Baaghi TV

Tag: بھارت

  • پاکستان کی سفارت کاری تنہائی نہیں، امن کے فروغ پر مبنی ہے، حنا ربانی کھر

    پاکستان کی سفارت کاری تنہائی نہیں، امن کے فروغ پر مبنی ہے، حنا ربانی کھر

    سابق وزیر خارجہ اور پارلیمانی سفارتی وفد کی رکن حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری کا محور کسی ملک کو تنہا کرنا نہیں بلکہ امن کو فروغ دینا ہے۔

    نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ بھارتی وفد نے اقوام متحدہ سے کسی قسم کی مصروفیت نہیں رکھی، دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت، امریکا اور کینیڈا میں دہشت گردی جیسے واقعات میں ملوث ہے۔ نئی دہلی اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ بھی مل کر چلنے کو تیار نہیں، جس سے اس کے رویے کا عالمی سطح پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    حنا ربانی کھر نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ شفاف انداز میں سفارتی اقدامات کیے اور امن کی کوششوں میں پہل کی۔ انہوں نے کہا، "ہم نے نریندر مودی کا ماضی بھلا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی، مگر مودی کی زبان اب بھی دھمکی آمیز ہے، وہ کہتے ہیں روٹی کھاؤ یا گولی کھاؤ۔”

    ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام اور میڈیا واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پر تبصرے سے گریز کر رہے ہیں، جو عالمی سطح پر بھارت کے منفی کردار کو بے نقاب کر چکی ہے۔

    بھارتی میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب، جھوٹی خبریں، ویڈیو گیمز کی فوٹیج اور سنسنی خیزی کا انکشاف

    تمباکو سیکٹر سے 570 ارب روپے ٹیکس وصولی ممکن، غیر قانونی سگریٹ سب سے بڑی رکاوٹ

    پاک کالونی کراچی میں پولیس مقابلہ، لیاری گینگ وار کے 6 کارندے گرفتار

    امریکی سفارتخانے میں یوم آزادی کی تقریب،مولانا فضل الرحمان خصوصی توجہ کا مرکز،مبشر لقمان کی بھی شرکت

  • بھارت میں آر ایس ایس کی سکھوں کو دہشتگرد قرار دینے کی سازش بے نقاب

    بھارت میں آر ایس ایس کی سکھوں کو دہشتگرد قرار دینے کی سازش بے نقاب

    بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم کی سکھوں کو دہشت گرد قرار دینے کی سازش بے نقاب ہو گئی۔

    ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی جانب سے سکھوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوششوں کی اصل حقیقت سامنے آ گئی بھارتی سکھ نے ویڈیو میں آر ایس ایس کی سازش کا پردہ چاک کر دیا ویڈیو میں بھارتی سکھ نے بتایا کہ آپ کو جو دہشتگرد ’’سکھ‘‘نظر آ رہا ہے دراصل یہ آر ایس ایس کا تیار کردہ نقلی سکھ ہے میں پاکستانیوں اور مسلمانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ ایسا سکھ دیکھ کر سکھ نہیں سمجھ لینا۔

    بھارتی سکھ نے بتایا کہ درحقیقت یہ تیار کیے گئے نقلی سکھ ہیں آر ایس ایس بلوچستان کے لوگوں کو سامنے لا کر محض ڈراما بازی کر رہی ہے بلوچستان میں چھوٹے معصوم بچے مارے جاتے ہیں، آر ایس ایس تنظیم دہشتگردوں کو فنڈنگ کرتی ہے تا کہ پاکستان پر حملے کیے جائیں۔

    https://x.com/dtnoorkhan/status/1929839111596048504

    ویڈیو میں بھارتی سکھ نے کہا کہ شہری سر عام کہہ رہا ہے کہ دہشتگردی پھیلاؤ، مطلب بھارت دہشتگردی کو فروغ دیتا ہے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بھارت ایک دہشتگرد ملک ہے ، بھارتی سکھ کی گفتگو ثابت کرتی ہے کہ خطے میں دہشتگردی کا سہولت بھارت ہے۔

