Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران میں 5.7 شدت کا  زلزلہ

    ایران میں 5.7 شدت کا زلزلہ

    ایران کے جنوبی صوبے کرمان میں منگل کے روز 5.7 شدت کا زلزلہ آیا جس کے باعث کئی شہر لرز اٹھے۔

    جرمن ریسرچ سینٹر برائے جیوسائنسز (GFZ) کے مطابق زلزلے کی شدت 5.73 ریکارڈ کی گئی، جب کہ اس کا مرکز زمین کے 10 کلومیٹر نیچے تھازلزلہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایران کے مختلف علاقوں میں محسوس کیا گیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہر نکل آئے اور کچھ علاقوں میں موبائل نیٹ ورک بھی متاثر ہوا،ابھی تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم مقامی حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں،زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

  • صدر مسعود پزشکیان کا دورہ:پاکستان کی میزبانی کو  ایرانی سفیر نے تاریخی قرار دیا

    صدر مسعود پزشکیان کا دورہ:پاکستان کی میزبانی کو ایرانی سفیر نے تاریخی قرار دیا

    اسلام آباد:پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستانی حکومت، عوام اور قیادت کا ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران شان دار میزبانی پر شکریہ ادا کیا ہے، ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی میزبانی کو ایرانی قیادت نے تاریخی قرار دیا ہے۔

    ایکس پر جاری،اپنے بیان میں ایرانی سفیر نےکہا میں برادر، دوست اور ہمسایہ ملک پاکستان کی حکومت اور عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے وفد کو نہایت گرمجوشی اور فراخدلی سے خوش آمدید کہا اور مہمان نوازی کی۔

    وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا بطورِ خاص شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا کردار اس اہم دورے کو یادگار اور تاریخی بنانے میں غیر معمولی رہا انہوں نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ایوانِ صدر میں ایرانی وفد کی میزبانی کی۔

    رضا امیری مقدم نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور تعاون کو بھی سراہا، جو اس اعلیٰ سطح کے دورے کی کامیابی کے لیے نہایت اہم تھا انہوں نے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کی ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت اور مسلسل محنت پر بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس دورے کو اعلیٰ ترین سطح پر منظم کیا۔

    https://x.com/IranAmbPak/status/1952249028860666160

    ایرانی سفیر نے قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا لاہور میں ایرانی وفد کے لیے شاندار میزبانی پر خصوصی شکریہ ادا کیاجنہوں نے لاہور کے تاریخی اور خوبصورت شہر میں وفد کو پرتپاک مہمان نوازی سے نوازا۔

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ فاشسٹ گروہ ہے،عظمیٰ بخاری

    رضا امیری مقدم نے ریاض حسین پیرزادہ، خواجہ آصف، جام کمال خان، عبدالعلیم خان، محمد رضا حیات ہراج اور عطا اللہ تارڑ کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں اور بارہ اہم مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ایرانی سفیر نے لکھا کہ،پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تزویراتی بنیادوں پر قائم گہرے تعلقات ہیں، اور دونوں ممالک نے تجارت، بنیادی ڈھانچے، ثقافت سمیت کئی شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں،یہ دورہ ہمارے دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات میں ایک نئے باب اور اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، دونوں فریقین نے وسیع شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے اور گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے اس پختہ اور واضح عزم اور ارادے کے پیش نظر کہ دوطرفہ تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔

    پاکستان ریلویزکی جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملےکی تردید

    ایرانی سفیر نے لکھا کہ میں اسے اپنی ذمہ داری، فرض اور اعزاز سمجھتا ہوں کہ میں، پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے کے میرے رفقا، اور ہمارے وطن عزیز میں موجود ہمارے ہم منصب، اس مشترکہ وژن کو حقیقت بنانے کے لیے شب و روز محنت کریں۔

  • پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدوں پر دستخط

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن مقاصد کے لیے ایران کےجوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے، ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری قوت حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے، پاکستان ایران کے حق کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے

    ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور دونوں ممالک کے درمیان اخوت و برادری پر مبنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم دہرایا،وزیراعظم نے کہا کہ ’ایران ہمارا انتہائی برادر اور دوست ملک ہے، اور صدر مسعود پزشکیان کا پہلا دورۂ پاکستان ہمارے لیے باعثِ افتخار ہے۔ ہم نے باہمی ملاقات میں تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیل سے بات چیت کی ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی ہے وزیراعظم نے شہدا کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے ایرانی افواج اور عوام کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا،ایرانی قیادت نے دانشمندانہ انداز میں شاندار فتح حاصل کی، اور دشمن کے خلاف مضبوط فیصلے کیے،پاکستان پرامن مقاصد کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کی حمایت کرتا ہے اور ایران کے ساتھ ہر قدم پر کھڑا ہے۔‘

    لندن:دوافغان پناہ گز ین 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں گرفتار

    انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے آج کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں جنہیں جلد باضابطہ معاہدوں میں تبدیل کیا جائے گا۔’ہمارا ہدف 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت ہے، جو ہم جلد حاصل کریں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور ایران کی سوچ ایک ہے، اور خطے میں امن و ترقی کے لیے دونوں ملکوں کا وژن یکساں ہے۔

    وزیراعظم نے اسرائیل کی غزہ میں جاری بربریت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’غزہ میں ہر لمحہ معصوم بچوں اور خواتین کا قتل عام ہو رہا ہے، اسرائیل خوراک کو بھی فلسطینیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ مہذب دنیا کو اب بھرپور آواز اٹھانی چاہیے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے،دنیا کو غزہ میں امن کے لیے متحد ہونا ہوگا، کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھی غزہ سے مختلف نہیں۔ کشمیر کی وادی مظلوم کشمیریوں کے خون سے سرخ ہوچکی ہے۔

    غیر رجسٹرڈ عازمین سے بھی حج درخواستیں وصول کرنے کا فیصلہ

    پریس کانفرنس سے قبل دونوں رہنماؤں نے باقاعدہ معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر مختلف وزرا اور اعلیٰ حکام کے مابین 10 سے زائد یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ ہوا جن میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ اور ایرانی ہم منصب کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کی یادداشت،ایرانی وزیر تجارت اور پاکستانی وزیر خوراک کے درمیان تجارتی تعاون کی یادداشت،وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان مالیاتی و ریلوے شراکت،وفاقی وزیر خالد مگسی اور ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے درمیان مختلف سماجی و ثقافتی معاہدے،ثقافتی روابط، موسمیاتی تبدیلی، بحری امور، قانون و انصاف، داخلہ اور فضائی خدمات کے شعبوں میں متعدد یادداشتوں کا تبادلہ، شامل تھے-

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

  • اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰاق ڈار نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ایرانی صدر کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کے لیے پاکستان کے گہرے عزم کا اعادہ کیا اور زور دیا کہ یہ تعلقات مشترکہ تاریخ، ثقافتی ورثے، مذہب اور باہمی احترام کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔

    صدر پزشکیان نے پاکستان کی حمایت کو سراہا اور مختلف شعبوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے ایران کے عزم کو دہرایا،انہوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ بامعنی گفتگو کی خواہش کا بھی اظہار کیا تاکہ دونوں دوست ممالک کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحٰاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور تجارت، معیشت اور دیگر شعبوں میں اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

    انہوں نے ایرانی صدر کے اس بیان کا بھی خیرمقدم کیا جو وزیراعظم کے اس وژن سے ہم آہنگ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے،معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے باہمی اقتصادی ہم آہنگی قائم کرنا نہایت خوش آئند اور وقت کی ضرورت ہے۔

  • پاکستان اور ایران کا موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال پر اتفاق

    پاکستان اور ایران نے اتوار کے روز دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے اور سالانہ تجارتی حجم کو 8 ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے-

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور ایرانی وزیر برائے صنعت، کان کنی اور تجارت، محمد اتابک کے درمیان ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پاکستان کے 2 روزہ سرکاری دورے کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں یہ،فیصلہ،کیا گیا۔

    وزارتِ تجارت کے بیان کے مطابق،اعلیٰ سطح کی ملاقات نے دونوں ممالک کے اس نئی عزم کی عکاسی کی کہ وہ تجارت کو تیز کریں، سرحدی رکاوٹوں کو ختم کریں، اور ترجیحی شعبوں میں اعتماد پر مبنی شراکت داری قائم کریں، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر جام کمال نے تصور پیش کیا کہ اگر مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت آئندہ برسوں میں با آسانی 5 سے 8 ارب ڈالر سالانہ کی حد عبور کر سکتی ہے۔

