Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان، پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    بلوچستان، پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری

    راولپنڈی:بلوچستان اورپنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیلاب سے متاثرہ صوبے بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج کے دستے ڈی جی خان، راجن پور، نصیر آباد اور لسبیلہ میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ آبادی اور ان کے سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ فوج کی میڈیکل ٹیمیں متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں۔

    دوسری طرف بلوچستان میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور جان لیوا سیلاب کے باعث مختلف حادثات کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 205 تک جاپہنچی ہے۔ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئٹہ اور ملک کے دیگر علاقوں کے درمیان ریلوے ٹریک اور سڑکیں متاثر ہونے کے باعث بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔صوبائی حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے علاقوں میں امدادی سامان، انفرااسٹرکچر کی بحالی اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے 60 ارب روپے کا خصوصی پیکج فراہم کرے۔

    حکام نے صوبے بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد 205 بتائی ہے جبکہ منگل کی شام ضلع پشین کے علاقے سرانان کے قریب ریلا پانچ افراد کو بہا لے گیا تھا جن میں سے 5 سالہ بچی کی لاش سرانان کے علاقے سید حمید ریور سے برآمد ہوئی۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بدھ کی رات تک بلوچستان میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار جاری نہیں کیے تھے۔

    بلوچستان کو دوسرے صوبوں سے ملانے والا ریلوے ٹریک گزشتہ کئی روز سے سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے جس کی وجہ سے مسافر ٹرینیں اور مال گاڑی سروس معطل ہے جبکہ ریلوے حکام سمجھتے ہیں کہ ٹریک کی بحالی میں ابھی مزید چند روز لگیں گے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 روز سے کوئٹہ سے کراچی، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے لیے کوئی ٹرین روانہ نہیں ہوسکی۔

    علاوہ ازیں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کی صدارت میں حالیہ بارشوں کے بعد ہونے والی صورتحال کے متعلق اہم اجلاس سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ڈویژنل کمشنر، ڈپٹی کمشنرز، متعلقہ سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل صوبائی ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی شریک ہوئے۔ اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنر نے صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 220 ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی ہے، انہونے بتایا کے عمرکوٹ، ملیر، جامشورو، دادو، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، مٹیاری، بدین، ٹھٹہ اور سجاول میں بارش سے انفراسٹرکچر اور عوام کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے متاثرہ اضلاع کے ہر ڈپٹی کمشنر کو رلیف کے کاموں کے لئے فوری طور پر فوری طور پر 30-30 لاکھ روپے جاری کرنے کا فیصلا کیا۔ انہونے سیکریٹری خزانہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے تمام اضلاع کو فنڈز آج ہی جاری کئے جائیں تا کے رلیف کیمپ، بارش کے پانے کے نکاس کو یقینی بنایا جا سکے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کے بارش سے متاثرہ افراد کو راشن، ٹینٹ دیگر ضروریات کو پورا کیا جائے۔ جہاں زیادہ صورتحال خراب ہو وہاں بارش متاثرہ افراد کو اسکولوں میں رکھا جائے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے ٹینٹ، راشن بیگ فراہم کی جائیں گی۔ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے میزد کہا کے صوبے میں غیر معمولی بارش سے انفراسٹرکچر اور زراعت کو بہت نقصان ہوا ہے تمام کمشنر انفراسٹرکچر، عوام کے جانی و مالی نقصان اور زراعت کے نقصان کا تخمینہ لگا کر رپورٹ پیش کریں۔ چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کے بارش متاثرہ علاقوں میں گیسٹرو اور دیگر بیماریوں کے ادویات کو یقینی بنایا جائے۔

  • بلوچستان: پنجگور میں  ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر حملہ

    بلوچستان: پنجگور میں ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر حملہ

    بلوچستان کے ضلع پنجگور میں دہشت گردوں کے ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر حملے میں کم از کم ایک اہلکار زخمی ہو گیا جبکہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجگور میں ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق سلولی کی سرکاری رہائش گاہ پر نامعلوم افراد نے گھر پر دستی بم پھینکا دستی بم ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے عقبی حصے میں پھٹا، دھماکے کے نتیجے میں لیویز آپریٹر صغیر احمد زخمی اور ایک بلٹ پروف گاڑی سمیت چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

    شمالی وزیرستان، دہشت گردوں کیخلاف آپریشن، ایک دہشتگرد جہنم واصل

    خوش قسمتی سے ڈپٹی کمشنر سلسولی اور گھر میں موجود دیگر افراد محفوظ رہے، دھماکے کے فوراً بعد لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور زخمی آپریٹر کو ہسپتال منتقل کیا۔

