Baaghi TV

Tag: ایف بی آر

  • ایف بی آر میں اے آئی پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف

    ایف بی آر میں اے آئی پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایف بی آر نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرادیا۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر کی جاری اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں وفاقی وزرا محمد اورنگزیب، عطا تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی،اجلاس کو مینیوفیکچرنگ شعبے میں ٹیکس وصولی بڑھانے کیلئے ویڈیو اینالیٹکس پر مبنی اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔

    نئے نظام سے ان شعبوں میں ٹیکس کی وصولی خودکار اور شفاف انداز سے کی جاسکے گی، جس سے حکومتی آمدن میں اضافہ ہوگا اور ٹیکس دہندگان انسانی مداخلت کے بغیر اپنا ٹیکس ادا کر سکیں گے، یہ نظام لاگت میں کم ہے اور ابتدائی ٹیسٹنگ کے دوران 98 فیصد ایفیشینٹ پایا گیا،اجلاس کو مینو فیکچرنگ شعبوں میں اس نظام کے اطلاق کے بعد ٹیکس کی لاگت میں اضافے کی استعداد کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے الزامات،الیکشن کمیشن کا ردعمل سامنے آگیا

    اجلاس کو دی گئی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نئے نظام کے تحت اشیا کی درآمد و برآمد کے دوران لاگت اور نوعیت کا تخمینہ مصنوعی ذہانت ( اے آئی) اور باٹس کریں گے، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نیا رسک مینجمنٹ سسٹم اشیاء کی آمدو رفت کے ساتھ ساتھ مشین لرننگ سے خودکار طریقہ کار سے بہتر ہوتا رہے گا۔

    بریفنگ میں کہا گیا کہ نئے نظام کی ابتدائی ٹیسٹنگ کے دوران 92 فیصد سے زائد بہتر کارکردگی سامنے آئی، نظام کی ابتدائی ٹیسٹنگ میں نہ صرف ٹیکس وصولی کیلئے 83 فیصد زائد گڈز ڈیکلریشن ( جی ڈی) کا تعین ہوا بلکہ اڑھانی گُنا زائد گڈز ڈیکلریشن کی گرین چینل کے ذریعے کلیئرنس مکمل ہوئی۔

    نئے رسک مینجمنٹ سسٹم سے نظام میں شفافیت آئے گی، انسانی مداخلت کم سے کم تر ہوگی اور کاروباری افراد کو سہولت ہوگی، نئے نظام کے اجراء سے اشیاء کے تعین اور ان کی لاگت کا فوری اور مؤثر تخمینہ لگے گا جس سے وقت کی بچت ہوگی جبکہ نئے نظام کے اطلاق سے کسٹمز حکام پر دباؤ کم، نظام میں شفافیت و بہتری اور کاروباری افراد کو سہولت ملے گی۔

    پنجاب: سرکاری ہسپتالوں میں باہر کی دوا لکھنے پر پابندی، پہلا شوکاز نوٹس جاری

    اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ٹیکس نظام کو خود کار بنانے سے اس میں شفافیت اور اسے مزید مؤثر بنا رہے ہیں،جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام سے کاروبار میں آسانی اور ٹیکس دہندگان کیلئے سہولت ہوگی، انسانی مداخلت کم ہونے کی وجہ سے نظام مؤثر اور وقت و پیسے کی بچت ہوگی۔

    وزیرِ اعظم نے نئے نظام کو مربوط اور پائیدار بنانے کی ہدایت کی اور نئے رسک مینجمنٹ نظام کی تشکیل کیلئے کام کرنے والی ٹیم کے افسران و اہلکاروں کو سراہا۔

  • آئندہ بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 12.5 سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان

    آئندہ بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 12.5 سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان

    نئے وفاقی بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی بجٹ کا حجم 17 ہزار 500 ارب روپے مقرر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مالی سال 26-2025 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس ہدف 14 ہزار 100 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جو آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ 14 ہزار 300 ارب روپے کے ہدف سے کچھ کم ہے۔نئے بجٹ میں دفاع، ترقیاتی اخراجات اور سود کی ادائیگی کے تخمینے بھی حتمی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ آئندہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 9 ہزار ارب روپے سود کی ادائیگیوں پر خرچ کیے جانے کا تخمینہ ہے، جن میں سے 7 ہزار 700 ارب روپے مقامی قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے، جبکہ 1 ہزار 300 ارب روپے بیرونی قرض اور سود کی ادائیگی کے لیے رکھے جائیں گے۔

    سبسڈی کے لیے 1 ہزار 400 ارب روپے اور گرانٹس کی مد میں 1 ہزار 620 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ صوبائی حکومتوں سے 1 ہزار 200 ارب روپے کے سرپلس کی وصولی کا بھی تخمینہ ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال 700 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔

    ذرائع کے مطابق، حکومت شیئرز پر منافع اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز آئی ایم ایف کے معاشی اصلاحات پروگرام کے تحت زیر غور ہے۔

    آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے دوران سخت کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔ ان اقدامات کے تحت وفاقی وزارتوں اور محکموں کو نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی ہو گی، بجلی و گیس کے اخراجات محدود کیے جائیں گے، اور غیر ضروری ضمنی گرانٹس کے اجرا پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔

    مزید یہ کہ، ہنگامی صورتحال یا قدرتی آفات کے علاوہ کسی بھی مد میں سپلیمنٹری فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے اور غیر اعلانیہ منصوبوں پر اخراجات کی اجازت نہیں ہو گی۔

    علی پور: فرسٹ ایئر طالبہ پر خاوند اور نند کا تشدد، مقدمہ درج

    ایران میں قتل ہونے والے 8 مزدوروں کے لواحقین کو 10 لاکھ فی خاندان امداد

    بھارت، آر سی بی کی فتح کا جشن سانحہ ، خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد ہلاک

    برطانیہ، موسم سرما ایندھن ادائیگی اسکیم میں توسیع کا عندیہ، مزید افراد مستفید ہوں گے

  • پاکستان کو ایک مستحکم عالمی معیشت بنانے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم

    پاکستان کو ایک مستحکم عالمی معیشت بنانے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی اداروں سے کرپشن کے انسداد اور شفافیت کی عدم موجودگی جیسی دیگر خامیوں کو دور کرنے کے لیے حکومت پاکستان کے تمام ادارے انتھک محنت کر رہے ہیں۔

    ایف بی آر کے امور کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اقدامات و اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے لیے عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ معرکہ حق کی تاریخ ساز فتح کے بعد ملکی اداروں میں پائیدار اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو ایک مستحکم عالمی معیشت بنانے کی جد و جہد میں فتح یاب ہونے کے لیے حکومت پاکستان پر عزم ہے تمام شعبوں میں ادارہ جاتی اصلاحات تیزی سے جاری ہیں ملکی اداروں سے کرپشن کے انسداد اور شفافیت کی عدم موجودگی جیسی دیگر خامیوں کو دور کرنے کے لیے حکومت پاکستان کے تمام ادارے انتھک محنت کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ مثبت معاشی اشاریے حکومتی پالیسیوں کی درست سمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں انہوں نے فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کی حالیہ کارکردگی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئےکہا کہ شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے لائے گئے سسٹم جیسی اصلا حا ت کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں انشاء اللہ پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کی اس جد و جہد میں ہم کامیاب ہوں گے۔

    اجلاس میں وزیراعظم کو فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کی حالیہ کارکردگی اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ میں اصلاحات کی پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ سسٹم کے نفاذ سے محصولات میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے اور کسٹمز کلیئرنس کے دورانیے میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

    بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے عام صارفین کے لیے آسان ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن کا نظام جلد نافذ العمل کیا جائے گا عام صارفین کی سہولت کے لیے دیجیٹل ٹیکس ریٹرن کے نظام کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں متعارف کرنے کے عمل پر کام تیزی سے جاری ہے۔

    وزیراعطم کی زیرصدارت اہم اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں بدترین شارٹ فال

    ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں بدترین شارٹ فال

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مئی 2025 میں مقررہ ٹیکس وصولی کے ہدف میں 206 ارب روپے کا شارٹ فال سامنے آیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر مئی میں مقررہ 1110 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 904 ارب روپے جمع کرسکا رواں مالی سال کے جولائی سے مئی تک کے عرصے میں مجموعی ٹیکس محصولات میں 1,027 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ایف بی آر نے 11,240 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 10,213 ارب روپے کی وصولی کی،جولائی سے مارچ تک ٹیکس خسارہ 703 ارب روپے تھا جو مئی کے اختتام تک بڑھ کر 1,027 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

