Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران کیساتھ جنگ:ٹرمپ آگے چٹان پیچھے کھائی والی صورتحال میں پھنس چکے ہیں،سابق سیکرٹری دفاع

    ایران کیساتھ جنگ:ٹرمپ آگے چٹان پیچھے کھائی والی صورتحال میں پھنس چکے ہیں،سابق سیکرٹری دفاع

    امریکا کے سابق سیکرٹری دفاع اور سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آگے چٹان پیچھے کھائی والی ایک انتہائی مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں-

    برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں لیون پنیٹا نے ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹھوس منصوبہ بندی کے بجائے محض قیاس آرائیوں اور غیر حقیقت پسندانہ سوچ پر انحصار کر رہے ہیں، ٹرمپ کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان کے بیانات خود بخود حقیقت میں تبدیل ہو جائیں گے، جو کہ ایک غیر سنجیدہ طرزِ عمل ہے، ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانا ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی تھی، کیونکہ اس کے نتیجے میں عوامی بغاوت کے بجائے زیا دہ سخت مؤقف رکھنے والی قیادت سامنے آئی ہے، جس سے تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

    لیون پنیٹا نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے ممکنہ خطرے کے لیے پیشگی تیاری نہیں کی، حالانکہ یہ مسئلہ ماضی میں قومی سلامتی کے اجلاسوں میں بارہا زیر بحث آتا رہا ہے اور اس کے عالمی تیل منڈی پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں ایک طرف ایران آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھا رہا ہے جس سے جنگ بندی مشکل ہو گئی ہے، جبکہ دوسری جانب اگر امریکا ایرانی ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بناتا ہے اور تیل بردار جہازوں کو راستہ فراہم کرتا ہے تو اس سے جنگ میں مزید شدت اور جانی نقصان کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

    سابق امریکی سیکرٹری دفاع نے موجودہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط اور خودمختار عہدے دار کے بجائے صرف صدر کے حامی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    لیون پنیٹا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ امریکی انتظامیہ جنگی مناظر اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کی منتقلی کو تشہیری مقاصد اور فنڈ ریزنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے، جو کہ غیر مہذب عمل ہے،ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے پر معافی نہ مانگنا بھی عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس سے منفی تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

  • آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ٹرمپ کی دھمکی پر  ایرانی فوج کا سخت ردعمل

    آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ٹرمپ کی دھمکی پر ایرانی فوج کا سخت ردعمل

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر ایران کو حملے کی دھمکی کے بعد ایرانی فوج نے سخت ردعمل دیا ہے-

    ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈ ہیڈ کوارٹر خاتم الانبیا نے سرکاری ٹی وی پر نشر بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جو ابھی بند تو نہیں اگر امریکا نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا تو اس کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک تباہ شدہ تنصیبات دوبارہ بحال نہیں ہو جاتیں۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیل کے پاور پلانٹس بلکہ توانائی اور انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنائے گا اس کے علاوہ ان علاقائی ممالک کے پاور پلانٹس پر بھی حملوں کا عندیہ دیا گیا ہے جہاں امریکی اڈے موجود ہیں یا امریکی کمپنیوں کی شراکت داری ہے ایرانی حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات ملک کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جائیں گے جب کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

    ایرانی فورسز نے متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انتباہات کے باوجود اس راستے سے گزرنے کی کوشش کی حالیہ دنوں میں ایران نے کچھ دوست ممالک کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے جب کہ دیگر ممالک کے جہازوں کو روکنے کا عندیہ دیا ہے، جنہیں وہ اپنے خلاف کارروائی میں شامل قرار دیتا ہے ایران کی پارلیمنٹ بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہی ہے جب کہ اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ سمندری آمد و رفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً مفلوج ہو چکی ہے تجزیاتی ادارے کے مطابق اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصد رہ گئی ہے

  • آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ دار واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے ذمہ دار واشنگٹن اور تل ابیب ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

    ایران نے آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرا دیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، وہ دراصل اس تنازع کا نتیجہ ہیں جس کا آغاز امریکا اور اسرائیل نے کیا ایران کو اس صورتحال کا مورد الزام ٹھہرانا حقائق کے منافی ہے۔

    عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گاخطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی ذمہ داری بھی انہی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی مؤقف کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطرناک حالات کے براہِ راست ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولا نہ گیا تو سخت ردعمل سامنے آسکتا ہے۔

  • اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام ،اسرائیلی میڈیا

    اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام ،اسرائیلی میڈیا

    ایران نے اسرائیل پر ایک بار پھر میزائلوں کی بارش کر دی ان حملوں کی وجہ سے اسرائیل میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات ہیں –

    اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی ڈیفنس سسٹم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہےایران کی جانب سے تازہ میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں متعدد مقامات پر دھماکوں کے بعد ملبہ گرنے سے نقصان ہوا ہے ایران نے کلسٹر بموں سے لیس میزائلوں سے بھی حملہ کیا، درجنوں عمارتیں ملیا میٹ ہونے کے بعد اسرائیلی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا-

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کے میزائلوں کو روکنے کیلئے فضائی دفاعی نظام متحرک کردیا ہے اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل رہائشی علاقوں میں گرے ہیں جس سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ایرانی حملوں میں اب تک 10 اسرائیلی ہلاک اور 180 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے ساحلی شہر بندرعباس کے ریڈیو اسٹیشن پر امریکا کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا ہے، جس میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا ہےایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملے میں سویلین انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، ایران کے شہر ارومیہ میں فضائی حملے سے رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں،ملبے تلے دبے افرادکونکالنے کیلئے ریسکیوٹیموں کا آپریشن جاری ہے۔

  • بحرین میں 9 مارچ کو حملے کا نقصان امریکی میزائل سے ہوا،رائٹرز

    بحرین میں 9 مارچ کو حملے کا نقصان امریکی میزائل سے ہوا،رائٹرز

    برطانوی خبر رساں ادارے کی تحقیقات میں انکشاف ہو اہے کہ بحرین میں ایرانی ڈرون نہیں بلکہ امریکی میزائل سے نقصان ہوا۔

    بحرین میں 9 مارچ کو ہونے والے حملے میں ایرانی ڈرون کے بجائے امریکی انٹرسیپٹر میزائل کے پھٹنے سے نقصان پہنچا، یہ بات رائٹرز کی تحقیقات اور بحرین حکام کی تصدیق سے سامنے آئی ہےتحقیقات کے مطابق ایرانی ڈرون کو روکنے کے لیے پیٹریاٹ سسٹم استعمال کیا گیا، انٹرسیپٹر میزائل نے فضا میں ہی ایرانی ڈرون کو کامیابی سے مار گرایا، جس سے ممکنہ انسانی جانیں بچ گئی۔

    پشاور : نیشنل بینک میں ڈکیتی، ایک کروڑ 35 لاکھ روپے اور 441 تولہ سونا لاکرز سے چوری

    بحرین حکومت کے ترجمان کے مطابق جو نقصان ہوا اور لوگ زخمی ہوئے، وہ نہ تو ایرانی ڈرون کے زمین پر گرنے کا نتیجہ تھا اور نہ ہی پیٹریاٹ انٹرسیپٹر کے براہِ راست گرنے سے ہوا، دھماکے کے باعث درجنوں شہری زخمی ہوئے اور کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں اس حملے میں 32 شہری زخمی ہوئے اور انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچاپہلے امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی ڈرون رہائشی علاقے سے ٹکرایا تاہم تحقیقات نے واضح کیا کہ نقصان اصل میں انٹرسیپٹر میزائل کے دھماکے سے ہوا۔

    ایران سے جنگ،سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روک دیں

  • ایران سے جنگ،سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روک دیں

    ایران سے جنگ،سوئٹزرلینڈ نے امریکا کو اسلحے کی برآمدات روک دیں

    سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ کے دوران اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا سمیت جنگ میں شامل ممالک کو اسلحے کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔

    سوئس حکومت کے مطابق یہ فیصلہ عالمی قوانین اور غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ جاری تنازع میں کسی فریق کی حمایت سے گریز کیا جا سکے دوسری جانب سری لنکا نے بھی امریکی جنگی طیاروں کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے سری لنکن صدر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ امریکا نے دو جنگی طیاروں کی تعیناتی کے لیے درخواست کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔

    ادھر چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے فرانس کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اسی سلسلے میں ترکیہ کے وزیر خارجہ نے ترک صدر کا پیغام اماراتی امیر تک پہنچاتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفار تکاری کو ترجیح دینے کی اپیل کی ہے۔

    پی ایس ایل 11 بغیر تماشائیوں کے کرانے اور افتتاحی تقریب منسوخ کرنے کا اعلان

    ماہرین کے مطابق مختلف ممالک کی جانب سے غیر جانبداری اور سفارتی کوششوں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سطح پر اس تنازع کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    شاہ عبدالعزیز کا تاریخی محل سیاحوں اور عوام کے لیے کھول دیا گیا

  • اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات سے صرف صہیونی ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے،ایرانی صدر

    اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات سے صرف صہیونی ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے،ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عیدالفطر کے موقع پر اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا کسی بھی برادر ملک سے کوئی تنازع نہیں۔

    اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات سے صرف صہیونی ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے، اس لیے اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے،انہوں نے عید کے موقع پر دعا کی کہ مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی پیدا ہو اور سب مل کر امن و استحکام کے لیے کام کریں۔

    دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی ہے اور ملک صرف دفاعی اقدامات کر رہا ہے ایران اس وقت تک اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک ضرورت محسوس ہوگی، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کو غیر قانونی اور بلاجواز قرار دیا، ایرا ن مذاکرات کے عمل میں شامل تھا، لیکن اسی دوران حملے کیے گئے، جس کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

    ایران کا ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر میزائل حملوں کی تردید

    امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

  • ایران کا ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر میزائل حملوں کی تردید

    ایران کا ڈیاگو گارشیا فوجی اڈے پر میزائل حملوں کی تردید

    ایران نے بحرِ ہند میں واقع امریکی فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر میزائل حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق ایران کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس نے اس کارروائی میں کوئی کردار ادا کیا ہے یہ بیان اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا تھا کہ دو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اس اڈے کی جانب فائر کیے گئے، تاہم وہ اپنے ہدف کو نشانہ نہیں بنا سکے۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا رپورٹس کے مطابق ڈیاگو گارشیا ایک اہم امریکی و برطانوی فوجی اڈہ ہے، جہاں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے اور دیگر اسٹریٹجک اثاثے آپریٹ کیے جاتے ہیں،یہ اڈہ بحرِ ہند کے وسط میں واقع چاگوز آرچی پلیگو کا حصہ ہے اور 1970 کی دہائی سے امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ استعمال میں ہے۔

    امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    قطر میں ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ

    سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

  • امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    امریکی ویب سائٹ کا جنگ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان خفیہ رابطوں کا انکشاف

    ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود بالواسطہ رابطے اب بھی جاری ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات تو ختم ہو چکے ہیں، تاہم قطر، مصر اور برطانیہ ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں امریکا ایران سے یورینیم افزودگی کے پروگرام کے خاتمے کے ساتھ ساتھ پانچ سال کے لیے میزائل پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، دوسری جانب ایران جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ طلب کر رہا ہے،ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے منجمد اثاثے واپس کر دے تو ہرجانے کے مطالبے پر پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق بالواسطہ سفارتکاری اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی نہ کسی سطح پر رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    قطر میں ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ

    سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

    عالمی یومِ آب:صدر مملکت کا بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش

  • سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

    سعود ی عرب کی ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت

    سعودی وزارتِ خارجہ نے ایران کی جانب سے مملکتِ سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے یہ اقدامات نہ صرف حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کے منافی ہیں بلکہ ان سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے،سعودی حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایران کے سفارت خانے کے عسکری اتاشی، ان کے معاون اور سفارتی عملے کے 3 دیگر ارکان کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا ہے۔

    عالمی یومِ آب:صدر مملکت کا بھارت کا مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے،سعودی عرب اپنی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں و مقیمین کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا ، مملکت اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

    ایران کے عراد، دیمونا پر حملوں کو نیتن یاہو نے ’انتہائی مشکل شام‘ قرار دیا