Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہوری صحافی  کےجسمانی ریمانڈ  میں توسیع

    برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہوری صحافی کےجسمانی ریمانڈ میں توسیع

    ضلع کچہری لاہور، برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات کا معاملہ،ایف آئی اے نے ملزم کو عدالت پیش کر دیا گیا

    ایف آئی اے کی جانب سے گرفتار ملزم فرحان آصف نےمزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ،تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم سے ریکوری کرنی ہے اور ٹویٹس کے متعلق تفتیش کرنی ہے ،عدالت ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرے ، عدالت نے کہا حکم دیا کہ ملزم کی آئندہ تفتیشی رپورٹ عدالت پیش کیاجائے عدالت عدالت نے ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ کو منظور کر لیا،ایف آئی اے نے 1 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ملزم کو عدالت میں پیش کیا ،ملزم کیخلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کے تحت درج کیا گیا

    فرحان آصف پر مقدمہ درج، موبائل ،لیپ ٹاپ برآمد،جرم کا اعتراف کرلیا
    قبل ازیں برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات کو ہواد ینے پر لاہوری صحافی فرحان آصف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا،فرحان آصف پر ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،مقدمہ سائبر کرائم کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کو شامل کیا گیا ہے،درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ دوران تحقیقات ملزم فرحان آصف نے جرم کا اعتراف کیا ہے، ملزم نے ایکس اکاؤنٹ پربرطانیہ میں چاقو زنی واقعے کی تصاویر شیئر کیں، ایکس اکاؤنٹ ہینڈلر نے ویب سائٹ پر آرٹیکل بھی پوسٹ کیا،آرٹیکل میں 17 سالہ علی ال شکاتی کو چاقوزنی واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا، آرٹیکل میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ گرفتار ہونے والا مسلم ہے،آرٹیکل میں حملہ آور کو برطانیہ میں پناہ گزین بھی بتایا گیا،لاہور صحافی ،فری لانسر فرحان آصف کے سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے کی وجہ سے فسادات پھیلے،ہنگامہ آرائی ہوئی، ایکس اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت فرحان آصف کے نام سے ہوئی، اس نے غیر ملکی چینل کو غلط معلومات دینے کا بھی اعتراف کیا ، معلومات میں ملزم نے الزام دیگر لوگوں پر عائد کرنے کی کوشش کی، دوران تفتیش ایکس اکاؤنٹ ملزم کا ہی ہونے کی تصدیق کی گئی، ملزم سے دو لیپ ٹاپ اور ایک موبائل فون برآمد کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فرحان آصف نے اپنی پوسٹ میں بچیوں پر حملہ کرنے والے کا نام شکتی علی پوسٹ کیا، ملزم نے برطانیہ میں ہونے والے واقعے پر لگائی پوسٹ اور ویڈیو دوسرے پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کی کوشش کی، ملزم نے صرف ایک بار بیرون ملک کا دورہ کیا تھا،ملزم نے غلط اور فیک خبروں کے ذریعے کمائی کی، ملزم نے کچھ پوسٹس کو رپورٹ ہونے کے بعد ڈیلیٹ بھی کیا،ملزم کبھی برطانیہ نہیں کیا گیا، اسکا وہاں ایک خاتون سے رابط تھا ملزم ماہانہ تین سے چار لاکھ روپے کما رہا تھا،

    برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہوری صحافی کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہوری صحافی کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات کے معاملے میں ایف آئی اے نے گرفتار ملزم فرحان آصف کو عدالت پیش کر دیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم فرحان آصف کا ایک دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،جج نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ ملزم سے جلد اَز جلد تفتیش مکمل کی جائے۔ ایف آئی اے نے ملزم کا چودہ دن کا جسمانی ریمانڈ مانگا تھا،ملزم کے مقدمہ پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کے تحت درج کیا گیا

    فرحان آصف پر مقدمہ درج، موبائل ،لیپ ٹاپ برآمد،جرم کا اعتراف کرلیا
    قبل ازیں برطانیہ میں فیک نیوز کے ذریعے فسادات کو ہواد ینے پر لاہوری صحافی فرحان آصف کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا،فرحان آصف پر ایف آئی اے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،مقدمہ سائبر کرائم کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 اور 10 اے کو شامل کیا گیا ہے،درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ دوران تحقیقات ملزم فرحان آصف نے جرم کا اعتراف کیا ہے، ملزم نے ایکس اکاؤنٹ پربرطانیہ میں چاقو زنی واقعے کی تصاویر شیئر کیں، ایکس اکاؤنٹ ہینڈلر نے ویب سائٹ پر آرٹیکل بھی پوسٹ کیا،آرٹیکل میں 17 سالہ علی ال شکاتی کو چاقوزنی واقعے کا ذمے دار قرار دیا گیا، آرٹیکل میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ گرفتار ہونے والا مسلم ہے،آرٹیکل میں حملہ آور کو برطانیہ میں پناہ گزین بھی بتایا گیا،لاہور صحافی ،فری لانسر فرحان آصف کے سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے کی وجہ سے فسادات پھیلے،ہنگامہ آرائی ہوئی، ایکس اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت فرحان آصف کے نام سے ہوئی، اس نے غیر ملکی چینل کو غلط معلومات دینے کا بھی اعتراف کیا ، معلومات میں ملزم نے الزام دیگر لوگوں پر عائد کرنے کی کوشش کی، دوران تفتیش ایکس اکاؤنٹ ملزم کا ہی ہونے کی تصدیق کی گئی، ملزم سے دو لیپ ٹاپ اور ایک موبائل فون برآمد کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فرحان آصف نے اپنی پوسٹ میں بچیوں پر حملہ کرنے والے کا نام شکتی علی پوسٹ کیا، ملزم نے برطانیہ میں ہونے والے واقعے پر لگائی پوسٹ اور ویڈیو دوسرے پلیٹ فارم سے منسلک کرنے کی کوشش کی، ملزم نے صرف ایک بار بیرون ملک کا دورہ کیا تھا،ملزم نے غلط اور فیک خبروں کے ذریعے کمائی کی، ملزم نے کچھ پوسٹس کو رپورٹ ہونے کے بعد ڈیلیٹ بھی کیا،ملزم کبھی برطانیہ نہیں کیا گیا، اسکا وہاں ایک خاتون سے رابط تھا ملزم ماہانہ تین سے چار لاکھ روپے کما رہا تھا،

    برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان بارےجھوٹی خبریں دینے والوں‌کو گرفتارکیا جائے ، مبشر لقمان

    برطانوی فسادات کو ہوا دینے والے لاہور کے شہری فرحان آصف کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، فرحان آصف کو لاہور سے گرفتار کیا گیا، فرحان آصف نے ویب سائٹ پر جعلی خبر شائع کی تھی جس سے برطانیہ میں فسادات میں تیزی آئی تھی، لاہور پولیس نے تصدیق کی ہے فرحان آصف کو گرفتار کر کے ایف آئی اےکی تحویل میں دے دیا گیا ہے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے فیک نیوز دینے والے فرحان آصف کی گرفتاری کے حوالہ سے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "برطانیہ کے بارے میں جھوٹی خبریں دینے والا فرحان آصف لاہور سے گرفتار ،برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان کے بارے میں مسلسل جھوٹی خبریں دینے والوں کا کیا ہوگا؟ ان کو بھی گرفتار کیا جائے”

    واضح رہے کہ برطانیہ میں عمران خان کے قریبی ساتھی اور عمران حکومت کے وزیر مرزا شہزاد اکبر،ڈاکٹر شہباز گل سمیت دیگر موجود ہیں جو آئے روز فیک خبریں سوشل میڈیا پر دیتے رہتے ہیں، تحریک انصاف ملک دشمنی میں بہت آگے نکل چکی ہے، سوشل میڈیا پر برطانیہ میں بیٹھے تحریک انصاف کے حامی پاکستانی اداروں کے خلاف جھوٹی خبریں دیتے ہیں اور پروپیگنڈہ کرتے نظر آتے ہیں، بھگوڑا عادل راجہ بھی بیرون ملک ہے اور وہ بھی اس گینگ کا حصہ ہے جو پاکستان بارے جھوٹی خبریں پھیلا کر پروپیگنڈہ کرتے ہیں، حیدر مہدی بھی اسی گینگ میں شامل ہے، پاکستان میں اس گینگ کے کئی افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں تو کئی مقدمات میں اشتہاری ہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستا ن بارے فیک نیوز دینے والے ایسے افراد کو برطانوی حکومت حراست میں لے گی یا نہیں کیونکہ پاکستان نے تو کاروائی کی ہے اور فرحان آصف کو گرفتار کیا ہے، اب برطانوی حکومت کو بھی چاہئے کہ ایسے افراد جو پاکستان دشمنی پر مبنی فیک نیوز دے کر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں انکو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کیا جائے،

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار

    برطانیہ میں غلط معلومات پھیلا کر فسادات کو ہوا دینے والےلاہور ی صحافی کو گرفتار کر لیا گیا

    ویب سائٹ کے لئے کام کرنے والے لاہوری صحافی جس کی شناخت فرحان آصف کے نام سے ہوئی ہے، کو پولیس نے ڈیفنس سے گرفتار کیا ہے، پولیس افسران نےفرحان آصف سے تحقیقات کی بیان قلمبند کیا بعد ازاں مزید تحقیقات کے لئے ملزم کو ایف آئی اے کے حوالے کر دیا گیا، کیس میں مزید تفتیش اور حقائق سامنے لانے کے لیے ایف آئی اے ازسر نو تفتیش کرے گی۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق تفتیش کار چاہتے ہیں کہ حکومت برطانیہ کے نشریاتی ادارے آئی ٹی وی نیوز کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے، جس نے لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک فری لانسر پر الزام لگایا تھا ،پیش رفت سے باخبر افسران نے ڈان کو بتایا کہ ان کی اپنی تحقیقات نے انہیں اس نتیجے پر پہنچایا کہ فرحان آصف ، جو چینل تھری ناؤ پلیٹ فارم سے وابستہ ایک فری لانس ویب ڈویلپر ہے جس پر غلط معلومات پوسٹ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے، اس جعلی خبر کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ سوشل میڈیا سے پوسٹ کاپی پیسٹ کی گئی تھی، پولیس افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ "الزامات کو ہلکے سے نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ یہ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی بالخصوص اور عام طور پر مسلمانوں پر دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔”

