Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • عمران خان نے اپنے اوپر خود کش حملہ کر دیا:مریم نواز

    عمران خان نے اپنے اوپر خود کش حملہ کر دیا:مریم نواز

    اسلام آباد:طاقت کے نشے میں دُھت عمران خان آج اپنے اوپر خودکش حملہ کر بیٹھا ہے۔ عمران کا ڈرامہ اور کہانی اب ہمیشہ کے لیے ختم انشاءاللّہ! , یہ کہنا تھا مریم نواز کا عدم اعتماد تحریک کے مسترد ہونے کے بعد

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد مسترد کیے جانے کے بعد مریم نواز کا ردعمل سامنے آگیا۔

    مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا کہ اپنی کرسی کو بچانے کی خاطر آئینِ پاکستان کا حلیہ بگاڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ اس جرم پر اگر اس پاگل اور جنونی شخص کو سزا نا دی گئی تو آج کے بعد اس ملک میں جنگل کا قانون چلے گا!

    واضح رہے کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے رولنگ کے تحت تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیا جس کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی شروع کردی، اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے قریب جمع ہوگئے اور شدید نعرے بازی کی۔

    ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے بعد قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور تمام اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔

     

    ان کے چہروں کو نشان زد کریں۔ یہ وہ گروہ مافیا ہے جس نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین پر حملہ کیا اور اسے منسوخ کیا۔ ان سب پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔

     

     

    اپنی کرسی کو بچانے کی خاطر آئینِ پاکستان کا حلیہ بگاڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جانی چاہیے۔ اس جرم پر اگر اس پاگل اور جنونی شخص کو سزا نا دی گئی تو آج کے بعد اس ملک میں جنگل کا قانون چلے گا!

  • ‏آج یوم نجات ہے اور آپ بجا طور پر یومِ نجات منا سکتے ہیں :فضل الرحمان

    ‏آج یوم نجات ہے اور آپ بجا طور پر یومِ نجات منا سکتے ہیں :فضل الرحمان

    اسلام آباد:‏آج یوم نجات ہے اور آپ بجا طور پر یومِ نجات منا سکتے ہیں کیونکہ وہ شکست کھاکر بھاگ چکے ہیں
    پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عمران خان دماغی بنیاد پر وزیر اعظم بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

    تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جعلی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایجنڈے پر تھی، غیر متعلقہ خط کو بنیاد بنا کر عدم اعتماد کی تحریک کو ممترد کرنے کی بھونڈی سازش کی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ پورے ملک کو سیاسی بحران کی جانب دھکیل دیا گیا ہے، شاید ہی اس منصب سے ایسی بھانڈی حماکت دیکھی گئی ہو، عمران خان نے ڈکٹیٹروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، عمران خان ذلت سے ہار کر بھاگا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان دماغی بنیاد پر وزیر اعظم بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ڈپٹی سپیکر نے اسد قیصر کا حوالہ دیکر رولنگ دی، تحریک عدم اعتماد اپنی جگہ پر قائم ہے، اسمبلیاں تحلیل کرنے کی وزیر اعظم کی سفارش غیر آئینی ہے۔

    مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان نے جمہوریت کا چہرہ مسخ کیا ہے، مشترکہ لائحہ عمل سے آئندہ اقدامات کریں گے، آئین، پارلیمنٹ اور ووٹ کی بالادستی کیلئے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

    پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ نا اہل اور نالائقوں سے قوم کو نجات مل چکی ہے۔

     

  • تحریک عدم اعتماد آئین قانون کی خلاف ورزی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ:تفصیلات بھی آگئیں

    اسلام آباد : تحریک عدم اعتماد آئین قانون کی خلاف ورزی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ:تفصیلات بھی آگئیں ،اطلاعات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق کہا ہے کہ وزیرقانون نے جو نکات اٹھائے وہ درست ہیں، عدم اعتماد کی تحریک کا آئین و قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس کے لیے جہاں حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان وزیر اعظم عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے وہاں اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد مسترد کردی۔

     

    اس حوالے سے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی طاقت کو حق نہیں کہ پاکستان کی حکومت کو سازش سے گرائے۔

     

