Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    قشم جزیرےپر امریکی حملے، پاسداران انقلاب کا بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا، آج صبح سویرے دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں –

    آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے،دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔

    امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی اہداف پر کامیاب میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئربیس اور وہاں موجود ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور انہوں نے ایک بحری جہاز کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے.

    ایران نے بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر اور ایئربیس کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ بھی کیا،ایرانی فورسز کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جزیرہ قشم میں ان کے کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا.

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے مکمل طور پر ناکام بنا دیے ہیں ایران نے دو میزائل کویت کی طرف داغے تھے جو راستے میں ہی گر گئے، جبکہ بحرین پر داغے گئے تین میزائلوں کو امریکا اور بحرین کی فورسز نے فضا میں ہی مار گرایا، ایران نے تین ڈرون حملے تجارتی بحری جہازوں پر بھی کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

    امریکی حکام نے اپنی کارروائی کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی جزیرے قشم پر جوابی حملے کیے ہیں جہاں امریکی فورسز نے ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے،یہ حملے ایران کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں.

    اس فضائی جھڑپ سے پہلے امریکا نے بوٹسوانا کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ آئل ٹینکر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب جا رہا تھا.

  • لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002 میں ہوئی تھی جب کہ 2005 میں طلاق ہوگئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ خاتون نے 2019 میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کرسکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے، کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جب کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا،لاہور ہائیکورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

  • حزب اللہ  اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان امریکی تجویز کے تحت جزوی جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔

    لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے رابطے کے بعد لبنانی حکام نے تصدیق کی کہ حزب اللہ نے امریکی تجویز قبول کر لی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کی سفیر ندا معوض کو بتایا کہ نیتن یاہو بھی اس منصوبے پر آمادہ ہیں۔

    واشنگٹن میں لبنانی سفارتخانے کے مطابق حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی جبکہ اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے بند کرے گا، منگل اور بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو پورے لبنان تک توسیع دینے پر بات چیت کی جائے گی، اس سے قبل اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہاتھا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہےاعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔

  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

    وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانےکا امکان ہےقومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

    دوسری جانب پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔

    پارلیمانی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔

  • بجلی فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    بجلی فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان

    ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔

    بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے،بجلی کی قیمت میں اضافے کی صورت میں اطلاق کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کے صارفین پر ہو گا۔

    سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

    حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔

    سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

  • سونے کی مقامی اور عالمی قیمتوں میں اضافہ

    سونے کی مقامی اور عالمی قیمتوں میں اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونا 3944 روپے مہنگا ہونے کے بعد 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے کا ہو گیا ہے، جبکہ فی تولہ سونے کی قیمت میں 4600 روپے کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سو نے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں سونا 46 ڈالر بڑھ کر 4540 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان کے باعث سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے مقامی مارکیٹ میں بھی اسی عالمی رجحان کے اثرات سامنے آ رہے ہیں سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان نے بھی سو نے کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

    تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد زیورات کی مارکیٹ میں بھی صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور خریداروں کی دلچسپی میں کمی دیکھی جا رہی ہےماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔

  • آج مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ  ملک میں داخل ہوگا

    آج مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہوگا

    پنجاب بھر میں آج سے 5 جون تک بیشتر اضلاع میں تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ آج ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے اثرات کے باعث پنجاب کے مختلف شہروں میں بارش متوقع ہے بعض مقامات پر موسلا دھار بارش اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہےبارشوں کے باعث گرمی کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے، تاہم چند علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش سے معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہےممکنہ خطرات کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے چترال، دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کے لیے الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

  • آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز سے نجات کیلئے آسان طریقے

