Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    کوئٹہ:شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا ہے ،سیلاب کے بعد بلوچستان کے ساحل سمندرکے قریب زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں۔لوگوں پرخوف کے سائے ہیں ،اطلاعات ہیں کہ اس زلزلے میں پانی میں گھرے ہوئے مکانات کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جس کی گہرائی زیرزمین 60 کلومیٹرتھی، زلزلے کا مرکز پسنی کے قریب آف کوسٹل ایریا تھا، 10 منٹ کے وقفے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلے کے جھٹکے گوادر اور بلوچستان کی دیگر ساحلی پٹی پر بھی محسوس کیے گئے، فوری طور پر زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

    بارشیں اور سیلاب سے بلوچستان میں حالات خراب، ہر طرف تباہی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے، متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے تباہی پھیل گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 127 ہوگئی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے اور 565 کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، گیارہ پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے، متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

  • بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    بلوچستان میں سیلاب سے تباہی، جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی،پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارش اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 132 تک پہنچ گئی جبکہ سیکڑوں مکانات بھی تباہ ہوگئے۔ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچنے سے پاک ایران مال بردار ٹرین سروس معطل کر دی گئی جبکہ قومی شاہراہ کو نقصان پہنچنے سے بلوچستان سے کراچی جانے والے پھل اور سبزیوں کی ترسیل بھی معطل ہوگئی۔

    متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی طبی امداد فراہم کرنے اور مواصلاتی ڈھانچے کو کھولنے کے علاوہ ریسکیو، امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اٹک، تربیلا، چشمہ اور گڈو کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ سندھ کے علاوہ تمام دریا معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ورسک کے مقام پر نچلا سیلاب اور دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    آئی ایس پی آر مردان میں سب سے زیادہ 133 ملی میٹر اور مہمند میں 85 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ مردان میں پانی نکالنے کی کوششیں کی گئیں۔ ضلع مہمند کے مقامی نالوں میں سیلاب کی اطلاع ملی ہے۔ سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں اضلاع میں میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔

    جھل مگسی گندھاوا کا مکمل رابطہ بحال کر دیا گیا ہے۔گندھاوا اور گردونواح میں آرمی میڈیکل کیمپ میں 115 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ خضدار ایم-8 اب بھی منقطع ہے۔ رابطے کی بحالی پر کام جاری ہے جبکہ حافظ آباد میں سی ایم ایچ خضدار اور ایف سی کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپ میں 145 متاثرہ افراد کا علاج کیا گیا۔ باباکوٹ اور گندھا کی متاثرہ آبادی کے لیے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب متاثرین میں راشن اور پکا ہوا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گندکھا میں فیلڈ میڈیکل کیمپ میں مختلف مریضوں کا علاج کیا گیا۔چمن میں بارش نہیں ہوئی۔ باب دوستی مکمل طور پر فعال ہے۔ نوشکی پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔پکا ہوا کھانا 1000 سے زیادہ لوگوں کو دیا گیا ہے۔ 3 مقامات پر تباہ ہونے والے این-40 کی مرمت کر کے ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ لسبیلہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی۔ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے.گوادر میں جنرل آفیسر کمانڈنگ نے حب اور اتھل کا دورہ کیا۔ قراقرم ہائی وے میں سکندر آباد کے قریب 2 مٹی تودے گرنے کی اطلاع تھی۔ ایف ڈبلیو او کی جانب سے سڑک کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی ریلوں سے بیشتر رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔

    صوبے بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے پیش آنے والے حادثات میں ساڑھے 13 ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں جبکہ بجلی کے 140 کھمبے گر چکے ہیں۔ کوئٹہ میں انگوروں کے باغات تباہ ہو گئے، ضلع واشک میں سیلابی ریلہ پیاز سے بھری بوریاں بہا کر لے گیا۔

    محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر دی۔
    کوئٹہ، ژوب، زیارت، موسیٰ خیل، قلعہ عبداللّٰہ، پشین، بارکھان میں آج بادل برس سکتے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش ژوب میں 45 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔تاریخ رقم کرنے والا مون سون کا چوتھا اسپیل بلوچستان کے جنوب مشرق اور وسطی علاقوں میں تباہ کاریوں کا باعث بن رہا ہے۔

     

    سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

     

     

    شمال میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع قلعہ سیف اللّٰہ کے دور افتادہ علاقے اور بلوچستان کے بلند ترین مقام کان مہتر زئی میں نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔پہاڑوں پر زندگی گزارنے والے حالات سے مجبور ہو کر شہروں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

     

    سیلاب،حکومت کے ساتھ رفاہی ادارے بھی آگے بڑھیں،سراج الحق

     

     

    بلوچستان میں بارشوں اور ڈیموں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی، دشتگور انکی ندی سے تین بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔لوچستان میں اب تک بارشوں اور سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے افراد کی تعداد ایک سو 26 تک پہنچ گئی.

    بارشوں اور مختلف واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد میں 45 مرد، 32 خواتین جبکہ 38 سے زائد بچے شامل ہیں، جن میں سے بیشتر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے، اس کے علاوہ ہزاروں مویشی بھی سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہوگئے۔وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہٰ اور انکی جلد از جلد بحالی کی جائے گی۔

    بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رسانی نے موٹر سائیکل پراپنے حلقہ میں سیلاب اور بارشون سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے.

    علاوہ ازیں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں 43 مرد، 7 خواتین اور گیارہ بچے شامل ہیں۔جھل مگسی، قلعہ عبداللہ، نوشکی، مستونگ سمیت دیگر علاقے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے ہیں، جہاں سیلابی ریلوں کی تباہی سے سیکڑوں گھر ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور مقامی شہری بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

    دوسری جانب لک پاس کے قریب واقع ڈیم ٹوٹنے کے باعث کوئٹہ تفتان شاہراہ زیرآب گئیں، جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 2 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوگئی جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ 15 پُل متاثر ہوئے، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا متعلقہ اداروں کے ہمراہ ریسکیو آپریشن جاری جاری ہے جبکہ پانچ میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سیلابی ریلے میں دالبندین کے قریب ریلوے ٹریک بہہ گیا جس کے نتیجے میں پاک ایران ریلوے سروس کو بند کردیا گیا جبکہ باب دوستی سے پانی کی نکاسی کر کے اسے پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

    مزید برآں ڈی جی پی ڈی ایم اے نےڈی جی خان ڈویژن کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیلاب سے جان بحق ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اورلواحقین سے اظہار تعزیت کیا،ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے عثمان خالد اور ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ڈی جی پی ڈی ایم اے کےہمراہ تھے.

    ڈی جی پی ڈی ایم اے فیصل فرید کا کہنا تھا کہ قیمتی جانوں کے ضیاع پر بہت افسوس ہوا،مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔سیلاب سے ڈی جی خان ڈویژن کو بہت نقصان ہوا،حکومت پنجاب کی جانب سے گھروں، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی،میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جا رہی ہیں۔ سانپ کے کاٹنے سمیت دیگر ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب متاثرین میں خشک راشن،اور خیمہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ سیلاب کے پانی کا اخراج کافی حد ہو چکا،متاثرین کی گھروں میں شفٹنگ جاری ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ تمام متعلقہ محکمے مربوط انداز سے ریلیف کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیلاب سے متاثرہ بہن بھائیوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے-

    ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور میانوالی کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اےکمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان انور نے تونسہ شریف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار جعفر خان بزدار،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان،اے سی تونسہ اسد چانڈیہ اور دیگر دوران ہمراہ تھے ڈی جی خان نےسیلاب کی تباہی کاریوں کا جائزہ لیا۔ سیلاب متاثرین میں خیمے اور خشک راشن کے تھیلے تقسیم کئے۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر محمد عثمان انور نے کہا کہ مزید بارش نہ ہونے پر تین روز کے اندر ہر متاثرہ گھر تک امدادی سامان پہنچا دیں گے ۔امدادی سامان کی شفاف تقسیم کےلئے بستی سطح کی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں۔سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں ہیں۔تخمینہ مکمل ہونے پر گھر اور فصلوں کا ازالہ کیا جائیگا
    سردار جعفر خان بزدار نے کہا کہ متاثرہ انفراسٹرکچر کی جلد بحالی ممکن بنائی جائے ۔متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیلاب زدگان کے دکھ میں برابر کی شریک ہیں۔ہر متاثرہ فرد کی بحالی تک کام کرتے رہیں گے،کمشنر عثمان انور نے بستی چھتانی کا بھی دورہ کیا۔سیلابی ریلے میں جاں بحق افراد کےلئے فاتحہ خوانی اور لواحقین سے تعزیت کا بھی اظہار کیا۔

  • بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے لئے دن رات کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ بہنوں، بھائیوں اور بچوں کی مکمل بحالی اور نقصانات کے ازالے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ، مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہیں تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔ بلوچستان سمیت صوبائی حکومتوں سے مل کر متاثرین کی امداد اور بحالی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان کے سیلاب اور طوفانی بارشوں سے تباہی کا شکار جھل مگسی کے علاقوں اور ا س کے مضافاتی دیہات کے جائزے کے دوران متاثرہ عوام اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ بھی لیا۔ وزیراعظم گاﺅں شمبانی میں رکے اور سیلاب متاثرین عوام سے ملے اور ان کی شکایات سنیں۔ وزیراعظم کو اپنے درمیان موجود پاکر اور ان کے تسلی دینے پر متاثرین نے وزیراعظم زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔

    اس موقع پر وزیراعظم نے متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ میں آج آپ کو یہ یقین دہانی کرانے آیا ہوں کہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو اوران کی صوبائی حکومت کے ساتھ ہم مل کر وفاقی حکومت آپ کی پوری مدد کریں گے۔ بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں متاثرین کی مدد کریں گے۔ جہاں جہاں جہاں نقصان ہوا ہے، وہاں ریلیف پہنچا رہے ہیں۔ ان شاءاللہ آپ کے ساتھ پوری پوری مدد کریں گے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ بارشوں سے پچھلے تیس سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ۔ ماضی نسبت اس مرتبہ کئی گنا زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ تقریبا پورے پاکستان میں تقریبا 300 سے زائد لوگ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں 124 لوگ وفات پاگئے ہیں جن میں خواتین، مرد اور بچے شامل ہیںجبکہ بے شمار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہاکہ مالی معاوضہ جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ زندگی بھر لوگ اپنے پیاروں کو ہمیشہ یاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ غم بھلایانہیں جاسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی تلافی ہوسکتی ہے۔ لیکن بحرحال زندگی گزارنی ہے ۔ حکومت نے متاثرین کی امداد کے لئے حتی المقدورکوشش کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کیلئے 10 لاکھ امداد فراہم کی جارہی ہے، زخمیوں کے ساتھ ساتھ متاثرہ گھروں میں کچے اور پکے گھروں کو پہنچنے والے نقصانات پر امداد کو یکساں اور بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کردیا ہے جبکہ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ فوری طور پر میڈیکل کیمپ قائم کیاجائے۔ ادویات اور ویکسین فراہم کی جائے۔ انہوں نے جانوروں کے علاج معالجے کے لئے ویٹنری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی فوری بھجوانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے علاقے میں مزید کشتیاں اور راشن کے تھیلے فراہم کرنے کابھی حکم دیا۔ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے متاثرہ گاﺅں اور اس کے مضافات میں متاثرین کی مدد کے لئے ٹیمیں روانہ کردی ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں کے دورے پر آیا ہوں جہاں سیلابی پانی نے تباہی مچائی ہے۔ دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، آبادی کے علاوہ مال مویشی اور املاک کا بھی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی میں جھل مگسی کے ایک گاﺅں سے ہوکر آیا ہوں۔ اس گاﺅں میں آٹھ سے 10 فٹ تک پانی آیا تھا۔ علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ویسے بھی جھل مگسی میدانی علاقہ ہے جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ البتہ گھروں، مال مویشی کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب لورالائی، لسبیلیہ سمیت دیگر علاقوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور ان کی حکومت کے ساتھ مل کردن رات بھرپور کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کرمتاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے لئے کوششیں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہاکہ تین چار روز قبل سیلاب اور بارش سے متاثرین اور ان کے نقصانات کے ازالے کے جائزے اور اقدامات کے حوالے سے اسلام آباد میں اجلاس منعقد کیا تھا جس میں وزرا اعلی اور چیف سیکریٹریز موجود تھے۔ عوام نے خیرمقدم کیا۔ قبل ازیں ہفتے کی صبح وزیراعظم بلوچستان کے لئے روانہ ہوئے ۔ علی الصبح موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کی روانگی موخر ہوئی تھی تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر موسم بہتر ہوتے ہی وہ بلوچستان کے لئے روانہ ہوگئے۔

