Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • مولانا جلال الدین رومیؒ  کا یوم وفات

    مولانا جلال الدین رومیؒ کا یوم وفات

    محمد جلال الدین رومیؒ (پیدائش:1207ء میں پیدا ہوئے، مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز آپ کی معروف کتب ہے، آپ دنیا بھر میں اپنی لازاول تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔

    پیدائش اور نام و نسب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام محمد ابن محمد ابن حسین حسینی خطیبی بکری بلخی تھا۔ اور آپ جلال الدین، خداوندگار اور مولانا خداوندگار کے القاب سے نوازے گئے۔ لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ جواہر مضئیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے :

    محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی بکرن الصدیق۔ اس روایت سےحسین بلخی مولانا کے پردادا ہوتے ہیں لیکن سپہ سالار نے انہیں دادا لکھا ہے اور یہی روایت صحیح ہےکیونکہ وہ سلجوقی سلطان کے کہنے پر اناطولیہ چلے گئے تھے جو اس زمانے میں روم کہلاتا تھا۔ ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطن بلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 6 ربیع الاول 604ھ میں پیدا ہوئے۔

    ابتدائی تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاؤلدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید ب رہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علما میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

    علم و فضل
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا رومیؒ اپنے دور کے اکابر علما میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے۔ وہ تقریباً 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔

    اولاد
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا کے دو فرزند تھے، علاؤ الدین محمد، سلطان ولد۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے، خلف الرشید تھے، گو مولانا کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہو سکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے، جس میں مولانا کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا مولانا کی مختصر سوانح عمری ہے۔

    سلسلہ باطنی
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے فرقے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک، شام، مصر اور قسطنطنیہ میں اس فرقے کو لوگ مولویہ کہتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل بلقان، افریقہ اور ایشیا میں مولوی طریقت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی، مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتا کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے رقص شروع کرتا ہے۔ رقص میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت دف اور نے بھی بجاتے ہیں۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بقیہ زندگی وہیں گزار کر تقریباً 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کر گئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

    مثنوی رومی
    ۔۔۔۔۔۔
    ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب ’’فیہ مافیہ‘‘ بھی ہے۔

    ”باقی ایں گفتہ آید بے زباں
    در دل ہر کس کہ دارد نورِ جان

    ترجمہ: ’’جس شخص کی جان میں نورہوگا اس مثنوی کا بقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائے گا‘‘

    اقبال اور رومیؒ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے ادراک حقیقت کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہو جاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔ رومی نے جوہر عشق کی تعریف اور اس کی ماہیت کی طرف معنی خیز اشارے کیے ہیں۔ صوفی کی ذہنی تکمیل کا مقام کیا ہے اس کے متعلق دو شعر نہایت دل نشیں ہیں:

    آدمی دید است باقی پوست است
    دید آں باشد کہ دید دوست است
    جملہ تن را در گداز اندر بصر
    در نظر رو در نظر رو در نظر
    علامہ اقبال نے اس کی یوں تشریح کی ہے:
    خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
    ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

    رومی بین الاقوامی سال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو تمغا بھی جاری کیا۔

  • ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    لاہور کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ یہ شہر مغل عمارات کا ایک بڑا تاریخی ورثہ رکھتا ہے۔ ان میں قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور متعدد مقابر شامل ہیں۔

    لاہور شہر سے باہر مغلوں کے شاہی ذوق کی عکاسی کرنے والی ایک جگہ اور بھی ہے، جسے اس حوالے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، یہ ہےدریائے راوی کے کنارے وہ مقام جسے مغلیہ دَور میں دریا پار کرکے کشمیر یا کابل جانے یا قریبی شیخوپورہ میں ہرن کی شکار گاہ پہنچنے سے قبل سستانے کے مقام یا پڑاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    کسی زمانے میں یہ شاہدرہ سایہ دار گھنے درختوں اور سرسبز روشوں والا باغ، ”باغِ دل کشا“ تھا، جہاں شاہی ہاتھی، گھوڑے دکھائی دیتے اور شاہی خاندان کے افراد سیر کیا کرتے تھے۔ البتہ اب یہاں صرف تین مقابر باقی ہیں، جن میں سے دو مقبرے مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر اور آصف جاہ کے ہیں۔ پہلوئے شاہ میں تیسرا مقبرہ وہ ہے، جس کے لیے کبھی ساحر لدھیانوی نے لکھا تھا:

    پہلوئے شاہ میں دختر جمہور کی قبر
    کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
    کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
    کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے

    اداس فضاؤں میں اس ویراں اور خاموش مرقد میں مدفون ہستی جسے ساحر لدھیانوی نے ”دختر جمہور“ قرار دیا کوئی بے بس و لاچار خاتون نہیں بلکہ سلطنت مغلیہ کی اپنے وقت کی طاقتور ترین خاتون تھی، جس نے اپنی ذہانت اور ذکاوت سے مغل سلطنت پر کئی عشرے حکومت کی۔

    اس خاتون کی طاقت و اختیارات کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ یہ واحد خاتون تھی ،جن کے نام کا سکّہ مغلیہ دَور میں جاری ہوا اور شاہی مہر پر، جس کا نام کندہ تھا۔ یہ ملکہ ہندوستان نورجہاں کا مقبرہ ہے، جس کے بارے میں سٹینلے لین پول نے History of India میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”یہ ایرانی شہزادی، بادشاہ جہانگیر پر بے پناہ اثر انداز رہی، یہاں تک کہ جہانگیر کے ساتھ اس کا نام سکّوں پر جاری ہوابیشتر عہد جہانگیری میں اصل حکومت ملکہ نور جہاں کی رہی۔ اُس نے جہانگیر کے دل پر ہی نہیں بلکہ اصل تاج و تخت پر بھی حکومت کی اور جہانگیر کی سیاسی و سماجی زندگی پر اثر انداز رہی۔

