Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    حسینہ معین:کردار اوراقدار میں حسینہ:اب بھی بہت یاد آتی ہیں

    لاہور:پاکستانی ڈراما نگاری کی کہکشاں سے ایک روشن ستارہ تھیں،حسینہ معین کو سب حسینہ آپا بھی کہتے تھے کیونکہ وہ اس قدر شفقت اور محبت سے لبریز لہجے میں گفتگو کرتی تھیں کہ کوئی وجہ نہ ہوتی کہ ان سے ذاتی تعلق نہ بنا لیا جائے۔ وہ پورے پاکستان کی حسینہ آپا تھیں۔ ان کی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں تصور کیا جائے تو یہ 10، 20 برسوں کی بات نہیں بلکہ نصف صدی پر پھیلا ہوا سلسلہ ہے۔ انہیں دیکھنے کے بعد ہمیں سمجھ آتا ہے کہ کسی فن کے لیے اپنی زندگی کو تج دینا کیا ہوتا ہے اور کسی پیشے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردینے کی قربانی کیا ہوتی ہے۔

    حسینہ معین 20 نومبر 1941ء کو غیر منقسم ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں اور 26 مارچ 2021ء کو کراچی میں انتقال کیا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی کے چند برس ہندوستان میں گزارے، پھر اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کرکے راولپنڈی میں سکونت اختیار کی۔ چند برسوں کے بعد 1950ء کی دہائی میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کراچی منتقل ہوگئیں۔ 1960ء میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین سے گریجویشن کیا اور جامعہ کراچی سے 1963ء میں تاریخ کے موضوع پر ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرتے ہی وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں۔ طویل عرصہ خدمات انجام دیں اور پرنسپل کے عہدے تک پہنچیں۔

    ریڈیو پاکستان سے لکھنے کا پیشہ ورانہ آغاز کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مشہور زمانہ پروگرام ’اسٹوڈیو نمبر 9‘ کے لیے صوتی کھیل لکھے۔ ڈراما نگاری کے حوالے سے ان کی زندگی میں ڈرامائی موڑ تب آیا جب 1969ء میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے انہیں ایک ڈراما لکھنے کی پیشکش کی گئی۔ معروف شاعر افتخار عارف اسکرپٹنگ کے شعبے کے سربراہ تھے، انہوں نے حسینہ آپا کو راغب کیا کہ وہ ڈراما نگاری کریں۔ انہوں نے اس وقت عید کے لیے ایک خصوصی کھیل ’عید کا جوڑا‘ لکھا جس کے مرکزی کرداروں میں نیلوفر علیم اور طلعت حسین تھے جبکہ معاون کرداروں میں عشرت ہاشمی اور خالد نظامی تھے۔ یہ ڈراما بہت پسند کیا گیا۔

    انہوں نے اسی دور میں کچھ ڈرامے تھیٹر کے لیے بھی لکھے جو اسٹیج بھی ہوئے، مگر بہت جلد ان کی پوری توجہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کی طرف ہوگئی۔ 1970ء کی دہائی سے لے کر اگلے 40 برس تک وہ ٹیلی وژن کے لیے ڈراما نگاری کرتی رہیں اور بے پناہ شہرت سمیٹی۔ ان کی پہلی ڈراما سیریل ’شہزوری‘ تھی جس کو انہوں نے مرزا عظیم بیگ چغتائی کے ناول سے ماخوذ کیا تھا۔ اس ڈراما سیریل نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس کے بعد حسینہ معین پاکستان میں ایک مقبول ڈراما نگار بن چکی تھیں۔

    حسینہ معین کا شمار ایسے قلم کاروں میں ہوتا تھا، جن کی وجہ شہرت کتاب نہیں بلکہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کا میڈیم رہا۔ انہوں نے پاکستان میں ادبی رجحان کی ایک نئی جہت کو متعارف کروایا۔ وہ جہت ٹیلی وژن کے لیے ’اصل اسکرپٹ‘ تخلیق کرنا تھا۔

