Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • وزیرآباد حملہ؛ جے آئی ٹی نے ملزم نوید سے تفتیش شروع،  عمران کے دعوے اور ملزم کے بیان میں تضاد

    وزیرآباد حملہ؛ جے آئی ٹی نے ملزم نوید سے تفتیش شروع، عمران کے دعوے اور ملزم کے بیان میں تضاد

    وزیرآباد حملہ؛ جے آئی ٹی نے ملزم نوید سے تفتیش شروع کردی، عمران خان کے دعوے اور ملزم کے بیان میں تضاد پایا گیا.

     وزیرآباد میں لانگ مارچ کے دوران کنٹینر پر موجود چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر فائرنگ کے ملزم نے جے آئی ٹی کو حملے سے متعلق تفصیلات بتا دیں۔ باغی ٹی وی کے مطابق عمران خان پر حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے ملزم نوید سے تفتیش شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق حملے کے محرکات سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے دعوے اور ملزم کے بیان میں تضاد ہے۔

    ملزم نوید نے جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ میں نے اکیلے ہی حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ کنٹینر کے آگے پولیس نہ ہونے کی وجہ سے سامنے آکر فائرنگ کی۔ اس کے بعد کنٹینر سے دائیں گلی میں فرار ہونا چاہتا تھا لیکن پکڑا گیا۔ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو ملزم نے بتایا کہ میرا کسی بھی سیاسی یا دینی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مجھے کسی نے حملہ کرنے کو کہا تھا۔ ملزم کے مطابق وہ 2 گھنٹے تک حملے کے لیے انتظار کرتا رہا۔

    اس سے قبل سانحہ وزیر آباد پر بنائی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) پر وفاق نے اعتراضات عائد کیے تھے، جس پر محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاق کے تحفظات سے سینئر حکام کو آگاہ کردیا تھا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاق کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات درست ہیں، لہٰذا جے آئی ٹی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ اگر انٹیلی جنس کے نمائندے شامل نہ ہوں تو پنجاب کے افسران پر مشتمل کمیٹی ہی کہلائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
    فراڈ کر کے ارب پتی بننے والی امریکی خاتون الزبیتھ ہومز کو 11 سال قید کی سزا
    لیما ایئرپورٹ: ٹیک آف کے دوران طیارہ حادثے کا شکار، دو فائر فائٹرز جاںبحق
    محکمہ داخلہ نے کہا تھا کہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے شامل ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں وفاق کے تحفظات پر مشتمل مراسلے کو صوبائی سب کیبنٹ کمیٹی برائے امن وامان کے اجلاس میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • افتخار امام صدیقی:ایک شاعر،ایک ادیب جودنیا چھوڑگئےمگریادیں باقی ہیں:

    افتخار امام صدیقی:ایک شاعر،ایک ادیب جودنیا چھوڑگئےمگریادیں باقی ہیں:

    افتخار امام صدیقی

    ہندوستان کے نامور شاعر افتخار امام صدیقی 19؍نومبر 1947ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اعجاز صدیقی تھے اور دادا سیمابؔ اکبر آبادی۔ سیمابؔ اکبر آبادی تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلے گئے لیکن افتخار امام صدیقی کے والد اعجاز صدیقی ہندوستان میں ہی رہے۔ اعجاز خود ایک بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انہوں نے اپنے تخلیقی کاموں کےساتھ ساتھ ماہنامہ ’شاعر‘ کو بھی نئی آب وتاب کے ساتھ جاری رکھا۔ شاعری، نثر نگار اورماہنامہ ’شاعر‘ کی ادارت، تینوں چیزیں افتخار امام صدیقی کو بھی ورثے میں ملیں اور انہوں نے ان تینوں خانوں میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔

    افتخار امام صدیقی نے زیادہ تر غزلیں کہیں۔ ان کی غزلیں اپنے شدید کلاسیکی رچاو کی وجہ سے بہت مقبول ہوئیں۔ کئی اہم گلوکاروں نے ان کی غزلیں گائیں ہیں۔ خود افتخار امام صدیقی خوبصورت ترنم کے مالک ہیں اور ہندوستان و پاکستان کے مشاعروں میں بہت دلچسپی سے سنے جاتے ہیں۔ افتخار امام صدیقی نے کئی تنقیدی کتابیں بھی لکھیں ہیں۔ ان کا ایک یادگار کام ’شاعر‘ کے وہ خاص شمارے میں جو انہوں نے مشہور ومعروف ادبی شخصیات پر ترتیب دئے ہیں۔ حامد اقبال صدیقی ان کے بھائی ہیں۔