    وزیراعظم شہبازشریف جیکب آباد پہنچے تو ’نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی‘ (این ڈی ایم اے) کے حکام اور چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز اوقلی نے بریفنگ دی جس کے بعد وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے لئے جھل مگسی روانہ ہوئے۔ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب، سردار خالد مگسی، سینیٹر مولاناعبدالغفور حیدری، وزیرہاوسنگ مولانا عبدالواسع ، وزیرمملکت پاور محمد ہاشم نوتیزئی ، معاون خصوصی سید فہد حسین اور چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

  • نوابزادہ میرجمال رئیسانی کی ہدایت پرشہداء بلوچستان کےورثاکاڈپٹی کمشنرکےدفترکےسامنے دھرنا

    نوابزادہ میرجمال رئیسانی کی ہدایت پرشہداء بلوچستان کےورثاکاڈپٹی کمشنرکےدفترکےسامنے دھرنا

    کوئٹہ :وزیراعلیٰ کے کورآرڈینیٹر برائے امور نوجوانا ن نوابزادہ میر جمال رئیسانی کی ہدایت پر شہداء بلوچستان کے ورثاء نے میر فرید رئیسانی کی قیادت میں ریلی نکالی اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا، دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے میر فرید رئیسانی سمیت دیگر کا کہنا تھاکہ زیارت واقعہ کی طرز پر بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات اور ان میں شہید ہونے والے افراد کے ملزمان کے تعین اور سزا دینے کے لئے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے کمیشن اس بات کا تعین کرے کہ وہ کون سی قوتیں ہیں جنہوں نے درینگڑھ سمیت صوبے میں دو دہائیوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات کروائے اور ہزاروں بے گناہ لوگوں کو شہیدکیا

    انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کے مخالف کاروائیوں میں ملوث ہیں انکی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جاسکتا ہے تو صوبے بھر میں دہشتگردی کا شکار ہونے والے افراد کے لئے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے شرکاء کی جانب سے دھرنا رات گئے تک جاری رہا بعدازاں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، میر سکندر عمرانی کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ، ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ عبدالحق عمرانی نے دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کئے ،

     

     

    انہیں یقین دہانی کروائی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے یقین دہانی کروائی ہے کہ زیارت واقع کی طرز پر بلوچستان کے شہداء کی تحقیقات کے لئے بھی کمیشن قائم کیا جائیگا بعدازاں دھرنا کے شرکاء نے حکومتی یقین دہانی پراحتجاج ختم کردیا اور پر امن طور پر منتشر ہوگئے

  • قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    قوم سیلاب میں بہہ رہی اور سیاستدان اقتدار کی جنگ لڑ رہے:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    بلوچستان، صوبہ سندھ، پنجاب، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کے گھروں، سیلاب میں بہتے ہوئے غریب لوگوں کی لاشیں، شہروں میں ان سیلابی ریلوں کی تباہی دیکھ کر الفاظ ساتھ چھوڑ گئے ہیں اور یہ دل ہلا دینے والے واقعات پہلی بار منظر عام پر نہیں آئے سالوں سے غریب عوام کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔ نکاسی آب کے محکموں اور حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے نالوں کی صفائی کرنے والے کہاں ہوتے ہیں؟ ہم بحیثیت قوم ماہرین اقتصادیات کے مطابق عملاً دیوالیہ ہو چکے ہیں قرضوں پر چل رہے ہیں قوم سیلاب میں بہہ رہی ہے سیاستدان ایک دوسرے کو چور ڈاکو اور اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی جنگ لڑ رہے ہیں ہر سمت پھیلی ہوئی اخلاقی تباہی نظر آرہی ہے منافق اور دوغلےلوگوں نے اس ملک کا حلیہ بگاڑ دیا ہے

    وقت ہے، جمہوریت بچا لیں،تجزیہ ” شہزاد قریشی

    صوبہ سندھ، کراچی روشنیوں کا شہر، بلوچستان، پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے قیامت برپا ہے اور ملکی سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ سیلاب زدگان کی آہ و بکا نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے دیہات اور شہروں کے شہر اجڑ رہے ہیں۔ بھلا ہو پاک فوج کے جوانوں کا جو اس مشکل ترین وقت میں غریب عوام کو بچانے کے لئے اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ورنہ ان صوبوں کی انتظامیہ صرف عالیشان بنگلوں میں بیٹھ کر تماشا ہی دیکھ رہی ہے۔

    مستقل معاشی بحران جمہوریت کیلئے خطرہ :۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    مون سون سیزن کے شروع ہوتے ہی جس طرح محکمہ موسمیات کا ادارہ مختلف علاقوں اور دریائوں میں پانی کے بہائو کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پہلے آگاہ کر دیتا ہے مگر ہمارے فوری امداد اور بحالی کے اداروں کے درمیان روابط اور تعاون کی کمی کی وجہ سے وارننگ سسٹم کے باوجود بہت بہت زیادہ نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔ اگر ہم ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں تو ان دل ہلا دینے والے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت سیلاب کی زد میں آنے والے غریب لوگوں کی بحالی کے لئے خصوصی اور ہنگامی اقدامات کرے جس کرسی کے لئے سیاستدان جنگ لڑ رہے ہیں اس کرسی پر انہی عوام نے آ پکو بٹھانا ہے اپنا رخ عوام کی طرف موڑ دیں ورنہ اگر عوام نے رخ موڑ دیا تو پھر عوامی سمندر سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    ملک میں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں اوتھل کے 4 دیہات کے 2300 سے زیادہ نفوس کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا متاثرہ آبادی والے علاقوں میں خیمے، راشن اور خوراک فراہم کی جارہی ہے،4 مقامات سے بند ہونے والی این 25 قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا پی ٹی اے کے اشتراک سے بالخصوص لسبیلہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یکم جولائی سے اب تک 467 فیصد غیر معمولی بارشیں ہو چکی ہیں بارشوں کے باعث لسبیلہ، کیچ،کوئٹہ، سبی،خضدار اور کوہلو سب سے زیادہ متاثر ہوئے،بلوچستان میں بارشوں سے 3953 مکانات کو نقصان پہنچا، حب،گڈانی،بیلہ،دودار اور جھل مگسی کے متاثرہ علاقوں میں 5 میڈیکل کیمپس قائم کئے گئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق صرف کراچی میں پانی نکالنے کے لیے 58 ڈی واٹرنگ ٹیمیں لگائی گئی ہیں ،ٹھٹھہ میں گھارو گرڈ اسٹیشن سے آرمی ڈی واٹرنگ ٹیموں نے پانی نکال دیا جامشورو میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا پاک فوج نے جامشورو میں ریلیف کیمپ قائم کر دیا،لٹھ ڈیم کے بھرنے سے ایم نائن شاہراہ مختلف مقامات پر زیر آب آگئی ٹیمیں سڑک کو صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کے ساتھ کام کررہی ہیں ،دادو اور خیرپور میں مقامی لوگوں کو راشن اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق گلگت بلتستان میں بھی پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،شاہراہ قراقرم اور جگلوٹ اسکردو روڈ کو ایف ڈبلیو او نے کھول دیا گیا ،سیلابی ریلے کی وجہ سے ضلع غذر کا رابطہ منقطع ہوگیا، مواصلاتی نظام بحال کر دیا گیا مقامی لوگوں کو خوراک اور ادویات فراہم کی گئی ہیں بارش سے خیبرپختونخوا کے اضلاع ٹانک، چترال اور صوابی بری طرح متاثر ہوئے ،چترال ،مستوج اور ٹانک گومل زام ڈیم روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا،