    دھوکا دہی کا الزام: ایمازون نے پاکستان کے 13000 اکاؤنٹس معطل کردیئے

    ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دستی بم حملے میں ملوث موٹر سائیکل سواروں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    مینار پاکستان: خواتین کے ساتھ چھیڑ کھانی،واقعات میں ملوث 65 اوباش لڑکے گرفتار

    قبل ازیں لاہور میں فائرنگ سے پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا تھانہ وحدت کالونی کے کانسٹیبل محمد یٰسین جو کہ رات اپنی ڈیوٹی سے واپس گھر جا رہا تھا، شاہدرہ ٹاؤن کے علاقہ میں عرفان اور تقی نامی دو اوباش نوجوان سڑک پر غنڈہ گردی کر رہے تھے نے کانسٹیبل محمد یٰسین کے ساتھ بدتمیزی کی اور آپس میں تلخ کلامی ہوئی –

    کانسٹیبل محمد یٰسین واپس جانے کے لیے موٹر سائیکل پر سوار ہوا ہی تھا کہ پیچھے سے اوباش نوجوانوں نے محمد یٰسین پر فائر کر دیا جو کہ کانسٹیبل کی کمر میں لگاتھانہ شاہدرہ ٹاؤن کی پولیس نےفوری طورپرموقع پر پہنچ کر کانسٹیبل محمّد یٰسین کومیو اسپتال روانہ کیا ، دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے تھے جبکہ پولیس دونوں ملزمان کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے-

    جدہ: خودکش حملے میں بمبار ہلاک، پاکستانی سمیت 4 زخمی

  • حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھرگیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی

    راولپنڈی:حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا،مزید بارشوں کی پیشن گوئی ،اطلاعات کے مطابق حالیہ بارشوں کے بعد تربیلا ڈیم پانی سے بھر گیا۔ ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 547 فٹ تک بلند ہوگئی۔

    ارسا حکام کے ڈیم میں 56لاکھ ایکڑفٹ پانی ذخیرہ ہوچکا ہے جس کا مطلب کے ڈیم 99.8فیصد پانی سے بھر چکا ہے۔ تربیلا ڈیم میں 1550فٹ پانی کی گنجائش ہے۔

    حکام کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کی آمد2 لاکھ40 ہزار کیوسک ہے۔ ڈیم سیفٹی کےلئے یومیہ ایک فٹ سے بھی زیادہ بھرنا خطرناک ہوگا۔حکام کے مطابق مطابق گندم کی بوائی کے لئے تربیلہ ڈیم کا اسٹورشدہ پانی نہایت مفید ہوگا۔

    دوسری جانب سیلاب سے تباہ حال بلوچستان پھر مشکلات میں مبتلا ہو گیا ہے، کوہلو میں طوفانی بارش کےباعث سیلابی صورتحال کے باعث کئی کچے مکانات گرگئے۔

    کوہلو-کوئٹہ قومی شاہراہ پر مختلف مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت متاثرہوگئی، طوفانی بارش اور سیلاب کے سبب جشن آزادی کی مرکزی تقریب ملتوی کردی گئی۔قلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے سے دو سو سے زائد مکانات متاثر ہوئے جبکہ بیشتر رابطہ سڑکیں اور پل بہہ گئے، تین روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔

    توبہ اچکزئی میں موسلادھاربارشوں کے بعد ریلے میں بہہ کر دو افراد جاں بحق، بارکھان، رکھنی، ڈیرہ بگٹی، شیرانی، دھانا سر، فورٹ منرو، کوہ سلیمان، زیارت، قلعہ سیف اللہ میں بھی موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    چمن کے بالائی علاقوں کوژک ٹاپ، شیلاباغ پر موسلادھار بارش، راجن پور شہراورگردونواح کے ساتھ کوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی کے باعث میدانی اور پچھاد کے علاقے پھر سے ڈوبنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

  • دادو اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    دادو اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی: صوبہ سندھ کے شہر دادو اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی۔تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے شہر دادو اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

     

    کراچی طوفانی بارشیں: مختلف حادثات میں 3 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی، اس کی زیر زمین گہرائی 88 کلو میٹر تھی جبکہ مرکز شمال مغرب سندھ بلوچستان بارڈر تھا۔زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں صوبائی دارالحکومت کراچی میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی تھی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ڈی ایچ اے کراچی سے 15 کلو میٹر شمال میں تھا۔

    یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے خاران میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ہے ، زلزلے کی گہرائی 40 کلو میٹر تھی۔ بلوچستان کے علاقے خاران میں جمعرات کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 3.9، گہرائی 40 کلو میٹر تھی ۔جس کا مرکز خاران سے 30 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب تھا۔جس کے بعد لوگ خوفزدہ ہوکر گھروں سے نکل آئیں۔ زلزلے سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے ۔

  • بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات

    بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات

    کوئٹہ:بلوچستان میں پھر موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری، حادثات میں مزید 6 اموات ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، طوفانی بارش نے ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں تباہی مچادی، اوتھل میں لُنڈا ندی میں قومی شاہراہ کا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، کوئٹہ سے کراچی جانے والا زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا، بارشوں اور سیلاب سے مزید 6 افرد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 182 ہوگئی۔

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لسبیلہ، بارکھان، دکی، زیارت، سنجاوی اور چمن میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں۔قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں طوفانی بارش کے باعث کئی علاقے زیرآب آگئے، آرگس گاؤں، سلطان آباد، جان آباد، شین خڑ کے علاقوں میں سیلابی پانی نے تباہی مچادی۔

    متاثرین کا شکوہ ہے کہ سیلاب نے پورے پورے گاؤں تباہ کردیئے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا گیا، حکومت متاثرین کی فوری مدد کرے۔اوتھل میں لنڈا ندی میں قومی شاہراہ کا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، سیلابی ریلے کے باعث قومی شاہراہ بند اور ٹریفک معطل ہوگئی۔

    کمشنر قلات داؤد خلجی کا کہنا ہے کہ لنڈا ندی پل سیلابی ریلے میں بہہ چکا ہے، عوام کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔

    دوسری طرف پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے 6 مزید افراد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 182 ہوگئی، 18 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) حکام کا کہنا ہے حالیہ بارشوں کے بعد مثاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔

  • بلوچستان میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی نئی رپورٹ جاری

    بلوچستان میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی نئی رپورٹ جاری

    بلوچستان کے محکمہ پی ڈی ایم اے نے صوبے میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات سے متعلق نئی رپورٹ جاری کردی-

    باغی ٹی وی : پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں بارشوں سے مزید جانی و مالی نقصان نہیں ہوا-

    کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    رپورٹ کے مطابق یکم جون سے 6 اگست تک بارشوں اور سیلابی ریلوں کے دوران مختلف حادثات میں 176 افراد جاں بحق ہوئے جاں بحق ہونے والوں میں 77 مرد 44 خواتین اور 55 بچے شامل ہیں، یہ اموات بولان، کوئٹہ، ژوب، دکی، خضدار ،کوہلو،کیچ، مستونگ، ہرنائی،قلعہ سیف اللہ اور سبی میں ہوئیں ۔

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بارشوں کے دوران حادثات کا شکار ہوکر 75 افراد زخمی ہوئے، بارشوں اور سیلاب کے باعث صوبے بھر میں 18 ہزار 87مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 670 کلو میٹر پر مشتمل مختلف 6 شاہرائیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    پی ڈی ایم اےکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث مختلف مقامات پر 16 پل ٹوٹ چکے ہیں اور 23 ہزار 13 مال مویشی مارے گئے ،مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصانات پہنچا ۔

    پنجاب، خیبرپختونخوا اورسندھ کےمختلف علاقوں میں آج بھی بار شوں کی پیشگوئی

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ 10 اگست سے 14 اگست تک گرج چمک کے ساتھ تیز بارشوں کا امکان ہے، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان کوہلو ،موسی خیل، شیرانی،سبی، ڈیرہ بگٹی، بولان اور قلات میں بھی سیلابی صورتحال ہو سکتی ہے اس کے علاوہ خضدار لسبیلہ آوران ،خاران ،تربت ،پنجگور ،ہرنائی اور سوراب میں بھی سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، لسبیلہ،سبی ،بولان ،کوہلو ،ہرنائی اور لورالائی میں بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی محکمہ موسمیات نے بدھ کو ژوب، بارکھان ،آواران،واشک،خاران، قلات، پنجگور، کیچ،خضدار اور لسبیلہ میں کہیں ہلکی اور کہیں بارش کی پیش گوئی کردی ۔

    بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ داخل ہونے کے بعد کوہلو ،ہرنائی ،بولان ،لسبیلہ ،خضدار ،لورالائی اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس سے ندی نالوں میں طغیانی رہی ، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    نواز شریف کی پاکستان واپسی کی تیاریاں شروع۔ مریم کو ذمہ داری دے دی گئی

  • لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اور صوبائی مشیر داخلہ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ

    لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اور صوبائی مشیر داخلہ کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ

    کوئٹہ:کورکمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اور صوبائی مشیر داخلہ نے آج سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا ہے۔اور صوبے میں امن اومان کی صورت حال کا جائزہ لیا

    سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اپنے دورے کے دوران لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے دسویں محرم الحرام کے لئے سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا اور موقع پرہدایات بھی جاری کیں ، جبکہ پولیس کے اعلیٰ حکام نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات اور تیاریوں کے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

    قطری شہزادے کے خط کے بعد برطانوی شہزادی کے خط کے چرچے

    سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں ہونے والی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبے بھر میں محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات کےلئے پولیس کے20ہزارسےزائد اہلکار تعینات کئےگئے ہیں تاہم ضرورت پڑنے پر پاک فوج اورایف سی کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔

    وزیراعظم کا قطری امیرکوٹیلی فون، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

    سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرمیں ہونے والی اس بریفنگ میں کورکمانڈرکوئٹہ کو بتایا گیا کہ صوبے کے حساس اضلاع میں سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی کئی ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے محرم الحرام کے جلوسوں کی براہ راست مانیٹرنگ کی جارہی ہے جبکہ جلوسوں کے روایتی راستوں اور مجالس کے مقامات کے آس پاس علاقوں میں واقع ہوٹلز وغیرہ پر کڑی نظر رکھی گئی ہے۔

    چیئرمین سعودی شوریٰ کونسل کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے اچانک ملاقات،بھارت پریشان

    اسکے علاوہ صوبائی سطح پر مرکزی کنٹرول روم کے علاوہ ڈویڑنل اور اضلاع کی سطح پر بھی کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز قائم کئے گئے ہیں۔

    اس موقع پرکورکمانڈرکوئٹہ کو بتایا گیاکہ دسویں محرم پر کوٹئہ میں 15 جلوس اور آٹھ مجالس منعقد ہونگے جن کی سکیورٹی کے لئے پولیس کے 5ہزار سے زائد اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایمرجنسی پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

    سنٹرل پولیس آفس میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرمیں ہونے والی اس بریفنگ میں کورکمانڈرکوئٹہ کو بتایا گیا کہ سیکورٹی کے حوالے سے تمام انتظامات کی مانیٹرنگ بھی جاری ہے،اس موقع پر کمانڈر 12 کور اور صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء نے محرم الحرام کے لئے سکیورٹی اور دیگر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی تعریف کی۔

    خیال رہے کہ آئی جی پولیس عبدالخالق شیخ ،ائی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    کراچی: کراچی میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے، جو 14 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے آج زیر یں سندھ میں چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کی طرف سے جاری پیغام کے بعد کراچی والوں پرایک مشکل وقت پھر جاری ہوگیا ہے

    محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ شہرقائد میں ٹمپریچر کے بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے بعد بارش کی توقع ہے اور پھر یہ سلسلہ ایک دو دن تک جاری رہ سکتا ہے ، محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ بلوچستان تک پھیلا ہوا ہے

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں اس وقت شدید حبس ہے جبکہ سمندری ہوائیں مکمل طور پر معطل ہیں اور ہوا میں نمی کا تناسب 90 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ شہر بھر میں بارش میں شدت 10 اگست تا 13 اگست کے دوران رہے گی جبکہ اس دوران سمندر میں طغیانی رہے گی۔

    سندھ
    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ دادو اور مورو کے درميان سیلابی پانی میں اضافے کے بعد دادو اور نوشہروفیروز کے اضلاع میں کچے کے کچھ دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ضلعی حکام کے مطابق دادوشہر کے گردونواح میں‌ 50 سے زائد دیہات پانی میں ڈوبے ہیں۔ دادو کے جو گاوں اس وقت زیرآب ہیں ان میں گاؤں گل محمد کوریجو، مبارک، نبن جتوئی، شیر محمد مستوئی، جب کہ ضلع نوشہرو فیروز کا گاؤں ولی داد بھٹو اور دیگر متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب کے باعث کپاس، پیاز، تل سمیت دیگر فصلیں اور سبزیاں بھی متاثر ہوئی ہیں،