    قندھار میں پیدا ہونے والی ایرانی النسل مہر النسا، جسے شہنشاہ جہانگیر نے شادی کے بعد ”نورِ محل“ اور پھر ” نورِجہاں“ کا خطاب دیا ملکہ ہندوستان بنی اور مغل سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ لاہور ہی وہ شہر ہے ،جہاں مہر النسا اور جہانگیر کی شادی ہوئی، یہیں ملکہ نے اپنے شوہر کا مقبرہ تعمیر کروایا، قریبی باغات بنوائے، قلعہ لاہور میں اضافے کیے اور زنانہ کوارٹرز تعمیر کروائے۔ نورجہاں دَورِ مغلیہ کی واحد ملکہ تھی ،جس نے اپنی بیشتر زندگی لاہور میں گزاری ،جب کہ باقی تمام زیادہ تر مغل دارالسلطنت آگرہ اور دہلی میں مقیم رہیں۔

    مہر النساکے دادا ایرانی شاہ کے دربار میں ملازم تھے جب کہ اس کے والد غیاث بیگ، مغل بادشاہ اکبر کے دَور میں ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور شاہی دربار میں ملازمت اختیار کی۔ یہاں میں مہر النسا کی شادی ترک النسل علی قلی بیگ سے انجام پائی، جسے بعد ازاں شیر افگن کا خطاب دے کر بنگال میں جاگیردار تعینات کر دیا گیا۔ گورنر بنگال اور جہانگیر کے رضاعی بھائی قطب الدین کو ایک تنازع میں شیر افگن کے ہاتھوں قتل ہوئے، جس کے نتیجے میں گورنر کے محافظوں نے شیر افگن کو ہلاک کر دیا۔

    مہر النسا اور اس کی بیٹی کو آگرہ کے شاہی حرم میں بھجوا دیا گیا، جہاں وہ مغل شہنشاہ اکبر کی بیوہ رقیہ سلطان بیگم (جو مرزا ہندال کی بیٹی تھی) کی خدمت پر مامور ہوئیں۔ یہیں نو روز کے تہوار پر مہر النسا کا سامنا بادشاہ جہانگیر سے ہوا اور بادشاہ نے اس 35 سالہ حسین، برجستہ گو اور ذہین بیوہ سے شادی کر لی جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

    رفتہ رفتہ جہانگیر کو ملکہ نورجہاں پر اس قدر بھروسہ ہو گیا کہ وہ حکومتی معاملات میں اس سے مشورہ لینے لگا جو سیاست، معیشت، ثقافت اور انتظام میں مہارت رکھتی تھی۔ وہ جہانگیر کی بیسویں، مگر سب سے محبوب اور پسندیدہ بیوی تھی۔ وہ غیر معمولی قابلیت، ذہانت اور حوصلے کے ساتھ سیاسی اختیارات کو استعمال کرتی رہی۔ اختیارات حاصل کرنے کے بعد اُس نے ایران سے ذہین سپاہی، علما اور شعرا ہندوستان بلوائے، جنہوں نے انتظامیہ اور مغل سلطنت کی ثقافتی زندگی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہی کے باعث ملکہ کا دربار میں اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا۔

    ملکہ نور جہاں کے والد غیاث بیگ اور بھائی عبدالحسن آصف خان کو دربار میں اہم عہدے دیے گئے جنہیں بالترتیب اعتماد لدولہ اور آصف جاہ کے خطابات سے نوازا گیا۔ نورجہاں کا خاندان اُس دَور کا طاقت ور ترین خاندان تھا۔ اعتماد الدولہ، جہانگیر کا وزیراعظم اور آرمی چیف بنا۔ آصف جاہ کو دربار میں اس وقت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گئےجب ملکہ نے اپنی بھانجی ارجمند بانو بیگم (ممتاز محل) کی شادی اپنے سوتیلے بیٹے خرم سےکروا دی بعد ازاں ملکہ نورجہاں نے اپنےپہلے شوہرکی بیٹی، جس کا نام لاڈلی بیگم تھا،کی شادی جہانگیر کے چوتھے بیٹے شہریار سے کروا دی۔ یوں مستقبل میں دونوں شہزادوں خرم اور شہریار میں سے جو بھی شہنشائے ہند بنتا ملکہ نورجہاں کو مزید اگلی ایک نسل تک طاقت و اختیارات حاصل رہتے۔

    شہنشاہ جہانگیر کے بڑے بیٹے خسرو نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی تو بادشاہ نے اسے اندھا کروا دیا تھا۔ خسرو کی مدد کرنے کے جرم میں مہرالنسا کے ایک بھائی کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ جہانگیر کا دوسرا بیٹا پرویز مے نوشی کا عادی تھا۔ جہانگیر کی ناسازی طبیعت اور بڑھاپے کے باعث ہندوستان پر عملاً مرزا غیاث، نورِجہاں، آصف جاہ اور شہزادہ خرم کی حکومت تھی۔

    شہنشاہ جہانگیر تمام حکومتی اور محلاتی معاملات میں ملکہ نورجہاں پر بھروسا کرتا تھا، ملکہ دربار میں بادشاہ کے ساتھ موجود رہتی اور اسے جہانگیر کی طرف سے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ شہزادہ خرم کی من مانی کی عادات کے باعث ملکہ اپنے داماد شہریار کو شہزادہ خرم پر فوقیت دینے لگی، جس پر خرم، ملکہ سے برافروختہ ہوگیا۔ خرم کے ملکہ کے احکامات ماننے سے انکار پر ہی قندھار سے بھی ہاتھ دھونے پڑے کہ اُس نے نورجہاں کے احکامات کے برعکس قندھار جانے سے انکار کردیا تھا۔

