Baaghi TV

Tag: باغی ٹی وی

  • عالمی مارکیٹ میں مالیت1.36ارب ڈالرکے لگ بھگ منشیات نذر آتش!!!

    عالمی مارکیٹ میں مالیت1.36ارب ڈالرکے لگ بھگ منشیات نذر آتش!!!

    پاکستان کوسٹ گارڈزنے گوادر بلوچستان میں منشیات جلانے کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔گورنر بلوچستان جناب جسٹس (ریٹائرڈ) امان اللہ خان یا سینزئی بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں اعلیٰ عسکری، سول افسران، انٹرنیشنل کیمونٹی اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
    ڈی جی کو سٹ گارڈز بریگیڈیئرثاقب قمرکا خطاب جس میں گورنمنٹ آف پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں منشیات کے خلاف اٹھائے گئے احکامات سے آگاہ کیا۔ منشیات کا ناسُور ہماری قوم خصوصاً نوجوان نسل او ر بین الاقوامی برادری کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ہم سب کو مل کر منشیات جیسی لعنت کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔ مہمان خصوصی گورنر بلوچستان جناب جسٹس(ریٹائرڈ) امان اللہ خان یا سینزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈز ملک کی ایک اہم اور قابل تعریف فورس ہے۔
    پاکستان کوسٹ گارڈز نے ملک دشمن عناصر بالخصوص منشیات اور انسانی ا سمگلروں کے خلاف نہایت اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان کوسٹ گارڈز کی طرف سے نذرآتش کی جانے والی منشیات میں 33,500کلو گرام چرس شامل تھی۔ 715کلو گرام ہیروئن،300کلو گرام کرسٹل۔ 80کلو گرام مارفین،16کلوگرام ائس۔ 50ٹن چھالیہ اور20,000 پیکٹ انڈین گٹکا۔ 4600 شراب کی بوتلیں اوربیئر کے ٹن تلف کر دیے گئے۔ نذر آتش کی جانے والی منشیات کی عالمی مارکیٹ میں مالیت1.36ارب ڈالرکے لگ بھگ ہے۔

  • ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ، وزیر اعظم

    ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ، وزیر اعظم

    وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اشیا ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی کے حوالے سے اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، سید فخر امام، مشیر ڈاکٹر عشر ت حسین، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، بنجاب کے وزیر خوراک عبدالعلیم خان، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، چیئرمین ایف بی آر اور اعلی حکام شریک۔ چیف سیکریٹری بنجاب اور خیبر پختونخوا ویڈیو لنک سے شریک تھے۔وزیر اعظم کو ملک میں گندم کی اگلے مالی سال 22-2021 کی پیداوار، کھپت اور ضروریات کے تخمینوں کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
    وزیر اعظم نے کہا کہ مستقبل کی ضروریات اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابھی سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جائیں ۔
    کوشش کی جائے کہ غریب آدمی پر مزید کسی قسم کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔ صوبوں کے مابین روابط مزید مستحکم کیے جائیں تاکہ قیمتوں میں فرق ختم کیا جا سکے۔ کھیت سے مارکیٹ تک منتقلی اور تمام دیگر عوامل میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا جائے تاکہ سسٹم کو شفاف بنایا جا سکے اور کسان اور صارفین دونوں کو اچھی قیمت مل سکے۔خورد ونوش کی اشیا کے لیے جدید خطوط پر ذخیرہ کرنے کے لیے گوداموں کی تعداد بڑھائی جائے ۔

  • اخوت منصوبے کے تحت  سال کے آخر تک 16000 گھروں کی تعمیر مکمل، وزیر اعظم ک زیر صدارت اجلاس

    اخوت منصوبے کے تحت سال کے آخر تک 16000 گھروں کی تعمیر مکمل، وزیر اعظم ک زیر صدارت اجلاس