    تفتیش کار چاہتے ہیں کہ جے آئی ٹی ‘سنگین’ الزامات کی تحقیقات کرے۔ کہتے ہیں کہ چینل تھری ناؤفری لانس جعلی دعووں کا ‘بنیادی ذریعہ’ نہیں تھا۔فتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہ غلط معلومات سب سے پہلے 29 جولائی کو ایک غیر معروف ٹیبلوئڈ kossyderrickent.com نے شائع کی تھی۔ٹیبلوئڈ جنوبی افریقہ، نائیجیریا، کینیا، یوگنڈا، امریکہ، زمبابوے اور ہندوستان میں مشہور شخصیات اور رجحان ساز موضوعات کے بارے میں رپورٹس شائع کرتا ہے۔ہ اس کے بعد یہ غلط معلومات برطانیہ میں مقیم ایک خاتون نے شیئر کی، جو اس سے قبل ایکس پر کرونا اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے میں ملوث رہی ہے۔زیربحث خاتون کا ایکس اکاؤنٹ بھی غیر فعال لگتا ہے، آخری پوسٹ 7 اگست کو کی گئی تھی۔

    فرحان آصف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اب غیر فعال کر دیے گئے ہیں، اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ یا مشتبہ لین دین کی تاریخ نہیں ہے۔فرحان آصف نے غلطی کا احساس کرتے ہوئے معافی نامہ جاری کیا اور تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا تھا

    farhan

    قبل ازیں برطانوی قصبوں اور شہروں میں نسلی فسادات کو ہوا دینے کا الزام لگانے والی ایک ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے،ویب سائٹ کو منگل کی سہ پہر کو آف لائن لیا گیا تھا، پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے شہری فرحان آصف نے گزشتہ ماہ ساؤتھ پورٹ میں اسکول کی تین لڑکیوں کے قتل کے جھوٹے دعووں کے بعد پھوٹنے والے تشدد کے ذمہ دار ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا: "مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح کا ایک چھوٹا سا مضمون یا معمولی ٹویٹر اکاؤنٹ کس طرح وسیع الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔

    خبر رساں ادارے آئی ٹی وی نیوز کے ساتھ دو بات چیت میں، فرحان آصف نے کئی بار ایک آزاد مصنف ہونے کا دعویٰ کیا او ر کہا کہ مضمون سے کوئی تعلق نہیں تھا،لیکن آئی ٹی وی نیوز کے ذریعے دریافت کیے گئے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جھوٹی خبروں کو فروغ دینے والی نیوز ویب سائٹس کے نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ چینل تھری ناؤ ویب سائٹ کس کے پاس رجسٹرڈ ہے کیونکہ اس کے ڈومین کی معلومات کو گمنام رکھا گیا ہے – لیکن یہ متعدد دیگر ‘نیوز’ ویب سائٹس کے ساتھ ایک مشترکہ اشتہاری اکاؤنٹ شیئر کرتی ہے، جن میں دو Fox3Now اور Fox7Now نامی ہیں۔ان دیگر سائٹوں کے ملکیتی ریکارڈ عوامی رہے ہیں ، دونوں فرحان آصف کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔

    برطانیہ میں فسادات کو ہوا دینے والےلاہوری فرحان آصف کے خلاف کاروائی کا مطالبہ
    برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کا باعث بننے والی غلط معلومات کا مرکزی مصنف لاہور کی ایک کمپنی تھی جس کی ملکیت فرحان آصف کے پاس ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک خبر ہے،فرحان آصف کے لالچی اور گھٹیا حرکتوں پر نہ تو مجھے ،نہ ہی کسی اور کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے تاہم یہ تمام پاکستانیوں کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔ اس آدمی اور اس کی لاہور میں قائم ‘چینل 3 ناؤ’ کمپنی کو جان کر بہت مایوسی ہوئی ہے کہ ہم نے اس کے مکروہ کلک بٹ کے ذریعے وہ خوفناک مناظر تخلیق کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان کے میڈیا ریگولیٹر اور نظام انصاف کو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ اگرچہ اس نے اس کلک بٹ کی غلط معلومات سے لاکھوں کمائے ہیں، اس نے لاکھوں برطانوی مسلمانوں اور خاص طور پر مہاجرین اور پناہ کے متلاشیوں میں خوف پیدا کیا ہے

    برطانوی فسادات میں لاہوری نوجوان بھی ملوث نکلا
    برطانیہ میں فسادات کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، عدالتیں ملزمان کو سزائیں سنا رہی ہیں اورجیل بھجوا رہی ہیں ایسے میں برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں ہونے والے حالیہ فسادات میں لاہور کا ایک نوجوان بھی ملوث ہے، بی بی سی کے مطابق نووا سکوٹیا کا ایک ہاکی پلئیراور امریکا، ٹیکساس کا ایک شہری بھی برطانوی فسادات میں ملوث ہے، ان ملزمان کا تعلق چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے ہے جس میں خبر شائع ہونے کے بعد برطانیہ میں فسادات کا آغاز ہوا تھا، ملزمان نے خبر میں ساؤتھ پورٹ شہر میں تین بچیوں کے 17 سالہ قاتل کا جھوٹا نام لکھا اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلایا، اسی ویب سائٹ نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ حملہ آور پناہ گزین ہے جو ایک سال قبل غیر قانونی طریقے سے کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا جو کہ غلط دعویٰ تھا،اس ویب سائٹ پر ملزمان کی جانب سے خبر شائع کر کے سوشل میڈیا پر پھیلانے کے بعد مسلمانوں کی آبادی اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور حملے کئے گئے

    بی بی سی نے چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کی نشان دہی کرنے کے بعد ان کے دوستوں اور ساتھیوں سے بات کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ یہ افراد حقیقت میں وجود رکھتے ہیں،چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ دراصل سوشل میڈیا پر جرائم کی خبریں شائع کرکے پیسے بنا رہی ہے