    ماضی میں ریڈیو پاکستان کی حد تک تو اسکرپٹ کا عمل دخل تھا، مگر پاکستان ٹیلی وژن شروع ہوا تو ابتدائی طور پر جتنے ڈرامے بنائے گئے ان کی بنیاد پاکستانی ناول نگاروں کے لکھے ہوئے ناول ہوتے تھے۔ ان ناولوں سے کہانیاں ماخوذ کرکے انہیں ڈرامائی تشکیل دی جاتی تھی۔ پہلی مرتبہ حسینہ معین نے کسی کہانی کو ماخوذ کیے بنا، ٹی وی کی ضرورت کے مطابق، اسکرین کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اوریجنل اسکرپٹ لکھا اور اس پر کامیاب ڈراما بنا، اس ڈرامے کا نام ’کرن کہانی‘ تھا۔ پاکستانی ٹیلی وژن کے لیے یہ ان کا دوسرا ڈراما تھا۔

    اس کے بعد سے حسینہ معین نے بے شمار کہانیاں تخلیق کیں، اور وہ سب اسکرپٹس کی شکل میں تخلیق ہوئیں۔ کبھی ان اسکرپٹ کردہ کہانیوں کے ذریعے اسٹیج پر کھیل پیش کیے گئے، تو کبھی ان کو ریڈیو اور کبھی فلم کے پردے پر نشر کیا گیا۔ انہوں نے تھیٹر، ریڈیو اور پھر ٹیلی وژن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے، صرف یہی نہیں بلکہ ٹیلی وژن کے لیے ٹیلی فلمیں بھی لکھیں۔ مختلف مواقع پر خصوصی طور پر لکھے گئے ڈراموں کی روداد الگ ہے۔ 40، 50 سال پر محیط ان کی پیشہ ورانہ زندگی، ان کے لکھے گئے ڈراموں، طویل دورانیے کے کھیلوں، ٹیلی فلموں اور فیچر فلموں کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

    ڈراما سیریل کی فہرست
    حسینہ معین کے لکھے گئے ڈراموں میں ’شہزوری’، ’کرن کہانی’، ’انکل عرفی’، ’زیر زبر پیش’، ’پرچھائیاں’، ’ان کہی’، ’تنہائیاں’، ’دھوپ کنارے’، ’رومی’، ’بندش’، ’دُھند’، ’بالائے جان’، ’آہٹ’، ’پڑوسی’، ’کسک’، ’تان سین’، ’قہار’، ’جانے انجانے’، ’پل دو پل’، ’دیس پردیس’، ’آنسو’، ’دی کیسل’، ’ایک امید’، ’شاید کہ بہار آئے’، ’تیرے آجانے سے’، ’میرے درد کو جو زباں ملی’، ’تم سے مل کر’، ’اک نئے موڑ پر’، ’کیسا یہ جنون، آئینہ’، ’چھوٹی سی کہانی’، ’کشمکش’، ’تنہا’، ’سارے موسم اپنے ہیں’، ’تنہائیاں نئے سلسلے’، ’میری بہن مایا’، ’انجانے نگر’ اور ’محبت ہوگئی تم سے’ شامل ہیں۔

    حسینہ معین 26 مارچ 2021ء کو 79 سال کی عمر میں کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئیں۔ حسینہ معین کو ان کی وفات سے پہلے، 22 مارچ 2021ء کو کورونا وائرس ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • عمران خان کا جلد انتخابات کا مطالبہ بلا جواز ہے: خواجہ سعد رفیق

    عمران خان کا جلد انتخابات کا مطالبہ بلا جواز ہے: خواجہ سعد رفیق

    اسلام آباد:وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران خان کا جلدی انتخابات کا مطالبہ بلا جواز ہے۔خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عمران خان کوچاہیے کہ وہ حکومت کومدت پوری کرنے دیں ،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں خواجہ سعد رفیق نے لکھا کہ عمران کی غیرقانونی حکومت کو برداشت کیا، قبل ازوقت انتخابات مانگنے والے سنجیدہ ہوتے تو لانگ مارچ کے بجائے اپنے استعفےمنظور کرواتے۔

     

     

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان صوبائی حکومتیں توڑتے الیکشن کا ماحول خود بخود بن جاتا، انتشار کا مقصد ملک چلنے نہ دینا ہے۔

    جبکہ دوسری طرف کل سابق وزیر اعظم عمران خان نے پارٹی کے کارکنوں کو 26 نومبر کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دے دی۔