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ملک میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور مختلف منصوبوں کی منظوریوں کے عمل میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ کم آمدنی والے افراد کے لئے حکومت کی جانب سے سماجی تنظیم اخوت کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے اخوت کو پانچ ارب روپے فراہم کیے گئے تھے۔ اس منصوبے کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے اخوت کو مزید پانچ ارب روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اخوت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے لئے ان کو مزیددو ارب روپے درکار ہیں جو کہ حکومت کی جانب سے فراہم کر دیے جائیں گے
    اجلاس کو بتایا گیا کہ اخوت منصوبے کے تحت اس سال کے آخر تک 16000 گھروں کی تعمیر مکمل ہو جائے گی۔
    چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے تعمیراتی منصوبوں کی منظوریوں کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ آباد کے نمائندے کی جانب سے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سندھ میں کم و بیش 258منصوبے منظوریوں کے منتظر ہیں ۔ آباد کی جانب سے وزیرِ اعظم سے درخواست کی گئئ کہ وفاقی حکومت زیر التوا منصوبوں کی منظوریوں کے عمل کو تیز کروانے کے حوالے سے معاونت فراہم کرے
    وزیرِ اعظم نے چیف سیکرٹری سندھ کو ہدایت کی کہ زیر التوا منظوریوں کے عمل کو تیز کیا جائے۔
    وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے نہ صرف معاشی عمل تیز ہوگا بلکہ صوبے کی عوام کو نوکریوں اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ لہذا اس پر خصوصی توجہ دی جائے۔
    وزیرِ اعظم کو مختلف ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کی جانب منظور شدہ سوسائٹیوں کی تمام تر تفصیل آن لائن فراہم کرنے کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بھی بریفنگ
    وزیرِ اعظم نے اس امر پر ضرور دیا کہ منظور شدہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائیٹیز و تعمیراتی منصوبوں کی تمام تر تفصیلات کی آن لائن اور ویب سائٹس پر فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام الناس اور خصوصا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں جو کہ ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ان کو کسی بھی دھوکے یا فراڈ سے بچایا جا سکے۔ چئیرمین سی ڈی اے کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں ون ونڈو آپریشن، اراضیوں کے حوالے سے تمام معاملات کو ڈیجیٹل کیے جانے اور تعمیراتی منصوبوں کی منظوریوں کے حوالے سے بریفنگ دی
    چئیرمین سی ڈی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ ون ونڈو آپریشن کی آٹومیشن کے حوالے سے کیس ٹریکنگ اینڈ منیجمنٹ سسٹم تشکیل دیا جا چکا ہے اس کے ساتھ ساتھ جائیدادوں کے انتقال اور تصدیق کے عمل کو بھی ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ جائیدادوں و املاک کی خرید اری کے حوالے سے سی ڈی اے کی جانب سے آن لائن پیمنٹ کا نظام متعارف کرایا جا چکا ہے۔ یکم جنوری سے اب تک 403تعمیراتی منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے جس کے تحت سی ڈی اے کو 735.5 ملین روپوں کی آمدنی ہوئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آمدنی کے علاوہ ان منظور شدہ منصوبوں پر کام کا اجرا ہونے سے اربوں روپوں کی معاشی سرگرمی پیدا ہوگی۔ وزیرِ اعظم کو وفاقی دارالحکومت میں جاری مختلف تعمیراتی منصوبوں پر عملی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی۔
    وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کے استحکام اور کورونا وبا کے اثرات سے بحالی کے لئے تعمیراتی شعبے کا فروغ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے تمام چیف سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ منظوریوں کے عمل پر مسلسل نظر رکھی جائے تاکہ یہ عمل کسی بھی قسم کی تاخیر کا شکار نہ ہو وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ نئی سوسائٹیوں اور تعمیراتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ موجودہ غیر منظور شدہ یا غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے حوالے سے بھی مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔

  • راوی سٹی منصوبہ  لاہور کی رہائشی و  دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے نہایت اہم، وزیر اعظم

    راوی سٹی منصوبہ لاہور کی رہائشی و دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے نہایت اہم، وزیر اعظم

