Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • آئندہ چند روز کے دوران بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    آئندہ چند روز کے دوران بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران بارشوں، تیز ہواؤں اور ژالہ باری کی پیشگوئی کی ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ 16 اپریل سے ملک میں داخل ہوگا، جس کے زیرِ اثر 16 سے 19 اپریل تک مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےخیبر پختونخوا میں اس دوران بارشوں کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں برفباری بھی متوقع ہے جب کہ 17 اور 18 اپریل کے دوران بلوچستان میں بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب میں 16 سے 18 اپریل کے دوران موسلا دھار بارش، آندھی اور ژالہ باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جب کہ سندھ میں گرد آلود ہوائیں چلنے کی توقع ہے اس کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 16 سے 19 اپریل کے دوران ہلکی بارش، تیز ہواؤں اور بلند پہاڑو ں پر برفباری کا امکان ہے، چند مقامات پر ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، تیز بارشوں کے باعث کمزور ڈھانچوں اور فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا بھی خطرہ ہے۔

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-

  • اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف امریکا میں بڑا احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار

    اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف امریکا میں بڑا احتجاج، درجنوں مظاہرین گرفتار

    امریکا کے شہر نیویارک میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور جاری جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کرگئے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل کر شدید نعرے بازی کی اور اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا مظاہرین نے امریکی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنگی اقدامات کی حمایت فوری طور پر بند کی جائے۔

    رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے امریکی سینیٹرز چک شومر اور کرسٹین کے دفاتر کے باہر دھرنا بھی دیا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ جنگ اور اس میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور اس حوالے سے عالمی سطح پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔

  • اسلام آباد مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف

    اسلام آباد مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف ہوا ہے۔

    سرینا ایم ڈی اور پرنس کریم آغا خان فاؤنڈیشن کے مطابق پرنس رحیم آغا خان نے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے خیر سگالی کے طور پر حکومت پاکستان کو مفت ہوٹل رہائش، کھانے پینے کی اشیاء اور تمام متعلقہ خدمات کی پیشکش کی۔

    سرینا ہوٹل کے ایم ڈی کے مطابق مرحوم پرنس کریم آغا خان کے بیٹے اور اسماعیلی جماعت کے موجودہ مذہبی پیشوا پرنس شاہ رحیم الحسینی جو کہ اسلام آباد میں قائم سرینا ہوٹل کے مالک ہیں، انہیں جب علم ہوا کہ پاکستان نے امریکہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں سرینا ہوٹل بک کیا ہے، تو انہوں نے حکومتِ پاکستان سے کہا کہ یہ ان کی طرف سے ایک نیک اور اچھا کام جو پاکستان کر رہا ہے اس کے لیے گفٹ ہے کہ ہم اس میزبانی پر پاکستان کی ریاست سے ایک پائی بھی چارج نہیں کریں گے، انہوں نے پاکستان کی گڈول پر خوش ہوکر پاکستانی عوام اور ریاست کو تحفہ دیا ہے۔

  • فضا علی کی شوہر کے ساتھ لائیو شو میں عجیب و غریب حرکتیں،حنا پرویز بٹ کا سخت ردعمل

    فضا علی کی شوہر کے ساتھ لائیو شو میں عجیب و غریب حرکتیں،حنا پرویز بٹ کا سخت ردعمل

    معروف ٹی وی میزبان اور اداکارہ فضا علی کی لائیو شو کے دوران شوہر کے ساتھ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین کیجانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لائیو شو کے دوران فضا علی کے شوہر انہیں کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اس منظر کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ براہِ راست نشریات میں اس نوعیت کا عمل ضابطہ اخلاق کے منافی ہے متعدد صارفین نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور مناسب کارروائی کرے۔

    جہاں صارفین نے وائرل ویڈیو پر فضا علی کو آڑے ہاتھوں لیا وہیں رہنما مسلم لیگ ن حنا پرویز بٹ نے بھی شدید ردعمل دیا ہے،ایکس پر حنا پرویز بٹ نے فضا علی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ٹی وی پر ایک خاتون اینکر اور ان کے شوہر نے اپنی بیٹی کے سامنے جس طرز عمل اور چھچھور پن کا اظہار کیا وہ افسوسناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسا طرزِ عمل نابالغ بچوں کے سامنے گھر میں دہرانا بھی غیر اخلاقی ہے کجا کہ اسے کروڑوں ناظرین کے سامنے ٹی وی پر دکھایا جائے، بڑوں کو اچھے اخلاق اور وضع داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ بچے اور نوجوان نسل کچھ بہتر سیکھ سکیں،غیر اخلاقی، بچکانہ اور چھچھوری حرکتوں سے ینگسٹرز کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ آج کل کی نوجوان نسل اخلاقی گراوٹ کی شکار کیوں ہو رہی ہے۔

    صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ پیمرا کو آشا جی کے انتقال پر جیو ٹی وی کی طرف سے آن ائر کیے پیکج پر اتنا دکھ اور افسوس ہوا ہے کہ نوٹس لے کر بلا لیا ہے کہ اتنی جرات ہماری سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ باقی ہمارے ملک میں مارننگ شوز جو کمال کرتے رہیں ان پر انہیں نہ اعتراض ہے کوئی ایشو۔ یہ سب اپنے جو ہوئے-

  • ایران  امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح انہیں ایران کی جانب سے درست اور مناسب لوگوں کی کال موصول ہوئی ہے، جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی نمائندے اس ڈیل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں ایران کی جانب سے رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےفاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہوئی ہےرپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی (moratorium) کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز جوابی پیشکش کرتے ہوئے اس مدت کو 20 سال کے بجائے 5 سال کرنے کی بات کی، تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی عمل جاری ہے، جس میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک صورتحال یہ تھی کہ امریکا کی جانب سے سخت مطالبات کیے جا رہے تھے جبکہ ایران ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر رہا تھا، تاہم اب حالات میں کچھ نرمی دکھائی دے رہی ہے ا مریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ان کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پر امریکی مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے وہ ہماری سمت میں آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایرانی مذاکرات کار غالباً کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار تھی۔

    جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو پسند کریں گے کہ ایران کو ایک عام ملک کی طرح برتا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک نارمل اقتصادی نظام کے تحت کام کرے، تاہم انہوں نے اس بات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے پر ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔

  • روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں، قالیباف کا پوپ لیو کو خراج تحسین

    روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں، قالیباف کا پوپ لیو کو خراج تحسین

    ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو خراج تحسین پیش کیا ہے-

    اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ وہ پوپ لیو کی جانب سے بے خوفی سے اپنے موقف پر قائم رہنے کے عمل کی تکریم کرتے ہیں،پوپ کی جا نب سے ادا کیے گئے یہ الفاظ کہ مجھے خوف نہیں، اسرائیل اور امریکا کے جنگی جرائم کی مذمت کے ساتھ یہ الفاظ گونج رہے ہیں پوپ لیو کا ’مجھے خوف نہیں‘ کہنا ایسا نعرہ ہے جو اس راستے کو روشن کرتا ہے جو بے گناہوں کے قتل عام پر خاموش رہنے سے انکار کرنیوالوں کا رستہ ہےپوپ کی قیادت کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہے، یہ روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں۔

    واضح رہے کہ پوپ لیو نے ایران امریکا جنگ بندی کی اپیل کی تھی جس کےبعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران جنگ سے متعلق پوپ لیو کے بیان پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

    اُنہوں نے لکھا ہے کہ پوپ لیو جرم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں خوفناک ہیں مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سمجھتا ہو کہ ایران کا جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے یا جو امریکا کے وینزویلا پر حملہ کرنے کو خوفناک عمل سمجھے، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں۔

    پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید کے باوجود جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گےمیں کسی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، تاہم جنگ کے خلاف کھل کر بولتا رہوں گا مسائل کے منصفانہ حل کے لیے امن، مکالمے اور ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا ضروری ہے دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ تکلیف میں ہیں اور بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی کھڑا ہو کر یہ کہے کہ مسائل کا بہتر حل بھی ممکن ہےپوپ لیو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔

  • سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    پی ٹی سی ایل نے ایکس پر جاری پیغام میں بتایا کہ مرمت کے اس عمل کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو شام کے اوقات میں سروس کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    یہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی تین زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کا انتظام کرتی ہے، جو پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے منسلک رکھتے ہیں ملک میں کام کرنے والے تمام چھ سب میرین کیبل سسٹمز، جن میں پی ٹی سی ایل کے تین، ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے دو اور سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل شامل ہے، کی مجموعی گنجائش 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے، جبکہ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال تقریباً 7 سے 8 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

  • پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہےکہ فریقین معاہدے کےلیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

    پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔

    علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے، اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

    اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے، جنگ دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور روس تصفیے میں مدد کےلیے تیار ہے۔

  • خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور دشمن کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ مزاحمتی قوتیں پورے خطے میں فعال اور منظم ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں امریکا اور اسرائیل کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر جیسے علاقوں میں مطلوبہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے اس بار بھی دشمن کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور خطے میں موجود مزاحمتی قوتیں ان کے عزائم کو ناکام بنا دیں گی۔

    دوسری جانب حالیہ پیش رفت میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا یا قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