Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان میں موسمی بیماریاں پھیلنے لگیں،ہزاروں افراد ہیضے کا شکار

    بلوچستان میں موسمی بیماریاں پھیلنے لگیں،ہزاروں افراد ہیضے کا شکار

    بلوچستان میں مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہی کے بعد سے ہیضہ سمیت مختلف موسمی بیماریاں بھی پھیلنے لگیں –

    باغی ٹی وی: رپورٹس کے مطابق آلودہ اورمضر صحت سیلابی پانی پینےسے 50 ہزار سے زائد افراد ہیضے کا شکار ہوچکے ہیں بلوچستان میں حالیہ مون سون بارشوں کے بعد صوبے کے 23 اضلاع میں اب تک 53 ہزار افراد ہیضے میں مبتلا ہو چکے ہیں، ان میں 120 کالرہ کے مصدقہ کیسز بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے 35 افراد انتقال کرچکے ہیں۔

    تعلیمی ادارے ایک ہفتے کےلیے بندکردیئے گئے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں اینٹی بائیوٹیکس و دیگر مطلوبہ ادویات کی کمی کی شکایات عام ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان میں شدید بارشوں کے باعث تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں اعلامیے کے مطابق صوبے کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کل سے27 اگست تک بند رہیں گے۔

    دریائے سندھ میں طغیانی ،ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب ،8 لاکھ کیوسک سیلاب کے ریلے کا…

    اعلامیے میں کہا گیا کہ بارشوں کے باعث صوبے کے تعلیمی اداروں میں ایک ہفتےکی تعطیلات کی گئیں۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے، اعداد و شمار کے تحت اب تک مختلف حادثات میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، درجنوں زخمی ہیں، گھروں و املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے جب کہ نشیبی علاقوں میں بدستور سیلابی و بارش کا پانی جمع ہے۔

  • تعلیمی ادارے ایک ہفتے کےلیے بندکردیئے گئے

    تعلیمی ادارے ایک ہفتے کےلیے بندکردیئے گئے

    کوئٹہ:بارشوں کے باعث بلوچستان کے تعلیمی ادارے ایک ہفتے کیلئے بند،اطلاعات کے مطابق بلوچستان حکومت نے صوبے میں طوفانی بارشوں کے باعث تعلیمی ادارے ایک ہفتے کیلئے بند کرنے کا اعلان کردیا۔

    وزیرتعلیم نصیب اللہ مری کا کہنا ہے کہ بارشوں سے کئی اضلاع میں تعلیمی اداروں کو بھی نقصان پہنچا ہے جبکہ بلوچستان میں مزید بارشیں متوقع ہیں، تمام نجی اورسرکاری تعلیمی ادارے 22 سے27 اگست تک بند رہیں گے۔

    خیال رہے کہ بلوچستان میں مون سون بارشوں سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے ، خضدار ، نوشکی ، کوہلو ، قلات ، مستونگ میں بھی بارشوں سے طغیانی ہے،کوئٹہ میں بارش سے سڑکیں تالاب میں بدل گئیں شہریوں کے لئے آمدورفت مشکل ہو گئی۔

    کوئٹہ میں مغربی بائ پاس پر واقع کرخساں ڈیم پانی سے بھر گیا ۔ اسپیل ویز کھولنے سے کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاون میں پانی داخل ہوگی جبکہ لورالائی میں5 بچے کٹوی ندی میں بہہ گئے ضلعی انتظامیہ کے مطابق دو کو بچا لیا گیا۔

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب اوربارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔ ہنگامی صورتحال کا ملکرمقابلہ کرنا ہوگا۔

    ایک بیان میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے سیلاب سےمتاثرہ افراد کو فوری مددکی ضرورت ہے، پوری قوم آگےبڑھے اور بلوچستان کی بہنوں او ربھائیوں کی مدد کرے،عطیات دیں۔

