Baaghi TV

Tag: بریکنگ

  • الحمراء اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کی ری اوپننگ کی مناسبت سے موسیقی کی محفل کاانعقاد

    لاہور:الحمراء اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کی ری اوپننگ کی مناسبت سے موسیقی کی محفل کاانعقادکیا گیا۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے تقریب کے تمام مہمانوں کو شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج الحمراء کے لئے تاریخی دن ہے،نوجوانوں کے موقع فراہم کرنے کے راہ ہموار کر رہے ہیں۔

    سینئر چیف پی اینڈ ڈی سلمان افتخار شامی اور یاسر مبین کی خصوصی شرکت کی۔سینئر چیف پی اینڈ ڈی سلمان افتخار شامی نے تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ الحمراء اکیڈمی نوجوانوں کے روشن مستقبل کا ادارہ ہے۔نامور آرٹسٹ استاد حامد علی،ترنم ناز،عبد الرؤف،سارہ رضا خان،ایمان فاطمہ و دیگر مہمان اعزاز تھے۔

    پروگرام میں الحمراء اکیڈمی کے اساتذہ و نوجوانوں آرٹسٹو ں کی پرفارمنس کا مظاہر ہ کیا۔الحمراء اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کی تزئین و آرائش کے بعد ری اوپن کیا گیا ہے۔دیباکرن،رمشا اشرف،فلک،نرشا سرفراز،حسن،تحسین،ایمان فاطمہ نے اپنے فن کا جادو جگایا۔الحمرا اکیڈمی اساتذہ نے قومی ترانہ پیش کیا،نامور گٹارسٹ سجاد طافو کی متاثر کن پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔

    الحمراء اکیڈمی کو نیا انداز ملنے پر تمام اساتذہ و نوجوان آرٹسٹ پرمسرت نظر آئے۔پروگرام کی نظامت کے فرائض نوین روما نے بخوبی احسن نبھائے۔

  • میں رہوں یانہ رہوں امریکین ٹولےکوقوم پرمسلّط نہیں ہونےدیں گے:اللہ آسانیاں پیدا فرمائیں گے:عمران خان

    میں رہوں یانہ رہوں امریکین ٹولےکوقوم پرمسلّط نہیں ہونےدیں گے:اللہ آسانیاں پیدا فرمائیں گے:عمران خان

    :اسلام آباد:میں رہوں یا نہ رہوں امریکی ایجنٹوں کواقتدارنہیں ملےگا:مجھے اپنےرب کی رحمت پربڑا بھروسہ ہے:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اتوار کو بڑا سرپرائز دینگے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں رہوں یا نہ رہوں پاکستانیوں پرامریکی ایجنٹوں کوحکومت نہیں کرنی دی جائے گی اور طئے شدہ بات اصول ہے

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات کرنے والوں میں دنیا نیوز کے سینئر صحافی اجمل جامی اور کامران شاہد بھی شامل تھے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لیگل پراسس کو استعمال کیا جا رہا ہے، ہر گیند تک لڑوں گا، اتوار کو بہت انجوائے کریں گے، تحریک عدم اعتماد ایک بہت بڑی بین الاقوامی سازش ہے، میری زندگی کو بالکل خطرہ ہے، اپوزیشن کی جانب سے کردار کشی کے حوالے سے کوئی آڈیو ٹیپ نکالی جاسکتی ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے میری کردار کشی بھی کی جا سکتی ہے، اپوزیشن کا ایک ماضی ہے ججز کی بھی مختلف ٹیپ نکالتے رہتے ہیں، نیب ایک آزاد ادارہ ہے، عدالتیں آزاد ہیں، خیبرپختونخوا کی عوام نے تحریک انصاف پراعتماد کیا۔ اوآئی سی کانفرنس کی وجہ سے لیٹر کو ہولڈ رکھا۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایک بڑا طاقتور ملک دورہ روس پر غصہ ہوگیا، کیا حکومت کو ہٹانے کیلئے کوئی ملک اس طرح دھمکی دے سکتا ہے، اچکنیں سلوانے والے کہتے ہیں امریکا کو ناراض نہیں کرنا چاہیے، ان لوگوں کی وجہ سے ملک اس حال کو پہنچا۔

    وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں شاید ووٹ کیلئے ریاست مدینہ کی بات کرتا ہوں، ریاست مدینہ کی کامیابی تاریخ کا حصہ ہے، لوگوں کو ریاست مدینہ کا ماڈل ہی سمجھ نہیں آیا، ہم نے سکیورٹی سے متعلق کبھی بات نہیں کی، ہمارے دماغ میں ہمیشہ سکیورٹی کا مطلب فوج تھا، امیر اور غریب میں فرق سے لوگوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے، سکیورٹی ڈائیلاگ ملک کیلئے بہت اہم ہیں، تعلیم اور صحت کے نظام میں فرق پیدا کر دیا گیا، کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، ملک پر اشرافیہ نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کی بڑی وجہ مجرموں کو سزائیں نہ ملنا ہے، کرپٹ لوگ غریب ملکوں کا پیسہ باہر لے جاتے ہیں، مخصوص طبقہ غریب عوام کو آگے نہیں بڑھنے دیتا، کوئی بھی معاشرہ قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا نے پابندیوں کے باوجود ترقی کی، کرپٹ لوگ پیسہ چوری کر کے امیر ممالک میں رکھتے ہیں، خود مختار خارجہ پالیسی ملک کیلئے ضروری ہے، بہترین خارجہ پالیسی ملکی مفادات کو ترجیح دیتی ہے، ماضی میں افغان جنگ میں شراکت دار رہے، افغان جنگ میں شراکت داری مالی امداد کیلئے تھی یا افغانوں کی مدد کیلئے ؟ روس جانے پر نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، کیا کسی خود مختار آزاد ملک کو ایسی دھمکیاں دی جاسکتی ہیں؟۔

  • بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا

    بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا

    اسلام آباد:بلاول بھٹو نےعدم اعتماد کےناکام ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا،اطلاعات کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم، وزیراعلیٰ اور وزرا نے لوگوں کو اکسایا تو آرٹیکل 6 لگے گا۔

    بلاول بھٹو نے خدشات ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ایسے لگ رہا ہے کہ عدم اعتماد کو ناکام کردیا جائے

    ذرائع کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طریقہ کار میں مداخلت پر آرٹیکل 6 بہت واضح ہے، آئینہ طریقہ کار میں رکاوٹ ڈالنے پر اسپیکر پر بھی آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سلامتی کمیٹی کا اجلاس پیر کو بھی بلایا جاسکتا تھا، تحریک عدم اعتماد کے وقت پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانا غیرمناسب ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی اور سیاسی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، عدم اعتماد جمہوری عمل ہے جس سے کافی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

    چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ عمران خان معززہوتے تو طریقے سے ہار مان لیتے، امید کرتا ہوں غیرقانونی عمل یا توہین عدالت کی طرف نہیں جائیں گے، عدم اعتماد ناکام ہوگی تو خطرہ ہے اگلے 20سال بھی اسی طریقے سے گزریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان کے ہر جھوٹ کا جواب دینا جانتے ہیں، یہ ایک موقع ہے قوم کو اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے، امید ہے اتوار تک کوئی غیرجمہوری قدم نہیں اپنایا جائے گا۔

  • منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری

    اسلام آباد:پاکستان میں ضمیرفروشی کی روایات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں ، اسی سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ منحرف ارکان قومی اسمبلی کو وضاحت کیلئے دیا گیا وقت ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ان کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق منحرف اراکین قومی اسمبلی کو وضاحت کیلئے دیا گیا وقت ختم ہوگیا ہے، وزیراعظم نے منحرف اراکین کے جوابات نا معقول قرار دیتے ہوئے مسترد کردیے ہیں۔

    اسد عمر نے منحرف 13 ارکان قومی اسمبلی کے شو کاز نوٹسز پر دستخط کر دیےتحریک انصاف کے مطابق وزیراعظم نے منحرف اراکین کیخلاف ریفرنسز دائر کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عامر کیانی کی ملاقات ہوئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم و چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں منحرف اراکین کیخلاف ریفرنسز تیار کرلیے گئے ہیں ، منحرف اراکین کیخلاف دستاویزی ثبوت بھی ریفرنسز کے ساتھ بھجوائے جائیں گے۔

    بابر اعوان کے مطابق وزیراعظم نے بےضمیر اراکین کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے، دستور اراکین پارلیمان پر صداقت و امانت کی بنیادی شرط عائد کرتا ہے، ہارس ٹریڈنگ کے مرتکب اراکین نے پارٹی سربراہ کی ہدایات سے کھلا انحراف کیا ہے، منحرف اراکین کیخلاف قانونی کارروائی کے تحت ریفرنسز جلد اسپیکر کو بھجوادیں گے۔

    خیال رہے کہ پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر تقریباً 13 ارکان قومی اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

    اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے تقریباً 22 ارکان قومی اسمبلی نے تحریک عدم اعتماد پر وزیراعظم عمران خان کیخلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ 3 اپریل بروز اتوار ہوگی جس کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس صبح ساڑھے 11 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔

  • اللہ کےفضل سےہم نےکرپشن کےخاتمے کی کبھی بات نہیں : شہبازشریف کےمنہ سےسچ نکل گیا

    اللہ کےفضل سےہم نےکرپشن کےخاتمے کی کبھی بات نہیں : شہبازشریف کےمنہ سےسچ نکل گیا

    اسلام آباد: اللہ کے فضل سے ہم نے کرپشن کے خاتمے کی کبھی بات نہیں : شہباز شریف کے منہ سے سچ نکل گیا ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کے منہ سے اچانک سچ نکل گیا جس میں‌وہ کہہ بیٹھے کہ اللہ کے فضل سے ہم نے کرپشن کے خاتمےکی کبھی بات نہیں کی اور نہ ہی یہ ہمارا مقصد ہے، ہم نے عوام کے منصوبوں میں کئی اربوں کی بچت کی لیکن پیسے بچانے پر کبھی ڈھنڈورا نہیں کیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا متحدہ اپوزیشن نے مجھے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سونپا تو یہ مہربانی ہے، متحدہ اپوزیشن کی حکومت آئی تو سب سے پہلے غریب کی زندگی بہتر کریں گے۔

    شہباز شریف نے کہا ابھی تک کسی پارٹی ممبر یا اتحادیوں کو کال نہیں آئی کہ یہ نہ کریں، انتظامیہ اور پولیس کو کہا ہے ووٹنگ کے دن سپریم کورٹ فیصلے پر عمل نہ کیا تو ہم سب کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے، ممبرز کو پرامن ووٹنگ میں رکاوٹ ہوئی تو ہم خط لکھیں گے۔

    انھوں نے کہا آج عمران نیازی کی حالت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جیسی ہے، سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں ایک لفظ سازش کا نہیں ہے، آج کل عمران بھارتی پالیسی کی تعریف کر رہے ہیں، بھارت سے متعلق نیوٹرل کی الگ اور اپنوں کی نیوٹرل کی تشریح کچھ کرتے ہیں۔

    دریں اثنا، پریس کانفرنس کے دوران ہی شہباز شریف کو نواز شریف کا فون آ گیا، انھوں نے فون پر بات سنی پھر کہا پریس کانفرنس کے بعد اتحادیوں سے مشاورت کروں گا، بعد ازاں صحافیوں کے سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا نواز شریف اپنے علاج کے بعد جلد از جلد پاکستان آئیں گے۔

  • نیم آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن ن لیگ میں شامل

    نیم آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن ن لیگ میں شامل

    لاہور:نیم آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن ن لیگ میں شامل ،اطلاعات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں آزاد رکن اسمبلی جنگو محسن (سیّدہ میمنات محسن) نے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔

    یاد رہے کہ جگنو محسن پی پی 184 سے 2018ء میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئی تھیں۔سید زادی جگنو محسن نے ن لیگ میں شمولیت کو اپنی حقیقی کامیابی قرار دیا

    انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے خوش اسلوبی سے مجھے بلایا۔ اس پارٹی میں شامل ہورہی ہوں جہاں ہمیشہ جمہوریت کا تسلسل رہا، ہمارے درمیان زیرک سیاست دان موجود ہیں جو مشکلات سےنکالیں گے۔

    جگنو محسن نے کہا کہ لیگی صدر شہباز شریف نے قدم قدم پر میرے کام کو سراہا، ن لیگ کی قیادت اور کارکنوں نے بہت قربانیاں دیں، میرے حلقے کی عوام مجھے حکم دے رہی ہے، حلقے کی عوام نے کہا ہمارے کام کرنے ہیں، میرا عطا تارڑ کی قیادت سے بھی مسلسل رابطہ رہا، وقت آ گیا ہے کہ عوام کی حکمرانی کےلیے فیصلہ کروں۔ چھوٹے صوبوں کی سنیں گے، معیشت کو مستحکم کریں گے، پورے پاکستان کے رنگ پی ڈی ایم میں جھلکتے ہیں۔

    حمزہ شہباز کی جانب سے جگنو محسن کی شمولیت کا خیر مقدم کیا گیا۔

    خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے گزشتہ روز اوکاڑہ کے حلقہ پی پی184سے آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن سے ٹیلی فون پر تفصیلی بات کی تھی۔

  • خواجہ اظہارالحسن کےتاریخی نظریات اورالفاظ گھوم گھوم کرایم کیوایم کواحساس شرم  دلانے لگے

    خواجہ اظہارالحسن کےتاریخی نظریات اورالفاظ گھوم گھوم کرایم کیوایم کواحساس شرم دلانے لگے

    اسلام آباد: خواجہ اظہارالحسن کےتاریخی نظریات اورالفاظ گھوم گھوم کرایم کیوایم کواحساس شرم دلانے لگے،اطلاعات کے مطابق ایم کیوایم کی طرف سے پی پی کے ساتھ اتحاد کے بعد ایم کیوایم کے اپنے ورکروں اور نظریاتی لوگوں نے ایم کیوایم کی قیادت سے پوچھا ہے کہ کیا تم دوسروں کو لڑا کرمفادات حاصل کرنے کوثواب اور کامیابی سمجھتے ہو،حالانکہ خود ان رویوں کہ نہ صرف نفی کرتے تھے بلکہ مذمت بھی کرتے تھے ،

    اس حوالے سے ایم کیوایم کے ورکرروں نے سوشل میڈیا پراپنے قائدین کی ٹرولنگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یاد کروان الفاظ کور اور ان احساسات کو جو دوسرے کے لیے منتخب کرتے ھتے ، سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کچھ اس طرح‌ہورہی ہے

    سوشل میڈیا صارفین نے پیپلزپارٹی کے ساتھ ایک بار پھر ساتھ چلنے کے وعدے پر ایم کیوایم کو سندھ اسمبلی میں خواجہ اظہار الحسن کی پڑھی نظم یاد دلا دی۔

    تفصیلات کے مطابق حکومت سے علیحدگی اور پیپلز پارٹی سے معاہدے کے بعد ایم کیوایم کیخلاف سوشل میڈیا پرصارفین کی ٹرولنگ جاری ہے۔

    خواجہ اظہار اپنے نئے اتحادیوں کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے کیا رائے رکھتے تھے، اس پر صارفین نے دس نمبر اور دس فیصد کا ذکر چھیڑدیا۔

    صارفین نے مل کر کھانے کی باتوں پر ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہار الحسن کی پڑھی نظم یاد دلاتے ہوئے کہا پھر ساتھ چلنے کا وعدہ، عوام کے نام ایک اور معاہدہ!

