نیویارک :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ بحران یمن کا راہ حل فوجی نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گزشتہ روز ایک بیان جاری کیا جس میں مصروف جنگ فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں وسیع جنگ بندی کے موضوع پر مذاکرات کو جاری رکھیں، اس طرح جنگ بندی کو ایک دائمی جنگ بندی میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
سلامتی کونسل کے اراکین نے کہا کہ وسیع جنگ بندی ایک جامع سیاسی راہ حل کی زمین ہموار کر سکتی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے ہر قسم کی پیشگی شرط کے بغیر طرفین کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں دوطرفہ مذاکرات کو جاری رکھنے کی اپیل کی۔سلامتی کونسل کے بیان میں یمن میں انسانی المیہ اور بھکمری کے خطرات کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک یمنی عوام کے لئے انسان دوستانہ بنیادوں پر مالی امداد فراہم کریں۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمن میں جنگ بندی کو نافذ کیا جا چکا ہے جس کی مدت میں دو مرتبہ توسیع بھی کی جا چکی ہے مگر جارح سعودی اتحاد کی طرف روزانہ کی بنیادوں پر اسکی وسیع خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
صنعا حکومت بارہا اس صورتحال پر اپنا اعتراض درج کرا کر یہ واضح کر چکی ہے کہ برائے نام جنگ بندی سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا اور اقوام متحدہ کی خاموشی اور نرمی کے باعث سعودی اتحاد مستقل بنیادوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ اسکے تقاضوں کو بھی پورا کرنے سے گریز کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی اتحاد نے 2015ء میں یمن پر شدید فضائی گولہ باری، میزائل حملوں اور زمینی افواج سے جنگ کا آغازکیا تھا جو سات سال گزرنے کے بعد آج بھی جاری ہے تاہم اتحاد اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
نیب قانون میں ترمیم سے راجا پرویز اشرف کو بڑا ریلیف مل گیا ہے.
احتساب عدالت نے نیب قانون میں ترامیم اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے خلاف 6 ریفرنسز 7 سال بعد نیب کو واپس بجھوادیئے۔ اسلام آباد میں احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے اسپیکر قومی اسمبلی پرویز اشرف کے خلاف 6 رینٹل پاور ریفرنسز نیب کو واپس بجھوادیئے۔
واپس کیے گئے ریفرنس میں ریشماں، گلف، سمندری، رتوڈیرو، کارکے اور ستیانہ رینٹل پاور ریفرنسز شامل ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد رینٹل پاور کیسز کا ٹرائل نہیں ہوسکتا۔ راجا پرویز اشرف نے 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے لئے کرائے کی بجلی گھروں (rental power projects) کا منصوبہ پیش کیا تھا۔
رینٹل پاور پراجیکٹس میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی خب ریں تھیں، اس حوالے سے راجا پرویز اشرف اور دیگر لوگوں پر مختلف ریفرنسز دائر کئے گئے تھے۔ رواں برس کے اوائل میں احتساب عدالت نے راجہ پرویز اشرف، سابق سیکرٹری شاہد رفیع اور طاہر بشارت چیمہ کے خلاف نوڈیرو پاوور پلانٹ ریفرنس خارج کردیا تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں خبر سامنے آئی تھی کہ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون کو نئے نیب قانون کے تحت احتساب عدالت سے ریلیف مل گیا۔ احتساب عدالت میں جج محمد بشیر جعلی اکاؤنٹس سے جڑے کڈنی ہلز ریفرنس سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی، سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کو ریلیف دے دیا تھا.
سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون طارق محمود سمیت سات ملزمان کو نیب ترمیمی بل کے تحت ریلیف ملا اور عدالت نے نیب سیکنڈ ترمیمی ایکٹ 2022 کے تحت ریفرنس واپس لینے کا حکم دے دیا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے درخواستوں پر فیصلہ سنایا اور کہا کہ نیب ترمیمی بل کے تحت ریفرنس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
واضح رہے کہ ریفرنس میں اعجاز ہارون، ندیم مانڈوی والا ، طارق محمود سمیت سات ملزمان نامزد تھے، جنہوں نے نیب ریفرنس کو چیلنج کررکھا تھا، احتساب عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وقت آنے پر عوام سیلابی صورتحال میں سیاست کرنے والوں سے حساب لیں گے.
