Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران: میراتھن میں بغیر حجاب کے خواتین کی دوڑ، منتظمین گرفتار

    ایران: میراتھن میں بغیر حجاب کے خواتین کی دوڑ، منتظمین گرفتار

    ایران کے جزیرۂ کیش میں ہونے والی سالانہ میراتھن کے دو منتظمین کو ملک میں بے حیائی کے فروغ اور مملکت کے اقدار کے منافی کام کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خوبصوت سیاحتی جزیرے میں چھٹی کیش میراتھن میں علی الصبح تقریباً 5 ہزار افراد نے شرکت کی،خواتین کی دوڑ صبح 5:30 بجے ہوئی جب کہ مردوں کی ریس کا آغاز ساڑھے 8 کے بعد ہوا، خواتین نے روایت کے برعکس ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن رکھا تھا،خواتین کی اکثریت نے اس یونیفارم کے ساتھ حجاب نہیں پہنا جو کہ اس قسم کے کھیلوں میں حصہ لینے والی کھلاڑیوں کے لازمی ہے۔

    ایران کی ایتھلیٹکس فیڈریشن نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ میراتھن ملک کے قانونی اور مذہبی معیارات پر پوری نہیں اترتی.اس کے باوجود منتظمین نے اس پر توجہ نہ دی اور جب میراتھن کی وڈیوز وائرل ہوئیں توپولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو منتظمین کو حراست میں لے لیا جن پر شرعی قوانین سمیت ملکی قانونی اور مذہبی تقاضوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔

    انڈونیشیا کے صدر دو روزہ دورے پر پیر کو پاکستان پہنچیں گے

    گرفتار ہونے والوں میں کیش فری زون آرگنائزیشن کا سرکاری عہدیدار اور ایک نجی کمپنی کا نمائندہ جو میراتھن کے انعقاد کا ذمہ دار تھا، شامل ہے ان دونوں افراد کو عدالت نے پوچھ گچھ کے بعد ضمانت پر رہا کردیا مگر ان پر عدالتی نگرانی عائد کر دی گئی ہے،علاوہ ازیں سرکاری عہدیدار کو ملازمت سے بھی معطل کردیا گیا جب کہ نجی کمپنی کے منتظم پر کسی بھی اسپورٹس ایونٹ کے انعقاد یا انتظام پر پابندی لگا دی گئی۔

    ترکیے پاکستان میں جنگی ڈرون اسمبل کرنےکے لیے فیکٹری بنانا چاہتا ہے،بلوم برگ

  • ایران کا جوہری معاہدہ ختم، پابندیوں پر مزید عمل درآمد سے انکار

    ایران کا جوہری معاہدہ ختم، پابندیوں پر مزید عمل درآمد سے انکار

    ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اپنے جوہری پروگرام پر عائد کسی بھی پابندی کا پابند نہیں رہا کیونکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پایا 10 سالہ تاریخی جوہری معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 2015 میں ویانا میں طے پانے والے اس معاہدے پر ایران، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا کے یکطرفہ علیحدگی اختیار کرنے کے بعد یہ معاہدہ کمزور ہو گیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنے وعدوں سے بتدریج انحراف کیا۔

    گزشتہ ماہ معاہدے کے تین یورپی دستخط کنندگان کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی بحالی نے اس معاہدے کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے دن جاری بیان میں کہا کہ آج سے معاہدے کی تمام شقیں، بشمول ایرانی جوہری پروگرام پر پابندیاں، ختم تصور کی جائیں گی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اب بھی سفارتکاری سے وابستہ ہے اور پرامن مقاصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    واضح رہے کہ مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کی پیداوار اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔معاہدے کے خاتمے کی تاریخ 18 اکتوبر 2025 مقرر تھی، جب اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت باضابطہ طور پر نافذ ہوئے 10 سال مکمل ہوئے

    پاکستان نے شاندار سفارت کاری سے ٹرمپ کو اپنا ہمنوا بنا لیا،امریکی میڈیا

    ون ڈے کپتانی کا نیا معرکہ، مضبوط امیدوار نے ضمانت مانگ لی

    والدین کو بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس تک رسائی حاصل ہوگی،میٹا کا اعلان

    پیراماؤنٹ نے ایم ٹی وی کے پانچ مشہور میوزک چینلز بند کرنے کا اعلان کر دیا

  • ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی مسترد

    ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی مسترد

    ماسکو میں منعقدہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان، چین، روس، ایران، بھارت سمیت بڑی علاقائی طاقتوں نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ افغانستان میں کسی غیر ملکی فوج کی موجودگی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