    پاک ایران باہمی تجارت 3 ارب ڈالر سے بڑھ گئی

    جون 2025 کے لیے ایف بی آر کو 2,121 ارب روپے کی وصولی کا ہدف دیا گیا ہے جو ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے ٹیکس حکام اس ہدف کے حصول کے لیے شدید دباؤ میں ہیں،محصولات میں مسلسل کمی پر وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے اعلیٰ حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اسی باعث حکومت نے ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 12,913 ارب روپے سے کم کر کے 12,334 ارب روپے مقرر کر دیا ہے۔

    ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ: ارشد ندیم نے گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا

  • ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،وزیرِ اعظم

    اسلام آباد:وزیرِ اعظم محمد شہبازشریف کا کہنا ہےکہ ٹیکس چوری کرنےوالے افراد اور کاروبار کےخلاف مؤثر قانونی کاروائی کی جائےگی-

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں سیلز ٹیکس کی چوری کی روک تھام کے لیے ’’نیشنل ٹارگٹنگ سسٹم‘‘ متعارف کروایا جا رہا ہے اس نظام
    کے تحت مصنوعات کی نقل و حمل میں شامل گاڑیوں کو ای ٹیگ اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے براہ راست ٹریک کیا جائے گا۔

    ای بلٹی کا نظام بھی متعارف کروایا جا رہا ہے جو کہ ایف بی آر کے سسٹم پر جاری کی جائے گی ملک کی تمام بڑی شاہراہوں اور شہروں میں داخلے کی جگہوں پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے گا اس اقدام سے اسمگلنگ و سیلز ٹیکس چوری کا خاتمہ ہوگا اور عام شہریو ں کو رکنے کی دقت سے نجات اور وقت کی بچت ہوگی مذکورہ نظام سے معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن ممکن ہوگی اور محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

    نور مقدم قتل کیس:سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا،سزائے موت برقرار

    اجلاس کو بتایا گیا کہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر درآمدات و برآمدات کی ڈیجیٹل و خودکار نگرانی کے لیے کسٹم ٹارگٹنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس نظام کو مقامی و بین الاقوامی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا اور مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے ٹیکس چوری و اسمگلنگ کی روک تھام کی جائے گی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کی افرادی قوت کو نئے نظام سے روشناس کروانے کے لیے انکی تربیت کا مؤثر انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کو دو مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں کسی ایک بڑے شہر سے اس کے پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا اور بعد ازاں اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔

    اجلاس کو سیمنٹ، ہیچریز، پولٹری فیڈ، تمباکو اور مشروبات کے شعبے میں سیلز ٹیکس کی نگرانی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی بتایا گیا کہ چینی کی صنعت پر نافذ کر دہ نگرانی کے نظام کی طرح تمباکو، مشروبات، اسٹیل و سیمنٹ کے شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کے لیے ایف بی آر اور معاون اداروں کے افسران و اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔

    پاکستان کی ’جاسوس‘ قرار دی گئی یوٹیوبر بی جے پی کی رکن نکلی

    وزیرِ اعظم نے تمام اقدامات کو جلد، مؤثر اور پائیدار طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت کی،ایف بی آر کے امور اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس دینے والے افراد اور کاروبار کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں گے لیکن ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ٹیکس چوری کر نے والے افراد اور کاروبار کے خلاف مؤثر قانونی کاروائی کی جائے گی ایف بی آر اور اس کے معاون قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیکس آمدن میں اضافے کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور نظام کو خود کار بنانے کیلئے اقدامات تیزی سے جاری ہیں، 70 برس کے بگاڑ کو ٹھیک کرنے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔

  • تاجروں کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے،وفاقی وزیر خزانہ

    تاجروں کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے،وفاقی وزیر خزانہ

    لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے، اگر سرکاری افسران رشوت لیتے ہیں تو کوئی دیتا بھی ہے، بزنس کمیونٹی سے اپیل ہے کہ رشوت دینا بند کریں-

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ چیمبرز کے مسائل کا ادراک ہے، مشکلات حل کرنے کی کوشش کریں گے، چیمبرز کے جائز مطالبات کو مانا جائے گا، تاجروں کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے،وزیراعظم شہباز شریف براہ راست ٹیکسیشن کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں اور حکومت معیشت کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

