اسلام آباد : فضائی سفر کرنے والے پاکستانیوں کے لیے خوش خبری ،پاکستان میں 3نئی نجی ایئر لائنز اڑان بھرنے کے لیے تیار ، سول ایو ایشن اتھارٹی کا گرین سگنل مل گیا،نئی ایئر لائنوں میںکیوایئرلائن، جیٹ گرین اور فلائی جناح نے ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ لائسنس کیلئے سی اے اے کودرخواست دی تھی جو منظوری کے آخری مراحل میں ہیںتفصیلات کے مطابق اندرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کےلئے اچھی خبر آگئی ، 3نئی نجی ایئر لائن نے آپریشن شروع کرنےکی تیاری کرلی ، نئی ایئر لائنز کی ریگولرپبلک ٹرانسپورٹ لائسنس کیلئے درخواست دے دی ہے ، نئی ایئر لائنز میں کیوایئرلائن، فلائی جناح اور جیٹ گرین شامل ہیں۔سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ کیوا ئیر اور فلائی جناح کی اسکروٹنی مکمل کرلی گئی جبکہ جیٹ گرین نامی ایئرلائن کی اسکروٹنی جاری ہے ، سی اے اے نے دونوں ایئرلائنز کے کیسز ایوی ایشن ڈویژن کوبھجوادیئے ہیں۔سی اے اےذرائع نے کہا ہے کہ کابینہ کی منظوری سے دونوں ایئرلائنز کو لائسنس جاری کیا جائے گا جبکہ تیسری ایئرلائن کی اسکروٹنی مکمل ہونے کے بعد معاملہ ایوی ایشن کو بھیجا جائے گا۔سی اے اے قوانین کے مطابق نئی ایئرلائن 3 طیاروں سے 1 سالہ مدت تک پروازیں آپریٹ کرتی ہے ، ایک سالہ کامیاب مدت کے بعد بیرون ملک پروازوں کی اجازت دی جاتی ہے۔
Tag: باغی ٹی وی
-

سستی اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے ورچوئل یونیورسٹی سے کافی توقعات ہیں، ڈاکٹر عارف علوی
صدر عارف علوی نے ڈاکٹر ارشد سلیم بھٹی کی بطور ریکٹر ورچوئل یونیورسٹی تعیناتی کردی۔
صدر مملکت نے یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے تجویز کردہ پینل میں شامل تین امیدواروں کے تفصیلی انٹرویو لیےگئے ۔ پینل میں ڈاکٹر ناصر محمود اور ڈاکٹر محمد بلال خان بھی شامل تھے. بورڈ آف گورنرز کی سفارشات اور تفصیلی انٹرویو کے بعد میرٹ پر ڈاکٹر ارشد سلیم بھٹّی کی تعیناتی کی گئی.ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ملک میں سستی اور معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے ورچوئل یونیورسٹی سے کافی توقعات ہیں،ورچوئل یونیورسٹی کی مدد سے انٹرمیڈیٹ پاس طلبہ ملک کے کسی بھی حصے سے کم خرچ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ -

حکومت فیٹف کے غیر منصفانہ فیصلے کیخلاف عالمی عدالت میں جائے, رحمان ملک
سینیٹر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ فیٹیف کے متعصبانہ فیصلے کیخلاف حکومت عالمی عدالت انصاف میں جائے۔
سابق وزیرِداخلہ و پیپلز پارٹی سینیر رہنماء سینیٹر رحمان ملک نے فیٹف کے حالیہ فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فیٹف کے غیر منصفانہ اور جانبدارنہ فیصلے کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جائے۔ انھوں کہا کہ اس سے بڑی نا انصافی اور کیا ہوسکتی ہے کہ فیٹف نے پاکستان کو جون 2021 تک دوبارہ گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے بیان میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کورونا کیوجہ سے مشکل ترین حالات کے باوجود پاکستان نے 27 میں سے 24 مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا اور فیٹیف کے کہنے پر قانون سازی اور ترامیم کیے۔ انھوں نے کہ کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے کے بجائے فیٹف نے پاکستان پر نگرانی میں اضاف کا اعلان کیا اور اب پاکستان کو جارحانہ پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے اور پاکستان کو فیٹف کا انتہائی متعصب ہونے کیخلاف عالمی عدالت انصاف میں جانا چاہئے۔
سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ صدر فیٹف مارکس پلیئر کا پاکستان کی تعریف کرنے کا کیا فائدہ جب گرے لسٹ سے نکالا نہیں اور گرے لسٹ میں ہونے کیوجہ سے ہم پہلے ہی 38 بلین ڈالر کا نقصان اٹھا چکے ہیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فیٹف پاکستان کا اتنے بڑے پیمانے میں معاشی نقصان کا ازالہ کرے گا؟
انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو مشورہ ہے کہ صدر فیٹف کی کھوکھلی تعریفوں میں آکر جال میں نہ پھنسے بلکہ حکومت کو اپنے سخت رد عمل کا اظہار کرے کیونکہ پاکستان کی تعریف کو رد عمل نہ دینے سے روکنے کا ایک چال ہے۔
سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ حکومت اب فیٹف کی تعریف کا پرچار کرکے کسی کریڈٹ لینے کی کوشش نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ اچھا ہوا بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ فیٹف کے فیصلے سے عوام میں بےچینی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ فیٹف کا پاکستان پر نگرانی میں اضافے کا فیصلہ ایک نیا ہتھکنڈہ ہے۔ میں پہلے کہہ چکا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل تک فیٹیف پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالے گا۔ -

پہلی بار نوشہرہ میں قبضہ مافیا کے گرد گھیرا تنگ
پشاور: نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے شاہ سعود خان اور عبدلرزاق آفریدی نے کہا ہے کہ باآثر قبضہ مافیا کے ایما پر گزشتہ روز نوشہرہ پریس کلب میں جمال شاہ نامی شخص نے جو کہ قبضہ مافیا کا کارندہ ہے نے اپنے دیرگ ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہم پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے ہمیں قبضہ مافیا جبکہ خود کو زمینوں کا قانونی مالک قرار دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔پشاور پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذکورہ افراد جو کہ قبضہ مافیا کے سرغنہ نواب خان کے ایم اپر ہمیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دراصل خود ہی قبضہ مافیا ہیں۔شاہ سعود نے کہا زمینات کے اصل مالک ہم ہیں۔انہوں نے نواب خان اور ان کے دیگر ساتھیوں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ پشارو پریس کلب یا نوشہرہ پریس کلب میں ہمارے ساتھ مناظرہ کریں تاکہ پریس کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔عبدالرزاق افریدی نے کہا کہ پہلی بار نوشہرہ میں قبضہ مافیا کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔انہون نے کہا وہ قبضہ مافیا کے خلاف جہاد کر ہے ہیں تاکہ غریبوں کے جائیدادوں سے قابض مافیا کے قبضے سے ان کی زمینیں واگزار کراسکیں۔
-

