Baaghi TV

Tag: این ڈی ایم اے

  • ملک بھر میں بارشوں سے 221 اموات، 800 سے زائد مکانات تباہ، 200 مویشی جاں بحق

    ملک بھر میں بارشوں سے 221 اموات، 800 سے زائد مکانات تباہ، 200 مویشی جاں بحق

    این ڈی ایم اےنے ملک بھر میں حالیہ موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کی تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے-

    رپورٹ کے مطابق طوفانی بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 221 ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں 804 سے زائد مکانا ت مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں طوفانی بارشوں سے پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں بارشوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ 135 افراد جان بحق ہوئے، جبکہ 470 افراد زخمی ہو گئے، بارشوں سے 168 مکانات جزوی طور پر جبکہ 24 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے۔

    خیبرپختونخوا میں بارشوں کی وجہ سے 40 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 69 افراد زخمی ہوئے، صوبے میں 142 مکانات جزوی طور پر اور 78 مکانات مکمل طور پر منہدم ہوئے جبکہ سندھ میں بارشوں کے نتیجے میں 22 افراد جان بحق ہوئے اور 40 افراد زخمی ہوئے، صوبے میں 54 مکانات جزوی طور پر اور 33 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

    اسی طرح بلوچستان میں بھی بارشوں کی شدت نے 16 افراد کی جان لے لی، جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے، یہاں 56 مکانات جزوی طور پر اور 8 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے،گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں سے 3 افراد زخمی ہوئے، جب کہ یہاں 71 مکانات جزوی طور پر اور 66 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے، آزاد کشمیر میں بارشوں کے سبب 1 شخص کی جان گئی اور 6 افراد زخمی ہوئے۔ یہاں 75 مکانات جزوی طور پر اور 17 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے اسلام آباد میں بھی بارشوں کے نتیجے میں 1 شخص جاں بحق ہوا، جب کہ 35 مکانات جزوی طور پر اور ایک مکان مکمل طور پر منہدم ہوا۔

    این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 افراد کی جان گئی جس میں 3 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 25 مکانات منہدم ہوئے اور 5 مویشی ہلاک ہوئے اب تک 804 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور 200 مویشیوں کی اموات ہوئی ہیں۔

  • بابوسر میں سیلاب کی تباہی: 3 سیاح جاں بحق، 15 لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

    بابوسر میں سیلاب کی تباہی: 3 سیاح جاں بحق، 15 لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے بابوسر میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے قیامت ڈھا دی، جس کے نتیجے میں 3 سیاح جاں بحق، 4 زخمی اور 15 لاپتا ہو گئے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق تھک بابوسر شاہراہ پر اچانک آنے والے سیلاب سے سیاحوں کی 8 گاڑیاں بہہ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران 3 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ 4 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ترجمان کے مطابق سیلاب کے باعث علاقے میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور اپٹک فائبر لائن کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے رابطے متاثر ہوئے ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب کے باعث ہزاروں سیاح مختلف مقامات پر پھنس گئے، جبکہ درجنوں کو مقامی آبادی نے عارضی پناہ فراہم کی ہے۔ بابوسر شاہراہ پر پھنسے سیکڑوں سیاحوں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے اور ریسکیو آپریشن میں مزید تیزی لائی گئی ہے تاکہ لاپتا افراد کی تلاش اور محفوظ راستے کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

    یو اے ای میں پھنسے افغانوں کی حالت پر ٹرمپ کو تشویش

    بھارتی نائب صدر جگ دیپ دھنکھر عہدے سے مستعفی

  • ملک میں شدید بارشوں کا امکان،این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری جاری

    ملک میں شدید بارشوں کا امکان،این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری جاری

    اگلے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث شہروں میں سیلابی صورتحال جبکہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ پنجاب کے اضلاع بشمول لاہور، چکوال، اٹک، جہلم، خوشاب، سرگودھا، گجرات، گوجرانوالہ، فیصل آباد،سیالکوٹ، نارووال، اوکاڑہ، قصور، شیخوپورہ اور حافظ آباد میں اگلے 12گھنٹوں میں آندھی اور طوفان سمیت شدید بارش کا امکان ہےراولپنڈی اوراسلام آباداگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش جاری رہنے کا امکان ہے، موسلادھار بارش کے باعث نالہ لئی میں ممکنہ طغیانی اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔

    نالہ لئی کے قریبی اور نشیبی علاقوں کے مکین خطرے کا سائرن بجنے کی صورت میں فوراً انخلاء کی تیاری رکھیں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں، این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہےتیز بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے گریزکریں۔

    پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، نوٹیفکیشن جاری

    ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے مکین قیمتی اشیاء اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا قبل از وقت بندوبست رکھیں حساس علاقوں کے مکین ہنگامی صورتحال کے لیے 3 سے 5 دن کی خوراک، پانی اور ادویات پر مشتمل ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں،مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے فوری نکاسی آب کے لیے ضروری مشینری اور پمپس تیار رکھیں، سیلابی علاقوں کے مکین ٹی وی اور موبائل الرٹس کے ذریعے سرکاری اعلانات اور الرٹس سے آگاہ رہیں۔

    این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائےعوام سے گزارش کی ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے آگاہی کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے راہنمائی لیں۔

    دوسری جانب طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ڈیموں، دریاؤں، نہروں، تالابوں اور جھیلوں میں ہر قسم کی تیراکی پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج :100 انڈیکس ریکارڈ بلندی پر بند

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ صوبے بھر میں دفعہ 144 کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے مطابق ڈیموں، دریاؤں، نہروں، تالابوں اور جھیلوں میں ہر قسم کی تیراکی پر پابندی عائد کردی گئی نوٹیفکیشن کے تحت گلیوں، سڑکوں، کھلی جگہوں یا عوامی مقامات پر بارش کے جمع شدہ پانی میں نہانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے ڈیموں، دریاؤں، نہروں، تالابوں، جھیلوں اور ڈسٹری بیوٹریز میں بلااجازت کشتی رانی کی بھی ممانعت ہوگی۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت تمام پابندیوں کا اطلاق 30 اگست تک ہوگا،پابندی موجودہ موسمی حالات کے تناظر میں قیمتی انسانی جانوں کی حفاظت کیلئے لگائی گئی ہے، مون سون میں شدید بارشوں کے دوران نشیبی علاقوں، گلیوں اور کھلی جگہوں پر بارش کے پانی کے جمع ہونے میں خاطر خواہ اضافہ ہو اہے۔

    مسلسل تیسرے روز ملک میں سونے کی قیمت میں کمی

    واضح رہے کہ پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے، راولپنڈی میں 15 گھنٹے میں 230 ملی میٹر بارش برسنے پر ندی نالے بپھر گئے، نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے پر سائرن بجادیے گئے جبکہ پاک فوج گوالمنڈی پل پہنچ گئی،چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد 423 ملی میٹر بارش برسنے پر ڈیم کا بند ٹوٹ گیا، 24 گھنٹے میں حادثات و واقعات میں درجنوں افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

  • این ڈی ایم اے کا ایک دن میں دوسرا بارش الرٹ، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    این ڈی ایم اے کا ایک دن میں دوسرا بارش الرٹ، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں جاری شدید بارشوں کے باعث ایک ہی روز میں دوسرا الرٹ جاری کر دیا ہے، جس میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے خبردار کیا گیا ہے۔

    الرٹ کے مطابق گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ آزاد کشمیر کے مظفرآباد، نیلم ویلی، راولا کوٹ، ہویلی اور باغ میں بھی شدید بارشوں کے باعث مٹی کے تودے گرنے کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے نے اپر کوہستان، دیامر اور استور روڈ کے علاقوں، گلگت روڈ، نگر روڈ اور شاہراہ قراقرم کے متعدد مقامات کو لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرے کی زد میں قرار دیا ہے۔

    اس کے علاوہ جگلوٹ-اسکردو روڈ خصوصاً روندو کے ملحقہ علاقوں میں بھی مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ سڑکوں کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری الرٹ پر رکھی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔

    دورۂ انگلینڈ کے لیے پاکستان شاہینز کا 18 رکنی اسکواڈ اعلان

    وزارت داخلہ کی ویزا اسکینڈل سے متعلق میڈیا رپورٹس کی سخت تردید

    خود فراموشی کا انجام،تحریر: اقصیٰ جبار

    مسلسل دوسرے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

  • این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارش، آندھی، طوفان کا الرٹ

    این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارش، آندھی، طوفان کا الرٹ

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے اگلے 12 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی، طوفان، موسلادھار بارش اور شمالی علاقہ جات میں گلیشیئر پگھلنے کے باعث گلیشیائی جھیل پھٹنے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اور ممکنہ بارشوں کے باعث ہنزہ، شگر، گانچھے اور چترال کے گلیشیائی علاقوں میں GLOF کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ان علاقوں کے قریبی مکینوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اتھارٹی نے پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان ڈی ایم اے اور ضلعی سطح کے اداروں کو حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    موسمی صورتحال
    اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع جن میں میانوالی، خوشاب، فیصل آباد، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان اور بہاولنگر شامل ہیں، میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔بلوچستان کے اضلاع ژوب، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، زیارت، ڈیرہ بگٹی، سبی، چمن، کوئٹہ، مستونگ، قلات، سراب، خضدار، آوران اور پنجگور میں بھی شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    ممکنہ خطرات
    شدید بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ، بجلی کی بندش اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ بارش اور آندھی کے دوران کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، کچی دیواروں اور بل بورڈز سے دور رہیں۔ ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ ممکن ہے۔سیاحوں کو خاص طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ گلیشیائی علاقوں میں ٹریکنگ، تصاویر کھنچوانے یا تفریح کی غرض سے جانے سے گریز کریں۔