    محمد اورنگزیب کا کہنا تھا انڈسٹری کو درپیش مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں، صنعت کی ترقی ملکی ترقی کا باعث ہے، ہمیں صنعتی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، ملک میں معاشی استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں، معاشی استحکام کیلئے اپنی درست سمت کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے، سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں۔

    کرینہ کپور نے شوہر سیف علی خان کو قصوروار ٹھہرادیا

    محمد اورنگزیب نے رشوت اور بدعنوانی کے حوالے سے کہا کہ ’تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے، اگر سرکاری افسران رشوت لیتے ہیں تو کوئی دیتا بھی ہے، بزنس کمیونٹی سے اپیل ہے کہ رشوت دینا بند کریں، ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے دیانت دار افسران تعینا ت کیے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ 80 فیصد ٹیکس تنخواہ دار طبقے سے وصول کیا جاتا ہے، جن کے اکاؤنٹ میں رقم آتے ہی ٹیکس کٹ جاتا ہے، اس کے باوجود انہیں دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت سادہ آن لائن فارم متعارف کروائے گی۔

    دہلی میں کتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا درندہ گرفتا ر
    وزیر خزانہ نے سرکاری اداروں کے نقصانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایس او ایز ہر سال 800 ارب سے ایک کھرب روپے کا خسارہ کر رہے ہیں،، ہم ایف بی آر میں صاف ستھرے لوگ لے کر آرہے ہیں، ہم ایف بی آر میں فارم کو 25 چیزوں پر لے کر جارہے ہیں، 24 اداروں کی نجکاری کی منظوری دے دی گئی ہے تاکہ اس خسارے کو کم کر کے صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جا سکے،پی آئی اے اب خسارے سے نکل کر منافع میں جا چکی ہے، اور جلد اس کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کیا جا ئے گا۔

    اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات اعظم سواتی کی ذاتی کوشش ہے،سلمان اکرم راجہ

    انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے یورپی روٹ کھل گئے ہیں، امید ہے انگلینڈ کے روٹس بھی کھل جائیں گے، دیہات میں ہماری آبادی زیادہ بڑھ رہی ہے ، آج ملک کو مشکلات درپیش ہیں، سوچیے آبادی بڑھی تو کیا حشر ہو گا؟ ہمارے ملک میں 5 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اسکولوں سے باہر رہنے والے بچوں میں بچیوں کی تعداد زیادہ ہے، ہمیں پارلیمنٹ اور سب کے ساتھ مل کر ان معاملات سے نمٹنا ہے، اکتوبر سے فروری تک لاہور میں ماحول کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو گیا ہے، بیجنگ میں کبھی سلفر کی بو ہوتی تھی، اب مطلع صاف ہے، یہ تمام پاکستان کے لیے اہم معاملات ہیں ان سے نبردآزما ہونا ہے۔

    تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کا ذمہ دار کون؟تحریر:ملک سلمان

    وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی ہو رہی ہے، شرح سود 22 فیصد سے 12 فیصد ہو چکی ہے، پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروبار میں استحکام آرہا ہے، ہمارا اصل مقصد عام آدمی کو فائدہ پہنچانا ہے، ہم درست سمت کی جانب گامزن ہیں لیکن ہر سیکٹر کو برآمدات کرنا ہوں گی، ہمیں اپنی برآمدات میں اضافے کے لیے کام کرنا ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کیلئے مہنگائی کا کم ہونا لازمی تھا، ہر ہفتے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ہم روز کی بنیاد پر دالوں ، چینی اور دیگر اشیا کی قیمتوں کو دیکھ رہے ہیں، افراط زر نیچے آنے کا فائدہ عام آدمی کو ہونا چاہیے اسٹاک مارکیٹ اوپر نیچے ہوتی رہے گی، اسٹاک مارکیٹ اوپر نیچے ہونے میں کچھ وجوہات بیرونی ہیں، ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم صحیح سمت میں چل رہے ہیں یا نہیں؟

    افغان خواتین کی پاکستان بدری،ملالہ یوسفزئی میدان میں آ گئیں

    ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا ریکوڈک ایک اہم پروجیکٹ ہے، 2028کے بعد ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا، بلوچستان میں ریکوڈک پروجیکٹ ہمارا خواب ہے، انڈونیشیا میں پچھلے سال نِکل کی ایکسپورٹ 22 بلین ڈالر رہی، 2028 کے بعد ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا۔

  • ایف بی آر  نے605 ارب کے شارٹ فال کی تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کردیں

    ایف بی آر نے605 ارب کے شارٹ فال کی تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کردیں

    اسلام آباد: ایف بی آر حکام نے ٹیکس وصولیوں میں 605 ارب روپےکا شارٹ فال پورا کرنےکی تفصیلات آئی ایم ایف کو فراہم کردیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور قرض پروگرام قسط کے فوری اجرا کے لیے مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، وزارت خزانہ، ایف بی آر اور توانائی حکام نے اپنی کارکردگی رپورٹس گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کوپیش کیں جس پر آج کے مذاکرات میں آئی ایم ایف اپنا رد عمل دے گا۔

    وزارت خزانہ نے کرنٹ اکاؤنٹ، مالی خسارہ کنٹرول کرنے اوربین الاقومی فنانسنگ پربریفننگ دی جب کہ اصلاحات اور ٹیکس ٹوجی ڈی پی بڑھانے کی تفصیلات بھی فراہم کردی گئی ہیں۔

    کائنات کے راز ریاضی میں چھپے ہوئے ہیں، امریکی ماہر فلکیات

    ایف بی آر حکام نے ٹیکس وصولیوں میں 605 ارب روپےکاشارٹ فال پورا کرنےکی تفصیلات بھی آئی ایم ایف ٹیم کو فراہم کردی ہیں جب کہ آئی ایم ایف وفد سے رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، بیورجز اور تمباکو سیکٹرکے ریلیف کی تجویز زیربحث رہی۔

    اس کے علاوہ اگلے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے پربھی ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی تجویز پر بات چیت کی گئی جب کہ ریٹیل سیکٹر سمیت مختلف شعبوں سے 250 ارب روپے ٹیکس وصولی کے پلان پربھی بات چیت ہوئی۔

    آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی انکم ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے جمع ہونے کی گنجائش ہے، سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان پر خصوصی سیشن آج ہوگا، سرکلر ڈیٹ کم کرنے کے لیے 1250 ارب روپے کا قرض لینے کا پلان تیار کرلیا گیا۔

    ٹرمپ، جے ڈی وینس اور مسک کی گرفتاری کی پیشگوئی

    وزارت پیٹرولیم اور توانائی کی جانب سے آئی ایم ایف حکام کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ توانائی شعبے میں گردشی قرض میں کمی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1250 ارب روپے 10.8 فی صد شرح سود پر قرض لیا جائے گا جبکہ آئی ایم ایف حکام کو گردشی قرض، بجلی بلوں میں کمی، ریکوری اور لائن لاسسز کم کرنے پر بھی بریفنگ دی گئی،صارفین پر 2.8 روپے فی یونٹ سرچارج لگا کر قرض اتارنے کی تجویز زیر غور ہے،جبکہ پیٹرولیم لیوی بھی بتدریج 60 سے بڑھا کر 70 روپے فی لیٹر کرنے پر زور رہا۔

    ذرائع کے مطابق نیپرا کے فیصلوں پر عمل درآمد سے متعلق خصوصی سیشن ہوگا، قومی مالیاتی کمیشن میں وفاق اور صوبوں کے درمیان محاصل کی تقسیم پر بات چیت ہوگی،مذاکرات میں آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق تجاویز پر بات چیت ہوگی جبکہ کاربن ٹیکس اور گردشی قرض میں کمی کے لیے مزید اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا، پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر کاربن ٹیکس لگانے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

    دو لاپتہ افراد گھر پہنچ گئے، عدالت نے درخواست نمٹا دی

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں اور بوائلرز پر کاربن لیوی عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جائے گا، جبکہ مذاکرات میں نجکاری کے شارٹ ٹرم پلان پر بھی حتمی بات چیت ہوگی۔ اس دوران مختلف اداروں کی نجکاری کا جائزہ بھی لیا جائے گا، جبکہ الیکٹرک وہیکل پالیسی میں ٹیکسوں کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    مذاکرات کے اختتام پر آئی ایم ایف مشن مذاکرات سے متعلق ابتدائی بیان جاری کرے گا، جبکہ اقتصادی جائزہ مشن کی حتمی رپورٹ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کو پیش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ ایک ارب ڈالر کی قسط کی حتمی منظوری کا فیصلہ کرے گا۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اپوزیشن کے احتجاج پر حکومتی حکمت عملی تیار