    خرم کو شبہ تھا کہ اُس کی غیر موجودگی میں شہریار کو ولی عہد بنا دیا جائے گا یا ہو سکتا تھا کہ وہ میدانِ جنگ میں مارا جائے۔ اسی کے باعث، شہزادہ خرم نے جنگ لڑنے اور قندھار جانے کی بجائے باپ کے خلاف بغاوت کر دی اور قندھار پر ایرانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس بغاوت کے وقت جہانگیر، کشمیر کے راستے میں تھا کہ شہزادہ خرم نے اُسے گرفتار کروا لیا۔ ملکہ نور جہاں نے مداخلت کی اور مذاکرات کے ذریعے جہانگیر کو رِہا کروایا۔ اس کشمکش میں فتح خرم کی ہوئی ،جسے بغاوت میں مغل افواج کے جرنیل مہابت خان نے بھی مدد دی تھی جو ایک عورت یعنی ملکہ نورجہاں کے اقتدار اور درباری سیاست سے متنفر تھا۔

    اس واقعے کے بعد جہانگیر ایک برس ہی زندہ رہا اور کشمیر سے واپسی پر راستے میں وفات پائی۔ جہانگیر کو لاہور میں ملکہ نورجہاں کے ملکیتی وسیع و عریض باغ، باغِ دل کشا میں دفن کیا گیا۔شہنشاہ کی وفات کے بعد شہریار اپنی سوتیلی والدہ اور ساس ملکہ نورجہاں کی مدد سے تخت پر قابض ہو گیا۔ لیکن ملکہ نورجہاں کی ذہانت بھی اس کا اقتدار بچا نہ پائی، کیوںکہ اس موقع پر آصف جاہ نے بہن کی بجائے داماد کی حمایت کی۔ آصف جاہ کی افواج قلعہ کے اندر داخل ہو گئی اور اس جنگ میں شہریار مارا گیا۔

    آصف جاہ کی فتح کے بعد شہزادہ خرم، ”شاہ جہاں“ کے لقب سے لاہور میں تخت نشیں ہوا۔ شاہ جہاں نے اپنے سارے بھائیوں کو آصف جاہ کے ذریعے قتل اور ملکہ نورجہاں کو ایک طرح سے نظربند کروا دیا۔ البتہ شاہی دربار کی مداخلت سے ملکہ کو رِہا کیا گیا اور اس کا سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔

    شہنشاؤں کی طرح ملکہ پر بھی اقربا پروری، بداعمالی، بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے، درباری سازشیں بھی اس سے منسوب کی گئیں لیکن اس کے باوجود مغل دربار کو جو کچھ ملکہ نورجہاں نے دیا۔مثلاََکھانے، طرزِ لباس، طرزِ زندگی، تہذیب…. وہ سب بے مثل ہے۔

    ملکہ نورجہاں مغل خواتین سے مختلف تھیں۔ وہ شاعرہ، زیورات اور لباس کی ڈیزائنر اور آرٹ سے شغف رکھنے والی ایک غیرمعمولی عورت جو عمر بھر تعمیرات و فنون کی سرپرستی کرتی رہیں۔ وہ جہانگیری عہد کی کئی فنی، تعمیری اور ثقافتی کامیابیوں کی تنہا ذمے دار تھیں۔ اس کی ڈیزائن کردہ تعمیرات میں کشمیر و آگرہ کے باغات، باغ ِدل کشا، اپنے والد اعتماد الدولہ، بادشاہ جہانگیر اور اپنے مقبرے شامل ہیں۔

    اعتماد الدولہ کا مقبرہ مغلیہ عہد کی تعمیرات میں ایسی پہلی مثال ہے جس میں سفید سنگمرمر اور قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس سے قبل مغل عمارات میں سنگ سرخ کا استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ شہنشاہ ہمایوں اور جلال الدین اکبر کے مقبروں میں دکھائی دیتا ہے، بعد میں شاہ جہاں نے اسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آگرہ میں اپنی محبوب ملکہ اور ملکہ نورجہاں کی بھانجی ارجمند بانو (ممتازمحل) کا مقبرہ، تاج محل تعمیر کروایا۔

    ملکہ کے بنوائے گئے باغات میں سے کچھ سرکاری شاہی تقریبات کے لیے مخصوص تھے، جب کہ دیگر عوام کے استعمال میں بھی آتے تھے۔ زنانہ حرم پر بھی ملکہ کا ہی حکم چلتا تھا، جس میں بیگمات، کنیزیں، بچے، خدّام، غلام، خواتین محافظات، خواجہ سرا وغیرہ شامل تھے۔ وہ زنانہ حرم کی زیبائش و آرائش کے ذوق، فیشن، زیورات،کھانوں پر اثر انداز رہی۔ نئی خوشبویات میں تجربات کیے گئے۔ نورجہاں ہی نے گلاب کا عطر ایجاد کیا۔\”چاندنی\” ملکہ نورجہاں کی اختراع ہے۔ دوسرے ممالک سے زیورات، ریشم، پورسلین درآمد کیے گئے۔

    ملکہ نورجہاں نے ہی خواتین کے لباس کو برصغیر کے گرم موسم سے ہم آہنگ کیا، نہ صرف یہ بلکہ ،جہانگیر کے شانہ بہ شانہ شیر، چیتے اور دیگر جانوروں کا شکار کھیلا کرتی تھیں۔ ان کا نشانہ بے مثال تھا۔ شکار کا یہذکر \”تزک جہانگیری\” میں بھی ملتا ہے۔ ملکہ نورجہاں اور بادشاہ جہانگیر دونوں کو مصوری سے شغف تھا۔ جہانگیر کے پاس منی ایچر پینٹنگز کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا ،جن میں دربار کی زندگی کی عکاسی کی گئی تھی اور شاہی مرد و خواتین اور باغات اور پرندوں کی تصاویر شامل تھیں۔دَورِ اکبری میں داستانِ امیر حمزہ، اکبر نامہ اور ہندو اساطیر کی تصویرکشی پر کام کا آغاز ہوا تھا اور ایرانی مصوروں کی بدولت برصغیر میں فن مصوری کو فروغ ملا۔