    سیلاب سے ہونے والے نقصان کے سرکاری اعداد وشمارجاری

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

    کوئٹہ :پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں حالیہ مون سون میں تیس سالوں سے پانچ سو فیصد زائد بارشوں سے 111 افراد جاں بحق، جب کہ مختلف حادثات میں ایک ہزار افراد زخمی اور 50 ہزار گھر متاثر ہوئے ہیں۔ضلع لسبیلہ میں سیکڑوں افراد ریلے میں پھنس گئے، صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

     

    چیف سیکریٹری بلوچستان، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے حکام نے مشترکا پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں دس اضلاع زیادہ چودہ نارمل متاثر ہوئے ہیں، اس دوران بارشوں اور سیلاب سے 6070 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے،جب کہ 6 ہزار کلو میٹر سڑکیں، 2 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہے۔

     

    چیف سیکریٹری بلوچستان کے مطابق مختلف حادثات اور سیلاب بارشوں سے 17500 افراد کو ریسکیو کیا گیا، متاثرہ 16ہزار 87 گھروں کے لئے راشن اور 10ہزار سے زائد شیلٹر فراہم کئے گئے۔ تاہم خراب موسم کی وجہ سے فضائی ریلیف آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر صوبائی اور وفاق کی جانب سے متاثرین کیلئے 10،10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا گیا ۔

     

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے  نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ حب میں نیا بائی پاس بنا رہے ہیں، ایم ایٹ پر کچھ جگہوں پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے، جب کہ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والے پلوں کی مرمت بھی کردی گئی ہے، جس کے بعد لائٹ اور ہیوی ٹریفک رواں دواں ہے۔

    ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ( PDMA) کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ ( Lasbela ) میں طوفانی بارش کے بعد سیکڑوں افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے ہیں، جب کہ اوڑکی اور دیگر مقامات سے سیلابی ریلے میں پھنسے 250 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ فیصل پانیزئی کے مطابق ریسکیو کیے گیے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ لسبیلہ کے دیگر علاقوں میں بھی متاثرین کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

     

     

    مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہیں، صوبہ بھر میں شدید بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصانات ہوئے۔ موجودہ صورت حال کے تناظر میں لندن کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

     

     

    مخدوم صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام سیاسی مصروفیات ترک کرتے ہوئے ضلع لسبیلہ کے دورے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ بلوچستان صوبے میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

     

     

    پی ڈی ایم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان موسلا دھار بارشوں کے دوران جاں بحق افراد کی تعداد 106ہوگئی ہے، جب کہ مختلف حادثات میں 62 افراد زخمی بھی ہوئے۔ کوئٹہ میں مون سون بارشوں سے 6077 گھر منہدم جب کہ 712 مویشی سیلابی پانی کی نظر ہوگئے۔