    لاہوری نوجوان جس کی شناخت فرحان کے طور پر ہوئی ہے وہ چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے وابستہ تھا،بی بی سی کے مطابق تحقیقاتی صحافی کا کہنا ہے کہ ” انہیں نووا سکوٹیا کے ہاکی کھلاڑی جیمز کا نام اور تصویر ملی جس کے بعد فیس بک پر ان کا اکاؤنٹ تلاش کیا گیا جہاں ان کے چار آن لائن دوستوں میں سے ایک کا نام فرحان تھا، فرحان کے فیس بک اکاؤنٹ سے پتہ چلا کہ وہ چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ کے لئے بطور صحافی کام کرتا ہے اور لاہور کا رہائشی ہے

    فرحان، جو پاکستان میں مقیم ہیں، کی تصدیق سابق ساتھیوں نے کی اور سوشل میڈیا پر اس کے اسلامی عقیدے اور بچوں کے بارے میں پوسٹ موجود ہیں۔ اس کا نام جھوٹے مضمون سے منسلک نہیں ہے تاہم وہ اس ویب سائٹ کے لیے کام کرتا ہے، فرحان نے رابطہ کیے جانے کے فوراً بعد بی بی سی کے تحقیقاتی صحافی کو انسٹاگرام پر بلاک کر دیا۔

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • وزیراعظم   سے   آکسفورڈ یونین کے نو منتخب صدر اسرار خان کاکڑ کی ملاقات

    وزیراعظم سے آکسفورڈ یونین کے نو منتخب صدر اسرار خان کاکڑ کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان سے تعلق رکھنے والے، یو کے کی معروف یونیورسٹی آکسفورڈ میں آکسفورڈ یونین کے نو منتخب صدر اسرار خان کاکڑ کی ملاقات ہوئی ہے
    وزیراعظم نے اسرار خان کاکڑ کو بیرونِ ملک پاکستان کا نام روشن کرنے پر سراہا۔اسرار خان کاکڑ نے وزیرِ اعظم کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔وزیراعظم شہبا ز شریف کا کہنا تھا کہ ”پاکستان ایجوکیشن اینڈاؤمنٹ فنڈ کا قیام عمل میں آچکا ہے، جس کی بدولت غریب گھرانوں کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اس فنڈ میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے 20 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔“

    ملاقات کے دوران اسرار خان کاکڑ نے وزیراعظم شہباز شریف کو آکسفورڈ یونین میں خطاب کی دعوت دے دی،وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کا انتھک محنت سے اپنے تمام تعلیمی مراحل میں وظائف حاصل کرنا اور آکسفورڈ یونین کا صدر منتخب ہونا قابل فخر ہے۔اسرار کاکڑ جیسے باصلاحیت نوجوان ہی پاکستان کے پائیدار اور روشن مستقبل کے ضامن ہیں۔

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • برطانیہ ،مسجد بارے نفرت انگیز پوسٹ کرنیوالی خاتون سمیت دیگر کو سزائیں

    برطانیہ ،مسجد بارے نفرت انگیز پوسٹ کرنیوالی خاتون سمیت دیگر کو سزائیں

    برطانیہ میں فسادات کے بعد ملزمان کو سزائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے،

    برطانیہ کے علاقے ساؤتھ پورٹ میں چاقو زنی کے بعد فسادات ہوئے تو پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا اور عدالتوں میں پیش کرنا شروع کیا، عدالتوں کی جانب سے ملزمان کو سزائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے،برطانوی عدالت نے پرتشدد مظاہروں کے دوران مسجد سے متعلق نفرت انگیز سوشل میڈیا پوسٹ پر 53 سالہ خاتون کو 15 مہینے قید کی سزا سنائی ہے،فسادات کے دوران خاتون جس کی شناخت جولی سیوینی کے طور پر ہوئی اس نے مسجد کے حوالہ سے نفرت انگیز پوسٹ سوشل میڈیا پر کی تھی، خاتون نے عدالت میں کہا کہ اسکامقصد خوف پھیلانا نہیں تھا، تسلیم کرتی ہوں کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کردوں گی

    برطانوی عدالتوں میں 26 برس کے کونر وائیٹلی اور 49 سال کے ٹریور لائیڈ کو بھی نسل پرستی اور پرتشدد ہجوم کو بڑھاوا دینے کے الزامات پر 3-3 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،60 سال کے گلین گیسٹ کو جنوبی یارک شائر میں پولیس اہلکار کو گھسیٹنے کے جرم میں 2 سال 8 ماہ قید کی سزائی گئی،34 سال کے ڈومینک کپالڈی کو برسٹل میں ہنگامہ آرائی پر 34 ماہ قید کی سزا سنائی گئی،ایک شخص کو ایک مسلم بس ڈرائیورپر تھوکنے اور اسے نسل پرستانہ گالی دینے کی پاداش میں ۱۰؍ ماہ کی قید کی سزا دی گئی ہے،

    دوپہر کے بنگو سیشن کے بعد ہارٹل پول میں فسادات میں شامل ہونے والے ایک جوڑے کو دو سال اور دو ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔54 سالہ اسٹیون میلن اور ان کے ساتھی ریان شیرز، 29، نے 31 جولائی کو 200 افراد کے اجتماع میں حصہ لینے کے بعد پرتشدد انتشار کا اعتراف کیا۔سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ یہ جوڑا "ہجوم میں سب سے آگے” تھا

