرائیل اور امریکا کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سیکیورٹی کے حوا لے سے سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک قرار دی جا رہی ہیں،رواں ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو مختلف الزامات کے تحت حر ا ست میں لیا جا چکا ہے،ان افراد پر حساس مقامات کی ویڈیوز بنانے، حکومت مخالف مواد آن لائن شیئر کرنے یا دشمن ملک کے ساتھ تعاون کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں انٹیلی جنس معلومات اور تکنیکی نگرانی کے بعد یہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں،زیر حراست افراد کا تعلق ایسے دشمن نیٹ ورکس سے بتایا گیا ہے جو ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایران کی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں بڑے سیکیورٹی آپریشن کے دوران امریکا کے لیے مخبری اور تخریب کاری کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے مبینہ تعلق پر ایک ایرانی شہری کو سزائے موت دے دی گئی تھی۔

  • امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں،ایران کی امریکا سے مذاکرات کی خبریں ’بے بنیاد‘ قرار

    امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں،ایران کی امریکا سے مذاکرات کی خبریں ’بے بنیاد‘ قرار

    ایران نے منگل کی علی الصباح اسرائیل کے مختلف علاقوں پر متعدد میزائل حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران تل ابیب سمیت اسرائیل کے مختلف حصوں میں ایئر ریڈ سائرن بج اٹھے، جہاں انٹر سیپٹرز کے ذریعے میزائلوں کو روکتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، اسرائیلی فوج نے بھی ان حملوں کی تصدیق کی ہےایک حملے میں شمالی ا سرائیل میں واقع میزائل کے ٹکڑے گھروں سے ٹکرانے سے نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ایران کے میزائل حملے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی نظام پر پانچ دن کے لیے حملے روکے جانے کے اعلان کے بعد کیے گئے ہیں، جس کا حوالہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی مفید اور مثبت بات چیت کے طور پر دیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں مکمل اور جامع جنگ بندی کے سلسلے میں بہت مثبت اور مفید گفتگو ہوئی ہے اسی بنیاد پر ایران کے توانائی کے نظام پر حملے کا منصوبہ پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے، ان کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آئی، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئیں، جبکہ شیئر مارکیٹس میں اضافہ ہوا۔

    تاہم یہ فوائد منگل کو اس وقت خطرے میں پڑ گئے جب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے،انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر جھوٹ ہیں،امریکا اور اسرائیل ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں اور اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ایسی بے بنیاد خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

    ایران کی ایلیٹ فورس انقلابی گارڈز نے بھی اعلان کیا کہ وہ امریکی اہداف پر تازہ حملے کر رہے ہیں، اور صدر ٹرمپ کے بیانات کو نفسیاتی حربے قرار دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب مغربی میڈیا سے اطلاعات سامنے آئیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر نے ثالثی کی پیشکش کی، جس کے لیے رواں یا آئندہ ہفتے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اہم بیٹھک لگنے کا امکان ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہوگیا ہے اس سلسلے میں پاکستان نے اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر پیش کیا ہے جہاں آئندہ دنوں میں اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ اور پاکستان کی خاموش حکمتِ عملی

    پاکستان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم ناپ تول کر رکھنا ضروری ہے، ایک طرف ایران اس کا ہمسایہ ہے، جس کے ساتھ طویل سرحد اور تاریخی روابط موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات ہیں۔ٕ، مزید برآں، امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات مکمل طور پر منقطع نہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں کھل کر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے ایک محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کی ہے۔

    یہ پالیسی بظاہر سادہ نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک نہایت پیچیدہ حکمتِ عملی ہے، پاکستان نے بیک وقت تین محاذوں پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے: ہمسایہ ایران کے ساتھ تعلقات کو خراب ہونے سے بچانا، خلیجی اتحادیوں کو مطمئن رکھنا، اور عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنا۔ اس دوران اس نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو کہ ایک مثبت اشارہ ہے۔

    تاہم، اس حکمتِ عملی کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے اور خلیجی ممالک براہِ راست اس میں شامل ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ داخلی سطح پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر فرقہ وارانہ تناؤ کی صورت میں۔ مزید یہ کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کی کمزور معیشت پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔

    ان تمام چیلنجز کے باوجود، اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ایک حد تک کامیابی کے ساتھ اپنی پوزیشن کو سنبھالا ہوا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی میں احتیاط، توازن اور وقتی ضرورتوں کو مدنظر رکھنے کا عنصر نمایاں ہے، عسکری قیادت نے بھی کسی جذباتی یا جلد بازی پر مبنی فیصلے کے بجائے ایک محتاط رویہ اپنایا ہے، جو کہ موجودہ حالات میں دانشمندانہ معلوم ہوتا ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے اب تک کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ کیا کرے گا، اگر جنگ محدود دائرے میں رہتی ہے تو پاکستان اپنی موجودہ پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے، لیکن اگر یہ تصادم ایک بڑی عالمی صف بندی میں بدل جاتا ہے تو پھر پاکستان کو زیادہ واضح اور شاید مشکل فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس کی حکمتِ عملی بظاہر کم نمایاں ضرور ہے، مگر اس میں بقا، تواز ن اور دور اندیشی کے عناصر واضح طور پر موجود ہیں، موجودہ حالات میں شاید یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ پاکستان خود کو اس آگ سے دور رکھتے ہوئے ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔

  • اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان نے ایک بار پھر سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی وکالت کی ہے اور یہی مؤقف اب بھی برقرار ہے-

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے سفارتی سطح پر کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے کے اہم ممالک امریکا اور ایران کےدرمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

    ٹرمپ نے نیتن یاہو کے دباؤ پر خامنہ ای کو نشانہ بنایا، انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف

    ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور آیت اللہ خامنہ ای کو ہدف بنانے کی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ہونے والے اہم ٹیلیفونک رابطے کے بعد دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    اس حوالے سے انکشاف برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ میں کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے سے 48 گھنٹے قبل دونو ں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس کال میں انٹیلیجنس معلومات شیئر کی گئی تھیں، جن کے مطابق خامنہ ای اور ان کے قریبی ساتھی تہران میں ایک مقام پر جمع ہونے والے تھے، جسے ڈی کیپیٹیشن اسٹرائیک یعنی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں موقع قرار دیا گیا تھا۔

    بعد ازاں نئی معلومات سے پتا چلا کہ یہ ملاقات مقررہ وقت سے پہلے ہفتہ کی صبح منتقل کر دی گئی تھی نیتن یاہو نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا شاید اس سے بہتر موقع دوبارہ نہ ملے اس فون کال سے قبل ہی ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کی اصولی منظوری دے چکے تھے، تاہم وقت اور طریقہ کار کا فیصلہ باقی تھا، بالآخر 27 فروری کو امریکی صدر نے آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کا حکم دیا، اور 28 فروری کی صبح ابتدائی حملے کیے گئے، اسی شام ٹرمپ نے خامنہ ای کی شہادت کا اعلان کردیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس کال پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، بحریہ اور پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیتن یاہو نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایران جنگ میں گھسیٹا، جبکہ ٹرمپ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ حملے کا فیصلہ ان کا ذاتی تھا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ کارروائی کے پیچھے انتقامی عنصر موجود تھا، ان کے مطابق ایران نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی جس پر انہوں نے اس کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس جون میں اسرائیل نے ایران کی جوہری اور میزائل تنصیبات پر حملہ کیا تھا، جس میں کئی ایرانی رہنما مارے گئے تھے، بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوگیا تھا اور 12 دن بعد اسے کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد مزید حملوں کی منصوبہ بندی شروع ہوئی، جس کا مقصد ایران کی باقی ماندہ صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔

    دسمبر 2025 میں فلوریڈا میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جون کی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد نئے حملے پر غور شروع ہوا تھا اگرچہ ٹرمپ سفارتی حل کے خواہاں تھے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فوجی آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جانے لگا۔

    جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی امریکی کارروائی نے بھی بڑے فوجی آپریشن کے کم خطرات کا تاثر دیا اسی ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ کردیا تھابعد ازاں امریکا اور اسرائیل کے درمیان خفیہ عسکری مشاورت میں تیزی آئی، جبکہ فروری میں واشنگٹن میں ملاقات کے دوران نیتن یاہو نےایران کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام کو امریکا کے لیے بھی خطرہ قرار دیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 24 فروری کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرے گا اور ایران جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے بعد میں یہ خدشات درست ثابت ہوئے۔

    اس دوران ٹرمپ کو یہ بھی بریف کیا گیا تھا کہ ایرانی قیادت کے خاتمے سے ممکن ہے کہ تہران میں کوئی نئی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہو جائے، تاہم سینٹر ل انٹیلیجنس ایجنسی نے اندازہ لگایا تھا کہ خامنہ ای کے بعد سخت گیر قیادت سامنے آئے گی،خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنی ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا،ایرانی پاسداران انقلاب ملک بھر میں گشت کر رہے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد گھروں تک محدود ہے۔