Baaghi TV

Tag: بشریٰ بی بی

  • عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    عمران، بشریٰ کا القادر یونیورسٹی کا ناکام منصوبہ

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے شروع کیا گیا القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک اور ناکامی کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔

    سیاسی پشت پناہی اور بھرپور تشہیر کے باوجود، اس یونیورسٹی میں گزشتہ چار سالوں کے دوران صرف 200 طلباء نے داخلہ لیا۔ اس منصوبے کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے "خوابوں کا منصوبہ” سمجھا جا رہا تھا، لیکن اس کا عملی طور پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق اس یونیورسٹی کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے ان دونوں شخصیات کے خلاف مختلف الزامات سامنے آ چکے ہیں جن میں اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت نیب (قومی احتساب بیورو) نے ایک کیس دائر کیا ہے جس میں ان پر 190 ملین پاؤنڈز کی مالی بے ضابطگیوں کا الزام ہے۔

    اس کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مالی وسائل کو غلط طریقے سے استعمال کیا ، اس کیس میں ان دونوں کی قانونی مشکلات اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انہیں اس معاملے کی وجہ سےسزا سنائی جائے گی،

    واضح رہے کہ القادر یونیورسٹی سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ اس کیس کا فیصلہ تین بار مؤخر ہو چکا ہے، لیکن اب احتساب عدالت کے جج نے 17 جنوری کو اس کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ کیس عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    القادر یونیورسٹی کا منصوبہ ایک طرف جہاں سیاسی شہرت کے حصول کے لیے شروع کیا گیا تھا، وہیں دوسری طرف اس کے جال میں پھنس کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو قانونی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت ان کی مستقبل کی سیاست اور قانونی حیثیت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

    شیخ حسینہ کے خاندان کے گرد قانون کا گھیرا تنگ

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت

  • بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی ہے۔

    یہ فیصلہ 13 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانتوں کے کیس کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 7 فروری تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو برہمی کا سامنا کیا۔ جج نے فائلیں تیار کر کے نہ لانے پر ان کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، عدالت میں آ کر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔” اس پر وکیلوں نے درخواست کی کہ ضمانت کی تمام درخواستوں پر 7 فروری تک تاریخ مقرر کی جائے۔

    وکلاء کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے کے معاملے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر جگہ وی آئی پی پروٹوکول ملنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، فیصلے کی تحریر میں بھی آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں۔” جج نے مزید کہا کہ جب عدالتی حکم نامہ جاری ہو گا تو اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔

    وکیل قدیر خواجہ کی جانب سے بولنے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آپ عدالت پر یقین کریں، جب آپ عدالت پر یقین کریں گے تو لوگ بھی آپ پر یقین کریں گے۔” یہ بیان جج کی جانب سے وکیلوں کو عدالت کے عمل پر اعتماد رکھنے کی ہدایت کے طور پر تھا۔

    ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ،کانپتے ہوئے دیکھا ، ایک جج صاحب کا بلڈ پریشر 200 پر گیا لیکن اُنہوں نے ہمیں سزا سنانا تھی اور وہ سنائی ، بشریٰ بی بی
    بشریٰ بی بی نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے، عمران خان اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اسکے بعد قانون سے یقین ختم ہو گیا ہے، ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ہوتا، کانپتے ہوئے دیکھا ہے، ایک جج صاحب کا بلڈپریشر دو سو پر گیا لیکن انہوں نے ہمیں سزا سنانی تھی اور وہ سنائی، ملک میں قانون ہے لیکن انصاف نہیں عمران خان جیل میں آئین کی بالادستی کے لئے قید ہیں.اسلام آباد میں گاڑی سے رینجرز اہلکاروں کو ٹکر مارنے کے کیس کی سماعت انسداد دِہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،دورانِ سماعت بشریٰ بی بی اور جج طاہر عباس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جس میں جج نے کہا کہ تھوڑا وقت لگ گیا ہے لیکن قانونی ضابطے پورے کیے گئے ہیں۔اس پر بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ نہیں کوئی بات نہیں، ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے،جج طاہر عباس نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہر جگہ سے اعتماد نہیں اٹھا، جسٹس سسٹم جیسا بھی چل رہا ہے اگر ختم ہو گیا تو سوسائٹی ختم ہو جائیگی، آپ میرے پاس کچہری میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں،بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں7 فروری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ میں 2، تھانہ کراچی کمپنی میں 2، تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔عدالت نے 7 فروری 2025 کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے پولیس کو تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتیں 7 فروری تک برقرار رہیں گی۔