    گرمیوں کا موسم آتے ہی آموں کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، لیکن اس بار آم ایک غیر متوقع مسئلے کی وجہ سے خبروں میں ہیں ماہرین کے مطابق فروٹ فلائیز (پھلوں پر حملہ کرنے والی چھوٹی مکھیاں) آموں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ برآمدات اور گھریلو صفائی دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحال ہی میں بھارت میں آموں کے سیزن کو اس وقت ایک بڑا جھٹکا لگا جب جاپان نے وہاں سے آموں کی درآمد پر عارضی پابندی لگا دی۔

    یہ فیصلہ بھارت میں آموں کی برآمد کے لیے منظور شدہ ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ (وی ایچ ٹی) مرکز کے معائنے کے دوران سامنے آنے والی تکنیکی اور حفظانِ صحت سے متعلق خامیوں کے بعد کیا گیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت میں پھلوں کو کیڑوں سے پاک کرنے والے مراکز کے طریقہ کار میں کچھ خامیاں پائی گئی ہیں، جس کی وجہ سے الفانسو، کیسر، لنگڑا اور بنگن پلی جیسی مشہور اقسام کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق جاپانی قرنطینہ حکام نے مارچ میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے رحمان پور میں واقع وی ایچ ٹی مرکز کا معائنہ کیا، جہاں دھونی کاری اور جراثیم کشی کے طریقۂ کار میں بعض خامیاں پائی گئیں دوطرفہ برآمدی معاہدے کے تحت جاپان بھیجے جانے والے تمام آموں کے لیے وی ایچ ٹی عمل سے گزرنا لازمی ہے تاکہ پھل کیڑوں اور فروٹ فلائی کے لاروؤں سے پاک ہو۔

    معائنے کے بعد جاپان کی یوکوہاما پلانٹ پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ 25 مارچ 2026 کے بعد جاری ہونے والے تصدیقی سرٹیفکیٹس کے حامل آموں کی کھیپ قبول نہیں کی جائے گی پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک جاپانی حکام مطمئن نہیں ہو جاتے کہ متعلقہ مرکز مطلوبہ عملی اور نباتاتی معیار پر پورا اترتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے مالی سال 25-2024 کے دوران قریباً 30 ہزار ٹن آم عالمی منڈیوں کو برآمد کیے، جن سے لگ بھگ 5 کروڑ 65 لاکھ ڈالر آمدنی حاصل ہوئی جاپان کو تازہ اور پراسیس شدہ آموں کی برآمدات کا حجم قریباً 15 لاکھ 40 ہزار ڈالر رہا، جس میں گجرات کے کیسر آم کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔

    واضح رہے کہ جاپان نے 1986 میں بھی فروٹ فلائی کے خدشات کے باعث بھارتی آموں پر پابندی عائد کی تھی طویل سائنسی جائزوں، نگرانی کے نظام اور وی ایچ ٹی سہولیات کی بہتری کے بعد 2006 میں بھارتی آموں کو دوبارہ جاپانی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی تھی۔

    موجودہ برآمدی انتظامات کے تحت بھارت کو الفانسو، کیسر، بنگان پلی، لنگڑا، چونسہ اور مالیکا سمیت 6 اقسام کے آم جاپان برآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے یہ آم آندھرا پردیش، مہاراشٹر، گجرات، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں قائم منظور شدہ مراکز سے برآمد کیے جاتے ہیں۔