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا اور سرکاری افسران کو اسلام آباد میں اپنے ٹھنڈے کمروں سے باہر نکل کر عوام میں جانے اور ان کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ عوام یادرکھیں گے کون ان کے پاس آیا اور کون اسلام آباد میں بیٹھا رہا، امید ہے دو تین ہفتوں میں سیلابی پانی اترجائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو پتہ ہے کون سیلاب پر سیاست اور کون خدمت کررہا ہے، وہ خاموش ہیں، لیکن ان کے اندر ناراضی، دکھ اور تکلیف ہے جسے وہ بیان نہیں کرپارہے، وقت آئے گا جب وہ اس بات کا حساب بھی لیں گے اور شاباش بھی دیں گے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کا ذمہ دار نہ ہونے کے باوجود قیمت چکائی، انتونیو گوتریس نے بھی کہا پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے زیراثر ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی ہے اور اس موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات قیمتوں میں اضافے کے متحمل نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج بروز منگل 13 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوا ہے۔ اجلاس میں چھ نکاتی ایجنڈا زیر غور آیا تھا۔ شرکا نے سیلاب کی صورت حال ، امدادی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیا ہے.
اجلاس میں وزیراعظم میان محمد شہباز شریف کو دس ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پیش کی گئی تھی۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے ادویات میں اضافے کی سمری مسترد کردی گئی۔ اور اس بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ جبکہ موجودہ حالات میں ادویات مہنگی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے.
مزید یہ پڑھیں: وزیراعظم میاں محمّد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں اور بجلی کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
جبکہ ایجنڈے کے مطابق حج کوٹہ سے اضافی بکنگ پر تحقیقات سے متعلق فیصلہ بھی آج کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ اجلاس میں الیکٹرک پنکھوں کی کم سے کم بجلی کی لاگت کا معیارمقررکرنے کی سمری بھی پیش کی گئی ہے علاوہ ازیں اس کے علاوہ کابینہ کی کمیٹی برائے قانون سازی کے 2 ستمبر کے فیصلوں کی توثیق کردی گئی ہے۔
خیال رہے کہ آج ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے نجکاری کے 7 ستمبر کے فیصلوں کی توثیق اور کابینہ کمیٹی برائے ای سی سی کے 8 ستمبر کے فیصلوں کی توثیق بھی دی گئی ہے۔
مکہ المکرمہ :ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کی جانب سے عمرہ کرنے کا دعویٰ کرنے والا گرفتار،اطلاعات کے مطابق سعودی حکام نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملکہ الزبتھ دوئم کی جانب سے عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سعودی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ یمنی شہری ہے جس نے پیر کو مکہ کی عظیم الشان مسجد میں سوشل میڈیا پر اپنا ایک ویڈیو کلپ شائع کیا۔کلپ میں، اس نے ایک بینر اٹھا رکھا تھا جس میں لکھا تھا: "ملکہ الزبتھ دوم کی روح کے لیے عمرہ، ہم خدا سے دعا گو ہیں کہ وہ انہیں جنت میں اور صالحین میں قبول کرے۔”
اس فوٹیج کو سعودی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا، ٹوئٹر صارفین نے اس شخص کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔سعودی عرب نے مکہ جانے والے زائرین کو بینرز اٹھانے یا نعرے لگانے سے منع کر دیا۔
اور جب کہ فوت شدہ مسلمانوں کی طرف سے عمرہ ادا کرنا قابل قبول ہے، لیکن اس کا اطلاق ملکہ جیسی غیر مسلموں پر نہیں ہوتا، جو کہ چرچ آف انگلینڈ کی اعلیٰ ترین منتظم تھیں، جو دنیا بھر میں اینگلیکن کمیونین کے مادر چرچ ہیں۔
پیر کو دیر گئے سرکاری میڈیا کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گرینڈ مسجد میں سیکورٹی فورسز نے "یمنی شہریت کے ایک رہائشی کو گرفتار کیا جو مسجد عظیم کے اندر بینر اٹھائے ہوئے ایک ویڈیو کلپ میں نظر آیا، جو عمرہ کے ضوابط اور ہدایات کی خلاف ورزی کرتا تھا”۔
"اسے گرفتار کر لیا گیا، اس کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے اور اسے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔”ملکہ کا انتقال جمعرات کو ہوا اور ان کی آخری رسومات کا منصوبہ 19 ستمبر کو ہے۔
تہران :آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع، اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔
ایران پریس کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح آذربائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس میں کئی آذربائیجانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔
آرمینیا کی وزرات دفاع کے مطابق آذری فوج نے اس کی فوجی پوزیشوں پر صبح پانچ بجے سے آرٹلری، ہیوی توپ خانے اور ڈرون سے بمباری شروع کر دی جس کا آرمینیا کی افواج نے مناسب جواب دیا لیکن آذربائیجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا پر الزام عائد کیا کہ اس کی افواج نے دشکسان، کلباجر اور لاچین کے سرحدی علاقوں میں وسیع پیمانے پر تخریبی کاروائیاں کی ہیں اور آذری فوجی پوزیشنوں پر فائرنگ کی ہے جن میں مارٹر کا استعمال بھی کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے آرمینیا نے آذربائیجان پر اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کا الزام لگایا تھا۔
یاد رہے کہ ایک دوسرے کے جانی دشمن آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان پہلی مرتبہ 1980ء میں لڑائی ہوئی تھی جب یہ دونوں علاقے سابق سوویت یونین کے کنڑول میں تھے جس میں آرمینیا کی افواج نے آذربائیجان سے نگارنوکاراباخ کے علاقے چھین لئے تھے۔
2020ء میں ہونے والی جنگ میں آذربائیجان نے اپنے علاقے واپس چھین لئے تھے اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگوں اور جھڑپوں میں 30,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگا واٹ سے بڑھ گیا۔
باغی ٹی وی : ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار 750 میگاواٹ ہے بجلی کی مجموعی پیداوار 19 ہزار 950 میگاواٹ ہے۔ بجلی کی کل طلب 26 ہزار 700 سو میگاواٹ ہے۔
ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق پانی سے 6 ہزار 700 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور سرکاری تھرمل پلانٹس 660 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار 9 ہزار 400 میگا واٹ ہے۔
ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ونڈ پاور پلانٹس 530 میگا واٹ اور سولر پلانٹس سے پیداوار 162 ہے۔ بیگاس پاور پلانٹس سے 47 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ جوہری ایندھن سے 2 ہزار 668 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں 12 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب فیصل آباد میں پاور لومز مالکان نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر سراپا احتجاج کیا، ان کا کہنا ہے کہ 60 روپے بجلی کا یونٹ انڈسٹری کے لیے ناقابل برادشت ہے اور فیکڑیاں بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
مالکان نے بے روزگار ہونے والے ہزاروں مزدوروں کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر احتجاج ریکارڈ کروایا،پاور لومز مالکان کا کہنا ہے کہ پیدواری لاگت سے خسارے کے بوجھ تلےدبی فیکڑیاں بند ہو رہی ہیں اور ہنر مند بے روزگار ہو رہے ہیں وہ حکومت کو بتا چکے ہیں کہ بجلی کی موجودہ قیمت پر انڈسٹری نہیں چل سکے گی اب فیکڑیاں بند ہو رہی ہیں اور مزدور بے روزگار ہورہا ہے، 60 روپے بجلی کا یونٹ انڈسٹری کے لیے ناقابل برداشت ہے –
اداکارہ صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست واپس لینے پر خارج کردی۔
جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صوفیہ مرزا کی بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک وکیل لاہور سے ایک عدالت میں دلائل دے رہا ہے دونوں وکلاء کی خاتون موکلہ صوفیہ مرزا بھی بار بار مداخلت کر رہی ہے۔
جسٹس سردار طارق نے کہا کہ پہلے فیصلہ کر لیں دلائل کون دے گا، جس فیصلہ کو جوازبنا کر توہین عدالت کی درخواست کی اس پر عمک ہو چکا ہے جبکہ وزیر اعظم نے سمری پر دستخط کردئیے ہیں۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے واضح کیا کہ بچوں کی واپسی کیلئے پوری حکومتی مشینری ہل گئی ہےاوروزارت ِخارجہ بچوں کے یو اے ای سے واپسی کے معاملے پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔
بعدازاں عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو ہر 15 دن بعد بچیوں کی واپسی سے متعلق پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ 29جون 2022 کو ایک خبر سامنے آئی تھی کہ جڑواں بیٹیوں کی حوالگی کا مطالبہ کرنے والی اداکارہ صوفیہ مرزا نے رضا مندی سے بچیاں سابق شوہر کے حوالے کیں تھی شیخ عمر فاروق اور صوفیہ مرزا کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کاپی بھی منظر عام پر آئی تھی، سابق شوہر کا کہنا تھا کہ بچیوں کی حوالگی کیلئے صوفیہ مرزا کو 50 لاکھ روپے ادا کئے تھے۔ دوسری طرف عمر فاروق نے ریڈ وارنٹس اور مقدمات ختم کرنے کیلئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو خط لکھا تھا.