    واضح رہے کہ برطانیہ میں فسادات اور پر تشدد مظاہروں کا حالیہ سلسلہ تب شروع ہوا جب 29 جولائی کو برطانیہ کے شمال مغرب ميں واقع شہر ساؤتھ پورٹ ميں چاقو سے کیے گئے ایک حملے میں تین بچیاں ہلاک ہو گئیں۔ اس واقعے میں مزید پانچ بچے زخمی بھی ہوئے تھے،اس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ جھوٹی افواہ پھیل گئی کہ اس واقعے میں مشتبہ حملہ آور ایک مسلمان اور پناہ گزین ہے، تاہم بعد میں یہ واضح ہوا کہ مشتبہ شخص دراصل ایک برطانوی شہری ہے، جس کی شناخت سترہ سالہ ايکسل روداکوبانا کے طور پر کی گئی، برطانوی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ايکسل روداکوبانا کے والدین کا تعلق روانڈا سے ہے،

    جرمن نیوز ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد میں سے کئی کو ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا، ان میں شامل ایک انیس سالہ نوجوان کو دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے، ایک اور شخص کو ایک پولیس اہلکار پر حملہ کرنے کے اعتراف کے بعد سزا دی گئی، ایک پندرہ سالہ لڑکے نے، جس کی شناخت ایک ٹک ٹاک ویڈیو کے ذریعے کی گئی تھی، لورپول میں تشدد اور بد امنی کے واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ اسی طرح مزید ایک شخص نے فیس بک پر دھمکی آمیز پوسٹ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس پوسٹ کا مقصد نسلی بنیادوں پر نفرت پھیلانا تھا،رپورٹ کے مطابق مسلمانوں اور پناہ گزینوں کےخلاف حالیہ مظاہروں اور فسادات کو برطانیہ میں گزشتہ تقریباﹰ ایک دہائی کے عرصے میں ہونے والی بدترین بد امنی قرار دیا جا رہا ہے، ان فسادات کے دوران مختلف شہروں میں مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور مساجد پر حملے کیے، انہوں نے کم از کم ایسے دو ہوٹلوں پر بھی حملے کیے جہاں پناہ گزین مقیم ہیں۔

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • برطانیہ میں فسادات کو ہوا دینے والےلاہوری فرحان آصف کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

    برطانیہ میں فسادات کو ہوا دینے والےلاہوری فرحان آصف کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

    برطانیہ میں فسادات کو ہوا دینے کا الزام لگانے والی ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے

    برطانوی قصبوں اور شہروں میں نسلی فسادات کو ہوا دینے کا الزام لگانے والی ایک ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے،ویب سائٹ کو منگل کی سہ پہر کو آف لائن لیا گیا تھا، پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے شہری فرحان آصف نے گزشتہ ماہ ساؤتھ پورٹ میں اسکول کی تین لڑکیوں کے قتل کے جھوٹے دعووں کے بعد پھوٹنے والے تشدد کے ذمہ دار ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا: "مجھے نہیں معلوم کہ اس طرح کا ایک چھوٹا سا مضمون یا معمولی ٹویٹر اکاؤنٹ کس طرح وسیع الجھن کا باعث بن سکتا ہے۔

    خبر رساں ادارے آئی ٹی وی نیوز کے ساتھ دو بات چیت میں، فرحان آصف نے کئی بار ایک آزاد مصنف ہونے کا دعویٰ کیا او ر کہا کہ مضمون سے کوئی تعلق نہیں تھا،لیکن آئی ٹی وی نیوز کے ذریعے دریافت کیے گئے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ جھوٹی خبروں کو فروغ دینے والی نیوز ویب سائٹس کے نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ چینل تھری ناؤ ویب سائٹ کس کے پاس رجسٹرڈ ہے کیونکہ اس کے ڈومین کی معلومات کو گمنام رکھا گیا ہے – لیکن یہ متعدد دیگر ‘نیوز’ ویب سائٹس کے ساتھ ایک مشترکہ اشتہاری اکاؤنٹ شیئر کرتی ہے، جن میں دو Fox3Now اور Fox7Now نامی ہیں۔ان دیگر سائٹوں کے ملکیتی ریکارڈ عوامی رہے ہیں ، دونوں فرحان آصف کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔

    Fox3Now اور Fox7Now کو گزشتہ سال قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی براڈکاسٹر Fox نے ان ویب ایڈریسز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کیس دائر کیا تھا،عدالتی کاغذات میں فرحان آصف کا نام مالکان میں سے ایک کے طور پر درج ہے، Fox3Now اور Channel3Now کچھ ایسی ہی ویڈیوز سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اور ان کی ویب سائٹس کے قریب قریب ایک جیسے لوگو اور لے آؤٹ ہیں جو پبلشرز کے درمیان تعلق کے مزید ثبوت کی تجویز کرتی ہیں۔

    برطانیہ میں فسادات کو ہوا دینے والےلاہوری فرحان آصف کے خلاف کاروائی کا مطالبہ
    برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کا باعث بننے والی غلط معلومات کا مرکزی مصنف لاہور کی ایک کمپنی تھی جس کی ملکیت فرحان آصف کے پاس ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک خبر ہے،فرحان آصف کے لالچی اور گھٹیا حرکتوں پر نہ تو مجھے ،نہ ہی کسی اور کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے تاہم یہ تمام پاکستانیوں کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔ اس آدمی اور اس کی لاہور میں قائم ‘چینل 3 ناؤ’ کمپنی کو جان کر بہت مایوسی ہوئی ہے کہ ہم نے اس کے مکروہ کلک بٹ کے ذریعے وہ خوفناک مناظر تخلیق کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پاکستان کے میڈیا ریگولیٹر اور نظام انصاف کو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ اگرچہ اس نے اس کلک بٹ کی غلط معلومات سے لاکھوں کمائے ہیں، اس نے لاکھوں برطانوی مسلمانوں اور خاص طور پر مہاجرین اور پناہ کے متلاشیوں میں خوف پیدا کیا ہے