ملک میں چند سو گندے انڈے ہیں،جو کبھی ایک ٹوکرے میں نظرے آتے ہی تو کبھی دوسرے میں،پیر سید ہارون گیلانی
پشاور: ہدیہ الہادی پاکستان کے رہبر پیر سید ہارون گیلانی نے کہا ہے کہملک میں حقیقی جمہوریت اور مغربی جمہوریت کو لیکر بحث جاری ہے، جمہوریت جہاں کی بھی ہو،اس میں افراد کی تعداد کو گنتے ہیں،نہ کہ افراد کو تولتے ہیں، ڈکٹیٹر شپ کی مخالفت کرنے والے یہ بات مد نظر رکھیں کہ ڈکٹیٹر کس کی نمائندگی کرتا ہے۔پشاور پریس کلب میں منعقدہ فکری نشست بعنوان کیا مسائل کاحل نظام کی تبدیلی میں ہے سے بحیثیت صدر محفل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالہ کا فرمان ہے کہ جو رسول دے اسے لے لو اور جس کام سے منع کرے اسے رک جاو۔۔انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی مسائل کا تعلق یونین کونسل اور ضلعے کے سطح تک ہوتے ہیں۔ملک کے پالیسی فیصلوں سے متعلق رایے دہی کا حق ان لوگوں کو ہونا چاہیے جن کو اس چیز کا ادراک ہے۔کرکٹ ٹیم کی سلیکشن عوام سے نہیں کروانے والے وزیراعظم کا چناؤ عوام کے زریعے کرنا چاہتے ہیں۔پیر سید ہارون گیلانی نے کہا کہ ملک میں چند سو گندے انڈے ہیں،جو کبھی ایک ٹوکرے میں نظرے آتے ہی تو کبھی دوسرے میں۔انہوں نے کہا کہ ایک مذ ہبی جماعت اپنے امیر کے انتخاب کے لیے عام کارکن کوووٹ کا حق نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کا حق اہل شعور کا حاصل ہونا چاہئے۔ملک میں حق رائے دہی کے ضمن میں ہمیں اصلاحات کی طرف جانا ہوگا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تھینکرز فورم کے صدر پاکستان تھنکرز فورم کے صدر ملک لیاقت علی تبسم نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا کہ جب تک ملک میں خلافت راشدہ کے اصولوں پر مبنی نظام کا نفاذ نہیں کرتے،مسایل حل نہین ہونگے۔انہون نے کہا کہ عالمی طاقتوں نے پورا زور لگایا لیکن مملکت خداداد جو کہ دین کلمہ طیبہ کے نام پر قایم ہوا ہے کے وجود کو مٹانے میں ناکام رہے ہیں۔انہون نے زور دیا کہ مسلمان قرآن کو سینے سے لگائیں۔علامہ شبیر احمد عثمانی کے نواسے احمد عثمانی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو اگر تبدیلی کے لیے تیار کرسکتا ہے تو وہ سچائی پر مبنی نیت سے ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم۔نے نوجوانو کو بہت کچھ دیا لیکن نہیں دیا تو قلم اور شعور نہی۔ دیا۔نوجوان آپنے ایمان کو ہمیشہ تازہ رکھیں۔سینئر صحافی شریف شکیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ علامہ اقبال کا شعر ہے کہ وہی جہان ہے تیرا جو تو کرے پیدا،،،یہ سنگ وخشت نہیں جو تیری نگاہ میں ہے۔۔۔انہون نے کہا کہ موجودطبقاتی نظام نے ملک کو تین درجوں میں تقسیم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب سے درآمد شدہ نظام ہمارے مسائل حل کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔مغربی جمہوریت حقیقی جمہوریت کا نعم البدل نہیں ملک میں پروٹوکول کلچر فروغ پارہا ہے۔کرپشن کی وبا ہمارے اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ جب بھی نظام بدلنے کی بات ہوتی ہے نظام کے سرخیل اسے بچانے کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔اس موقع پر جامعات کے طلبا و طالبات نے فکری نشست سے اپنے خطاب میں نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تبدیلی کی ضر ورت پر زور دیا۔اس سے پہلے ہدیہ الہادی پاکستان کے مرکزی نائب صدر رضیت باللہ نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں فکری نشست کے مقاصدپر روشنی ڈالی۔اس موقع پر پشاور پریس کلب کے نائب صدر نادر خواجہ سمیت صحافیوں،مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلبا وطالبات اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی تقریب میں موجود تھے۔
-

نمل یونیورسٹی، مختلف زبانوں میں تراجم اور تشریح کے حوالے سے ترقی کرنے کے اقدامات
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی نمل یونیورسٹی آمد ہوئی اور ریکٹر نمل یونیورسٹی میجر جنرل (ر) محمد جعفر نے وزیر خارجہ کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ وزارتِ خارجہ اور نمل کے مابین مختلف زبانوں کی ترویج کے حوالے سے معاہدہ کیا۔ نمل یونیورسٹی، مختلف زبانوں میں تراجم اور تشریح کے حوالے سے وزارتِ خارجہ کی معاونت کرے گی۔ نمل یونیورسٹی، وزارت خارجہ کے افسران کی زبان دانی کے حوالے سے استعداد کار بڑھانے میں مدد کرے گی۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ زبانوں کی ترویج کے حوالے سے وزارتِ خارجہ اور نمل کے مابین یہ معاہدہ، وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ وزارتِ خارجہ اور نمل یونیورسٹی کے مابین زبانوں کی ترویج کے اس معاہدے سے قومی بیانیے کی تشکیل اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر میں مدد ملے گی۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور ریکٹر نمل میجر جنرل (ر) محمد جعفر کی موجودگی میں وزارت خارجہ اور نمل کے مابین طے پانے والے معاہدے کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ وزیر خارجہ نے علم و ادب کے حوالے سے نمل یونیورسٹی کی خدمات کو سراہا۔ ریکٹر نمل یونیورسٹی میجر جنرل (ر) محمد جعفر نے نمل یونیورسٹی آمد پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا -

خیبر ٹیچنگ ہسپتال ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے قریب ٹرائیج وینگ بنانے کے احکامات جاری
ہسپتال کے بورڈ آف گورنر اور انتظامیہ نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال آنے والے مریضوں کے لئے نیا منصوبہ بنایا۔
خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنر نے ہسپتال انتظامیہ کو ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں رش کم کرنے کے لئے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے قریب ٹرائیج وینگ بنانے کے احکامات جاری کیے جس کا بہت وقت پہلے منصوبہ کیا گیا تھا۔
چیئرمیں بورڈ آف گورنر نے ہسپتال انتظامیہ کو احکامات جاری کیے کہ یہ ایک سرکاری ہسپتال ہمیں چاہیں کہ ہم مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔
متعلقہ جگہ کا د وراہ چیئرمیں بورڈ آف گورنر پروفیسر ڈاکٹر ندیم خاور جن کے ہمراہ ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب، ہسپتال ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر روح المقیم ، میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عامر اظہر ، ڈاکٹر عادیل ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ ، انجینئر منظور ، انجنیئر ارسلان اور آرکیٹیکٹ شیراز نے آج کی۔ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ اور ادارجاتی پریکٹس کی سہولیات میں بہتری اور ہسپتال کے اوقات کار کے بارے میں ضروری فیصلے کیے گئے۔رئسیسٹیشن روم کے عملے، سامان اور طریقہ کار کو دورجدید کی طرز پر مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔مائینر آپریشن تھیٹر کو ٹراما حال میں تبدیل کیا جائے گا۔ جس میں مختص سٹاف اور ٹراما ٹیم سہولیات فراہم کرینگے ۔ جس میں معمولی سٹرکچر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
تمام عملے کو ہسپتال کے اندر اور باہر تربیتی کورس کراوائے جائینگے ۔نہ صرف کلینکل سٹاف کے لئے بلکہ سیکورٹی گارڈز اور سپورٹنگ سٹاف بھی تربیتی کورس کا حصہ ہونگے۔ ٹراما کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں ٹراما کے تمام شعبہ جات شامل ہونگے جوایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کے ماتحت ہونگے ۔ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے مریضو ں کو ادویات کی فراہمی کے لئے ر یٹیل فارمیسی کی شاخ کھولی جائینگی۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر روح المقیم نے بتایا کہ ہسپتال میں عوام کے شکایات کے ازالے کے لیے ہسپتال میں جلد ایک شکایات سیل قائم کیا جائے گا۔ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی گئی کہ وہ کاؤنٹرز پر مریضوں کو بہت بڑے ہجوم سے بچنے کے لئے مناسب قطار مینجمنٹ سسٹم کو یقینی بنائیں اور صفائی بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ چیئرمین بورڈ آف گورنر پروفیسر ڈاکٹر ندیم خاور نے گزشتہ ہفتے میں تمام شعبہ جات اور سیکشنز کے چیئرمین، سربراہان اور انچارجز کے ساتھ مختلف اجلاس میں اُن کے مسائل سنئے اور مریضوں کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے مختلف منصوبے بنائے جس سے عوام اور ادارے کو فائدہ ہوگا۔
ایم ٹی آئی خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے انتظامیہ کی انتھک کوششوں سے ہسپتال میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی اور یہ تبدیلیاں مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے کی گئی۔ -

نوشہرہ پولیس کی بڑی کامیابی، موٹروے ڈکیتی معاملہ حل
نوشہرہ پولیس کی بڑی کامیابی کہ انہوں نے قلیل مدت میں موٹر وے پر ڈکیتی کا معمہ حلکر دیا ۔ڈکیت گروہ کے 05 ارکان گرفتارہو گئے ۔94.5 لاکھ روپے کا مال مسروقہ، واردات میں استعمال ہونے والی موٹر کار اور اسلحہ برآمد ہوا
خیبر ٹوبیکو کمپنی مرادن میں بطور ڈرائیور کام کرنے والے نہار علی ساکن رستم کلے مردان نے 04-02-2021 کو رسالپور پولیس کو رپورٹ درج کرائی کہ وہ اپنے دو دوستوں کیساتھ کمپنی کی رقم لینے کیلئے چکوال گئے تھے۔وہاں ڈسٹربیوٹر سے رقم لیکرواپس آرہے تھے کہ رشکئی انٹر چنج کے قریب ایکسائز وردی میں ملبوس اہلکاروں نے ہمیں روکا اور ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے پشاور ٹول پلازے سے آگے رنگ رود قریب ہمیں اُتار کر نقد رقم 01کروڑ 10لاکھ روپے لیکر فرار ہوگئے۔ اس واقع کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے DIGمردان شیر اکبر خان نے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کیپٹن (R) نجم الحسنین کی سربراہی میں نورجمال خان SPانوسٹی گیشن،وقاص رفیق ASPکینٹ،سیف اللہSHOرسالپور اورساجد اقبال ASIپر مشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سائینسی اور تکنیکی بنیادوں پر کیس کی تفتیش کی اور مختصر وقت میں ملزمان کے سرغنہ کو ٹریس کر لیا۔ اسلام آباد پولیس کے ہمراہ ملزم شریف اللہ کو اسلام آباد میں گرفتار کرکے قانونی طریقہ کار سے نوشہرہ منتقل کر دیا گیا۔گرفتاری کے دوران پولیس اور ملزم کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جسکا مقدمہ اسلام آباد میں درج کر لیاگیا ہے۔ ملزم کے مزید 03ساتھیوں حمید،عثمان، شاہد ساکنان پشاور اورعبداللہ ساکن اسلام آبادکو بھی قانونی حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے اقرار جرم کرتے ہوئے سب اُگل دیا۔ملزمان کی نشاندہی پر 94.5لاکھ روپے،واردات میں استعمال ہونے والی موٹر کار اور اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔ملزم شریف اللہ کے قبضے سے اسلام آباد میں بھی اسلحہ برآمد کر لیا گیا تھا جو اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہے۔ ملزما ن کے دیگر چند ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔ انشاء اللہ ملزمان کوعدالت سے قرار واقع سزا دلوائی جائے گی۔ -

قطر، پاکستانی سفارتخانے میی ایک پروقار تقریب منقعد
قطر میی پاکستانی سفارتخانے کے سربراھ سید احسن رضا نے قطر ملک میں مقیم پاکستانی پشتون کو متحد کرنے کے لٸے پاکستانی سفارتخانے میی ایک پروقار تقریب منقعد کی جس میی پاکستان کے مختلف اضلاع سمیت خصوصا ضم شدہ قباٸلی اضلاع کے 100 سے زاٸد قباٸلی عماٸدین اور نوجوانو نے شرکت کی اور تاریخ میی پہلی مرتبہ قطر میی مقیم پاکستانیو کے مساٸل حل کرنے کے لٸے قطر پشتون کمیونٹی کا قیام عمل میی لایا گیا اور قباٸلی عماٸدین اور نوجوانو نے مشترکہ طور پر ملک ناور خان وزیر کو قطر پشتون کمیونٹی کے چٸرمین نامزد کردیا پاکستانی سفارتخانے کے سر براھ سید احسن رضا نے نامزد چٸرمین ملک ناور خان وزیر کو روایتی پگڑی پہناٸی ۔تقریب سے خطاب کرتے ھوٸے ایمبیسڈر سید احسن رضاکاکہنا تھا کہ قطر ممالک کے مشکور ھے جنھونے پاکستانیو کو اکھٹا کیا اب قطر میی پاکستان پشتون کمیونٹی کے پلیٹ فارم سے اب تمام پاکستانیو کے مساٸل دیگر تنازعات حل کے جاٸینگے اور نامزد چٸرمین پاکستانیو کے فلاح بہبود اور ان کے حقوق کے لٸے اہم کردار ادا کریگا نومنتخب چٸرمین ملک ناور خان وزیر کا کہنا تھا کہ ھم قطر ممالک اور پاکستانی سفیر کے مشکور ھے جنھو نے پاکستان کے پشتون کمیو نٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا اور میی اس عزم کا اعادہ کرتاھو پشتون کمیونٹی کے فلاح بہبود اور ان کی بقا اور ترقی کے لٸےاپنی تمام تر تواناٸیا بروۓکار لاونگا .پکستان زندہ باد خیبر پختونخواہ زندہ باد
-

اردو زبان میں جدید دور کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ناصر علی سید
پشاور: آئین پاکستان کا تقاضا ہے کہ اردو کو بحیثیت قومی زبان نافذ کیا جائے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز یوم نفاذ اردو کے موقع پر معروف ادیب و شاعر ناصر علی سید نے تحریک نفاذ اردو کے زیر اہتمام ایک تقریب میں کیا تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام کر رہے تھے..تقریب میں ماہرین تعلیم, ادباء شعرا اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی.تقریب سے اپنے خطاب میں ناصر علی سید کا کہنا تھا کہ اردو ہر لحاظ سے ایک معیاری زبان ہے جس میں جدید دور کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے لہذا اردو کو بلا تاخیر نافذ کیا جائے.تقریب سے صدر مجلس اور پاکستان سڈی سنٹر کے چیئرمین ڈاکٹر فخرالاسلام کا کہنا تھا کہ اردو پورے ملک میں رابطے کی زبان ہے..قومی زبان کو نافذ نہ کر کے ہم آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں.اس موقع پر تحریک نفاذ اردو پشاور کے صدر اور ماہر تعلیم مشتاق حسین بخاری.کالم نگار روشن خٹک, شاعر فاروق جان بابر آزاد, کالم نگار نیئر سرحدی, شاعرہ کلثوم زیب و دیگر نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا.