    افتخار امام صدیقی 04؍اپریل 2021ء کو ممبئی میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں آسودہِ خاک ہیں۔

    افتخار امام صدیقی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
    مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں

    ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں
    کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

    وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں
    قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لبِ دعا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہے شور سا طرف طرف کہ سرحدوں کی جنگ میں
    زمیں پہ آدمی نہیں فلک پہ کیا خدا نہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
    دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا

    کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے
    دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا

    درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
    سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا

    یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر
    یوں بھی ہوگا خود اسی میں اک خلا رہ جائے گا

    دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں
    یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے
    فنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہے

    بچھڑ نہ جائے کہیں تو سفر اندھیروں میں
    ترے بغیر ہر اک راستا اداسی ہے

    بتا رہا ہے جو رستہ زمیں دشاؤں کو
    ہمارے گھر کا وہ روشن دیا اداسی ہے

    اداس لمحوں نے کچھ اور کر دیا ہے اداس
    ترے بغیر تو ساری فضا اداسی ہے

    کہیں ضرور خدا کو مری ضرورت ہے
    جو آ رہی ہے فلک سے صدا اداسی ہے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • 19 نومبر تسنیمؔ فاروقی بھوپالی کا جنم دن

    19 نومبر تسنیمؔ فاروقی بھوپالی کا جنم دن

    19 ؍نومبر 1915ء کو ابراہیم پورہ، بھوپال میں منشی عنایت حسین فاروقی کے ہاں پیدا ہونے والے تسنیم فاروقی بھوپالی کا اصل نام سلطان احمد ہے ان کا پہلا تخلص ” تنہائی ” تھا بعد میں تسنیم کر لیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی۔ مدرسہ عبیدیہ دینیہ میں عربی و فارسی کی تکمیل ہوئی۔ بھوپال ریاست کے مشہور قاری محمد بختیار صاحب سے علم تجوید حاصل کی۔ علوم مشرقیہ الہ آبادی یونیورسٹی سے عالم کا امتحان پاس کیا۔ 1931ء میں جامعہ احمدیہ سے حدیث، فلسفہ، تفسیر، منطق، حمد اور علم کلام کے مضامین امتیازی نمبرات حاصل کرکے فاضل درس نظامی کی تکمیل ہوئی۔ بھوپال میں آصفیہ طبیہ کالج کے طالب علم بھی رہے۔

    تسنیمؔ صاحب کے دادا محمد ابو علی قصبہ گوپا مئو، ضلع ہردوئی یوپی سے 1857ء میں ترک سکونت کرکے ریاست بھوپال آئے تھے۔ ابتدائی عمر میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد تسنیمؔ صاحب نے سرکاری ملازمت اختیار کی۔ کسٹم، پولس اور اکاؤنٹس کے مختلف محکمات میں ملازم رہے۔ طالب علمی کے زمانے میں استاد محترم خلیل ﷲ صاحب صدیقی نے شعر گوئی کی طرف توجہ دلائی۔

    تسنیمؔ کو دو گولڈ میڈل ایوارڈ ملے تھے۔ پہلا 1953ء میں گورکھپوری میں، اور دوسرا گولڈ میڈل فروری 1973ء کو ایوان صدر منزل بھوپال میں بسلسلہ یومِ جمہوریہ سلور جبلی تقریب میں عزیز قریشی صاحب کے ہاتھوں عطا کیا گیا۔
    تسنیمؔ فاروقی 29؍نومبر 1982ء کو نور محل مسجد بھوپال میں انتقال کر گئے۔
    بحوالہ موج تسنیم

    تسنیمؔ فاروقی بھوپالی کی شاعری سے انتخاب

    صدیوں لہو سے دل کی حکایت لکھی گئی
    میری وفا گئی نہ تری بے رخی گئی

    دل دے کے اس کو چھوٹ گئے اپنے آپ سے
    اس سے چھٹے تو ہاتھ سے دنیا چلی گئی

    یاد آئی اپنی خانہ خرابی بہت مجھے
    دیوار جب بھی شہر میں کوئی چنی گئی

    اس کو بھی چھیڑ چھاڑ کا انداز آ گیا
    دیکھا مجھے تو جان کے انگڑائی لی گئی

    ناخن کے چاند زلف کے بادل لبوں کے پھول
    کس اہتمام سے تجھے تشکیل دی گئی

    لمحے کو زندگی کے لیے کم نہ جانیے
    لمحہ گزر گیا تو سمجھیے صدی گئی

    تم کیا پیو گے چوم کے رکھ دو لبوں سے جام
    تسنیمؔ یہ شراب ہے کتنوں کو پی گئی

    عکس زنجیر پہ جاں دینے کے پہلو دوں گا
    کچھ سزا تجھ کو بھی اے شاہد گیسو دوں گا

    اپنے گھر سے تجھے جانے نہیں دوں گا خالی
    مجھ کو ہیرے نہیں حاصل ہیں تو جگنو دوں گا

    زندگی تجھ سے یہ سمجھوتہ کیا ہے میں نے
    بیڑیاں تو مجھے دے میں تجھے گھنگھرو دوں گا

    مجھ کو دنیا کی تجارت میں یہی ہاتھ آیا
    میں نے آنسو ہی کمائے تجھے آنسو دوں گا

    میں ہوں دریا مجھے خدمت میں لگے رہنا ہے
    میں اگر سوکھ بھی جاؤں گا تو بالو دوں گا

    میں تو اک پیڑ ہوں چندن کا مجھے جسم نہ جان
    تو مجھے قتل بھی کر دے گا تو خوشبو دوں گا

    پہلے کچھ بانٹ اصولوں کے بنا لو تسنیمؔ
    جس میں کردار تلیں میں وہ ترازو دوں گا

    دل وہ جس کے آئینے میں عکس آئندہ رہا
    تیرہ دامن منزلوں میں بھی درخشندہ رہا

    آہ آوارہ کی صورت روح گل پیاسی رہی
    پھول خوشبو بن کے شبنم کے لئے زندہ رہا

    ہائے وہ اک مفلس و بے خانما جو عمر بھر
    سایۂ دیوار اہل زر کا باشندہ رہا

    کون ہم سے چھین سکتا ہے محبت کا مزاج
    پتھروں میں رہ کے بھی یہ نقش تابندہ رہا

    زندگی سے یوں تو سمجھوتہ کیا سب نے مگر
    جس نے جینے کی قسم کھائی وہی زندہ رہا

    کائنات نور و ظلمت ہے مرا اپنا وجود
    روشنی میں بھی مرا سایہ نمائندہ رہا

    جانے کیا کیا کہہ گیا اس سے مرا حسن سکوت
    دیر تک وہ میرے چپ رہنے پہ شرمندہ رہا

    حادثے تو اور بھی تسنیمؔ سے الجھے مگر
    اک ترا غم تھا جو ہر عالم میں پایندہ رہا

  • 19 نومبر بچوں کے ساتھ زیادتی کی روک تھام کا عالمی دن

    19 نومبر بچوں کے ساتھ زیادتی کی روک تھام کا عالمی دن

    19 نومبر بچوں کے ساتھ زیادتی کی روک تھام کا عالمی دن

    پاکستان میں بچوں کو مختلف قسم کی زیادتیوں کا خطرہ ہے جن میں چائلڈ لیبر، جسمانی سزا، بچوں سے جنسی زیادتی، بچوں کی شادیوں سمیت دیگر روایات وغیرہ شامل ہیں۔اگرچہ بچپن کی شادی لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو متاثر کرتی ہے لیکن پاکستان میں لڑکیوں کے متاثر ہونے کا امکان نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ این سی آر سی سے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈیموگرافک ہیلتھ سروے 17۔2018 کے مطابق 29 خواتین کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے ہوجاتی ہے جبکہ مردوں میں یہ شرح 5فیصدہے۔ پاکستان میں 12.5 ملین سے زیادہ بچے یا تقریباً 16فیصدبچے مزدوری پر مجبورہیں ان میں سے 13تا14فیصد بچوں کی عمریں 5 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے لیکن یہ رواج پورے ملک میں ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پرتشدد نظم و ضبط پورے ملک میں ایک وسیع مسئلہ ہے۔ پنجاب میں پرتشدد نظم و ضبط کے بارے میں 17۔2018 کے MICS سروے کے مطابق 14 سال تک کی عمر کے81فیصد بچوں کو گزشتہ چند مہینوں میں کسی نہ کسی شکل میں جسمانی تشدد اور 74فیصد کو نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان میں پیدائش کا اندراج ایک بڑا سماجی مسئلہ ہے کیونکہ ملک میں پیدائش کے اندراج کے ایک جامع اور موثر نظام کا فقدان ہے۔

