Baaghi TV

Tag: برطانیہ

  • برطانیہ نے اسرائیل کو بڑا دھچکا دے دیا

    برطانیہ نے اسرائیل کو بڑا دھچکا دے دیا

    اسرائیل کو بڑا دھچکا لگ گیا،برطانیہ عالمی عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ کی درخواست کو چیلنج کرنے سے دستبردار ہو گیا ہے

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے ہمارا مؤقف واضح ہے کہ یہ عدالت کا معاملہ ہے لہٰذا وہی فیصلہ کرے گی،عالمی اور ملکی سطح پر قانون کی حکمرانی اور اختیارات کی منتقلی پر یقین رکھتے ہیں۔

    واضح رہے کہ چیف پراسیکیوٹر آئی سی سی کریم خان نے مئی میں اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر ان کے وارنٹ کی درخواست دی تھی،چیف پراسیکیوٹر نے فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے تین رہنماؤں کے وارنٹ کے لیے بھی ایسی ہی درخواست کی تھی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی سابق حکومت کا مؤقف تھا کہ اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین اسرائیلیوں پر مجرمانہ دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا،سابق برطانوی وزیراعظم رشی سوناک کی حکومت نے آئی سی سی پراسیکیوٹر کا نیتن یاہو اور یوو گیلنٹ کے وارنٹ کی درخواست کا فیصلہ چیلنج کیا تھا،الجزیرہ کے مطابق برطانیہ کی نئی حکومت سمجھتی ہے کہ اسرائیل کو سپورٹ کرنے کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ نیتن یاہو کے جنگی جرائم کو سپورٹ کیا جائے،

    قبل ازیں فرانس نےاپنے مغربی اتحادیوں کے برعکس عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے چیف پراسیکیوٹر کی اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست کی حمایت کردی۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ عدالت پر منحصر ہےکہ وہ شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد وارنٹ جاری کرنےکا فیصلہ کرے،عالمی فوجداری عدالت، اس کی آزادی اور استثنیٰ کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہیں، غزہ پٹی میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ناقابل قبول سطح اور امداد کی رسائی میں کمی پرکئی مہینوں سے خبردار کر رہے ہیں۔

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    حماس مجاہدین نےمتعدد اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا

    اسرائیل کا عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جرمنی میں داخل ہوئے تو گرفتار کرلیا جائے گا،جرمن چانسلر

  • رشی سونک کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سے مستعفی

    رشی سونک کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سے مستعفی

    برطانیہ کے سابق وزیراعظم رشی سونک کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو گئے ہیں

    برطانوی میڈیا کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کے نئے لیڈر کے انتخاب کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے ، اس ضمن میں آج سے 29 جولائی تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے جاسکتے ہیں، امیدواروں کو ووٹنگ کے پہلے دور کیلئے 10 ایم پیز کی حمایت درکار ہوگی جبکہ حتمی 2 امیدواروں میں کسی ایک کا انتخاب ووٹ سے مشروط ہوگا،کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ کا انتخاب آن لائن ووٹنگ سے کرایا جائے گا اور پارٹی کے نئے سربراہ کا اعلان 2 نومبر کو ہوگا،نئے لیڈر کے انتخاب تک رشی سونک قائم مقام کے طور پرکام کریں گے

    واضح رہے کہ برطانیہ میں عام انتخابات میں رشی کو شکست ہوئی تھی، رشی سونک نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے جب کہ رشی سونک نے سر کیئر اسٹارمر کو کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔انتخابات میں شکست کے بعد 10ڈاؤننگ اسٹریٹ سے رشی سونک نے الوداعی خطاب کیا اور کہا کہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں، نیالیڈرآنے تک ذمے داری ادا کرتا رہوں گا،عوام کے غصے اور مایوسی کا احساس ہے، اس نقصان کی ذمے داری قبول کرتا ہوں، عوام نے واضح اشارہ دیا ہے کہ حکومت کو بدلنا ہوگا، ہم ڈیلیور نہیں کر سکے، وزیر اعظم بننے کے بعد میرا سب سے اہم کام معیشت میں استحکام بحال کرنا تھا، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور معیشت ترقی کر رہی ہے ملک اب مضبوط ہے،اپنی کامیابیوں پر فخر ہے ،برطانیہ 2010 کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہے

  • انجم چوہدری کالعدم دہشت گرد گروپ کو ہدایات دینے کا مجرم قرار

    انجم چوہدری کالعدم دہشت گرد گروپ کو ہدایات دینے کا مجرم قرار

    برطانیہ میں انجم چوہدری کو کالعدم دہشت گرد گروپ کو ہدایات دینے کا مجرم قرار دے دیا گیا

    انجم چوہدری کو ایک دہشت گرد تنظیم کو ہدایت دینے، ایک ممنوعہ تنظیم کی رکنیت اور دہشت گرد تنظیم کی حمایت کی ترغیب دینے کا مجرم پایا گیا تھا،ساتھ ہی کینیڈا کے ایڈمنٹن کے 29 سالہ خالد حسین کو بھی ایک کالعدم تنظیم کی رکنیت کا مجرم پایا گیا ہے.انجم چوہدری دہشت گردی کی ہدایت کے الزام میں جیل میں ہیں، انہیں دوسری بار گرفتار کیا گیا تھا،اس سے قبل انجم چودھری کو 5 سال کی سزا کے بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن انجم چوہدری نے رہائی کے بعد پھر کالعدم تنظیم کے ساتھ رابطے اور انہیں ہدایات دینا شروع کر دی تھیں