    این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ایمرجنسی مشینری کی دستیابی یقینی بنانے اور سڑکوں کی بحالی کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کی ہے۔عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ موسمی اپ ڈیٹس اور ممکنہ خطرات کے بارے میں معلومات کے لیے "پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ” کا استعمال کریں۔

    صدر استعفیٰ اور آرمی چیف کے صدر بننے کی خبریں بے بنیاد قرار

    وفاقی حکومت کا مختلف وزارتوں میں ٹیکنیکل ایڈوائزرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    دبئی میں ایئر لائن ٹکٹ اور شاپنگ کے لیے کرپٹو کرنسی کے استعمال کی اجازت

    دبئی میں ایئر لائن ٹکٹ اور شاپنگ کے لیے کرپٹو کرنسی کے استعمال کی اجازت

  • 10 جولائی تک شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا ملک گیر الرٹ جاری

    10 جولائی تک شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا ملک گیر الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں 10 جولائی تک شدید بارشوں، سیلابی صورتحال اور ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق دریائے کابل، سندھ، چناب اور جہلم میں پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے۔ دریائے سندھ پر تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جبکہ دریائے چناب پر مرالہ اور خانکی، اور دریائے جہلم پر منگلا کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ دریائے سوات اور پنجکوڑہ کے ملحقہ ندی نالوں میں بھی طغیانی کا امکان ہے۔

    الرٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں (ہل ٹورنٹس) میں بارشوں کے باعث شدید بہاؤ متوقع ہے۔ بلوچستان کے اضلاع جھل مگسی، کچھی، سبی، قلعہ سیف اللہ، ژوب اور موسیٰ خیل میں بھی ندی نالوں کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔این ڈی ایم اے نے گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی الرٹ جاری کیا ہے جہاں دریائے ہنزہ، شیگر، ہسپار، خنجراب، شمشال، برالدو، ہوشے اور سالتورو میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ گلگت، اسکردو، ہنزہ، استور، دیامر، گانچھے اور شگر سمیت آزاد کشمیر کے علاقوں مظفرآباد، نیلم ویلی، راولا کوٹ، ہویلی اور باغ میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ حساس علاقوں کے رہائشی 3 سے 5 دن کی خوراک، پانی اور ادویات پر مشتمل ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں۔ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے فوری نکاسی آب کے لیے مشینری اور پمپس ہمہ وقت تیار رکھیں۔

    اتھارٹی نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

    سابق کرکٹر محمد یوسف نے برانڈ لانچ کردیا

  • ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

    ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 10 جولائی تک ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کردیا۔

    این ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ ہے، دریائے چناب کے مرالہ اور قادرآباد مقامات پر کم درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے دریائے کابل، سندھ، چناب، سوات، پنجکوڑہ، چترال، ہنزہ، اور دیگر ندی نالوں کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے، شدید بارشوں کے پیش نظر شمال مشرقی پنجاب، جنوبی بلوچستان اور آزاد کشمیر میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔

    اسی طرح شمال مشرقی پنجاب کے پیر پنجال سلسلے سے نکلنے والے نالوں میں طغیانی اور سیلاب کاخطرہ ہے ، آزاد کشمیر میں دریائے جہلم اور اس کے معاون نالوں میں اچانک طغیانی کا بھی خدشہ ہے اور گلگت بلتستان میں دریائے ہنزہ اور نالوں میں پانی کی سطح میں اچانک اضافہ ممکن ہے۔

    این ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنوبی بلوچستان کے کیرتھر رینج سے نکلنے والے ندی نالوں، خاص طور پر آواران، خضدار، جھل مگسی، قلعہ سیف اللہ اور موسیٰ خیل میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، تیز بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور پانی میں ڈوبی سڑکوں سے گزرنے سے گریزکریں، ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے مکین قیمتی اشیاء اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا قبل از وقت بندوبست رکھیں، حساس علاقوں کے مکین ہنگامی صورتحال کے لیے 3 سے 5 دن کی خوراک، پانی اور ادویات پر مشتمل ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں۔

    دوسری جانب این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے فوری نکاسی آب کے لیے ضروری مشینری اور پمپس تیار رکھیں، سیلابی علاقوں کے مکین ٹی وی اور موبائل الرٹس کے ذریعے سرکاری وارننگز سے آگاہ رہیں۔