  • آپریشن سندور : لڑاکا طیاروں کے نقصانات کا اعتراف، مودی سرکار کا جھوٹ بے نقاب

    آپریشن سندور : لڑاکا طیاروں کے نقصانات کا اعتراف، مودی سرکار کا جھوٹ بے نقاب

    جنرل انیل چوہان کے اعتراف نے بھارتی دفاعی حکمت عملی کی ناکامی ظاہر کردی، آپریشن سندور میں لڑاکا طیاروں کے نقصانات کا اعتراف، مودی سرکار کا جھوٹ بے نقاب-

    بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے بھارتی فضائیہ کی ناکامی تسلیم کر لی بھارتی تجزیہ نگاروں نے سی ڈی ایس انیل چوہان پر شدید تنقید کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے نقصان کو چھپانے پر تشویش کا اظہار کیا، بھارتی میڈیا بھی سی ڈی ایس پر برس پڑا، آپریشن سندور کی حقیقت سامنے آنے پر ہلچل مچ گئی-

    بھارتی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ سی ڈی ایس کے متضاد بیانات نے نئے سوال کھڑے کر دیے،حیران کن بات یہ ہے کہ سی ڈی ایس کے مطابق ہمارے ایک سے زائد جہاز گرائے گئے، بھارتی فوج کے افسران کی جانب سے بار بار مخصوص زبان کا استعمال شکوک پیدا کر رہا ہے،پاک بھارت کشیدگی کے دوران مودی سرکار کی جانب سے جو ہوا اور جو کہا جا رہا ہے، ان دونوں میں فرق محسوس ہو رہا ہےسی ڈی ایس انیل چوہان نے وہی بات کہی جو دنیا سات اور آٹھ مئی کو جان چکی تھی-

    بھارتی معیشت کی حقیقت: مودی سرکار کے دعوے کھوکھلے ثابت

    بھارتی تجزیہ نگار نے سوال کیا کہ جب حقیقت سب کو معلوم تھی، تو بھارت اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟ انیل چوہان نے اہم نکتہ اٹھایا کہ بھارتی جہازوں کا گرنا مسئلہ نہیں ہے، گرنے کی وجہ تلاش کی جائے،سی ڈی ایس کا سچ بولنا قابلِ تحسین، مگر سر کار سے سوال تو اب بھی باقی ہیں، ڈی جی ایم اوز کا پریس کانفرنس میں تسلی بخش جواب نہ دینا ہی نقصانات کا اشارہ دے رہا تھا-

    مودی سرکار کی غفلت،چھتیس لاکھ سے زائد بھارتی عوام سیلاب سے متاثر

    بھارتی تجزیہ نگار نے کہا کہ ڈی جی ایئر کا نقصانات کے سوال پر یہ کہنا کہ ہم ابھی بھی حالت جنگ میں ہیں، بھارتی فضائیہ کے نقصا نات کا عندیہ تھا،سی ڈی ایس کی جانب سے پاکستان کی جوابی کاروائی میں حتمی تعداد کا بتائے بغیر بھارتی جیٹ گرنے کا اعتراف بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے،بین الاقوامی اخباروں میں چھپ رہی خبروں کے بیچ انٹرویو میں سی ڈی ایس کا اعتراف یہ سوا ل بھی پیدا کرتا ہے کہ مودی سرکار ہم سے کیا چھپا رہی ہے؟ –

    مودی کی ناکام معاشی پالیسیاں، بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

  • مودی کی ناکام معاشی پالیسیاں، بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

    مودی کی ناکام معاشی پالیسیاں، بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

    مودی سرکار کی ناکام معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی-

    جنتا دل (سیکولر) کے رکن ممبر گوڑا کمارا سوامی نے مودی کی انتہا پسند پالیسیز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ’’ٹیسلا بھارت میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور یہ منصوبہ ترک کر دیا‘‘ ہے-