    بارشوں سے کان مہترزئی خانوزئی کے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق ہنہ اوڑک میں چالیس خاندانوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا، کیچ، تربت، گوادر، پنجگور، لسبیلہ بھی بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع واشک میں کھڑی فصلوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے۔ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث پانی مساجد سمیت گھروں میں داخل ہوگیا۔

    پشین میں جمعرات 28 جولائی کو بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، کلی تراٹہ اور نیو خان اسکیم میں گھروں کی دیواریں گرگئیں، جب کہ متاثرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے اور حکومتی سطح پر امداد اور مدد کیلئے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

    پاک بحریہ کی جانب سے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ ریلیف آپریشن کے دوران سول انتظامیہ کی مسلسل معاونت کررہا ہے۔

    زمینی راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں راشن اور دیگر ضروری سامان پہنچایا گیا ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب زدہ علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

    بیان کے مطابق بولان، لسبیلہ، اوتھل ،جھل مگسی اور غذر میں سیلاب کے دوران پھنسے 700 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے حب، لسبیلہ، اوتھل، زیروپوائنٹ، دیودر اور غذر جی بی میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں جہاں لوگوں کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں

    بیان کے مطابق لسبیلہ، اوتھل، جھل مگسی، خضدار اور دیگر متاثرہ علاقوں میں 7.5 ٹن غذائی اشیاء، پناہ گاہیں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں اور سیلاب کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے مختلف مقامات پر اسٹینڈ بائی ریسپانس ٹیمیں تعینات ہیں۔

  • کراچی میں بارش کا سبب بننے والے سسٹم کی بلوچستان میں منتقلی کا امکان

    کراچی میں بارش کا سبب بننے والے سسٹم کی بلوچستان میں منتقلی کا امکان

    محکمہ موسمیات نے کراچی میں موسلا دھار بارش کا سبب بننے والے سسٹم کی بلوچستان منتقلی کا امکان ظاہر کردیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق مون سون کے تیسرے اسپیل کے تحت پیر کو شہر کا مطلع کہیں جذوی اور کہیں مکمل ابر آلود رہا، صبح کے وقت مختلف علاقوں قائدآباد، ائرپورٹ، تین تلوارکلفٹن، محمدعلی سوسائٹی، ڈیفنس ویو، شاہراہ فیصل، ڈی ایچ اے، کورنگی، گلشن حدید، سمیت مختلف علاقوں میں کہیں درمیانی اور کہیں ہلکی بارش ہوئی، چند ایک علاقوں میں بوندا باندی اور پھوار پڑی-

    محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کے مون سون رین الرٹ کے مطابق شدید مون سون ہواوں کا باعث بننے والا ہوا کا کم دباؤ وسطی اور مغربی سندھ پر اب بھی برقرار ہے، جو سندھ بھر میں بڑے پیمانے پر موسلا دھار بارش کا باعث بنا، یہ کم دباؤ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں منتقل ہونے کا امکان ہے۔

    اس کے زیراثر تھرپارکر،عمرکوٹ، میرپور خاص، بدین، ٹھٹھ، سجاول، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈوالہیار، حیدرآباد، مٹیاری، سانگھڑ، نواب شاہ، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، جامشورو، شکارپور، قمبر شہداد کوٹ، گھوٹکی اور کشمور جبکہ کراچی میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، کل اور پرسوں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان برقرار رہے گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اس موسمی نظام کے زیر اثر کراچی، حیدرآباد، مٹیاری، ٹھٹھ، سجاول، بدین، میرپورخاص،عمرکوٹ، تھرپارکر، سانگھڑ،نواب شاہ،ٹنڈوالہیار،ٹنڈومحمد خان،دادو،جامشورو،قمبرشہدادکوٹ،لاڑکانہ اور سکھرمیں موسلادھار تیز بارش کے نتیجے میں شہری
    علاقوں میں سیلاب جبکہ نشیبی علاقں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے-

    جبکہ خضدار، لسبیلہ، حب اور کیرتھر رینج کے ساتھ مسلسل شدید بارشیں حب ڈیم پر دباو پیدا کرسکتی ہیں، جس کے سبب دادو، جامشورو اور نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلا آنے کا خدشہ ہے، تمام متعلقہ حکام سے گذارش ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور ضروری اقدامات کریں۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشوں کے سسٹم سے ماضی کا کوئی بھی ریکارڈ نہیں ٹوٹا کیونکہ جولائی کے پورے مہینے شہر کے تینوں سرکاری ویدر اسٹیشن جن کا ریکارڈ تاریخ کا حصہ بنتا ہے، اس میں اولڈ ائرپورٹ پر جولائی کے پورے مہینے کی بارشوں کا ریکارڈ 429.3 ملی میٹر ہے جو سن 1967 میں ریکارڈ ہوا۔

    جولائی کے مہینے میں پی اے ایف بیس فیصل پر سب سے زیادہ بارش سن 1967 میں 611 ملی میٹر ریکارڈ ہوچکی ہے، سب سے زیادہ بارش سن 1967میں 611.4ملی میٹر ہے، پی اے ایف بیس مسرور پر جولائی کی زیادہ سے زیادہ بارشوں کا ریکارڈ 509.3 ملی میٹر ہے، جو سن 1967 میں ریکارڈ ہوئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگر ان تینوں سرکاری ویدر اسٹیشن پر بارشوں کے 24 گھنٹے ریکارڈ کی بات کی جائے تو اولڈ ائرپورٹ پر یکم جولائی 1977 کو 207 ملی میٹر، پی اے ایف بیس فیصل پر 30 جولائی 1967 کو 189.2 ملی میٹر جبکہ پی اے ایف بیس مسرور پر 24 گھنٹوں کی بارشوں کا ریکارڈ 211.3 ملی میٹر ہے جو کہ 26 جولائی سن 1967 کو ریکارڈ ہوئی۔

  • بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ : بلوچستان کے علاقے چمن میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    باغی ٹی وی: گلستان، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے-

    اس حوالے سے لیویز کنٹرول کا کہنا ہے کہ زلزلے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصانات کی اطلاع نہیں ملی، قلعہ عبداللہ، توبہ اچکزئی میں ہائی الرٹ جاری کر دیاگیا ہے –

    زلزلےکی شدت 4.1 جبکہ گہرائی 11 کلو میٹر زیر زمین تھی، زلزلے کا مرکز چمن سے 11 کلو میٹر جنوب مشرق میں تھا۔

  • بلوچستان : لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا

    بلوچستان : لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں بلدیاتی الیکشن 28 اگست کو ہوگا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق میونسپل کمیٹی ژوب کے تمام وارڈز میں بھی 28 اگست کو الیکشن ہوگا علاوہ ازیں موسیٰ خیل، مستونگ، جعفر آباد اور دکی کی مختلف یونین کونسلوں میں بھی 28 اگست کو پولنگ ہوگی۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 18جولائی ہے۔

    واضح رہے کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 32 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی-

    دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ میں درخواست دی ہے کہ کراچی کے بلدیاتی انتخابات کی تاریخ آگے بڑھائی جائے۔

    این اے 245 کی انتخابی مہم کے دوران دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کسی یو سی میں 25 ہزار اور کسی میں 90 ہزار ووٹ رکھے گئے ہیں حلقہ بندیاں غلط کی گئیں تاکہ ایم کیو ایم زیادہ نشستیں نہ لے سکے۔

    وسیم اختر کا کہنا تھا کہ حکومت سے ہوئے معاہدوں پر عمل نہ ہوا تو فیصلہ کریں گے اور این اے 245 کی چھینی ہوئی سیٹ دوبارہ لیں گے۔