Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ملک میں  شدید گرمی اور پانی کی قلت کا خدشہ، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری

    ملک میں شدید گرمی اور پانی کی قلت کا خدشہ، محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشیں اور معمول سے زیادہ درجہ حرارت متوقع ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت، ہیٹ ویوز، پانی کی قلت اور زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک بھر میں اوسط 22.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے تقریباً 10 فیصد کم رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت 29.2 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو معمول سے 0.8 ڈگری زیادہ تھا پنجاب میں 29.7 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 19 فیصد زیاد ہ رہی، تاہم سند ھ میں صرف 0.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے 91 فیصد کم تھی بلوچستان میں بارشوں کی کمی 71 فیصد رہی جبکہ گلگت بلتستان میں بارشیں معمو ل سے 33 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئیں۔

    جون 2026 کے لیے جاری ماہانہ پیشگوئی کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول کے برابر یا معمول سے کچھ کم رہنے کا امکان ہےسب سے زیادہ کمی شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور خیبرپختونخوا کےبعض ملحقہ علاقوں میں متوقع ہے اس کے برعکس گلگت بلتستان اور بالائی خیبرپختونخوا میں معمول سے کچھ زیادہ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحرالکاہل میں ایل نینو کی صورتحال دوبارہ فعال ہو چکی ہے اور آئندہ مہینوں میں اس کے برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ بحر ہند کا ڈائپول فی الحال غیر جانبدار مرحلے میں ہے ان موسمی عوامل کے باعث بارشوں کی جغرافیائی تقسیم غیر متوازن رہ سکتی ہے جون کے دوران ملک بھر میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی توقع ہے گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبرپختونخوا میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا رجحان نمایاں ہو سکتا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت اور ہیٹ ویوز کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

    مارچ تا مئی 2026 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 148 ملی میٹر بارش ہوئی جو معمول سے 26 فیصد زیادہ رہی، جبکہ اوسط درجہ حرارت معمول سے ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ پنجاب میں اس عرصے کے دوران بارشیں 31 فیصد اور سندھ میں 106 فیصد زیادہ رہیں، تاہم آئندہ جون تا اگست کے عر صے میں صورتحال مختلف رہنے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق جون تا اگست 2026 کے دوران پنجاب، سندھ، زیریں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے شمالی علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان، شمالی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں بارشیں معمول کے برابر یا اس سے زیادہ رہ سکتی ہیں شمال مشرقی پنجاب میں بارشوں کی کمی سب سے زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے بارشوں میں کمی کے باعث خریف فصلوں کی بوائی اور ابتدائی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے جبکہ آبپاشی کے لیے پانی کی طلب میں اضافہ ہوگا۔

    دوسری جانب شمالی علاقوں میں زیادہ بارشیں، برف پگھلنے کے عمل میں تیزی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، جس سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات پیدا ہوں گے شدید گرمی، وقفے وقفے سے بارشوں اور نمی میں اضافے کے باعث ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں اسی طرح درجہ حرارت کے شدید فرق کے نتیجے میں گرد آلود آندھیاں، تیز ہوائیں اور ژالہ باری کے واقعات بھی فصلوں، باغات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

  • سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    ملک میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد فی تولہ سونا 8 ہزار 600 روپے سستا ہو گیا۔

    آل پاکستان صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت میں 8 ہزار 600 روپے کی کمی کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 67 ہزار 762 روپے ہو گئی ہےاسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 7 ہزار 373 روپے کم ہونے کے بعد 4 لاکھ ایک ہزار 30 روپے پر آ گئی ہےدوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا، جہاں سونا 86 ڈالر فی اونس سستا ہونے کے بعد 4 ہزار 454 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی اور سرمایہ کاروں کے رجحانات میں تبدیلی کے باعث مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخوں پر دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

  • سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت

    سندھ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت

    او جی ڈی سی نے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت کر لیا۔

    او جی ڈی سی کے ترجمان کے مطابق بوبی ڈیپ ون کنویں سے یومیہ 2 ہزار بیرل تیل اور 1.1 ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس کی پیداوار حاصل ہوئی ہے، نئی دریافت سے علاقے میں مزید تیل و گیس کی تلاش کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

    او جی ڈی سی کے مطابق نئی دریافت سے ملکی تیل و گیس کی پیداوار اور مجموعی ذخائر میں اضافہ ہوگا، اس دریافت سے ملکی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا،جبکہ نئی دریافت کے نتیجے میں ملکی درآمدی بل میں بھی خاطر خواہ کمی متوقع ہے۔