    روات میں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حقیقی آزادی کی تحریک 7 ماہ پہلے شروع ہوئی، 25 مئی کے ظلم کو کبھی نہیں بھولوں گا، ہمیں ڈرانے کے لیے خوف کا ماحول بنایا گیا،میرے ملازمین کو خریدنے کی کوشش کی گئی۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اس کا مجھے پہلے سے پتا تھا، اس لئے میں نے پہلے ہی ایک ویڈیو بنالی تھی، راولپنڈی میں بھی میری جان کو خطرہ ہے کیونکہ یہ لوگ وہی بیٹھے ہوئے ہیں، غلامی کی زندگی سے بہتر مر جانا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ مان لیتے ہیں اسٹیبلشمنٹ نے کوئی سازش نہیں کی لیکن وہ انہیں روک تو سکتے تھے، کوئی بیرونی سازش اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی تھی جب تک اندر سے کوئی ان کی حمایت نہ کرے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، یہ ہفتہ فیصلہ کن ہے:شیخ رشید

    حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، یہ ہفتہ فیصلہ کن ہے:شیخ رشید

    راولپنڈی: سربراہ پاکستان عوامی مسلم لیگ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی معاشی اقتصادی اور تعیناتی بحران میں پھنسی ہوئی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شیخ رشید احمد نے لکھا کہ حکمرانوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، یہ ہفتہ فیصلہ کُن ہے ، یہ زمینی حقائق سے بے خبر اور فضا میں معلق ہے نہ ہاتھ آسمان پر نہ پاؤں زمین پر لگ رہے ہیں۔

     

    حکومت سیاسی معاشی اقتصادی اورتعیناتی بحران میں پھنسی ہوئی ہے الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے یہ ہفتہ فیصلہ کُن ہےیہ زمینی حقائق سےبےخبراورفضامیں معلق ہےنہ ہاتھ آسمان پر نہ پاؤں زمین پرلگ رہے ہیں گوٹی پھنس گئی ہےجی کاجاناٹھہرگیاہےعمران خان کا26نومبرکوکمیٹی چوک میں تاریخی استقبال کریں گے

    سربراہ عوامی مسلم لیگ کا مزید کہنا تھا کہ گوٹی پھنس گئی ہے جی کا جانا ٹھہر گیا ہے، عمران خان کا 26 نومبر کو کمیٹی چوک میں تاریخی استقبال کریں گے۔

  • شہر قائد میں دھند کا راج ،سردی میں اضافہ ہونےلگا

    شہر قائد میں دھند کا راج ،سردی میں اضافہ ہونےلگا

    کراچی:شہر قائد کے میدانی و مضافاتی علاقوں میں گہری دھند چھائی ہوئی ہے اور شہر میں تھر کی جانب سے ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے،تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اس وقت شہر قائد میں دھند کا راج ہے جس کی وجہ سے حد نگاہ 5 کلو میٹرتک محدود رہے گی۔ کراچی کی راتیں خنک ہونا شروع ہوگئیں ہیں تاہم مطلع آج صاف رہے گا اور بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت 5.20 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا ۔ کراچی میں شمال مشرق کی جانب سے 18 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوامیں نمی کا تناسب 91 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور اس وقت دوسرے جبکہ کراچی چھٹے نمبر پرآگیا ہے ۔

    حالیہ رپورٹ کے مطابق لاہوراورکراچی دونوں کی فضا شدید مضر صحت قرار دی جارہی ہے لاہور کی فضا میں آلودہ زرات کی مقدار 214 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے تاہم کراچی کی فضا میں آلودگی کی مقدار 172 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ ہوئی ہے

    ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی شہر کا شمار اس وقت دنیا کے آلودہ ترین شہروں کہ فہرست میں سب سے اوپر آگیا ہے کیونکہ دہلی شہرکی فضا میں آلودہ زرات کی مقدار 266 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

     

    ائیر کوالٹی انڈیکس کے اعدادو شمار کے بطابق 151 سے200 درجے تک آلودگی مضر صحت ہوتی ہے،201 سے 300 درجے تک آلودگی انتہائی مضر صحت ہوتی ہےجبکہ301 سےزائد درجہ خطرناک ترین آلودگی کوظاہر کرتا ہے جو انتہائی حد تک مضر صحت ہے۔

    اس حوالے سےایئر کوالٹی انڈیکس کےماہرین صحت نے کی شہریوں سے احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک ضرور پہنیں اور دمہ اور سانس کے مریض خصوصی طورپراحتیاط کریں