اس سے قبل اداکارہ صوفیہ مرزا کی جانب سے شہزاد اکبر کے ساتھ مل کر اپنے سابق شوہر عمر فاروق کیخلاف مقدمات بنانے کا انکشاف ہوا تھا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بچیوں کی حوالگی سے متعلق معاملے پر ہر حد تک جانے کا اعلان کیا تھا۔
مکہ المکرمہ: سعودی حکام نے ملکہ الزبتھ کی طرف سے عمرے کا دعویٰ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا-
باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے "انڈیپینڈنٹ اردو” کے مطابق سعودی حکام نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ برطانیہ کی آنجہانی ملکہ الزبتھ کی طرف سے عمرہ کرنے مکہ گیا اس یمنی شہری نے مکہ میں اپنی موجودگی کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا تھا۔
اس شخص نے ویڈیو میں ایک بینر تھام رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ ملکہ الزبتھ دوئم کی روح کے لیے عمرہ، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں وہ انہیں صالحین کے ساتھ جنت میں مقام عطا فرمائے۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر بعد ٹوئٹر صارفین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس شخص کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دی گارجئین کے مطابق سرکاری میڈیا کی جانب سے پیر کی شام جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجدالحرام میں سکیورٹی فورسز نے یمنی شہریت رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کیا جو جامع مسجد کے اندر ایک بینر اٹھائے ہوئے ویڈیو کلپ میں نظر آیا۔
اس ویڈیو میں عمرہ کے ضوابط اور ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی تھی اسے رفتار کیا گیا، اس کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے اور اسے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا۔
القوة الخاصة لأمن المسجد الحرام تقبض على شخص ظهر في مقطع فيديو يحمل لافتة داخل المسجد الحرام pic.twitter.com/PrwCywSsFw
سرکاری ٹیلی ویژن نے اس واقعے کے بارے میں کچھ نشریات پیش کیں جن میں ویڈیو کلپ شامل تھا، لیکن بینر دھندلا ہوا تھا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں مکہ جانے والے زائرین پر بینرز اٹھانے یا نعرے لگانے پر پابندی ہے اگرچہ متوفی مسلمانوں کی طرف سے عمرہ کرنا جائز ہے لیکن اس کا اطلاق ملکہ جیسے غیر مسلموں پر نہیں ہوتا جو چرچ آف انگلینڈ کی سپریم گورنر تھیں۔
خواجہ سراؤں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور استحصال و ہراسانی کی حوصلہ شکنی کی غرض سے پاکستانی پارلیمان نے چار سال قبل ایک قانون (ٹرانسجینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ) بنایا تھا، جس پر حال ہی میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق: گذشتہ چند روز کے دوران ٹرانسجینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 کی سوشل میڈیا پر مخالفت اور حمایت دونوں دیکھنے میں آ رہی ہے، جبکہ مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر پر اس قانون میں ترمیم کے لیے ایک ٹرینڈ (#AmendTransgenderLaw) بھی چلایا گیا۔