    یاد رہے خواجہ اظہار الحسن نے سندھ اسمبلی میں ایک ںظم پڑھی تھی ، آؤ مل کر کھاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں ، گیت خوشی کے گاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں۔

    جب وقت پڑا تو بھاگیں گے، جدہ اور لندن اپنا ہے
    مل کر بھوک مٹاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    میں 10% تم 10 نمبر، دونوں مل کر کچھ کر جائیں
    اک تازہ ڈھونگ رچا تے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    گھوڑے لوَٹے، سب آئیں گے تھیلے بھر بھر لے جائیں گے
    اک اور دکان لگاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    تو عدل کا شور مچائے جا، میں ظلم کو عام کیے جاؤں
    اس طرح سے کام چلاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    ہم ماضی میں بھی کھاتے تھے، اب اور زیادہ کھائیں گے
    کب کہنے سے شرماتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    اس ملک سے اتنا پیار ہمیں، چپہ چپہ بیچیں گے ہم
    اس ملک سے پیار نبھاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
    ہے پہلے بھی لُوٹا اس کو، پر قوم بھلا بیٹھی ہم کو
    اک اور سبق سکھلاتے ہیں آؤ مل کر کھاتے ہیں
    میرے گھوڑے بیتاب بہت، ڈربی کھولو میں آتا ہوں
    ہر شہر میں ریس لگاتے ہیں آؤ مل کر کھاتے ہیں
    اک دوجے کے دشمن تھے یہ اے یاسر جی کچھ دن پہلے
    اب دونوں یہ فرماتے ہیں آؤ مل کر کھاتے ہیں۔

  • پی ڈی ایم اتحاد کےعلاوہ جوبھی حکومت آئے گی گرا دی جائے گی:جاوید لطیف کے نیک عزائم

    پی ڈی ایم اتحاد کےعلاوہ جوبھی حکومت آئے گی گرا دی جائے گی:جاوید لطیف کے نیک عزائم

    لاہور:‘پی ٹی آئی ممبران سمجھتے ہیں کہ بزدار کے بعد چودھری کو تبدیلی نہیں کہا جاسکتا’ن لیگ کے رہمنا جاوید لطیف نے اپنے عزائم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اتحاد کے علاوہ جوبھی حکومت آئے گی گرا دی جائے گی

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ممبران سمجھتے ہیں کہ بزدار کے بعد چودھری کو تبدیلی نہیں کہا جاسکتا۔

    اپنے جاری کردہ بیان میں چیئرمین میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی آزاد ممبران سے پارٹی کی بنائی رابطہ کمیٹی رابطے میں ہے۔

    جاوید لطیف نے کہا کہ مرکز میں اتوار کو کامیابی کے بعد اپوزیشن اکابرین کی مشاورت سے وزیر اعلی پنجاب کے امیدوار کا اعلان کیاجائےگا۔

    انہوں نے بتایا کہ مرکز کی طرح پنجاب میں اسمبلی ارکان کو دھمکانے کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے، عمران خان کی مرضی کے خلاف ووٹ دینے پر ڈی سیٹ کا قانون پڑھ کر بار بار یہ سنا رہے ہیں۔

    جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ ڈی سیٹ کی دھمکی دینے والے بھول رہے ہیں کہ اکاون فیصد رائے رکھنے والوں کو قانون نہ سنایا جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ منگل اور بدھ کو مرکز کی طرز پر پنجاب میں بھی بڑا سرپرائز دیں گے، پی ٹی آئی ممبران سمجھتے ہیں کہ بزدار کے بعد چودھری کو تبدیلی نہیں کہا جاسکتا۔

     

  • ‏عمران خان آج پھر قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے تھے:فضل الرحمان

    ‏عمران خان آج پھر قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے تھے:فضل الرحمان