  • کویت پر ایرانی حملے، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی، ایئرپورٹ اور سفارتی عمارتوں کو نقصان،فضائی آپریشن مطل

    کویت پر ایرانی حملے، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی، ایئرپورٹ اور سفارتی عمارتوں کو نقصان،فضائی آپریشن مطل

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایران کی جانب سے کیے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد فضائی آپریشن معطل کر دیا گیا ہے حملوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ہوائی اڈے کی عمارت اور قریبی سفارتی دفاتر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    کویت کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک باضابطہ بیان جاری کیا ہے کویتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے ان ”وحشیانہ اور مسلسل ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت شہری اور اہم تنصیبات کو ایک بار پھر نشانہ بنانے کے نتیجے میں ایک فرد کی موت واقع ہوئی ہےاور کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں سفارتی مشنز سمیت اہم املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے ان بار بار کی ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے اقدامات کرنے کا اپنا مکمل اور موروثی حق محفوظ رکھتے ہیں-

    دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے پیچھے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کویت اور بحرین کو خطے میں ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی کے معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے کویت اور بحرین ان امریکی حملوں کی براہِ راست اور واضح ذمہ داری اٹھائیں کیونکہ ان دونوں ممالک کی سرزمین اور فوجی سہولیات کو ایران کے خلا ف امریکی فوجی آپریشنز کی مدد کے لیے استعمال کیا گیا ہے اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور مستقبل میں کسی بھی حملے کے مرکز کو نشانہ بنانے سمیت ہر دستیاب طریقہ استعمال کریں گے۔

  • سعودی عرب میں ایک صدی بعد پہلی مرتبہ جنگلی گدھے کی پیدائش

    سعودی عرب میں ایک صدی بعد پہلی مرتبہ جنگلی گدھے کی پیدائش

    سعودی عرب میں ایک صدی سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    سعودی ریزرو میں تقریباً 100 سال بعد انتہائی نایاب جانور اونیجر، گورخر یا ایشیائی جنگلی گدھے کی پہلی پیدائش ہوئی ہے۔ نایاب جانور کی پیدائش ایک صدی سے زائد عرصے سے جزیرہ نمائے عرب کے صحراؤں سے غائب ہو نے والی نسل کی واپسی ہے

    سعودی خبر رساں ادارے سعودی گزٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو میں 100 سال سے زائد عرصے بعد مملکت کی سرزمین پر ایشیائی جنگلی گدھے (اونیگر) کے پہلے بچے کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے، نایاب نسل سے تعلق رکھنے والے اس بچے کی پیدائش کا اعلان ایک سال بعد کیا گیا، کیونکہ جنگلی گدھوں کے لیے زندگی کا پہلا سال انتہائی نازک سمجھا جاتا ہے۔

    ریزرو انتظامیہ کے مطابق نر بچے کی پیدائش جون 2025 میں ہوئی تھی، تاہم اس کا اعلان اب کیا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنی زندگی کے ابتدائی 12 ماہ کامیا
    بی سے مکمل کر لیے ہیں جنگلی گدھوں کے بچوں کے لیے پہلا سال سب سے زیادہ نازک ہوتا ہے اور ان کی بقا کی شرح 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔

    یہ کامیابی جزیرہ نما عرب کی جنگلی حیات کی بحالی کے پروگرام کے تحت حاصل ہوئی، جس کا مقصد 23 مقامی انواع کو ان کے تاریخی قدرتی مساکن میں دوبارہ آباد کرنا ہے اس منصوبے کے تحت ایسے جانوروں کی واپسی ممکن بنائی جا رہی ہے جو کئی دہائیوں بلکہ بعض صورتوں میں ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے عرب کے صحراؤں سے غائب تھے۔

    ریزرو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو زالومیس کے مطابق یہ تاریخی پیش رفت اپریل 2024 میں اردن کے رائل سوسائٹی فار دی کنزرویشن آف نیچر کے ساتھ شراکت داری کے نتیجے میں ممکن ہوئی اس پروگرام کے تحت پانچ مادہ اور دو نر ایشیائی جنگلی گدھوں کو اردن کے شومری وائلڈ لائف ریزرو سے 935 کلو میٹر کا سفر طے کرا کے سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔

    منتقلی کے بعد ایک مادہ بچے کی پیدائش ہوئی، تاہم بعد میں دو پیدائشیں کامیاب نہ ہو سکیں، جس سے اس نایاب نسل کو دوبارہ آباد کرنے کے عمل میں درپیش چیلنجز کا اندازہ ہوتا ہے ماہرین کے مطابق تقریباً 11 ماہ کے حمل کے بعد پیدا ہونے والے بچے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پیدائش کے 15 سے 20 منٹ کے اندر کھڑا ہو سکے اور دودھ پینا شروع کر دے اس وقت ریزرو میں پانچ ماداؤں اور تین نر جانوروں پر مشتمل ایک ریوڑ موجود ہے، جو سعودی عرب میں اس نسل کا واحد گروپ ہے جبکہ رواں موسم سرما میں مزید دو بچوں کی پیدائش متوقع ہے، جو تحفظ کی جاری کوششوں کی کامیابی کا ایک اور ثبوت ہوگی۔

    بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظِ قدرت کے مطابق دنیا بھر میں جنگلوں میں اس نسل کے 600 سے بھی کم جانور باقی رہ گئے ہیں، ریزرو اس وقت جنگلی گد ھوں کے جینیاتی تنوع میں اضافے پر بھی کام کر رہا ہے اسی مقصد کے لیے اردن سے ایک نئی مادہ کو لایا جا رہا ہے جو قرنطینہ کی مدت مکمل کرنے کے بعد ریوڑ کا حصہ بنے گی منصوبے کے تحت افزائش نسل کے لیے دو الگ الگ ریوڑ قائم کیے جائیں گے تاکہ نسل کی طویل مدتی بقا، جینیاتی تنوع اور ماحو لیاتی تبدیلیوں سے مطابقت کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان شاہی ریزرو کا یہ منصوبہ سعودی عرب کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ، ماحولیاتی بحالی اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو بچانے کے لیے قومی اور علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کی  تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، تین روزہ تقریبات کا اعلان

    ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے تین روزہ سرکاری تقریبات کا اعلان کر دیا ہے۔

    ایران کی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ ذوالحج کے آخری ایام یا محرم الحرام کے آغاز میں ادا کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ تہران سمیت تین بڑے شہروں میں وسیع انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای کی تدفین کے سلسلے میں تین روزہ عوامی اور سرکاری تقریبات منعقد کی جائیں گی –

    تہران کی بلدیہ کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ الوداعی تقریبات اور نمازِ جنازہ کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں، نمازِ جنازہ اور دیگر تقریبات تہران، قم اور مشہد میں منعقد ہوں گی، تقریبات کے حتمی شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا، تاہم ان کے ذوالحج کے آخری دنوں یا محرم الحرام کے آغاز میں ہونے کا امکان ہے تہران میں الوداعی اور جنازے کی تقریبات کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، اسی پیش نظر شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے غیر معمولی انتظامات کر رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق مرحوم رہنما کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مشہد میں واقع امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی اس مقصد کے لیے مشہد میں بھی ملکی اور غیر ملکی زائرین کی آمد کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ان کی سرکاری تدفین کو غیر معمولی حالات اور سکیورٹی وجوہات کے باعث مؤخر کر دیا گیا تھا۔

  • ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایران نے امریکا سے تمام رابطے روک دیئے،ایرانی میڈیا

    ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو ”غلط اور بے بنیاد“ قرار دیا ہے-

    ایران کی خبر رساں ایجنسیوں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔

    ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے منگل کے روز ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا تہران نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں ”غلط اور گمراہ کن“ ہیں ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے، چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے،یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔“

    ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن میں کانگریس کی ایک سماعت کے دوران رابطوں کے تعطل سے متعلق رپورٹس پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا تاہم انہوں نے جوہری مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیش رفت کے امکانات موجود ہیں، اگرچہ اس بات کی کوئی ضما نت نہیں کہ فریقین ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو سب کے لیے قابل قبول ہو،مذاکرات جاری ہیں، لیکن کسی حتمی اور قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • امریکی یونیورسٹی کا اسرائیلی فوج کی تربیت کیلئے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف

    امریکی یونیورسٹی کا اسرائیلی فوج کی تربیت کیلئے لاشیں فروخت کرنے کا انکشاف

    امریکا کی معروف یونیورسٹی کی جانب سے مبینہ طور پر اسرائیلی فوج کی تربیت کے لیے امریکی بحریہ کو لاشیں فروخت کر نے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