بحث کا آغاز ماہ رواں کے شروع میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ایک اجلاس کے بعد ہوا، جس میں ٹرانسجینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ میں گذشتہ سال پیش ہونے والا ترامیم کا بل زیر بحث آیا۔ ترمیمی بل کے محرک جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے خیال میں ٹرانسجینڈر افراد کی جنس کے تعین کے لیے میڈیکل بورڈ کا قیام ضروری ہے، جو قانون کے غلط استعمال کی روک تھام میں مدد فراہم کرے گا۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد سے 30 ہزار سے زیادہ مرد و خواتین نے خود کو مخالف جنس کے طور پر ریکارڈ کروایا، جو ٹرانسجینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کے کھلم کھلا غلط استعمال کا ٹھوس ثبوت ہے۔ دوسری طرف ٹرانسجینڈرز کے حقوق کے لیے جدو جہد کرنے والی نایاب علی کے خیال میں طبی معائنہ صرف کسی امیدوار کے بیان پر یا قانون کے توڑے جانے کے شک کی صورت میں ہی ضروری ہونا چاہیے۔ نایاب علی، جو خود ٹرانسجینڈر ہونے کے باعث حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں، نے موجودہ قانون کا دفاع کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دستورِ پاکستان ہر شہری کو وقار کا حق فراہم کرتا ہے، اور جنس کے تعین کی غرض سے صرف ٹرانسجینڈرز کو طبی معائنے کی کوفت سے گزارنا امتیازی سلوک کے زمرے میں آئے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹرانسجینڈر افراد کی تعداد لگ بھگ 10 ہزار بتائی جاتی ہے، جبکہ 2015 میں وفاقی وزارت صحت نے تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی آبادی ڈیڑھ لاکھ تک پہنچنے کا اشارہ دیا تھا۔ خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ٹرانس الائنس کے مطابق 2015 کے بعد سے مختلف واقعات میں 100 کے قریب خواجہ سرا قتل ہوئے، جبکہ تشدد کے دو ہزار مقدمات کا اندراج کیا گیا۔
لاہوار:میں آج کوئی سیاسی گفتگو نہیں کررہا ، نہ ہی میں آج سیاست کو موضوع بنانا چاہتا ہوں مجھے تو فکر ہے کہ جب اس دنیا کے بڑے برے طاقتورملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں توپھر پاکستان کا کیا بنے گا، یہ کہنا تھا سنئر صحافی مبشرلقمان کا جونہ صرف سیاسی امور پر دسترس رکھتے ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی معاملات کو بڑے قریب سے دیکھتے ہیں
سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آج دنیا کے تازہ ترین حالات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن پر نظررکھنا ہر پاکستانی اور خاص کرحکمران طبقے کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے جوملکی مفاد کے حوالے سے عاری نظرآتا ہے، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک طرف اس برطانیہ کی ملکہ کی وفات کی رسومات جاری ہیں جوبرطانیہ دنیا میں ایک بڑا طاقتور ملک تھا لیکن آج اس ملک کا یہ حال ہے کہ وہاںلوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں
مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ، پھرسردی کا موسم بھی آرہا ہے ، اور یورپ کی سردی تو بہت ہی سخت ہوتی ہے جہاں آگ جلانے کے بغیرسردی کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ، جب برطانیہ سمیت یورپ میںایک طرف مہنگائی ہے اور دوسری طرف گیس اور توانائی کے دیگرذرائع کا بحران ہےتو ان کو توتڑپنا یقینی نظر آرہا ہے
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکہ کا بھی یہی حال ہے وہاں مہنگائی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ، وہاں امریکہ میں ایک عام شخص کی تنخواہ دو اڑھائی ہزار ڈالر ہے تو اگر ایک شخص کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کے لیے اس کی تنخواہ کا پچاس فیصد خرچ ہوجائےتو وہ باقی ضروریات کس طرح پوریں کریں گے ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے آجکل وہ کریڈٹ کارڈ کے گرد ہی گھوم رہے ہیں تاکہ ان کو کم سے کم خرچ کرنے پڑیں
سینئرصحافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ اس وقت توانائی کے سخت ترین بحران کا سامنا کررہا ہے اوریورپ کی توانائی کے چشمے روس سے نکلتے ہیں روس یوکرین جنگ کے بعد روس نے اپنی سپلائی لائین بند کردی ہٰیں جس کےبعد یورپ میں سخت اندھیرے چھا جانے کے خدشات ہیں ، سخت سردی ہوتی ہے اس سردی میں زندہ رہنے کےلیے کمروں کو گرم رکھنا ضروری ہے اوریہ صرف گیس سے ممکن ہے جو روس سے آرہی ہے ، اس کے باوجود روس نے یورپ کو گیس کی کچھ مقدار فرااہم کرکے ایک سو ارب ڈالرکما بھی لیے ہیں
دوسری طرف یورپ میں جرمنی کہ جوآج سے دو تین سال پہنے بہت زیادہ ترقی کررہا تھا آج یورپ میںاگرکسی کا بُرا حال ہے تو وہ جرمنی کا ہے ،جس کی معیشت ڈوب رہی ہے ، جس کو توانائی کے بحران کا سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور جرمنی کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ اس مشکل صورت حال سے کسیے بچ پائے گا ،
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بعض لوگوںکا یہ کہنا ہے کہ اگرروس نے یوپر کو جانے والی گیس کی سپلائی منقطع کردی ہے تو یورپ قطر سے گیس لے لے ، ایل پی جی اور این ایل جی قطر کے پاس بہت زیادہ گیس کے ذخائر ہیں
مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں ان کو بتانا چاہتا ہوںکہ قطرسے گیس لینے کے لیے کم از کیم تین سال کا عرصہ درکار ہے اور اس مقصد کےلیے کھربوں ڈالرز بھی چاہیں ، یورپ کے پاس پیسے بھی نہیں ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے ،قطر سے گیس کے لیے پائپ لائنز اور دیگرسسٹمز کو بھی انسٹال کرنے کے لیے بہت وقت درکار ہے ،ان حالات میں روس کے متبادل کے طور پر گیس کی فراہمی بہت ہی مشکل ہے اور ناممکن کے قریب تر ہے
مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ وہ تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ روس یوکرین جنگ میں روس نے ان حالات کا مقابلہ کرنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کررکھی تھی اور وہ اچھے انداز سے آگے بڑھ رہا ہے اوران حالات میں چین بھی روس کا برا حلیف بن کرسامنے آیا ہے . چین روس کے تیل اور گیس کا بڑا خریدار ہے اور چین کو روس کی سلامتی عزیز ہے، آنے والے دنوں میں یورپ کومزید سخت حالات اور مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا
یورپ اپنی سرحدیںکھول کردنیا بھر سے آنے والوں سے پیسے لینے کا کاروبار شروع کرے گا ، کینیڈا پہلے ہی اس قسم کے کاروباری انداز کو اپنا رہا ہے ،
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بھی توانائی کا بحران ہے اور ہمیں اس بحران سے نکلنے کے لیے ہائیڈل پاور پراجکیٹس کو اپنانا ہوگا ، ہاوسنگ سوسائٹیز کے کلچر کو محدود کریںتو زیادہ بہتر ہے ، ہمیں زراعت کے لیے زمینیں بچانی چاہیں ، کھاد کسانوں کو جینئوئن دیں تو ہمارے کسان کو بھی فائدہ ہوگا اور ہماری زراعت بڑے گی پھلے پھولے گی اور جب یہ بہتری آئے گی تو ملک خوشحال ہوگا
پاکستان سے گندم ، گوشت اور ڈالرکی اسمگلنگ جاری ہے ، اگر یہ حالات رہے تو پھر پاکستان کیسے سکون کا سانس لے سکتا ہے ، پاکستان میں فوڈ سیکورٹی سے بھی بہتری آسکتی ہے ، ڈیمز کی کمی کا احساس تو اب قوم کو ہوگیا ہی ہوگا اگرآج کالا باغ ڈیم بنا ہوتا توجس سیلاب نے پاکستان کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ، اتنا پانی تو کالا باغ ڈیم اپنے اندرسمو لیتا ، بجلی بھی بنتی ، زراعت بھی ترقی کرتی ، سیلاب بھی نہ آتے اور ملک بھی خوشحال ہوتا مگر یہ کون کرے گا اگرحکمرانوں کا یہی انداز رہا وہ خود ہی لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہے تو قوم کو کون بچائے گا اس کےلیے قوم کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے