Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • ملک بھرمیں سیلا ب سےجاںبحق  افراد کی تعداد ایک ہزار486 ہوگئى

    ملک بھرمیں سیلا ب سےجاںبحق افراد کی تعداد ایک ہزار486 ہوگئى

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اورخشک رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب ،خیبرپختو نخوا، گلگت بلتستان اورآزادکشمیرمیں بارش متوقع ہے،اسلام آباد میں موسم گرم اورخشک رہے گا ،خطۂ پوٹھو ہار، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ، نارووال اور لاہور میں بارش کا امکان ہے،مانسہرہ، ایبٹ آباد ، کو ہستان،سوات، چترال، دیر اور کرم میں بارش متوقع ہے-

    ڈیرہ غازیخان – سیوریج کا پانی سیلابی شکل اختیار کرنے لگا

    این ڈ ی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے مزيد 5 افراد جاں بحق ہوئے ،بارشوں اور سیلا ب سے بلوچستان میں مزید 3 افراد جاںبحق ہوئے،ملک بھرمیں سیلا ب سےجاںبحق افراد کی تعداد ایک ہزار486 ہوگئى،ملک بھرمیں 12 ہزار 718 کلو ميٹر سڑک بارشوں اورسيلاب سےمتاثر ہے ،ملک بھر میں 9 لاکھ 18 ہزار 473 مويشيوں کو نقصان پہنچا،ملک بهر میں 80 اضلاع بارشوں اور سيلاب سے تاحال متاثر ہيں،

    بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید3 اموات ہوئی ہیں پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 13 اموات رپورٹ ہوئیں،ایک مرد ، 9 خاتون اور 3 بچوں کی اموات کوئٹہ سے سامنے آئیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ نے امدادی کام مزید وسیع کردیے

    بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 294 ہوگئی ہے ،جاں بحق ہونے والوں میں 134 مرد73خواتین اور 87 بچے شامل ہیں ۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 181 افراد زخمی ہوچکے ہیں، سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 65 ہزار 997 مکانات نقصان کا شکار ہوئے تو وہیں 2 لاکھ 70 ہزار 744 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں ۔

    اب تک مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا،صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر گئے جبکہ 2200 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

    سی اے اے حکام کی کراچی ایئرپورٹ پر طیارے کا انجن اور پرزے غائب ہونے کی تردید

  • سیلاب: بلوچستان میں مزید 8اموات رپورٹ

    سیلاب: بلوچستان میں مزید 8اموات رپورٹ

    بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے باعث حادثات میں مزید 8 اموات ہو ئیں –

    باغی ٹی وی: پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید8 اموات رپورٹ ہوئیں،6 مرد اور 2 خواتین کی اموات ضلع جھل مگسی سے سامنے آئیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 278 ہوگئی ہے ،جاں بحق ہونے والوں میں 132 مرد 63 خواتین اور83 بچے شامل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 172 افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 64 ہزار 385 مکانات نقصان کا شکار ہوئے تو وہیں 2 لاکھ 70 ہزار 444 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا،صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر گئے جبکہ2 ہزار 200کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے ضلع بولان میں گزشتہ ماہ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی سوئی گیس پائپ لائن کی مرمت کاکام مکمل ہوگیا ہے-

    سعودی عرب کی پاکستانی سیلاب زدگان کیلئے قومی مہم کا آغاز

    سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے مطابق بلوچستان کے ضلع بولان میں 24 اگست کو شکار پور سے کوئٹہ آنے والی 12 انچ اور 24 انچ قطرکی سوئی گیس پائپ لائنیں سیلابی ریلےمیں بہہ گئیں تھیں تاہم اب 12 انچ قطرکی گیس پائپ لائن کی مرمت کر کےکوئٹہ ،قلات ،مستونگ ، پشین، زیارت کو سوئی گیس کی فراہمی بحال کر دی ۔

    سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ 24 انچ قطر کی سوئی گیس پائپ لائن کے دو روز تک ٹیکنکل ٹیسٹ کر کے کوئٹہ کو مذکورہ سوئی گیس پائپ لائن سے سوئی گیس بحال کردی جائے گی۔

    دوسری جانب سوئی سدر ن گیس کمپنی کے عملے نے مچھ ندی میں بہہ جانے والی پائپ لائن کی مرمت کرکے مچھ شہر کو ڈیڈھ ماہ بعد سوئی گیس کی فراہمی بحال کر دی۔

    پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

  • بلوچستان کے کئی علاقوں سے سیلابی پانی کا نکاس نہ ہو سکا،وبائی امراض پھوٹ پڑے

    بلوچستان کے کئی علاقوں سے سیلابی پانی کا نکاس نہ ہو سکا،وبائی امراض پھوٹ پڑے

    بلوچستان کے جعفر آباد، نصیر آباد اور صحبت پور کے علاقوں میں سیلاب کا پانی تاحال جمع ہے جس کے باعث وبائی امراض پھوٹ پڑے-

    باغی ٹی وی: شدیدگرمی میں ملیریا، جلدی امراض اورگیسٹروسے تباہ حال متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ڈیرا الہیار، گنداخہ، صحبت پور، نوتال، بابا کوٹ اور ربیع میں متاثرین کو ادویات، پینے کے صاف پانی اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے-

    سیلاب کی تباہ کاریاں: پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مشکلات کا شکار ہوگئی

    دوسری طرف بولان میں سیلاب سے تباہ ہونےوالے پنجرہ پل کا کام اب تک شروع نہیں ہوسکا جس سے کوئٹہ آنے اور جانے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے

    راجن پور کے سیلابی علاقوں میں بھی پانی کا اخراج نہ ہونے سے ڈینگی، ملیریا اور جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے، مچھر دانیوں اور صاف پانی کی بھی شدید قلت ہے۔

    راجن پور میں اپنے گھروں کو لوٹ جانے والے متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت اپنے تباہ حال گھروں کو تعمیر کر رہے ہیں، جبکہ بہت سے متاثرین اب بھی انڈس ہائی وے پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب تحصیل جوہی میں نامعلوم افراد نے جوہی برانچ کو کٹ لگا دیا، جوہی میں سیلابی صورتحال میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دیئے گئے کٹ کو بھاری مشنری سے پُر نہ کیا گیا تو پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا اور شہر ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں سروے 12 ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ

    منچھر جھیل میں پانی کی سطح کئی کٹ لگانے کے باوجود بھی کم نہ ہو سکی، دریائے سندھ کے قریب لاڑکانہ سیہون بچاؤ بند کو کٹ لگا دیا گیا تیز ریلوں نے بھان سعید آباد کی دل نہر کے حفاظتی بند پر چوڑا شگاف لگا دیا ہے جبکہ قمبر شہداد کوٹ کی تحصیل وارہ سے لیکر سیہون تک پانی کی سطح میں انتہائی معمولی کمی ہوپائی ہے۔

    ادھرمختلف مقامات پر لگائے گئے کٹ اور شگافوں سے تقریباً پچاس ہزار کیوسک سے زائد پانی دریائے سندھ میں داخل ہورہا ہے جبکہ شہری میہڑ، جوہی، بھان سعید آباد اور دادو کے رنگ بندوں کی مضبوطی کیلئے کئی دنوں سے کام کر رہے ہیں-

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبا اوربیماریوں پھیلنےلگیں،5 افراد جانبحق:سندھ حکومت نے…

  • بلوچستان میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 270 تک پہنچ گئی،بیماریاں بھی پھیلنے لگیں‌

    بلوچستان میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 270 تک پہنچ گئی،بیماریاں بھی پھیلنے لگیں‌

    کوئٹہ: بلوچستان میں سیلاب سے مزید تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی طور پر بلوچستان میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 270 تک پہنچ گئی ہے۔

    پراونشل ڈایزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے مزید 3 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد بلوچستان میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد 270 ہوگئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے ہلاک ہونے والے مال مویشی کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 33 ہزار 149 ہوگئی ہے جب کہ سیلاب سے متاثرہ گھروں کی تعداد 64 ہزار 385 ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب سے 2 لاکھ 936 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جب کہ بارشوں میں سیلاب سے 1500 کلو میٹر پر مشتمل سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ بارش اور سیلابی ریلوں سے 22 رابطہ پل ٹوٹ چکے ہیں، نصیرآباد ڈویژن اور کچھی کے بعض علاقوں میں سیلابی پانی اور گرمی کی شدت سے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔رضا کار تنظیموں کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو خیموں اور خوراک کی اشیاء کی اشد ضرورت ہے جب کہ سیلاب زدگان بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔

    دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف نے گللگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان حکومت کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے مشترکہ سروے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔صوبائی حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے سروے ٹیمز تشکیل دے دی ہیں، این ڈی ایم اے کی مشاورت سے سروے ٹیموں کو متعلقہ اضلاع میں بھجوا دیا گیا ہے۔

    تمام ڈپٹی کمشنرز کو 15 ستمبر تک سروے اور تخمینہ لگانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔چیف سیکرٹری محی الدین وانی رپورٹ وزیراعظم اور این ڈی ایم اے کو بھجوائیں گے۔