    قانونی شناخت کے بنیادی انسانی حق کا تحفظ اور خاص طور پر بچوں کا تحفظ خطرے میں ہے۔ بچوں کے حقوق سے متعلق قومی کمیشن (این سی آر سی) کی چیئرپرسن افشاں تحسین نے بچوں کے ساتھ زیادتی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ بچوں سے زیادتی بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ان میں سے ایک ہے۔ بچوں کی زندگی، بقا، ترقی اور شرکت کے حقوق کو لاحق خطرات۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کو یقینی بنانا خاص طور پر اہم تھا کیونکہ پاکستان کے پاس مواقع کی ایک منفرد کھڑکی ہے جہاں “نوجوان” پاکستان کے مستقبل کا صحیح معنوں میں تعین کر سکتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ اب عمل کرنے کا وقت ہے ـ مزید برآں، محترمہ تحسین نے کہا کہ این سی آر سی نے پاکستان میں بچوں کے حقوق کی مختلف خلاف ورزیوں کا تجزیہ کیا ہے اور سٹریٹ چلڈرن، بچوں کی شادیوں، جبری تبدیلی، چائلڈ ڈومیسٹک لیبر، جوینائل جسٹس سسٹم وغیرہ کے بارے میں پالیسی بریف جاری کیے ہیں تاکہ ان خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے اور ان کے تدارک کے لیے اقدامات کی سفارش کی جا سکے۔ حکومت پاکستان نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں لیکن پاکستان میں مسائل کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے یہ کافی نہیں ہیں اور فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
    عمران خان کی طرف سے توشہ خانہ کی مزید دو گھڑیاں بیچنے کے ثبوت سامنے آگئے
    قوانین کا نفاذ اور نفاذ کا طریقہ کار صوبے سے دوسرے صوبے میں مختلف ہوتا ہے، لیکن مجموعی طور پر نفاذ ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔ بچوں کے لیے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر علیحدہ وزارت،محکمے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی کابینہ میں بچوں کے لیے مشیر مقرر کیے جائیں جو پاکستان میں تقریباً نصف بچوں کے تحفظات کی وکالت کر سکیں۔دنیا 20 نومبر کو یونیورسل چلڈرن ڈے بھی مناتی ہے۔ بچے کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی وسیلہ ہوتے ہیں: مستقبل کی خوشحالی، ہم آہنگی اور تخلیقی صلاحیتوں کا انجن ہیں. یونیورسل چلڈرن ڈے کے موقع پر، این سی آر سی کے چیئرپرسن نے بتایا کہ کمیشن بچوں کے حقوق کو کنٹرول کرنے والے قوانین کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، اور بچوں کے تحفظ کے قوانین کے نفاذ کی وکالت کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے گا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ لابنگ کرے گا۔ وفاقی حکومت نے فروری میں جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے تحت نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ ایکٹ، 2017 (2017 کا XXXII) کے سیکشن 3(1) کے ذریعے عطا کردہ اختیارات کے استعمال میں بچوں کے حقوق پر قومی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ 28، 2020۔ کمیشن کے پاس بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اور این سی آر سی ایکٹ 2017 میں درج بچوں کے حقوق کے فروغ، تحفظ اور تکمیل سے متعلق امور کے لیے ایک اعلیٰ مینڈیٹ ہے۔

  • آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:دیکشا گروور چلانہ

    آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:دیکشا گروور چلانہ

    لاہور:آج دنیا بھرمیں مردوں کا عالمی دن منایا جارہاہے،اس کے باوجود مرد مسائل کا شکارہیں:اس حوالے سے مردوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں کہ اس دن کے منانے کا مقصد تو تھا کہ مردوں کی صحت،ان کی ضروریات ، ان کے احساسات اور ان کے جزبات کا خیال رکھا جاتا مگرہمارے ہاں معاملات بالکل الٹ ہیں

    ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں کہ اس وقت 90 فیصد ایسے مرد بھی معاشرے میں موجود ہیں کہ جن کودوسروں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ان کو کوئی پوچھتا تک نہیں ،ان کی مالی مدد ہونی چاہیے تھی لیکن کوئی نہیں کررہا ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ گھروں میں محصور ہیں اور اپنے خیالات اور جزبات کسی تک شیئر نہیں کرسکتے

