Baaghi TV

Tag: بلوچستان

  • بلوچستان:مقتولہ  بانو کے والد بھی گرفتار، جیل منتقل

    بلوچستان:مقتولہ بانو کے والد بھی گرفتار، جیل منتقل

    ڈیگاری کے علاقے میں غیرت کے نام پر مرد اور خاتون کے بہیمانہ قتل کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، مقتولہ کے والد گل جان کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں گرفتار قبائلی شخصیت سردار شیر باز ساتکزئی اور بشیر احمد اس وقت 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں، دونوں ملزمان سے تفتیش جاری ہے،اس واقعے میں مقتولہ بی بی بانو کے والد گل جان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جس کے بعد اب انہیں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    مقتولہ کی والدہ کو بھی سوشل میڈیا پر قتل کو جائز قرار دینے اور قبائلی سردار کو رہا کرنے کا بیان شیئر کرنے پر پولیس نے گرفتار کیا تھا، پولیس کی جانب سے مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہےانسانی حقوق کے کارکنان اور سوشل میڈیا صارفین نے اس افسوس ناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہےپولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ ہنہ اوڑک میں ایس ایچ او نوید اختر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا-

    اسحاق ڈار سےترک وزیر خارجہ کارابطہ، غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل کیسں میں نئےانکشافات

    راولپنڈی : غیرت کے نام پر قتل خاتون کی پولیس سکیورٹی میں قبر کشائی

  • بلوچستان میں دہرا قتل:مقتولہ بانو بی بی کی والدہ جیل منتقل

    بلوچستان میں دہرا قتل:مقتولہ بانو بی بی کی والدہ جیل منتقل

    بلوچستان میں دہرے قتل کے واقعے میں سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان شیئر کرنے پر مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ڈی این اے سیمپلنگ کا یہ عمل سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کی درخواست پر کیا گیابعدازاں، بانو بی بی کی والدہ کو دو روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے گل جان بی بی کو جیل بھیج دیا۔

    ڈیگاری میں قتل کی گئی بانو بی بی کی والدہ کو 2 دن کا پولیس ریمانڈ ختم ہونے کے بعد انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر ایک میں پیش کیا گیا،عدالت نے بانو بی بی کی والدہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    کچھ روز قبل مقتولہ بانو بی بی کی والدہ نے ویڈیو پیغام میں بانو بی بی کے قتل کو ’جائز‘ قرار دیتے ہوئے گرفتار مرکزی ملزم سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر کو بےگناہ قرار دیا تھا،سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان شیئر کرنے پر پولیس نے مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو حراست میں لے لیا گیا تھا، بعد ازاں انہیں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت ون میں پیش کیا گیا تھا،پولیس نے عدالت سے بانو بی بی کی والدہ کے 2 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر انسداد دہشتگردی کی عدالت نے بانو بی بی کی والدہ کو 2 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض نے تصدیق کی ہے کہ گل جان بی بی سے بال، خون اور حلق سے لعاب کے نمونے لیے گئے، جنہیں بعد ازاں سیل کر کے سیریس کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا۔ ان نمونوں کو اب ڈی این اے تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھجوایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 4 جون 2025 کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں دہرے قتل کا واقع پیش آیا تھا جس کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ کچھ مسلح افراد ایک مرد اور خاتون کو بے رحمانہ انداز سے گولیاں مار کر قتل کر دیتے ہیں۔وائرل ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ بظاہر ان پر پسند کی شادی کرنے کا الزام تھا۔

    تاہم، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا تھا کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے میں قتل ہونے والے افراد کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، دونوں پہلے سے شادی شدہ تھے اور ان کے بچے بھی ہیں۔

  • بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں  قتل کیے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں قتل کیے جانے کا انکشاف

    کوئٹہ:بلوچستان میں غیرت کے نام پر سینکڑوں مرد اور خواتین کو قتل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کےمطابق بلوچستان میں گزشتہ 6 برس کےدوران غیرت کےنام پر 232 افراد قتل کیے گئےغیرت کے نام پر قتل کی تفصیلات میں تنظیم کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نصیرآباد میں 73،جعفرآبادمیں 23مردوخواتین غیرت کے نام پر قتل کیے گئےعلاوہ ازیں مستونگ 18،ضلع کچھی میں 17افراد سیاہ کاری کی بھینٹ چڑھے جھل مگسی میں 18اور کوئٹہ میں 11مرد وخواتین کاروکاری کی نذر ہوئے جب کہ 2019 میں 52، 2020میں 51افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے۔