    سنجرانی کا کہنا تھا کہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیلاب اوربارشوں نےبڑے پیمانےپرتباہی پھیلائی ہے، مخیرحضرات بھی عطیات میں اپنا بھرپور کردارادا کریں۔

  • بلوچستان:پٹ فیڈرکینال میں شگاف ، درجنوں دیہات ڈوب گئے

    بلوچستان:پٹ فیڈرکینال میں شگاف ، درجنوں دیہات ڈوب گئے

    بلوچستان کے شہر ڈیرہ مرادجمالی میں پٹ فیڈرکینال میں شگاف پڑنے سے بابا کوٹ اور صحبت پور میں درجنوں دیہات ڈوب گئے۔

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں بارشوں نے تباہی مچا دی ہے بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے پٹ فیڈرکینال میں شگاف پڑنے سے بابا کوٹ اور صحبت پور میں درجنوں دیہات ڈوب گئے۔

    محکمہ موسمیات کی کراچی سمیت سندھ بھر میں بارشوں کے ایک اور سسٹم کی پیشگوئی

    مچھ میں تیز بارش کے بعد اونچے درجےکے سیلاب کی اطلاعات ہیں اور سیلابی ریلہ کوئٹہ سکھر قومی شاہراہ سے گزررہا ہے جس سے ٹریفک کی روانی معطل ہےجبکہ فورٹ منرو کےقریب قومی شاہراہ پرکئی کلومیٹرقطاریں لگ گئیں اورسڑک کا ایک حصہ بہہ گیاہرنائی میں بھی پہاڑوں سے آنے والےسیلابی ریلےمضافاتی علاقوں میں داخل ہوگئے جس سے ہرنائی کا صوبے بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

    صوبے کی بیشتر سڑکیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں،کئی علاقوں میں سڑک کچےراستے میں تبدیل ہوگئی جو گزرنے والوں کو ذہنی اذ یت میں مبتلا کردیتی ہے،صوبےکی 690کلو میٹرسڑکیں اور 18 پل بارشوں اورسیلاب سے تباہ ہوگئے جبکہ کوئٹہ کا خضدار کے راستے کراچی، فورٹ منرو کے راستے پنجاب اوردانا سرشیرانی کے راستے خیبرپختونخوا اور اسلام آباد سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔

    صوبہ سندھ میں بارشوں کی تباہ کاریوں سے چالیس ارب روپے کا نقصان ہوا،مراد علی شاہ

    چترال میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے اورسیلابی ریلےمیں خاتون سمیت 7 افراد بہہ گئے،ریسکیو ذرائع کےمطابق اطلاع ملتےہی ریسکیو آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں 5 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جب کہ 2 افراد کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن جاری ہے ریلےمیں پھنسے 15 افراد کو بچا لیا گیا۔

    ادھر موسیٰ خیل میں 5 روز میں سیلابی ریلوں میں7 ہزار سے زائد مویشی بہہ گئے،کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں طوفانی بارشوں سے ندی نالوں میں اونچے درجےکا سیلاب آگیا، سوراب میں شدید بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے-

    پاکستان بھر میں سیلاب کے باعث 600 سے زیادہ اموات ریکارڈ ہوئی. این ڈی ایم اے

    راجن پور میں سیلابی پانی نے فاضل پور ریلوے ٹریک بھی توڑ دیا، نصیر آباد،جعفرآباد میں 2 روز سےجاری بارشوں سےمتاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے، متاثرین کھلے آسمان تلے امداد کےمنتظر ہیں علاوہ ازیں ڈیرہ اسماعیل خان بھی بارشوں اور سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں ہیں اور چشمہ کنڈل روڈ ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔

    قبل ازیں قبل وادی نیلم کے علاقے رتی گلی میں بادل پھٹنے سے نالے میں طغیانی آگئی، ریلے میں بہہ جانے والے 5 سیاحوں میں سے 2 کی لاشیں مل گئیں جب کہ دیگر کی تلاش جاری ہے رتی گلی کلاؤڈ برسٹ کے بعد علاقے میں پھنس جانے والے دو سو سے زائد سیاحوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا-

    ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

  • بلوچستان، پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    بلوچستان، پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    راولپنڈی:بلوچستان اورپنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ صوبے بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج کے دستے ڈی جی خان، راجن پور، نصیر آباد اور لسبیلہ میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ آبادی اور ان کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ فوج کی میڈیکل ٹیمیں متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔

    دوسری طرف بلوچستان میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور جان لیوا سیلاب کے باعث مختلف حادثات کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 205 تک جاپہنچی ہے۔ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئٹہ اور ملک کے دیگر علاقوں کے درمیان ریلوے ٹریک اور سڑکیں متاثر ہونے کے باعث بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔صوبائی حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے علاقوں میں امدادی سامان، انفرااسٹرکچر کی بحالی اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے 60 ارب روپے کا خصوصی پیکج فراہم کرے۔

    حکام نے صوبے بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد 205 بتائی ہے جبکہ منگل کی شام ضلع پشین کے علاقے سرانان کے قریب ریلا پانچ افراد کو بہا لے گیا تھا جن میں سے 5 سالہ بچی کی لاش سرانان کے علاقے سید حمید ریور سے برآمد ہوئی۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بدھ کی رات تک بلوچستان میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کیے تھے۔

    بلوچستان کو دوسرے صوبوں سے ملانے والا ریلوے ٹریک گزشتہ کئی روز سے سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے جس کی وجہ سے مسافر ٹرینیں اور مال گاڑی سروس معطل ہے جبکہ ریلوے حکام سمجھتے ہیں کہ ٹریک کی بحالی میں ابھی مزید چند روز لگیں گے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 روز سے کوئٹہ سے کراچی، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لیے کوئی ٹرین روانہ نہیں ہوسکی۔

    علاوہ ازیں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کی صدارت میں حالیہ بارشوں کے بعد ہونے والی صورتحال کے متعلق اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ڈویژنل کمشنر، ڈپٹی کمشنرز، متعلقہ سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی شریک ہوئے۔ اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنر نے صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 220 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی ہے، انہونے بتایا کے عمرکوٹ، ملیر، جامشورو، دادو، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹیاری، بدین، ٹھٹہ اور سجاول میں بارش سے انفراسٹرکچر اور عوام کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے متاثرہ اضلاع کے ہر ڈپٹی کمشنر کو رلیف کے کاموں کے لئے فوری طور پر فوری طور پر 30-30 لاکھ روپے جاری کرنے کا فیصلا کیا۔ انہونے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے تمام اضلاع کو فنڈز آج ہی جاری کئے جائیں تا کے رلیف کیمپ، بارش کے پانے کے نکاس کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کے بارش سے متاثرہ افراد کو راشن، ٹینٹ دیگر ضروریات کو پورا کیا جائے۔ جہاں زیادہ صورتحال خراب ہو وہاں بارش متاثرہ افراد کو اسکولوں میں رکھا جائے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ٹینٹ، راشن بیگ فراہم کی جائیں گی۔ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے میزد کہا کے صوبے میں غیر معمولی بارش سے انفراسٹرکچر اور زراعت کو بہت نقصان ہوا ہے تمام کمشنر انفراسٹرکچر، عوام کے جانی و مالی نقصان اور زراعت کے نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کریں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے بارش متاثرہ علاقوں میں گیسٹرو اور دیگر بیماریوں کے ادویات کو یقینی بنایا جائے۔

  • بلوچستان: پنجگور میں  ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر حملہ

    بلوچستان: پنجگور میں ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر حملہ

    بلوچستان کے ضلع پنجگور میں دہشت گردوں کے ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر حملے میں کم از کم ایک اہلکار زخمی ہو گیا جبکہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجگور میں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق سلولی کی سرکاری رہائش گاہ پر نامعلوم افراد نے گھر پر دستی بم پھینکا دستی بم ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے عقبی حصے میں پھٹا، دھماکے کے نتیجے میں لیویز آپریٹر صغیر احمد زخمی اور ایک بلٹ پروف گاڑی سمیت چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

    شمالی وزیرستان، دہشت گردوں کیخلاف آپریشن، ایک دہشتگرد جہنم واصل

    خوش قسمتی سے ڈپٹی کمشنر سلسولی اور گھر میں موجود دیگر افراد محفوظ رہے، دھماکے کے فوراً بعد لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمی آپریٹر کو ہسپتال منتقل کیا۔

    دھوکا دہی کا الزام: ایمازون نے پاکستان کے 13000 اکاؤنٹس معطل کردیئے

    ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دستی بم حملے میں ملوث موٹر سائیکل سواروں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    مینار پاکستان: خواتین کے ساتھ چھیڑ کھانی،واقعات میں ملوث 65 اوباش لڑکے گرفتار

    قبل ازیں لاہور میں فائرنگ سے پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا تھانہ وحدت کالونی کے کانسٹیبل محمد یٰسین جو کہ رات اپنی ڈیوٹی سے واپس گھر جا رہا تھا، شاہدرہ ٹاؤن کے علاقہ میں عرفان اور تقی نامی دو اوباش نوجوان سڑک پر غنڈہ گردی کر رہے تھے نے کانسٹیبل محمد یٰسین کے ساتھ بدتمیزی کی اور آپس میں تلخ کلامی ہوئی –

    کانسٹیبل محمد یٰسین واپس جانے کے لیے موٹر سائیکل پر سوار ہوا ہی تھا کہ پیچھے سے اوباش نوجوانوں نے محمد یٰسین پر فائر کر دیا جو کہ کانسٹیبل کی کمر میں لگاتھانہ شاہدرہ ٹاؤن کی پولیس نےفوری طورپرموقع پر پہنچ کر کانسٹیبل محمّد یٰسین کومیو اسپتال روانہ کیا ، دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے تھے جبکہ پولیس دونوں ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے-

    جدہ: خودکش حملے میں بمبار ہلاک، پاکستانی سمیت 4 زخمی

  • حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    راولپنڈی:حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی ،اطلاعات کے مطابق حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا۔ ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 547 فٹ تک بلند ہوگئی۔

    ارسا حکام کے ڈیم میں 56لاکھ ایکڑفٹ پانی ذخیرہ ہوچکا ہے جس کا مطلب کے ڈیم 99.8فیصد پانی سے بھر چکا ہے۔ تربیلا ڈیم میں 1550فٹ پانی کی گنجائش ہے۔

    حکام کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کی آمد2 لاکھ40 ہزار کیوسک ہے۔ ڈیم سیفٹی کےلئے یومیہ ایک فٹ سے بھی زیادہ بھرنا خطرناک ہوگا۔حکام کے مطابق مطابق گندم کی بوائی کے لئے تربیلہ ڈیم کا اسٹورشدہ پانی نہایت مفید ہوگا۔

    دوسری جانب سیلاب سے تباہ حال بلوچستان پھر مشکلات میں مبتلا ہو گیا ہے، کوہلو میں طوفانی بارش کےباعث سیلابی صورتحال کے باعث کئی کچے مکانات گرگئے۔

    کوہلو-کوئٹہ قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت متاثرہوگئی، طوفانی بارش اور سیلاب کے سبب جشن آزادی کی مرکزی تقریب ملتوی کردی گئی۔قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے سے دو سو سے زائد مکانات متاثر ہوئے جبکہ بیشتر رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، تین روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

    توبہ اچکزئی میں موسلادھاربارشوں کے بعد ریلے میں بہہ کر دو افراد جاں بحق، بارکھان، رکھنی، ڈیرہ بگٹی، شیرانی، دھانا سر، فورٹ منرو، کوہ سلیمان، زیارت، قلعہ سیف اللہ میں بھی موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    چمن کے بالائی علاقوں کوژک ٹاپ، شیلاباغ پر موسلادھار بارش، راجن پور شہراورگردونواح کے ساتھ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کے باعث میدانی اور پچھاد کے علاقے پھر سے ڈوبنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

  • دادو اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    دادو اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی: صوبہ سندھ کے شہر دادو اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی۔تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے شہر دادو اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

     

    کراچی طوفانی بارشیں: مختلف حادثات میں 3 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی، اس کی زیر زمین گہرائی 88 کلو میٹر تھی جبکہ مرکز شمال مغرب سندھ بلوچستان بارڈر تھا۔زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں صوبائی دارالحکومت کراچی میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی تھی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ڈی ایچ اے کراچی سے 15 کلو میٹر شمال میں تھا۔

    یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے خاران میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ہے ، زلزلے کی گہرائی 40 کلو میٹر تھی۔ بلوچستان کے علاقے خاران میں جمعرات کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 3.9، گہرائی 40 کلو میٹر تھی ۔جس کا مرکز خاران سے 30 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب تھا۔جس کے بعد لوگ خوفزدہ ہوکر گھروں سے نکل آئیں۔ زلزلے سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے ۔

  • بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات

    بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات

    کوئٹہ:بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، طوفانی بارش نے ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں تباہی مچادی، اوتھل میں لُنڈا ندی میں قومی شاہراہ کا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، کوئٹہ سے کراچی جانے والا زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا، بارشوں اور سیلاب سے مزید 6 افرد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 182 ہوگئی۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لسبیلہ، بارکھان، دکی، زیارت، سنجاوی اور چمن میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں۔قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں طوفانی بارش کے باعث کئی علاقے زیرآب آگئے، آرگس گاؤں، سلطان آباد، جان آباد، شین خڑ کے علاقوں میں سیلابی پانی نے تباہی مچادی۔

    متاثرین کا شکوہ ہے کہ سیلاب نے پورے پورے گاؤں تباہ کردیئے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا گیا، حکومت متاثرین کی فوری مدد کرے۔اوتھل میں لنڈا ندی میں قومی شاہراہ کا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، سیلابی ریلے کے باعث قومی شاہراہ بند اور ٹریفک معطل ہوگئی۔

    کمشنر قلات داؤد خلجی کا کہنا ہے کہ لنڈا ندی پل سیلابی ریلے میں بہہ چکا ہے، عوام کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔

    دوسری طرف پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے 6 مزید افراد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 182 ہوگئی، 18 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) حکام کا کہنا ہے حالیہ بارشوں کے بعد مثاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔

  • بلوچستان میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی نئی رپورٹ جاری

    بلوچستان میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی نئی رپورٹ جاری

    بلوچستان کے محکمہ پی ڈی ایم اے نے صوبے میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے متعلق نئی رپورٹ جاری کردی-

    باغی ٹی وی : پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں بارشوں سے مزید جانی و مالی نقصان نہیں ہوا-

    کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    رپورٹ کے مطابق یکم جون سے 6 اگست تک بارشوں اور سیلابی ریلوں کے دوران مختلف حادثات میں 176 افراد جاں بحق ہوئے جاں بحق ہونے والوں میں 77 مرد 44 خواتین اور 55 بچے شامل ہیں، یہ اموات بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی، خضدار ،کوہلو،کیچ، مستونگ، ہرنائی،قلعہ سیف اللہ اور سبی میں ہوئیں ۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بارشوں کے دوران حادثات کا شکار ہوکر 75 افراد زخمی ہوئے، بارشوں اور سیلاب کے باعث صوبے بھر میں 18 ہزار 87مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 670 کلو میٹر پر مشتمل مختلف 6 شاہرائیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    پی ڈی ایم اےکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر 16 پل ٹوٹ چکے ہیں اور 23 ہزار 13 مال مویشی مارے گئے ،مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصانات پہنچا ۔

    پنجاب، خیبرپختونخوا اورسندھ کےمختلف علاقوں میں آج بھی بار شوں کی پیشگوئی

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ 10 اگست سے 14 اگست تک گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کا امکان ہے، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان کوہلو ،موسی خیل، شیرانی،سبی، ڈیرہ بگٹی، بولان اور قلات میں بھی سیلابی صورتحال ہو سکتی ہے اس کے علاوہ خضدار لسبیلہ آوران ،خاران ،تربت ،پنجگور ،ہرنائی اور سوراب میں بھی سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، لسبیلہ،سبی ،بولان ،کوہلو ،ہرنائی اور لورالائی میں بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی محکمہ موسمیات نے بدھ کو ژوب، بارکھان ،آواران،واشک،خاران، قلات، پنجگور، کیچ،خضدار اور لسبیلہ میں کہیں ہلکی اور کہیں بارش کی پیش گوئی کردی ۔

    بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہونے کے بعد کوہلو ،ہرنائی ،بولان ،لسبیلہ ،خضدار ،لورالائی اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس سے ندی نالوں میں طغیانی رہی ، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع۔ مریم کو ذمہ داری دے دی گئی

  • لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اور صوبائی مشیر داخلہ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ

    لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اور صوبائی مشیر داخلہ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ

    کوئٹہ:کورکمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اور صوبائی مشیر داخلہ نے آج سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا ہے۔اور صوبے میں امن اومان کی صورت حال کا جائزہ لیا

    سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اپنے دورے کے دوران لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے دسویں محرم الحرام کے لئے سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا اور موقع پرہدایات بھی جاری کیں ، جبکہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات اور تیاریوں کے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

    قطری شہزادے کے خط کے بعد برطانوی شہزادی کے خط کے چرچے

    سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں ہونے والی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبے بھر میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات کےلئے پولیس کے20ہزارسےزائد اہلکار تعینات کئےگئے ہیں تاہم ضرورت پڑنے پر پاک فوج اورایف سی کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔

    وزیراعظم کا قطری امیرکوٹیلی فون، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرمیں ہونے والی اس بریفنگ میں کورکمانڈرکوئٹہ کو بتایا گیا کہ صوبے کے حساس اضلاع میں سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی کئی ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے محرم الحرام کے جلوسوں کی براہ راست مانیٹرنگ کی جارہی ہے جبکہ جلوسوں کے روایتی راستوں اور مجالس کے مقامات کے آس پاس علاقوں میں واقع ہوٹلز وغیرہ پر کڑی نظر رکھی گئی ہے۔

    چیئرمین سعودی شوریٰ کونسل کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے اچانک ملاقات،بھارت پریشان

    اسکے علاوہ صوبائی سطح پر مرکزی کنٹرول روم کے علاوہ ڈویڑنل اور اضلاع کی سطح پر بھی کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز قائم کئے گئے ہیں۔

    اس موقع پرکورکمانڈرکوئٹہ کو بتایا گیاکہ دسویں محرم پر کوٹئہ میں 15 جلوس اور آٹھ مجالس منعقد ہونگے جن کی سکیورٹی کے لئے پولیس کے 5ہزار سے زائد اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایمرجنسی پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

    سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرمیں ہونے والی اس بریفنگ میں کورکمانڈرکوئٹہ کو بتایا گیا کہ سیکورٹی کے حوالے سے تمام انتظامات کی مانیٹرنگ بھی جاری ہے،اس موقع پر کمانڈر 12 کور اور صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء نے محرم الحرام کے لئے سکیورٹی اور دیگر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی تعریف کی۔

    خیال رہے کہ آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ ،ائی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