    یورپیوں سے تجارت کا آغاز بھی ملکہ نور جہاں کے دَور میں ہوا۔ انہوں نے آنے والے تاجروں سے محصولات لینے کا آغاز کیا۔ داخلی اور خارجی تجارت میں دخل اندازی اور رکاوٹ سے بچنے اور سہولیات کے حصول کے لیے مغل حکومت کو ادائیگی کی جانے لگی۔ وہ بحری جہازوں کی مالک تھیں جو نہ صرف حج کے سفر بلکہ تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ تجارتی تعلقات سے مغل سلطنت کی دولت و آمدنی میں اضافہ ہوا۔ مغل دارالسلطنت آگرہ، ملکہ نور جہاں کے ان اقدامات کے باعث ایک کاسموپولیٹن شہر اور تجارتی مرکز بن گیا تھا۔

    اپنی گوشہ نشینی کے دَور میں بھی ملکہ نور جہاں فلاحی کاموں اور خواتین کی تعلیم اور دیگر معاملات میں دلچسپی لیتی اور یتیم لڑکیوں کو زمینیں اور جہیز عطا کرتی رہیں۔ شہریار کی بیوہ اور ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم اس گوشہ نشینی میں ملکہ نورجہاں کے ساتھ رہتی تھی۔ ملکہ نے یہ وقت اپنے والد اور شوہر کے مقابر بنواتے ہوئے گزارا۔

    ملکہ نورجہاں نے 68 سال کی عمر میں شہنشاہ جہانگیر کے دنیا سے گزرنے کے 16 برس بعد گوشہ نشینی اور تنہائی کے عالم میں وفات پائی اور اپنے تعمیر کروائے گئے مقبرے میں دفن ہوئیں۔ ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم کی قبر بھی ان ہی کے پہلو میں ہے۔

    ملکہ کا یہ مقبرہ کئی بار اُجڑا، اٹھارہویں صدی میں رنجیت سنگھ کے دَور میں سکھ گولڈن ٹیمپل کی تعمیر کے لیے نورجہاں اور جہانگیر کے مقبروں سے قیمتی پتھر اکھاڑ کر لے گئے۔ بعد ازاں انگریزوں نے مقبرے کے باغ سے ریلوے لائن گزاری اور انیسویں صدی میں اس مقبرے کے حصوں کو کوئلے کے گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ محکمہ آثارِقدیمہ کی غفلت کے باعث اب اس مقبرے کا قیمتی پتھر مخدوش و بوسیدہ حالت میں ہے۔

    ملکہ نور جہاں فارسی زبان کی شاعرہ تھیں اور مخفی تخلص تھا، ان کا مزار اسی کے فارسی شعر کی تفسیر ہے جو ان کی لوحِ مزار پر رقم ہے۔
    برمزارِ ما غریباں، نے چراغِ نے گلے
    نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے

    مجھ اجڑے ہوئے کے مزار پر چراغ (روشن) ہے نہ کوئی پھول (کھلے) ہیں۔ (اسی لیے) نہ یہاں پروانے کے پر جلتے ہیں نہ بلبل کی صدا سنائی دیتی ہے۔

  • 3 ماہ سے کوما میں گئی خاتون بچی کو جنم دینے کے بعد ہوش میں آگئی

    3 ماہ سے کوما میں گئی خاتون بچی کو جنم دینے کے بعد ہوش میں آگئی

    برطانیہ :حالت کوما میں بچی کو جنم دینے والی خاتون بیہوشی کے تین ماہ بعد ہوش میں آ گئی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق 33 سالہ حاملہ خاتون لارا وارڈ کو 3 مہینے قبل سانس لینے میں تکلیف کے باعث اسپتال داخل کیا گیا تھا جہاں ان کی حالت مزید بگڑنے کے بعد وہ کوما میں چلی گئی تھیں۔

    کیمبرج ڈکشنری نے "مرد” اور "عورت” کی تعریف بدل دی

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لارا وارڈ کو جب لیبر روم لے جایا گیا تھا جہاں انہوں نے ایک خوبصورت بچی کو جنم دیا اس وقت وہ اپنے ہوش ہواس میں نہیں تھیں اور گزشتہ 7 ہفتوں سے کوما کی حالت میں تھیں لارا وارڈ نےطبیعت کی خرابی کے باعث ایمرجنسی کی حالت میں بچی کی پیدائش مقررہ تاریخ 15 اکتوبر سے کم از کم دو ماہ قبل سی سیکشن سے بچی کو جنم دیا ہے۔

    لارا وارڈ کے شوہر 37 سالہ جان نے اپنی اہلیہ کے ہوش میں آنے کے بعد صحتیاب ہوکر گھر پہنچنے سے قبل اپنی نوزائیدہ بچی کا نام رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔

    لارا وارڈ کا کہنا تھا کہ ہوش میں آنے کے بعد جب ان کے شوہر نے ان کی نوزائیدہ بچی ان کے سامنے کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے اسے جنم دیا ہے تو میری حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی، یہ احساس ناقابل بیان تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ جب میں گھر پہنچی تو میرے شوہر نے دوستوں کے ساتھ مل کر مجھے پرپوز کرنے کا ایک رومانوی منصوبہ بنایا ہوا تھا بیٹی کی پیدائش کے بعد یہ موقع بھی میرے لیے سحر انگیز بن گیا ہے۔

    امریکا کی شہریت لینے کے امتحان کا طریقہ تبدیل کرنے کا منصوبہ

    قبل ازیں بھارت میں ایک 23 سالہ خاتون سڑک حادثے میں سر کے متعدد آپریشنوں کے بعد 7 ماہ تک بےہوش پڑی رہی،اسی دوران ایک صحت مند بچی کو جنم دیا۔

    نیورو سرجن ڈاکٹر دیپک گپتا کا کہنا تھا کہ ایک 23 سالہ نوجوان خاتون 1 اپریل 2022 کو صبح 4.30 بجے ایمس کے ٹراما سینٹر میں آئی جب وہ گزشتہ رات اپنے شوہر کے ساتھ 2 وہیلر پر سفر کر رہی تھی،حادثے کے وقت دونوں میاں بیوی نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔شوہر کے سر پر کوئی چوٹ نہیں آئی جبکہ بیوی کے سر پر شدید چوٹ آئی تھی-

    خاتون کا ابتدائی طور پر عبداللہ ہسپتال، بلندشر میں علاج کیا گیا اور بعد میں اسے ایمس ٹراما سینٹر ریفر کر دیا گیا۔ اس کی شادی چھ ہفتے قبل ہوئی تھی اور حادثے کے وقت وہ 40 دن کی حاملہ تھی وہ بے ہوش تھی اس کے دماغ کے اندر شدید subdural hematoma کے ساتھ اسے فوری طور پر وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور ہنگامی سرجری کے لیے لے جایا گیا (ڈیکمپریسیو کرینییکٹومی جہاں اس کی کھوپڑی کی ہڈی کا کچھ حصہ اس کے سوجے ہوئے دماغ کے اندر دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہٹا دیا گیا)۔ ہسپتال میں داخل ہونے کے دوران 7 مہینوں میں 5 نیورو سرجیکل آپریشنزہوئے-

    نابینا خاتون نجومی بابا وانگا کی 2023 کیلئے پیش گوئیاں

    چونکہ داخلے کے وقت خاتون حاملہ تھی کافی بحث کے بعد گھر والوں نے حمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا "اس کے حمل کے پہلے اور دوسرے سہ ماہی میں بہت سی بات چیت کی گئی کہ آیا ہمیں اس کا حمل ختم کرنا چاہئے یا حمل جاری رکھنا چاہئے کیونکہ ماں ابھی بے ہوش تھی۔ چونکہ سیریل لیول کے دو الٹراساؤنڈ امتحانات میں جنین میں کوئی پیدائشی بے ضابطگی نہیں پائی گئی، طبی ٹیم نے خاندان کو حمل جاری رکھنے کا آپشن تجویز کیا۔ ماں کی حالت کو دیکھتے ہوئے حمل ختم کرنے کا فیصلہ خاندان پر چھوڑ دیا گیا۔ خاندان نے بعد میں حمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا-

    اس نے 22 اکتوبر کو ایمس کے ٹراما سینٹر میں نارمل ڈیلیوری سے ایک صحت مند بچی کو جنم دیا جس کا وزن 2.5 کلوگرام تھا ڈیلیوری AIIMS، دہلی کے شعبہ امراض نسواں اور امراض نسواں کی ایک ٹیم کے ذریعہ کی گئی۔

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

  • چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی

    چین اور شمالی کوریا کی دھمکیوں کے پیش نظر جاپان کی دفاعی اورسیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی

    جاپان کی دفاعی اور سیکورٹی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرلی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کےمطابق ہمسایہ ممالک شمالی کوریا ،روس اور چین کی جانب سے مسلسل فوجی خطرے کے مد نظر جاپان نے دوسری عالم جنگ کے بعد والی اپنی دفاعی پالیسی میں تبدیلی کر دیا ہے اور وہ امریکا اور اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئے ہتھیاروں کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہا ہےجاپانی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ نئی سیکورٹی پالیسی آئین کے مطابق اور دفاعی نوعیت کی ہے۔

    پیرو میں صدر کی معزولی کے بعد پرتشدد مظاہرے،نئی حکومت کا 30 روزہ ہنگامی حالت نافذ کر نے کا اعلان

    سیکورٹی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جاپان کے اطراف نظر ڈالیں تو جنگ عظیم دوئم کے بعد سب سے سنگین ماحول ہے طاقت کے ذریعے اسٹیٹس کو یک طرفہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب جارحیت کی صورت میں جاپان دشمن کے اڈوں اور کمان مراکز پر دور تک مار کرنے والے میزائلوں سے حملہ کر سکے گا۔

    جاپان اپنے ٹائپ 12 میزائلوں کی رینج میں اضافہ کرے گا اور 16 سو کلومیٹر تک مارکرنے والے امریکی ٹام ہاک میزائل خریدے گا تاہم خطرے کی صورت میں جاپان پیشگی حملہ نہ کرنے کی پالیسی برقرار رہے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان ملک دو یورپی ممالک برطانیہ اور اٹلی کے ساتھ مل کر پیشرفتہ جیٹ فائٹر کو اپ گریڈ کر رہا ہےجاپان اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے اگلے پانچ سال کے دوران دفاعی شعبے میں جاپان دفاعی صلاحیت میں اضافے کیلئے 5 کھرب ین خرچ کرے گا، اس مقصد کیلئے جاپانی حکومت دفاعی بجٹ میں پہلے ہی غیرمعمولی اضافہ کر چکی ہے۔

    ایران اور روس کے درمیان خلائی تعاون کے معاہدوں پر دستخط

    اپنی نئی دفاعی پالیسی کے تحت جاپان نے اٹلی اور برطانیہ کے ساتھ ایک مشترکہ معاہدہ کیا ہے جس کے مطابق یہ دونوں ممالک جاپان کے جنگی طیاروں کی پیشرفت اور ترقی میں تعاون کریں گے۔

    اٹلی اور برطانیہ کے ساتھ مل کر جاپان جو جنگی طیارے بنا رہا ہے وہ اس ملک کے قدیمی ایف-2 طیاروں کی جگہ لے گا جسے جاپان نے امریکا کے ساتھ مشترکہ طور پر اپ گریڈ کیا تھا۔

    تبدیلیاں فوجی تنظیم پر بھی اثر انداز ہوں گی، نکی اخبار کی رپورٹ کے ساتھ کہ سیلف ڈیفنس فورسز کی تینوں شاخوں کو پانچ سال کے اندر ایک ہی کمان کے تحت لایا جائے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسیوں میں ایک وعدہ ہے کہ 2027 تک اخراجات کو جی ڈی پی کے دو فیصد تک بڑھایا جائے تاکہ جاپان کو نیٹو کے ارکان کے برابر لایا جا سکے۔

