Baaghi TV

Tag: ایران

  • ایران کے صوبے فارس میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی

    ایران کے صوبے فارس میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی

    ایران کے صوبے فارس میں طوفانی بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کے صوبے فارس میں طوفانی بارشوں اور آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی فارس کے شہر استھبان میں طوفانی بارشوں کے باعث سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے متعدد مقامات پر سیلابی پانی میں پھنسے 55 افراد کو بچا لیا جبکہ سیلابی پانی میں پھنس جانے والے 6 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔

    ایران کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ اس بار کئی دہائیوں سے خشک سالی کے شکار ملک میں شدید بارشیں ہوں گی اور یہ بارشیں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ شدید بارشوں کے باعث دریا کے کنارے بنی عمارات اور شاہراہوں کے لیے بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سال 2019 میں ایران کے جنوبی حصے میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں کم از کم 76 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

  • کردستان : زاخو میں بمباری سے 9 افراد ہلاک اور 23 زخمی

    کردستان : زاخو میں بمباری سے 9 افراد ہلاک اور 23 زخمی

    بغداد:عراق کے علاقے کردستان میں ترکی کی بمباری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی، واقعے کے بعد عراق نے ترکی سے اپنے ناظم الامور کو واپس بلالیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق بدھ کو کردستان میں ترکی کی بمباری میں 9 شہری جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عراقی سیاح اور بچے شامل ہیں، عراق کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ حملے میں کردستان کے علاقے میں عراق اور ترکی کی سرحد کے قریب واقع شہر زاخو میں ایک پارک کو نشانہ بنایا گیا، کرد وزیر صحت نے بتایا مرنے والوں میں ایک سالہ بچے سمیت دیگر بچے بھی شامل ہیں۔

    ایرانی کردستان میں پاسداران انقلاب کا سینیر عہدیدارقاتلانہ حملے میں ہلاک

    حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص حسن تحسین علی نے ان حملوں کو اندھا دھند قرار دیا، اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے شہری نے کہا ہمارے نوجوان اور بچے مر چکے ہیں، ہم کس سے رجوع کریں؟۔ ہمارے پاس صرف خدا ہے۔

    واقعے پرعراق نے بغداد میں ترکی کے سفیر کو طلب کرکے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے، عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے ٹویٹ کیا کہ ترک افواج نے عراق کی خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔

    واقعے کے خلاف کربلا میں ترکی کے ویزا سینٹر پر لوگوں نے احتجاج کیا، مظاہرین کی جانب سے ترک پرچم نذر آتش کیا گیا جبکہ بغداد اور ناصریہ میں بھی مظاہرے ہوئے۔

    عراقی کردستان کے سرحد پردہشت گردوں کے خلاف ایرانی پاسداران انقلاب کا آپریشن

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا شہریوں کا قتل ناقابل قبول ہے، تمام ممالک کو بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ سمیت اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔

    دوسری جانب ترکی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ انہوں نے نہیں کیا بلکہ علیحدگی پسند تنظیم پی کے کے کی جانب سے کیا گیا ہے جس کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ترک وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی واقعے کی تحقیقات کے لئے ہر طرح تیار ہے۔

    کیہ فن لینڈ اور سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت پر رضامند

  • امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    تہران :امریکہ کوہرحال میں مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلنا ہوگا:آستانہ اجلاس کااعلامیہ جاری کردیا گیا ہے ، اس حوالے سے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ مشرقی فرات کے علاقے میں امریکہ کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکہ کو ہر حال میں اس علاقے سے نکلنا ہوگا۔

     

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن

    تہران میں آستانہ سربراہی کانفرنس کے ساتویں دور کے اختتام کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں ایران کے صدرسید ابراہیم رئیسی نے ان مذاکرات میں روس اور ترکی کے صدور کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نشست کے دوران شام کی موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت اور اقتدار اعلی پر زور دیا گیا۔

    صدر ایران نے مزید کہا کہ شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں امریکہ کی موجودگی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اورامریکی افواج کو ہر حال میں ان علاقوں کو چھوڑنا ہوگا۔ انہوں نے شام کے تمام علاقوں پر اس ملک کی مرکزی حکومت کے اقتدار اعلی پر زور دیا۔

