Baaghi TV

Tag: ایران

  • پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے مؤقف پر بدستور قائم ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد مما لک شامل تھے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کے ساتھ بھی اہم رابطے ہوئے جن میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سے ملاقات شامل ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا امریکی قیادت نے خطے میں امن کی کوششوں خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے،پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکر ات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقا ت اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا،جبکہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان منظم اور اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کا اہم پلیٹ فارم ہے۔

    ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات میں پیش رفت، تعاون کے فروغ اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہےاجلاس کے دوران خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بھی غور کیا گیا اس موقع پر متعدد علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔

    مشترکہ بیان میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ بیان میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقدس مقامات کی حیثیت متاثر کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی بیان میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا جس کا دارالحکومت القدس ہو، اور اس مؤقف کو بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے مطابق قرار دیا گیا۔

  • مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں-

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ’پوڈ فورس ون‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کررہی ہے،امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پوڈ کاسٹ میں امریکی صدر نے لبنان کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا بھی اعتراف کیا انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں پر وہ خوش نہیں تھے اور اس حوالے سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو بھی ہوئی یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وز یر اعظم کے تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

  • کویت پر ایرانی حملے، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی، ایئرپورٹ اور سفارتی عمارتوں کو نقصان،فضائی آپریشن مطل

    کویت پر ایرانی حملے، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی، ایئرپورٹ اور سفارتی عمارتوں کو نقصان،فضائی آپریشن مطل

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا ہے حملوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ہوائی اڈے کی عمارت اور قریبی سفارتی دفاتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک باضابطہ بیان جاری کیا ہے کویتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے ان ”وحشیانہ اور مسلسل ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت شہری اور اہم تنصیبات کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کے نتیجے میں ایک فرد کی موت واقع ہوئی ہےاور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں سفارتی مشنز سمیت اہم املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے ان بار بار کی ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اقدامات کرنے کا اپنا مکمل اور موروثی حق محفوظ رکھتے ہیں-

    دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے پیچھے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کویت اور بحرین کو خطے میں ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے کویت اور بحرین ان امریکی حملوں کی براہِ راست اور واضح ذمہ داری اٹھائیں کیونکہ ان دونوں ممالک کی سرزمین اور فوجی سہولیات کو ایران کے خلا ف امریکی فوجی آپریشنز کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا ہے اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے مرکز کو نشانہ بنانے سمیت ہر دستیاب طریقہ استعمال کریں گے۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کی  تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات کا اعلان کر دیا ہے۔

    ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تہران سمیت تین بڑے شہروں میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای کی تدفین کے سلسلے میں تین روزہ عوامی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی –

    تہران کی بلدیہ کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ الوداعی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں، نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، تقریبات کے حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم ان کے ذوالحج کے آخری دنوں یا محرم الحرام کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے تہران میں الوداعی اور جنازے کی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، اسی پیش نظر شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر معمولی انتظامات کر رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی اس مقصد کے لیے مشہد میں بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی سرکاری تدفین کو غیر معمولی حالات اور سکیورٹی وجوہات کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔

  • ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو ”غلط اور بے بنیاد“ قرار دیا ہے-

    ایران کی خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔

    ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے منگل کے روز ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں ”غلط اور گمراہ کن“ ہیں ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے، چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے،یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔“

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران رابطوں کے تعطل سے متعلق رپورٹس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس بات کی کوئی ضما نت نہیں کہ فریقین ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مذاکرات جاری ہیں، لیکن کسی حتمی اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
    دئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 4ہو گئی ہے جبکہ50 سے زائد افراد زخمی ہیں ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں 2 لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.

    لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.

    اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں، ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.

    عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.

    دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.

  • قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا، آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں –

    آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.

    ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا،ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا، ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

    امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے،یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.

    اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.

  • ایران اورپاکستان کی مذمت، ٹرمپ کی اظہار برہمی کے بعد نیتن یاہو نے لبنان پر حملے روک دیے

    ایران اورپاکستان کی مذمت، ٹرمپ کی اظہار برہمی کے بعد نیتن یاہو نے لبنان پر حملے روک دیے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ افسوس اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیاں نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں، انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

    پاکستانی مندوب نے کہا کہ معصوم شہریوں کے جان و مال کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

    عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام صرف مذاکرات، سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نےفریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی اپیل کی،پاکستان کے مستقل مندوب نے اس عزم کا اعاد ہ کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

    اسی دوران، سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر را بطہ کیا ہےایرانی وزیر خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتےہوئے سفارتکاری میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان سے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کی.

    اس گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ کو موجودہ صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیااسحاق ڈار نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور موجودہ مفاہمت کو محفوظ بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا تسلسل خطے میں مزید کشیدگی اور بحران سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے.

    اس معاملے پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی بھی اپنے ملک کا مؤقف سامنے لائے ہیں،انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے، کسی ایک محاذ پر کارروائی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی ،ایرانی وزیرخارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی پر نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی.

    دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا.

    ٹرمپ نے نیتن یاہو سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہےاس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے،میں نے اپنے نما ئندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی بہت اچھی گفتگو کی، حزب اللہ بھی تمام تر فائر بندی پر راضی ہے، اب نہ اسرائیل ان پر حملہ کرے گا، نہ وہ اسرائیل پر حملہ کریں گے.

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں لبنان کی صورت حال اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق اس گفتگو کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اسرائیلی فوج بیروت میں داخل نہیں ہوگی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے تھے انہیں انہیں بھی واپس بلا لیا گیا ہے اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں فائرنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل کو نشانہ نہیں بنائے گا۔

    امریکی صدر نے اپنے بیان میں اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اسرائیلی حکومت، حزب اللہ یا دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے اس دعوے کی فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

  • اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    اگلے ہفتے کے دوران ایران کیساتھ معاہدہ ہو جائے گا ، ڈونلڈ ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جائے گا۔

    امریکی چینل اے بی سی نیوزکو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے مذاکراتی عمل روکنے کے حوالے سے واشنگٹن کو ابھی تک باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا تاہم اگر ایران خاموشی اختیار کرنا چاہتا ہے تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ انتظار کر سکتا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ہم بہت زیادہ بات کر چکے ہیں، اگر سچ پوچھیں تو خاموش رہنا بہتر ہوگا انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا دوبارہ وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے جارہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم وہاں جا کر ہر طرف بمباری شروع کر دیں گے، ہم صرف خاموش رہیں گے اور ناکہ بندی برقرار رکھیں گے تاہم فوری طور پر کسی نئی فوجی مہم کا ارادہ نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے ذرائع موجود ہیں اور وہ کسی معاہدے کے لیے جلد بازی میں نہیں ہیں،میرے خیال میں میں اتنا انتظار کر سکتا ہوں جتنا وہ کرنا چاہیں۔

    امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی میڈیا میں یہ رپورٹس گردش کر رہی ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات اور مذاکراتی رابطوں کا تبادلہ روک دیا ہے جب کہ ایران نے اس فیصلے کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان اور غزہ میں جاری کارروائیوں اور مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ واشنگٹن فی الحال سفارتی اور اقتصادی دباؤ کی حکمت عملی پر قائم رہے گا جب کہ کسی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے حتمی فیصلہ مستقبل کی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے اور دیگر محاذوں کو فعال کرنے جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال مذاکرات کی معطلی کے حوالے سے کوئی باضابطہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ لبنان میں مکمل جنگ بندی امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کسی ایک محاذ پر ہوتی ہے تو اسے تمام محاذوں پر خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

  • تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

    ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی تاخیر اور کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت مزید اضافے کے بعد 94.29 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے، امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی مزید بڑھ گئی ہے امریکی خام تیل کے نرخ 91.41 ڈالر فی بیرل ہو گئے ہیں، اماراتی تیل مربان کی قیمت بھی مزید اضافے کے بعد 94.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    ماہرین نے آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ظاہر کیا ہے، واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی قیمتوں پر اثر پڑتا ہے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، چند دن قبل حکومت نے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔

    توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خام تیل پر بھاری پریمیم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی خریدار شدید اضطراب کے عالم میں مشرقِ وسطیٰ سےباہر متبادل سپلائی لائنز کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،کیونکہ خلیج فارس میں شپنگ کےراستے مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کشیدگی میں اس اچانک اضافے نے مالیاتی اسکرینوں پر ایک واضح تضاد پیدا کر دیا ہے۔