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت لاہور میں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام اور راوی سٹی منصوبے کے حوالے سے ہفتہ وار اجلاس ہوا جس میں وزیرِاعظم کو والٹن لاہور میں قائم ہونے والے سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ گنجان آبادی کے پیش نظر لاہوروالٹن میں تربیتی پروازوں کے لئے استعمال ہونے والا ائیرپورٹ ہوائی پروازوں کے لئے غیر محفوظ بن چکا ہے۔ ان خطرات کا مستقل تدارک اور آبادی کے تحفظ کے لئے تربیتی پروازوں کے لئے استعمال ہونے والے اس ائیرپورٹ کو محفوظ مقام پر شفٹ کرنا نہایت ضروری ہے۔
    وزیرِ اعظم نے اس امر پر نہایت تشویش کا اظہار کیا کہ گذشتہ چند سالوں میں آبادی کی وجہ سے اس ائیر پورٹ پر دو تین حادثے رونما ہو چکے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
    وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے بعد اربوں روپے کی مالیت کی اس زمین کو بھرپور معاشی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔
    وزیرِ اعظم کو روای سٹی منصوبے پر اب تک پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ مجوزہ راوی سٹی میں ماحولیات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔راوی سٹی میں زراعت و کاشتکاری کے جدید طریقہ کار ورٹیکل فارمنگ کو فروغ دیا جائے گا جس سے نہ صرف پیداواری اضافہ ممکن ہوگا بلکہ زمین کا بھرپور استعمال بھی میسر آئے گا۔ مجوزہ روای سٹی تک آسان رسائی کے لئے لاہور موٹر وے سے 20 کلومیٹر طویل سڑک تعمیر کی جائے گی تاکہ یہاں کے رہائشیوں کو شہر تک آسان رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ وزیراعظم نے راوی سٹی منصوبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ راوی سٹی منصوبہ نہ صرف شہر لاہور کی رہائشی و دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے نہایت اہم منصوبہ ہے بلکہ اس سے لاہور شہر اور ملک بھر کے عوام کے لئے معاشی سرگرمیوں کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ راوی سٹی منصوبے پر پیش رفت کے حوالے سے انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

  • انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے کھانوں کے اشیاء میں ملاوٹ ہے ، رحمان ملک

    انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے کھانوں کے اشیاء میں ملاوٹ ہے ، رحمان ملک

    سابق وزیر داخلہ و چئیرمن سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک کا صحت مند خوراک کا حصول پر تربیتی سیمینار سے خطاب کیا۔ سینیٹر رحمان ملک سیمینار میں بطور مہمان خصوصی مدعو ہیں،
    صحت مند آبادی ملک کی معیار زندگی، اقتصادی اور معاشی ترقی کو بڑھاتی ہے، پاکستان میں بیماری میں اضافہ غیر محفوظ خوراک کیوجہ سے ہے، جس شرح سے پاکستان میں صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں وہ تشویشناک ہے،غیر محفوظ خوراک نئی قسم کی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں جن کا علاج مشکل ہے،محفوظ اور صحت مند خوراک کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے،ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو محفوظ اور حفظان صحت کے کھانے کی دستیابی کو یقینی بنائے، محفوظ اور صاف ستھری خوراک تمام بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کی پہلی لائن ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملکوں میں غیر محفوظ اور غیر صحتمند اشیائے خورد و نوش فروخت ہو رہے ہیں، دارالحکومت سمیت پورے ملک میں کھانے کے معیار کی نگرانی کا کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے،یہ انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ہمارے کھانوں کے اشیاء میں ملاوٹ ہے، ہماری موجودہ قانونی نظام غذا میں ملاوٹ پر قابو پانے کے حوالے سے بہت کمزور ہے،
    ریستوراں اور اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی غیر محفوظ کھانا پیش کیا جارہا ہے، اسکولوں اور کالجوں کے باہر ریڑھیوں پر غیر معیاری کھانے کی اشیاء اور مشروبات فروخت ہورہے ہیں، غیر صحتمند کھانا ہمارے بچوں کی صحت کو بھی بری طرح متاثر کررہا ہے، 2018 میں بطور چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملاوٹ شدہ دودھ اور مردہ جانوروں کے گوشت فروخت کرنے کا نوٹس لیا تھا، ملاوٹ شدہ دودھ اور مردہ جانوروں کا گوشت اسلام آباد اور راولپنڈی میں فروخت کیا جا رہا ہے، قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں قانون سازی اور آئی سی ٹی فوڈ اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی تھی، اسلام آباد و ملک کے ہر ضلع میں سلاٹر ہاؤس کے قیام کی بھی سفارش کی تھی، ملاوٹ شدہ دودھ اور مردہ جانوروں کے گوشت کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دئیے تھے، خالص فوڈ اتھارٹی بل 2019 کو میری کمیٹی کو بھیج دیا گیا تھا، کمیٹی کے اجلاس میں خالص فوڈ اتھارٹی بل 2019 پر مکمل غور و خوض کے بعد اس کی منظوری دی گئی تھی، اس بل میں دارالحکومت میں فوڈ اتھارٹی کے قیام اور عہدیداروں کی تقرری کی درخواست کی گئی تھی،
    بل میں اشیائے خوردونوش کے نظم و نسق اور انتظام کے لئے ایک جامع طریقہ کار موجود ہے، بل میں ملاوٹ اور غیر صحتمند کھانوں کے کاروبار میں ملوث افراد کے لئے سزاؤں کا تعین بھی کیا گیا، جب تک وفاقی اور صوبائی سطح پر فوڈ اتھارٹی قائم نہیں ہوتے محفوظ خوراک کا حصول ممکن نہیں، قومی سطح پر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اتھارٹی کی اشد ضرورت ہے۔

  • وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے ضلع لیہ میں 88 نئے صحت گھربنانے کی منظوری دے دی

    وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے ضلع لیہ میں 88 نئے صحت گھربنانے کی منظوری دے دی

    وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے ضلع لیہ میں 88 نئے صحت گھربنانے کی منظوری دے دی. ہر صحت گھر دس ہزارکی آبادی پرقائم کیاجارہاہے، صحت گھرمیں ڈاکٹرزاور ادویات کو یقینی بنایاجائے گا. صحت گھروں کے ذریعے غیر مستندافراداور عطائیت کے خلاف ایکشن میں مددحاصل ہوسکے گی.وزیر صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کی عوام کوان کااصل حق دلوانے میں تاریخی کرداراداکررہی ہے۔ وزیرصحت پنجاب ڈاکٹریاسمین راشدنے ضلع لیہ میں 88 نئے صحت گھربنانے کی منظوری دے دی ہے۔وزیر صحت نے یہ منظوری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں جنوبی پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی مزیدبہتری کے حوالہ سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔اجلاس میں سیکرٹری صحت برسٹر نبیل اعوان،سیکرٹری جنوبی پنجاب محمد اجمل بھٹی،ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیراینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹرآصف طفیل، میاں زاہدالرحمن باٹہ اور ایڈیشنل سیکرٹری جنوبی پنجاب ڈاکٹرشاہدلطیف نے شرکت کی۔سیکرٹری صحت جنوبی پنجاب محمد اجمل بھٹی نے وزیر صحت کوجنوبی پنجاب میں صحت انصاف کارڈزکی تقسیم اور ضلع لیہ میں نئے صحت گھرکے منصوبہ کی تفصیلا ت پیش کیں۔
    صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ لیہ کی عوام کو 88 نئے صحت گھروں کی شکل میں ایک بہترین تحفہ دے رہے ہیں۔صحت گھروں کے منصوبہ کی نگرانی سیکرٹری صحت جنوبی پنجاب محمد اجمل بھٹی کریں گے۔ہر صحت گھر دس ہزارکی آبادی پرقائم کیاجارہاہے۔ڈاکٹریاسمین راشدنے کہاکہ ہر صحت گھرمیں ڈاکٹرزاور ادویات کو یقینی بنایاجائے گا۔صحت گھروں میں ڈاکٹرز،ڈسپنسززاور لیڈی ہیلتھ ورکرزفرائض سرانجام دیں گے۔صحت گھروں کے ذریعے غیر مستندافراداور عطائیت کے خلاف ایکشن میں مددحاصل ہوسکے گی۔وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارکے ویژن کے مطابق جنوبی پنجاب کی عوام کو صحت کے شعبہ میں بہترسہولیات فراہم کریں گے۔صوبائی وزیر صحت نے مزیدکہاکہ جنوبی پنجاب کی عوام نے ماضی میں ہمیشہ خاندانی سیاستدانوں سے دھوکہ کھایاہے۔تحریک انصاف کی حکومت جنوبی پنجاب کی عوام کوان کااصل حق دلوانے میں تاریخی کرداراداکررہی ہے۔جنوبی پنجاب کی تین ڈویژنزملتان،ڈی جی خان اور بہاول پورمیں صحت کی بہترسہولیات کویقینی بنایاجارہاہے۔عمران خان کے سپاہی ہونے کے ناطے عوامی خدمت پرمکمل یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان پنجاب کی عوام کیلئے صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیداکرناچاہتے ہیں۔جون 2021تک ڈی جی خان اور ساہیوال ڈویژنزکے تمام خاندانوں میں صحت سہولت کارڈزتقسیم کردئیے جائیں گے۔