    ماہرخاتون دیکشا گروور چلانہ کا کہنا تھا کہ اس وقت صورت حال ہے کہ مردوں کی بڑی تعداد شوگر،کینسر اور دیگر کئی دوسری موذی بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ وہ اپنی صحت کے حوالے سے کچھ کرسکیں

    بھارت میں تو ایسی ہزاروں مثالیں ہیں‌کہ مرد خودکشیوں پر مجبور ہیں ، مگرحکمران ہیں کہ جن کو پرواہ تک نہیں اور وہ اپنے مردوں کے خیالات ، ان کے احساسات اور ان کے جزبات کااحترام نہیں کرتے ، ہے تو یہ مردوں کا عالمی دن مگرہمارے مرد اب بےچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں‌،مگرکب تک

    دیکشا گروور چلانہ کہتی ہیں‌کہ مَردوں کا عالمی دن منانے کا مقصد ہے کہ مرد بھی اپنی صحت پر ذرا توجہ دیں۔ حالیہ کچھ برسوں میں مَردوں میں ذہنی مسائل کے باعث خودکشی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے، جن کی زیادہ تر تعداد 45 برس سے کم عمر کے مردوں کی ہے۔

    مرد خواتین کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، پھیپھڑوں کے امراض، منہ کا کینسر اور پروسٹیٹ کینسر کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔

     

    ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مرد کو چاہیے کہ اپنی پریشانیوں سے متعلق اہل خانہ سے بات کریں،

    یاد رہے کہ مردوں کا عالمی دن ہر سال19 نومبر کو منایا جاتا ہے۔یہ دن پہلی مرتبہ 19 نومبر 1999 کو منایا گیا تھا۔ صنفِ نازک کے حقوق کیلئے یوں تو ہرسال 8مارچ کو خواتین کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ تاہم، مردوں کے عالمی دن کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں مردوں کے مثبت کردار اور ان کو لاحق مسائل کے تئیں بیداری لانا ہے۔ یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ مرد خود اور اپنے زیر تربیت نوجوانوں کو مرد ہونے کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریاں ، مثبت کردار اور اقدار کے بارے میں سکھائیں ۔ اس دن اس بات پر بھی گفتگو کی جاتی ہے کہ مردوں کو بھی ذہنی مسائل لاحق ہوسکتے ہیں جس کی وجہ خودکشی کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

    19نومبر کو مردوں کو اس بات کی بھی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو چھپانے کے بجائے ان کا اظہار کریں تاکہ ان کے ذہنی مسائل میں کمی آسکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ۵؍ بیماریاں ایسی ہیں جو خواتین کی نسبت مردوں کو اپنا زیادہ شکار بناتی ہیں ۔ ان میں ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، پھیپھڑوں کے امراض، منہ کا کینسر اور پروسٹیٹ کینسر شامل ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اطراف موجود مردوں کی ضروریات اور ان کے احساسات کا خیال کریں ۔ان سے بات چیت کر کے انہیں قائل کریں کہ بحیثیت مرد ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے جذبات چھپائے رکھیں اور حالات کا جبر تنہا جھیلتے رہیں

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 میں پاک فضائیہ کا اسٹال فاتح قرارپایا

    بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 میں پاک فضائیہ کا اسٹال فاتح قرارپایا

    بین الاقوامی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2022 میں پاک فضائیہ کا اسٹال فاتح قرارپایا.

    بین الاقوامی دفاعی نمائش ’’آئیڈیاز 2022 ‘‘میں پاک فضائیہ کے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اسٹال کو فاتح قرار دیا گیا۔ اے پی پی کے مطابق پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق بین الاقوامی دفاعی نمائش اور سیمینارز، آئیڈیاز 2022 کا گیارہواں ایڈیشن کراچی ایکسپو سینٹر میں اختتام پذیر ہوگیا ۔ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے نام پرپی اے ایف کےسٹال نےبہترین سٹال کا اعزازحاصل کیا جو پی اے ایف کی پوری ٹیم کی محنت اور اس کےعزم کااظہار ہے۔

