Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • ملک میں بارش برسانے والا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کا امکان

    ملک میں بارش برسانے والا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کا امکان

    ملک میں برفباری اور بارش برسانے والا نیا طاقتور سسٹم آج داخل ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ آج ملک میں داخل ہو گا، جس سے آج رات سے بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو گا، نئے سسٹم کے تحت بلوچستان، گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا میں بارش اور برف باری متوقع ہےمری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی بارش اوربرفباری ہو سکتی ہے۔ 25 سے 26 جنوری کے دوران سندھ کے کئی علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان کے سرد علاقوں میں شدید سردی اور بارش کے باعث آٹھویں جماعت کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئےمحکمہ تعلیم بلوچستان کی جانب سے امتحانات ملتوی کرنے کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ڈائریکٹر تعلیمات بلوچستان کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر طلبا کی حفاظت اور سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مڈل کے امتحانات مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،آٹھویں جماعت کے امتحانات اب 6 فروری سے شروع ہوں گے۔

    محکمہ تعلیم نے امتحانات کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول بھی جاری کر دیا جبکہ ضلعی تعلیمی افسران (ڈی ای اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے امتحانی شیڈول سے متعلق طلبا اور والدین کو بروقت آگاہ کریں،موسمی صورتحال میں بہتری آنے تک طلبا کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ جبکہ امتحانات شفاف اور منظم انداز میں منعقد کیے جائیں گے۔

    جبکہ محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے سردی کی شدت کے سبب اسکول صبح 9 بجے شروع کرنے کے فیصلے میں توسیع کردی، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ زاہد علی عباسی نے نوٹی فکیشن جاری کردیا نوٹی فکیشن کے مطابق اسکول 4 فروری تک صبح 9 بجے کھلیں گے، فیصلے کا اطلاق سرکاری و نجی اسکولز پر یکساں ہوگا قبل ازیں 10 جنوری کو جاری کردہ ایک نوٹی فکیشن کے مطابق اوقات کار کی یہ تبدیلی 26 جنوری تک کی گئی تھی جس میں اب توسیع کی گئی ہے۔

    دریں اثناء چئیرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن حیدر علی نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سے تحفظ اور تعلیمی عمل کا تسلسل وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی دانشمندانہ حکمت عملی ہے تاہم انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسٹیرنگ کمیٹی یا اس کی سب کمیٹی کا اجلاس فوری بلا کر 2026 کا تعلیمی کیلنڈر طے کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جماعت ہشتم تک کے امتحانات، بورڈز ایگزامینیشنز، ان کے نتائج کا شیڈول، نئے داخلے، تعلیمی سال کے آغاز اور تعطیلات سمیت دیگر اہم معاملات کو حتمی شکل دینا فوری ضرورت ہے جبکہ یکساں امتحانی نصاب اور پرچوں کی اسپیسیفیکیشن کا جلدسےجلد اجراء بورڈز، اساتذہ اور طالبعلموں کی تیاری کے لئے ضروری ہے۔

  • بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ

    کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔

    اس حوالے سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی،پبلک مقامات پر ہر قسم کے اجتماعات اور جلسوں پر بھی پابند ی ہوگی،کسی ایک جگہ 5 یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی ہوگی ،موٹرسائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی عائد ہوگی ،خواتین اور بچوں کو استشنیٰ حاصل ہوگا، بلوچستان میں دفعہ 144 کا اطلاق 31 جنوری 2026تک ہوگا۔

    اداکار آغا شیراز کو دل کا دورہ، اسپتال میں زیر علاج

    لکی مروت میں پولیس کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 خارجی جہنم واصل

    راولپنڈی :دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید توسیع

  • مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل،صوبے میں بارش اور برفباری

    مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ بلوچستان میں داخل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کا آغاز ہو چکا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق چمن میں 15 ملی میٹر، جیوانی میں 13 ملی میٹر، کوئٹہ کے علاقے سمونگلی میں 7 ملی میٹر، کوئٹہ کے شہری علاقوں میں 6 ملی میٹر، اورماڑہ میں 3 ملی میٹر، پشین میں 2.5 ملی میٹر، پنجگور میں 2 ملی میٹر، دالبندین میں 1.3 ملی میٹر، قلات میں 1.0 ملی میٹر جبکہ گوادر میں 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    ادھر ضلع قلعہ عبداللہ، کان مہترزئی، توبہ کاکڑی، چمن، پشین اور مسلم باغ کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے،کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں یکم جنوری تک بارشوں اور بالائی علاقوں میں برفباری جاری رہنے کا امکان ہے۔