    منگل (23 جولائی) کو، لندن کی وولوچ کراؤن کورٹ نے انجم چوہدری کو ایک کالعدم دہشت گرد گروپ المہاجرون (ALM) میں "نگران کردار” ادا کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا ہے،استغاثہ نے بتایا کہ انجم چوہدری 2014 سے دہشت گرد گروپ کو ہدایت دے رہا تھا اور آن لائن میٹنگز سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کی ترغیب دیتا تھا۔ استغاثہ نے بتایا کہ وہ جولائی 2023 کے آخر تک المہاجرون کے رہنما کے طور پر کام کر رہا تھا اور اس نے اسلامک تھنکرز سوسائٹی نامی امریکہ میں قائم ایک آفس شاٹ سے آن لائن تقریریں کیں، جو ٹرائلز کے دوران کمرہ عدالت میں چلائی گئیں۔

    منگل کو لندن کی عدالت نے ان کے ایک حامی خالد حسین (29) کو بھی المہاجرون کی رکنیت کا قصوروار پایا۔ عدالت اب 30 جولائی کو سزا کا اعلان کرے گی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ المہاجرون پر پہلی بار 2006 میں برطانیہ کے ہوم سیکرٹری نے الغرابہ کے نام سے پابندی عائد کی تھی۔ المہاجرون جو مختلف نام استعمال کر رہی تھی 2010 میں دوبارہ پابندی لگا دی گئی۔ استغاثہ کے مطابق، المہاجرون نے باقاعدگی سے اپنا نام تبدیل کیا۔

    ایک برطانوی پاکستانی، انجم چوہدری جس کی عمر 57 برس ہے، جو ایلفورڈ، ایسٹ لندن کا رہائشی ہے، کو کینیڈا کے ایڈمنٹن کے رہائشی حسین کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں اس وقت حراست میں لیا گیا جب حسین گزشتہ سال 17 جولائی کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر پہنچے تھے،مقدمے کی سماعت کے دوران، انجم چودھری نے کہا کہ وہ المہاجرون کے اصل تین ارکان میں سے ایک ہیں، جس کی بنیاد 1996 میں رکھی گئی تھی

    سکیورٹی ماہرین کے مطابق انجم چودھری نے درجنوں برطانوی شہریوں کو متاثر کیا۔ اس کے پیروکار دنیا بھر میں موجود ہیں۔ المہاجرون کے ساتھ روابط رکھنے والے بنیاد پرستوں نے کئی حملے کیے جن کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ "دہشت گردی سے متعلق” تھے۔2017 میں، تین حملہ آوروں نے لندن برج پر آٹھ افراد کو ہلاک کیا اور ان کی قیادت المہاجرون کے ایک سابق رکن نے کی۔ اس سال کے شروع میں، ویسٹ منسٹر برج پر ایک ایسے شخص کے ہاتھوں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے جس نے اس دہشت گرد گروپ کے ساتھ وابستہ رہنے میں کئی سال گزارے تھے۔2019 میں، اس تنظیم سے وابستہ ایک اور رکن نے فش منگرز ہال میں دو افراد کو قتل کیا۔

    انجم چوہدری کو اس سے قبل داعش کی حمایت کی ترغیب دینے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،2016 میں، انجم چوہدری کو داعش کی حمایت کی ترغیب دینے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم، اس کی آدھی سزا پوری کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا، جس کے بعد انجم چوہدری نے ایسٹ لندن میں اپنی رہائش گاہ سے واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر پریس ریلیز بھیجنا شروع کردی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران، اس نے عدالت کو بتایا کہ رہائی کے بعد اس نے "اسلام کا پرچار” کرنے کی پوری کوشش جاری رکھی۔ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق انجم چودھری نے ایک سال میں 40 سے زیادہ لیکچر دیے۔ ان میں سے کچھ لیکچرز میں، پیروکاروں کی تعداد محدود تھی لیکن دوسروں میں برازیل اور افغانستان جیسے علاقوں سے سامعین نے سنے،تاہم، اس گروپ میں دو امریکی خفیہ قانون نافذ کرنے والے افسران گھسے جنہوں نے اس کی تقریریں ریکارڈ کیں۔ان تقریروں میں سے ایک میں، انجم چودھری نے فخر کیا کہ ان پر "برطانیہ میں نمبر ایک بنیاد پرست” کا لیبل لگایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "یہ میرے لیے اعزاز کا بیج ہے۔ یہ میرے سینے پر ایک تمغہ ہے۔ آپ مجھے کیا بلانا چاہتے ہیں؟ ایک انتہا پسند؟ جنونی۔ یہ سب۔”

    میٹ کے انسداد دہشت گردی کمانڈ کے سربراہ، کمانڈر ڈومینک مرفی نے کہا، ” المہاجرون پوری دنیا میں پھیل چکی ہےاور اس نے عوامی تحفظ اور سلامتی پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالا ہے۔”ایک پریس کانفرنس کے دوران، مرفی نے مزید کہا، انجم چوہدری پر مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کیا گیا الزام برطانیہ میں "بہت نایاب” تھا اور اس کی سزا کو ایک "اہم سنگ میل” قرار دیا۔ پولیس کے مطابق دونوں افراد کو ٹیررازم ایکٹ 2000 کی سیکشن 41 کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

  • برطانوی انتخابات ، کنزرویٹوپارٹی کوبدترین شکست ،کیئر اسٹارمر   وزیرعظم بن گئے

    برطانوی انتخابات ، کنزرویٹوپارٹی کوبدترین شکست ،کیئر اسٹارمر وزیرعظم بن گئے

    برطانوی انتخابات میں حکمراں کنزرویٹوپارٹی کوبدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا

    کیئر اسٹارمر برطانیہ کے وزیرعظم بن گئے، کیئر اسٹارمرکی کنگ چارلس سے ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد کیئر اسٹارمرکو کنگ چارلس نے وزیراعظم مقرر کیا.

    برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کئیر اسٹارمر نے کہا کہ وہ ابھی شاہی محل سے واپس آئے ہیں اور انہوں نے بادشاہ چارلس کی جانب سے ملک میں حکومت بنانے کی دعوت قبول کرلی ہے،دنیا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، برطانیہ کوایک بارپھر رہنمائی کرنے والا ملک بنائیں گے، آپ کی حکومت ہر شہری کواحترام کی نگاہ سے دیکھے گی، ہماری حکومت ان سب کے لیےکام کرے گی جنہوں نے ہمیں ووٹ دیا اور جنہوں نے نہیں دیا

    لیبر پارٹی نے 1997 کی تاریخ دہرا دی، 1997 میں لیبر پارٹی کو419 سیٹیں ملی تھی، اس وقت ٹونی بلیر پارٹی سربراہ تھے،کنزرویٹیو کو 1997 میں 165 سیٹیں ملی تھیں، حالیہ انتخابات میں بھی لیبر پارٹی فاتح رہی

    برطانوی نو منتخب وزیراعظم کون ؟
    برطانیہ کے نئے وزیر اعظم لیبر پارٹی کے سربراہ سر کئیر اسٹارمر نے ایک مزدور گھرانے میں پرورش پائی، ان کے والد ایک ٹول میکر تھے جبکہ والدہ نرس تھیں،سر کئیر اسٹارمر خاندان میں پہلے شخص تھے جو یونیورسٹی گئے، لیڈز اور آکسفورڈ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1987 میں بیرسٹر بنے،انہوں نے کیریئر کا بڑا حصہ انسانی حقوق کے مقدموں پرکام کرتے ہوئے گزارا، انہوں نے کئی ملکوں میں سزائے موت کے قانون کے خاتمے کیلئے بھی کام کیا،سر کئیر اسٹارمر 2008 میں پبلک پراسیکیوشن کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے، 2015 میں پہلی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے، 2020میں جیریمی کوربن کی جگہ لیبرپارٹی کی قیادت سنبھالی،اُنہوں نے اپنی جماعت میں تبدیلیاں کرتے ہوئے چارسال میں اسے محنت کشوں کی خدمت کرنے والی جماعت بنادیا، اسٹارمر بریگزٹ کے مخالف تھے،کورونا کے دوران مقامی فوڈ بینک میں رضاکارانہ طورپر بھی کام کیا تھا، فٹ بال ان کا پسندیدہ کھیل ہے اور وہ گٹار بجانے کا شوق رکھتے ہیں

    وٹرز نے تبدیلی کے لئے ووٹ دیا،کیئر اسٹارمر
    سربراہ لیبرپارٹی کیئر اسٹارمر کا برطانیہ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر کہنا تھا کہ آج عوام نے ووٹ دیکر صفحہ بدل دیا ہے، اتنے بڑے مینڈیٹ کیساتھ بڑی ذمہ داری بھی عوام نے دی ہے، ووٹرز نے تبدیلی کے لئے ووٹ دیا،میں ووٹ اس لئے ملا کہ جماعت میں تبدیلی لائیں، تبدیلی لانے کیلئے فوری اقدامات کرینگے، لیبرپارٹی بدل چکی ہے یہ طرز عمل ہماری حکومت میں بھی نظر آئیگا، عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

    برطانیہ عام انتخابات، ووٹوں کی گنتی ،لیبر پارٹی 412، کنزرویٹو 121، لبرل ڈیموکریٹ 71 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے،اسکاٹش نیشنل پارٹی کی 9، شن فین کی 7 نشستیں ہیں،برطانوی پارلیمنٹ میں 6 آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں,ریفارمز اور گرین پارٹی 4،4 نشستوں پر کامیاب رہی,2 نشستوں کے نتائج آنا باقی ہیں،لیبر پارٹی 14 سال بعد اقتدار سنبھالے گی,سر کیئر اسٹارمر برطانیہ کے وزیر اعظم ہوں گے,ارکان پارلیمنٹ 9 جولائی کو حلف اٹھائیں گے,وزیر اعظم رشی سونک نے شاہ چارلس کو استعفیٰ پیش کردیا,استعفیٰ منظور کرنے کے بعد شاہ چارلس کیئر اسٹارمر کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے,کیئر اسٹارمر آج ہی 10 ڈاوننگ اسٹریٹ پہنچ جائیں گے،برطانیہ میں کنزرویٹو کا 14 سالہ اقتدار کا دور ختم ہوگیا ،عام انتخابات میں لیبر پارٹی نے فتح حاصل کرلی ہے