    برطانوی فسادات میں لاہوری نوجوان بھی ملوث نکلا
    برطانیہ میں فسادات کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، عدالتیں ملزمان کو سزائیں سنا رہی ہیں اورجیل بھجوا رہی ہیں ایسے میں برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں ہونے والے حالیہ فسادات میں لاہور کا ایک نوجوان بھی ملوث ہے، بی بی سی کے مطابق نووا سکوٹیا کا ایک ہاکی پلئیراور امریکا، ٹیکساس کا ایک شہری بھی برطانوی فسادات میں ملوث ہے، ان ملزمان کا تعلق چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے ہے جس میں خبر شائع ہونے کے بعد برطانیہ میں فسادات کا آغاز ہوا تھا، ملزمان نے خبر میں ساؤتھ پورٹ شہر میں تین بچیوں کے 17 سالہ قاتل کا جھوٹا نام لکھا اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلایا، اسی ویب سائٹ نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ حملہ آور پناہ گزین ہے جو ایک سال قبل غیر قانونی طریقے سے کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچا تھا جو کہ غلط دعویٰ تھا،اس ویب سائٹ پر ملزمان کی جانب سے خبر شائع کر کے سوشل میڈیا پر پھیلانے کے بعد مسلمانوں کی آبادی اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور حملے کئے گئے

    بی بی سی نے چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کی نشان دہی کرنے کے بعد ان کے دوستوں اور ساتھیوں سے بات کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ یہ افراد حقیقت میں وجود رکھتے ہیں،چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ دراصل سوشل میڈیا پر جرائم کی خبریں شائع کرکے پیسے بنا رہی ہے

    لاہوری نوجوان جس کی شناخت فرحان کے طور پر ہوئی ہے وہ چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ سے وابستہ تھا،بی بی سی کے مطابق تحقیقاتی صحافی کا کہنا ہے کہ ” انہیں نووا سکوٹیا کے ہاکی کھلاڑی جیمز کا نام اور تصویر ملی جس کے بعد فیس بک پر ان کا اکاؤنٹ تلاش کیا گیا جہاں ان کے چار آن لائن دوستوں میں سے ایک کا نام فرحان تھا، فرحان کے فیس بک اکاؤنٹ سے پتہ چلا کہ وہ چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ کے لئے بطور صحافی کام کرتا ہے اور لاہور کا رہائشی ہے

    farhan ali

    چینل کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹیکساس امریکا کے رہائشی کیون کا کہنا تھا کہ ویب سائٹ کا ہیڈکوارٹر امریکا میں ہے جبکہ اس ویب سائٹ کے لیے پاکستان، انڈیا، امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 30 سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں جن کی خدمات فری لانسر ویب سائٹ کی مدد سے حاصل کی گئیں

    چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ کے جھوٹے دعووں کے بعد اس پر روس کی ریاست سے منسلک ہونے کا الزام بھی لگا تھا ،یہ ویب سائٹ پہلے ایک روسی زبان کا چینل ہوا کرتا تھا جس کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے، کچھ عرصہ قبل چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ پر پاکستان سے متعلقہ مواد شائع ہونے لگا تھا جہاں فرحان رہتے ہیں اور خود ویب سائٹ کے مطابق اس کے لیے کام کرنے والوں کا بھی پاکستان سے تعلق ہے

    ساؤتھ پورٹ کی خبر شائع کرنے کے بعد چینل 3 ناؤ نامی ویب سائٹ کا یو ٹیوب چینل اور متعدد فیس بک پیج بند کر دیئے گئے ہیں.

    چینل تھری ناؤ کی انتظامیہ کے ایک شخص نے اعتراف کیا کہ جھوٹے نام کی اشاعت "نہیں ہونی چاہیے تھی، لیکن یہ ایک غلطی تھی، جان بوجھ کر نہیں کیا گیا۔” جھوٹے مضمون میں نام کی ایک لائن کی کمی تھی، جس سے یہ واضح نہیں تھا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔

    فرحان، جو پاکستان میں مقیم ہیں، کی تصدیق سابق ساتھیوں نے کی اور سوشل میڈیا پر اس کے اسلامی عقیدے اور بچوں کے بارے میں پوسٹ موجود ہیں۔ اس کا نام جھوٹے مضمون سے منسلک نہیں ہے تاہم وہ اس ویب سائٹ کے لیے کام کرتا ہے، فرحان نے رابطہ کیے جانے کے فوراً بعد بی بی سی کے تحقیقاتی صحافی کو انسٹاگرام پر بلاک کر دیا۔

    برطانیہ،تیز تر انصاف،عدالتوں میں ویڈیو چل گئیں،فسادات میں ملوث ملزمان کو سزائیں

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ کے شہر لیڈز میں ہنگامہ آرائی میں ملوث متعدد افراد گرفتار

  • فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    فسادات مجھے برطانیہ چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں،حمزہ یوسف

    سابق سکاٹش فرسٹ منسٹر حمزہ یوسف نے کہا کہ وہ بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا سے اس قدر خوفزدہ ہو گئے تھے کہ انہوں نے برطانیہ چھوڑنے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے

    حمزہ یوسف کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو انتہائی دائیں بازو کے فسادات کی وجہ سے برطانیہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے، اسکاٹ لینڈ ابھی تک ان فسادات کی زد میں نہیں ہے جو انگلینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں پھیل چکے ہیں، حمزہ یوسف نے اقلیتی گروپوں کو نشانہ بنانے کو "خوفناک” قرار دیا ، خبر رساں ادارے کے مطابق ایک پوڈ کاسٹ میں حمزہ یوسف کاکہنا تھا کہ میں اتنا ہی سکاٹش ہوں جتنا وہ ہیں۔ اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوا، اسکاٹ لینڈ میں پرورش پائی، اسکاٹ لینڈ میں تعلیم پائی، ابھی اسکاٹ لینڈ میں میرا تیسرا بچہ ہوا۔ میں صرف ایک سال تک سکاٹش حکومت کا رہنما رہا تا ہم اب میں نہیں جانتا کہ میرا، میری بیوی اور میرے تین بچوں کا مستقبل یہاں سکاٹ لینڈ یا یونائیٹڈ کنگڈم، یا واقعی یورپ اور مغرب میں ہوگا۔ میں کچھ عرصے سے اسلامو فوبیا کے بڑھنے سے پریشان تھا۔

    حمزہ یوسف کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں مسلم مخالف اور مہاجر مخالف بیانات کو "معمول” بنا دیا گیا ہے اور اب "سب سے زیادہ خوفناک، پرتشدد طریقے سے کھیلا جا رہا ہے”۔اس سے مجھے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا میرے خاندان کا برطانیہ میں کوئی وجود ہے یا نہیں۔ میں اکیلا نہیں ہوں – میرے پاس مسلم کمیونٹی کی طرف سے سیکڑوں پیغامات آئے ہیں ، جب وہ بچپن میں تھے تو ان کے والد نے خاندان کے لیے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیے تھے کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں ایک دن سکاٹ لینڈ چھوڑنا پڑے گا۔ اس نے اس وقت اسے "مضحکہ خیز” کے طور پر دیکھا تھا، لیکن اب اسی چیز پر غور کر رہا ہوں،

    واضح رہے کہ 29 اپریل کو پاکستانی نژاد اسکاٹش حمزہ یوسف نے اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے،پاکستانی نژاد حمزہ یوسف 29 مارچ 2023 کو اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر (وزیراعظم) منتخب ہوئے تھے،انہیں اسکاٹ لینڈ کے سب سے کم عمر نوجوان اور پہلے ایشیائی مسلم فرسٹ منسٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہے

    حمزہ یوسف کے والد مظفر یوسف کا تعلق پنجاب کے علاقے میاں چنوں (خانیوال) سے ہے انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسکاٹ لینڈ منتقل ہوگئے جہاں بطور اکاونٹنٹ کام کیا۔ حمزہ یوسف کی والدہ کینیا میں رہائش پذیر ایشائی خاتون شائستہ بھٹہ ہیں۔ 1985 میں پیدا ہونے والے حمزہ یوسف نے گلاسگو یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ پاکستانی نژاد حمزہ یوسف دس سال قبل اپنے آبائی علاقے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے تھے

    حسینہ کی بھارت میں 30 ہزار کی شاپنگ،پیسے ختم ہو گئے

    در بدر کے ٹھوکرے: شیخ حسینہ واجد کی سیاسی سفر کا المناک انجام

    حسینہ کی حکومت کا بد ترین خاتمہ،مودی کی سفارتی سطح پر ایک اور بڑی ناکامی

    بنگلا دیشی وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد مظاہرین نے بھارتی کلچرل سینٹر نذر آتش کیا، پاکستان کے خلاف سازش کا ثبوت مل گیا

    ہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان

    خالدہ ضیا کے بیٹے ، آئی ایس آئی اور لندن کے منصوبے نے ڈھاکہ میں بغاوت کو ہوا دی: بنگلہ دیشی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف

    بنگالی "حسینہ”مشکل میں،امریکی ویزہ منسوخ،سیاسی پناہ کیلیے لندن سے نہ ملا جواب

    بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل

    حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری

    حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی

    شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی

    شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا 

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

  • مساجد کی حفاظت کیلیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائیگا۔برطانوی وزیراعظم

    مساجد کی حفاظت کیلیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائیگا۔برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے کہا ہے کہ مسلم کمیونٹی اور مساجد کی حفاظت کے لیے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔

    برطانیہ میں بچوں کے قتل کے بعد دائیں بازو کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کئیر اسٹارمر کا کہنا تھا دائیں بازو والے مساجد پر حملے کرکے اپنا آپ دکھا رہے ہیں، بدامنی پھیلانے کے پیچھے بدمعاش گروہ ملوث ہے،پولیس فورسز پُرتشدد واقعات سے ملکر نمٹیں گی، مسلم کمیونٹی کی حفاظت کیلئے ہر وہ قدم اٹھایا جائے گا جو ضروری ہو،بڑے پیمانے پر بےامنی چند بے عقل افراد کے اقدام سے پھیلی، سڑکوں پر امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نامناسب سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نقل و حرکت محدود کرنے کیلئے انٹیلی جنس کا اشتراک اور چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا سہارا لیں گے۔

    دوسری جانب مسلم کونسل آف برٹن نے اپیل کی کہ مسلم کمیونٹی اور مساجد کی حفاظت کیلئے اضافی اقدامات کیے جائیں۔

