Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں،ترجمان

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے مؤقف پر بدستور قائم ہے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد مما لک شامل تھے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام کے ساتھ بھی اہم رابطے ہوئے جن میں امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی مشیر سے ملاقات شامل ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا امریکی قیادت نے خطے میں امن کی کوششوں خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے،پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکر ات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقا ت اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا،جبکہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان منظم اور اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کا اہم پلیٹ فارم ہے۔

    ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات میں پیش رفت، تعاون کے فروغ اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہےاجلاس کے دوران خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بھی غور کیا گیا اس موقع پر متعدد علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔

    مشترکہ بیان میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ بیان میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقدس مقامات کی حیثیت متاثر کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی بیان میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا جس کا دارالحکومت القدس ہو، اور اس مؤقف کو بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے مطابق قرار دیا گیا۔

  • بلوچستان میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر فروخت ہونے لگا

    بلوچستان میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر فروخت ہونے لگا

    بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت شدت اختیار کر گئی، جس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ گئیں۔

    کوئٹہ میں پیٹرول اورڈیزل کی قلت کے باعث مختلف علاقوں میں ابھی بھی کچھ پیٹرول پمپس بند پڑے ہیں اور جوپیٹرول پمپوں کھلے ہیں ان پرشہریوں کارش بڑھ گیا ہے اور لمبی لمبی قطار یں نظر آرہی ہیں جس سے شہری ذہنی کو فت کا شکار ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں پیٹرول اور ڈیزل 500 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ کئی شہروں میں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متاثر ہو رہا ہے، جبکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر بھی منفی اثرا ت مرتب ہونے کا خدشہ ہےشہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خور ی کے خلاف فوری کارروائی کی جائے،دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں-

    صدرپیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن قیام الدین آغا کے مطابق شکار پور سے پیٹرول کی فراہمی میں اضافہ کردیا گیا ہے ایک دو روز میں صورتحال معمول پر آئے گی،جبکہ ڈی سی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ ایرانی پیٹرول کی سپلائی بند ہونے سے پیٹرول پمپس پر رش بڑھ گیا ہے ، آج کوئٹہ کے پیٹرول پمپوں پر 6 لاکھ لیٹر پیٹرول سپلائی کیا گیا ہے۔

  • امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے دونوں فریق 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

    امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہےدونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، حزب اللّٰہ کی جانب سے اسرائیل پر مکمل طور پر حملے بند کیے جائیں گے اور جنوبی لیطانی سیکٹر خالی کرنا ہو گا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ زونز بنائے جائیں گے جن پر لبنانی فوج کا کنٹرول ہو گا، غیر ریاستی عناصر وہاں داخل نہیں ہو سکیں گےاسرائیل اور لبنان نے عزم دہرایا کہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کیے جائیں گے اور جامع معاہدہ کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کے باعث 100 انڈیکس ایک بار پھر ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا۔

    کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا، 100 انڈیکس میں 1004 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعدانڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار 195 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا گزشتہ روز کاروباری دن کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار 191 کی سطح پر بند ہوا تھا۔

    دوسری جانب انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ برقرار ہے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں 2 پیسے کی کمی کے بعد ڈالر کی قیمت 278 روپے 43 پیسے ہو گئی ہے۔

  • بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بی ایل اے، القاعدہ اور طالبان کا گٹھ جوڑ،پاکستان کیخلاف خواتین کو دہشتگردی کی تربیت دیئے جانے کا انکشاف

    بلوچستان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ اب خواتین اور نوجوانوں کو منظم انداز میں انتہا پسند ی کی جانب راغب کر کے خودکش حملوں اور دیگر دہشتگرد سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا اشتراک دہشتگردوں کو لاجسٹک سہولتیں، تربیتی وسائل، مالی معاونت اور بھرتی کے وسیع نیٹ ورکس فراہم کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادیوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں حالیہ برسوں میں دہشتگرد تنظیموں نے معاشی مشکلات، سماجی کمزوریوں اور نفسیاتی عوامل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں اور خواتین کی بھرتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ان افراد کو نظریاتی طور پر تیار کرنے کے بعد خودکش حملوں، سہولت کاری اور تنظیمی نیٹ ورکس کو وسعت دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے سیکیورٹی اداروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں اور خواتین کو استعمال کرنے کی یہ حکمت عملی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

    مارچ 2026 میں سیکیورٹی اداروں نے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لائبہ عرف فرزانہ کے مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی تحقیقا ت کے مطابق لائبہ جولائی 2025 میں کالعدم بی ایل اے میں شامل ہوئی تھی اسے سابق ٹی ٹی پی کمانڈر ابراہیم عرف قاضی ماما کے نیٹ ورک کے ذر یعے انتہا پسند نظریات کی طرف مائل کیا گیا اور بعد ازاں بی ایل اے کے حوالے کر دیا گیا لائبہ کو نہ صرف ایک ممکنہ خودکش کارروائی کے لیے تیار کیا جا رہا تھا بلکہ اسے مالی طور پر کمزور نوجوان خواتین کو تنظیم میں شامل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کیس اس رجحان کی ایک اہم مثال ہے جس میں خواتین کو دہشت گرد نیٹ ورکس کی توسیع کے لیے فعال کردار دیا جا رہا ہے۔

    ایک اور کیس میں رحیمہ بی بی کے بیان نے دہشتگرد تنظیموں کے باہمی روابط کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے بیان کے مطابق اس کے شوہر نے زرینہ رفیق نامی ایک خاتون خودکش بمبار کی معاونت کی، جس کا تعلق کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) سے بتایا گیا حملے سے قبل زرینہ کو افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے عسکری تربیت فراہم کی گئی۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بی ایل اے کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کی ایک وجہ ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کے ساتھ مبینہ تعاون بھی قرار دیا جا رہا ہے ماہرین کے مطابق یہ گٹھ جوڑ دہشتگرد تنظیموں کو اسلحہ اور بارودی مواد تک رسائی، تربیتی سہولتیں، مالی معاونت، آپریشنل رہنمائی اور بھرتی کے مؤثر نیٹ ورکس فراہم کرتا ہے۔

    ان کے مطابق افغانستان کے راستے موجود سہولت کار مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطوں اور کارروائیوں میں معاونت کرتے ہیں، جس سے حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد نسبتاً آسان ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض سیکیورٹی ماہرین اس رجحان کو خطے میں دہشتگردی کی بدلتی ہوئی حکمت عملی کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔

    کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حملے نے ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس اب بھی ایک سنجیدہ خطرہ ہیں اس حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ قریبی گھروں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا سیکیورٹی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں مختلف نیٹ ورکس، سہولت کاروں اور معاون گروہوں کے ذریعے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث امن و امان کے قیام کی کوششوں کو مسلسل چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باوجود اب سب سے بڑا چیلنج صرف دہشتگرد حملوں کو روکنا نہیں بلکہ ان بھرتی نیٹ ورکس کو توڑنا بھی ہے جو نوجوانوں اور خواتین کو انتہا پسندی کی طرف لے جا رہے ہیں، آن لائن انتہا پسندی کا مقابلہ، نوجوانوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا، خواتین کو معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا، اور دہشت گرد بھرتی نیٹ ورکس کا خاتمہ انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی کے اہم ستون بن چکے ہیں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ سماجی، تعلیمی اور معاشی سطح پر بھی مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے منسلک عناصر کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دہشتگردی کے ایک نئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں خواتین اور نوجوانوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ لائبہ عرف فرزانہ اور رحیمہ بی بی جیسے کیسز اس بات کی مثال سمجھے جا رہے ہیں کہ کس طرح سرحد پار تربیتی نیٹ ورکس، مقامی سہولت کار اور انتہا پسند تنظیموں کے درمیان تعاون دہشتگردی کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ رجحان نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک پیچیدہ، کثیر جہتی اور طویل المدتی چیلنج بنتا جا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی، سماجی اور سیاسی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 5 نئے ممبران منتخب

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 5 نئے ممبران منتخب

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آسٹریا، کرغزستان، پرتگال، ٹرینیڈاڈ، ٹوباگو اور زمبابوے کو 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دو سالہ مدت کے لیے منتخب کرلیا ہے جس کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی جس نے ایک نشست کے لیے سخت لابنگ کی تھی، 104 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا جب کہ پرتگال کو 134 اور آسٹریا کو 131 ووٹ ملے،ایشیا پیسیفک گروپ کی نشست کے لیے فلپائن اور کرغزستان کے درمیان مقابلہ ووٹنگ کے چار راؤنڈ تک چلا، کرغز ستان نے بالآخر ضروری دو تہائی اکثریت حاصل کر لی اور سلامتی کونسل کی اپنی پہلی نشست 49 کے مقابلے 142 ووٹوں سے حاصل کر لی۔

    سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا واحد ادارہ ہے جو پابندیاں لگانے اور طاقت کے استعمال کی اجازت جیسے قانونی طور پر پابند فیصلے کر سکتا ہے، اس کے پانچ مستقل ویٹو والے ارکان ہیں، برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا،باقی 10 ممبران منتخب کیے جاتے ہیں جن میں ہر سال پانچ نئے ممبر شامل ہوتے ہیں۔

  • امریکی خفیہ ایجنسیوں  کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

    امریکی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

    امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جینس کمیونٹی کی سربراہ تنظیم آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جینس (او ڈی این آئی) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں-

    رائٹرز کے مطابق امریکی حکام اور معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ دونوں اداروں کے درمیان جھگڑا ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہے، جس سے قومی سلامتی کے اہم معاملات پر تعاون متاثر ہوا ہے یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ایران تنازع، چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور روس یوکرین جنگ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

    اختلافات کی بنیادی وجہ سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس تلسی گبارڈ کی جانب سے اپریل 2025 میں قائم کیا گیا ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ ہےسی آئی اے کا مؤقف ہے کہ یہ گروپ روایتی انٹیلی جینس شیئرنگ اور معلومات کو عام کرنے کے قواعد سے ہٹ کر کام کر رہا تھا، جبکہ او ڈی این آئی کا کہنا ہے کہ سی آئی اے انہیں ضروری معلومات تک رسائی نہیں دے رہی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق باہمی بداعتمادی کے نتیجے میں سی آئی اے نے نیشنل انٹیلیجینس کونسل (این آئی سی) کی بعض رپورٹس میں اپنا کردار نمایاں طور پر کم کر دیا ہے ایران سے متعلق وہ تجزیاتی رپورٹس بھی متاثر ہوئی ہیں جنہیں جنگی حالات میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

    اختلافات کا آغاز 2025 میں تلسی گبارڈ کے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ہوا، جب انہوں نے صدر کے روزانہ انٹیلی جینس بریف پر زیادہ کنٹرول حاصل کیابعد ازاں ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ کے قیام نے دونوں اداروں کے تعلقات مزید خراب کر دیے اس گروپ کا مقصد انٹیلی جینس اداروں میں مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کی تحقیقات، سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق دستاویزات کو منظرعام پر لانا، انتخابی ووٹنگ مشینوں کی سکیورٹی اور کووڈ-19 کی ابتدائی تحقیقات کرنا تھا،تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس گروپ کو سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا۔

    مئی 2025 میں تلسی گبارڈ نے نیشنل انٹیلی جینس کونسل کے دو سینئر سی آئی اے افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا، جبکہ اگست میں 37 موجودہ اور سابق حکام کی سکیورٹی کلیئرنس بھی منسوخ کر دی گئی تھی اس اقدام پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔

    گزشتہ ماہ یہ تنازع اس وقت عوامی سطح پر سامنے آیا جب ایک سی آئی اے افسر نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ سی آئی اے نے کووڈ-19 کی ابتدا سے متعلق معلومات تک گروپ کی رسائی محدود کر دی تھی اس معاملے پر انٹیلی جینس کمیونٹی کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

    دوسری جانب او ڈی این آئی اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اور پالیسی سازوں کو بدستور اعلیٰ معیار کی انٹیلی جینس اور تجزیاتی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی قومی سلامتی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے۔

  • ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور

    ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرار داد منظور

    امریکی ایوان نے جنگی اختیارات کی قرارداد منظور کرلی، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ فوجی کارروائی کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران جنگ میں اختیارات کم کرنے کی قرارداد منظور کرلی، قرار داد کے حق میں 215 نمائندگان نے ووٹ ڈالے،208ووٹ خلاف پڑے،4رپبلکن اراکین نے بھی قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالا، صدر ٹرمپ کو ایران سے امریکی فوجی واپس بلانے ہوں گے، جب تک کہ کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی کارروائی کی منظوری نہ دے۔