    دی ہندو کے مطابق ٹیسلا کا بھارت میں مودی سرکار کی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے،بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو درپیش ٹیرف اور پیچیدہ قانونی ضوابط کی وجہ سے ٹیسلا نے فیکٹری لگانے سے گریز کیا،بھارت میں سرمایہ کاری کا ماحول متنازعہ ہو چکا ہے، بڑی عالمی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہی ہیں-

    سی ای او ائیر انڈیا کا پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے اخراجات بڑھنے کا اعتراف

    دی ہندو کے مطابق ٹیسلا کا یہ فیصلے نے مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، ٹیسلا جیسی بڑی کمپنی کے اس فیصلے سے بھارت میں روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں،مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار بھارت کا رخ کرنے سے گھبراتے ہیں،ٹیسلا جیسی بڑی کمپنی کا بھی بھارت میں سرمایہ کاری سے انکار مودی حکومت کی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دی جانے والی سہولیات پر عدم اعتماد ہے-

    بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے طیارے گرنے کے اعتراف پر ہندؤؤں کا ہنگامہ

  • پاکستان امن اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، دفتر خارجہ

    پاکستان امن اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات کو گہری تشویش کا باعث قرار دیا ہے-

    دفتر خارجہ نے بھارتی ریاست بہار میں بھارتی قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات اور بھارتی وزارت خارجہ کے 29 مئی 2025 کے بیان پہ ردعمل میں کہا کہ یہ بیانات ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو امن کی بجائے دشمنی کو ترجیح دیتی ہے، پاکستان کو علاقائی عدم استحکام کے منبع کے طور پر پیش کرنا حقیقت سے انحراف ہے، اور عالمی برادری بھارت کے جارحانہ رویے اور عزائم سے بخوبی واقف ہے۔

    اسرائیلی حریف کو ہرانے کے بعد آئرش فائٹر کا ’فلسطین آزاد کرو‘ کا نعرہ

    انہوں نے کہا کہ بھارت کھوکھلے بیانیے یا منفی پروپیگنڈے سے زمینی حقائق کو نہیں چھپا سکتاجموں و کشمیر کا تنازع اب بھی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، پاکستان کشمیرپر اپنے مؤقف پر ڈٹا رہے گا اور پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اس تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان امن اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔

    بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد کے دوروں پر دفتر خارجہ کا بیان

  • بھارت نے افغان شہریوں کیلئے  ایک نیا ویزا سسٹم متعارف کرا دیا

    بھارت نے افغان شہریوں کیلئے ایک نیا ویزا سسٹم متعارف کرا دیا

    افغانستان میں بدلتی سیاسی صورتِ حال اور پاکستان کے ساتھ بڑھتے تعلقات سے خائف بھارت نے افغان شہریوں کےلیے جاری ایمرجنسی ویزا کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے ایک نیا ویزا سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس نئے نظام کے تحت افغان باشندے اب چھ مخصوص اقسام کے ویزوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں بھارت نے 2021 میں اُس وقت ایمرجنسی ویزا متعارف کرایا تھا جب طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا تھا، اور ہزاروں افغان شہری ملک سے باہر نکلنے کی کوششوں میں مصروف تھے تاہم اب بھارت نے اس عارضی ویزا ماڈل کو ختم کرتے ہوئے ایک نیا مستقل نظام قائم کیا ہے۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے تصدیق کی کہ پرانے ای-ایمرجنسی ویزا کی جگہ جو نیا ماڈیول نافذ کیا گیا ہے، وہ طبی علاج، تعلیم، کاروبار، اقوام متحدہ کے سفارتی مشن، انٹری اور میڈیکل اٹینڈنٹ ویزا جیسی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہیرو نہیں کہا جاسکتا،رانا ثنا اللہ

    ماہرین اس فیصلے کو بھارت کی طرف سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو منظم کرنے کی نئی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض تجز یہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت یہ اقدام افغانستان میں اپنا سیاسی و معاشی اثر و رسوخ بحال کرنے کی نیت سے کر رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب پاکستان اور افغانستان خطے میں انسداد دہشتگردی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپناتے نظر آ رہے ہیں۔