  • سینیٹ الیکشن تحریک انصاف کا ہے،  سبطین خان

    سینیٹ الیکشن تحریک انصاف کا ہے، سبطین خان

    سبطین خان کا کہنا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کا دور گزر چکا، 3 مارچ کو جمہوریت اور کرپشن کا مقابلہ ہوگا۔ سینٹ الیکشن تحریک انصاف کا، پی ڈی ایم کو ٹف ٹائم دیں گے۔
    نیا بلدیاتی نظام عمران خان کے ویژن کے عین مطابق اور عوامی نظام ہوگا۔ صوبائی وزیر سردار محمد سبطین خان اور مختلف اضلاع کے اراکین اسمبلی کے مابین گذشتہ روز اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی معاملات اور بالخصوص سینیٹ الیکشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر سینیٹ انتخابات بارے لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ اراکین اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے سبطین خان نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن تحریک انصاف کا ہے۔ 3 مارچ کو جمہوریت اور کرپشن کا مقابلہ ہوگا جس میں جمہوریت ہی فتح یاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 3 مارچ کو کسی کو الیکشن خریدنے نہیں دیا جائے گا۔ پی ڈی ایم کو ٹف ٹائم دیں گے اور اپوزیشن اتحاد کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔ سبطین خان نے مزید کہا کہ اپوزیشن اوپن بیلٹ انتخاب سے خوفزدہ ہے۔ انہیں معلوم ہو چکا کہ اوپن بیلٹ میں ان کی دال نہیں گلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کا دور گزر چکا، اب پاکستان کو کرپشن اور کرپٹ عناصر سے پاک کرنے، نئی روایات اور ایمانداری کے کلچر کے پنپنے اور عملی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا وقت ہے۔ عمران خان کی قیادت میں اس جانب سفر شروع ہے۔ اراکین اسمبلی عمران خان کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں۔ سبطین خان نے کہا کہ عمران خان ہی کی قیادت میں کرپشن کا بوریا بستر گول کرکے اس ملک کو حقیقی معنوں میں ریاست مدینہ بنایا جائے گا۔ اس موقع پر سبطین خان اور اراکین اسمبلی کے مابین بلدیاتی انتخابات پر بھی گفتگو ہوئی جس میں صوبائی وزیر نے بتایا کہ نیا بلدیاتی نظام وزیر اعظم عمران خان کے منشور اور ویژن کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح منتقلی اور مقامی سطح پر مسائل کے حل میں معاون ثابت ہونے والا ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ بلدیاتی انتخابات میں بھی جمہوریت اور خدمت کو فتح ملے گی