    آموں کے موسم میں فروٹ فلائیز کیوں بڑھ جاتی ہیں؟

    ماہرین کے مطابق یہ چھوٹی مکھیاں صرف آموں کو ہی خراب نہیں کرتیں بلکہ ان کے ذریعے پوشیدہ انڈے ہمارے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں این ڈی ٹی وی کے مطابق اکلیولینڈ کلینک کی ایک رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ یہ مکھیاں میٹھے اور پکے ہوئے پھلوں کی خوشبو سے بہت تیزی سے راغب ہوتی ہیں ایک مادہ مکھی ایک وقت میں پانچ سو تک انڈے دے سکتی ہے گرمی اور حبس کے موسم میں یہ انڈے بہت تیزی سے بچے بنتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھر ان مکھیوں سے بھر جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق آم میں قدرتی شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور جب یہ زیادہ پک جاتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی خوشبو فروٹ فلائیز کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت پر رکھے گئے آم ان کے لیے بہترین افزائش گاہ بن سکتے ہیں،بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فرو ٹ فلائیز صرف پھلوں کے قریب رہتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان مکھیوں کی افزائش کے لیے کچن کی سنک، کچرے کے ڈبے اور گیلے کپڑے یا اسفنج سب سے بہترین جگہیں ثابت ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ مکھیاں گھروں کے گرم اور نمی والے ماحول جیسے کہ گٹر کے دہانے، کچرا تلف کرنے والی جگہوں اور ری سائیکلنگ کے ڈبوں میں بہت زیادہ پھلتی پھولتی ہیں، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مکھیاں کاٹتی نہیں ہیں اس لیے نقصان دہ نہیں ہیں، لیکن سائنسی تحقیق اس کے برعکس بتاتی ہے سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ فروٹ فلائیز مچھروں کی طرح کاٹتی نہیں، لیکن یہ جراثیم پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

    یہ مکھیاں گندی جگہوں، نالیوں اور خراب کھانے سے خطرناک جراثیم جیسے کہ ای کولائی اور سالمونیلا اپنے ساتھ لاتی ہیں اور جب یہ ہمارے تازہ کھانے پر بیٹھتی ہیں تو یہ جراثیم وہاں منتقل کر دیتی ہیں اس لیے یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کچن میں صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں یا اسفنج پر اگر تھوڑا سا بھی کھانا یا مائع رہ جائے تو یہ مکھیاں وہاں کھینچی چلی آتی ہیں، اس لیے صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔

    ان مکھیوں سے گھر پر نجات پانے کے لیے ماہرین نے کچھ بہت آسان طریقے بتائے ہیں۔ سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ آم، کیلے یا دیگر پھل جیسے ہی پک جائیں، انہیں باہر رکھنے کے بجائے فریج میں رکھ دیں کیونکہ ٹھنڈا درجہ حرارت ان مکھیوں کو دور رکھتا ہےپھلوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کریں جوس، شربت یا میٹھی اشیاء کے گرنے کی صورت میں فوراً صفائی کریں اس کے علاوہ کچن کو صاف ستھرا رکھنا، گندے برتن جلد دھونا اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانا بھی ضروری ہے۔

    اگر گھر میں فروٹ فلائیز کی تعداد بڑھ جائے تو سیب کے سرکے سے آسان جال تیار کیا جا سکتا ہے ایک چھوٹے پیالے یا بوتل میں سیب کا سرکہ ڈالیں اور اس میں برتن دھونے والے صابن کے چند قطرے ملا دیں۔

    اس پیالے کو پلاسٹک کی شیٹ سے ڈھانپ دیں اور اس میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیں ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کے سرکے کی میٹھی خوشبو ان مکھیوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور جیسے ہی وہ سوراخوں کے راستے اندر جاتی ہیں، صابن کے محلول میں پھنس جاتی ہیں یوں چند دنوں میں فروٹ فلائیز کی تعداد نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔

  • پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    پیرس اسلحہ نمائش: فرانس نے اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی

    فرانس نے پیرس میں ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی اسلحہ نمائش ’یورو ساٹوری‘ میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس کی حکومت نے باضابطہ طور پر اس فیصلے سے اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو آگاہ کر دیا ہے پابندی کے تحت اسرائیل کو اس نمائش میں اپنے دفاعی نظام اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ فرانس نے پیرس میں منعقد ہونے والی ایک بڑی بین الاقوامی اسلحہ نمائش میں اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسرائیلی کمپنیوں کی نمائش میں شرکت پر بھی مختلف پابندیاں نافذ کی ہیں۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے بعد ازاں اپنے بیان میں تصدیق کی کہ اسرائیلی کمپنیوں کو صرف فضائی دفاع اور میزائل دفاع سے متعلق سازوسامان اور ٹیکنالو جی کی نمائش کی اجازت ہوگی،تاہم وزارت نے اس فیصلے کی تفصیلات یا اس کے پس منظر سے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی۔