    اسلام آباد:‏عمران خان آج پھر قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہے تھے:فضل الرحمان نے عمران خان کی تقریر پراپنا غصہ نکالنا شروع کردیا ،فضل الرحمن نے کہا کہ اب وہ میدان میں آگئے توضمیرفروش ہوگئے،

    فضل الرحمن نے کہا کہ جب جہازاڑاکرممبران خرید رہے تھےتب باضمیرتھے،ایک ہارا ہوا انسان شکست کا اعتراف کررہا تھا، وزیراعظم کی تقریرکومسترد کرتے ہیں، امریکا سے برملا اختلاف صرف ہم نے کیا

    امریکی صدرفون کرنے کوتیارنہیں توعالمی سازش ہوگئی،جب ٹرمپ سے پذیرائی ملی توواپسی پرجشن منایا گیا،فضل الرحمان نےکہا کہ آپ کا آناعالمی سازش اورجاناتمہاری غلطیوں کانتیجہ ہے، آپ الزام لگا رہےہوکہ غیرملکی سازش ہورہی ہے، اوآئی سی اجلاس میں امریکی وفدکودعوت دی گئی،

    اس سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کے متحدہ اپوزیشن میں شامل ہونے کے موقع پر کی گئی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایم کیو ایم عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دے گی جس کا خیر مقدم کرتے ہیں، ایم کیو ایم کا یہ فیصلہ پاکستان کیلئے سیاسی یکجہتی کا اظہار ہے، چار سال پہلے شروع ہونے والے ڈرامے کا ڈراپ سین ہوگیا ہے، تمسخر کی سیاست نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلادیا،

    جنہوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا ان کیلئے موقع ہے کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ متحدہ اپوزیشن کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کردیا، انہوں نے کہا ہے کہ اب سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے متحدہ اپوزیشن میں شامل ہونے کے موقع پر کی گئی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایم کیو ایم عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دے

  • شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے

    شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے

    اسلام آباد:شہباز شریف وزیراعظم کی طرف سےامریکہ کا نام لینے پرناراض ہوگئے ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف نے وزیراعظم عمران خان کو ملک کے لئے سکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران نیازی اقتدار بچانے کے لئے پاکستان کو نشانے پر لے آئے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خطاب ختم ہوگیا ہو تو 172 ارکان پورے کریں، آپ کی کرپشن، نالائقی اور نااہلی نے ملک کو معاشی، سماجی، خارجہ تباہی سے دوچار کیا، عمران نیازی کی تقاریر پر پابندی لگائی جائے، وہ ملک کے سفارتی تعلقات تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آج کے خطاب تک عوام اور پارلیمنٹ کو خط نہیں دکھایا گیا، صرف مندرجات بتائے جا رہے ہیں، خط نہ دکھانے کا مطلب ہے کہ کوئی خط نہیں، عمران نیازی ہمیشہ کی طرح اب ایک نیا جھوٹ بول رہے ہیں، کرپشن، ریاست مدینہ کے بیانیوں کے بعد اب سازشی خط کا بیانیہ لائے ہیں، عوام انہیں اور ان کے ہر جھوٹ کو مسترد کر چکے ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کا کہنا تھا کہ دوگھنٹے جلسے میں اور ایک گھنٹہ قوم سے خطاب میں جس خط کا ذکر کیا، وہ خط ہے ہی نہیں، ایک سفارتی کیبل کو سازش کا رنگ دے کر پیش کیا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ن لیگ ، پی پی اور فضل الرحمن کے دور میں امریکی پاکستانیوں کوڈرون حملوں مارتے تھے اور یہ پاکستانیوں کے قتل عام پرخاموش رہتے تھے بلکہ ان کو کوئی پرواہ تک نہیں ہوتی تھی ، یہ بیان سُن کرشہبازشریف جزباتی ہوگئے اور پھراس قسم کے الزامات کا سلسلہ شروع کردیا

    اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب پر ردعمل دیا اور لکھا کہ یہ ہر روز ثابت کرتا ہے کہ یہ اس کرسی کے قابل نہیں تھا۔