    ایف بی آر کو ٹیکس وصولیوں میں بدترین شارٹ فال

    ادھر افغان وزارتِ اقتصادیات نے بھی اس نئے ویزا نظام کو مثبت قدم قرار دیا ہے معاون وزیرِ اقتصاد عبداللطیف نظری کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں، خصوصاً تاجروں، کو بھارت کےویزے کےحصول میں آسانی فراہم کرنا دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ د ے سکتا ہے، اس اقدام سے نئی دہلی اور کابل کے درمیان تعمیری روابط کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔

  • بھارت کی آبی جارحیت جاری، دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی

    بھارت کی آبی جارحیت جاری، دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی

    بھارت کی آبی جارحیت جاری ہے جس کے باعث دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی ہوئی ہے۔

    واپڈا ذرائع کے مطابق بھارت نے دریائے چناب میں پانی کی آمد بہت کم کردی ہے ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد37ہزار600کیوسک کم ہوگئی ہے جس کے بعد پانی کی آمد7 ہزار 200 کیوسک رہ گئی ہے گزشتہ روز دریائے چناب میں پانی کی آمد 44 ہزار 800کیوسک تھی۔

    پاک ایران باہمی تجارت 3 ارب ڈالر سے بڑھ گئی

    ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ: ارشد ندیم نے گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا

    عورت کی کمائی بے برکت کہنا سراسر بکواس ہے، ثمینہ پیرزادہ

  • تضحیک آمیز تبصرے، ٹرمپ  کا بھارت کے ساتھ  اعلان جنگ

    تضحیک آمیز تبصرے، ٹرمپ کا بھارت کے ساتھ اعلان جنگ

    امریکہ کا دورہ کرنے والے بھارتی رہنما کے تضحیک آمیز تبصروں کے بعد ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ جنگ ​​کا اعلان کر دیا-

    پاکستان سے شکست کے بعد مودی سرکار نے ہزیمت چھپانے کیلئےفواج کی جانب سے اپنے دفاع میں بھرپور جواب پر بھارت امریکا کے در پر پہنچ گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے سیزفائر ہوا توبھارت نے یوٹرن لے لیا، ارناب گوسوامی جیسے مودی حمایتیوں نے امریکی صدر پر تنقید شروع کردی۔

    بھارتی میڈیا نے خفت مٹانے کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دہشتگردوں کا سرپرست بھی کہنا شروع کر دیا،بھارتی میڈیا نے ٹرمپ کیخلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا آئی کیو لیول بھارت کے7 ویں جماعت کے بچے سے بھی کم ہے،جہاں ٹرمپ جیسے صدرہوں گے وہاں نائن الیون جیسا واقعہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔

    مودی سرکارنے جب پاکستانی مسلح افواج سے منہ کی کھائی تو امریکا سے مدد کی بھیک مانگی، جب سیز فائر طے پا گیا تو مودی سرکار نے یوٹرن لیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید شروع کردی۔

    سیالکوٹ: عیدالاضحی پر مثالی صفائی کے انتظامات، ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس

    آپریشن بنیان مرصوص میں جوابی حملے میں بھارت کے رافیل طیارے تباہ ہوئے، پاکستانی مسلح افواج کے حملوں سے شمالی بھارت کے70 فیصد علاقے کی بجلی بند ہو گئی پاکستانی فضائیہ نے بھارت کا مہنگا ترین ایس 400 دفاعی نظام تباہ کیا، بھارت کے سیزفائر کیلئے رابطے کے حوالے سے سی این این کے رپورٹر نک رابرٹسن نے بھی تصدیق کی۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کی خبر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری کی امریکی صدر کے ایکس اکاؤنٹ سے سیز فائر کی خبر نے بھارتی میڈیا ، سیاست دانوں اور عوام کو سیخ پا کردیا تھا۔