    اعلامیے میں زور دیا گیا کہ تمام ریاستیں افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں اور ملک کو بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کریں۔اجلاس میں شریک ممالک نے واضح کیا کہ کسی بھی بہانے سے افغانستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں غیر ملکی فوجی تنصیبات کا قیام خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہوگا۔پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے، جبکہ افغان عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی پہلی بار مکمل رکن کے طور پر شریک ہوئے۔

    اعلامیے میں افغان حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔پاکستان کی شرکت ایسے موقع پر ہوئی جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے مطابق تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین سے حملے کرتے ہیں، تاہم طالبان انتظامیہ اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے جاری ہیں۔

    اسرائیلی جارحیت کے 2 سال ، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 92 فیصد مکانات ملبے کا ڈھیر

    کراچی پولیس نے برطانوی پولیس افسر کا گم سامان برآمد کر کےحوالے کر دیا

    راولپنڈی میں آپریشن، انتہائی مطلوب افغان ڈکیت سمیت 3 ملزمان ہلاک

    جاسوس کی گرفتاری پر بھارتی میڈیا نے وسیم اکرم کی تصویر دیکھا دی

  • پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شامل کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان

    پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ایران کو بھی شامل کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدےمیں دیگر اسلامی ملک بالخصوص ایران کو بھی اس معاہدے میں شامل کیا جائے۔

    لاہور میں مرکزی مجلس شوری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسرائیل کی پشت پر امریکا ہے اور جنگ بندی کو ویٹو کرنا اس کی واضح مثال ہے، قطر پر حملے کے بعد مسلمان ملکوں میں اتحاد کی جانب بڑھنے پر سوچ بچار کا عمل شروع ہوا، وادی تیرہ جیسے واقعات سے غیر یقینی کی کیفیت میں اضافہ ہوتا ہے، ایسے واقعات سے اداروں پر عدم اعتماد بڑھے گا اور عوام سے دوریاں پیدا ہونگی۔ بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن سے قابو پایا جا سکتا ہے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ افغانستان سے معاملات کو معمول پر لایا جائے اور تحریک طالبان کا مسئلہ ان کے تعاون سے حل کیا جائے، پرامن انداز میں بات چیت سے دونوں ملک ایشوز حل کریں اسی میں دونوں کی بہتری ہے نظام جب تک بدل نہیں جاتا ملک میں تبدیلی نہیں آئے گی اجتماع عام انشااللہ تبدیلی کی بنیاد بنے گا جو نومبر میں مینار پاکستان کے سائے تلے منعقد ہوگا۔

    لازوال عشق کے ٹریلر پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

    ایک ویزے پر 6 خلیجی ممالک کا سفر

    ناسا کا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن کو چاند کے مدار پر بھیجنے کا فیصلہ

  • امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے،  خامنہ ای

    امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے، خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ یورینیم کی افزودگی ترک کرنے کے لیے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق منگل کو ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ’بند گلی‘ ہے، جو ایران کے لیے کسی فائدے کی حامل نہیں،امریکی فریق بضد ہے کہ ایران کو (یورینیم) افزودگی کی اجازت نہ ہو، ہم نے ہتھیار ڈالے نہ ڈالیں گے، ہم اس معاملے یا کسی اور معاملے میں دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔

    سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ،امریکا سے مذاکرات صرف ایران کو نقصان پہنچائیں گے،موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات نہ صرف بے فائدہ ہیں بلکہ بڑے نقصان دہ بھی ہیں، جن میں سے کچھ کو ناقابلِ تلافی بھی کہا جا سکتا ہے، پچھلے 10 سال کے تجربات کو نہ بھولیں، دوسرا فریق جس پر ہماری بحث ہے، وہ امریکا ہے، یہ فریق ہمیشہ وعدہ خلافی کرتا ہے، ہر بات پر جھوٹ بولتا ہے، دھوکا دیتا ہے اور ہر موقع پر فوجی دھمکیاں دیتا ہے، ایسے فریق سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، میری نظر میں امریکا کے ساتھ جوہری معاملے پر اور شاید دوسرے معاملات پر بھی مذاکرات ’مکمل بند گلی‘ ہیں۔

    متنازع ٹوئٹ کیس: ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے وارنٹ گرفتاری منسوخ

    ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب یورپی طاقتیں ایران کے خلاف اس کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کے لیے ملاقات کر رہی تھیں، مگر کسی سمجھوتے کے آثار نظر نہیں آئے۔

    یورپی ممالک اور امریکا کو شبہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن تہران نے اس کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اسے پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا حق حاصل ہےجون میں اسرائیل نے ایران کے جوہری مراکز پر ایک بڑی فوجی کارروائی کی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامل ہو کر امریکی جنگی طیاروں کو اہم اہداف پر بمباری کا حکم دیا،ٹرمپ انتظامیہ، جو طویل عرصے سے پابندیوں کے دوبارہ نفاذ پر زور دے رہی تھی، نے ایران سے بات چیت کی آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن ایران کو واشنگٹن کی نیت پر شک ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک کے صدرآئی ایم ایف سربراہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