     

    ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی کہ تحریک عدم اعتماد آئین و قانون کی خلاف ورزی اور قواعد و ضابطے کے خلاف ہے۔جس پر ڈپٹی اسپیکر نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کردی

    ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کا آئین و قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے لہذا تحریک عدم اعتماد کی قرار داد کو مسترد کیا جاتا ہے۔

  • آج عمران خان نے ایک بال پر تین وکٹیں لے لی:اداکار شان

    آج عمران خان نے ایک بال پر تین وکٹیں لے لی:اداکار شان

    لاہور:آج عمران خان نے ایک بال پر تین وکٹیں لے لی:اطلاعات کے مطابق پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور فلم اسٹار شان نے ملک کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ آج عمران خان نے ایک بال پر تین وکٹیں لے لی۔

    شان شاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنی ٹوئٹ میں وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ اور وہ سمجھتے تھے کہ آپ کرکٹر ہیں، آج آپ ایک بہترین سیاسی ذہن ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ شان نے مزید لکھا کہ آج عمران خان نے ایک بال پر تین وکٹیں لے لی۔

    واضح رہےکہ آج قومی اسمبلی کے اہم ترین اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کی قرار داد مسترد کر دی۔

     

     

    ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے متحدہ اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کو آئین کے خلاف قرار دے دیا۔

    ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے خلاف کسی غیر ملکی کو حق نہیں کہ وہ تحریکِ عدم اعتماد لائے، کسی غیر ملکی طاقت کو اختیار نہیں کہ پاکستان کے معاملے میں مداخلت کرے۔

    سوشل میڈیا صارفین نے بھی اسے بڑا اعلان قرار دیتے ہوئے ، بریکنگ نیوز‘ عمران خان کی دوران تقریر تصویر، ٹی وی کلپس اور مختلف میمز کے ذریعے اپوزیشن کو جواب دینا شروع کر دیا ہے۔

    صرف یہی نہیں بلکہ ’سرپرائز‘اور ’آخری سانس تک عمران خان‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔

     

  • وزیراعظم کی ایڈوائس،قومی اسمبلی کی تحلیل:آئین کیا کہتا ہے؟

    وزیراعظم کی ایڈوائس،قومی اسمبلی کی تحلیل:آئین کیا کہتا ہے؟

    اسلام آباد:وزیراعظم کی ایڈوائس،قومی اسمبلی کی تحلیل:آئین کیا کہتا ہے؟پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر نے اپنی رولنگ میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد کو آئین کے منافی اور ضوابط کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق اس ساری صورتحال کے بعد اورڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی کی طرف سے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے بعد قوم سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں نے صدر کو قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز دے دی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ میں نے قوم سے کہا تھا کہ گھبرانا نہیں،میں نے اسمبلیاں توڑنے کی ایڈوائس صدر کو بھیج دی، قوم سے کہتا ہوں کہ الیکشن کی تیاری کریں ، مجھےگزشتہ روز سے لوگ پیغام دے رہے تھےکہ غداری ہو رہی ہے.

    واضح رہے کہ قبل از وقت قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں آئین کے تحت 90 روز میں عام انتخابات کروائے جائیں گے، قومی اسمبلی تحلیل ہوتے ہی نگران حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہو جائے گا.

    آئین کے تحت وزیراعظم کی طرف سے قومی اسمبلی کی تحلیل کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت قومی اسمبلی تحلیل کے پابند ہیں. وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر قومی اسمبلی تحلیل نہ کرے تو قومی اسمبلی 48 گھنٹوں میں خود بخود تحلیل ہو جائے گی.