    ایرانی اور روسی صدر سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ میں

    سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ آستانہ سربراہی اجلاس کے شرکا کی اس نشست میں دہشت گردی کے مقابلے اور اس سلسلے میں تمام ممالک کے تعاون پر بھی اتفاق ہوا۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بھی اس موقع پر آستانہ مذاکرات کے سربراہوں کی ملاقات اور بات چیت کو شام کے مسئلہ کے حل کے لئے انتہائی مفید اور موثر قرار دیا۔ پوتین نے اس نشست کے اختتامی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک نے شام کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے مستحکم تعاون پر زور دیا ہے اور اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ شام کے بحران کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقے سے ممکن ہے۔

    پوتین نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لئے ایرانی اور ترک حلیفوں سمیت شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعاون جاری رہے گا اور اس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے

    پاکستان، ترکی ،آذربائیجان میں سہ فریقی ملاقات :آج اہم فیصلے متوقع

    مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی آستانہ نشست کے شرکا کے درمیان تعاون جاری رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کے مستقبل میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

  • سرزمین  شام میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے

    سرزمین شام میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے

    قامشلی :شام میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ مظاہرے شدت اختیار کرنے لگے ہیں ،

    رپورٹ کے مطابق شام کے شہر قامشلی کے دیہی علاقے تنوریه الغمر کے عوام نے غاصب امریکی فوجیوں کی ہتک آمیز اور گستاخانہ رویے کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے سے امریکی فوجیوں کف فوری انخلا کا مطالبہ کیا۔

    شام میں دس سالوں میں3لاکھ سے زائد شہری جاںبحق ہوگئے

    شامی عوام نے یہ مظاہرہ ایسے میں کیا ہے کہ جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہ کرد ڈیموکریٹک ملیشا نے کار کی ٹکر سے ایک بچے کی جان لی۔ مظاہرین نے سڑک پر ٹائر جلا کر مظاہرہ کیا اور سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر کے دہشتگرد گروہ کرد ڈیموکریٹک ملیشا کے عناصر کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔

    امریکہ اپنی تیل کی ضروریات شام سے لوٹ مارکےتیل سے پوری کررہا ہے

    امریکی فوجی اور ان سے وابستہ دہشتگرد عناصر ایک عرصے سے شمالی اور مشرقی شام میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں اور شام کا تیل لوٹنے کے ساتھ ہی اس علاقے کے باشندوں اور وہاں تعینات شامی فوجیوں و سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات انجام دے رہے ہیں۔

    ادھر شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد گزشتہ شب ایران کے دارالحکومت تہران میں موجود ہیں‌۔ ان کا یہ دورہ تہران میں آستانہ عمل کے بانی ممالک کے ساتویں سربراہی اجلاس کے موقع پر انجام پا رہا ہے۔

    شام کے وزیر خارجہ اس دورے میں ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے باہمی تعاون اور علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو کریں گے۔

     

    حج کیلئے حجاز مقدس پہنچنے پر شامی خاتون کا والہانہ استقبال

    المقداد ایسے وقت میں تہران کا دورہ کر رہے ہیں کہ جب روس کے صدر ولادیمیر پوتین اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی شام کے بارے میں سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے تہران کا دورہ کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز روس، ترکی اور ایران کے صدور کی شرکت سے آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کا سہ فریقی سربراہی اجلاس تہران میں منعقد ہوا۔ تینوں ممالک کے صدور نے شام میں حالیہ پیش رفت اور دہشت گردی بشمول ’’داعش اور پی کے کے‘‘ کے خلاف جنگ اور شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن رضاکارانہ واپسی پر تبادلہ خیال کیا۔

  • سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان:   طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال

    تہران : سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان:طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال،اطلاعات کے مطابق آج ایران کی سرزمین پرسہ فریقی سربراہی اجلاس میں اہم فیصلے ہوں گے اور اس سلسلے میں طیب اردوان اور روسی صدر ایرانی قیادت کے ساتھ صلاح مشورے کریں‌گے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک شام سے متعلق آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کا سہ فریقی سربراہی اجلاس آج ایران، روس اور ترکی کے سربراہوں کی شرکت سے تہران میں منعقد ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کے سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان گزشتہ شب تہران پہنچ گئے ہیں جبکہ روسی صدر ولادمیر پوتین تہران پہنچنے کو ہیں۔

    ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌

    اجلاس کی سائیڈ لائن میں ایران، روس اور ترکی کے سربراہان مملکت ایک دوسرے سے علاقائی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ترکی کے صدر کی قیادت میں آنے والے اعلی سطحی وفد میں وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، انٹیلینجس کے سربراہ، صدارتی دفتر کے سربراہ، صدارتی دفتر کے ترجمان، وزیر توانائی اور وزیر تجارت شامل ہیں۔

    مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ دار

    گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے اجلاس کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شام میں لڑائی والے علاقوں میں کشیدگی کم کرنے اور شام میں استحکام کے تحفظ کے مسئلے کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شام اور ترکی کے مابین نئے سیکورٹی بحران کو حل کئے جانے کی ضرورت ہے۔

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    عبداللہیان کا کہنا تھا کہ ترکی شام میں تیس کلو میٹر اندر تک فوجی کاروائی کرنے کی بات کرتا ہے اور ایران اس مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔

    واضح رہے کہ روس اور ترکی کے تعاون اور شام میں قیام امن کی غرض سے آستانہ مذاکرات دو ہزار سترہ میں ایران کی کوششوں سے شروع ہوئے ہیں۔

  • ایران ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے:امریکی میڈیا کا الزام

    ایران ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے:امریکی میڈیا کا الزام

    واشنگٹن:امریکی انٹیلی جنس لیک میں انکشاف ہوا ہےکہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت کی خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سابق وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو قتل کرنے یا پکڑنے کی سازش کر رہا ہے۔

    انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کا خیال ہے کہ ایران اپنے اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے موجودہ یا سابق سینئر امریکی اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    جنوری 2020 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر عراق میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اپنے قریبی ساتھی سمیت جاں بحق ہوگئے تھے۔

    جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد سے ایران نے ذمہ داروں کے خلاف انتقامی کارروائی کی دھمکی دے رکھی ہے اور امریکی حکام کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ ایران نے فوری طور پر رد عمل دیتے ہوئے عراق میں موجود امریکی اڈوں کو بیک وقت سینکڑوں میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔ابتداء میں واشنگٹن کی جانب سے ان حملوں میں کسی کے مارے جانے یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی تھی تاہم بعد ازاں امریکا نے اس حملے میں سینکڑوں فوجیوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کردی تھی۔

    امریکی حکومت کا خیال ہے کہ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران حملے کا خطرہ زیادہ ہے۔

  • اقوام متحدہ ایران کے معاملے میں جانبداری دکھا رہا ہے:ایرانی عدلیہ کا اظہارناراضگی

    اقوام متحدہ ایران کے معاملے میں جانبداری دکھا رہا ہے:ایرانی عدلیہ کا اظہارناراضگی

    تہران :ایران کی عدلیہ میں انسانی حقوق کمیٹی نے ایک ایرانی شہری کے سلسلے میں سویڈن کی عدالت کے فیصلے کی حمایت کرنے پر ایران کے امور میں اقوام متحدہ کے ہیومن راٹس رپورٹر کی حمایت پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

    حمید نوری ایک ایرانی شہری ہیں جو دوہزار انیس میں اپنے گھریلو مسائل کے حل کے سلسلے میں سویڈن گئے تھے جہاں پہنچتے ہی انہیں سویڈن کے سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھا اور اب وہ تقریبا بتیس مہینوں سے جیل میں قید ہیں۔

    نوری پر سویڈن میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ چونتیس سال قبل ایران میں انجام دئے گئے بعض اقدامات میں دخیل تھے اور الزام عائد کرنے والوں کا تعلق ایران مخالف دہشتگرد تنظیم مجاہدین خلق یا ایم کے او سے ہے۔ سویڈن کی ایک عدالت سترہ ہزار بے گناہ ایرانی شہریوں کا قتل کرنے والے دہشتگرد گروہ ایم کے او کے عناصر کی شکایت پر حمید نوری پر مقدمہ دائر کیا اور اس کیس پر سماعت کے بعد انہیں جمعرات کے روز عمر قید کی سزا سنا دی۔

    سویڈن کی عدالت کے اس فیصلے سے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس رپورٹر جاوید رحمان نے بھی اپنی حمایت کا اعلان کیا جس پر ایرانی عدلیہ کے ہیومن راٹس کمیشن نے سخت برہمی ظاہر کی ہے۔

    ایران کی عدلیہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ کاظم غریب آبادی نے ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جاوید رحمان بجائے اس کے کہ سویڈن میں ایک شخص کے خودسرانہ طور پر گرفتار کئے جانے اور پھر مسلسل اسکے بنیادی حقوق کی پامالی پر اعتراض اور سویڈن کے حکام کو جوابدہ بناتے، وہ انکی حمایت پر اتر آئے ہیں۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ جاوید رحمان کے بیان سے یہ ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ وہ ایران کے سلسلے میں اپنی پوزیشن سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں جسے برطانیہ کی بھی حمایت حاصل ہے اور وہ بنیادہ انسانی حقوق کی پامالی کی قیمت پر ایران مخالف عناصر کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

  • بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے

    بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے

    بغداد، امریکی سفارتخانے میں خطرے کے سائرن بج گئے،ادھر اسی حوالے سے عراقی ذرائع نے بغداد میں  امریکی فوج سے متعلق فوجی چھاؤنی سے خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دینے کی خبر دی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سائرن کی یہ آوازیں عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی فوجیوں کی چھاؤنی کے اندر سے آ رہی تھیں۔ ابھی اس کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

    کچھ دنوں پہلے عراقی میڈیا نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے اندر سے خطرے کا سائرن بجنے اور سی ریم ایئرڈیفنس سسٹم کا تجربہ کئے جانے اور اس کے نتیجے میں سفارتخانے کے قریب کی بستیوں میں خوف و ہراس پھیل جانے کی رپورٹ دی تھی۔

    کراچی: شوہرنے بیوی کو دیگ میں ڈال کر کیوں پکایا؟ کہانی سامنے آ گئی،مقدمہ درج

    بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی سفارتخانے میں اکثر و بیشتر سیکورٹی تجربات اور مشقیں انجام دی جاتی ہیں جس کے باعث دفاعی سسٹم اور خطرے کا سائرن فعال ہوجاتا ہے اور اس سفارتخانے کے قریب واقع رہائشی علاقوں کے باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

    کورونا وبا: ملک بھر میں 236 نئے کیس رپورٹ

    اس صورتحال پر عراق کے مختلف سیاسی گروہوں کو سخت اعتراض ہے کیونکہ بغداد کے رہائشی علاقوں میں امریکی دفاعی سسٹم کے تجربے اور مشقیں اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین کے منافی شمار ہوتی ہیں۔ بغداد میں امریکی سفارت خانے کا رقبہ ایک سو ستر مربع کلومیٹر ہے اور یوں امریکی سفارت خانہ دنیا میں سب سے بڑا سفارتخانہ شمار ہوتا ہے اور اس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانہ ہزاروں امریکی جاسوسوں کا اڈہ ہے جہاں سے جاسوسی کی کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔

    اس کے باوجود عراقی حکومت نے اب تک بغداد کے مرکز میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے فائرنگ، نشانے بازی اور دیگر سیکورٹی مشقوں خاص طور سے سی ریم ایئرڈیفنس سسٹم کے تجربات انجام دیئے جانے کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں اس ملک کی پارلیمنٹ میں بل منظور ہونے کے بعد  امریکی فوج کے کارروانوں کو تسلسل کے ساتھ حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

    عراقی عوام اور استقامتی گروہوں نے بارہا اعلان کیا ہے کہ اگر ملک میں امریکی فوجی قابض رہے تو انہیں جارح اور غاصب فوجیوں کا مقابلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

  • ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    تہران :ایران نے پابندیوں کے باوجود بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آج ان مثبت پالیسیوں کی وجہ سے ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    ایرانی وزیر صنعت، معدن اور تجارت رضا فاطمی امین نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالر تھا جو کہ بارٹر میکینزم، رقم کی منتقلی اور سیوڈو سوئفٹ(SWIFT) کے طریقوں سے کیا گیا تھا۔

    انہوں نے بیلاروس اور ایران کے پارلیمانی دوستی گروپ کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایران 40 سال سے زیادہ عرصے سے پابندیوں کی زد پر ہے لیکن ان برسوں میں ہم نے پابندیوں کے باوجود بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔

    ایرانی وزیر نے کہا کہ کان کنی کے آلات کے میدان میں عظیم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور ایران کے پاس اس شعبے میں بہت سے معدنی ذخائر اور اس شعبے میں سرگرم کمپنیاں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے دریافت ہونے والے تانبے کے ذخائر دنیا کے ذخائر کا کل سات فیصد شمار ہوتے ہیں۔