    مون سون بارشیں، دریائے راوی اور چناب میں سیلابی الرٹ جاری

    بلوچستان

    اس کے علاوہ بلوچستان، پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش پیشن گوئی کی گئی تھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق 10 اگست سے 13 اگست تک مون سون اسپیل میں گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوں گی۔ جس سے دوبارہ سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا ڈر ہے

    بارشیں،سیلاب:بلوچستان میں آج بھی پاک فوج کی طرف سے ریلیف اور ریسکیوخدمات جاری

    اعلامیے کے مطابق مون سون بارشوں کا سلسلہ 10 اگست سے 13 اگست تک جاری رہے گا، گرج چمک کے ساتھ 16 اضلاع میں شدید بارشیں ہوں گی۔ پی ڈی ایم اے نے مراسلے میں ڈپٹی کمشنرز کو اہم مقامات پر بھاری مشینری کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی اور سبی کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔اس سے قبل جون سے شروع ہونیوالی مون سون بارشوں اور سیلابی صورت حال کے باعث اب تک بلوچستان میں 170 سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ہزاروں مکانات، فصلیں، پل اور سڑکیں بھی تباہ ہوچکی ہیں۔

    پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم مرطوب اور گرم رہنے کے علاوہ خطہ پوٹھوہار، سیالکوٹ، نارووال ،گوجرانوالہ، لاہور، و ہا ڑ ی، بہاولپور، ڈ یرہ غازی خان، ملتان اوررحیم یارخان میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔کشمیر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ گلگت بلتستان میں مطلع ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔

  • مستونگ:کرسچن کالونی میں فائرنگ،سابق ایم پی اےکےبڑے بھائی قتل

    مستونگ:کرسچن کالونی میں فائرنگ،سابق ایم پی اےکےبڑے بھائی قتل

    بلوچستان کے شہر مستونگ کی کرسچن کالونی میں گزشتہ رات نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے سابق ایم پی اے کے بڑے بھائی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

    ولسن مسیح کو مستونگ کے شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل اسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویش ناک حالت میں کوئٹہ منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج بروز منگل 9 اگست کو چل بسے۔ ان کی میت مستونگ منتقل کردی گئی ہے۔

    مقتول نیشنل پارٹی کے سابق ممبر بلوچستان اسمبلی شہید ہینڈری بلوچ کے بڑھے بھائی تھے۔ قبل ازیں پولیس کا کہنا تھا کہ کرسچن کالونی میں فائرنگ سے 3 بچے بھی زخمی ہوئے۔

    ادھرکوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ پشتون آباد چوک کے قریب پیش آیا جس کے باعث 2 افراد جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہو گئے۔

    ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے جاں بحق افراد کی شناخت محمد اور نجیب اللہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ فائرنگ سے زخمی 2 افراد کے نام حیدر علی اور عبدالرحمن ہیں۔ہسپتال ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ فائرنگ سے زخمی 2 افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوئی ہے۔

  • سانحہ سول ہسپتال کے شہید وکلا کا غم آج بھی تازہ ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    سانحہ سول ہسپتال کے شہید وکلا کا غم آج بھی تازہ ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ سانحہ سول ہسپتال کے شہید وکلا کا غم آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔

    سانحہ سول ہسپتال کے شہید وکلا کی چھٹی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ بزدل دہشت گردوں نے ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے اور باشعور طبقے کو بربریت کا نشانہ بنایا،

    وزیراعلئ نے کہا کہ ملک دشمنوں نے ہمارے دلوں پر وار کیا ،صوبے کے عوام اور حکومت شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، شہدا کا غم آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے،سانحہ میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا ہے،سانحہ میں ہم سے بچھڑنے والے شہید وکلا کی یادوں کو یقیناً کبھی بھلایا نہیں جاسکتا،

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وکلا کا شمار ملک کے بہترین وکلا میں ہوتا ہے ،ہمارے وکلاء شعبہ قانون اور قانونی امور سے متعلق بہتر آگاہی اور ادراک رکھتے ہیں ،نوجوان وکلا کو اسکالرشپ پر بیرون ممالک اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے۔

    وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے پاکستان بار کونسل ،بلوچستان بار کونسل اور تمام ضلعی بار ایسوسی ایشن کے لئے خصوصی گرانٹ ان ایڈ دی ہے،ہمارا مقصد وکلا کو بہترین سہولیات کی فراہمی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے امن ناگزیر ہے ،امن کے قیام سے معاشرے کے تمام طبقات بلاخوف وخطر اپنے شعبوں میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکیں گے۔