  • سردار عثمان بزدار نے صوبے میں مزید 5 مدر اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتالوں کے منصوبوں کی منظوری دے دی

    سردار عثمان بزدار نے صوبے میں مزید 5 مدر اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتالوں کے منصوبوں کی منظوری دے دی

    بزدار حکومت کے زچہ و بچہ کو معیاری ہیلتھ کیئر کی فراہمی کیلئے اہم فیصلے،مزید 5 مدر اینڈ چائلڈ ہسپتالوں کے منصوبوں کی منظوری دے دی۔ اٹک، لیہ، راجن پور، بہاولنگر اور سیالکوٹ میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتالوں کی تعمیر پر28 ارب روپے لاگت آئیگی۔ معیاری علاج معالجے کی سہولتوں تک رسائی زچہ و بچہ کا حق ہے، ہسپتالوں کے منصوبو ں سے متعلقہ امو رکو جلد نمٹانے کی ہدایت
    ان ہسپتالوں کے منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا خود جائزہ لوں گا، وسائل کی فراہمی میں کمی نہیں آنے دیں گے 8 مارچ سے 60 برس سے زائد عمر کے افراد کو کورونا ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا، 75 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جائیگی۔ بزرگ افراد کو ویکسین لگانے کیلئے اضلاع میں خصوصی سینٹرز بنائے جائینگے، سینٹرز پر ضروری سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ لاہور میں پری فیبریکیٹڈ انفیکشن ڈیزیز کا ہسپتال بنانے کی تجویز،وزیراعلیٰ کی ہسپتال بنانے کی تجویز کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیرصدارت اجلاس، عوام کو معیاری علاج معالجہ کی فراہمی کیلئے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبے میں مزید 5 مدر اینڈ چائلڈ کیئر ہسپتالوں کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ 5 ہسپتالوں کی تعمیر کے منصوبوں پر تقریباً 28 ارب روپے لاگت آئے گی۔ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال اٹک، لیہ، راجن پور، بہاولنگر اور سیالکوٹ میں بنائے جائیں گے اور ان ہسپتالوں کے منصوبوں کا جلد سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال اگلے دو برس میں مکمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے کیونکہ معیاری علاج معالجے کی سہولتوں تک رسائی زچہ و بچہ کا حق ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ محکمہ صحت اور متعلقہ محکمے مدر اینڈچائلڈ ہسپتالوں کے منصوبو ں سے متعلقہ امو رکو جلد نمٹائیں۔ان ہسپتالوں کے منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کا خود جائزہ لوں گا۔ ہسپتالوں کی تعمیر کے حوالے سے وسائل کی فراہمی میں کمی نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 8 مارچ سے صوبے میں 60 برس سے زائد عمر کے افراد کو کورونا ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا اور پنجاب میں 60 برس سے زائد عمر کے تقریباً 75 لاکھ افراد کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی۔بزرگ افراد کو ویکسین لگانے کیلئے اضلاع میں خصوصی سینٹرز بنائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے خصوصی سینٹرز پر ضروری سہولتیں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی خصوصی سینٹرز کا وزٹ کرکے سہولتوں کا جائزہ لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 47 ہزار فرنٹ لائن ہیلتھ پروفیشنلز کو کورونا ویکسین لگائی جا چکی ہے اور سوا دو لاکھ ہیلتھ پروفیشنلز کی رجسٹریشن ہو چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہیلتھ پروفیشنلز کو کورونا ویکسین لگانے کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ فرنٹ لائن ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ہیلتھ پروفیشنلز کورونا وباء میں مثالی کام کررہے ہیں اور پنجاب حکومت ڈاکٹروں،نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی خدمات کی معترف ہے۔اجلاس میں لاہور میں پری فیبریکیٹڈ انفیکشن ڈیزیز کا ہسپتال بنانے کی تجویز پیش کی گئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پری فیبریکیٹڈہسپتال بنانے کی تجویز کا جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت پری فیبریکیٹڈ ہسپتال کے قیام کے حوالے سے جلد حتمی سفارشات پیش کرے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیرصدارت آج وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے عوام کو معیاری علاج معالجہ فراہم کرنے کیلئے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو 5 اضلاع میں مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال تعمیر کرنے کے منصوبوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب میں 24 گھنٹے میں کورونا کے 583 نئے کیس سامنے آئے جبکہ کورونا کے 40 مریض انتقال کر گئے اور پنجاب میں اب تک 5308 کورونا مریضوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں 16002 کورونا ٹیسٹ کئے گئے اور پنجاب میں اب تک 3245203 ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر و میڈیکل ایجوکیشن، سیکرٹری پرائمری و سکینڈری ہیلتھ، سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