  • ملک کی سیاسی صورت حال پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    ملک کی سیاسی صورت حال پر سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے ملک کی سیاسی صورت حال پر از خود نوٹس لے لیا۔سپریم کورٹ اس حوالے سے کیسا بنچ تشکیل دے گی اور اس میں کون سے ججز شامل ہوں گے ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے

    ترجمان سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ملک میں حالیہ سیاسی صورت حال پر نوٹس لے لیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔

    دوسری جانب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنما بھی سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائز پر صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے۔

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے، ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لائی جا رہی ہے، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا رہی ہے، اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل فائیو اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے، کیا بیرون ملک کی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل ہوسکتی ہے، کیا یہ آئین کے آرٹیکل کے 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیا پاکستانی غلام، فقیر یا کٹھ پتلی ہیں، بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک میں رجیم بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد رولز کی خلاف ورزی ہے، لہذا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم کو مبارک دینا چاہتا ہوں اسپیکر قومی اسمبلی نے رجیم تبدیل کرنے کی تحریک مسترد کر دی، عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، پوری قوم پریشان تھی، غدار بیٹھے ہوئے تھے، ملک کیساتھ غداری ہو رہی تھی، سب کو یہی پیغام دیا گھبرانا نہیں، انشااللہ ایسی سازش قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی، صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل تجویز بھیج دی ہے، کسی بیرونی قوت نے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ملک کیساتھ ہونیوالی بڑی سازش فیل ہوگئی، عوام فیصلہ کریں نہ کہ بیرونی طاقت ہمارے معاملات کا فیصلہ کرے، اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ ارکان اسمبلی خریدنے کی بجائے غریبوں کا بھلا کر دیں، ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔

  • عمران خان نے اچھا فیصلہ نہیں کیا:منفی اثرات مرتب ہوسکتےہیں:مبشرلقمان

    عمران خان نے اچھا فیصلہ نہیں کیا:منفی اثرات مرتب ہوسکتےہیں:مبشرلقمان

    لاہور:عمران خان نے اچھا فیصلہ نہیں کیا:منفی اثرات مرتب ہوسکتےہیں:اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ جوآج پاکستان میں ہوا اس کی مثآل نہیں ملتی ،یہ ایک ایسا اقدام ہے کہ جس کواچھا نہیں کہا جاسکتا ہے،

    مبشرلقمان کہتےہیں کہ عمران خان کو بعض ساتھیوں نے غلط مشورہ دیا جوآج انہوں نے اس پرعمل کردکھایا،۔مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جوعمران خان کےلیے مشکلات پیدا کرے گا

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس نے آئین کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے اور جمہوریت اور جمہوری روح کو پٹڑی سے اتارنے کی ان کی کوششوں کی کوئی وضاحت نہیں کی سکتی۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائز پر صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے۔

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے، ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لائی جا رہی ہے، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا رہی ہے، اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل فائیو اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے، کیا بیرون ملک کی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل ہوسکتی ہے، کیا یہ آئین کے آرٹیکل کے 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیا پاکستانی غلام، فقیر یا کٹھ پتلی ہیں، بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک میں رجیم بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد رولز کی خلاف ورزی ہے، لہذا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم کو مبارک دینا چاہتا ہوں اسپیکر قومی اسمبلی نے رجیم تبدیل کرنے کی تحریک مسترد کر دی، عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، پوری قوم پریشان تھی، غدار بیٹھے ہوئے تھے، ملک کیساتھ غداری ہو رہی تھی، سب کو یہی پیغام دیا گھبرانا نہیں، انشااللہ ایسی سازش قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی، صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل تجویز بھیج دی ہے، کسی بیرونی قوت نے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا۔

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ملک کیساتھ ہونیوالی بڑی سازش فیل ہوگئی، عوام فیصلہ کریں نہ کہ بیرونی طاقت ہمارے معاملات کا فیصلہ کرے، اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ ارکان اسمبلی خریدنے کی بجائے غریبوں کا بھلا کر دیں، ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔

  • پاکستان میں قانون کی حکمرانی جگہ نہ بناسکی :مصطفٰی لقمان

    پاکستان میں قانون کی حکمرانی جگہ نہ بناسکی :مصطفٰی لقمان

    لاہور:پاکستان میں قانون کی حکمرانی جگہ نہ بناسکی :مصطفٰی لقمان نے پاکستان میں‌ آج کے دن ہونے والے فیصلے کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ایسے لگ رہا ہےکہ پاکستان میں قانون نام کی حکمرانی ابھی قائم نہیں ہوئی

