Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایرانی فٹبال ٹیم امریکا پہنچ گئی

    ایرانی فٹبال ٹیم امریکا پہنچ گئی

    امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایرانی قومی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اپنے پہلے میچ کے لیےٹیم لاس اینجلس پہنچ گئی جہاں وہ آج پیر کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی-

    ایرانی قومی فٹبال ٹیم اتوار کو فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں پہلی بار امریکا پہنچ گئی ٹیم لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری اور اسی روز پریس کانفرنس بھی کی، جبکہ اسی دن امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے اعلان نے اس آمد کو مزید اہم بنا دیا،جبکہ یہ 1930 میں ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی میزبان ملک نے ایسے ملک کی میزبانی کی ہو جس کے ساتھ وہ حالیہ جنگ میں شامل رہا ہو۔

    ایرانی اسکواڈ میکسیکو کے شہر تیجوانا سے مختصر پرواز کے ذریعے لاس اینجلس پہنچا روانگی کے وقت ہوٹل کے باہر موجود شائقین نے ٹیم کو بھرپور انداز میں رخصت کیا ایران اپنا پہلا گروپ میچ پیر کو لاس اینجلس اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا۔

    ایران کے ہیڈ کوچ امیر قلعہ نویی نے پریس کانفرنس میں مترجم کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عظیم، باوقار اور مضبوط ایرانی قوم کی نمائندگی پر فخر ہے مجھے امید ہے کہ فٹبال خوشی اور تفریح کا ذریعہ بنے گا اور مختلف ثقافتوں اور ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے گا۔“

    ایران نے گزشتہ ماہ اپنے ورلڈ کپ بیس کیمپ کو امریکی ریاست ایریزونا کے ایک اسپورٹس کمپلیکس سے میکسیکو منتقل کر دیا تھا یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے تھےاب ایرانی ٹیم کو اپنے تینوں گروپ میچز کے لیے میکسیکو سے امریکا آنا جانا پڑے گا امیر قلعی نویی کے مطابق مسلسل سفر اور ایرانی فٹبال فیڈریشن کے بعض ارکان کو امریکی ویزے جاری نہ کیے جانے سے ٹیم متاثر ہوئی ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران دستخط کیا جائے گا۔

    اس سے قبل تیجوانا میں ایرانی ٹیم کے ہوٹل کے باہر بڑی تعداد میں شائقین جمع ہوئے انہوں نے ”ٹیم ملی“ کے نعرے لگائے اور کھلاڑیوں کا بھرپور استقبال کیا کئی کھلاڑیوں نے شائقین کی جانب ہاتھ ہلایا جبکہ وفد کے بعض ارکان نے اپنے موبائل فونز سے اس منظر کی ویڈیوز بھی بنائیں ایک مداح نے زرد رنگ کا بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ ایران، تم کبھی تنہا نہیں چلو گے، میکسیکو تمہارے ساتھ ہے،شائقین نے ہسپانوی زبان میں نعرہ لگایا، ایران، بھائی! اب تم میکسیکن ہو۔

    ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج بھی ہوٹل کے باہر موجود تھے اور جب ٹیم کی بس روانہ ہوئی تو متعدد شائقین کافی دور تک اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہےتیجوانا میں ایرانی کمیونٹی کی تعداد تقریباً 20 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ لاس اینجلس ایران سے باہر دنیا کی سب سے بڑی ایرانی کمیونٹی کا مرکز سمجھا جاتا ہے لاس اینجلس میں دسیوں ہزار ایرانی نژاد امریکی آباد ہیں اور شہر میں ایرانی تارکین وطن کی ایک نمایاں آبادی موجود ہے جسے اکثر ”تہرانجلس“ کہا جاتا ہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا

    امریکااور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں نے لبنان سمیت ہر جگہ پر جاری لڑائی اور فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکا اورایران کے درمیان معاہدہ طے پانے پر عالمی برادری کا ردعمل سامنے آ گیا۔

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس بڑی کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ طویل اور مشکل مذاکرات کے بعد ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔

    وزیراعظم نے اس امن عمل میں مدد کرنے پر سعودی عرب، ترکیہ اور خاص طور پر قطر کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم برادر ملک قطر کی عظیم قیادت کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں جن کی حمایت نے اس معاہدے تک پہنچنے میں بےحد اہم اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اس ہفتے ثالثی کرنے والے ملک مزید ملاقاتیں کروائیں گے تاکہ آگے کے تکنیکی مذاکرات اور دستخط کی تقریب کو اچھے طریقے سے پورا کیا جا سکے۔

    دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بڑی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سب کو مبارکباد دی اور اپنے سوشل میڈیا پر سب کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور جمعہ کو اس عظیم ڈیل پر دستخط کے بعد سمندر کا اہم راستہ یعنی آبنائے ہرمز کھول دیا جائے گا، اس عظیم ڈیل سے پورے خطے میں امن ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے پہلے کے تمام امریکی صدور ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ناکام ہو گئے تھے، لیکن خطے کے رہنماؤں کو پہلی بار کوئی ایسا صدر ملا ہے جس نے ان کی اصل امن کے حصول میں سچی مدد کی ہے جمعہ کو سمندر سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے ڈیل پر دستخط ہوں گے جس کے بعد تیل لانے اور لے جانے والے جہاز دونوں طرف سے آسانی سے گزر سکیں گے، ہمیں ایران سے ایٹمی مواد نکالنے کی کوئی جلدی نہیں ہے، یہ کام بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس معاہدے کے بدلے ایران کو کوئی نقد رقم یا پیسہ نہیں دیا جائے گا۔

    امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس معاہدے میں یہ خاص شرط شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور آبنائے ہرمز کو فوراً کھولا جائے گا۔

    ادھر ایران نے بھی اس امن معاہدے کے طے پانے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہےایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کے روز لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد، ایران کی جانب سے معاہدے کے کاغذات میں تجویز کی گئی کچھ تبدیلیاں قبول کر لی گئی ہیں، جس کے بعد امریکا کے ساتھ مختلف محاذوں پر جاری جنگ اور عسکری کارروائیاں فوری طور پر ختم کرنے کا عمل آج سے ہی شروع کر دیا جائے گا،اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کو ہوگی اور اس کے بعد ہی اس کا متن عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

    انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ امریکا اپنے وعدوں کی کتنی پاسداری کرتا ہے اور جب ہمیں اس بات کا پورا یقین ہو جائے گا تو پھر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا مذاکراتی عمل شروع ہوگا ان 60 دنوں کے مذاکرات میں جوہری معاملات، ایران کے روکے گئے پیسوں کی بحا لی، ناکہ بندی کے خاتمے، جنگ کی مکمل بندش، ایران پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کی دوبارہ تعمیرِ نو کے طریقوں پر تفصیلی بات چیت ہو گی تاہم اگر امریکا نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو ایران اس کا سخت ردِعمل دے گا۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی بہترین حکمتِ عملی سے امریکا کو اس معاہدے پر مجبور کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی اپیل پر اسرائیل پر ہونے والا ممکنہ جوابی حملہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔

    ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے اپنی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے حکم سے امریکا اور اسرائیل کو شکستِ فاش ہوئی ہے اور ایرانی قوم کی مرضی دشمن پر مسلط کر دی گئی ہے، ہم اپنی مسلح افواج اور مزاحمت کاروں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

    اس تاریخی امن معاہدے کا دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا جا رہا ہے،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ،ترکیہ قطر ،برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی اس معاہدے کی کھل کر حمایت کی ہے

    قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور ہمیں امید ہے کہ تمام فریق آئندہ کے مذاکرات میں بھی مثبت اور تعمیری جذبے کے ساتھ حصہ لیں گے قطر ہمیشہ امن کی کوششوں اور دنیا میں سلامتی کو فروغ دینے والے اقدامات کا حامی رہے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میں امن معاہدے پر امریکا، پاکستان، قطر اور دیگر فریقین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اب آبنائے ہرمز میں بغیر کسی رکاوٹ کے کشتیوں اور جہازوں کی آمدورفت بحال ہونی چاہیے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ڈیل پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ فیلڈ مارشل نے ایک بار پھر کر دکھایا ہے، اور انہوں نے یہ کام نہ صرف اپنے ملک کے لیے بلکہ اس بار پوری دنیا کے امن کے لیے کر کے دکھایا ہے۔

    سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتیرس نے کہا کہ یہ تنازع کے پرامن حل کی جانب اہم اور مثبت پیشرفت ہے، معاہدہ مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھلنے کی جانب اہم قدم ہے، مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر،سعودی عرب اور دیگر ممالک کا کردار قابل تعریف ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ معاہدے سے خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار ہو گی، دنیا کو طویل عرصے سے ایسی مثبت خبر کا انتظار تھا معاہدے سے قبل اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے، ممکنہ تخریب کاری کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت ہے، پاکستان کی غیر معمولی ثالثی کوششیں قابل ستائش ہیں، پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے معاہدے کی راہ ہموار کی۔

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر اور ایرانی قیادت کو سفارتی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، معاہدہ عالمی معیشت کو نئی توانائی دے سکتا ہے، امن معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ محفوظ بنے گا۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور مجوزہ امن و مفاہمتی معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور خطے میں استحکام لانا ہے تاحال ایران کی جانب سے اس معاہدے پر حتمی دستخط نہیں کیے گئے ہیں اور تہران میں اس کا تفصیلی جائزہ جاری ہے-

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے پر لائے گا جبکہ اس کے طریقہ کار پر آئندہ 60 دنوں میں مزید بات چیت کی جائے گی۔

    عہدیدار کے مطابق امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو مخصوص مدت کے لیے نرم کرے گا جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس کی آمدنی حاصل کرنے کی اجازت ہو گی حتمی معاہدہ ہونے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گامجوزہ معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بھی جاری کرے گا ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دے گا جبکہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

  • ایران اور امریکا  مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایران اور امریکا مذاکرات میں پیشرفت:قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچ گیا

    ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تہران پہنچ گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق اس ثالثی وفد کی قیادت قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی کے مشیر کر رہے ہیں وفد کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینا اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کرنا ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات کے تسلسل میں کیا جا رہا ہے قطر طویل عرصے سے ایران اور امریکا کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے لیے ایک مؤثر سفارتی پل سمجھا جاتا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق قطری وفد اپنے دورے کے دوران مذاکراتی عمل سے متعلق تازہ ترین پیش رفت، ممکنہ معاہدوں اور مستقبل کے سفارتی اقدامات پر ایرانی حکام سے تبادلہ خیال کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر کے اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    مشرق وسطیٰ تنازع: اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے،روسی میڈیا

    ایران اور اسرائیل کے درمیان تاریخ کی پہلی براہِ راست اور کھلی جنگ کو 1 سال مکمل ہو چکا ہے، اس تنازع سے یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    روس کے سرکار ی ٹی وی نیٹ ورک ’آرٹی‘ نےاپنےمضمون میں ایران اسرائیل جنگ سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں، ’آرٹی‘ کے مطابق دہائیوں سے جاری بالواسطہ یا ’خفیہ جنگ‘ کا اب باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ پورا خطہ ایک ایسے غیر متوقع دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں اگلی چنگاری کسی بڑے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا موڑ پچھلے سال 13 جون 2025 کو آیا تھا، جب اسرائیل نے دہائیوں پرانی خفیہ دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات سے وابستہ حساس مقامات پر براہِ راست فضائی حملے کیے۔

    ’آر ٹی ‘ میں شائع مضمون کے مطابق ان حملوں کے ساتھ ہی برسوں سے جاری وہ خفیہ معرکہ آرائی کھلے فوجی تصادم میں بدل گئی جو اس سے قبل صرف سائبر حملوں،اقتصادی پابندیوں، پراکسی گروپوں، سفارتی دباؤ اور محدود نوعیت کی خفیہ کارروائیوں تک محدود تھی اسرائیل کا بنیادی مقصد ان حملوں کے ذریعے ایران کی اسٹرٹیجک اور دفاعی صلاحیتوں کو ایسا نقصان پہنچانا تھا جس سے وہ مفلوج ہو جائے، تاہم توقعات کے برعکس تہران نہ تو سیاسی طور پر کمزور ہوا اور نہ ہی اس نے پسپائی اختیار کی۔

    ’آر ٹی‘ کے مطابق ایران نے فوری اور مؤثر جوابی عسکری کارروائی کے ذریعے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ شدید ترین دباؤ کو برداشت کرنے اور اس کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہےاکتوبر 2023 میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اگرچہ بعض اسرائیلی حکام نے حماس کو ایران کا نمائندہ قرار دیا، تاہم کئی تجزیہ کاروں کے مطابق حماس اپنی الگ سیاسی حکمتِ عملی اور اہداف رکھتی ہے اس کے باوجود اس بحر ان نے ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کے خدشات کو مزید تقویت دی۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کی اسٹریٹجک صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا تھا اوراس میں سب سے اہم بات ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای تھے، تاہم آیت اللہ علی خامنہ ای سےزیادہ ایران کے اسٹرٹیجک اثاثے ہدف تھے تاہم توقعات کے برعکس ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا کہ وہ شدید دباؤ برداشت کرنے اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری طاقت بلکہ ریاستی استحکام، اتحادوں اور عوامی یکجہتی کا بھی امتحان لیا بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی عمل میں آئی، لیکن یہ معاہدہ تنازع کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ بداعتمادی برقرار رہی اور مستقبل میں دوبارہ کشیدگی کے خدشات بھی ختم نہ ہو سکے۔