    تفصیلات کے مطابق موٹروے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت لاہورموٹروے ایم ٹوکو شیخوپور تک دھند کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے ، روڈ یوزرز آگے اور پیچھےدھند والی لائٹس کا استعمال کریں اورغیر ضروری سفر سے گریز کریں انہوں نے مزید کہا کی تیز رفتاری سے پرہیزکرتے ہوئے اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں۔

    روڈ یوزرز معلومات اور مدد کے لیے ہیلپ لائن 130 سے رابطہ کر کےموٹروے پولیس کی ہمسفر ایپ سے بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

    محکمہ تحفظ ماحولیات کے ترجمان کے مطابق لاہورمیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ائیر کوالٹی کی رپورٹ کے مطابق ٹائون ہال، مال روڈ پر ائیر کوالٹی انڈیکس 115، ٹائون شپ میں 102 ائر کوالٹی انڈیکس ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کرول گھاٹی میں اے کیو آئی 439 رہا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • بھارت کے پہلےٹاک شو’ پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں

    بھارت کے پہلےٹاک شو’ پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں

    نئی دہلی:1947 میں چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے کیرئیر کا آغاز کرنے والی بھارتی اداکارہ اور بھارتی ٹیلی ویژن کے پہلے ٹاک شو ’پھول کھلے ہیں گلشن گلشن ‘کی میزبان تبسم انتقال کرگئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ تبسم کے بیٹے ہوشانگ نے میڈیا کو بتایا کہ والدہ کو چند روز قبل اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، انھیں معدے کے مسائل تھے اور ہم ان کے روٹین چیک اپ کے لیے اسپتال گئے تھے تاہم انھیں جمعے کے روز دو مرتبہ دل کا دورہ پڑا جس کے نتیجے میں وہ انتقال کرگئیں۔

    اداکارہ کے بیٹے کا مزید کہنا تھا کہ والدہ بالکل صحت مند تھیں، ہم نے 10 دن قبل ہی پروگرام کی عکسبندی کی تھی اور اگلے ہفتے پھر شوٹنگ کا پلان تھا۔

    یاد رہے کہ اداکارہ تبسم نے 1947 میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا اور وہ بے بی تبسم کے نام سے مشہور تھیں، انہوں نے 1972 سے 1993 تک پھول کھلے ہیں گلشن گلشن کی میزبانی کی۔

    2006میں وہ پروگرام ’پیار کے دو نام، ایک رادھا، ایک شیام‘ سے ٹی وی اسکرین پر واپس آئی تھیں۔

    دلکش چہرے، خوبصورت آواز اور دوٹوک سوال کے سبب 78 سالہ تبسم آخری وقت تک اپنےشوزکے سبب مداحوں میں خوب مقبول رہیں جبکہ برصغیرکی پاپ کوئین نازیہ حسن کا خوبصورت انٹرویو بھی تبسم کے ساتھ یادوں کا حصہ بن گیا۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • معروف عالم دین مفتی رفیع عثمانی کی نماز جنازہ ادا، بڑی تعداد میں عوام کی شرکت

    معروف عالم دین مفتی رفیع عثمانی کی نماز جنازہ ادا، بڑی تعداد میں عوام کی شرکت

    کراچی: معروف عالم دین مفتی محمد رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔اطلاعات کے مطابق مفتی رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ ان کے بھائی مفتی تقی عثمانی نے پڑھائی، مفتی رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    مفتی رفیع عثمانی کی تدفین دارالعلوم کورنگی کے احاطے میں ہی کی جائے گی، مفتی رفیع عثمانی کی تدقین ان کے والد مفتی شفیع عثمانی اور والدہ کی قبر کے درمیان کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ مفتی محمد رفیع عثمانی دو روز قبل 86 برس کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔

    مفتی رفیع عثمانی ،مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے، مرحوم رفیع عثمانی مفتی اعظم پاکستان تھے، مرحوم مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی کے بیٹے اور مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔

    مرحوم مفتی رفیع عثمانی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست بھی تھے۔ مفتی رفیع عثمانی 21 جولائی 1936 کو دیوبند میں پیدا ہوئے۔

     

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کرنے پراتفاق

    موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کرنے پراتفاق

    شرم الشیخ:پاکستان کی کوششیں کے بعد موسمیاتی تبدیلوں سے متاثرہ ملکوں کے نقصانات کے ازالے کے لیے اقوام متحدہ کے تحت فنڈ قائم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے تحت کوپ 27 اجلاس میں ماحولیاتی نقصان کے ازالے کے لیے فنڈ قائم کرنے پر اتفاق ہو گیا، مصر کے شہر شرم الشیخ میں دو ہفتے سے جاری کانفرنس میں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک نے مالدار اور آلودگی پھیلانے والے ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں پہنچنے والی تباہی کی تلافی کی جائے، دو ہفتوں کے مذاکرات کے بعد مطالبہ منظور کر لیا گیا۔

    اس سے پہلے خبر ایجنسی سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کا کہنا تھا کہ معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ کمزور لوگوں کے لیے ایک مثال ہو گا، کمزور متحد ہو جائیں تو ناممکنات کی رکاوٹیں بھی ختم کر سکتے ہیں۔

    مصرمیں ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کیلئے جاری کوپ27 کانفرنس میں یورپی یونین کی جانب سے ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کا مسودہ مسترد کر دیا گیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق کانفرنس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق امور پراختلافات آخری وقت تک برقرار ہیں۔

    کانفرنس میں گلوبل وارمنگ ایک اعشاریہ پانچ ڈگری تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم گیسوں کے اخراج میں کمی کی یقین دہانی میں تاحال کوئی کامیابی نہیں ہو پائی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ماحولیاتی سانحات کا شکار ترقی پذیرملکوں کو فنڈ دینے کے معاملے پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں، فنڈز کی کمی اور نقصان فنڈ پر بات طے ہوگئی مگر مندوبین نے تاحال اس کی توثیق نہیں کی۔ساتھ ہی ماحولیاتی آلودگی پھیلانے پر رقم دینے والے امیر ممالک کا تعین کرنے کیلئے بھی شرائط طے نہیں ہوسکی ہیں۔

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا ہے کہ واحد فنڈ کے قیام کی تجویز نامناسب اور ناکافی ہے، جب مشکل درپیش ہو تو فنڈ قائم کیا جاتا ہے۔مصر میں جاری ماحولیاتی کانفرنس میں تاحال یہ فیصلہ نہیں ہو پایا کہ فنڈ کی گورننس کون کرے گا اور رقم کون ادا کرے گا؟

    واضح رہے کہ مصرمیں 2 ہفتے سے جاری کوپ 27 کانفرنس میں تقریباً 2 سو ممالک کے مندوبین شریک ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    کراچی: سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ وکلا کو حکومت کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہیے، حکومت سے پیسے لیں گے تو آپ آزاد نہیں ہوں گے اور حکومت جو آپ کو پیسہ دے رہی ہے وہ عوام کے ٹیکس کا ہے۔

     

     

    تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اداروں پر تنقید نہ کریں شخصیات پر تنقید کریں، جب ہم نے آئین کا دامن چھوڑا تو ملک دو لخت ہوا۔

     

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 950 پیراگراف پر مشتمل ایک فیصلہ تھا جس پر شرمندگی ہوتی ہے، اس فیصلے میں وزیر اعظم کو سزا موت سنائی گئی، ججز کو کسی کے دباؤ میں آکر سزائے موت نہیں دینا چاہیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر شہری عدلیہ کی آزادی چاہتا ہے، عدلیہ کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، وکلا کا لہو پاکستان کا تحفظ کرتا ہے، ہمیں سوال کرنے کا حق دیں ہھر آپ ہمارے فیصلے پر بھرپور تنقید کریں۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کا کہ میں نے سوائے ایک کے توہین عدالت کا کوئی کیس نہیں سنا، آپ کو حق ہے آپ مجھ سے سوال جواب کرسکتے ہیں، میرے کیس کے بعد وومن ایکشن فورم کہا کہ ججز اثاثے ظاہر کریں، میں نے اور اہلیہ نے اپنے اثاثے ظاہر کردیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ججز ترقی پر وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کا پہلےاور بعد کا موقف مختلف تھا، اس کے متعلق دلائل نہیں دیے گئے، شاید کچھ پریشر ہو؟، افسران سے گاڑیاں واپس لی جائیں تو پبلک ٹرانسپورٹ اچھی ہوجائے گی۔

     

    اس موقع پر جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی پر مبارکباد دینے کی خواہش ہے، ہم 75 برس سے ایسا نہیں کرسکے، یہ سب غیر سیاسی قوتوں کی نظام میں مداخلت ہے، اس کی ذمے داری سیاسی لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

     