    مصطفیٰ لقمان جوکہ سینئرصحافی مبشرلقمان کے صاحبزادے ہیں اور ایک قانون کے طالب علم کی حیثیت سے میدان میں اترے ہیں ، مصطفٰی لقمان کہتے ہیں کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ آج کے واقعہ سے ایک بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے ،

    مصطفٰی لقمان کہتے ہیں کہ کوئی سوچتا ہے کہ کیا اس ملک میں قانون کی حکمرانی کا کوئی مستقبل ہے جہاں آئین کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گندی سیاست کی گئی ہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا

    یاد رہے کہ آج وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائز پر صدر مملکت عارف علوی نے قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے۔

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت پیش کی جاتی ہے، ہمارے سفیر کو 7 مارچ کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لائی جا رہی ہے، ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جا رہی ہے، اگر عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔

    فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آرٹیکل فائیو اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کا فرض ہے، کیا بیرون ملک کی مدد سے پاکستان میں حکومت تبدیل ہوسکتی ہے، کیا یہ آئین کے آرٹیکل کے 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیا پاکستانی غلام، فقیر یا کٹھ پتلی ہیں، بیرونی قوتوں کی جانب سے ملک میں رجیم بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد رولز کی خلاف ورزی ہے، لہذا وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم کو مبارک دینا چاہتا ہوں اسپیکر قومی اسمبلی نے رجیم تبدیل کرنے کی تحریک مسترد کر دی، عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، پوری قوم پریشان تھی، غدار بیٹھے ہوئے تھے، ملک کیساتھ غداری ہو رہی تھی، سب کو یہی پیغام دیا گھبرانا نہیں، انشااللہ ایسی سازش قوم کامیاب نہیں ہونے دے گی، صدر مملکت کو اسمبلیاں تحلیل تجویز بھیج دی ہے، کسی بیرونی قوت نے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرنا۔

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ملک کیساتھ ہونیوالی بڑی سازش فیل ہوگئی، عوام فیصلہ کریں نہ کہ بیرونی طاقت ہمارے معاملات کا فیصلہ کرے، اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ ارکان اسمبلی خریدنے کی بجائے غریبوں کا بھلا کر دیں، ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔

  • ریڈزون میں پی ٹی آئی کارکنوں کو داخل کی مذمت کرتے ہیںُ:مریم نواز

    ریڈزون میں پی ٹی آئی کارکنوں کو داخل کی مذمت کرتے ہیںُ:مریم نواز

    ریڈزون میں پی ٹی آئی کارکنوں کو داخل کرنے کے لئے پولیس کے استعمال کی مذمت کرتے ہیںُ
    وزارت داخلہ ، آئی جی اورکمشنر اسلام آباد سیاسی جماعت کے کارکن بننے سے باز رہیں پارلیمنٹ لاجز میں ہنگامہ آرائی کرانے، ارکان قومی اسمبلی کو دھمکانے، ان کا راستہ روکنے کا منصوبہ تشویشناک ہے

    وزارت داخلہ، آئی جی، کمشنر اور اسلام آباد انتظامیہ عدالت عظمی کے احکامات کی پاسداری یقینی بنائیں چیف جسٹس پاکستان کو حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ، پارلیمنٹ لاجز اور ارکان اسمبلی کے خلاف اس منصوبہ بندی کا نوٹس لینا چاہئے

    مریم کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات اٹارنی جنرل کی سپریم کورٹ میں دی گئی یقین دہانی کے منافی ہیں، یہ توہین عدالت ہے پی ٹی آئی کارکنوں اور بلوائیوں کو ڈی چوک اور اس سے آگے تک رسائی دینے کی سازش عدالتی فیصلے کے منافی ہے

    آئینی وقانونی عمل میں مداخلت، رکاوٹ اور دخل اندازی میں جو بھی اہلکار، ادارہ ملوث ہوگا، اسے قانون کے سامنے کے لئے تیار رہنا ہوگا پارلیمنٹ میں ہنگامی آرائی کرانے کی حکومتی منصوبہ بندی کی اطلاعات عمران صاحب کی ہار بدل نہیں سکتیں

     