    جونیئر اسکواش چیمپئن شپ : پاکستانی کھلاڑیوں نے ٹائٹل جیت لیا

    کسانوں اور مقامی آبادی نے حالیہ بارش کو امید کی کرن قرار دیا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید بارش اور برفباری کے امکانات موجود ہیں جو اگر مسلسل رہے تو بلوچستان میں جاری خشک سالی کے اثرا ت کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

    قائداعظم کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے، شیخ خلیل الرحمن چاولہ

  • بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو مزید بہتر بنانے اور سیکیورٹی فیصلوں کو ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سیل قائم کر دیا۔

    حکومت بلوچستان کے اعلامیے کے مطابق یہ اقدام جدید ٹیکنالوجی پر مبنی طرز حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہے جو بلوچستان انٹیگریٹڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر (بی آئی ایس اے) سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے جرائم، سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ خطرات سے بروقت نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سیل کا بنیادی مقصد جرائم کے رجحانات کی نشان دہی، خطرناک علاقوں میں ممکنہ خطرات کی قبل از اطلاع اور سیکیورٹی رجحانات کا تجزیہ کرنا ہے، اس سے حکومت کو کسی بھی ناخوش گوار واقعے سے قبل حفاظتی اقدامات کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی،سیل حساس سکیورٹی ڈیٹا کی مکمل رازداری یقینی بناتے ہوئے ثبوت پر مبنی اور ڈیٹا ڈریون فیصلہ سازی میں معاو نت فراہم کرے گا۔

    سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، ضیا الحسن لنجار

    محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اے آئی سیل باقاعدہ تجزیاتی رپورٹس تیار کر کے پالیسی سازی اور آپریشنل پلاننگ میں مدد دے گا، اس کے علاوہ، ریسرچ اور تیکنیکی ترقی کے لیے کوئٹہ میں قائم یونیورسٹیوں اور اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

    بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، یہ سیل نہ صرف موجودہ سیکیورٹی انفرا اسٹرکچر کو مضبوط بنائے گا بلکہ مستقبل میں ممکنہ خطرات کی پیشگوئی کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گاماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام صوبے میں امن و امان کی بحالی اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ ڈیٹا پر مبنی فیصلے سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے-

    ایف آئی اےنے ائیرپورٹس کو آئی سی 4نظام سےمنسلک کردیا

    حکومت بلوچستان نے اس اقدام کو ٹیکنالوجی پر مبنی گورننس کی طرف ایک سنگ میل قرار دیا ہے اور اے آئی سیل کا قیام ان کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک نئی پیش رفت ہے۔

  • بلوچستان کے طالب علموں کےلئے اسکالر شپس کا اعلان

    بلوچستان کے طالب علموں کےلئے اسکالر شپس کا اعلان

    ہایئر ایجوکیشن کمیشن نے بلوچستان کے ہونہار طلبا کیلئے اسکالر شپس کا اعلان کیا ہے۔

    ہونہار طلبا کو جامعات میں ایل ایل ایم اور بیرون ملک ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کی اسکالر شپس دی جائیں گی ، امیدوار کے پاس بلوچستان کا ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹ کا ہونا ضروری ہے،ایل ایل ایم کے لئے عمر کی بالائی حد 30 سال جبکہ پی ایچ ڈی کے لئے 35 سال مقرر کی گئی ہے،امیدواروں کیلئے اہلیت ٹیسٹ میں 50 فیصد نمبر ضروری ہیں، درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 13 جنوری 2026 مقرر کی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں ایچ ای سی نے ایل ایل بی ڈگری پروگرام میں داخلے کےلئے لا ایڈمیشن ٹیسٹ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے جس کے مطابق درخواستیں 29 دسمبر تک جمع کرائی جا سکیں گی جبکہ ٹیسٹ 25 جنوری 2026 کو ہو گا۔

  • پھل فروش کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    پھل فروش کے ہاں بیک وقت 4 بچوں کی پیدائش

    کوئٹہ:سیٹلائٹ ٹاوٴن کے علاقے میں مقیم محنت کش شہری راز محمد کے گھر خوشیوں نے دستک دے دی۔

    تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک نجی اسپتال میں چار بچوں (تین بیٹے اور ایک بیٹی) کی پیدائش ہوئی ہے۔خاندان اور اہلِ محلہ نے اس خیر و برکت پر خوشی کا اظہار کیا ہےراز محمد پیشے کے اعتبار سے فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں اور محنت مزدوری کے ذریعے اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالتے ہیں، ان کے پہلے سے دو بچے تھے جس کے بعد اب بچوں کی مجموعی تعداد 6 ہو گئی ہے،خوشیوں کے ساتھ والدین پر ذمہ داریوں کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔ محدود آمدنی کے باعث بچوں کی پرورش ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    قبل ازیں صوابی کے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں ایک خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، 4 بچوں میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل تھیں،ماں اور بچے دونوں صحت مند ہیں جبکہ بچوں کے والدین کا تعلق گاؤں سلیم خان سے تھا،بچوں کی پیدائش بغیر آپریشن (نارمل ڈیلیوری) کے ہوئی
    بچوں کے والد مقصودعلی کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ چار بچوں کی پیدائش پر بےحد خوش ہوں،اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

  • اسکول چھوڑنے کی بلند شرح،بلوچستان میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف

    اسکول چھوڑنے کی بلند شرح،بلوچستان میں ارلی وارننگ سسٹم متعارف

    قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، بچوں کی ابتدائی تعلیم کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    صوبے میں پرائمری سطح پر بچوں کے اسکول چھوڑنے کی شرح 59 فیصد ہے، جن میں 61 فیصد لڑکے اور 59 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ معاشی مسائل، بچوں سے مزدوری، اسکولوں تک طویل فاصلے اور بنیادی سہولیات کی کمی اس تشویشناک صورتحال کی اہم وجوہات قرار دی جاتی ہیں۔تعلیمی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتِ بلوچستان نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں ارلی وارننگ سسٹم نافذ کر دیا ہے۔ اس نظام کا مقصد ایسے بچوں کی بروقت نشاندہی کرنا ہے جو کسی بھی وجہ سے اسکول چھوڑنے کے خطرے کا شکار ہوں، تاکہ انہیں بروقت مدد فراہم کی جا سکے اور ان کا تعلیمی سفر جاری رہے۔

    اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بلوچستان نے یونیسف اور گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن کے ساتھ مل کر 2016 سے 2021 تک ایک تفصیلی سروے کیا، جس میں بچوں کے اسکول چھوڑنے کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔ انہی نتائج کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وزیر تعلیم راحیلہ امین درانی کے وژن کے تحت یہ نظام تیار کیا گیا ہے۔

    ارلی وارننگ سسٹم کے تحت ہر طالب علم کی کارکردگی، رویے اور حاضری کو ایک جدید سافٹ ویئر کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔ اگر کسی بچے کی کارکردگی میں کمی، سیکھنے میں عدم دلچسپی یا مسلسل غیر حاضری سامنے آئے گی تو سسٹم خودکار طور پر اسے ’ہائی رسک‘ کے طور پر ظاہر کرے گا، جس کے بعد متعلقہ عملہ بروقت اقدام کرے

    سیکیورٹی میں نیا اضافہ،سی ٹی ڈی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ فعال

    بنگلادیش کو برآمد کے لیے 1 لاکھ ٹن چاول خریداری کا ٹینڈر جاری

  • بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے،سرفراز بگٹی

    بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے،سرفراز بگٹی

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہاہے کہ ہمیشہ حقیقت کو پرسپشن میں بدل دیا جاتا ہے اور بلوچستان کے کیس میں بھی یہی ہوا ہے۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے سپریم کورٹ بار کی تقریب ’میٹ دی لائر‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات بار کے سامنے رکھنا ان کے لیے فخر کی بات ہے، ان کی خواہش تھی کہ بلوچستان کے حوالے سے ان کیمرہ گفتگو کی جاتی کیونکہ کچھ باتیں کیمروں کے سامنے بیان کرنا مشکل ہیں، اسلام آباد میں گزشتہ 30 سے 40 برس سے جو کچھ بتایا جاتا رہا ہے وہ بلوچستان کی حقیقت نہیں بلکہ تاثر ہے، ہمیشہ حقیقت کو پرسپشن میں بدل دیا جاتا ہے اور بلوچستان کے کیس میں بھی یہی ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہم سب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں، ہمارے مسائل اور ان کے حل آپس میں جڑے ہوئے ہیں لیکن اصل تصویر سامنے نہیں لائی گئی،میڈیا کا کردار خاص طور پر بلوچستان میں انتہائی اہم ہے جہاں صحافت بہت مشکل ہے پاکستان کا میڈیا ہمیشہ مظلوم اور محکوم طبقے کی آواز بنا ہے اور اسی کردار کی ضرورت بلوچستان کے معاملات میں بھی ہے،وکلا کی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، سیاست میں بولنے سے کوئی نہیں ڈرتا لیکن بلوچستان کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہےکیمرے بند کر کے بلوچستان کے اندرونی حالات پر زیادہ کھل کر بات ہو سکتی ہے۔

  • بلوچستان میں پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ

    بلوچستان میں پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ

    بلوچستان میں پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیاگیاہے-

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 19واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی بلوچستان میں پہلی ٹرانس جینڈر پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا پروانشل ایوی ایشن اسٹریٹجی اور 2025 تا 2027 کے تین سالہ ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں ساکرن اور کربلا کو تحصیل کا درجہ دینے کی منظوری بھی دی گئی قانون شہادت ترمیمی بل کی صوبائی سطح پر توثیق کی گئی نفرت آمیز مواد کی اشاعت پر پابندی لگانے کا فیصلہ (محکمہ داخلہ کی سفارشات پر) کیا گیا۔ بی ٹیوٹا کے تحت ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ انٹی گریشن کی توثیق کی گئی۔

    اوکاڑہ:اہم سڑک گزشتہ 25 برسوں سے خستہ حالی کا شکار ،ارباب اختیارخاموش،عوام پریشان

    صوبائی کابینہ نے دالبندین میں جدید پرنس فہد اسپتال کے قیام کی منظوری دی اسی طرح سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق خالق آباد اور شہید سکندر آباد کے نام بحال کرنے کی منظوری دی گئی دی ہاسپٹل ویسٹ مینجمنٹ رولز 2025 کی بھی منظوری دی گئی جبکہ افغانستان جانے والے ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترسیلات کو ڈویلپمنٹ چارجز سے استثنیٰ قرار دیا گیا۔

    برطانوی ہائی کمشنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، سیلاب متاثرین کے لیے تعاون کا اعلان

  • بلوچستان کے 5 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس  بند رکھنے کا فیصلہ

    بلوچستان کے 5 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ

    بلوچستان کے 5 اضلاع بشمول کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر 5 سے 6 ستمبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان نے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ کوئٹہ سمیت پانچ اضلاع میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس بند رکھی جائے۔مراسلے کے مطابق پانچوں اضلاع میں 5 ستمبر سہ پہر 5 بجے سے 6 ستمبر رات 9 بجے تک انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔محکمہ داخلہ نے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اقدام تجویز کیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں انٹرنیٹ سروس پہلے ہی معطل ہے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے احکامات پر مذکورہ اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بحال کی گئی تھی، تاہم اب دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت بلوچستان نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر 5 ستمبر (11 ربیع الاول) کو عام تعطیل کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

    حیدر علی کی معطلی،پی سی بی کا لائحہ عمل قانونی کارروائی کے بعد طے ہوگا

    میڈرڈ میں تکنیکی خرابی سے ہائی اسپیڈ ٹرین سروس شدید متاثر

    بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح میں اضافہ، مزید پانی آنے کا خدشہ

    اندرونی اختلافات،سنی اتحاد کونسل کے 26 اراکین نے استعفیٰ نہیں دیا، فہرست منظرعام پر