    1950 کے بعد سب سے زیادہ آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں،سابق لیبر سربراہ جیریمی کوربن نے آزاد حیثیت سے نشست حاصل کرلی،ریفارمز رہنما نائجل فراژ پہلی مرتبہ ایوان کا حصہ ہوں گے،بریڈفورڈ ویسٹ سے پاکستانی نژاد لیبر امیدوار ناز شاہ کامیاب ہوئے ہیں،پاکستانی نژاد لیبر امیدوار یاسمین قریشی نے تیسری مرتبہ نشست جیت لی ،پاکستانی نژاد روزینہ خان نے کامیابی حاصل کرلی،پاکستانی نژاد لیبر امیدوار شبانہ محمود، طاہر علی اور عمران حسین بھی جیت گئے،برٹش پاکستانی امیدوار افضل خان اور زہرہ سلطانہ کامیاب ہو گئے،ٹوری امیدوار ثاقب بھٹی اور نصرت غنی رکن پارلیمنٹ منتخب، رحمان چشتی ہار گئے،اسکاٹش نیشنل پارٹی کی انعم قیصر انتخابات میں ناکام ہوئیں.

    برطانوی انتخابات،242 خواتین جیت گئیں، سابق خاتون وزیراعظم ہار گئیں
    برطانوی انتخابات میں خواتین امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے تو وہیں کئی خواتین امیدوار اپنی نشست ہاری بھی ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق 242 خواتین امیدوار برطانوی انتخابات میں کامیاب ہوئی ہیں،برطانوی عام انتخابات میں پاکستانی نژاد روزینہ ایلن خان لندن کے علاقے ٹوٹنگ سے ایک مرتبہ پھر کامیاب ہوئی ہیں،کنزرویٹیو پارٹی کی رہنما و سابق وزیراعظم لز ٹرس اپنی نشست ہا ر گئی ہیں، لز ٹرس کو لیبر پارٹی کے ٹیری جیرمی سے 600 ووٹ سے شکست ہوئی،بریڈفورڈ ویسٹ سے لیبر رہنما پاکستانی نژاد ناز شاہ جیت گئیں،پاکستانی نژاد لیبر رکن یاسمین قریشی تیسری مرتبہ سیٹ جیتی ہیں.

    شکست کے بعد برطانوی وزیراعظم رشی سونک پارٹی عہدے سے بھی مستعفی
    برطانوی وزیرعظم رشی سونک نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے جب کہ رشی سونک نے سر کیئر اسٹارمر کو کامیابی پر مبارکباد بھی دی۔انتخابات میں شکست کے بعد 10ڈاؤننگ اسٹریٹ سے رشی سونک نے الوداعی خطاب کیا اور کہا کہ پارٹی عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں، نیالیڈرآنے تک ذمے داری ادا کرتا رہوں گا،عوام کے غصے اور مایوسی کا احساس ہے، اس نقصان کی ذمے داری قبول کرتا ہوں، عوام نے واضح اشارہ دیا ہے کہ حکومت کو بدلنا ہوگا، ہم ڈیلیور نہیں کر سکے،وزیر اعظم بننے کے بعد میرا سب سے اہم کام معیشت میں استحکام بحال کرنا تھا، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور معیشت ترقی کر رہی ہے ملک اب مضبوط ہے،اپنی کامیابیوں پر فخر ہے ،برطانیہ 2010 کے مقابلے میں زیادہ خوشحال ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی کامیاب ہوئی ہے تا ہم مسلم اکثریت علاقوں سے لیبر پارٹی نہ تو جیت سکی او ر ہی زیادہ ووٹ ملے،غزہ کے حامی کئی آزاد امیدواروں نے لیبر پارٹی کے امیدواروں کو ان کے مضبوط حلقوں میں شکست دی ہے، 10 فیصد سے زیادہ مسلمان آبادی والے علاقوں میں لیبر پارٹی کے امیدواروں کے ووٹوں میں کمی دیکھنے میں آئی ،بڑی مسلم آبادی والی 5 نشستیں لیبر پارٹی کو نہ مل سکیں، ان میں سے 4 آزاد امیدواروں نے اور ایک کنزرویٹیو امیدوار نے جیتی ہے،شیڈو منسٹر جوناتھن اشورتھ لیسٹر ساؤتھ سے سیٹ ہار گئے جو کہ 13 سالوں سے ان کے پاس تھی، یہاں تقریباً 30 فیصد آباد مسلمانوں کی ہے، شوکت آدم نے کامیابی حاصل کی، برمنگھم پیری بار سے لیبر پارٹی کے خالد محمود کو آزاد امیدوار بیرسٹر ایوب خان نے سخت مقابلے کے بعد شکست دی،آزاد امیدوار بیرسٹر ایوب خان نے سخت مقابلے کے بعد صرف 500 ووٹوں کے مارجن سے کامیابی حاصل کی،خالد محمود 2001ء سے برمنگھم پیری بار سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے چلے آ رہے تھے اور وہ سینئر ترین مسلمان پارلیمنٹیرین تھے۔

    غزہ جنگ کو اپنی انتخابی مہم میں شامل کرنے والے آزاد امیدواروں نے کئی بڑے اور مضبوط ناموں کو شکست دی ہے،ڈیوزبری، بٹلی اور بلیک برن میں بھی آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جہاں پہلے لیبر پارٹی مضبوط تھی

    برطانیہ میں دارالعوام کے الیکشن میں650نشستوں کے لیےساڑھے 4ہزارامیدوارمدمقابل تھے- انگلینڈ533 ،اسکاٹ لینڈ59 ، ویلز 40اور شمالی آئرلینڈ کی 18 نشستیں ہیں،ملک بھرمیں ووٹنگ کے لیے40ہزارسے زائدپولنگ اسٹیشنزقائم کئے گئے تھے،برطانیہ میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے کیلئے شناخت ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا،حکمران کنزریٹو پارٹی، لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، اسکاٹش نیشنل پارٹی میدان میں ہیں،

  • برطانوی انتخابات،ووٹنگ جاری،اہم شخصیات نے ووٹ ڈال دیا

    برطانوی انتخابات،ووٹنگ جاری،اہم شخصیات نے ووٹ ڈال دیا

    برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات ہو رہے ہیں، برطانیہ میں آج ووٹنگ جاری ہے

    پارلیمینٹ کی 650 نشستوں پر ساڑھے 4 ہزار امیدوار میدان میں ہیں،برطانوی میڈیا کے مطابق 650 نشستوں کے لیے لیبر پارٹی، کنزرویٹو، لبرل ڈیموکریٹس اور دیگر جماعتوں کے امیدوار مدمقابل ہیں،40 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔ہر علاقے یا حلقے کے نتائج کا اعلان آج رات تک یا پھر جمعہ کی صبح تک کیے جانے کی توقع ہے۔ سیاسی جماعتیں حکومت بنانے کے لیے نصف سے زیادہ نشستیں یعنی 326 سیٹیں جیتنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں.

    برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے اہلیہ اکشتا مورتی کے ہمراہ نارتھ یارکشائر میں ووٹ کاسٹ کر دیا ہے،ووٹ دینے کے بعد برطانوی وزیراعظم نےسوشل میڈیا پر تصویر بھی شیئر کی جس میں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہیں،برطانوی وزیراعظم نے ساتھ کہا کہ لیبر پارٹی کو اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کنزرویٹو پارٹی کو ووٹ دیں ورنہ ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا،

    لیبر پارٹی کے لیڈر سر کئیر اسٹارمر نے اہلیہ وکٹوریہ کے ہمراہ لندن میں ووٹ کاسٹ کیا،اسکاٹش فرسٹ منسٹر جان سوینی نےبلیئرگوری کے گاؤں برلٹن میں ووٹ کاسٹ کیا،شمالی آئرلینڈ میں پورٹاڈاؤن کے پولنگ اسٹیشن میں لیڈرالسٹر یونینسٹ پارٹی ڈوگ بیٹی نے ووٹ کاسٹ کیا،اسکاٹش لیبرپارٹی کے لیڈرانس سرور ن گلاسگو کے پولنگ اسٹیشن میں ووٹ کاسٹ کیا،گرین پارٹی کی شریک لیڈر کارلا ڈینئیر نے برسٹل میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا جبکہ لیڈرلبرل دیمکریٹس سرایڈ ڈیوی اور ان کی اہلیہ ایملی نے جنوبی لندن کے سربیٹن ہل میتھوڈسٹ چرچ میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا،لیڈراسکاٹش کنزرویٹوڈوگلس روز نےمورےگاؤں فوگ واٹ کے پولنگ اسٹیشن میں جبکہ لیڈر الائنس پارٹی ناؤمی لانگ نے بیلفاسٹ کے پولنگ اسٹیشن میں ووٹ کاسٹ کیا۔

    ایک سروے کے مطابق لیبر پارٹی کے رہنما کیئر اسٹارمر کو اس بار تاریخی مینڈیٹ ملنے کی امید ہے، پری پول سروے کے مطابق لیبر پارٹی کو 484 سیٹیں مل سکتی ہیں، 14 سال سے اقتدار میں رہنے والی کنزرویٹو پارٹی کو 64 نشستیں ملنے کی توقع ہے،

    برطانیہ میں ووٹوں کی گنتی کے بعد، بادشاہ چارلس سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی پارٹی کے قائد سے وزیراعظم بننے اور حکومت بنانے کے لیے کہیں گے ، دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت کا سربراہ اپوزیشن لیڈر بنتا ہے،

    کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی،برطانیہ میں سات افراد پر فردجرم عائد

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • اسرائیلی حمایت میں ہونیوالے مظاہرے میں شاہد آفریدی کی شرکت،تصویر وائرل

    اسرائیلی حمایت میں ہونیوالے مظاہرے میں شاہد آفریدی کی شرکت،تصویر وائرل

    پاکستان کے قومی کرکٹر، سابق قومی کپتان شاہد آفریدی اس وقت خبروں کی زد میں‌ہیں، یوٹیوبر و صحافی عمران ریاض نے شاہد آفریدی پر تنقید کی جس کے بعد شاہد آفریدی نے عمران ریاض کو جواب دیا ، اسکے بعد سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کے حق اور مخالفت دونوں طرز کی بحث جاری ہے، کئی صارفین شاہد آفریدی کی حمایت کر رہے ہیں تو کئی مخالفت کر رہے ہیں، اسی اثنا میں شاہد آفریدی کی ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جس نے سب کو چونکا کر رکھ دیا.