    امریکی ریاست نیواڈا میں میڈیکل کیس مینیجر کے طور پر کام کرنے والی مریم وولپن کو یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا یعنی یو ایس سی کے ایک طالب علم صحافی کی طرف سے ایک ایسا پیغام ملا جس نے انہیں شدید پریشان کر دیا یہ طالب علم جینیفر نیہرر اس ٹیم کا حصہ تھیں جو اس سنگین الزام کی تحقیقات کر رہی تھی کہ سائنسی تحقیق اور تعلیم کے لیے یونیورسٹی کو عطیہ کیے جانے والے انسانی جسم مبینہ طور پر امریکی مسلح افواج کو فروخت کیے جا رہے ہیں، اور ان میں سے کچھ لاشیں اسرائیلی فوج کے سرجنوں کے پاس بھی پہنچائی گئی ہیں.

    مریم وولپن نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ یہ سن کر میرا دل بیٹھ گیا، میری 101 سالہ والدہ جینیٹ کا انتقال 2021 میں ہوا تھا، وہ دوسری جنگ عظیم میں فلائٹ نرس کے طور پر خدمات انجام دے چکی تھیں اور انہوں نے اپنی مرضی سے اپنا جسم یو ایس سی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اب مجھے یہ خوف ستا رہا ہے کہ کہیں میری والدہ کا جسم بھی غزہ کی جنگ جیسے تنازعات کے لیے فوجی ٹیموں کی جراحی کی تربیت میں تو استعمال نہیں ہوا.

    اس حوالے سے بنائی گئی دستاویزی فلم ’ڈائریکٹ فرام‘ میں ایسے کئی خاندانوں کو دکھایا گیا ہے جو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کے پیاروں کی باقیات فوجیوں کی تربیت کے لیے استعمال ہوئیں طالب علم صحافیوں کی اس ٹیم نے 2025 میں اس کہانی کو بے نقاب کیا تھا، اور ان کی رپورٹ کے مطابق یو ایس سی سدرن کیلیفورنیا کے ان دو اداروں میں سے ایک ہے جو امریکی بحریہ کو اسرائیلی سرجنوں کی تربیت کے لیے لاشیں فراہم کرتے رہے ہیں.

    الجزیرہ کے مطابق، سرکاری دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ 2018 سے اب تک یو ایس سی نے امریکی بحریہ اور اسرائیلی فوج کے مشترکہ تربیتی معاہدوں کے تحت کم از کم 90 کے قریب تازہ لاشیں فراہم کی ہیں اگرچہ اس اسرائیلی تربیتی پروگرام کی عوامی معلومات بہت محدود ہیں، لیکن 2020 میں یو ایس سی اور امریکی بحریہ کے انسٹرکٹرز کے لکھے گئے ایک طبی مقالے سے اس عمل کی اندرونی تفصیلات سامنے آتی ہیں.

    اس مقالے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ان سرجنوں کو جنگ میں جراحی کی مہارت کا چار روزہ کورس کرایا جاتا ہے جو بالکل فرنٹ لائن پر کام کرتے ہیں اس تربیت کے دوران عطیہ شدہ جسموں میں ایک خاص طریقے سے مصنوعی خون پمپ کیا جاتا ہے تاکہ وہ بالکل زندہ انسانوں کی طرح نظر آئیں اور میدان جنگ میں زخمی فوجیوں کی طرح ان کے جسم سے خون بہتا ہوا دکھائی دے.

    اس مقالے میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح ان لاشوں پر گولیوں کے زخم اور دھماکا خیز مواد سے لگنے والی چوٹوں کی نقل تیار کر کے فوجیوں کو تربیت دی جاتی ہےاس حساس معاملے پر جب یو ایس سی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، جبکہ امریکی بحریہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اس تربیت کے دوران تجربہ کار ٹراما سرجن جراحی کے آلات کی مدد سے پیچیدہ زخموں کے نمونے تیار کرتے ہیں تاکہ ایک انتہائی حقیقت پسندانہ تربیتی ماحول فراہم کیا جا سکے دوسری جانب کئی ماہر سرجنوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کا طریقہ کار عام تعلیمی پروگراموں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف انتہائی مخصوص فوجی تربیت کے لیے ہی ہوتا ہے.