    آئیڈیاز 2022 کے چار روزہ شو کے دوران پی اے ایف کاسٹال نمائش میں شریک ملکی اور غیر ملکی وفود سے داد وصول کرتا رہا ہے۔این ا ے ایس ٹی پی (NATSP) چیف آف ایئر سٹاف کے وژن کے مطابق اور پی اے ایف کے اقدام کے مطابق ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا، جس کا مقصد ہوابازی، خلاء میں ڈیزائن، تحقیق، ترقی اور اختراعات کی پرورش کے لیے ضروری عناصر کا ایکو سسٹم فراہم کرنے کے لیے انڈسٹری‘اکیڈمیا لنکیج کا قیام ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
    فراڈ کر کے ارب پتی بننے والی امریکی خاتون الزبیتھ ہومز کو 11 سال قید کی سزا
    لیما ایئرپورٹ: ٹیک آف کے دوران طیارہ حادثے کا شکار، دو فائر فائٹرز جاںبحق
    واضح رہے کہ آئیڈیاز 2022 میں 64 ممالک کے تقریباً 285 غیر ملکی دفاعی وفود نے شرکت کی جو اس نمائش کی منفرد اہمیت کا عکاس ہے۔آئیڈیاز2022کے میگا ایونٹ میں ناسٹپ( NASTP )نے پاکستان ایئر فورس کو اپنے پراجیکٹس کو دنیا بھر کے سامنے دکھانے کا موقع فراہم کیا اور غیر ملکی دفاعی تعاون کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔

  • امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات

    امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات

    واشنگٹن:امریکی صدر جوبائیڈن توالیکشن مہم کے قابل ہی نہیں:اہم امریکی شخصیت کے بڑے انکشافات ،اطلاعات کے مطابق سابق امریکی نمائندہ اور تجربہ کار، تلسی گبارڈ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

    فاکس نیوز پر ایمی ایوارڈ یافتہ براڈکاسٹ جرنلسٹ ٹکر کارلسن کےساتھ ایک پروگرام میں گیبارڈ نے کہا کہ جو بائیڈن کا ایشیا کا حالیہ دورہ "منصوبہ بندی پر نہیں تھا”۔ گبارڈ نے کہا کہ آسیان سربراہی اجلاس کے لیے کمبوڈیا میں ہونے کے باوجود بائیڈن کو یقین تھا کہ وہ کولمبیا میں ہیں۔

    امریکی صدر کی خطرناک بیماری کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کانگریس کی سابق خاتون نے دلیل دی کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے، اس حالت میں‌ صدر نہ صرف امریکہ کے لیے بلکہ باقی دنیا کے لیے بھی "بہت زیادہ نتیجہ خیز فیصلے” کر رہے ہیں۔

    "یہ واقعی افسوسناک ہے کیونکہ وہ ریاستہائے متحدہ کے صدر ہیں۔ وہ بہت زیادہ نتیجہ خیز فیصلے کر رہے ہیں۔”

    طبی ماہر ڈاکٹر مارک سیگل جو شو میں بطور مہمان پیش ہوئے امریکی انتخابات سے متعلق بائیڈن کے مستقبل کے بارے میں گبارڈ کی غیر یقینی صورتحال کی بازگشت کو ڈاکٹر سیگل نے کہا کہ "یہ ایک ڈاکٹر کے طور پر میرے لیے خطرے کی گھنٹی کا اشارہ ہے، یہاں کیا علمی مسائل چل رہے ہیں؟”یہ پریشانی سے کم نہیں‌

    سیگل نے مزید کہا کہ "میں ڈاکٹر کیون او کونر اور دیگر ڈاکٹروں سے پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے ان کا معائنہ کیا ہے کہ سالانہ جسمانی چیک اپ کرتے ہیں‌تو انہوں نے صدر کی صحت کے حوالے سے پہلے آگاہ کیوں نہیں کیا؟ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یاد رکھیں، امریکہ جیسی سپر پاور کے صدر کی اس کیفیت کو ہم دنیا کے سامنے کھول رہے ہیں‌ جوکہ بدنامی کا سبب بنے گا

    ڈاکٹرسیگل کا کہنا تھا کہ ان حالات میں دشمن کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ہم ابھی تک اپنے صدر کی صحت کے حوالے سے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کررہےہیں، اس سے بڑھ کرنااہلی نہیں ہے ، اس پر جلد قابو پانا چاہے اور امریکی صدر کے دنیا بھر کے دوروں سے پہلے صدر کی صحت کو بہتر انداز سے ڈیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • گرمیوں میں بجلی تو سردیوں میں گیس کا بحران، عوام کی مشکلات میں اضافہ

    گرمیوں میں بجلی تو سردیوں میں گیس کا بحران، عوام کی مشکلات میں اضافہ

    گرمیوں میں بجلی تو سردیوں میں گیس کا بحران، عوام کی مشکلات میں اضافہ؛ گیس کی طلب اور رسد میں فرق ایک ہزار ایم ایم سی ایف ڈی سے تجاوز کرگیا.