    انہوں نےکہا کہ ہم خوشحال معاشرہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں،ملک میں جمہوری عمل کو کبھی پنپنےنہیں دیا گیا،بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ بروقت نہیں ہوا اور وہ غیر موثر ہوگئیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کراچی یونیورسٹی کانباتاتی باغ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    کراچی یونیورسٹی کانباتاتی باغ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا

    جامعہ کراچی میں گزشتہ 15 برس قبل سائنسی بنیادوں پر قائم کیا گیا پاکستان کا پہلا نباتاتی باغ ”بوٹینیکل گارڈن“حکام کی عدم توجہی اورفنڈز کی شدید قلت کے سبب اپنی سائنسی افادیت کھورہا ہے۔جامعہ کراچی کے مرکزی داخلی دروازے سے شروع ہوکر کیمپس گیٹ سے کئی ایکڑرقبے پر محیط اس بوٹینیکل گارڈن ’سائنسی پارک‘ کے داخلی اورسامنے کے حصے آرائش کے ساتھ دیکھ بھال کی کوششیں تو جاری رہتی ہیں تاہم گارڈن کاعقبی حصہ بنجر زمین یامستقبل کے کسی جنگل کی ابتدائی شکل پیش کررہاہے۔

    واضح رہے کہ یہ بوٹنیکل گارڈن کئی ملین روپے کی مالیت سے قائم کیا گیا۔ اسی طرح پلانٹ کنزرویشن ایریا میں اے وی پلانٹ خراب ہونے کے سبب برباد ہوگیا ہے یہاں محفوظ کیے گئے پودے اب مفقود ہیں جبکہ مذکورہ ایریا اوراس کااے سی پلانٹ کھنڈرات کامنظرپیش کررہا ہے۔

    کچھ عرصے قبل جب ان سے فون پر رابطہ کرکے نباتاتی باغ کی موجودہ صورتحال اوراس کے مختلف سیکشن کے بتدریج ختم ہونے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو ڈاکٹر روحی کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اسی سال 23 مئی کوجوائنگ دی یہاں فنڈنگ کامسئلہ رہا ہے‘۔ اس حوالے سے انتظامیہ کوایک تفصیلی خط بھی دیا ہے جس میں مسائل کی جانب نشاندہی کی گئی ہے۔

    ڈاکٹرروحی نے دعوی کیا تھا کہ انھوں نے آنے کے بعد نرسری ایریا کودوبارہ فعال کیا ہے جواس سے قبل بند پڑی تھی جبکہ ہم مزید میڈیسن پلانٹ لگوارہے ہیں“۔

    واضح رہے کہ بوٹنیکل گارڈن کے ایک مخصوص حصے میں ”پلانٹ کنزرویشن ایریا“ قائم کیاگیاتھا جس میں پاکستان کے دوردراز علاقوں سے ایسے پودے لاکریہاں محفوظ کیے گئے تھے جوایک مخصوص درجہ حرارت کے بغیرنشونما نہیں پاسکتے اوراس کے لیے پلانٹ کنزرویشن ایریا میں باقاعدہ طورپر اے سی پلانٹ لگائے اورمتعلقہ پودوں کومخصوص درجہ حرارت پررکھاجاتا تھا۔

    سابقہ وائس چانسلرزکے دورمیں اے سی پلانٹ کی ”مرمت“ نہ ہونے کے سبب یہ پلانٹ خراب ہوگیا۔ جس کی وجہ سے اے سی اور جنریٹرز ناکارہ ہوگئے اور کنزرویشن ایریا کوسایا فراہم کرنے والا نٹ بھی تارتارہوکراپنی جگہ چھوڑگیا جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے لائے گئے پودے بھی ختم ہوگئے اب وہاں ناکارہ اے سی پلانٹ اورکنزرویشن ایریا کا ٹوٹا پھوٹا آئرن اسٹریکچراس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کبھی وہاں کنزرویشن ایریا موجود تھا۔

    اس کنزرویشن ایریاسے آگے بڑھیں توگارڈن یکایک کسی اجاڑیا جنگل کانقشہ پیش کرنے لگتا ہے اورمزید آگے جاکریہ معلوم ہوتا ہے کہ مزید آئرن اسٹریکچراورنیٹ کی چھت کے ساتھ قائم کیے گئے حصے بھی بربادی کاشکارہیں وہاں ماضی میں رکھے گئے پودے موجودنہیں گھاس کی جگہ اب جھاڑیوں نے لے لی ہے۔

    یادرہے کہ جامعہ کراچی کے بوٹنیکل گارڈن کاپروجیکٹ ایچ ای سی کی جانب سے سن 2005میں منظورہواتھا اوراس کا باقاعدہ قیام سن 2007میں عمل میں آیاجب ستمبر2007کواس وقت کے گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العبادخان نے اس کاافتتاح کیا۔یہ پروجیکٹ معروف نباتاتی محقق اورجامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرمحمد قیصر کا اقدام تھا جواس وقت پاکستان کے معروف بوٹنیکل جرنل کے مدیربھی ہیں۔

    واضح رہے کہ جامعہ کراچی کانباتاتی باغ ایچ ای سی کی جانب سے ملنے والے تقریباً 3 کروڑروپے کے فنڈزسے قائم کیا گیا تھا جس میں ”سلائن ایریا“ میں نشونما پانے والے پودوں کے ساتھ ساتھ ”الپائن پلانٹس،میڈیسن پلانٹ اورہیلوفائیٹ“ بھی محفوظ کیے گئے تھے جبکہ پھل داردرختوں کیلیے ایک علیحدہ حصہ مختص کیا گیا تھا۔ جس میں آم سمیت دیگرپھل داردرخت موجود تھے جس ختم ہوگئے۔ بتایاجارہاہے کہ آم کے پودوں کی ایک بارپھرکاشت کی گئی ہے۔

    ادھر وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ عمومی طور پر سائنسی و تحقیقی منصوبوں کے لیے ہمارے لوگ ایچ ای سی گرانٹ تو لے آتے ہیں جس سے ایک بار منصوبہ شروع ہوجاتا ہے تاہم اسے جاری رکھنے اور مسلسل تحقیق کے لیے علیحدہ گرانٹ کا بھی ہیڈ ہونا چاہیے جسے پی ون میں شامل ہی نہیں کیا جاتا پھر ان منصوبوں کا بوجھ جامعات پر آجاتا ہے جیسا اس منصوبے میں ہوا ہے جبکہ موجودہ مالی صورتحال اور گرانٹ میں توسیع نہ ہونے سے ایسے منصوبے چلانا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • کلر سیداں پولیس کی کاروائی، خواتین کے کانوں سے بالیاں نوچنے والا ملزم گرفتار:کراچی میں بھی گرفتاریاں

    کلر سیداں پولیس کی کاروائی، خواتین کے کانوں سے بالیاں نوچنے والا ملزم گرفتار:کراچی میں بھی گرفتاریاں

    کلرسیداں:کلر سیداں پولیس کی کاروائی، خواتین کے کانوں سے بالیاں نوچنے والا ملزم گرفتار کر لیا۔اطلاعات کے مطابق ملزم اسد عرف اچھو سے 04 طلائی بالیاں، 10 ہزار روپے اور اسلحہ برآمد،ملزم خواتین سے پانی مانگتا اور اکیلا دیکھ کر انکے کانوں سے بالیاں نوچ کر فرار ہو جاتا تھا،سی پی او سید شہزاد ندیم بخاری نے ایس پی صدر کو ملزم کی گرفتاری کا خصوصی ٹاسک دیا تھا۔

    کلر سیداں پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا،ملزم سے تفتیش کے دوران 04 طلائی بالیاں، نقدی اور اسلحہ برآمد ہوا،صدر محمد نبیل کھوکھر کی کلر سیداں پولیس ٹیم کو شاباش،خواتین پر تشدد کسی صورت میں قابل برداشت نہیں۔

    سی پی سید شہزاد ندیم بخار کا کہنا تھا کہ یخواتین کے حوالے سے جرائم پر زیرو ٹالیرنس پالیسی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    دوسری طرف کراچی کے علاقے کلفٹن بلاک 5 میں پولیس مقابلے کے بعد ایک ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم خواتین سے زیورات چھیننے والے گروہ میں شامل ہے۔

    حکام نے بتایا کہ گشت پر مامور پولیس کلفٹن بلاک 5 گندا نالہ کے قریب پہنچی تو وہاں موجود 2 مشکوک افراد نے پولیس کو دیکھ کر فائرنگ شروع کردی۔پولیس کے مطابق جوابی فائرنگ سے ایک ملزم زخمی ہوا جسے گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ملزم سے ایک پستول اور خواتین سے چھینی ہوئی 4 چوڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا