نیویارک: امریکا کے سب سے بڑے اسکول ڈسٹرکٹ نیویارک سٹی پبلک اسکولز نے دوسری سے آٹھویں جماعت تک طلبہ کے لیے جنریٹو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر ایک سال کے لیے پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت تقریباً 6 لاکھ طلبہ متاثر ہوں گے، جو ضلع کے مجموعی طلبہ کا تقریباً دو تہائی ہیں۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور اسکولز چانسلر کمار سیموئلز نے بدھ کو نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی تنقیدی سوچ، سیکھنے کی صلاحیت اور اساتذہ و طلبہ کے درمیان براہِ راست تعلق کو مضبوط بنانا ہے۔ممدانی کے مطابق ضلع ایسے 38 سے زائد پہلے سے منظور شدہ تعلیمی پروگراموں میں موجود اے آئی فیچرز کو ختم یا غیر فعال کرے گا جو نئے حفاظتی اور نگرانی کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔
نئی پالیسی کے تحت نیویارک سٹی کے ہائی اسکول طلبہ کو محدود تعداد میں اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ انہیں اے آئی تنقیدی سوچ سے متعلق کورسز بھی فراہم کیے جائیں گے۔تاہم ChatGPT، Claude اور دیگر عمومی اے آئی چیٹ بوٹس سمیت کئی معروف خدمات تمام جماعتوں کے لیے بلاک کردی جائیں گی۔اسکول ڈسٹرکٹ نے طلبہ کے لیے انفرادی اسکرین ٹائم بھی جماعت کے لحاظ سے محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم معذور طلبہ اور انگریزی زبان سیکھنے والے طلبہ کے لیے پالیسی میں خصوصی استثنیٰ رکھا گیا ہے۔نئی پالیسی صرف طلبہ تک محدود نہیں ہے۔ اساتذہ کو سبق کی منصوبہ بندی اور دیگر انتظامی یا آپریشنل کاموں کے لیے اے آئی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم طلبہ کی گریڈنگ یا تعلیمی جائزوں کے لیے اے آئی استعمال نہیں کی جاسکے گی۔اسکولز چانسلر کمار سیموئلز نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ طلبہ کو گھر پر اے آئی استعمال کرنے سے روکنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، خصوصاً جب وہ ہوم ورک مکمل کرنے کے لیے اے آئی کی مدد حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ گھر میں بچوں کے ٹیکنالوجی استعمال کی نگرانی میں اپنا کردار ادا کریں۔
پالیسی کے تحت ایک نیا اتحاد بھی تشکیل دیا جائے گا، جس میں اساتذہ، والدین، طلبہ اور دیگر متعلقہ افراد شامل ہوں گے۔ یہ گروپ اے آئی پر عائد ایک سالہ پابندی کے اثرات کا جائزہ لے گا اور آئندہ تعلیمی سالوں کے لیے سفارشات پیش کرے گا۔نیویارک میں اے آئی کے حوالے سے یہ پہلا بڑا پالیسی تجربہ نہیں۔ شہر کے محکمہ تعلیم نے 2023 میں اسکول ڈیوائسز اور نیٹ ورکس پر چیٹ جی پی ٹی کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی، تاہم چند ماہ بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔
امریکا کے مختلف علاقوں میں طلبہ کے اسکرین ٹائم اور اے آئی کے استعمال کو محدود کرنے کے مطالبات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر ضرورت سے زیادہ انحصار طلبہ کی سیکھنے اور تنقیدی سوچ کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ اے آئی ٹولز کے حوالے سے حفاظتی خدشات بھی موجود ہیں۔دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کو تعلیم میں استعمال کرنے کے لیے نئے ٹولز متعارف کرا رہی ہیں اور اساتذہ کی تربیت کے لیے پروگرامز میں سرمایہ کاری بھی کررہی ہیں۔
نیویارک کے فیصلے پر یونائیٹڈ فیڈریشن آف ٹیچرز کے صدر مائیکل ملگریو نے اسکرین ٹائم کی پابندی اور خصوصی ضروریات رکھنے والے طلبہ کے لیے استثنیٰ کو سراہا، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ مستقبل میں تعلیمی اے آئی ٹولز کی حفاظتی جانچ کس طرح کی جائے گی اور اس بارے میں اسکولوں کو واضح رہنمائی کیسے فراہم کی جائے گی۔میئر ظہران ممدانی نے پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی صنعت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ ابتدائی تعلیم میں اے آئی کا استعمال ناگزیر اور ضروری ہے، تاہم نیویارک انتظامیہ اس نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کرتی۔ان کے مطابق نئی پالیسی کا بنیادی مقصد بچوں کو ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کے بجائے سوچنے، سیکھنے اور اساتذہ کے ساتھ براہِ راست رابطے کے مواقع فراہم کرنا ہے