    ایسے منصوبوں کے لیے فنڈ فراہم کیئے جائیں گے، جس کو جاپان کاؤنٹر اسٹرائیک کی صلاحیت کہتا ہے۔ خیال رہے کہ جاپان کا آئین جنگ عظیم کے بعد سرکاری طور پر فوج کو بھی تسلیم نہیں کرتا ہے۔

    ایلون مسک کے پرائیوٹ جہاز کو آن لائن ٹریک کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ معطل

    اگست میں بیجنگ کی جانب سے تائیوان کے گرد بڑی فوجی مشقیں کرنے کے بعد سے چین کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں، جس کے دوران میزائل جاپانی اقتصادی پانیوں میں گرے تھے۔

    چین نے کہا تھا کہ وہ مجوزہ دستاویزات کی “سخت مخالفت” کرتا ہے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا تھا کہ وہ جاپان کے دوطرفہ تعلقات کے عزم اور چین اور جاپان کے درمیان اتفاق رائے سے انحراف کرتے ہیں اور چین پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔

    جاپان سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ روس کو ایک چیلنجر کے طور پر دیکھے گا جو اس کے 2013 کے تعاون اور “پیمانہ بڑھانے” کے وعدے کے مقابلے میں ہے۔

    جاپان نے یوکرین کے معاملے پر ماسکو پر پابندیاں عائد کرنے میں مغربی اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلے سے ہی سرد تعلقات کو مزید گہرا کیا ہے۔

    چینی حکومت نے مانچسٹر قونصل جنرل سمیت 6 اہلکاروں کو ہٹا دیا

  • پاکستان ہائی کمیشن لندن میں کرسمس کی سالانہ تقریب کا انعقاد

    پاکستان ہائی کمیشن لندن میں کرسمس کی سالانہ تقریب کا انعقاد

    لندن:پاکستان ہائی کمیشن لندن میں کرسمس کے روایتی عشائیے کا اہتمام کیا گیا جس میں بشپ آف گیلفورڈ ریورنڈ اینڈریو واٹسن بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، سیکرٹری جنرل کامن ویلتھ پیٹریشیا سکاٹ لینڈ، بشپ مائیکل نذیر علی، ڈاکٹر جیمز شیرا، مسیحی اور مسلم مذہبی رہنماؤں، برطانوی پاکستانی مسیحی برادری نے استقبالیہ میں شرکت کی۔

     

    اس موقع پراپنےخطاب میں ہائی کمشنر معظم احمد خان نےکہا کہ کرسمس تزکیہ نفس،غور و فکراورخود شناسی کا دن ہے،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیغام محبت اور قربانی عالمگیریت ہے، مسلمانوں کا تمام انبیاء پر ایمان ہے اور ان کا احترام اسلامی عقیدہ کا بنیادی اصول ہے۔

    ہائی کمشنر نے کہا کہ انسانیت کے نقطہ نظر کے تحت یکجہتی، یگانگت، تقویٰ اور ہمدردی کے جذبے کی ضرورت ہے۔

    اس موقع پر ہائی کمشنر نے پاکستان کی تخلیق میں مسیحی برادری کے کردار کو سراہا اور ملک بھر میں تعلیمی اداروں، ہسپتالوں کی تعمیر اور سماجی شعبے کی ترقی میں ان کے کردار کی تعریف کی۔

    انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کے بنیادی اصولوں کا حصہ ہے اور حکومت پاکستان اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے پرعزم ہے۔

    ہائی کمشنر نے یاد دلایا کہ کرسمس کے دن، پاکستانی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش بھی مناتے ہیں اور ایک جمہوری ریاست کے لیے ان کے وژن پر عمل کے لیے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، جہاں تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں چاہے وہ کسی بھی نسل، مذہب اور مسلک سے تعلق رکھتے ہوں۔

    پاکستان کے لیے سیلاب کی امداد پر برطانیہ کی حکومت اور اس کے عوام کی تعریف کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے مہمانوں کو ملک میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں بتایا اور سیلاب متاثرین کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے عالمی تعاون پر زور دیا۔

    مقررین نے یسوع مسیح کی زندگی اور تعلیمات پر روشنی ڈالی، انہوں نے عالمی بھائی چارے اور پرامن بقائے باہمی کے لیے تہذیبوں کے درمیان بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے کو فروغ دینے پر زور دیا، ایک جامع اور متنوع پاکستان کے لیے قائداعظم کے وژن کو بھی سراہا۔ مختلف گرجا گھروں کے متعدد طائفوں نے کرسمس کے گیت گائے جس نے جشن اور تہوار کی خوشی میں اضافہ کیا۔

  • اسلام آباد ایئرپورٹ سے ڈیوٹی ٹیکس کے بغیر موبائل فونز کلیئرکرانے کا انکشاف

    اسلام آباد ایئرپورٹ سے ڈیوٹی ٹیکس کے بغیر موبائل فونز کلیئرکرانے کا انکشاف

    نیواسلام آبادایئرپورٹ سے ڈیوٹی ٹیکس کے بغیر قیمتی موبائل فونز کلیئرکرانے کا انکشاف ہوا ہے۔کسٹمز اے ایف یو امپورٹ سیکشن نے افسران اور 2 امپورٹرز کیخلاف مقدمات درج کرلئے۔ مقدمات انسپکٹرکسٹمز اے ایف یوامپورٹ نیوایئرپورٹ کی مدعیت میں درج کئے گئے۔

    ننکانہ :سرگرم ڈکیت،خطرناک اشتہاری مجرم اور اسلحہ کی نمائش کرنے والے ملزمان گرفتار