    برطانیہ میں قائم اسرائیلی گروپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں شاہد آفریدی بھی کھڑے ہیں، اسرائیلی گروپ نے دعویٰ کیا کہ شاہد آفریدی نے اسرائیل کی حمایت کی ہے، تصویر کے ساتھ پیغام میں لکھا گیا کہ "مشہور پاکستانی کرکٹر نے مانچسٹر میں اتوار کو ان کے ایک مظاہرے میں جو اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بارے میں تھا میں رک کر سپورٹ پیش کی”، شاہد آفریدی تصویر میں اس فورم کے شریک چیئر رافی بلوم اور ڈپٹی چیئرمین برنی یاف کے ساتھ ہیں،انہوں نے اسرائیل کی حمایت پر شاہد آفریدی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    شاہد آفریدی کی جانب سے اسرائیل کی حمایت میں مظاہرے میں شمولیت کی تصویر سامنے آنے پر پاکستانی سیخ پا ہو گئے اور شاہد آفریدی کے خلاف بولنے لگ گئے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں‌کرتا،پاکستانی قوم بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ہے،اور پاکستان اگر اسرائیل سے کسی قسم کے کوئی روابط رکھنا چاہے تو پاکستانی قوم کڑی تنقید کرتی ہے،بلکہ پاکستانی مذہبی جماعتیں تو دھمکیاں بھی دیتی ہیں،

    اسرائیل کی حمایت میں مظاہرے میں شرکت پر شاہد آفریدی کا مؤقف
    سوشل میڈیا پر اسرائیل کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی تصویر وائرل ہوئی تو شاہد آفریدی کو خود میدان میں آنا پڑا، شاہد آفریدی نے خاموشی توڑی اور ردعمل میں کہا کہ تصور کریں کہ آپ مانچسٹر میں ایک گلی میں ٹہل رہے ہوں اور نام نہاد پرستار سیلفی لینے کے لیے آپ سے رابطہ کریں، آپ ایسا ہونے دیں اور چند لمحوں بعد، وہ اسے صیہونی حمایت کی کسی صورت کے طور پر اپ لوڈ کرتے ہیں، یہ حیر انگیز ہے،براہ کرم اپ لوڈ کی گئی ہر چیز پر یقین نہ کریں،فلسطین میں معصوم جانوں کو اذیت میں مبتلا دیکھنا واقعی دل دہلا دینے والا ہے۔ اس طرح، مانچسٹر میں شیئر کی گئی کوئی بھی تصویر کسی بھی ایسی صورت حال کے لیے میری حمایت کی عکاسی نہیں کرتی جہاں انسانی جانیں خطرے میں ہوں۔میری پوری دنیا میں شائقین کے ساتھ تصویریں ہیں اور یہ صورتحال بھی مختلف نہیں تھی۔میں امن کی دعا کرتا ہوں، میں اس جنگ کے خاتمے کی دعا کرتا ہوں، میں آزادی کی دعا کرتا ہوں۔

    شیریں مزاری شاہد آفریدی پر پھٹ پڑیں، کہا یہ مت سمجھیں ہم سب احمق ہیں
    تحریک انصاف کی سابق رہنما،سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمیں یقین ہے کہ آپ دکھائے جانے والے پمفلٹ یا پلے کارڈز کو نہیں پڑھ سکتے جیسے تصویر لی جا رہی تھی؟ ان کی شناخت اور ارادہ کبھی پوشیدہ نہیں تھا لہذا براہ کرم یہ مت سمجھیں کہ ہم سب احمق ہیں۔ آپ کو معلوم تھا کہ آپ کس کے ساتھ تصویریں بنوا رہے ہیں۔ شرمناک۔

    عدیل حبیب نامی صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کیا شاہد آفریدی ڈی چوک جائیں گے، جہاں جماعت اسلامی نے فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کے لئے دھرنا دیا ہوا ہے

    اسرائیل کی حمایت میں مظاہرے میں شرکت پر شاہد آفریدی کیخلاف آرٹیکل سکس کے تحت کاروائی کا مطالبہ
    ڈاکٹر صابر ابو مریم جو پاکستان میں فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف مہم چلاتے ہیں ٹویٹر پر کہتے ہیں کہ شاہد آفریدی نے فلسطینیوں کی قاتل غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی حمایت کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ بھی فلسطینیوں کی نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں۔ پاکستانی عوام کے سامنے مکروہ اور بھیانک چہرہ آج واضح ہو گیا ہے۔ اسرائیل کی حمایت کرنا یعنی پاکستان کی توہین اور سنگین غداری۔حکومت پاکستان آرٹیکل چھ کے تحت کاروائی کرے۔

    پاکستان میں پہلا "ماں کے دودھ کا ڈونر بینک”،علماء کرام نے کی مخالفت

    بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار اونٹ کراچی منتقل،مصنوعی ٹانگ لگائی جائے گی

    گورنر سندھ کا مبینہ بااثر وڈیرے کے ظلم کا شکار شخص کو 2 اونٹ دینے کا اعلان

    سانگھڑ، کھیت میں داخل ہونے پر وڈیرے نے اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

    گائے کے ساتھ جنسی زیادتی کی ویڈیو وائرل،ملزم گرفتار،بکری اورکتے بھی بنے نشانہ

  • برطانوی ویزہ کیلئے نو پاکستانی بینکوں کی دستاویزات ناقابل قبول ہونے کا خط جعلی قرار

    برطانوی ویزہ کیلئے نو پاکستانی بینکوں کی دستاویزات ناقابل قبول ہونے کا خط جعلی قرار

    متحدہ عرب امارات کے بعد برطانیہ کے ویزہ کے حوالہ سے سوشل میڈیا پرپروپیگنڈہ کیا جانے لگا جس پر برطانوی ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وضاحت جاری کی ہے

