وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ڈارک ویب پر سرگرم جرائم پیشہ عناصر کی نشاندہی، نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے خصوصی ڈارک ویب انویسٹی گیشن یونٹ قائم کردیا ہے-
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق یہ یونٹ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں قائم جدید نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے تحت کام کرے گا، جہاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مجرموں کی شناخت، ان کی سرگرمیوں کی نگرانی اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے ہونے والے مشکوک مالی لین دین کا سراغ لگایا جائےگا، یونٹ خاص طور پر جعلی سفری اور شناختی دستاویزات تیار کرنے والے نیٹ ورکس، انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن اور ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آنے والے دیگر سائبر جرائم کی تحقیقات پر توجہ دے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈارک ویب انویسٹی گیشن یونٹ، ایف آئی اے کے کرپٹو کرنسی تحقیقاتی یونٹ کے ساتھ مل کر کام کرےگا اور بلاک چین فارنزکس اور اوپن سورس انٹیلی جنس جیسے جدید تحقیقاتی ذرائع استعمال کرےگا،مختلف مارکیٹ پلیسز، فورمز اور ویب سائٹس پر استعمال ہونے والے فرضی ناموں، یوزر نیمز اور شناختی علامات کا باہمی موازنہ کرکے حقیقی ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد کے ساتھ قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔
ایف آئی اے کے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا کہ انٹرنیٹ کو عمومی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
• سرفیس ویب (Surface Web): وہ عام ویب سائٹس جو گوگل جیسے سرچ انجنز پر نظر آتی ہیں، مثلاً خبریں، سوشل میڈیا اور آن لائن اسٹورز۔
• ڈیپ ویب (Deep Web): وہ مواد جو سرچ انجنز میں شامل نہیں ہوتا، جیسے بینکنگ سسٹمز، ای میل اکاؤنٹس، تعلیمی ڈیٹا بیس اور نجی نیٹ ورکس، جن تک رسائی کے لیے خصوصی اجازت یا لاگ اِن درکار ہوتا ہے۔
• ڈارک ویب (Dark Web): ڈیپ ویب کا وہ خفیہ حصہ جو عام براؤزر سے قابلِ رسائی نہیں ہوتا اور جہاں خصوصی سافٹ ویئر، جیسے Tor (The Onion Router)، کے ذریعے گمنام انداز میں رسائی حاصل کی جاتی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ڈارک ویب کی گمنامی اور خفیہ نوعیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں، جن میں: انسانی اسمگلنگ، جعلی دستاویزات کی خرید و فروخت، منشیات اور اسلحے کی تجارت، چوری شدہ حساس معلومات اور ڈیٹا کی فروخت، سائبر حملے، ہیکنگ ٹولز اور میل ویئر کی خرید و فروخت، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیاں، کرپٹو کرنسی کے ذریعے غیر قانونی مالی لین دین
ایف آئی اے حکام کے مطابق ڈارک ویب پر سرگرم بیشتر جرائم سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں، اس لیے صرف جدید ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون بھی ان جرائم کی روک تھام کے لیے ناگزیر ہوگا،نئے تحقیقاتی یونٹ کا مقصد انہی جدید تقاضوں کے مطابق سائبر جرائم کی روک تھام اور قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