    فرانسیسی حکام نے اس رپورٹ پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا اسرائیلی سرکاری عہدیداروں کو نمائش میں شرکت سے مکمل طور پر روک دیا گیا ہے یا نہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے فرانسیسی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’باعثِ شرم فیصلہ‘ قرار دیا،کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی اور تجارتی مفادات سے متاثر دکھائی دیتا ہے اور اسرائیل کے لیے حیران کن نہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں فرانس کے رویے میں ایک ایسا رجحان نظر آتا ہے جو اسرائیل کے مطابق اسے تاریخ کے غلط رخ پر کھڑا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ فرانس اور اسرائیل کے تعلقات 2023 کے اواخر سے مسلسل تناؤ کا شکار ہیں، پیرس نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر متعدد بار تنقید کی ہے،اسی طرح رواں سال ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ سال فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے اس فیصلے پر بھی احتجاج کیا تھا جس میں فرانس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا فرانس نے گزشتہ سال بھی غزہ جنگ کے باعث اسرائیل کو یوروسیٹری دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا تھا۔

    یہ اسلحہ نمائش رواں ماہ کے آخر میں پیرس میں منعقد ہونا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی و سیکیورٹی نمائش تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اپنی دفاعی ٹیکنالوجی پیش کرتے ہیں اس سال دنیا کی سب سے بڑی دفاعی اور اسلحہ نمائشوں میں شمار ہونے والی یوروسیٹری میں 2,600 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے،یہ نمائش 15 جون سے پیرس میں شروع ہوگی۔

  • آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے نکالا اور جیلوں میں ڈالا گیا،نوازشریف

    گلگت:صدر مسلم لیگ ن نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارے علاوہ کسی جماعت نےگلگت بلتستان میں کام نہیں کیا، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا-

    گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتاہوں کہ گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا، ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔

    انہوں نے کہا میں وہ نوا زشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقیدکرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہےکہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو، گلگت ائیر پورٹ جو ہم بنا کر گئے تھے اسے کسی نے بڑا نہیں کیا، یہاں تو بوئنگ جیٹس آنے چاہیے تھے، شہباز شریف سے بات کر کے یہاں کے ائیر پورٹ کو بڑا کرنے کا کہوں گا، یہاں ہفتے میں 3 پروازیں آتی ہیں، 30 پروازیں ہونی چاہئیں، ہم نے 9 گھنٹے کے سفر کو تین گھنٹے تک پہنچایا۔

    صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا یہاں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، یہاں پانی موجود ہے، دھوپ ہے، یہاں تو توانائی کا مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے، یہاں سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، مجھے یہاں طویل لوڈشیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے، آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔

    صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ 2017 میں این ایف سی کے لیے کمیٹی بنائی تھی اور 2018 میں ہمیں فارغ کر دیاگیا، مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا،کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے

    انہوں نے کہا کہ یہاں کی حکومت نے کیوں یہاں بہت ساری چیزوں کو نظرانداز کیا، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی،لواری ٹنل 70 سال سے بند تھی، اربوں روپے خرچ کرکے اسے ہم نے پورا کیا، چاہتا ہوں یہاں کے لوگوں کا یہیں علاج ہونا چاہیے، کسی کو اسلام آباد یا دوسرے شہر جانا نہ پڑے-

    انہوں نے کہا کہ سیاحت سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا، میں سمجھتا ہوں یہاں کے لوگوں کو بھی گھر بنانے کے لیے قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کی آبادی تو بہت کم ہے، سب کو گھر مل جائیں گے، یہاں کے نوجوانوں کو بلاسود قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کے ہونہار بچوں کو اسکالر شپ اور لیپ ٹاپ بھی دیں گے، خواتین کی یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی،دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیا تھا، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