    گرمیوں میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بعد اب عوام سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ سے پریشان ہیں۔ ملک میں ابھی ٹھیک سے سردیاں آئی بھی نہیں لیکن گیس بحران نے عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ملک میں گیس کی طلب اور رسد میں فرق ایک ہزار ساٹھ ایم ایم سی ایف ڈی سے تجاوز کرگیا ہے. وزارت توانائی کی جانب سے رواں موسم سرما میں گھریلو صارفین کو یومیہ 8 گھنٹے گیس کی فراہمی کمی قیین دہانی کرائی جارہی تھی لیکن صورت حال یہ ہے کہ خیبر پختون خوا اور پنجاب کے بعد اب سندھ اور بلوچستان کے بیستر علاقوں میں بھی یومیہ 8 گھنٹے تو دور کی بات 6 گھنٹے کیلئے گیس فراہمی کے بھی لالے پڑگئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
    دوسری جانب ایل پی جی کے دام بھی ؤسمان کو چھورہے ہیں، جس کی وجہ سے غربت کی چکی میں پسے عوام دہری مشکل کا شکار ہیں۔ گیس پریشر میں کمی کا سامنا کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ صبح سویرے گیس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ ناشتہ بھی تیار نہیں کیا جا سکتا، جس کی وجہ سے یا تو مجبوراً باہیر سے ناشتہ لینا پڑتا ہے یا پھر ایل پی جی سلنڈر پڑتا ہے ، دونوں صورتوں اضافی اخراجات ان کا سارا بجٹ درہم برہم کررہے ہیں۔ پشاور، حیدرآباد اور کوئٹہ سمیت بعض مقامات پر گیس کے کم پریشر اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف عوام نے سڑکوں پر آکر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

  • بھارت کے کشن گنگا اور ریٹلی ہائیڈرو منصوبے پر پاکستانی اعتراض سماعت کيلئے قبول

    بھارت کے کشن گنگا اور ریٹلی ہائیڈرو منصوبے پر پاکستانی اعتراض سماعت کيلئے قبول

    بھارت کے کشن گنگا اور ریٹلی ہائیڈرو منصوبے پر پاکستانی اعتراض سماعت کيلئے قبول؛ عالمی بينک دونوں منصوبوں کے ڈيزائن 21 نومبر کو ثالثی عدالت کے حوالے کرے گا

    بھارت کے کشن گنگا اور ریٹلی ہائیڈرو منصوبے پر پاکستاني اعتراض کو سماعت کيلئے قبول کر ليا گيا۔ بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کو عالمی فورم پر بڑی کامیابی مل گئی ہے اور بھارت کے کشن گنگا اور ریٹلی ہائیڈرو منصوبے پر پاکستانی اعتراض کو سماعت کيلئے قبول کر ليا گيا ہے۔ عالمی بينک دونوں منصوبوں کے ڈيزائن 21 نومبر کو ثالثی عدالت کے حوالے کرے گا۔

    پاکستان کی جانب سے قانونی اور آبی ماہرين پر مشتمل وفد آج واشنگٹن روانہ ہوگا، وفد میں سیکرٹری آبی وسائل،انڈس واٹر کمشنر اور ماہرین شامل ہوں گے، جب کہ ڈیزائن اور اعتراضات کی دستاویزات حوالگی تقریب ميں بھارتی وفد بھی شريک ہوگا۔ پاکستان نے متنازع ڈیزائن پر 2016 ميں عالمی بينک سے رجوع کيا تھا، اور عالمی بینک نے 5 سال کے بعد اکتوبر 2021 کو ثالثی عدالت تشکیل دی۔ بھارت نے معاملہ مل جل کر حل کرنے کی تجويز دی تھی، لیکن پاکستان نے بھارت کے ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر يہ تجویز مسترد کر دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
    واضح رہے کہ بھارت دریائے جہلم پر 330 میگا واٹ کا کشن گنکا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، اس ڈیم میں بھارت 7 لاکھ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرے گا، جب کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ڈیم میں ایک لاکھ کیوبک میٹر سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہو۔ پاکستان نے ڈیم کے اسپل ویز کی چوڑائی پر بھی اعتراض کر رکھا ہے۔ دوسری جانب بھارت دریائے چناب پر بھی 850 میگاواٹ کا ریٹلی ڈيم بھی تعمیر کر رہا ہے ، اور اس ڈیم میں ایک کروڑ 40 لاکھ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنا چاہتا ہے، جب کہ یہاں پر پاکستان کا مؤقف ہے ذخیرہ کی گنجائش 8.8 ملین کیوبک میٹر سے زیادہ نہ ہو۔

  • پی ٹی آئی لانگ مارچ؛ جی ٹی رو ڈ پر ایف سی کے دستے پہنچ گئے

    پی ٹی آئی لانگ مارچ؛ جی ٹی رو ڈ پر ایف سی کے دستے پہنچ گئے

    لانگ مارچ اور اس سلسلے میں نکلنے والی ریلیوں کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جب کہ اسلام آباد انتظامیہ نے جی ٹی رو ڈ پر ایف سی کے دستے پہنچا دیے ہیں۔

     پاکستان تحریک انصاف کا حقیقی آزادی لانگ مارچ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوگیا جب کہ مرکزی کنٹینر اسلام آباد سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر پہنچ چکا ہے۔ لانگ مارچ اور اس سلسلے میں نکلنے والی ریلیوں کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جب کہ اسلام آباد انتظامیہ نے جی ٹی رو ڈ پر ایف سی کے دستے پہنچا دیے ہیں۔ علاوہ ازیں اسلام آباد پولیس کی واٹر کینین اور اینٹی رائٹ دستے بھی ٹی چوک روات پہنچ چکے ہیں۔ راولپنڈی انتظامیہ نے بھی پی ٹی آئی لانگ مارچ کے سلسلے میں روات کے قریب تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ اس حوالے سے جی ٹی روڈ کو لاہور سے راولپنڈی بند کردیا گیا ہے۔ عمران خان کا بلٹ پروف کنٹینر بھی جی ٹی روڈ پر کھڑا کردیا گیا ہے۔ تمام پٹرول پمپس ٹینٹ لگا کر بند کرنے کے علاوہ ہوٹلز و دیگر کاروباری مراکز بھی بند کردیے گئے۔ بندشوں کے باعث راولپنڈی جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہیں، جس سے شہریوں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

    دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری نے اپنے ٹوئٹر بیان میں کہا ہے کہ حقیقی آزادی مارچ کا دوسرا مرحلہ روات کے مقام سے راولپنڈی شہر میں داخل ہونے کے لیے پہنچے گا۔ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے اس شاندار مہم کی نگرانی کی۔ آج دونوں قافلے روات کے مقام پر ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آخری مرحلہ آ گیا ہے، تیار رہیں،عمران خان آج عوام کو راولپنڈی پہنچنے کی کال دیں گے۔ دوسری جانب اسلام آباد انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو کورال چوک سے روات تک ریلی کی اجازت دے دی ہے، جس کا این او سی پی ٹی آئی اسلام آباد ریجن کے صدر علی نواز اعوان کی ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کے بعد جاری کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد سے تمام چھوٹی ریلیاں کورال چوک پر جمع ہوں گی جب کہ مرکزی ریلی کی قیادت ریجنل صدر علی نواز اعوان کریں گے۔ اسلام آباد ریجن کے شرکا روات میں آزادی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
    راولپنڈی پولیس نے لانگ مارچ، ریلیوں اور جلسے کے حوالے سے ایلیٹ کمانڈوز، ڈولفن فورس، ضلعی پولیس اور دیگر یونٹس کے 10 ہزار سے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی پر مامور کیے ہیں جب کہ ٹریفک انتظامات کے لیے ٹریفک پولیس کے 750 افسران و اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق پی ٹی آئی ریلی کو پرامن بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے 35 شرائط رکھی ہیں۔ ریلی کی اجازت صرف کورال چوک سے روات تک کے روٹ کے لیے دی گئی ہے۔ریڈ زون اور دیگر علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ رہے گا اور کوئی بھی سڑک کسی طرح سے بلاک کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    شرائط کے مطابق سرکاری اور نجی املاک کو ہرگز نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ریلی کے لیے اسلام آباد کیپٹل پولیس باقاعدہ ٹریفک پلان جاری کرے گی۔ریاست، مذہب، نظریہ پاکستان کے خلاف نعروں اور تقریروں کی اجازت نہیں ہوگی۔ریلی میں ہتھیار، اسلحہ اور ڈنڈے وغیرہ لانے پر کارروائی ہوگی اور شرائط کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