    رپورٹ کے مطابق، وفاقی معاہدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ پچھلی ایک دہائی سے جاری ہے اور اسرائیلی فوجی ڈاکٹرز 2013 میں ہی اس تربیت کے لیے لاس اینجلس پہنچنا شروع ہو گئے تھےیو ایس سی نے اپنے ایک ای میل جواب میں اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ کوئی فوجی پروگرام ہے، بلکہ اسے ایک تعلیمی کورس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں شامل اسرائیلی طبی عملہ فوج سے تعلق نہیں رکھتا تھا.

    تاہم رپورٹ کے مطابق یو ایس سی کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو یعنی یو سی ایس ڈی کی مدد لینا پڑی، اور طلبہ کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ 2024 سے 2026 کے اوائل تک 124 لاشیں یو سی ایس ڈی سے یو ایس سی منتقل کی گئیں، یو سی ایس ڈی نے بھی اس با ت کی تردید کی ہے کہ یہ ملٹری ٹریننگ ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ لفظ اس کورس کی غلط عکاسی کرتا ہے.

    اس تنازع نے اب عطیہ دہندگان کے خاندانوں میں ایک شدید بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ عطیہ کے دستاویزات میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ ان کے پیاروں کے جسم امریکی یا غیر ملکی فوج کی تربیت کے لیے استعمال ہوں گے.

    یو ایس سی سے وابستہ ایک ڈاکٹر محمد رعد نے اس نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے لیے سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کیا مریض کو اس بات کا علم تھا، اور کیا وہ غیر ملکی فوجوں کے ساتھ اس طرح کے طریقہ کار کو جان کر کبھی اس کی اجازت دیتے؟

    اسی طرح جینیفر گومز، جن کی دادی نے 2012 میں اپنا جسم عطیہ کیا تھا، انہوں نے بھی سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے الجزیرہ سے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھاکہ ہم بین الاقوامی افواج کو اپنے خاندان کےجسموں پر تربیت کے لیے یہاں بلا رہے ہیں،خاص طور پر ان افواج کو جن پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں، میری دادی جیسے لوگ یہ سوچ کر جسم عطیہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے کچھ اچھا کر رہے ہیں، یہ سوچ کر نہیں کہ وہ کسی ملٹری فورس کو زیادہ طاقتور بنائیں گے.

    اس انکشاف کے بعد انگریزی کی پروفیسر ونڈی سمتھ نے بتایا کہ اب وہ اپنا جسم عطیہ کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں کیونکہ وہ کسی بھی طرح اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرنا چاہتیں، اور انہوں نے اور ان کے شوہر نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں.

    اس تمام صورتحال پر ریسرچ کے حامیوں کا اب بھی یہ ماننا ہے کہ طبی تعلیم کے لیے لاشوں کا عطیہ ضروری ہے، لیکن مریم وولپن جیسے لواحقین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اس معاملے میں شفافیت لانی چاہیے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے.

    طالب علم صحافیوں نے یونیورسٹیوں کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ کسی خاص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں، طالب علم صحافی ساشا ریو کا کہنا تھا کہ ہمارا واحد ایجنڈا صرف سچائی کو سامنے لانا تھا، جبکہ ان کے ساتھی تھامس مٹھی نے بتایا کہ جن خاندانوں سے انہوں نے بات کی ہے وہ اس صورتحال سے شدید صدمے میں ہیں.

    دستاویزی فلم کے سامنے آنے سے کچھ دیر پہلے، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ہیلتھ نے اپنے سوال و جواب کے صفحے پر یہ نئی معلومات شامل کی ہیں کہ عطیہ کردہ جسموں کو دوسری تنظیموں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے اور انہیں ملٹری میڈیکل عملے کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس پر لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ صرف قانونی کارروائی سے بچنے اور اپنے دفاع کی ایک کوشش ہےاس تمام احتجاج کے باوجود، امریکی بحریہ نے یو ایس سی کے ساتھ اس پروگرام کے معاہدوں کی 2029 تک تجدید کا ارادہ ظاہر کیا ہے.