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190ملین پائونڈ ریفرنس کا فیصلہ ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ،

    190ملین ریفرنس کا فیصلہ 17جنوری بروز جمعہ کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،عمران خان آج کمرہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، بشریٰ بی بی بھی عدالت نہ پہنچیں جس کی وجہ سے عدالت نے آج فیصلہ نہ سنایا،فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے دس بجے کا تھا، پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل پہنچ گئے تھے تاہم عمران خان اپنے سیل سے کمرہ عدالت نہ آئے اور نہ ہی بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں.

    آج امکان تھا کہ کیس کا فیصلہ سنایا جائے گاتاہم عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا، قبل ازیں اسی ضمن میں اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اڈیالہ جیل کے باہر راولپنڈی پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے،پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات تھی، یکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں موجود تھے،عمران خان کی بہنیں علیمہ خان و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم آج بھی فیصلہ نہ سنایا جا سکا،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    توشہ خانہ ٹو کیس، بشریٰ کی عدم پیشی،عدالت کا اظہار برہمی

    عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس 14 جنوری تک ملتوی کر دیا گیا

    سپیشل جج سنٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کی سماعت کی،عمران خان کو جیل کی عدالت میں پیش کیا،بشری بی بی اور وکلاء غیرحاضر رہے، ایک گواہ پر جرح اور ایک کا بیان مکمل کر لیا، مزید5 گواہ طلب کر لئے گئے، اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت جاری ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے کی کارروائی ہو رہی ہے۔ سماعت کے دوران ملزمہ بشریٰ بی بی اور ان کے وکلا عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔کیبنٹ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر کوآرڈینیشن محمد احد پر جرح مکمل کی گئی۔ اس جرح کا عمل بانی پی ٹی آئی کے وکیل قوسین فیصل مفتی نے کیا۔ اس کے علاوہ، استغاثہ کے گواہ طلعت کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید پانچ گواہ طلب کرلئے ہیں جن میں محمد شفقت، قیصر، عمر صدیق، محسن اور فہیم شامل ہیں۔ ان گواہوں کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے انہیں عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    جج نے واضح طور پر کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر وکلا نے گواہوں پر جرح مکمل نہ کی تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ کیس کی سماعت 14 جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منظوری کا تفصیلی فیصلہ جاری

    توشہ خانہ ٹو، بشریٰ بی بی کا وکیل نہ آیا، سماعت ملتوی

    توشہ خانہ ٹوکیس،سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی

  • 26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

    اسلام آباد: انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق پی ٹی آئی کے 177 کارکنان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کے 153 کارکنان کی ضمانتیں منظور کرلیں، جبکہ 24 کارکنان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    تھانہ کراچی کمپنی میں 48 ملزمان کے کیسز کی سماعت کے دوران، عدالت نے 43 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں جبکہ 5 کی ضمانتیں مسترد کر دیں۔ اسی طرح، تھانہ ترنول میں 7 ملزمان کی ضمانتوں میں سے 2 کی ضمانت منظور کی گئی اور 5 کی ضمانتیں مسترد ہو گئیں۔تھانہ آئی 9 کے 10 ملزمان میں سے 9 کی ضمانتیں منظور ہوئیں اور ایک کی درخواست مسترد ہوئی۔ تھانہ کوہسار کے مقدمے میں 28 ملزمان کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 5 کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ تھانہ رمنا میں 8 ملزمان میں سے 3 کی ضمانتیں منظور کی گئیں اور 5 کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔تھانہ سیکرٹریٹ کے تمام 25 ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لی گئیں۔ تھانہ مارگلہ کے 45 ملزمان میں سے 42 کی ضمانتیں منظور کی گئیں، جبکہ 3 ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دی گئیں۔

    عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتیں 5،5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کیں۔ یہ فیصلہ عدالت کے مطابق قانونی تقاضوں کے مطابق دیا گیا، اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے حق میں فیصلہ آنا ایک اہم قانونی پیشرفت ہے۔یاد رہے کہ 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا، جس کے بعد مختلف تھانوں میں ملزمان کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے۔ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو ریلیف ملے گا۔

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

  • ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف   اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    ملٹری کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کردی ہیں، قاضی انور

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) احتساب کمیٹی کے رکن قاضی محمد انور نے بشریٰ بی بی پر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوئی مداخلت انصاف لائرز فورم میں نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی سازش کا حصہ ہیں۔

    قاضی محمد انور نے پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بشریٰ بی بی کے ساتھ کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی انہوں نے کسی سازش میں ملوث ہونے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے علی زمان ایڈووکیٹ کو عہدے سے ہٹایا، جو کہ بے بنیاد ہے۔قاضی محمد انور نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی پر من گھڑت الزامات عائد کیے گئے ہیں جن پر انہیں افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے 55 سال وکالت کی، اور اس دوران کبھی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی جھوٹ بولا۔”

    پی ٹی آئی احتساب کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ پارٹی کی صفوں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غلطی کو بے نقاب کیا جائے، اور اس سلسلے میں مسلسل تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملٹری کورٹس کے فیصلوں کے خلاف کل اپیلیں دائر کی گئیں ہیں، جن میں ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ان شاء اللہ ہم انتظار کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف ہو،سزائیں معطل کی جائیں،

    کرپشن میں ملوث وزراء سے تحقیقات جاری ہیں، قاضی انور
    اسی دوران، قاضی محمد انور نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کرپشن میں ملوث وزراء سے باری باری پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ، سید قاسم علی اور مشیر صحت احتشام علی سے بھی چند وضاحتیں طلب کی گئی ہیں۔ اسی طرح، ظاہر شاہ طورو کو بھی طلب کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔ایک مہینہ انکو دیا ہے کہ 31 جنوری تک جو لکھ کر دیا اسکا جواب دیں ،اسکے بعد فیصلہ ہو گا،احتشام خان کے پاس ابھی صحت کا محکمہ آیا، ڈیڑھ صفحے پر ان کو سوالات دیئے اور جوابات مانگے، چند دنوں میں ظاہر شاہ طورو سمیت ایک اور وزیر کو بلانے لگے ہیں، وزیروں کو ہم بلاتے رہتے ہیں، ہمیں جو معلومات ملتی ہیں وہ ہم دے دیتے ہیں، قاضی محمد انور نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پارٹی کے اندر ہونے والی ان تحقیقات کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے اور پی ٹی آئی کے اراکین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کے لئے نوٹفکیشن کیا ، فیصلہ سازی جو قاضی انور کرے گا اس میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا.

    ہومپیو وائرس،برطانیہ میں کیسزدوگنا،ماہرین نے چین سے تفصیلات مانگ لیں

    راکھی ساونت کا عمرہ کی ادائیگی سے نئے سال کا آغاز

    شزا فاطمہ کی زیر صدارت اسٹارلنک لائسنس ، ریگولیٹری پیش رفت پر اجلاس

  • عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج، جناب افضل مجوکہ کی عدالت میں ہونے والی اس سماعت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر جزوی دلائل مکمل ہو گئے، تاہم فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کی جانب سے 6 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے، جبکہ بشریٰ بی بی پر جعلی رسیدوں کے کیس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی موکلہ کو مختلف وجوہات کی بناء پر عدالت میں پیش ہونے میں دشواری کا سامنا ہے، اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام جان بوجھ کر بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہیں کرا رہے۔ وکیل نے بتایا کہ سلمان صفدر، جو کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں، دیگر مقدمات میں مصروف ہیں، اس لیے عدالت کی طرف سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ جیل حکام یہ نہ کہیں کہ سردی کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، اس لیے حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بانیٔ پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا، کیونکہ جزوی دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور صرف بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری باقی ہے۔عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا نئی تاریخ احتساب عدالت نے نیب اور عمران خان کے وکلا کو بتا دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آج سنا یا جانا تھا تا ہم آج بھی نہ سنایا جا سکا، عمران خان کے وکیل عدالت پہنچے تو انہیں عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ اب کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،مگر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا گیا بلکہ مزید مؤخر کر دیا گیا ہے.

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم کو عہدے سے ہٹا دیا

    بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم کو عہدے سے ہٹا دیا

    پشاور:بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کے پی علی زمان کو ہٹانے کے احکامات دئیے-

    باغی ٹی وی: انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) کی قیادت نے فیصلوں میں سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کردار کو تسلیم کر لیا بشریٰ بی بی نے سیکرٹری جنرل آئی ایل ایف کے پی علی زمان کو ہٹانے کے احکامات دئیے ، علی زمان نے قاضی انور سے آڈیو میسج میں سخت الفاظ ادا کیے تھے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ قاضی انور نے علی زمان کو ہٹانے کیلئے بشریٰ بی بی سے حتمی مشاورت کا کہا، علی زمان کے معاملات کو بشریٰ بی بی کے سامنے رکھا گیا علی زمان کی برطرفی کا نوٹیفکیشن چیف آرگنائزر شاداب جعفری نے واپس لے لیا، بشریٰ بی بی نے علی زمان کی برطرفی کالعدم کرنے کی شکایت بانی پی ٹی آئی سے لگائی-

    حکومت اورپی ٹی آئی مذاکرات میں اب تک کوئی حوصلہ افزا پیشرفت نہیں ہوئی،خواجہ آصف

    پارٹی ذرائع کےمطابق جنرل سیکرٹری انصاف لائرز فورم کےپی کے کو بغیر شوکاز یا مشاورت کے ہٹایا گیا، انصاف لائرز فورم میں صوبائی صدر اور جنرل سیکرٹری کوصرف مرکزی کابینہ ہٹا سکتی ہےپی ٹی آئی مرکزی قیادت کوبشریٰ بی بی اور قاضی انور کے بغیر مشاور ت فیصلو ں پرتشویش ہے اور عہدوں میں تبدیلیوں کیلئے مرکزی کابینہ کے بجائے بشریٰ بی بی کے احکامات پر عمل ہو رہا ہے۔

    وفاقی کابینہ میں آئندہ ہفتے توسیع کا فیصلہ

  • بشریٰ بی بی کی  پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما ،سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پارٹی کے سیاسی امور کے بعد قانونی معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہوئے وکلا اور انصاف لائرز فورم کی ٹیموں میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی نے وکلا کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی کہ وہ ملک بھر کے وکلا کی فہرست حاصل کریں۔ اس سلسلے میں قاضی انور اور مشعال یوسفزئی بشریٰ بی بی کو وکلا کے امور پر رپورٹ کریں گے۔ دونوں شخصیات بشریٰ بی بی کو وکلا کی کارکردگی اور تنازعات کے بارے میں آگاہ کریں گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے قاضی انور ایڈووکیٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے قانونی کیسز پر حتمی مشاورت فراہم کریں اور وکلا کو بانی پی ٹی آئی تک کسی بھی قسم کی پیغام رسانی سے روکا جائے۔ یہ اقدام پارٹی کے اندر اتحاد کو برقرار رکھنے اور قانونی محاذ پر مؤثر حکمت عملی اپنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس ہفتے کے دوران خیبر پختونخوا (کے پی کے) کے وکلا عہدیداروں کی تبدیلیوں پر بھی بشریٰ بی بی سے حتمی مشاورت کی گئی۔ بشریٰ بی بی نے وکلا کے تنازعات کو حل کیا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ان کی آگاہی فراہم کی۔ اس دوران قاضی انور ایڈووکیٹ نے بشریٰ بی بی کو وکلا قیادت کی خرابیوں اور مسائل پر تفصیل سے بریفنگ دی۔

    اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سے بھی رابطہ کیا گیا تاکہ اس معاملے پر ان کا مؤقف حاصل کیا جا سکے، تاہم انہوں نے اس بارے میں کسی قسم کا مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔ شریٰ بی بی کی اس مداخلت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پارٹی کے قانونی محاذ پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ پی ٹی آئی کے تمام مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔

    بشریٰ بی بی کی سیاسی فیصلوں میں مداخلت، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت میں تشویش

    نیلم منیر کی دبئی میں شادی،دولہاپولیس والا نکلا

    روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ، "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار