Baaghi TV

امریکی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

us

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور امریکی انٹیلی جینس کمیونٹی کی سربراہ تنظیم آفس آف ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جینس (او ڈی این آئی) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں-

رائٹرز کے مطابق امریکی حکام اور معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ دونوں اداروں کے درمیان جھگڑا ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہے، جس سے قومی سلامتی کے اہم معاملات پر تعاون متاثر ہوا ہے یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا ایران تنازع، چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں اور روس یوکرین جنگ جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

اختلافات کی بنیادی وجہ سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جینس تلسی گبارڈ کی جانب سے اپریل 2025 میں قائم کیا گیا ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ ہےسی آئی اے کا مؤقف ہے کہ یہ گروپ روایتی انٹیلی جینس شیئرنگ اور معلومات کو عام کرنے کے قواعد سے ہٹ کر کام کر رہا تھا، جبکہ او ڈی این آئی کا کہنا ہے کہ سی آئی اے انہیں ضروری معلومات تک رسائی نہیں دے رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق باہمی بداعتمادی کے نتیجے میں سی آئی اے نے نیشنل انٹیلیجینس کونسل (این آئی سی) کی بعض رپورٹس میں اپنا کردار نمایاں طور پر کم کر دیا ہے ایران سے متعلق وہ تجزیاتی رپورٹس بھی متاثر ہوئی ہیں جنہیں جنگی حالات میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اختلافات کا آغاز 2025 میں تلسی گبارڈ کے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ہوا، جب انہوں نے صدر کے روزانہ انٹیلی جینس بریف پر زیادہ کنٹرول حاصل کیابعد ازاں ڈائریکٹرز انیشی ایٹو گروپ کے قیام نے دونوں اداروں کے تعلقات مزید خراب کر دیے اس گروپ کا مقصد انٹیلی جینس اداروں میں مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کی تحقیقات، سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق دستاویزات کو منظرعام پر لانا، انتخابی ووٹنگ مشینوں کی سکیورٹی اور کووڈ-19 کی ابتدائی تحقیقات کرنا تھا،تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس گروپ کو سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا گیا۔

مئی 2025 میں تلسی گبارڈ نے نیشنل انٹیلی جینس کونسل کے دو سینئر سی آئی اے افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا، جبکہ اگست میں 37 موجودہ اور سابق حکام کی سکیورٹی کلیئرنس بھی منسوخ کر دی گئی تھی اس اقدام پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔

گزشتہ ماہ یہ تنازع اس وقت عوامی سطح پر سامنے آیا جب ایک سی آئی اے افسر نے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ سی آئی اے نے کووڈ-19 کی ابتدا سے متعلق معلومات تک گروپ کی رسائی محدود کر دی تھی اس معاملے پر انٹیلی جینس کمیونٹی کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

دوسری جانب او ڈی این آئی اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اور پالیسی سازوں کو بدستور اعلیٰ معیار کی انٹیلی جینس اور تجزیاتی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی قومی سلامتی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے۔

More posts