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

    ٹرمپ انتظامیہ نے سرکردہ AI ڈویلپرز سے کہا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر سرکاری سائبرسیکیوریٹی ٹیسٹوں کے لیے اپنے انتہائی قابل ماڈلز کو عوام کے سامنے پیش کرنے سے پہلےوفاقی حکومت کو پیش کریں، ایک ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کیونکہ واشنگٹن میں طاقتور نئے AI سسٹمز جیسے کہ Anthropic’s Mythos پر سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی مکمل عوامی ریلیز سےپہلے وفاقی حکومت کو ان تک رسائی فراہم کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

    اس حکم نامے کے مطابق کمپنیوں کو رضاکارانہ بنیادوں پر ایک بینچ مارکنگ عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے ذریعے ماڈلز کی ’اعلیٰ سائبر صلاحیتوں‘ کا جائزہ لیا جائے گا،اور یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں ’کورڈ فرنٹیئر ماڈل‘ قرار دیا جانا چاہیے یا نہیں۔

    اس کے علاوہ کمپنیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی وسیع پیمانے پر ریلیز سے 30 روز قبل حکومت کو ان تک رسائی دیں حکم نامہ حکومت کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ ان ’قابلِ اعتماد شراکت داروں‘ کے انتخاب میں معاونت کرے جنہیں ابتدائی رسائی فراہم کی جائے گی اس شق کو اس طرح نہیں سمجھا جائے گا کہ حکومت مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز، بشمول فرنٹیئر ماڈلز، کی تیاری، اشاعت، اجرا یا تقسیم کے لیے لازمی لائسنسنگ، پیشگی منظوری یا اجازت نامے کا نظام نافذ کر رہی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ حکم نامہ نجی طور پر دستخط کیا، چند ہفتے قبل انہوں نے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک دستخطی تقریب ملتوی کر دی تھی اور صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں مجوزہ حکم نامے کے بعض پہلو پسند نہیں آئے تھے۔

    یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے پیر کے روز اے آئی کمپنی اینتھروپک نے اعلان کیا کہ اس نے ابتدائی عوامی حصص فروخت کے لیے خفیہ طور پر امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں درخواست جمع کرا دی ہے جبکہ اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی رواں سال ممکنہ شیئرز کی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے۔

    دوسری جانب ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس، جو ان کی اے آئی لیبارٹری اسپیس ایکس اے آئی کی مالک بھی ہے، ممکنہ طور پر ان دونوں کمپنیوں سے پہلے اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہو سکتی ہے اطلاعات کے مطابق اس کی مارکیٹ ویلیو ایک کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

    مصنوعی ذہانت کی بدولت غیرمعمولی ترقی حاصل کرنے والی ٹیکنالوجی صنعت نے وائٹ ہاؤس کی اے آئی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا ہےسرمایہ کار ڈیوڈ سیکس، جو ایلون مسک کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، رواں سال کے آغاز تک وائٹ ہاؤس کے پہلے ’کرپٹو اور اے آئی زار‘ کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکس، مسک اور مارک زکربرگ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ سے رابطہ کرکے ایک سابقہ اے آئی حکم نامے کی مخالفت کی تھی جس پر صدر دستخط کرنے والےتھےیہ نیا حکم نامہ اس وقت بھی سامنے آیا ہے جب اینتھروپک نے رواں سال کلاؤڈ مائتھوس پری ویو نامی ایک ایسا ماڈل متعارف کرایا جسے سافٹ ویئر میں کمزوریوں اور سیکیورٹی نقائص کی نشاندہی میں غیرمعمولی مہارت حاصل ہے۔

    کمپنی نے ابتدا میں اس ماڈل کو ’پروجیکٹ گلاس ونگ‘ نامی سائبر سیکیورٹی اقدام کے تحت محدود تعداد میں اداروں کو فراہم کیا تھا، جسے منگل کے روز مزید وسعت دی گئی مائتھوس کی رونمائی کے بعد اینتھروپک کے نمائندوں کی ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، جن میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ شامل ہیں، سے متعدد اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

    ٹرمپ کے حکم نامے میں مختلف سرکاری ہدایات اور رہنما اصول مرتب کرنے کے لیے کئی ٹائم فریمز دیے گئے ہیں۔ خصوصاً امریکی محکمہ دفاع کو اپنے معلوماتی نظاموں کے سائبر دفاع کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم محکمہ دفاع نے اینتھروپک کے جدید اے آئی ماڈلز سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے، مائتھوس کی ریلیز سے کچھ عرصہ قبل محکمہ نے کمپنی کو ’سپلائی چین رسک‘ قرار دیا تھا، اس درجہ بندی کے تحت اینتھروپک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ تصور کیا جاتا ہے اور دفاعی ٹھیکیداروں کو محکمہ دفاع کے ساتھ اپنے کام میں کمپنی کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے روکا جاتا ہے۔

  • وزیراعظم  نے نئے کاروباری اوقات کار کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کار کی منظوری دے دی

    وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔

    کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔

    نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تا کہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