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران صاحب پارلیمنٹ، پی ٹی وی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کی اپنی سیاہ روایت پھر سے دوہرانے جارہے ہیں عمران صاحب پھر سے کنٹینر سیاست شروع کررہے ہیں، ملک کو فساد کی بھٹی میں نہ جھونکیں

    مریم اورنگزیب کہتی ہیں کہ آپ ہار چکے ہیں، آئین اور قانون سے نہ لڑیں.آپ کی ہار کے ذمہ دار آپ خود ہیں، قوم کو سزا نہ دیں، خود کو سزا دیں پی ٹی آئی تحریک دہشت گردی اور فساد بن گئی ہے

  • نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

    نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟پانامہ کے بعد ڈرامہ

    اسلام آباد:نوازشریف پرحملہ،برطانوی میڈیابےخبر،بھارتی میڈیاچیخنےلگا،مذمت پاکستان میں:گارڈکی پیشانی پرکٹ؟چند منٹ پہلے پاکستانی میڈیا میں چلائے جانے والی خبرجس میں یہ آہ وبکا کی گئی کہ لندن میں‌ نوازشریف پرحملہ ہوگیا ہے اور ایک حملہ آور نے نوازشریف کو موبائل دے مارا ہے

     

    دنیاکو خبرنہیں اور بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہےکہ نوازشریف پرحملہ ہوگیا،بچالو اسے

    یہ کہانی بھی بڑی عجیب لگتی ہے ، پہلی تو بات یہ ہے کہ یہ حملہ جس جگہ بتایا جارہا ہے وہاں پچاس میٹر دور تک کوئی ناواقف شخص قریب نہیں آسکتا ہے ، پھردوسری اہم وجہ یہ ہے کہ وہ شخص جس نے نوازشریف کو موبائل دے مارا وہ سیکورٹی گارڈز کو عبور کرکیسے کرکے قریب آگیا اور فرض کرلیں کہ اس حملہ آور نے حملہ کیا تو پھرکس سے کیا

     

    بتایا جارہا ہے کہ حملہ آور نے موبائل دے مارا اور وہ سیکورٹی گارڈ کو لگ گیا لیکن جو زخم بتایا جارہا ہےوہ موبائل لگنے کی وجہ سے نہیں ہے ، کیوں کہ موبائل اگرقریب سے پھینکا گیا تو اس کی رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتو وہ جہاں سے پھینکا گیا وہاں سے 10 میٹر سے ہوا میں سفر کرسکتا ہے اور اگر اتنی تیزی سے لگا ہے تو پھر سیکورٹی گارڈ کی پیشانی پرجہاں سے خون بہہ رہا ہے اس کے گردو نواح کا حصہ بھی متاثر ہونا چاہیے ، سوزش بھی یقینی تھی لیکن وہ کیوں نہ ہوئی ، آنکھ کے اس حصے پر کوئی چیز بھی لگے تو وہ تو بہت زیادہ سوج جاتی ہے ، جیسا کہ ہرکسی کے علم میں‌ہے

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بتایا جارہا ہے کہ موبائل زور سے مارا جہاں موبائل لگا وہاں ارد گرد پیشانی کی جلد کا رنگ کیوں نہ تبدیل ہوا ، اورپھرجو زخم لگا اس گہرے زخم سے خون کا ایک قطرہ آکر آنکھ پر کیوں‌ رُک گیا اور بھی خون بہنا چاہیے تھا

    اس کے بعد یہ جائزہ لیں تو یہ بھی صورت حال سامنے آتی ہے کہ جو پیشانی پرزخم دکھایا جارہا ہے وہ تو ایک کٹ ہے اور اور کٹ بھی اس تکنیک سے لگایا گیا ہے کہ نہ تو گہرا ہے اور نہ ہے زیادہ پھیلا ہوا

    پھر اگر فرض کرلیا جائے کہ واقعی حملہ ہوا تو حملہ آورکہاں گیا ، اس کا نام کیا ہے ، اس کا موبائل کہاں گیا اور اگرموبائل پاس ہے تو اس میں موجود سم کا ڈیٹا دیا جاتا