    یاد رہےکہ دو دن قبل ایران کے نائب صدر محمد مخـبر نے ایک آن لائن تقریب کے دوران روس ہندوستان ٹرانزٹ کنٹینر ٹرین کے ایران کی سرحد میں داخلے کا حکم دیا تھا ۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر محمد مخبر کا کہنا تھا کہ ملک کی علاقائی پوزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹرانزٹ کی پوری گنجائشوں سے فائدہ اٹھانا ہماری حکومت کی اقتصادی پالیسیوں میں سرفہرست ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ صدر سید ابراہیم رئیسی شروع ہی سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی لین دین کے حجم میں اضافے پر زور دیتے آئے ہیں۔
    ایران کے نائب صدر نے مزید کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کی کوشش ہے کہ ملک کی ٹرانزٹ گنجائش کو پہلے مرحلے میں آٹھ ملین ٹن اور اس کے بعد بیس ملین ٹن تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سہولتوں میں اضافہ کرکے ملک کی ٹرانزٹ گنجائش کو تین سو ملین ٹن تک لے جانے کا امکان پایا جاتا ہے۔

    ایران کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ ٹرانزیٹ کے مواقع اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھانے سے جہاں بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے سیاسی اور عالمی تعلقات کے میدانوں میں بھی غیر معمولی فوائد حاصل ہوں گے ۔

  • بائیڈن کا ایران کوجوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنےکاعندیہ

    بائیڈن کا ایران کوجوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنےکاعندیہ

    تل ابیب : امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ایران کوجوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری اورحصول سے روکنے کے لئے طاقت کا استعمال خارج از امکان نہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بڑے واضح انداز میں کہا ہے کہ وہ اب بھی پوری طرح کمٹمنٹ کے ساتھ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ بحال ہو جانا چاہیے ایک چیز جو سب سے بری ہے وہ ایران کا جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ہو جانا ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے انقلابی گارڈز کو بدستور دہشتگردوں کی فہرست میں رکھا جائے گا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہد ہ ختم کرکے غلطی کی جس نے ایران کو مزید خطرناک بنا دیا۔ایران ماضی کے مقابلے میں اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بہت قریب ہے۔

    امریکی صدر نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں کیا امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کرے گا۔

    واضح رہےایران کادنیا چھ بڑی طاقتوں کےساتھ 2015 میں ممکن ہوا تھا تاہم صدرٹرمپ کی حکومت نے ایرانی معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا تھا اسرائیل نے اس معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کی پزیرائی کی تھی جبکہ جو بائیڈن نے امریکہ نے امریکی فیصلے کی مخالفت کی تھی جوبائیڈن کے نزدیک امریکہ کے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران بلا روک ٹوک جوہری ہتھیاروں کے قریب چلا گیا ہے ۔

    دوسری جانب سرائیلی چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران ایک علاقائی اور عالمی خطرہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے سامنے جس میزائل نظام کو پیش کیا گیا وہ ایران اور اس کی کٹھ پتلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم عنصر ہے واشنگٹن کے ساتھ تل ابیب کا رشتہ ایران کے ساتھ اسٹریٹجک ریس کے مقابلہ میں ایک لازمی ستون ہے۔

    خیال رہے کہ صدر بائیڈن نے بدھ کے روز اسرائیل پہنچنے کے بعد دفاعی نمائش کا دورہ کیا جہاں انہیں ایئر ڈیفنس سسٹمز "آئرن ڈوم اور’لیزر سسٹم‘ کے بارے میں بریفنگ دی گئی بائیڈن نے اسرائیل کے دورے کا آغاز اسرائیل کے جدید ترین میزائل دفاعی نظاموں کا معائنہ کرکے کیا۔

    اسرائیل نے اپنے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس شو کو تیار کیا کیونکہ اس نے ایک ملٹی کلاس سسٹم کی پیش کش کی تھی جو خلا میں لمبی رینج بیلسٹک میزائلوں سے لےکر مختصر رینج میزائلوں تک ہر چیز کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل سسٹم امریکا کی شراکت سے تیار کیا گیا تھا۔

    آئرن ڈوم سسٹم ایک میزائل دفاعی نظام ہے جو اب تک فعال ہے جب کہ "آئرن بیم” نامی ایک نیا لیزر سسٹم ابھی تک فعال نہیں ہوا ہے۔

    بائیڈن کو یروشلم جانے سے پہلے اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز کی طرف سے بھی خفیہ سیکیورٹی فراہم کی گئی اسرائیلی وزیر اعظم یایر لپیڈ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ واشنگٹن اسرائیل کے لیے دنیا کا سب سے بڑا حلیف ہے۔