    ووٹنگ کے دوران چار ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعت کی قیادت کے برخلاف ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جبکہ کسی بھی ڈیموکریٹ نے قرارداد کی مخالفت نہیں کی، سات ارکان ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان میں مشی گن سے ٹام بیریٹ، اوہائیو سے وارن ڈیوڈسن، پنسلوانیا سے برائن فٹزپیٹرک اور کینٹکی سے تھامس میسی شامل ہیں اگرچہ اس قرارداد کی فوری قانونی حیثیت محدود ہے کیونکہ اسے مؤثر ہونے کے لیے سینیٹ سے بھی منظور ہونا ضروری ہے، تاہم یہ ووٹنگ صدر ٹرمپ کی ایران پالیسی کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے تحفظات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایوانِ نمائندگان میں اس نوعیت کی تین سابقہ قراردادیں ناکام ہو چکی تھیں، تاہم ان کی ناکامی کا فرق مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا گزشتہ ماہ ریپبلکن قیادت نے اس قرارداد پر ووٹنگ بھی مؤخر کر دی تھی کیونکہ اس کے منظور ہونے کے امکانات بڑھ گئے تھے۔

    دوسری جانب سینیٹ گزشتہ ماہ اسی نوعیت کی ایک الگ قرارداد کو ابتدائی مرحلے میں آگے بڑھا چکی ہے، حالانکہ اس سے قبل ایسی سات کوششیں ناکام رہی تھیں، تاہم اس قرارداد پر مزید ووٹنگ کا شیڈول تاحال جاری نہیں کیا گیا۔

    حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ اس سے پہلے بہت کم ریپبلکن ارکان ان کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے نظر آئے تھے اسی روز ایوانِ نمائندگان نے یوکرین سپورٹ ایکٹ پر ووٹنگ کی راہ بھی ہموار کر دی، جس کے تحت روسی حملے کے خلاف جنگ میں یوکرین کو مزید سکیورٹی امداد فراہم کی جائے گی اس اقدام کی حمایت میں چھ ریپبلکن اور ایک آزاد رکن نے بھی وو ٹ دیا۔

    ادھر بعض ریپبلکن قانون سازوں نے ٹرمپ کی جانب سے بل پلٹے کو قائم مقام ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مقرر کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ بل پلٹے رہن قرضوں کے شعبے سے وابستہ ریگولیٹر ہیں اور انہیں قومی سلامتی کے معاملات کا کوئی تجربہ حاصل نہیں۔

    ڈیموکریٹک ارکان کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے صدر ٹرمپ کو کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنی چاہیے کیونکہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف مقننہ کے پاس ہے ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ملک کو ایک طویل جنگ میں دھکیل سکتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق 28 فروری کو ایران پر مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد پٹرول، خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

  • مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    مستقبل میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات کا امکان ہے، صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل ہیں-

    صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ’پوڈ فورس ون‘ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایران پہلے ہی اس بات پر رضامندی ظاہر کر چکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، ایران کی اعلیٰ قیادت امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں کردار ادا کررہی ہے،امکان ہے کہ وہ کسی مرحلے پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پوڈ کاسٹ میں امریکی صدر نے لبنان کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اختلافات کا بھی اعتراف کیا انہوں نے کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں پر وہ خوش نہیں تھے اور اس حوالے سے ان کی نیتن یاہو کے ساتھ سخت گفتگو بھی ہوئی یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، لیکن لبنان کے ساتھ مسلسل لڑائی پر مجھے تشویش ضرور تھی۔” تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے کے باوجود ان کے اور اسرائیلی وز یر اعظم کے تعلقات بدستور اچھے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔

  • عامر خان کی تیسری شادی کی تاریخ سامنے آ گئی

    عامر خان کی تیسری شادی کی تاریخ سامنے آ گئی

    بالی ووڈ سُپر اسٹار عامر خان جلد اپنی قریبی ساتھی گوری سپراٹ کے ساتھ تیسری شادی کرنے جا رہے ہیں۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق عامر خان اور گوری گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور دونوں نے اپنی زندگی کو خوشگوار اور مستحکم انداز میں آگے بڑھایا ہے،جوڑا کافی عرصے سے ایک خاندان کی طرح زندگی گزار رہا ہے اور اب انہوں نے اپنے رشتے کو باضابطہ شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریب 5 جولائی کو منعقد ہوگی جس میں صرف قریبی رشتہ داروں اور خاندان کے افراد کو مدعو کیے جانے کا امکان ہے،تقریب عامر خان کی رہائش گاہ پر سادگی کے ساتھ منعقد کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ عامر خان ہمیشہ اپنی نجی زندگی کو میڈیا کی توجہ سے دور رکھنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں، اسی لیے اس موقع پر بھی وہ کسی بڑے یا شاندار عوامی ایونٹ کے بجائے محدود اور خاندانی تقریب کا انتخاب کر رہے ہیں۔