    ملزمان نے ٹیکس بغیر کلیئر کرائے موبائلز کا پی ٹی اے سے سرٹیفیکیٹ بھی حاصل کرلیا جبکہ 8299 موبائل فونزکے آئی ایم ای آئی نمبرز بھی کسٹم ریکارڈ سے ہٹائے۔

    اوکاڑہ : عوام الناس کے بعد امام مسجد اور نمازی بھی عدم تحفظ کا شکار,پولیس کی…

    حکام کے مطابق مقدمات 5 ہزار 216 قیمتی اسمارٹ فون ٹیکس بغیرکلیئر کرانے پر درج کئے گئے۔مقدمات میں کسٹم کے اسیسمنٹ افسران فائزہ نعیم، ایفان یونس، صائمہ، پرنسپل آپریشن ضیاء حسن اورایفان یونس کو ملزمان نامزد کیا گیا ہیں۔

    ملزمان نے 11783 فون درآمدکئے،ڈیوٹی ٹیکس صرف 6201 روپےادا کیا۔ ملزمان نے 5576 موبائل فونز ٹیکس ادا کئے بغیر کلیئر کروائے، جس سے ملکی خزانے کو7کروڑ 69 لاکھ سے زائد کا نقصان پہنچا۔

    ٹھٹھہ :اے پی ایس کے شہدا سے اظہار یکجہتی کے لئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون کی قیادت…

    ادھر سندھ ہاؤس اسلام آباد بے ضابطگیوں کا گڑھ بن گیا وزیراعلی سندھ، گورنر سندھ اور وزراء کے کمروں کے پردوں کی دھلائی پر لاکھوں رپے خرچ کئے گئے کیڑے مارنے کی دوائی پر 17 لاکھ جبکہ وال فریم 9 لاکھ کا خریدا گیا۔

    آڈٹ رپورٹ 2017 سے 2020 میں میں بتایا گیا ہے کے سندھ ہاؤس اسلام آباد میں وال فریم 9لاکھ روپے کا خریدا گیا، جبکہ سندھ ہاؤس کی مرمت کےدوران گاڑیوں کےفیول کی مد میں ایک کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔

  • مصطفیٰ نواز کھوکھر کا پیپلزپارٹی چھوڑنےکا اعلان

    مصطفیٰ نواز کھوکھر کا پیپلزپارٹی چھوڑنےکا اعلان

    اسلام آباد:مصطفیٰ نواز کھوکھر کا پیپلزپارٹی چھوڑنے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پاکستان پیپلزپارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا،

    مصطفیٰ‌ نواز کھوکھر نے کہا کہ ڈیڑھ دو سال سے پارٹی کے ساتھ کچھ ایشوز چل رہے تھے، یہی وجہ ہے بطور ترجمان پارٹی بھی عہدے سے استعفی دیا تھا، بعد میں مجھ سے سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرمین شپ واپس لی گئی۔

    مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ سینیٹ نشست واپس کرنے کا کہا گیا تو میں نے استعفیٰ دے دیا، اب پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرچکا، لیکن ابھی پارٹی کو باضابطہ خط نہیں لکھا۔

    خیال رہے کہ 8 نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ میں بخوشی سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہونے پر رضامند ہوں کیونکہ پارٹی کے سینئر رہنما نے مجھے بتایا کہ پارٹی کی قیادت میرے ’سیاسی مؤقف‘ سے خوش نہیں ہے۔

    سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹؤئٹر پر جاری پیغام میں مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ آج پارٹی کے سینئر رہنما سے ملاقات ہوئی اورانہوں نے پیغام دیا کہ پارٹی قیادت میرے مؤقف سے خوش نہیں ہے اور سینیٹ کی رکنیت سے میرا استعفیٰ چاہتی ہے، میں بخوشی مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ان نے مزید کہاتھا کہ بطور سیاسی کارکن مجھے عوامی مفاد کے معاملے پر اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔

    سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا تھا کہ پارٹی قیادت کا مشکور ہوں، جنہوں نے مجھے سندھ سے سینیٹ کی نشست دی، اختلافات اپنی جگہ، ان کے ساتھ سفر شان دار رہا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

  • جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    پیدائش:16 دسمبر 1775ء
    وفات:18 جولا‎ئی 1817ء
    ونچیسٹر
    مدفن:ونچیسٹر کیتھیڈرل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:مملکت برطانیہ عظمی
    مادری زبان:انگریزی
    کارہائے نمایاں:تکبر اور تعصب، شعور و احساس

    جین آسٹن(16دسمبر 1775ء – 18جولائی 1817ء) انگریزی کے عظیم ناول نگاروں میں سے ایک، موجودہ دور کے بعض نقادوں کے نزدیک اس کے ناول ”پرائڈ اینڈ پریجوڈس“ کا شمار دنیا کے دس عظیم ناولوں میں کیا جا سکتا ہے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جین ایک پادری کی لڑکی تھی۔ اپنی زندگی کے ابتدائی 25 سال اس نے ہیمپ شائر میں اپنے باپ کے ساتھ گرجا میں گزارے۔ یہیں اس نے اپنے تین مشہور ناول تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)، شعور و احساس (Sense and Sensibility) اور نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey) لکھے جو بہت بعد میں شائع ہوئے۔ باپ کے انتقال کے بعد پورا خاندان ہمپ شائر میں چاٹن کاٹیج منتقل ہو گیا۔ آخر عمر تک جین یہیں رہی۔ ایک پادری کی لڑکی کے قلم سے ایسی ناول نگاری اس دور کے سماج کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ اس لیے یہ ناول لکھنے کے کافی عرصہ بعد چھپے اور وہ بھی فرضی نام سے البتہ قریبی دوست احباب کو اس کا علم تھا۔ اس کا ناول نارتھینجر ایبے مسز ریڈ کلف کے اسکول کے رومانوں پر ایک نہایت پر لطف اور طنزیہ ناول ہے جس کا مسودہ 1803ء میں صرف دس پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔ جین نے ان ناولوں پر خاص طور سے ان کی زبان پر کافی محنت کی تھی لیکن اس کی زندگی میں اسے کوئی شہرت نہ ملی۔ اس کے سارے ناول صوبائی سماج میں رہنے والے شرفا کے اطراف گھومتے ہیں۔ اکثر قصوں میں شادی کے قابل لڑکیوں کے لیے شوہر کی تلاش اصل موضوع ہے۔ جین اپنی اعلیٰ نثر کے لیے مشہور ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں کرداروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح بڑی چابک دستی کے ساتھ گھماتی ہے۔ اخلاقی قدریں بڑی گہری ہیں۔ پلاٹ میں ہلکا طنز ومزاح ہے۔ وہ بیوقوف، بر خود غلط سیدھے سادے لوگوں کا خوب مذاق اڑاتی ہے۔ اس کا شمار انگریزی زبان کے بڑے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیفات الگ الگ مجموعے کی شکل میں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ اس کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی ہے۔
    ایک نیلامی میں جین آسٹن کی ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات 993250 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)
    شعور و احساس (Sense and Sensibility)
    مینزفیلڈ پارک (Mansfield Park)
    ایما (Emma)
    نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey)
    ترغیب (Persuasion)

  • اسمبلیوں کی تحلیل،پرویزالٰہی ہمارے کہنے پرعمل کرینگے:عمران خان

    اسمبلیوں کی تحلیل،پرویزالٰہی ہمارے کہنے پرعمل کرینگے:عمران خان

    لاہور:اسمبلیوں کی تحلیل، پرویز الٰہی ہمارے کہنے پر عمل کرینگے، اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کے پاس وزیراعظم سے زیادہ اختیارات ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں کچھ دیر اور چلیں تاہم جو ہم انہیں کہیں گے وہ اس پر عمل کرینگے، ملک بچانے کیلئے انتخابات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے لاہور میں تجزیہ کاروں سے ملاقات میں کہا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، پاکستان کے تمام چور اکٹھے ہوچکے ہیں، موجودہ حکومت نے 1100 ارب روپے کا دوسرا این آر او لے لیا، معاشی تباہی سے بچنے کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ دسمبر کے مہینے میں ہی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی، چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ مکمل رابطے میں ہوں، اسمبلیوں کی تحلیل کے حوالے سے جو فیصلہ ہوا چوہدری پرویز الٰہی اس کی مکمل تائید کریں گے۔

    لاہور میں بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 8 ماہ پہلے قومی اسمبلی سے ایک سازش کے تحت رجیم چینج کرائی گئی، نیلامی کے ذریعے ایک منڈی لگائی گئی، پہلے سازش کے تحت ان کو مسلط کیا گیا، پھر انہوں نے سب سے پہلے اپنے کرپشن کیسز ختم کیے، مغربی جمہوریت کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قانون تھا، پاکستان میں جنگل کا قانون بن گیا ہے، نوکروں کے نام پر 16 ارب روپے لئے گئے، ماڈل ٹاؤن سے حوالہ ہنڈی سے پیسہ باہر بھیج دیا جاتا تھا، باہر سے چینی ، پاپڑ والے کے نام پرپیسہ منگوا تے تھے، ان کیخلاف کیسز ہمارے دور میں نہیں بنے تھے ۔

  • ہم دلدل میں پھنس چکے:چلینجز سے نمٹنے کی کوششیں کررہے ہیں:فضل الرحمان کی پریس کانفرنس

    ہم دلدل میں پھنس چکے:چلینجز سے نمٹنے کی کوششیں کررہے ہیں:فضل الرحمان کی پریس کانفرنس

    ڈیرہ اسماعیل خان: جمیعت علما اسلام اور پی ڈی ایم کےسربراہ مولانا فضل الرحمان نےکہا ہےکہ ہم دلدل میں پھنس چکے ہیں اور چیلنجز سےنمٹنےکی کوششیں کررہےہیں۔اطلاعات کےمطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملکی معیشت کی زبوں حالی پی ٹی آئی کی چھوڑی ہوئی ہے اور اب یہ استعفوں کی گردان کر کے بلیک میلنگ کررہے ہیں، سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ان کا ایجنڈا ہے۔

     

     

    انہوں نے ہکا کہ عمران خان اپنی حکومت کی کارکردگی بتائیں، خیبرپختونخوا حکومت نے سابق دور سے زیادہ تاریخی قرض لیے اور اب صوبائی حکومت اپنی ناکامی کو وفاق پر تھوپنے کی کوشش کررہی ہے، جھوٹ پر مبنی سیاست انکا وطیرہ ہے۔فضل الرحمان نے کہا کہ ہم ملکی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، پاکستان کا معاشی سیاسی اور دفاعی استحکام ہماری منزل ہے، سی پیک سے ملک بہت ترقی کریگا، 26 دسمبر کو شہباز شریف سی پیک کے اگلے مرحلے کا افتتاح کریں گے۔

     

     

    اُن کا کہنا تھا کہ 12 لاکھ ایکڑ اراضی بنجر ہے، لفٹ کینال اور چشمہ کینال ہماری ترجیحات میں شامل ہیں، علاقے کی پسماندگی دور کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں اور ڈی آئی خان میں صنعتی علاقہ قائم کرنے جا رہے ہیں جبکہ وسط ایشیا کے لئے کارگو ایئرپورٹ بھی یہاں بنا رہے ہیں۔

     

     

    جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی استعفوں کی گردان بلیک میلنگ کا حصہ ہے کیونکہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا انکا ایجنڈا ہے، ہم دلدل میں پھنس چکے ہیں اورچیلنج سے نمٹ رہے ہیں، نیب کا قانون غلط ہے جس کا ماضی کی حکومت نے بہت زیادہ ناجائز استعمال کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ روس، چین اور سعودی عرب سے بات کر رہے ہیں۔