    علاوہ ازیں کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو یقینی بنایا جائے، عوام سے گزارش کی ہے کہ موسم اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے آگاہی کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ سے راہنمائی لیں۔

  • این ڈی ایم اے کا  گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے کا گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے پر الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک کے شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کے خدشے کے پیش نظر سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے گلیشیائی گلوف (Glacial Lake Outburst Flood) کے واقعات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔این ڈی ایم اے نے پی ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو حساس علاقوں کی کڑی نگرانی، فوری وارننگ، انخلا اور ہنگامی ردعمل کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں، سول ڈیفنس اور ایمبولینس سروسز کو بھی الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔

    اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی مشینری اور آلات کی دستیابی بروقت ممکن بنائی جائے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔ حساس علاقوں میں مشقوں کے انعقاد کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دریاؤں، نالوں اور تیز بہاؤ والی آبی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کریں، جبکہ سیاحوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ گلیشیئر کے قریب علاقوں میں ٹریکنگ یا سفر سے پرہیز کریں۔

    مزید برآں، این ڈی ایم اے نے ہنگامی حالات میں سڑکوں کی بحالی کے لیے بھی متعلقہ اداروں کو تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔

    ایئر انڈیا کا پائلٹ پرواز سے قبل بے ہوش، فوری اسپتال منتقل

    شام کا اسرائیل سے 1974 کے علیحدگی معاہدے کی بحالی پر آمادگی کا اظہار

    افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی رک گئی، پی او آر کارڈز میں توسیع زیر غور

    را نے ہمیں پاکستان کے خلاف استعمال کیا، مودی نے دھوکہ دیا،بلوچ علیحدگی پسند رہنما کا اعتراف

  • تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد راولپنڈی سمیت مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق منگل کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہےکشمیر، خیبرپختونخوا، اسلام آباد، بالائی/جنوبی پنجاب، شمال مشرقی بلوچستان اور گلگت بلتستان میں تیز ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری ہونے کا بھی امکان ہے۔

    اسلام آباد، پنجاب ، خیبر پختونخوا ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آج شام سے 31 مئی کے دوران آندھی اور بارش کا امکان ہے اس بارے میں این ڈی ایم اے نے بھی ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق اسلام آباد میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےراولپنڈی، مری، سیالکوٹ، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، میانوالی اور جھنگ میں آندھی اور بارش کی توقع ہے، ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ میں بھی بارش کا امکان ہے –

    سوات، دیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، چترال، بونیر، پشاور، مالاکنڈ، مردان، صوابی اور چارسدہ میں بھی بارش ہونے کا امکان ہے کوئٹہ، ژوب، بارکھان، خضدار اور قلات میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے وادی نیلم، مظفر آباد، راولا کوٹ، کوٹلی، میرپور، دیامر، استور، ا سکردو ، گلگت، ہنزہ اور شگر میں بارش اور ژالہ باری ہونے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 29.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 سے 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتاہے، ہوا میں نمی کا تناسب 72 فیصد ہے اور شمال مغرب سے گرم ہوائیں 10کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

  • اسلام آباد، راولپنڈی میں بارش، تیز ہواؤں کیساتھ ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری

    اسلام آباد، راولپنڈی میں بارش، تیز ہواؤں کیساتھ ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری

    اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں اگلے 8-10 گھنٹوں تک بارش اور تیز ہوائیں کے ساتھ ژالہ باری جاری رہنے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : این ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارش اور تیز ہواؤں سے درخت گرنے اور بجلی بند ہونے کا خدشہ ہے، آندھی اور اولوں کے باعث کمزور تعمیرات اور فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے سڑکوں پر بارش کے باعث حدِ نگاہ کم، حادثات کا امکان بڑھ سکتا ہے، موسمی حالات سے آگاہ رہیں، بروقت آگاہی کے لیے این ڈی ایم اے کی موبائل ایپ کو فالو کریں سفر سے پہلے ٹریفک کی صورتحال چیک کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں، لینڈ سلائیڈ کے خطرے والے علاقوں میں محتاط رہیں اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔

    آرمی چیف ملکی وقار کے لیے سرگرم عمل ہیں، گورنر پنجاب

    دوسری جانب شہریوں نے اتوار کو ہلکی ژالہ باری اور بارش کے دوران گاڑیوں کو چھتوں تلے محفوظ کرنا شروع کردیا جب کہ جڑوں شہروں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

    عظمیٰ بخاری کا حالیہ پرتشدد واقعات اور فوڈ چینز پر حملوں پر سخت ردِ عمل