    واضح رہے کہ برطانیہ کے شمال مغربی علاقے ساؤتھ پورٹ میں ایک مسجد کے باہر پولیس اور ہجوم کے ساتھ پرتشدد جھڑپ ہو ئی تھی، مرسی سائیڈ پولیس کے مطابق ممکنہ طور پر پرتشدد مظاہروں کے پیچھے انگلش ڈیفنس لیگ کا ہاتھ ہے، غصے اور جھوٹی آن لائن افواہوں سے متاثر ہو کر انہوں نے پولیس پر بوتلوں اور پتھروں سے حملہ کیا،جہاں یہ واقعہ ہوا وہ مسجد کے قریب ہے، اسی مقام پر تین لڑکیوں کو تشدد کر کے مار دیا گیا تھا،علاقے میں ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا کہ پولیس پر حملہ کیا گیا، اسی دوران پر تشدد ہجوم نے مسجد پر پتھراؤ کیا، کاروں کو آگ لگائی، دکانوں کو نقصان پہنچایا،واقعہ میں 22 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے، پولیس کے مطابق پر تشدد افراد کا تعلق انگلش ڈیفنس لیگ سے ہے، جو کہ ایک انتہائی دائیں بازو کی تنظیم ہے۔

    بارش کی کوریج کے لیے پانی میں "گھسنے” والی خاتون رپورٹر کی ویڈیو وائرل

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

  • دہشتگردی کا پرچار،پاکستانی نژاد انجم کو برطانوی عدالت نے سنائی سزا

    دہشتگردی کا پرچار،پاکستانی نژاد انجم کو برطانوی عدالت نے سنائی سزا

    برطانوای عدالت نے پاکستانی نژاد انجم چوہدری کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے.

    انجم چوہدری کو 26 سال قید سزا دہشتگردی کا الزام ثابت ہونے پر دی گئی، انجم چوہدری پر شدت پسند تنظیم المہاجرون کی سربراہی کا الزام ہے،24 جولائی کو انجم کو عدالت نے مجرم قرار دیا تھا، انجم کو گزشتہ برس 17 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا،انجم چوہدری کو 85 برس عمر سے زائد ہونے پر ہی رہا کیا جاسکے گا،انجم چوہدری پر دہشت گرد تنظیم کو ہدایات دینے کا مقدمہ وولچ کراؤن کورٹ میں برطانوی انسداد دہشتگردی قانون کے تحت چلایا گیا،انجم چوہدری پر کالعدم المہاجرون کو بطور نگراں ہدایات دینے کا الزام تھا،

    استغاثہ نے بتایا کہ انجم چوہدری 2014 سے دہشت گرد گروپ کو ہدایت دے رہا تھا اور آن لائن میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کی ترغیب دیتا تھا۔ استغاثہ نے بتایا کہ وہ جولائی 2023 کے آخر تک المہاجرون کے رہنما کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس نے اسلامک تھنکرز سوسائٹی نامی امریکہ میں قائم ایک آفس شاٹ سے آن لائن تقریریں کیں، جو ٹرائلز کے دوران کمرہ عدالت میں چلائی گئیں۔

    المہاجرون جو مختلف نام استعمال کر رہی تھی 2010 میں دوبارہ پابندی لگا دی گئی۔ استغاثہ کے مطابق، المہاجرون نے باقاعدگی سے اپنا نام تبدیل کیا۔

    ایک برطانوی پاکستانی، انجم چوہدری جس کی عمر 57 برس ہے، جو ایلفورڈ، ایسٹ لندن کا رہائشی ہے، کو کینیڈا کے ایڈمنٹن کے رہائشی حسین کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں اس وقت حراست میں لیا گیا جب حسین گزشتہ سال 17 جولائی کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچے تھے،مقدمے کی سماعت کے دوران، انجم چودھری نے کہا کہ وہ المہاجرون کے اصل تین ارکان میں سے ایک ہیں، جس کی بنیاد 1996 میں رکھی گئی تھی،

    انجم چوہدری کو اس سے قبل داعش کی حمایت کی ترغیب دینے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،2016 میں، انجم چوہدری کو داعش کی حمایت کی ترغیب دینے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم، اس کی آدھی سزا پوری کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا، جس کے بعد انجم چوہدری نے ایسٹ لندن میں اپنی رہائش گاہ سے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر پریس ریلیز بھیجنا شروع کردی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران، اس نے عدالت کو بتایا کہ رہائی کے بعد اس نے "اسلام کا پرچار” کرنے کی پوری کوشش جاری رکھی۔ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق انجم چودھری نے ایک سال میں 40 سے زیادہ لیکچر دیے۔ ان میں سے کچھ لیکچرز میں، پیروکاروں کی تعداد محدود تھی لیکن دوسروں میں برازیل اور افغانستان جیسے علاقوں سے سامعین نے سنے،تاہم، اس گروپ میں دو امریکی خفیہ قانون نافذ کرنے والے افسران گھسے جنہوں نے اس کی تقریریں ریکارڈ کیں۔ان تقریروں میں سے ایک میں، انجم چودھری نے فخر کیا کہ ان پر "برطانیہ میں نمبر ایک بنیاد پرست” کا لیبل لگایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "یہ میرے لیے اعزاز کا بیج ہے۔ یہ میرے سینے پر ایک تمغہ ہے۔ آپ مجھے کیا بلانا چاہتے ہیں؟ ایک انتہا پسند؟ جنونی۔ یہ سب۔”

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے