Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران میں رجیم چینج ناکامی ، موساد میں بڑی تبدیلیاں

    ایران میں رجیم چینج ناکامی ، موساد میں بڑی تبدیلیاں

    ایران میں مبینہ رجیم چینج کی کوششوں میں ناکامی کے بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے اندر بڑی سطح پر تبدیلیاں شروع ہو گئی ہیں-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق موساد میں مزید اعلیٰ افسران کی رخصتی یا استعفوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے ادارے کے اندر وسیع پیمانے پر احتساب اور تنظیم نو کی قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں موساد کے نومنتخب ڈائریکٹر رومن گوفمین نے ادارے کے نائب ڈائریکٹر، جنہیں مسٹر اے کے نام سے شناخت کیا جاتا ہے، کو عہدے سے برطرف کردیا ہےرپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اقدام ایران میں رجیم چینج کی مبینہ کوششوں کے مطلوبہ نتائج حا صل نہ ہونے کے تناظر میں کیا گیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق موساد کے نائب سربراہ کو پچھلے سال سیکڑوں خفیہ ایجنٹوں کی ٹیم اور ایک ارب شیکل دیے گئے تھے مگر وہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہے، موساد کے اندر مزید اعلیٰ سطحی تبدیلیوں اور بعض افسران کے استعفوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • محسن نقوی نے ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی خط عباس عراقچی کے حوالے کر دیا

    محسن نقوی نے ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی خط عباس عراقچی کے حوالے کر دیا

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ، جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن و امان اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی، وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام ایک خصوصی خط بھی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے کیا گیا ہے۔

    محسن نقوی مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیغامات لے کر گزشتہ شب ایران کے دارالحکومت پہنچے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے ایرانی قیادت کے لیے خصوصی پیغامات اور ایک خط پہنچائیں گے۔

    محسن نقوی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں حالیہ کشیدگی میں تیزی آئی ہے، خاص طور پر امریکا کی جانب سے ایران کے ساحلی نگرانی کے ریڈار تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہےجواباً ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جن میں کویت اور بحرین شامل ہیں، جس سے وسیع علاقائی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    محسن نقوی کی عباس عراقچی سے اہم ملاقات کو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور پاکستان و ایران کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • تہران اور واشنگٹن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی،امریکا کا ایران کے فنڈزخلیجی ممالک کو دینے کا فیصلہ

    تہران اور واشنگٹن میں کشیدگی مزید بڑھ گئی،امریکا کا ایران کے فنڈزخلیجی ممالک کو دینے کا فیصلہ

    ٹرمپ انتظامیہ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدہ سفارتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے کویت اور بحرین پر حملوں کے بعد مزید ڈرونز بھی لانچ کیے ہیں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کی جانب سے خلیجی اتحادی ممالک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگائے۔

    امریکی حکام مستقبل میں ہونے والی ممکنہ تباہی کے ازالے کے لیے بھی ایرانی اثاثوں کے استعمال پر غور کر رہے ہیں یہ انکشاف ایک روز بعد سامنے آیا جب ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے سی این این کو انٹرویو میں کہا تھا کہ تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کی ایک اہم شرط امریکا میں منجمد 24 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کی رہائی ہے۔

    ہفتے کے روز ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ کن نوعیت کے اثاثوں کا جائزہ لے رہا ہے تاہم استعمال کی گئی اصطلاحات سے یہ تاثر نہیں ملا کہ یہ اقدام صرف منجمد اثاثوں تک محدود ہوگا۔

    مبصرین کے مطابق ایرانی اثاثوں کو خلیجی ممالک کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرنے کی امریکی تجویز واشنگٹن اور تہران کے درمیان نازک جنگ بندی کے لیے ایک نئی کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ہفتے کے آخر میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ حملوں کا تبادلہ ہوا۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہیں تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کے روز تہران پہنچے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ایک خصوصی خط بھی ساتھ لائے۔

    ادھر امریکی افواج نے ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز میں واقع گورک اور جزیرہ قشم کے ایرانی ساحلی ریڈار مراکز پر حملے کیے امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ اس کارروائی سے قبل ایران کی جانب سے لانچ کیے گئے ایسے ڈرونز مار گرائے گئے تھے جو سمندری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے،امریکی فوج نے بعد ازاں مزید دو ایرانی حملہ آور ڈرونز کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ تصور کیے جا رہے تھے۔

    بعد ازاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہےکویتی فوج کے مطابق ہفتے کے روز اس نے سات بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا جو رہائشی علاقوں کے اوپر سے گزرے، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بحرین میں حملوں کے دوران خطرے کے سائرن بجائے اٹھے تھے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی تھی، کویت اور بحرین دونو ں نے ان حملوں کی مذمت کی تھی،بعد ازاں ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے دونوں ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج کا کہنا تھا کہ چھ میزائل راستے میں تباہ کر دیے گئے جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

  • ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    ایران کے کویت اور بحرین پر میزائل حملے، خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ

    امریکا کی جانب سےساحلی فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت اور بحرین کی سمت میزائل داغنے اور خطے میں ’دشمن اڈوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تمام میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے گئے۔

    سی این این اور عرب نیوز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کی سمت میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے بعد پورے خطے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایران کے 4 حملہ آور ڈرونز کو آبنائے ہرمز کی جانب بڑھتے ہوئے مار گرایا گیا، جبکہ بعد ازاں کویت اور بحرین کی سمت داغے گئے 7 میزائلوں میں سے چھ کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا، ان حملوں میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

    دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا ہے کہ اس نے امریکی جارحیت کے جواب میں خطے میں موجود ’دشمن اڈوں‘ کو ایرو اسپیس فورس کے میزائلوں سے نشانہ بنایا ایرانی میڈیا کے مطابق خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کی سرگرمیوں کے جواب میں ایرانی بحریہ نے انتباہی فائرنگ بھی کی۔

    کشیدہ صورتحال کے باعث بحرین میں ہفتے کی صبح خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور وزارتِ داخلہ نے شہریوں اور غیر ملکی رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت جاری کی۔

    اسی طرح کویتی فوج نے بھی ’دشمن میزائل اور ڈرون خطرات‘ سے نمٹنے کے لیے فضائی دفاعی نظام متحرک کرنے کا اعلان کیا، کویت میں متعدد فضائی خطرے کے الارم بجائے گئے جبکہ بعض پروازوں کو بھی عارضی طور پر انتظار کی حالت میں رکھا گیا۔

    ادھر ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے، ایرانی حکام کے مطابق ممکنہ امن معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ امریکا ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کرے،اس دوران لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی ایران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران اپنے علاقائی تنازعات میں لبنان کو ’سودے بازی کے آلے‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

  • ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں اور بالآخر اس کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

    وسکونسن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کے حل میں وقت لگتا ہے اور ایسے معاملات فوری طور پر طے نہیں ہوتے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل میں ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ خود کو طاقتور اور غیور سمجھتا ہے ایران کے ساتھ معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کی موجودہ صورتحال بھی مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

    اپنی تقریر میں انہوں نے امریکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

  • ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے،ایران

    ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے،ایران

    ایرانے کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گےانہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کریں گےانہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ایسی کسی ملاقات کا امکان نہیں ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل کو تعطل کا شکار کر رکھا ہے، تاہم اگر امریکا مثبت اقدامات کرے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں ٹرمپ کو اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام کے مفادا ت کو ترجیح دینی چاہیے۔

    انٹرویو میں ان کا کہنا تھا اگر امریکا ایران کےخلاف عائد محاصرہ اور دباؤ کی پالیسی ختم کرے اور ایران کےمنجمد اثاثے بحال کرےتو ایران اور امریکا کے مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک نیا افق ابھر سکتا ہے،اگر ڈونلڈ ٹرمپ سیاسی عزم اور ہمت کا مظاہرہ کریں تو دونوں ممالک کے درمیان موجود کئی پیچیدہ معاملات حل کیے جا سکتے ہیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے بجائے سفارت کاری اور باہمی احترام پر مبنی اقدامات خطے اور دنیا کے مفاد میں ہوں گےایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں، اور پابندیوں کے خاتمے سمیت اعتماد سازی کے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان پیش رفت کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوڈ فورس ون پوڈ کاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے مستقبل میں ان کی کسی موقع پر ملاقات ہوسکتی ہےایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کر رہی ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس عمل سے آگاہ اور اس میں شامل ہیں امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔

    بعد ازاں ایک اور موقع پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات بھی ممکن ہو سکتی ہےایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • امریکا اور اسرائیل  ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،مجتبیٰ خامنہ ای

    امریکا اور اسرائیل ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،مجتبیٰ خامنہ ای

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے، اس لیے اب وہ ایران کے اندر اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    الجزیرہ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک تحریری پیغام میں لکھا کہ امریکا کی قیادت میں قائم ظالمانہ نظام ایک مضبوط اور خودمختار ایران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ انہوں نے اسرائیل کو اسی نظام کی ایک مصنوعی چوکی قرار دیا کہا کہ امریکہ کی قیادت میں سامراج نے پچھلے 80 سالوں میں اسرائیل کے نام سے ایک فوجی اڈہ بنایا ہے۔ اور وہ "گریٹر اسرائیل” یعنی دریائے فرات کے مشرق میں جھوٹے، ناجائز جغرافیہ کی مشرقی سرحد پر ایک مضبوط، آزاد ایران کے وجود کو قبول نہیں کرتے-

    انہوں نے لکھا کہ دشمن میدانِ جنگ میں ناکامی اور گہری رسوائی کا سا منا کرنے کے بعد اب ایک نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت وہ ہائبرڈ جنگ کے ذریعے ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور حکام کی ممکنہ غلطیو ں کو نشانہ بنا رہا ہے، اس مہم کا بنیادی ہتھیار عوام کے درمیان شکوک و شبہات، مایوسی، خوف اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن کی کوشش ہے کہ ایرانی معاشرے کے اندر اختلافات کو ہوا دے کر ملک کو کمزور کیا جائے کوئی بھی ایسا اقدام جو عوام میں بددلی، بدگمانی یا مایوسی کو فروغ دے، درحقیقت ملک اور اس کے عوام کے دشمنوں کی مدد کے مترادف ہےانہوں نے تمام ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کا مقابلہ ثابت قدمی، بصیرت اور قومی اتحاد کے ذریعے کریں اور اندرونی اختلافات سے گریز کرتے ہوئے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

  • ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے، عباس عراقچی

    ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے ختم نہیں ہوئے، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطے منقطع نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تبادلہ کیے گئے متن اور تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    لبنانی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج امریکی مفادات یا استعمال ہونے والے مقامات کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایران کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر اسرائیل نے بیروت یا لبنان کے کسی حصے پر حملہ کیا تو ایران سخت اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے خطے کے متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے جن میں پاکستان، سعودی عرب، فرانس، ترکی، قطر اور مصر شامل ہیں ان رابطوں میں خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے امکانات پر بات چیت کی گئی جبکہ جاپان میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

    ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کا جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ خطے میں کشیدگی موجود ہے، تاہم سفارتی چینلز مکمل طور پر بند نہیں ہوئے اور کسی ممکنہ مذاکراتی عمل کی گنجائش اب بھی برقرار ہے۔

  • پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے مؤقف پر بدستور قائم ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد مما لک شامل تھے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کے ساتھ بھی اہم رابطے ہوئے جن میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سے ملاقات شامل ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا امریکی قیادت نے خطے میں امن کی کوششوں خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے،پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکر ات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقا ت اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا،جبکہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان منظم اور اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کا اہم پلیٹ فارم ہے۔

    ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات میں پیش رفت، تعاون کے فروغ اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہےاجلاس کے دوران خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بھی غور کیا گیا اس موقع پر متعدد علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔

    مشترکہ بیان میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ بیان میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقدس مقامات کی حیثیت متاثر کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی بیان میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا جس کا دارالحکومت القدس ہو، اور اس مؤقف کو بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے مطابق قرار دیا گیا۔

  • مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں-

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ’پوڈ فورس ون‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کررہی ہے،امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پوڈ کاسٹ میں امریکی صدر نے لبنان کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا بھی اعتراف کیا انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں پر وہ خوش نہیں تھے اور اس حوالے سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو بھی ہوئی یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وز یر اعظم کے تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