    بی بی سی انگلش میں واقعہ کے کئی گھنٹے بعد تک نوازشرپف پرحملے کا کوئی ذکر نہیں 

    یہ بھی یاد رکھیں کہ اس تحقیق کے بعد پاکستانی میڈیا پرپھر ایک بار فرضی حملہ آور کو اس ڈرامے کو سچ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا جائے لیکن یہ یاد رکھیں کہ برطانوی میڈیا اور عدالت میں یہ حقائق پیش نہیں کیے جائیں گے کیونکہ وہاں جھوٹ نہیں چلتا

    اس کےبعد آتے ہیں کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت تو میاں نوازشریف اپنے محل میں بیٹھے چند غیرملکیوں کے ساتھ میٹنگ کررہے تھے ، میاں صاحب ان غیرملکیوں کو میٹنگ میں چھوڑ کراچانک باہر کیوں آئے ، اور پھراگرآگئے تو پھر خاموشی سے واپس کیوں چلے گئے اور ان غیرملکیوں کو کیوں نہ بتایا کہ یہ ڈرامہ ہوگیا ہے

    اس کے بعد آتے ہیں کہ حسب روایت میاں نوازشریف کی حمایت میں بھارتی میڈیا سب سے پہلے آتا ہے اور آج بھی بھارتی میڈیا نے یہ خبر بریک کی اور دھاڑیں مار مار کررورہا ہےکہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا

    جبکہ برطانیہ جہاں سیکڑوں ادارے بین الاقوامی معاملات پر لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کررہے ہیں ان کو کیوں نہ پتہ لگا کہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا ،

    بی بی سی اردو میں کئی گھنٹے بعد تک نوازشرپف پرحملے کا کوئی ذکر نہیں 


    برطانوی نشریاتی اداروں کے ساتھ ساتھ دیگرعالمی میڈیا کو پتہ نہیں کہ نوازشریف پر حملہ ہوگیا اوربھارتی میڈیا چیخیں مار رہا ہے ، اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں‌؟

    پھر اگرحملہ ہوا ہے تو اسکاٹ لینڈ یارڈ کو کیوں نہ رپورٹ جمع کروائی گئی اور اس رپورٹ کی کاپیاں کیوں نہ شیئر کی گئیں اگر یہ سچ ہے تو ؟

    اتنا بڑا ڈرامہ کیوں اور کیسے ہوا اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟

    اس وقت پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہے اور آج پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد ہونے جارہی ہے ، ملک کے مشہور میڈیا گروپس اس معاملے پرحکومت اور ریاست کے خلاف ہیں اور وہ نوازشریف اور زرداری کے پے رول کے طور پرکام کررہے ہیں ،وہ اس موقع پر حکومت کو گہرے زخم لگانے اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ حکومت ظالم حکومت ہے اور یہ اپنےمخالفین پر حملوں میں ملوث ہے لٰہذا اسے کے خلاف نکلنا اب واجب ہوگیا ہے

    دوسرا اس کا مقصد یہ ہےکہ پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ تاثردیا جائے کہ یہ حکومت جارہی ہیے اوراسی وجہ سے یہ گھنونے کام کررہی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہےکہ اسلام اباد میں اس حکومت کے ورکرز بڑی تعداد میں موجود ہیں اور وہ اپوزیشن کے خلاف میدان میں نکل آئے تاکہ عوام کی ہمدردیاں حاصل ہوسکیں ،

    لندن سازش کو کس طرح کمک پہنچائی جارہی ہے.پاکستان میں ہونے والی زہرآلود رپورٹنگ کی ٹائمنگ،وقت اور موضوع ،طئے شدہ منصوبے کا حصہ

    مختصر یہ کہ یہ وہی کھیل ہے جو پہلے بھی کھیلا جاتا ہے اور جھوٹ اور ڈرامہ بازی کے ذریعے پاکستانی معاشرے کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوال یہ ہےکہ اتنے بڑے ڈرامے کرنے والے کب تک جھوٹوں کا سہارا لیں‌گے آخر کوئی تو ہے جو دیکھ رہا ہے

     

    بات یہ ہے کہ نوازشریف کے گارڈز نے ایک نوجوان پر تشدد کیا اور پھرپولیس کی کارروائی سے بچنے کےلیے یہ ڈرامہ کیا جس کا سارا منظرنامہ اس ویڈیو میں موجود ہے