    بھارتی سیاست دان کا کہنا ہے کہ سیز فائرکی خبر اب امریکی دھرتی سے جاری کی جائے گی، امریکا کے دباؤ کے باعث بھارت سیزفائر کر رہا ہے۔ 78 برس سے ہمارا موقف رہا ہے کہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی آج ٹرمپ ٹوئٹ کرتا ہے اور سیزفائر ہوجاتا ہے، سیزفائر کیلئے کوئی نہ کوئی کردار ادا کرتا ہے مگرامریکا کی نے تجارتی دھمکیاں دیکر ایسا کرنا افسوسناک ہے۔

    عیدالاضحیٰ کی تعطیلات ، وفاقی بجٹ کی تاریخ میں پھر تبدیلی کا امکان

    بھارتی سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی میڈیا کے اینکرز بھی امریکی صدر ٹرمپ پر برس پڑے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھارتی میڈیا کے اینکرز نے بغیر نظریے کے رہنما قرار دیدیا بھارتی ٹی وی اینکر نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ کشمیر پر بات کرا دے گا توہم بتا دیں ہم اپنا معاملہ دیکھنا جانتے ہیں۔


    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اس دعوے کے ساتھ گردش کر رہا ہے کہ انہوں نے آپریشن سندور کے بعد امریکہ جاکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور ان وفود میں سے ایک کی قیادت کر رہے ہیں جو آپریشن سندور اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی لڑائی کے سلسلے میں آگاہ کرنے کے لئے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کریں گے۔ اس وفد نے اپنے دورے کا آغاز امریکہ سے کیا ہے اس کے بعد یہ وفد امریکی براعظم کے دیگر ممالک گیانا، پاناما، برازیل اور کولمبیا کا بھی دورہ کرے گا۔

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یومِ تکبیر کی پر وقار تقریب کا انعقاد

    وائرل ہونے والی ویڈیو تقریباً 1 منٹ 16 سیکنڈ لمبی ہے جس میں ششی تھرور نے سابق امریکی صدور بل کلنٹن، براک اوباما اور بش کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں میں کچھ خاصیت تھی جو اس آدمی میں کم نظر آتی ہے۔

    امریکہ کے نیویارک میں منعقد ہونے والے جے پور لٹریچر فیسٹیول 2024 کی ہے جس میں انڈیا ٹوڈے گروپ کے ارون پوری نے کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ ششی تھرور سے بات کی تھی اس دوران ارون پوری نے ان سے چند ماہ بعد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات 2024 اور بھارت پر اس کے اثرات سے متعلق سوالات بھی کئے تھے وہ اس وقت کی ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کملا ہیرس اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ششی تھرور کی رائے بھی جاننا چاہتے تھے۔

    ارون پوری نے ششی تھرور سے ڈونلڈ ٹرمپ کے سلسلے میں سوال پوچھتے ہوئے کہا تھا کہ “ٹرمپ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ ان کے لئے بہت زیادہ سفارتی ہوئے بغیر اپنے انداز میں ایک لفظ کہہ سکتے ہیں؟” اس پر ششی تھرور نے کہا تھا کہ میں “غیر مہذب” کہنے ہی والا تھا، لیکن سوچا کہ یہ قدرے بدتمیزی ہوگی۔ دیکھئے خاص طور پر جب میں بھارتی پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر متعارف ہوا تو ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم کسی دوسرے ممالک کے لیڈروں پر ان کی سرزمین پر تبصرہ کریں، لیکن یہ کہنے کے بعد یہ بھی سچ ہے کہ لوگوں کی اپنی سیاسی ترجیحات ہیں اور میری کوئی سیاسی ترجیحات نہیں ہیں کیونکہ میں یہاں ٹیکس ادا نہیں کرتا ہوں۔

    پاکستان یو این امن مشنز کیلئے فوجی تعاون کرنے والا سرکردہ ملک ہے، اسحاق ڈار

    ششی تھرور نے کہا کہ مجھے پرواہ نہیں کہ وہ کم ہیں یا زیادہ، میں یہاں امیگریشن نہیں ڈھونڈھ رہا ہوں یہاں تک کہ جب مجھے یہ کرنے کا حق تھا تب بھی میں نے ایسا نہیں کیا اس لئے امیگریشن کے بارے میں ان کا موقف مجھے پریشان نہیں کرتا یہ اور مسائل ہیں، اس ہال میں موجود ہر شخص کو پالیسی معاملات پر اپنی اپنی ترجیحات رکھنے کا حق ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ “لیکن ذاتی طور پر مجھے ان کا رویہ اتنا بہتر یا خوشگوار نہیں لگتا، جتنا کہ کسی امریکی سیاسی شخصیت دیکھنے کی توقع ہوتی ہے مجھے امریکہ میں قیام کے دوران چار یا پانچ امریکی صدور سے ملنے کی خوش نصیبی ملی ہے۔ میں نے بش، کلنٹن دونوں کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت کی اور اوباما کے ساتھ بہت مختصر گفتگو کی یہ تمام لوگ ایک خاص زمرے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک خاصیت رکھتے تھے یہ سیاست نہیں ہے، کیونکہ اس فہرست میں دو ریپبلکن اور دو ڈیموکریٹس تھے لیکن ان کا ایک خاص سیاسی وزن، سفارتی وقار اور فکری سطح تھی، جو مجھے اس شریف آدمی میں بہت کم نظر آتی ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے-

    تضحیک آمیز تبصروں کے بعد ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ جنگ ​​کا اعلان کر دیا،ٹرمپ نے ہندوستانی طلباء کے تمام ویزا بلاک کرنے کا حکم دیا ہے ہندوستان سے مینوفیکچرنگ کو ہٹانا اور ہندوستانی سے تعلق ر کھنے والے سی ای او کو امریکی کمپنیوں سے ہٹانا یہ تو ابھی شروعات ہے۔

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یومِ تکبیر کی پر وقار تقریب کا انعقاد

  • بھارت میں جوہری مواد کی چوری،دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی

    بھارت میں جوہری مواد کی چوری،دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی

    بھارت میں جوہری مواد کی چوری، اسمگلنگ اور تابکار حادثات کے تسلسل نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھارت کی جوہری تنصیبات اور مواد کی تیاری سے متعلق حفاظتی اقدامات میں مسلسل کوتاہیاں سامنے آ رہی ہیں، جو نہ صرف خود بھارت بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، سکیورٹی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بھارت میں ایٹمی مواد کی تیاری، تجربات اور ان کی نگرانی میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔

    ساؤتھ ایشیا اسٹریٹجک اسٹیبیلٹی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق 1994 سے 2021 کے دوران بھارت میں جوہری مواد کی چوری کے 18 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں چوری ہونے والے مواد کی مقدار 200 کلوگرام سے تجاوز کر گئی ہے ان واقعات میں شامل متعدد کیسز میں ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے یورینیم یا کیلیفورنیم جیسے خطرناک تابکار مادے برآمد ہوئے۔

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات

    نیوکلئیر تھریٹ انیشی ایٹو (NTI) کی 2024 کی رپورٹ بھی بھارت کی جوہری سلامتی کے نظام پر شدید سوالات اٹھاتی ہے اس رپور ٹ میں بھارت کو 22 ممالک کی فہرست میں 20 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جب کہ ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کے عالمی انڈیکس میں بھا رت 47 ممالک میں سے 40 ویں نمبر پر ہے صرف یہی نہیںNTI نے متعدد بار بھارت میں ممکنہ جوہری حادثات سے قبل خبردار بھی کیا، مگر حکومتی عدم توجہ نے ان خطرات کو حقیقت بنا دیا۔

    نومبر 1994 میں بھارت کے علاقے دومیاسیات سے 2.5 کلوگرام یورینیم اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی 1998 میں 100 کلوگرام سے زائد یورینیم اسمگل کرنے کی کوشش بھی ریکارڈ پر ہے اسی برس جولائی میں تامل ناڈو سے 8 کلوگرام، مئی 2000 میں ممبئی سے 8.3 کلوگرام اور اگست 2001 میں مغربی بنگال سے 200 گرام نیم تیار شدہ یورینیم برآمد ہوا۔