  • منسٹر کالونی میں موسم بہار کے حوالے سے نئی شجر کاری کی جائے گی ،شیخ رشید احمد

    منسٹر کالونی میں موسم بہار کے حوالے سے نئی شجر کاری کی جائے گی ،شیخ رشید احمد

    وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے منسٹر کالونی اسلام آباد میں شجر کاری مہم کا آغاز کر دیا. شجر کاری مہم کا آغاز وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے آج پودا لگا کر کیا۔ منسٹر کالونی میں موسم بہار کے حوالے سے نئی شجر کاری کی جائے گی۔ماحولیات میں بہتری کے لئے ایک نئے سمال سکیل پارک کی بھی منظوری دی گئی ہے۔سی ڈی اے پارک اور جاگنگ ٹریک بنائے گا۔پارک ایک سمال سکیل پر تعمیر ہوگا۔کالونی میں غیر آباد جگہ کو پارک کے لئے بروئے کار لایا جائیگا۔پرندوں کی افزائش اور پناہ گاہوں کے لئے پھل دار درخت لگائے جائینگے۔منسٹر کالونی کو برڈ فرینڈلی بنایا جائیگا۔پرندوں کی پناہ گاہوں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی۔پارک اور شجر کاری کا کام دو ماہ میں مکمل کیا جائیگا۔

  • این سی او سی کے غلط فیصلے نے کورونا کے بڑھنے کی گھنٹی بجا دی

    این سی او سی کے غلط فیصلے نے کورونا کے بڑھنے کی گھنٹی بجا دی

    این سی او سی کا تمام سکول، کالجز، پارکس اورہوٹلز وغیرہ کھولنے کا فیصلہ ایک غلط فیصلہ ہے جس نے کورونا کے بڑھنے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پی ایم اے سمجھتی ہے کہ ہسپتالوں کے اعدادوشمار یہ واضح کر رہے ہیں کہ کورونا کے پھیلنے کی شرح بدستور بڑھ رہی ہے اور شرح اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آج بھی لاہور کے ہسپتالوں کے آئی سی یو وارڈز میں کرونا کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک موجود ہے۔ سو فیصد حاضری کے ساتھ سکول کھولنے سے جب یہ بچے بیماری لے کر گھروں میں جائیں گے تو اِن کی وجہ سے بزرگوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی شرح بڑھ جائے گی۔اور پاکستان کا موجود کھوکھلا صحت کا نظام اس قابل نہیں ہے کہ وباء کے بڑھنے کی صورت میں احسن طریقے سے اس کا مقابلہ کر سکے
    ان خیالات کا اظہارپی ایم اے ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی صدر پی ایم اے لاہور نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر ملک شاہد شوکت، ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری،پروفیسر ڈاکٹر تنویر انور،پروفیسر خالد محمود خان، ڈاکٹرارم شہزادی، ڈاکٹر واجد علی، ڈاکٹر بشریٰ حق،ڈاکٹر احمد نعیم،پروفیسر ڈاکٹرثاقب سہیل،ڈاکٹر رانا سہیل، ڈاکٹر ریاض ذوالقرنین اسلم، ڈاکٹر طلحہ شیروانی، ڈاکٹرسلمان کاظمی نے شرکت کی۔
    عہدیدان نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سیکٹرز کو کھولنے کے اعلان پر نظر ثانی کی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