  • بلوچستان کی بحالی اور تعمیر کیلئے200 ارب روپے کا تخمینہ

    بلوچستان کی بحالی اور تعمیر کیلئے200 ارب روپے کا تخمینہ

    سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بلوچستان کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں بحالی اور تعمیر کیلئے 200 ارب روپے کا تخمینہ لگایا ہے-

    باغی ٹی وی: سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کابینہ کو حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث ہونے والے نقصانات، امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیلابی صورتحال سے 263 اموات ہوئی ہیں –

    سیلاب سے جانی ومالی نقصان پربہت دُکھی ہیں :سیلاب متاثرین کی فی الفور مدد کی…

    سینئر ممبر نے بتایہ کہ 5 لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہوئے ہیں 65 ہزار گھر مکمل تباہ ہوئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 20 ہزار گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ سیلابی صورتحال سے 103 ڈیمز متاثر ہوئے ہیں، 9 لاکھ ایکڑ زرعی رقبے کو نقصان پہنچا ہے-

    کابینہ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک ایک لاکھ 25 ہزار لوگوں کو متاثرہ اضلاع سے نکالا گیا ہے اور 10 لاکھ متاثرہ لوگوں تک رسائی حاصل کی گئی ہے، متاثرہ لوگوں کو فوڈ اور نان فوڈ اشیا فراہم کی جارہی ہیں

    کابینہ کا کہنا تھا کہ 8 افراد پر مشتمل 11 لاکھ 8 ہزار 589 خاندانوں کو ایک ماہ کا راشن فراہم کیا گیا ہے اور اب تک متاثرہ افراد کو 56 ہزارخیمے اور دیگر نان فوڈ اشیا فراہم کی گئی ہیں۔

    کابینہ کو بتایا گیا کہ متاثرہ اضلاع میں بحالی اور تعمیر کیلئے 200 ارب روپے درکار ہیں صوبے بھر میں متاثرہ املاک اور زرعی اراضی کی بحالی کا تخمینہ 56.5 ارب روپے ہے-

    سیلاب زدہ علاقوں میں مستقل ٹول فیس کی چھوٹ ممکن نہیں:عارضی چھوٹ پرغورکریں گے:این…

    دوسری جانب پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 4 اموات رپورٹ ہوئیں ہیں-

    یکم جون سے اب تک صوبے میں جان بحق ہونے والے افراد کی تعداد 267 تک پہنچ گئی جاں بحق ہونے والوں میں 126 مرد 59 خواتین اور82 بچے شامل ہیں۔

    سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ، جبکہ لسبیلہ اور ژوب سے 21-21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 166 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 64 ہزار385 مکانات نقصان کا شکار ہوئے، 2 لاکھ 15 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں اب تک مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا، صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر گئے۔

    ای سی سی اجلاس،سیلاب متاثرین کیلئے3ارب روپےکے فنڈز کی منظوری

  • آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ امدادی کاموں کاجائزہ لینےبلوچستان کےسیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے

    آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ امدادی کاموں کاجائزہ لینےبلوچستان کےسیلاب سےمتاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے

    راولپنڈی :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے امدادی کاموں کا جائزہ لیا ہے۔

    آئی ایس پی آر نے جاری بیان میں کہا ہے کہ آرمی چیف نے ضلع جعفر آباد کے علاقے اوستہ محمد بھی پہنچے اور متاثرین سیلاب اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ٹروپس سے ملاقات بھی کیں‌

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آج مکمل یوم دفاع اور شہداء بلوچستان کے دور دراز سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

    پاک فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف نے ضلع جعفرآباد کے اوستہ محمد میں آرمی فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا جہاں انہیں جاری بچاؤ اور امدادی کارروائیوں کترجامے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے فوجیوں سے ملاقات کی اور سیلاب متاثرین کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔

    اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیلاب ریلیف اور میڈیکل کیمپوں کا دورہ کیا اور مقامی لوگوں کے ساتھ ان کے مسائل کو کم کرنے کے منصوبوں کے بارے میں زمینی معلومات حاصل کرنے کے لیے وقت گزارا۔
     

    آرمی چیف نے سوئی کا دورہ بھی کیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مقامی عمائدین سے ملاقات کی اور ان کی خیریت اور مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔ مقامی بزرگوں نے اپنی زندگی کے مشکل ترین وقت اور لمحات میں ان تک پہنچنے پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا شکریہ ادا کیا۔