    انہوں نے تجویز دی کہ ٹارگٹڈ تجارتی وفود ترتیب دیے جائیں، جن میں وفاقی اور صوبائی چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان شامل ہوں، تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور ریگولیٹری سہولت کاری پر توجہ مرکوز کی جا سکے، ہم نے یہ ماڈل بیلا روس سمیت دیگر جگہوں پر کامیابی سے آزمایا ہے، آئیے ایران کے لیے بھی یہی طریقہ اپنائیں، ان شعبوں سے آغاز کریں جہاں باہمی فائدے کی سب سے زیادہ گنجائش موجود ہے۔

    وزرا نے موجودہ تجارتی راہداریوں اور سرحدی سہولتوں کے مؤثر استعمال پر بھی اتفاق کیا، وفاقی وزیر جام کمال نے زور دیا کہ خطے میں تجارت کی صورت میں جو فوائد آسیان ممالک نے حاصل کیے، اسی طرح پاکستان اور ایران کو بھی چاہیے کہ جغرافیائی قربت کا فائدہ اٹھائیں، جغرافیہ ایک فائدہ ہے، پاکستان اور ایران کو فاصلے کے اس رعایتی فائدے کو استعمال کرنا چاہیے، اگر ہم نے یہ موقع ضائع کیا تو وقت اور لاگت دونوں کے نقصان کا سامنا ہوگا۔

    محمد اتابک نے پاکستان سے ایران کو برآمدات بڑھانے کے لیے جاری بات چیت کا ذکر کیا اور حال ہی میں طے پانے والے معاہدوں پر جلد عملدرآمد کی ترغیب دی، دونوں ممالک کے تاجر اور صنعت کار تیار ہیں۔ وہ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں۔ اب انہیں صرف ہماری طرف سے ایک واضح اور مستقل سہولت کاری کا نظام درکار ہے۔“

    وزیر کمال نے کہا کہ دو طرفہ فوائد سے آگے بڑھ کر یہ رابطہ ترکی، وسطی ایشیا، روس اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں تک پھیل سکتا ہے، جو ایک مضبوط اور پائیدار اقتصادی بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے،محمد اتابک نے اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران باقاعدہ بی ٹو بی ڈے منعقد کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور ایرانی کاروباری گروپوں کو پاکستان بھیجنے کی پیشکش بھی کی۔

    دونوں وزرا نے پاکستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کا اعتراف کیا اور کہا کہ حالیہ علاقائی و عالمی حالات نے دونوں ممالک کو مزید قریب کر دیا ہے،محمد اتابک نے پاکستانی حکومت کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اور آپ کی ٹیم کی فوری شرکت اور عزم نہ ہوتا تو ہم اس مقام تک نہ پہنچتے، اب جو رفتار ہم نے حاصل کی ہے، اسے باقاعدہ تجارتی نتائج میں بدلنا ہوگا،جام کمال نے بھی اسی جذبے کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں حکومتوں اور نجی شعبے نے مل کر کام کرنے کی شدید خواہش ظاہر کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سفارت کاری میں ایک ایسا لمحہ آتا ہے جب لوہا گرم ہوتا ہے، یہ وہی لمحہ ہے، ہمیں فوری عمل کرنا ہوگا، تاخیر چیزوں کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے، جذبہ اور سیاسی عزم کے بعد ضابطہ کار آتا ہے، اور پاکستان ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو باقاعدہ چینلز جیسے جوائنٹ اکنامک کمیشن (جے ای سی)، بی ٹو بی تبادلے، اور شعبہ وار وفود کے ذریعے مزید گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    دونوں وزرا نے زراعت، لائیو اسٹاک، خدمات، توانائی، اور سرحد پار لاجسٹکس جیسے مخصوص شعبوں کی نشان دہی پر بھی اتفاق کیا، جن میں مستقبل میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے،باہمی تعلقات کے انسانی پہلو پر غور کرتے ہوئے، دونوں فریقین نے پاکستان اور ایران کے عوام کے درمیان ثقافتی اور لسانی اشتراک کو اجاگر کیا۔

    وزرا نے پاکستان-ایران جوائنٹ اکنامک کمیشن کے اگلے اجلاس کو تیزی سے منعقد کرنے، عوامی اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کو یقینی بنانے، اور سرحدی سہولت و تجارتی لاجسٹکس کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا، میں کہا گیا کہ اعلیٰ سطح کی سیاسی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کے ساتھ، پاکستان اور ایران بظاہر اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں، جو خطے کی تجارت کو بدل سکتا ہے۔

  • ایرانی صدر  دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    ایرانی صدر دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں، انہوں نے مزار اقبال پر بھی حاضری دی۔

    یرانی صدر ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ لاہور پہنچے، جہاں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیاایرانی صدر کی آمد پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو پاکستانی اور ایرانی پرچموں سے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، جب کہ ایرانی صدر کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بھی بچھایا گیا،

    ایرانی صدر نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر وزرا بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایرانی صدر نے مزار اقبال پر فاتحہ پڑھی، پھول رکھے اور کتاب میں تاثرات قلم بند کیے،یہ مسعود پزشکیان کا بطور صدر پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جس دوران ان کی صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے اہم ملاقاتیں شیڈول کی گئی ہیں۔

    دورہ پاکستان پر روانگی سے قبل ایرانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی سیکیورٹی اور علاقائی امن بھی بات چیت کا اہم حصہ ہوں گے، اور امید ہے کہ باہمی تعاون سے سرحدی منڈیوں اور روابط کے ذریعے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں گے، کوشش ہے کہ پاک ایران تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے۔ انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (ون بیلٹ ون روڈ) میں ایران کی بھرپور شرکت کی خواہش کا بھی اظہار کیا، اور کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے ایران کو یورپ سے منسلک ہونے کا موقع ملے گا۔

    صدر مسعود پزشکیان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اسلامی اتحاد کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا، اور دونوں ممالک کا رشتہ مزید مستحکم اور دیرپا ہوگا،کوشش ہے کہ دوطرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچے۔ چین اور پاکستان کے ون بلٹ ون روڈ منصوبے میں فعال شرکت کے خواہاں ہیں۔ ون بلٹ منصوبے سے ایران کو یورپ سے جوڑنے کا موقع مل سکتا ہے، پاک ایران اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔

    قبلازیں،ترجمان دفتر خارجہ کا کہناتھاکہ ا یرانی صد ر کے ہمراہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ سطحی وفد بھی ہوگا،اپنے قیام کے دوران مسعود پزشکیان صدر آصف زرداری سے ملاقات بھی کریں گے،وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدرمسعود پزشکیان کے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گےدفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران کے صدر کا دورہ پاکستان ایران کے برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بنے گا۔مسعود پزشکیان گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے دوسرے ایرانی صدر ہوں گے، اپریل 2024 میں سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدرمسعود پزشکیان سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ برادرانہ تعلقات کیلئے پاکستان کے گہرے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    چین کے شہر تیانجن میں ہونے والی ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر ، وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزراء بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے،وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر نے مختلف شعبوں میں تعاون کی صورتحال کا جائزہ لیا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا۔

    ایرانی صدر نے دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کیلئے ایران کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ وزیراعظم نے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ، وزیراعظم نے ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا بھی اعادہ کیا۔

    واضح رہے کہ چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے 25ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ چینی صدر شی جن پنگ اور خاتون اول نے بھی شہباز شریف کا انتہائی گرمجوشی سے استقبال کیا۔

    وزیراعظم نے اجلاس کے موقع پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، ملائیشیا کے صدر انور ابراہیم، بیلاروس کے صدر الیکزانڈر لوکاشینکو، آذربائیجان کے صدر الہام علییوف سے ملاقات کی،اس کے علاوہ شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان، تاجک صدر امام علی رحمان، ترکمانستان کے صدر بردی محمدیوو، کرغستان کے صدر سیدر ژاپاروف، مالدیپ کے صدر محمد معیزو اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔

    ان ملاقاتوں کے دوران عالمی رہنماؤں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا، جو پاکستان اور ان ممالک کے درمیان دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہےاجلاس سے قبل منعقدہ استقبالیہ میں بھی چینی صدر اور ان کی اہلیہ نے وزیراعظم کا شاندار انداز میں استقبال کیا۔

  • ایاز صادق کی جنیوا میں ایرانی ہم منصب  سے ملاقات

    ایاز صادق کی جنیوا میں ایرانی ہم منصب سے ملاقات

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جنیوا میں چھٹی عالمی اسپیکرز کانفرنس کی سائیڈ لائن پر ایرانی ہم منصب ڈاکٹر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی ہے-

    ملاقات کے دوران اسپیکر ایاز صادق نےکہا کہ پاکستان اور ایران کے مابین تاریخی برادرانہ اور دوستانہ تعلقات پائے جاتے ہیں، پاکستان ایران کی خودمختاری اور سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملہ عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، پاکستان تمام عالمی تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے پرامن حل چاہتا ہے، پاکستان ایران کے جوہری پروگرام کا مذکرات کے ذریعے پُرامن حل چاہتا ہے، پاکستان کی پارلیمان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف متفقہ قراردادیں منظور کیں،دونوں اسپیکرز نے دو طرفہ پارلیمانی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔

    خیبرپختونخوا پولیس نے اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا باقاعدہ آغاز کر دیا

    ایرانی اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف پاکستان کی جانب حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے مابین مضبوط برادرانہ اور دوستانہ تعلقات موجود ہیں، ایران پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاکستان کی پارلیمان اور عوام کی جانب سے حمایت کو ایرانی عوام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    نومئی کا فیصلہ، عمر ایوب،زرتاج گل سمیت 100 ملزمان کو سزا،زین قریشی بری

  • اسرائیلی وزیر  کی ایرانی سپریم لیڈر کو براہ راست نشانہ بنانے کی دھمکی

    اسرائیلی وزیر کی ایرانی سپریم لیڈر کو براہ راست نشانہ بنانے کی دھمکی

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو براہ راست شہید کرنے کی دھمکی دی ہے۔

    کاتز نے یہ بیان اتوار کے روز رامون ایئر فورس بیس کے دورے کے دوران دیا، جہاں انہوں نے اسرائیلی فضائیہ کی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا، ’اگر ایران نے اسرائیل کو دھمکیاں دینا بند نہ کیں، تو ہماری فضائیہ ایک بار پھر تہران تک پہنچے گی، اور اس بار حملے کا نشانہ صرف ایرانی تنصیبات نہیں بلکہ خامنہ ای خود ہوں گے۔‘

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کاتز نے ایک اسرائیلی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں یہاں سے خامنہ ای کو ایک واضح پیغام دینا چاہتا ہوں اگر آپ اسرائیل کو دھمکیاں دیتے رہے، تو ہمارے طیارے تہران تک دوبارہ پہنچیں گے، اور اس بار یہ آپ تک بھی شخصی طور پر پہنچے گا۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے وسطی اور مغربی ایشیا ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی

    یہ دھمکی ایران کے ساتھ 12 دنوں تک جاری رہنے والی جنگ کے پس منظر میں دی گئی ہے، جو 13 جون کو اسرائیل کے ایران کے فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی،ایران نے جوابی حملے میں میزائل اور ڈرون استعمال کیے جبکہ امریکہ نے تین ایرانی جوہری تنصیبات کو بمباری کی اس تنازعے کا خاتمہ امریکی ثالثی کے تحت 24 جون کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے ذریعے ہوا تھا، لیکن حالیہ دھمکی نے خطے میں تناؤ کو ایک مرتبہ پھر ہوا دے دی ہے-

    پنجاب : پہلی مرتبہ جانوروں کی آلائشوں سے بائیو گیس بنانے کا کامیاب تجربہ

  • پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا رابطہ

    پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کا رابطہ

    پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفون پر گفتگو کی-

    پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفون پر غزہ کی صورتحال پر گفتگو کی، جس دوران اسحاق ڈار اور عباس عراقچی نے غزہ میں اسر ائیلی مظالم پر تشویش کا اظہار کیاعباس عراقچی نے کہا کہ غزہ صورتحال پر عالمی اداروں خصوصاً اوآ ئی سی کو متحرک کرنا ضروری ہے، مغربی کنارے پر قبضے کی اسرائیلی پارلیمینٹ کی منظوری کا مقصد فلسطینی شناخت کو مکمل طور پر مٹانا ہے-وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ اور سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل کے درمیان بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں خطےکی تازہ صورتحال اور غزہ میں انسانی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    راولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی پورٹ عدالت میں پیش

    ہمایوں سعید شوٹنگ کے دوران شدید زخمی

    پاکستان کا ایران کے ساتھ مکالمے میں ثالث کا کردار قابل تعریف ہے،امریکا