    ذرائع نے بتایا کہ پالیسی سطح کے مذاکرات آئندہ ہفتے ہی مکمل ہو جائیں گے، جبکہ آئی ایم ایف مشن مذاکرات کے بارے میں ابتدائی بیان بھی جائزے کے اختتام پر جاری کرے گا۔

  • ایف بی آر کے اختیارات کم کرنا ملکی مفاد میں ہے، بزنس کمیونٹی

    ایف بی آر کے اختیارات کم کرنا ملکی مفاد میں ہے، بزنس کمیونٹی

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے ایف بی آر کے اختیارات کم کرنے کے فیصلے پر بزنس کمیونٹی نے کہا ہے کہ ایف بی آر سے ٹیکس پالیسی اور ٹیکس وصولی کو الگ کرنا ملکی مفاد میں ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر خزانہ کی جانب سے نیشنل ٹیکس پالیسی یونٹ کے قیام کی حکمت پر پاکستان بزنس کونسل نے ایکس پر اپنے پیغام میں خیرمقدم کرتے ہو ئے کہا ہے کہ ایف بی آر سے ٹیکس پالیسی اور ٹیکس وصولی کو الگ کرنا ملکی مفاد میں ہے۔

    پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تجارت وصنعتی ایوان اور تاجربرادری طویل عرصے سے ایف بی آر سے ٹیکس پالیسی یونٹ کو الگ کرنے کا مطالبہ کررہی تھی، وزیر خزانہ کی سربراہی میں ٹیکس پالیسی یونٹ ٹیکس نیٹ کو بڑھائے گا اور توقع ہے کہ وزیر خزانہ عنقریب پالیسی ایڈوائزری بورڈ تشکیل دیں گے اور اس بورڈ میں اسٹیک ہولڈرز بھی ہوں گے۔

    حماس نے مزید 3 اسرائیلی یرغمالی رہا کر دیئے

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر ایف بی آر سے اہم اختیارات واپس لے لیے، وزارت خزانہ نے ٹیکس پالیسی آفس قائم کردیا، ٹیکس پالیسی سازی اور وصولی کو الگ الگ کر دیا گیا ہے، اس اقدام سے ایف بی آر صرف ٹیکس وصولی تک محدود رہے گا اور پالیسی سازی وزارت خزانہ کے تحت ہوگی، ٹیکس پالیسی آفس براہ راست وزیر خزانہ و ریونیو کو رپورٹ کرے گا۔

    فراڈ‌کیس میں قید ملزم کا جیکولین کوویلنٹائن ڈے پر قیمتی جہاز کا تحفہ

    اس اقدام کے بعد ایف بی آر ریونیو بڑھانے کے لیے ٹیکس تجاویز پر عمل درآمد پر توجہ دے گا، ٹیکس پالیسی آفس حکومتی اصلاحاتی ایجنڈا اور ٹیکس تجاویز کا تجزیہ کرے گاانکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی کی پالیسیاں اب وزیر خزانہ کو رپورٹ ہوں گی، ٹیکس فراڈ روکنے اور خامیوں پر قابو پانے کے لیے نئے اقدامات کیے جائیں گے-

    پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی بڑھتی وجہ افغان طالبان کی مدد قرار

    یاد رہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو ٹیکس پالیسی اور وصولی کو خودمختار رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔

  • ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ،وزیر اعلیٰ سندھ

    ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ،وزیر اعلیٰ سندھ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاق سے بتایا گیا ہے کہ اگر زرعی ٹیکس نہ لگاتے تو آئی ایم ایف کی ٹیم نہ آتی اور پاکستان ڈیفالٹ میں چلا جاتا۔

    باغی ٹی وی: سندھ اسمبلی نے زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس اور سپر ٹیکس لگانے کی منظوری دے دی، سندھ اسمبلی سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ان ٹیکسز پر تحفظات ہیں، اراکین اپنی ترامیم پیش کریں، ہم اس پر نظرثانی بھی کر سکتے ہیں ایف بی آر نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے آئی ایم ایف کو زرعی ٹیکس کا راستہ دکھایا ہے، جب آئی ایم ایف کو اس طرح راستہ دکھا دیا جائے تو پھر وہ اٹک جاتے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے اپوزیشن کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ زرعی ٹیکس قانون میں بہتری کی نشاندہی کریں، تبدیلیاں لے آئیں گے۔

    دوسری چیف آف آرمی سٹاف نیشنل انٹر کلب ہاکی چیمپیئن شپ 2025 کی افتتاحی تقریب

    واضح رہے کہ سندھ کابینہ کے اجلاس کے دوران زرعی ٹیکس نفاذ کی منظوری پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھاگزشتہ روز سندھ کابینہ کے اجلاس کے دوران بیشتر اراکین نے صوبوں میں وفاق کے زرعی ٹیکس نفاذ کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دیا تھا۔

    کابینہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ زرعی ٹیکس میں صنعتوں کے برابر ٹیکس لگانا زرعی شعبے سے زیادتی ہوگی، زرعی شعبہ صنعتی شعبے کی طرح ریگیولیٹ نہیں ہوتا، اس لیے اس پر ٹیکس لگانا زیادتی ہے، زرعی شعبے میں ہاری (کسان) 50 فیصد کا حق دار ہوتا ہے جبکہ صنعت میں تنخوا دار ہوتا ہے۔

    گورنر کے پی کو آئی ایم سائنسز کے بورڈ آف گورنرز کے عہدے سے بھی فارغ کرنے کا فیصلہ

  • ایف بی آر  افسران نے مجھے جان سے مارنےکی دھمکیاں دیں، فیصل واوڈا کا انکشاف

    ایف بی آر افسران نے مجھے جان سے مارنےکی دھمکیاں دیں، فیصل واوڈا کا انکشاف

    اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا ہے کہ ایف بی آر کی گاڑیاں خریدنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی میں اٹھانے پر ایف بی آر افسران نے مجھے قتل کی دھمکیاں دیں، میں شواہد پیش کرسکتا ہوں۔

    باغی ٹی وی: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں چیئر مین ایف بی آر راشد لنگڑیال، کمیٹی کے ارکان اور دیگر نے شرکت کی،اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 1010 گاڑیوں کی خریداری کا معاملہ زیر بحث آیا۔

    سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ انہوں نے گاڑیوں کا معاملہ اٹھایا ہے تو انہیں ایف بی آر افسران نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جس کے شواہد موجود ہیں انہوں نے چند ایف بی آر افسران کے نام بھی لیے اور کہا کہ ایف بی آر کے 54 کرپٹ لوگوں کی لسٹ تیار کی ہے وہ دینے کو تیار ہوں۔

    گورنر پنجاب نے 12 بلوں کی منظوری دے دی

    چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایف بی آر حکام نے گاڑیوں کا معاملہ اٹھانے پر مجھے بھی کچھ پیغامات ملے ہیں۔

    چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے فیصل واوڈا کی تائید کی اور کہا کہ یہ سنجیدہ معاملہ ہے آپ رکن پارلیمنٹ ہیں اور ایک اہم فورم کی نمائندگی کرتے ہیں اگر آپ کو دھمکی ملی ہے تو کل مجھے بھی مل سکتی ہے، اس معاملے کو ایسے ہی نہیں چھوڑا جائے گا، دھمکی کا معاملہ کرمنل انکوائری کیلئے انویسٹی گیشن ایجنسی کو بھجوایا جائے۔

    محصولات میں اضافہ اور ٹیکس بیس کی توسیع ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعظم

    فیصل ووڈا نے کہا کہ میں نے اپنی حکومت کے دور میں بھی ایسے معاملات کو فیس کیا ہے میں چاہتا ہوں اس معاملے میں وقت ضائع نہ کیا جائے۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ کسی کرائم ایجنسی یا ایف آئی اے کوبھیجا جائے۔

    رکن کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آپ پی پی آئی سے منظوری کرانے کے بغیر گاڑیاں نہیں خرید سکتے ہیں، میرے خیال میں دھمکی کا معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کیا جائے، کمیٹی میں دھمکی کا معاملہ سامنے آیا ہے اس کو ایکسپوز ہونا چاہیے۔

    بچے کی پیدائش پرمٹھائی مانگنے پر ہسپتال کے 4اہلکار معطل

    کمیٹی میں اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اگلے مالی سال میں پالیسی کو ایف بی آر سے الگ کردیں گے، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے، تنخواہ دار طبقے کےلیے ٹیکس فارم کو سادہ رکھنے کےلیے اقدامات کر رہے ہیں۔