    ’آر ٹی‘ نے لکھا کہ مبصرین کے مطابق جون 2025 کی جنگ دراصل ایک بڑے تصادم کی ’آزمائش‘ تھی، نہ کہ اس تنازع کا اختتام۔ اگرچہ ایران کو فوجی، سیاسی اور بنیادی ڈھانچے کے لحاظ سے نقصان اٹھانا پڑا، لیکن وہ اپنی دفاعی اور علاقائی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اس دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا تھا، اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کبھی تصدیق نہیں ہوئی 2026 کے دوران دوبارہ ابھرنے والی کشیدگی نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا اور مستقبل میں ایک نئی محاذ آرائی کا امکان موجود ہے۔

    ’آر ٹی ‘ نے لکھا کہ جون 2025 کی جنگ نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی حکمتِ عملیوں کو بدل کر رکھ دیا اس نے ثابت کر دیا کہ ایران اور اسرائیل کے در میان بالواسطہ جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب براہِ راست تصادم ایک حقیقت بن چکا ہے ایران کے لیے یہ جنگ قومی عزم اور مزاحمت کی علامت بن گئی، جبکہ اسرائیل کے لیے یہ اس کی پیشگی فوجی کارروائیوں کی پالیسی کا اہم امتحان ثابت ہوئی دونوں ممالک نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، لیکن ساتھ ہی ایک بڑے علاقائی بحران کے خطرات بھی واضح ہو گئے، جس میں آج مشرقِ وسطیٰ سب سے زیادہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے۔

    ایک سال بعد بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا خطہ مستقبل میں کسی اور بڑی جنگ سے بچ سکے گا یا نہیں ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پچھلی جنگ ختم ہو چکی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگلی جنگ کی نوعیت کیا ہوگی اور اس کے اثرات کتنے وسیع ہوں گے۔

  • ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو سیل کر دیا ہے اور ان تک رسائی کے راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔

    سی این این کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں اپنے جوہری مواد کو مزید محفوظ بنانے کے لیے متعدد حفاظتی اقدا مات کیے ہیں ان اقدامات میں بعض زیرِ زمین سرنگوں کو بند یا منہدم کرنا اور داخلی راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کرنا شامل ہے، ان اقدامات کے بعد تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، خطرناک اور وقت طلب ہو گئی ہے،جتنا کہ صرف ایک ماہ پہلے تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی طور پر یہ اشارہ دے رہے تھے کہ وہ امریکی فوج کو اسے ضبط کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بین الاقوامی اندازوں کے تحت اس ذخیرے کا بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع اصفہان کی جوہری تنصیب کے قریب زیرِ زمین سرنگوں میں موجود ہے، جبکہ کچھ مقدار دیگر خفیہ مقامات پر بھی منتقل کی جا چکی ہے،ایرانیوں کی جانب سے نئی قلعہ بندیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے تہران کے ساتھ اس کے یورینیم کو ہٹانے اور تلف کرنے کے مجوزہ معاہدے میں پیچیدگی کی ایک اضافی تہہ ڈال دی ہے، اور اس اقدام سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ اسے کھودنے کا خطرناک کام کون کرے گا-

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق مئی کے وسط میں امریکی فوج نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کے لیے ممکنہ زمینی آپریشن پر غور کیا تھا، تاہم اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مؤخر کر دیا گیا،امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایران نے اپنی جوہری تنصیبات اور ذخائر کے تحفظ کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات اختیار کیے، جس سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے،خود ایرانیوں کے لیے بھی، کئی ذرائع نے کہا کہ افزودہ مواد کو ہٹانا اب مشکل اور خطرناک ہوگا، اس کے لیے کھدائی کے بھاری آلات اور کان کنی کی کوششوں کی ضرورت ہوگی ، جو مشکل اور خطرناک ہیں۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفارتی وفد نے فوری طور پر اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا،جبکہ ہاؤس نے فوری طور پر سی این این کے سوالات کا جواب نہیں دیاماہرین کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو ایران کے جوہری ذخائر تک رسائی مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا انٹیلی جنس آپریشن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری مذاکرات میں مواد کی حفاظت امریکہ کی ترجیح ہے جسے ایران نے مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔

    اور انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق جس نے جمعہ کو صحافیوں کو بریفنگ دی، دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے تحت ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کی ضرورت ہوگی اس اہلکار کے مطابق، اسے سائٹ پر تباہ کر دیا جائے گا اور پھر ملک سے باہر لے جایا جائے گا۔

    لیکن امریکی اور ایرانی حکام نے عارضی معاہدے کے متضاد اکاؤنٹس پیش کیے ہیں، اور اس کی صحیح شرائط ابھی تک واضح نہیں ہیں معاہدے کے مسود ے کا متنبہ جمعہ کو نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی کو لیک کیا گیا، جس سے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی جانب سے غصے کی لہر دوڑ گئی-

  • ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی،ایرانی صدر

    ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی،ایرانی صدر

    صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو درپیش چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باوجود عوام نے قومی یکجہتی کی ایک مثال قائم کی۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ گزشتہ سال اسرائیل کے خلاف 12 روزہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ جب ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کا معاملہ درپیش ہو تو پوری ایرانی قوم تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہو جاتی ہے جنگ کے دوران مختلف سیاسی، سماجی اور فکری حلقوں سے تعلق رکھنے والے ایرانی شہری ایک صف میں کھڑے نظر آئے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ 12 روزہ جنگ نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ ذاتی پسند، ناپسند اور مختلف نقطہ ہائے نظر سے قطع نظر، جب ہمارے عزیز وطن ایران کا معاملہ آتا ہے تو ہم ایک قوم، ایک بندھی ہوئی مٹھی اور ایک دھڑکتے ہوئے دل کی مانند ہوتے ہیں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اپنی قومی سلا متی، خودمختاری اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد رہے گا اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکے گا نہیں۔

  • آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

    آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

    ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے پر دستخط کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار واضح کر چکے ہیں کہ اتوار کے روز کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں ٹرمپ کے بیانات زمینی حقائق کے برعکس ہیں اس نوعیت کے دعوے سنجیدہ سفارتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی تقریب 14 جون کو رکھنے کا ذکر محض علامتی سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد ذاتی تشہیر اور میڈیا توجہ حاصل کرنا ہے۔

    واضح رہے صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اتوار کو طے پا جائے گا اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو تمام فریقین کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکہ کے ساتھ دشمنی کے خاتمے کے لیے متوقع مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط نہیں کیے جائیں گے۔

    ارنا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہمیں دستخط کے صحیح وقت کے بارے میں انتظار کرنا ہوگا؛ اگرچہ یہ کل نہیں ہوگا،ثالث پاکستان کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ ایران اور امریکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ”آئندہ دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔“

  • ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    ایران سے متعلق کسی بھی معاہدے میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا،نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران سے متعلق کسی بھی ممکنہ بین الاقوامی معاہدے یا مفاہمت میں اسرائیل فریق نہیں بنے گا اور اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے تناظر میں اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کرے یا انہیں روک دے لبنان میں کشیدگی میں کمی سے خطے میں سفارتی ماحول بہتر ہوگا اور ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    تاہم اس معاملے پر واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات موجود ہیں اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور دیگر ممکنہ خطرات کے خلاف کارروائی اس کی قومی سلامتی کا معاملہ ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا نیتن یاہو نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی پالیسی کسی دوسر ے ملک کی خواہشات کے مطابق ترتیب نہیں دے گا اور اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گاایران سے متعلق کسی عالمی معاہدے کا حصہ بننا اسرائیل کے لیے لازمی نہیں اسرائیل اپنی قومی سلامتی سے متعلق فیصلے خود کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • ایران امریکا  معاہدہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بننا چاہیئے،برطانوی وزیراعظم

    ایران امریکا معاہدہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بننا چاہیئے،برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کا باعث بننا چاہیے۔

    برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایران سے متعلق کسی بھی مفاہمتی معاہدے کا مقصد صرف فوری کشیدگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک ایسا فریم ورک ہونا چاہیے جو مستقبل میں بھی امن اور استحکام کو یقینی بنا سکے،برطانیہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے پر عمل درآمد میں تعاون کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ معاہدے کی کامیابی اور خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

    برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال، ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی مکمل بحالی ضروری ہے انہوں نے آئندہ دنوں میں بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

    یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر چکے ہیں کہ کل بروز اتوار ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے جائیں گے-