    سوشل میڈیا پر ایک لیٹر وائرل ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے ویزا اور امیگریشن حکام نے ویزا درخواست کے لئے نو پاکستانی بینکوں کی مالی دستاویزات کو مسترد کر دیا ہے،لیٹر 28 مئی کو جاری کیا گیا تھا،جس میں کہا گیا تھا کہ اس اعلامیہ کے ذریعے تمام متعلقہ فریقوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ پاکستان کے درج ذیل بینکوں کو یوکے ویزا اینڈ امیگریشن سے برطانیہ کے لیے ویزا کی منظوری کے لیے مسترد کر دیا گیا ہے۔ فوری طور پر، ان بینکوں کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی مالیاتی دستاویزات کو ویزا درخواست کے ساتھ قبول نہیں کیا جائے گا،جن بینکوں کا نام لیٹر میں شامل تھا ان میں الائیڈ بینک لمیٹڈ ، عسکری بینک لمیٹڈ ،بینک الفلاح، بینک اسلامی پاکستان لمیٹڈ، فضل بینک لمیٹڈ ، حبیب بینک لمیٹڈ، 7. JS بینک لمیٹڈ ، ایم سی بی، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ شامل تھے،لیٹر میں مزید کہا گیا تھا کہ ہم تمام طلباء کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی مالیاتی دستاویزات منظور شدہ اور تسلیم شدہ بینکوں کے ذریعہ جاری کی جائیں۔

    سوشل میڈیا پر لیٹر وائرل ہوا تو برطانوی ہائی کمیشن نے اس لیٹر کو فیک کہا اور تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جو لیٹر میں‌لکھا ہوا ہے، ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے برطانوی ہائی کمیشن کا کہنا تھا کہ”م شیئر کی گئی جعلی دستاویز سے باخبر ہیں جو بظاہر یوکے ویزا و امیگریشن کی جانب سے ہے کہ کچھ بینکس اور انگریزی زبان کے ٹیسٹ یوکے ویزا درخواست کے لیے ممنوع قرار دیئے گئے ہیں، یہ درست نہیں۔ اگر آپ کو یہ موصول ہو، تو اسے ڈیلیٹ کریں مزید شیئر نہ کریں اور اس شخص کو آگاہ کریں یہ جعلی ہے”.

    واضح رہے کہ برطانیہ کے لیے پاکستان سے ویزوں کی پروسیسنگ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

    پاکستانیوں کیلے یو اے ای کا ویزا بند نہیں کیا گیا،قونصل جنرل

    ساحر علی بگا کو بھی دبئی کا دس سالہ گولڈن ویزا مل گیا

    صبا قمر کو بھی متحدہ عرب امارات(یو اے ای)کا گولڈن ویزا مل گیا

    عمران اشرف کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا گولڈن ویزا جاری

  • کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی،برطانیہ میں سات افراد پر فردجرم عائد

    کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی،برطانیہ میں سات افراد پر فردجرم عائد

    کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی کا کیس، برطانیہ میں سات افراد پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے

    برطانوی عدالت نے ملزمان محمد عمار، محمد ضمیر، عابد صدیقی، محمد سیاب، یاسرعجائیبی، طاہر یاسین اور رامین باری پر فرد جرم عائد کی ہے، ملزمان نے جن لڑکیوں سے جنسی زیادتی کی تھی انکی عمریں 11 سے 16 برس تھیں، ملزمان لڑکیوں کو چلڈرن ہاؤس سے لے کر گئے اور متعدد بار جنسی زیادتی کی.”‎شیفیلڈ کراؤن کورٹ نے نو ہفتے تک جاری مقدمے کی سماعت کے بعد ملزمان کو مجرم قرار دینے کا فیصلہ سنایا”۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق 2014 میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں رودرہیم میں 1997 سے لیکر 2013 تک برطانیہ میں مقیم پاکستانی افراد کے ایک گینگ کی طرف سے 1400 لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے انکشاف کے بعد آپریشن اسٹوو وڈ کے نام سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا ،برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سپر مارکیٹ، قبرستان، پارک، کار اور بچوں کی نرسری کے عقب سمیت مختلف مقامات پر ہوئے تھے،ایک بچی کو ہوٹل میں دو افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا،

    قبل ازیں برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 24 ملزمان کو سزا سنائی گئی ہے،جن ملزمان کو عدالت نے سزا سنائی وہ ویسٹ یارکشائر میں 1999 سے 2012 کے درمیان متعدد کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی، بدسلوکی اور اسمگلنگ کے مرتکب پائے گئے ہیں، اس کیس کی ابتدا 2018 میں 8 بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی تحقیقات کے دوران ان ملزمان کی گرفتاریوں سے ہوئی، تحقیقات کے دوران ملزمان کا پورا نیٹ ورک پکڑا گیا اور دیگر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات بھی سامنے آئے،

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    خبردار، حق خطیب سے بڑا فنکار آ گیا، سائنس ہار گئی،ہاتھ سے موبائل کی بیٹری چارج

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • برطانیہ میں سورج کی تیز  شعاعوں  سے جِلدکا کینسر پھیلنے لگا