    بعد ازاں آرمی چیف نے ملٹری کالج سوئی کا دورہ کیا جہاں انہیں مختلف تربیتی اور تعلیمی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے فیکلٹی اور طلباء سے بات چیت کی اور ادارے کے تعلیمی و تربیتی معیار کو سراہا۔ فیکلٹی اور طلبانے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں قومی سطح پر مقابلے کا موقع فراہم کیا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملٹری کالج سوئی کا قیام 2011 میں عمل میں آیا تھا اور اس کے کیڈٹس نے غیر معمولی نتائج دکھائے ہیں۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • بلوچستان کا دیگر صوبوں کیساتھ زمینی رابطہ منقطع ہوگیا: عبدالقدوس بزنجو

    بلوچستان کا دیگر صوبوں کیساتھ زمینی رابطہ منقطع ہوگیا: عبدالقدوس بزنجو

    کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ صوبے کا دیگر صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جسکی سے وجہ نہ صرف آمد و رفت بلکہ سامان کی ترسیل اور امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

    وزیراعظم کے ہمراہ پنجرہ پل کی بحالی کےحوالےدی جانے والی بریفنگ کے بعد عبدالقدوس بزنجو نے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے پنجرہ پل کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی، چیئرمین این ایچ اے کیپٹن (ر) محمد خرم آغا اور انکی ٹیم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مواصلات کی سہولتوں کی بحالی کے لئے وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی ہمارے لئے باعث حوصلہ ہے اور امید ہے کہ دیگر متاثرہ شاہراہوں کی بھی جلد بحالی کے لئے این ایچ اے اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کریگی۔

    یاد رہے کہ ایک طرف بلوچستان کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے بلوچستان کی ملک کے دیگرصوبوں سے زمینی رابطے کی منقطع ہونے کی خبردی اس سےقبل وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان میں پل تعمیر کرنے والوں کوانعام دے چکےہیں‌

    اس موقع پر وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کا مجموعی طور پر جائزہ لے چکے ہیں۔ شاہراہوں، پُلوں اور ریلوے ٹریکس کی بحالی اور مرمت کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے این ایچ اے ،این ڈی ایم اے ،پی ڈی ایم اے اور دوسری تمام ایجنسیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کا عزم قابل ستائش ہے، وہ قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ اس موقع پر مزدوروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے 50لاکھ روپے انعام کا کا اعلان بھی کیا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم بحالی کے کام کا جائزہ لینے بلوچستان پہنچ گئے

    متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے،وزیراعظم بحالی کے کام کا جائزہ لینے بلوچستان پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کے نقصان اور جاری بحالی کے کام کے جائزے کیلئے کوئٹہ پہنچ گئے.وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، وزیراعظم کو سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی گئی۔

    کوئٹہ پہنچنے پر وزیراعظم کا ایئرپورٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو اور دیگر حکام نے استقبال کیا، سیلاب سے متاثرہ ضلع کچھی دورہ کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو سیلاب کے نقصانات اور امدادی کاموں پر بریفنگ دی گئی اور سیلاب متاثرہ روڈ اور ریلوے انفراسٹرکچر کی بحالی بارے بھی آگاہ کیا گیا، وزیراعظم نے انفراسٹرکچر کی بحالی کے کام کو سراہا ہے۔


    وزیراعظم نے سیلاب میں بہہ جانے والے پنجرہ پل کی بحالی کے کام کا بھی جائزہ لیا، وزیراعظم نے بحالی کے کام میں مصروف مزدوروں کے لئے 50 لاکھ روپے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگوں نے محنت کی انہیں شاباش دیتا ہوں اور متاثرہ سڑکوں کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔

    اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انفراسٹرکچرکی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، سیلاب سے پورے ملک میں تباہی پھیلی ہوئی ہے، سیلاب میں لوگوں کے مال مویشی بہہ گئے، فصلیں اور لاکھوں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ امید ہے کہ تمام امور احسن انداز سے مکمل ہوں گے، چند روز بعد ایک بار پھر فضائی جائزہ لوں گا، متاثرین کو کسی صورت بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    بعدازاں وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ بی بی نانی پل کا دورہ کرتے ہوئے پل کی بحالی میں مصروف مزدوروں کیلئے 30 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے، اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پل کی بحالی کیلئے محنت کشوں اور مزدوروں نے دن رات کام کرتے ہوئے 8 گھنٹے میں پل کو بحال کیا ہے، ہم سب کو ملکر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔

    اس موقع پروزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی پل بحالی کیلئے کام کرنے والے مزدوروں کیلئے 20 لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔قبل ازیں نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے چیئرمین خرم آغا کی جانب سے وزیر اعظم کو فضائی دورہ کے موقع پر بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور جاری بحالی کے کام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے پرائم منسٹر ریلیف فنڈ کا آڈٹ کرانے کا اعلان کیا تھا .اسلام آباد سے جاری بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ وعدے کے مطابق یقینی بنانے کےلیے حکومت نے پی ایم ریلیف فنڈ کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ریلیف فنڈ کا آڈٹ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اور عالمی شہرت یافتہ کمپنی کرے گی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ کمپنیاں ریلیف فنڈ کی رقم کے خرچ سمیت فنڈ کی آڈٹنگ کریں گی اور آڈٹ رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے،وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی ،وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر طرح سے آپ کی مدد کے لئے حاضر ہے تمام سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لئے سندھ حکومت اور وزیر اعلی کی کارکردگی اور جذبے کو سراہا ہے.