    برونائی کے سلطان کی آسیان اجلاس میں اچانک طبیعت خراب ، اسپتال منتقل

    2018 میں کولکتہ میں پانچ افراد کے قبضے سے 1 کلوگرام یورینیم برآمد ہوا مئی 2021 میں مہاراشٹرا سے 7 کلوگرام یورینیم اور جون 2021 میں جھارکھنڈ سے 6.4 کلوگرام یورینیم قبضے میں لیا گیا اسی سال کولکتہ ایئرپورٹ پر 250 گرام کیلیفورنیم بھی برآمد کیا گیا جو کہ شدید تابکار اور مہنگا مواد ہے۔

    جولائی 2024 میں بھارت کے حساس ترین ادارے، بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز سے تابکار آلہ چوری ہو ا اگست 2024 میں ایک اور تابکار مادہ، جو کیلیفورنیم سے مشابہہ تھا، قبضے میں لیا گیاان تمام واقعات نے عالمی اداروں اور ماہرین کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ بھارت کی جوہری سلامتی پر نظر ثانی کریں۔

    یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    ماہرین کے مطابق بھارت کی یہ کمزوریاں نہ صرف خود اس کے لیے خطرناک ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں جوہری تحفظ کے عالمی پروٹوکولز کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں تابکار مواد کی بار بار چوری اور اس کی اسمگلنگ کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت جوہری ہتھیار رکھنے کے باوجود بین الاقوامی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہا ہے۔

  • پی اے ایف کے 20 فیصد انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنیکا  بھارتی دعویٰ بے نقاب

    پی اے ایف کے 20 فیصد انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنیکا بھارتی دعویٰ بے نقاب

    بھارت کے انسٹی ٹیوٹ فار کونفلکٹ مینجمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اجے ساہنی نے بھارتی دعوؤں کی تردید کردی۔

    بھارتی صحافی سے گفتگو میں اجے ساہنی نے کہا کہ پاکستان ائیر فورس کے 20 فیصد انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرنے کا بھارتی میڈیا کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ نقصان 20 فیصد سے بہت کم ہے بھارتی حکومت میں عسکری معاملات میں سمجھنے والا کوئی بھی نہیں، بھارتی حکومت ہر کام کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کرتی ہے اور موجودہ صورت حال میں بھارت واضح طور پر ہار رہا ہے۔

    پہلگام فالس فلیگ کے بعد اب تک بھارتی عوام کے سوالات کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ مودی کی جانب سے ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

    بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ پہلگام سری نگر سے تقریباً 400 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور سری نگر سے پہلگام کے راستے میں 11 سکیورٹی چوکیاں قائم ہیں، سوال یہ ہے کہ حملہ آور اس قدر سیکیورٹی کو عبور کرکے کیسے پہلگام پہنچ گئے؟ ہر آنے جانے والے شخص کو مکمل طور پر چیک کیا جاتا ہے، بسوں کو بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سختی سے چیک کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود حملہ آور اس علاقے میں داخل ہونے میں کیسے کامیاب ہوگئے، حملہ آوروں نے کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کیا اور حملہ کیا۔

    شہری کا کہنا تھا کہ اگر حملہ آور واقعی بیرونی تھے تو بی ایس ایف کی اتنی چوکیاں عبور کیسے کیں؟ مودی کی جانب سے بغیر کسی تحقیقات کے فوراً پاکستان پر الزامات عائد کرنا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ پاکستان اور چین دونوں نے اس حملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن بھارتی حکومت نے فوری طور پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا،بھارت کے پاس حملے سے متعلق کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے، ثبوت تب ہوتا کہ بی ایس ایف والے اگر کسی کو پکڑ لیتے، ہر بار جو بھی حملہ آور آتے ہیں وہ فوجی وردی میں ہی کیوں آتے ہیں؟