    برطانیہ میں سورج کی تیز شعاعوں سے جِلدکا کینسر پھیلنے لگا

    لندن: برطانیہ میں سورج کی تیز تپش سے جِلدکا کینسر پھیلنے لگا-

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے "بی بی سی” کے مطابق سرطان کی تحقیق کرنے والے ادارے کینسر چیریٹی نے برطانوی شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ سورج کی تیز شعاعیں جِلدی کینسر (میلانوما ) کا سبب بن رہی ہیں،جبکہ کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، کینسر ریسرچ یوکے کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہےکہ رواں سال کے آخر تک 20 ہزار 800 کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے جو 2020 اور 2022 کے درمیان سالانہ اوسط 19ہزار 300 سے زیادہ ہے۔

    کینسر ریسرچ یوکے کے تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ 2009 اور 2019 کے درمیان کینسر کی شرح میں تقریباً ایک تہائی اضافہ ہوا ہے، یعنی فی ایک لاکھ میں سے 21 سے 28 افراد میں سرطان کی تشخیص ہوئی ہےمیلانوما کے تقریباً 17ہزار کیسز ہر سال روکے جا سکتے ہیں، جن میں سے تقریباً 10 میں سے 9 بہت زیادہ الٹرا وائلٹ تابکاری کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

    رفح میں اسرائیلی ٹینکوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں کو روند ڈالا ،21 فلسطینی …

    میلانوما جلد کے کینسر کی ایک سنگین قسم ہے جو جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل سکتی ہے،غیر میلانوما جلد کے کینسر بھی ہیں، جو عام طور پر میلانوما سے زیادہ عام اور عام طور پر کم سنگین ہوتے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جِلدی کینسر کی علامات سے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہوئے کیسز میں اضافے کا علم ہوا، جِلدی سرطان کے سب سے زیادہ کیسز عمر رسیدہ افراد میں رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ 25 سے 49 سال کی عمر میں بھی کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔

    امریکا کا جدید ترین لڑاکا طیارہ گر کر تباہ

    ماہرین کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ 11 سے دوپہر 3 بجے تک دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، مکمل کپڑے پہننے کا انتخاب کریں جو آپ کو سورج کی تیز شعاعوں سے بچا سکیں، اس کے علاوہ سن اسکرین یا سن بلاک کا استعمال باقاعدگی سے کریں۔

  • برطانوی حزب اختلاف رہنما کا  فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ

    برطانوی حزب اختلاف رہنما کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ

    لندن: برطانیہ کے حزب اختلاف کے رہنما کیئر سٹارمر نے آئندہ عام انتخابات میں فتح کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی :"روئٹرز” کے مطابق برطانیہ کے حزب اختلاف کے رہنما کیئر سٹارمر نے جمعہ کو کہا کہ اگر وہ آئندہ عام انتخابات میں اقتدار حاصل کرتے ہیں تو وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ امن کے عمل میں ایسا اقدام صحیح وقت پر ہونا چاہیے۔

    آئرلینڈ، اسپین اور ناروے نے اس ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ 28 مئی کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، جس پر اسرائیل کی طرف سے غصے کا ردعمل سامنے آیا جس نے کہا کہ یہ "دہشت گردی کا انعام” ہے اور تینوں دارالحکومتوں سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔

    دنیا بھر میں 3کروڑ 70 لاکھ بچے تمباکو کی لت میں مبتلا

    لیبر پارٹی 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے غزہ میں جنگ سے متعلق اپنی پالیسی پر اندرونی لڑائی میں گھری ہوئی ہے،سٹارمر کو کچھ روایتی لیبر ووٹروں کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کی طرف پارٹی کی پوزیشن کو بتدریج تبدیل کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    سٹارمر نے بی بی سی کو بتایا کہ "ہاں، میں تسلیم کرتا ہوں، اور میں سمجھتا ہوں کہ فلسطین کو تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے ہمیں ایک محفوظ اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کی ضرورت ہے، اور اس کو تسلیم کرنا ایک حصہ ہونا چاہیے۔

    شاہین آفریدی کا نائب کپتان بننے سے انکار

    سٹارمر نے کہا کہ امن کے عمل میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے مناسب وقت پر آنے کی ضرورت ہوگی، لیکن "میں اس پر مکمل یقین رکھتا ہوں”، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل ضروری ہے۔

    دو ریاستی حل طویل عرصے سے برطانوی خارجہ پالیسی اور تنازع کو حل کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کا فریم ورک رہا ہے لیکن امن عمل برسوں سے مفلوج ہے، موجودہ قدامت پسند حکومت اور دیگر بڑی یورپی ریاستوں جیسے فرانس اور جرمنی نے بھی فلسطینی ریاست کے لیے اصولی طور پر حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن تسلیم کرنے کے وقت کے ساتھ ایک وسیع تر امن عمل کا حصہ ہے۔

    دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت خلاف اسلام،درخواست دائر

    اس ہفتے، لیبر نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی آزادی کی حمایت کی جب اس نے جنگی جرائم کے لیے حماس اور اسرائیلی حکام دونوں کے لیے گرفتاری کے وارنٹ طلب کیے، جس سے حکمران کنزرویٹو پارٹی کے ساتھ اختلافات کھل گئے،کنزرویٹو حکومت نے کہا کہ آئی سی سی کے پاس گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست کرنے کا دائرہ اختیار نہیں ہے اور اس سے اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ سے باہر نکالنے، انسانی امداد پہنچانے یا پائیدار جنگ بندی کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