  • سیلاب کے باعث بلوچستان میں  دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ

    سیلاب کے باعث بلوچستان میں دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ

    شمالی بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، بلوچستان میں یکم جون سےاب تک جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 256 ہوگئی۔

    ملک بھر میں بارشوں اورسیلاب سے مزید 27 افراد جاں بحق

    پی ڈی ایم اے کے مطابق جاںبحق ہونے والوں میں 121 مرد، 62 خواتین اور 73 بچے شامل ہیں، سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ، 21 لسبیلہ اور 17 پشین میں ہوئیں، جبکہ صوبے میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 166 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 61 ہزار718 مکانات کو نقصان پہنچا اور 1 لاکھ 45 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذرہوگئے ہیں اب تک مجموعی طور پر دو لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے سے راستے بند ہیں، نصیرآباد، جعفرآباد اور صحبت پور کےعلاقوں میں سیلابی پانی جمع ہے، متاثرین ادویات، خوراک اور صاف پانی کی شدید قلت سے پریشان ہیں۔

    سیلاب کے سبب سندھ اور بلوچستان میں مسافر ٹرین سروس بھی معطل ہے پاکستان ریلوے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیلاب کے سبب سندھ اور بلوچستان میں مسافر ٹرینیں چلانا ممکن نہیں۔

    ترجمان ریلوے کے مطابق اس وقت روہڑی، ٹنڈوآدم سیکشن پرکئی مقامات پر پانی جمع ہے، مسافر ٹرینوں کی بحالی میں مزید تین سے چار دن لگ سکتےہیں مسافر ٹرینوں کی بحالی مرحلہ وارہوگی، کنٹرولڈ اسپیڈ پرمال بردار ٹرینیں بحال کردی گئیں۔

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

  • مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

    مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، با لائی خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان، کشمیر میں چند مقا مات پر بارش متوقع ہے، اسلام آباد میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا ،مری ، گلیات ، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے سا حلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان ہے،کرم،چترال، دیر، سوات،بالاکوٹ، ایبٹ آباد، مانسہرہ میں چند مقامات پر بھی بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب مشرقی بلوچستان کے بعض علاقوں میں پھر سے بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، چمن کے نواحی علاقے کلی اکبر میں 15 مکانات سیلابی ریلے میں تباہ ہوگئے اور ملبے کے ڈھیر بن گئے ہیں کافی متاثرین گھر چھوڑ کر نقل مکانی کرگئےپانی کےریلےنے گھروں کے اندر سے راستہ بنا لیا جبکہ کچھ متاثرین بوسیدہ گھروں کی اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر ومرمت میں مصروف ہیں۔

    متاثرین کا کہنا ہے کہ پانچ بار سیلابی ریلے آتے رہے مگر حکومت کی جانب سے بلڈوزر اب تک فراہم نہیں کیا گیا، سیلاب چھتر و کوٹ پلیانی میں 25 روز گزرنے کے بعد بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں شروع نہ ہو سکیں شدید گرمی و حبس میں سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار بیٹھیں ہیں۔

    جعفرآباد کا ضلعی ہیڈکوارٹر ڈیرہ اللہ، صحبت پور، سندھ اور ڈیرہ مراد جمالی کی نہروں سے آنے والی سیلابی ریلوں سے ایک ڈیم کی شکل اختیار کرگیا ہے، جعفرآباد میں متاثرین بارش سے پریشان ہیں ڈیرہ بگٹی کے سوئی نالہ میں گاڑی بہہ گئی، مقامی لوگوں نے سواریوں کو بچا لیا۔

    صحبت پور کے سیلاب متاثرین نے ربی کینال اور قومی شاہرہ پر پناہ لے لی ہے سیلابی ریلے سے متاثرین گندم ابال کر اپنے بچوں کو دینے لگے ڈیرہ مراد جمالی میں سیلابی ریلہ تباہی مچاتے ہوئے گوٹھ رسول بخش لہڑی میں داخل ہوگیا۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