    وفاقی حکومت کی مہربانی سے سندھ میں بجلی نہیں ہے،شرجیل میمن

    اسی طرح سال 2021میں 24،22میں 28افراد،2023میں 24افراد غیر ت کے نام پر قتل کیے گئے ۔ سال 2024میں 33افرادکو سیاہ کاری کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارا گیا،رواں سال اب تک 33افراد غیرت کے نام قتل ہوئے جن میں 19خواتین اور 14مرد شامل ہیں ۔

    وزیراعظم کی ایف بی آر میں جدید اور عالمی معیار کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی تشکیل کی منظوری

  • بلوچستان دہرا قتل کیس: بانو  کو اپنی ”غلطی“ کا احساس ہوگیا تھا اور وہ خود اپنی جان لینا چاہتی تھی،بہن

    بلوچستان دہرا قتل کیس: بانو کو اپنی ”غلطی“ کا احساس ہوگیا تھا اور وہ خود اپنی جان لینا چاہتی تھی،بہن

    مقتولہ بانو بی بی کی بہن نے کہا ہے کہ بانو کو اپنی ”غلطی“ کا احساس ہوگیا تھا اور وہ خود اپنی جان لینا چاہتی تھیں، مگر اُنہیں اکسا کر بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔

    بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں پیش آنے والے دوہرے قتل کے واقعے میں مقتولہ بانو بی بی کے بچوں، بہن اور پھوپھی نے میڈیا پر کئی انکشافات کئے ہیں،مقتولہ بانو کے بڑے بیٹے نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اُن کی والدہ روئیں نہیں، نہ ہی خوفزدہ ہوئیں، بلکہ بڑی بہادری سے اپنی جان دی، والدہ نے جاتے ہوئے یہ وصیت کی تھی کہ ’اپنا اور والد کا خیال رکھنا۔‘6 سالہ چھوٹے بیٹے ذاکر احمد،نے کہا کہ ’امی حج کرنے گئی ہیں۔‘

    مقتولہ کی بہن اور پھوپھی کے مطابق بانو کو احساس ہوگیا تھا کہ ان سے غلطی ہوئی ہےوہ خاندان اور قبیلے کے سامنے شرمندہ تھی اور کہتی تھی کہ انہیں پستول دے دیا جائے، تاکہ وہ خود کو مار سکے، مگر احسان اللہ نامی شخص نے انہیں بھاگنے پر مجبور کیا،مقتولہ کی بڑی بہن نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا حقائق کے برعکس ”پسند کی شادی“ کا بیانیہ چلا رہا ہے، جو درست نہیں۔

    راولپنڈی: لڑکی کا جرگے کے فیصلے پر قتل،پولیس نے قبر کشائی کی اجازت طلب کر لی

    ادھر مقتولہ بانو بی بی، اُن کے شوہر نور محمد کے شناختی کارڈز اور بچوں کے ب فارم بھی سامنے آگئے ہیں۔ شناختی دستاویزات کے مطابق بانو بی بی کی عمر 40 سال اور ان کے شوہر نور محمد کی عمر 38 سال تھی۔ مقتولہ کے بچوں کے نام 15 سالہ نور احمد، 14 سالہ باسط خان، 10 سالہ بی بی فاطمہ، 7 سالہ بی بی صادقہ، اور 6 سالہ ذاکر احمد ہیں۔

    ویسٹ انڈیز کیخلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلئے قومی اسکواڈ کا اعلان

  • بلوچستان دہرا قتل کیس:مقتولہ کی ماں گرفتار

    بلوچستان دہرا قتل کیس:مقتولہ کی ماں گرفتار

    بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر مرد و خاتون کے قتل کے کیس میں مقتولہ بانو بی بی کی والدہ گل جان کو ایک ویڈیو بیان جاری کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گل جان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گل جان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں قتل کی حمایت کی اور گرفتار افراد کو بے گناہ قرار دیا پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بیان دہرے قتل کی حمایت اور انصاف کے عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے مترادف ہے۔

    ویڈیو بیان میں گل جان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیٹی بانو بی بی کو ایک لڑکے کے ساتھ تعلقات کی بنا پر بلوچ جرگے کے فیصلے کے تحت قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکا ٹک ٹاک ویڈیوز بناتا تھا جس سے ان کے بیٹے مشتعل ہوتے تھے گل جان نے کہا کہ بانو پانچ بچوں کی ماں تھی ہمارے لوگوں نے کوئی ناجائز فیصلہ نہیں کیا، یہ فیصلہ بلوچی رسم و رواج کے تحت کیا گیا تھا انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس فیصلے میں سردار شیر باز ساتکزئی کا کوئی کردار نہیں تھا اور جرگہ ان کے بغیر ہوا تھا۔

    گل جان نے ویڈیو میں اپیل کی کہ سردار شیر باز ساتکزئی سمیت گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

    دوسری جانب سردار شیر باز ساتکزئی نے گرفتاری سے قبل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اس الزام کی تردید کی تھی ان کا کہنا تھا کہ ان کی سربراہی میں کوئی جرگہ منعقد نہیں ہوا اور یہ فیصلہ گاؤں کے مقامی افراد نے خود کیا تھا دہرے قتل میں ملوث مرکزی ملزم جلال تاحال مفرور ہے اور اس کی تلاش جاری ہے، پولیس نے مقدمے کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جُڑے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جُڑے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشن (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مٹھی بھر دہشتگرد بلوچستان اور پاکستان کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کا راستہ نہیں روک سکتے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں طلبہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا دوران نشست لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آپریشن بنیان المرصوص میں پاک افواج کی حکمت عملی اور کامیابی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ معرکہ حق میں فتح میں عوام کی حمایت بالخصوص نوجوانوں کا کردار اہم رہا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جُڑے ہیں، مٹھی بھر دہشت گرد بلوچستان اور پاکستان کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کا راستہ نہیں روک سکتے-

    کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے آپریشن بنیان مرصوص کی تاریخی فتح پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا اور مزید ایسے انٹر ایکٹو سیشنز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل اضافہ،مودی حکومت خاموش تماشائی

    بابوسر ٹاپ :سیلابی ریلے میں بہنے والے 3 سالہ عبد الہادی کی لاش مل گئی

    سوات مدرسہ طالبعلم قتل:مقتول طالبعلم فرحان کے نانا کے دل سوز انکشافات

  • بلوچستان کے ضلع بولان میں دستی بم حملے میں ایک شخص ہلاک، تین زخمی

    بلوچستان کے ضلع بولان میں دستی بم حملے میں ایک شخص ہلاک، تین زخمی

    بلوچستان کے ضلع بولان میں مچھ کے نواحی گاؤں آب گم کی گلی میں دستی بم حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کچھی رانا محمد دلاور نے بتایا کہ دستی بم کے پھٹنے سے احمد نامی ایک شخص موقع پر ہلاک ہو گیا، جبکہ زخمیوں کو سول ہسپتال مچھ منتقل کیا گیا ہے۔رانا محمد دلاور نے کہا کہ حملے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید کارروائی شروع کر دی گئی ہے تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

    ایران نے آئی اے ای اے کی تکنیکی ٹیم کے دورے کی اجازت دے دی

    ایئر انڈیا حادثے میں برطانیہ کو غلط میتیں بھیجنے کا معاملہ، بھارتی وضاحت

  • بلوچستان میں جوڑے کاقتل: سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع،پاکستان علماء کونسل کا بھی موقف جاری

    بلوچستان میں جوڑے کاقتل: سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع،پاکستان علماء کونسل کا بھی موقف جاری

    کراچی:پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی خواتین اراکین نے سندھ اسمبلی میں بلوچستان میں جوڑے کے بہیمانے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد جمع کرادی۔

    بلوچستان میں جوڑے کے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ جاوید اور ہیر سوہو نے جمع کروائی،قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وحشیانہ عمل آئین پاکستان کے خلاف ہے اور مذکورہ قرارداد میں قتل کے عمل کو غیر اسلامی اور غیر ثقافتی قرار دیا گیا ہے۔

    اراکین صوبائی اسمبلی نے قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت قاتلوں کو جلد سے جلد گرفتار کرے،غیرت کے نام پر اس طرح کے واقعات کی اجازت نہیں دی جا سکتی سندھ اسمبلی کا ایوان بلوچستان میں ایک جوڑے کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتا ہے، وحشیانہ قتل اسلامی تعلیمات، بنیادی انسانی حقوق اور قانون کے خلاف ہے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام ملوث افراد کو جلد سزا دی جائے۔

    دوسری جانب پاکستان علماء کونسل نے بلوچستان میں قتل ہونے والی خاتون کے والدین کی طرف سے آنے والے بیان کو قرآن و سنت اور پاکستان کے آئین اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ قتل میں والدین کی مرضی شامل تھی۔

    بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آ گیا،ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل و سیکریٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا حافظ مقبول احمد ، علامہ طاہر الحسن، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا محمد اشفا ق پتافی، مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا مبشر رحیمی اور دیگر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ریاست پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومت بلوچستان، بلوچستان کی عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ قتل کرنے والوں کے سہولت کاروں کے خلاف ایکشن لیں۔

    بیان میں کہا گیاکہ والدین کا یہ بیان قرآن و سنت کے احکامات اور پاکستان کے آئین اور دستور کے خلاف ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے، شریعت اسلامیہ یہ حکم دیتی ہے کہ اگر کسی ظلم میں کوئی بھی قریبی عزیز بھی شامل ہو تو اس کو بھی سزا ملنی چاہیے والدین کے بیان میں یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ خاتون کے قتل میں والدین کی مرضی شامل تھی جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور اس حوالے سے مکمل تحقیقات اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ذمہ داری ریاست پاکستان کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں ہوگی،بلوچستان میں قتل مرد،عورت کے والدین بھی قاتلوں کو معاف کرنا چاہیں تو یہ کسی صورت جائز نہیں، شریعت بھی اس طرح کے قاتلوں کو معافی کا حق نہیں دیتی، عورت کے والدین کو بھی اس قتل ناحق میں مجرم تصور کرنا ہوگا۔

    والد نے چچی اور انکے بیٹے کو بچانے کیلئے سیلابی ریلے میں چھلانگ لگائی تھی،جاں بحق فہد کے بیٹے کا بیان

    واضح رہے کہ پاکستان علماء کونسل کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ مقتولہ کی والدہ نے اپنے جاری بیان میں کہا تھا یہ کوئی بے غیرتی نہیں تھی بلکہ بلوچ رسم و رواج کے مطابق کیا گیا بانو کو بلوچی رسم و رواج کے مطابق سزا دی گئی، بلوچی معاشرتی جرگے کے ذریعے بانو کو سزا دی گئی، ہمارے لوگوں نے کوئی ناجائز فیصلہ نہیں کیا، ہم نے لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ سردار شیر باز ساتکزئی کے ساتھ نہیں، بلکہ بلوچی جرگے میں کیا،میں اپیل کرتی ہوں کہ سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

  • بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آ گیا،ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

    بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آ گیا،ملزمان کی رہائی کا مطالبہ

    بلوچستان میں قتل ہونیوالی خاتون کی والدہ کا بیان سامنے آگیا جس نے کیس کا رخ ہی موڑ دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی والدہ نے کہا کہ میرا نام گل جان ہے اور میں بانو کی ماں ہوں، جھوٹ نہیں بول رہی ہوں، حقیقت یہ ہے کہ بانو پانچ بچوں کی ماں تھی، وہ کوئی بچی نہیں تھی اس کا بڑا بیٹا نور احمد ہے، جس کی عمر 18 سال ہے، دوسرا بیٹا واسط ہے، جو 16 سال کا ہےاس کے بعد اس کی بیٹی فاطمہ ہے، جو 12 سال کی ہے، پھر اس کی بیٹی صادقہ ہے، جو 9 سال کی ہے، اور سب سے چھوٹا بیٹا زاکر ہے جس کی عمر 6 سال ہے۔

    والدہ نے کہا کہ یہ کوئی بے غیرتی نہیں تھی بلکہ بلوچ رسم و رواج کے مطابق کیا گیا، بانو 25 دن احسان کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور وہ اس کے ساتھ رہ رہی تھی 25 دن بعد وہ واپس آ گئی تب بانو کے شوہر نے بچوں کی خاطر اسے معاف کر دیا اور اسے ساتھ رکھنے پر راضی ہو گیا، احسان اللہ آئے روز میرے بیٹوں کو دھمکیاں دیتا تھا، آئے روز ٹک ٹاک ویڈیوز بنا کر میرے بیٹوں کو طیش دلاتا تھا۔

    معاشی سطح پر حکومت پاکستان کی مکمل معاونت کریں گے،عالمی بینک

    والدہ نے مزید کہا کہبیٹی بانو کو بلوچی رسم و رواج کے مطابق سزا دی گئی، بلوچی معاشرتی جرگے کے ذریعے بانو کو سزا دی گئی، ہمارے لوگوں نے کوئی ناجائز فیصلہ نہیں کیا، ہم نے لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ سردار شیر باز ساتکزئی کے ساتھ نہیں، بلکہ بلوچی جرگے میں کیا،میں اپیل کرتی ہوں کہ سردار شیر باز ساتکزئی اور دیگر گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

    بلوچستان میں جوڑے کا قتل :ملزم سردار شیرباز ستکزئی کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    واضح رہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں عیدالاضحیٰ سے 3 روز قبل بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو بے دردری سے سرعام قتل کیا گیا تھا، واقعے کی ویڈیو 2 روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے پرپولیس حرکت میں آئی تھی۔

    واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایچ ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے مرکزی ملزم بشیر احمد اور ستکزئی قبیلے کے سربراہ سردار شیر باز ستکزئی، ان کے 4 بھائی اور 2 محافظوں سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا، واقعے میں مبینہ طور پر شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر، عجب خان، جان محمد، بشیر احمد اور دیگر 15 نامعلوم افراد شامل تھے، ان افراد نے خاتون اور مرد کو سردار شیر باز خان کے سامنے پیش کیا جہاں سردار نے کارو کاری کا فیصلہ سنایا اور دونوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، بعدازاں انہیں گاڑیوں میں لے جا کر کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ڈیگاری میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈیگاری میں قتل کیے گئے خاتون اور مرد کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا، دونوں شادی شدہ تھے اور دونوں کو 5،5 بچے تھے۔

  • بلوچستان میں جوڑے کا قتل :ملزم سردار شیرباز ستکزئی کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    بلوچستان میں جوڑے کا قتل :ملزم سردار شیرباز ستکزئی کا مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انسداد دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے خاتون اور مرد کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم سردار شیر باز ساتکزئی کا پولیس کی استدعا پر مزید 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

    کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی عدالت نمبر ایک میں خاتون اور مرد کے قتل کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر پولیس نے نامزد ملزم سردار شیر باز ستکزئی کو عدالت میں پیش کیا،عدالت نے پولیس کی استدعا پر مزید 10 روز کا ریمانڈ منظور کرتے ہوئے سردار شیر باز ستکزئی کو سیریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ کے حوالے کردیا۔

    واضح رہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں عیدالاضحیٰ سے 3 روز قبل بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو بے دردری سے سرعام قتل کیا گیا تھا، واقعے کی ویڈیو 2 روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے پرپولیس حرکت میں آئی تھی۔

    "کیا آج بریرہ آزاد ہے؟”تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    واقعے کا مقدمہ ہنہ اوڑک تھانے میں ایچ ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے مرکزی ملزم بشیر احمد اور ستکزئی قبیلے کے سربراہ سردار شیر باز ستکزئی، ان کے 4 بھائی اور 2 محافظوں سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔

    مدعی مقدمہ کے مطابق بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا، واقعے میں مبینہ طور پر شاہ وزیر، جلال، ٹکری منیر، بختیار، ملک امیر، عجب خان، جان محمد، بشیر احمد اور دیگر 15 نامعلوم افراد شامل تھے، ان افراد نے خاتون اور مرد کو سردار شیر باز خان کے سامنے پیش کیا جہاں سردار نے کارو کاری کا فیصلہ سنایا اور دونوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، بعدازاں انہیں گاڑیوں میں لے جا کر کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ڈیگاری میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

    کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں زنا کو سہولت دی جا رہی ہے؟مولانا فضل الرحمان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ڈیگاری میں قتل کیے گئے خاتون اور مرد کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں تھا، دونوں شادی شدہ تھے اور دونوں کو 5،5 بچے تھے۔