  • روس ایران میں 8 نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کرے گا

    روس ایران میں 8 نئے جوہری بجلی گھر تعمیر کرے گا

    ایران اور روس اس ہفتے ایران میں نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا اور روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ریا‘ نےکہا کہ یہ،بات،ایران کے ایٹمی توانائی کے سربراہ اور نائب صدرمحمد اسلامی نے پیر کو ماسکو پہنچنے پر کہی،انہوں نے ایرانی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ دورے کے دوران دوطرفہ معاہدوں پر دستخط ہوں گے، جن میں 8 ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کا منصوبہ شامل ہے، کیوں کہ تہران 2040 تک 20 گیگاواٹ ایٹمی توانائی کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتا ہے معاہدے کی بات چیت ہو چکی ہے، اور اس ہفتے معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہم عملی اقدامات کے مرحلے میں داخل ہو جائیں گے۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایران کے مغرب کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، کیوں کہ مغربی طاقتیں تہران پر الزام عائد کرتی ہیں کہ وہ 2015 کے اُس معاہدے پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا تھاایران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور روس کا کہنا ہے کہ وہ تہران کے پُرامن ایٹمی توانائی کے حق کی حمایت کرتا ہے۔

    جمعہ کے روز 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک مسودہ قرارداد کو مسترد کر دیا تھا، جس کا مقصد تہران پر پابندیاں مستقل طور پر ختم کرنا تھابرطانیہ، فرانس اور جرمنی نے پیشکش کی ہے کہ اگر ایران اقوام متحدہ کے ایٹمی معائنہ کاروں کے لیے رسائی بحال کرے، افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے متعلق خدشات دور کرے، اور امریکا کے ساتھ بات چیت کرے، تو وہ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کو چھ ماہ تک مؤخر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    سلامتی کونسل نے ایران پر اقوام متحدہ کی منجمد پابندیوں کو بحال کرنے کے حق میں بھی ووٹ دیا، جب تین یورپی حکومتوں نے ایک دہائی پرانے ایٹمی معاہدے میں ’اسنیپ بیک‘ میکنزم کو فعال کیا اور ایران پر عدم تعمیل کا الزام لگایا تھا۔

  • ایران کے پاس حالات بدلنے اور نئی راہیں نکالنے کی طاقت موجود ہے، ایرانی صدر

    ایران کے پاس حالات بدلنے اور نئی راہیں نکالنے کی طاقت موجود ہے، ایرانی صدر

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد مسترد ہونے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران ایک بار پھر پابندیوں کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےپابندیوں سے راستے روکے جا سکتے ہیں لیکن خیالات اور عزم نئے راستے بناتے ہیں،مسعود پزشکیان نے اپنی جوہری تنصیبات کے حوالے سے واضح کیا کہ نطنز اور فردو کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، مگر دشمن یہ نہیں سمجھتے کہ ان تنصیبات کو بنانے والے انسان ہیں اور وہی دوبارہ انہیں تعمیر کر سکتے ہیں،ایران کبھی بھی حد سے بڑھے مطالبات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا کیونکہ ایران کے پاس حالات بدلنے اور نئی راہیں نکالنے کی طاقت موجود ہے۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی تھی، جس کے بعد ایران پر جوہری اور اقتصادی پابندیاں برقرار رہیں گی اس ووٹنگ میں پاکستان، چین، روس اور الجزائر نے ایران کے حق میں ووٹ دیا۔

    امریکا کی پارٹی سیاست کا حصہ نہیں بنیں گے،پوپ لیو

    انتہاپسندی، غربت اور عدم مساوات امن کے لیے بڑے خطرات ہیں، ،بلاول بھٹو

    بارکھان میں شرپسندوں نے سڑک کی تعمیراتی مشینری کو آگ لگا دی

  • ایران کا  عالمی جوہری ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کا اعلان

    ایران کا عالمی جوہری ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کا اعلان

    ایران نے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے بعد عالمی جوہری ایجنسی سے تعاون معطل کرنے کا اعلان،کیاہے-

    ایران کی اعلیٰ ترین قومی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اقدام عملاً اقوام متحدہ کے ایٹمی نگران ادارے کے ساتھ ایران کے تعاون کو معطل کر دے گا۔

    یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب سلامتی کونسل نے جمعے کو ان پابندیوں کو بحال کرنے کے حق میں ووٹ دیا جو کئی برس سے منجمد تھیں، یورپی حکومتوں نے ایک دہائی پرانے جوہری معاہدے میں شامل ’اسنیپ بیک‘ میکانزم کو فعال کیا تھا اور ایران پر عدم تعمیل کا الزام لگایا تھا۔

    اس ووٹ کا مطلب یہ ہے کہ وہ پابندیاں، جو 2015 کے معاہدے کے تحت ایران کی جوہری سرگرمیوں پر پابندیوں کے بدلے معطل کر دی گئی تھیں، 28 ستمبر سے دوبارہ نافذالعمل ہو جائیں گی، جب تک کہ ایران آئندہ ہفتے کے اندر سلامتی کونسل کو قائل نہ کر سکے۔

    تہران نے کہا کہ یورپی طاقتوں کا یہ اقدام مہینوں کی ان کاوشوں کو نقصان پہنچاتا ہے جو عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ نگرانی کی بحالی اور عالمی قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے کی گئی تھیں۔

    اس ماہ کے آغاز میں ایران اور ایجنسی کے درمیان قاہرہ میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات کا معائنہ دوبارہ شروع ہونا تھا،ایران نے یہ معائنے اُس وقت معطل کر دیے تھے جب جون میں اسرائیل اور امریکا نے اس کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے،مغربی حکومتیں طویل عرصے سے ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام لگاتی رہی ہیں، تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

  • پابندیاں ختم کرنے سے انکار پرایران کاشدید ردعمل

    پابندیاں ختم کرنے سے انکار پرایران کاشدید ردعمل

    ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلے پر شدید ردعمل دیا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں،ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سلامتی کونسل کا اقدام غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے، اور ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گاایران کے نائب وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر 28 ستمبر کو سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیاں دوبارہ نافذ ہوئیں تو قاہرہ میں عالمی جوہری نگراں ادارے (آئی اے ای اے) کے ساتھ ہونے والا حالیہ معاہدہ معطل کر دیا جائے گا۔

    نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو 27 ستمبر کے بعد یہ پابندیاں خودکار طریقے سے بحال ہوجائیں گی اور اس کے ساتھ ہی آئی اے ای اے کے ساتھ طے پایا معاہدہ ختم تصور ہوگا،وزیر خارجہ عباس عراقچی پہلے ہی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ایران پر کسی بھی نئی پابندی کا مطلب آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کا خاتمہ ہوگا۔

    بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہنے کا امکان

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی جاری رکھنے کی تجویز مسترد کر دی تھی،اس فیصلے کے نتیجے میں ’’اسنیپ بیک میکانزم‘‘ کے تحت 28 ستمبر کو 30 روزہ مدت پوری ہونے پر تمام پرانی پابندیاں خودبخود بحال ہو جائیں گی،رواں ماہ 10 ستمبر کو ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کی بحالی کا معاہدہ قاہرہ میں ہوا تھا، جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عالمی جوہری ادارے کے ڈائریکٹر نے دستخط کیے تھے۔

    روسی جنگی طیاروں نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی،اسٹونیا

  • ایران کے مشہور گلوکار کنسرٹ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے جاںبحق

    ایران کے مشہور گلوکار کنسرٹ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے جاںبحق

    ایران کے مشہور گلوکار امید جہاں کنسرٹ کے دوران،دل کا دورہ پڑنے کے باعث 43 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    امید جہاں جنوبی ایران کی لوک موسیقی کو پاپ رنگ دینے کے منفرد انداز کے باعث شہرت رکھتے تھے وہ ایران کے شہر بم میں ایک فیسٹیول کے دوران اسٹیج پر پرفارم کر رہے تھے کہ اچانک دل کا دورہ پڑا اور وہ گر گئے،ایمرجنسی ٹیم نے انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے انکی جان بچانے کی کوشش کی اور آئی سی یو منتقل کیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔

    1982 میں ایران کے شہر آبادان میں پیدا ہونے والے امید جہاں نامور موسیقار محمود جہاں کے بیٹے تھے اور انہوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے موسیقی کو اپنا پیشہ بنایا،34 برس کی عمر میں انہوں نے اپنا پہلا باضابطہ البم ریلیز کیا جس نے انہیں موسیقی کی دنیا میں الگ پہچان دلائی،ان کے مقبول گانے اور جداگانہ انداز نے انہیں نہ صرف ایرانی مداحوں بلکہ دنیا بھر کے موسیقی کے شائقین میں مقبول بنایا، ان کی اچانک موت پر مداحوں اور فنکار برادری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    عظمیٰ بخاری کی معروف تھیٹر آرٹسٹوں سے ملاقات

    وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر مریم اورنگزیب کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

    مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری