Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • سیلاب سےپاکستانی کسان50سال پیچھےچلاگیا:خصوصی رپورٹ

    سیلاب سےپاکستانی کسان50سال پیچھےچلاگیا:خصوصی رپورٹ

    کراچی :سیلاب سے پاکستانی کسان 50 سال پیچھے چلاگیا ،سیلاب سے پورا ملک ڈوبا ہوا ہے اور پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اب کمزورپڑچکی ہے، کسان اب بھی تباہ کن سیلاب سے اپنے نقصانات گن رہے ہیں جس نے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈال دیا ہے، لیکن طویل مدتی اثرات پہلے ہی واضح ہیں۔

    سندھ کے ایک کسان، اشرف علی بھنبرو کہتے ہیں‌ کہ ، "ہم 50 سال پیچھے چلے گئے ہیں،” جس کی 2500 ایکڑ کپاس اور گنے کی فصل کٹائی کے دہانے پر تھی، اب ختم ہو چکی ہے۔مون سون کی ریکارڈ بارشوں سے آنے والے سیلاب سے 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور سندھ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔

    یہ صوبہ طاقتور دریائے سندھ کے ذریعے دو حصوں میں بٹا ہوا ہے، جس کے کناروں پر کھیتی باڑی صدیوں سے پھل پھول رہی ہے اور آبپاشی کے نظام کے ریکارڈ 4,000 قبل مسیح کے ہیں۔

    صوبہ مقامی طور پر ریکارڈ بارشوں سے بھیگ گیا تھا، لیکن اس پانی کی نکاسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ دریائے سندھ پہلے ہی پورے بہاؤ میں ہے، شمال میں معاون ندیوں سے پھولا ہوا ہے، اور کئی جگہوں پر اس کے کنارے پھٹ چکے ہیں۔بھنبرو نے کہا، "ایک مرحلے پر 72 گھنٹے مسلسل بارش ہوئی،” انہوں نے مزید کہا کہ صرف ان پٹس پر انہیں کم از کم 270 ملین روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    "یہ کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر ہونے والی لاگت تھی … ہم منافع کو شامل نہیں کرتے ، جو کہ بہت زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ایک بمپر فصل تھی۔”جب تک سیلاب زدہ کھیتی باڑیوں کی نکاسی نہیں ہو جاتی، بھنبرو جیسے کسان موسم سرما کی گندم کی فصل نہیں لگا سکیں گے جو کہ ملک کی غذائی تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے۔

    "ہمارے پاس ایک مہینہ ہے۔ اگر اس مدت میں پانی نہیں نکالا گیا تو وہاں گندم نہیں ہوگی،‘‘ سکھر سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع سمو خان ​​گاؤں میں اپنے فارم میں انہوں نے کہا۔پاکستان برسوں سے گندم کی پیداوار میں خود کفیل تھا، لیکن حال ہی میں اس نے درآمدات پر انحصار کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے سٹریٹجک ذخائر کے حصے کے طور پر بھرے ہوں۔

    ان حالات میں جبکہ پاکستان اربوں کا مقروض ہے۔اسلام آباد بہت کم درآمدات کا متحمل ہو سکتا ہے – چاہے وہ روس سے رعایتی اناج خریدے، جیسا کہ زیر بحث ہے۔

    ملک پر غیر ملکی قرض دہندگان کا اربوں کا قرض ہے، اور صرف گزشتہ ہفتے ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو فنڈنگ ​​دوبارہ شروع کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوا جو کہ غیر ملکی قرضوں کو بھی پورا نہیں کر سکتا، سیلاب سے ہونے والے نقصان کے بل کی ادائیگی کو چھوڑ دیں جس کا تخمینہ 10 بلین ڈالر ہے۔

    سکھر سے سمو خان ​​تک ایک بلند شاہراہ پر گاڑی چلاتے ہوئے سیلاب سے ہونے والی تباہی کا چونکا دینے والا منظر پیش کیا جاتا ہے۔کچھ جگہوں پر جہاں تک آنکھ نظر آتی ہے پانی ہے۔ جہاں سیلاب زدہ کھیتوں میں کپاس کی فصلیں نظر آتی ہیں، ان کے پتے بھورے ہو گئے ہیں، جس میں شاید ہی کوئی بیل نظر آئے۔

    سکھر سے 30 کلومیٹر شمال مشرق میں صالح پیٹ کے ایک کسان، لطیف ڈنو نے کہا، ’’آئیے کپاس کو بھول جائیں۔بڑے زمیندار ممکنہ طور پر سیلاب سے باہر نکلیں گے، لیکن دسیوں ہزار کھیت مزدوروں کو خوفناک مشکلات کا سامنا ہے۔

    بہت سے لوگوں کو صرف اس چیز کی ادائیگی ہوتی ہے جو وہ چنتے ہیں، اور صوبے بھر میں بکھرے دیہاتوں میں چھوٹے چھوٹے پلاٹوں پر خوراک اگا کر اپنی کمائی کو پورا کرتے ہیں۔وہ بھی پانی کے نیچے ہیں، اور دسیوں ہزار لوگ اپنے سیلاب زدہ گھروں سے اونچی زمین پر پناہ لینے کے لیے بھاگ گئے ہیں۔

    سعید بلوچ نے کہا، "چننے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا،” جو ہر موسم میں اپنے بڑھے ہوئے خاندان کے افراد کے ساتھ مزدوری کرتے ہیں، اپنی کمائی جمع کرتے ہیں۔
    اس سے صرف کسان متاثر نہیں ہوئے بلکہ سپلائی چین میں ہر ایک کڑی تناؤ محسوس کر رہی ہے۔

    صالح پیٹ کے ایک کپاس کے تاجر وسیم احمد نے کہا، ’’ہم برباد ہو گئے ہیں، جنہوں نے صنعت میں بہت سے لوگوں کی طرح قیمت خرید کو طے کرنے اور مہنگائی اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے بچاؤ کے لیے پیشگی رقم ادا کی۔”200 من (تقریباً 8,000 کلو) کے مقابلے میں، صرف 35 من ہی کاٹی گئی ہے،” انہوں نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ اس نے اپنے کاروبار کو بڑھانے کا منصوبہ بند کر رکھا ہے۔

    کاروباربند ہیں ،فیکٹریاں بھی بند ہوگئیں ، غریب کیا کرے گا اس کو بھی کوئی سمجھ نہیں آرہی ، بس اب تو کوئی معجزہ ہی ہے جواس قوم کومشکل صورتحال سے نکال لے ورنہ کئی سال بحالی میں لگ سکتے ہیں

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • مسلمانوں سے زیادہ کوئی علم کی اہمیت کو نہیں جان سکتا۔ مرزا محمد آفریدی

    مسلمانوں سے زیادہ کوئی علم کی اہمیت کو نہیں جان سکتا۔ مرزا محمد آفریدی

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے نمل یونیورسٹی کے انیسویں کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ مرزا محمد آفریدی نے تقریب سے خطاب کیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میرے لیے نہایت خوشی کی بات ہے کہ میں آج اس خوش قسمت موقع پر آپ سے مخاطب ہوں۔ آج کا دن طلباء ان کے قابل فخر والدین اور ان کے معزز اساتذہ کے لیے ایک عظیم لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں کو مختلف شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔پاکستان کے مستقبل سے خطاب کرنے کا یہ عظیم موقع دوبارہ فراہم کرنے پر ریکٹر نمل یونیورسٹی کا بھی مشکور ہوں۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ آج دوسری بار یہاں آ کر میں اپنے آپ کو ادارے کا حصہ محسوس کر رہا ہوں مجھے یقین ہے کہ آپ کے اساتذہ نے آپ کو تمام چیلنجز کیلئے اچھی طرح سے تیار کیا ہے اب یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ مادر وطن کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ قوم کی خوشحالی کے لیے آپ کو اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرنا ہوگایقین دلاتا ہوں کہ آپ ہماری قوم کا قابل فخر اثاثہ ہیں ہمیں مادر وطن کی بہبود کے لیے بالخصوص اور بالعموم دنیا بھر میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تعلیمی ادارے ملکی ترقی کا ایک اہم ستون ہیں۔ نمل یونیورسٹی تعلیمی ادارے کے طور پر معیار اور کارکردگی کے پہلے درجے میں آتی ہے۔ آپ کی یونیورسٹی آپ کی مستقبل کی کامیابی کا سنگ بنیاد ہے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تعلیمی درسگاہ کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنا سکھاتی ہے جو کھلی آنکھوں سے خواب نہیں دیکھتے انہیں تعبیر ملنا مشکل ہوتا ہے میرے نزدیک علم سے بڑی کوئی خوبی اور دولت نہیں۔علم کی جو دولت آپ کو ملی ہے اسکو ضائع نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ پاک آپ سب طالبِ علموں کو سرخرو کرے۔ تعلیم اور وقت کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔علم کی ہی وجہ سے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ ملا۔مسلمانوں سے زیادہ کوئی علم کی اہمیت کو نہیں جان سکتا۔

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تعلیم کا کوئی نعم البدل نہیں اور اس سے محبت اور لگاؤ ہی انسانیت کا تقاضا ہے اگر انسان کے اندر قابلیت ہو تو اللہ ضرور اسکی مدد کرتا ہے اس خوشی کے دن پر آپ کے اساتذہ بھی ہمارے دلی شکریہ کے مستحق ہیں جو آپ کی زندگی میں کامیابی کے حقیقی منصوبہ ساز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں، یہ اختتام نہیں ہونا چاہیے بلکہ آنے والے دنوں میں ایک روشن مستقبل کا آغاز ہونا چاہیے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں نمل انتظامیہ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے آج آپ سب کے درمیان ہونے کا موقع فراہم کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے کامیاب طلباء میں تعلیمی اسناد اور گولڈ میڈل تقسیم کیے۔ ریکٹر نمل یونیورسٹی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو یادگاری شیلڈ پیش کی اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی نے بھی ریکٹر نمل کو یادگاری شیلڈ پیش کی

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

    احتساب عدالت نے احسن اقبال کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    کیا میں نے کوئی قتل کیا کوئی جوا خانہ بنایا؟ احسن اقبال کا عدالت میں بیان

  • بجلی گھروں سمیت 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ

    بجلی گھروں سمیت 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ

    وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال میں 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔

    رواں مالی سال میں حکومت کا 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ ہے، اور ان میں آر ایل این جی پر چلنے والے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس سرفہرست ہیں۔دستاویزات کے مطابق ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی کی نجکاری مارچ 2023ء تک کی جائے گی،اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری جون 2023ء میں متوقع ہے۔

    سماء ٹی وی کے دعوی کے مطابق: دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ شفافیت یقینی بنانے کیلئے بعض اداروں کا خصوصی آڈٹ کیا جائے گا، سوئی سدرن گیس کمپنی،حیسکو اور پیپکو کا بھی خصوصی آڈٹ ہوگا۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اداروں کی کارکردگی میں بہتری کیلئے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا، اور یہ یونٹ وزارت خزانہ میں جنوری 2023ء تک فعال ہوگا۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ گورنس، شفافیت اور استعداد کار میں بہتری لائی جائے گی۔

    یاد رہے کہ نجکاری کے عمل کی تعریف ماضی بطور وزیر اعظم بھی کرچکے ہیں انہوں نے کہا تھا: وزیراعظم عمران خان نے نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصاً نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا، قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے ساتھ ساتھ اداروں کی کارکردگی کو ان کی استعداد کے مطابق چلانا، اداروں سے بہترین نتائج کا حصول اور مجموعی طور معیشت کی بہتری نجکاری عمل کی اصل روح ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماضی میں بطور وزیر اعظم نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا تھا۔ اجلاس میں اس وقت کے وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی تھی۔ جبکہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف کی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ سندھ میں سیلاب متاثرین کی امداد سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی ،وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ہر طرح سے آپ کی مدد کے لئے حاضر ہے تمام سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے وزیراعظم نے سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لئے سندھ حکومت اور وزیر اعلی کی کارکردگی اور جذبے کو سراہا ہے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے بھرپور تعاون پر وزیراعظم اور وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کیا ،وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لئے آپ کی فکرمندی قابل تعریف اور قابل تحسین ہے، عوام کو مایوس نہیں کریں گے:

    دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیلاب زدہ علاقوں میں نکاسی آب کا سلسلہ جاری ہے سیلاب زدہ علاقوں میں جہاں لوگ پھنسے ہیں انہیں ریسکیو کیا جا رہا ہے ،14 لاکھ سےزائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے ،نقصانات کا پتہ نکاسی آب کے بعد کیاجائے گا،سندھ حکومت ریسکیو اور ریلیف سے متعلق امور پر کام کررہی ہے سندھ میں سرکاری اسکولوں میں بھی متاثرین کو ٹھہرایا گیا ہے،بلاول بھٹو کی جانب سے عالمی سطح پر جو فنڈز ریزنگ ہوئی وہ تاریخ کا حصہ ہے،سیلاب سے جو نقصانات ہوئے ہیں ان کے بارے میں یہ ابتدائی معالومات ہیں ، 14لاکھ 65ہزار 941گھروں کو نقصان ہوا ہے،سندھ میں اب تک 559افراد جاں بحق، 21ہزار 891زخمی ہوئے سندھ میں 6لاکھ 58ہزار 354افراد کیمپوں میں قیام پذیر ہیں حکومت سندھ کی جانب سے اس وقت متاثرین کو 2وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے 44لاکھ 2ہزار 484ایکڑ زمین پر فصلوں کو نقصان پہنچا ،سیلاب سے کپاس کی فصل مکمل طور پرتباہ ہوچکی ہے ،سیلاب سے 100فیصد سبزیاں متاثر ہوئے ہیں سیلاب سے آم کے درختوں کو بھی شدید نقصان ہوا ہے، پاک نیوی،پاک آرمی ،سندھ پولیس اور دیگر ادارے ریسکیو کے عمل میں مصروف ہیں،سیلاب متاثرین کو امداد کی تصدیق کے لیے 03355557362 نمبرزپررابطہ کیا جا سکتا ہے، متاثرین کو امداد کی تصدیق کے لیے02135381810نمبرزپررابطہ کیا جا سکتا ہے،اگر پی ڈی ایم اے سے رابطہ کرکے تصدیق ہوگی تو امداد دہرانے سے بچ جائیں گے، سندھ حکومت نے راشن بیگز کے آرڈر دے دئیے ہیں ،سندھ حکومت راشن ،خوراک ،پانی اور ضروری اشیا کی فراہمی کررہی ہے،سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ تقسیم امداد شفاف طریقے سے جاری رہےمتاثرین سیلاب کی امدا د میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے

    عمران خان خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹرز ستعمال کر رہے ہیں ،

    پرویز الہیٰ نے عمران خان کو "خوش” کرنے کا ایک اور "پروگرام”

     ہیبت علی خان نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دریائے سندھ میں ڈوبتے شخص کی جان بچالی

    بشارت کی حدود میں پیش آنے والا انسانیت سوز واقعہ کے بعد پولیس حکام نے واقعہ کا نوٹس لے لیا

  • پی ٹی آئی وزیر خزانہ ملک دشمن باتیں کر رہے ہیں،یوسف رضا گیلانی

    پی ٹی آئی وزیر خزانہ ملک دشمن باتیں کر رہے ہیں،یوسف رضا گیلانی

    سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹرز ستعمال کر رہے ہیں ،

    سینیٹر یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ عمران خان کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے،ضمنی الیکشن میں عمران خان کا بیانیہ ہار جائے گا،امریکہ کو عمران خان سے کوئی لینا دینا نہیں،جب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہو رہا تھا ہم نے مخالفت کی تھی،آئی ایم ایف کی شرائط کا بوجھ عام آدمی نہیں اٹھا سکتا، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے، پی ٹی آئی وزیر خزانہ ملک دشمن باتیں کر رہے ہیں، دو ہزار دس سے کہیں زیادہ سیلاب تو اب ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ بے یارو مددگار ہیں،پی ٹی آئی والے ملک میں انتشار پھیلا رہے ہیں،عمران خان سڑکوں پر رہنا چاہتے ہیں،

    وفاقی وزیر اور ترجمان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز شازیہ مری کا کہنا تھا کہ افسوس عمران خان کی ڈکشنری میں انسانیت کا کوئی لفظ نہیں ہے، بلاول بھٹو زرداری نے درست کہا ہے کہ عمران پہلے انسان بنے پھر سیاستدان ،عوام مشکلات کے شکار ہیں جبکہ عمران خان محفل موسیقی کر رہے ہیں، بارش اور سیلاب غریبوں عوام کی خوشیاں اور خوشحالی بہا کر لے گیا ہے ،تین کروڑ سے زیادہ پاکستانی بارش اور سیلاب سے بے گھر ہو چکے ہیں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بارش اور سیلاب کیلئے ایک کھرب 33 ارب روپے کا چندہ اکٹھا کیا، اقوام متحدہ اور امریکہ سے وفود پاکستان آ رہے ہیں

    دوسری جانب وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان صرف حکومت کا نہیں ہم سب کا ہے،آج جو حالات ہیں ہم پہلے ہی بھانپ گئے تھے چارٹر آف اکنامی کا کہا مگر ہمارا مذاق اڑایا گیا،اگر ملک کو درست سمت میں چلایا جائے تو بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ یہاں ریاست کے لیے سوچنے والے کم لوگ ہیں،تمام اداروں کو جوابدہ ہونا چاہیے ، ملک کو آئین کے مطابق نہیں چلائیں گے تو یہاں کچھ نہیں ہو گا،افسوس کی بات ہے کہ فیصلے قانون کے مطابق نہیں ہو رہے،اگر اقتصادی ترقی کرنی ہے تو سب کو مل کر چلنا ہو گا

    سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں اس سے بڑی آفت پہلے کبھی نہیں آئی،بلوچستان سے آنے والا پانی پہلے منچھر اور پھر دریا میں جاتا ہے ٹینٹس کیلئے آرڈر دے چکے ہیں لیکن دستیاب نہیں ہیں،سب سے زیادہ نقصان سندھ میں ہوا اور یہاں سب پریشان ہیں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔ شیری رحمان

    عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔ شیری رحمان

    عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، اور 80 اضلاع آفت زدہ ہیں، جب کہ عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بلکہ اپنا بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے 3 کروڑ لوگ متاثر ہوچکے ہیں اور لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں، جب کہ عمران خان جلسوں اور قوم کو انقلاب کیلئے جگانے میں مصروف ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان سیلاب زدگان کو پیغام دے رہے ہیں کہ انھیں بس اپنی سیاست سے غرض ہے، اور انہیں عوام کی مشکلات اور زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں۔

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ ریسکیو کے منتظر ہیں، اور پنجاب حکومت کا ہیلی کاپٹر عمران کو پک اینڈ ڈراپ دے رہا، عمران خان خود غرضی کی عینک اتار کر ملک کی صورت حال دیکھیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ وقت جلسوں کا نہیں بلکہ زندگیاں بچانے کا وقت ہے، لیکن عمران خان اس وقت بھی لوگوں کو نفرت اور انتشار پر اکسا رہے ہیں۔

    دوسری طرف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، حکومت اور مجھے، سب کو مل کر متاثرین کی مدد کرنی ہے۔ روجھان آمد کے موقع پر سابق وزیر اعظم کو سیلابی صورت حال پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے ملک بھر میں تباہی ہوئی ہے۔ سیلاب سے کتنا نقصان ہوا ،اس کا ڈیٹا اکھٹا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کو نقصانات کا ڈیٹا اکھٹا کرناچاہیے، اس سے بحالی کے کاموں میں مدد ملے گی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہزاروں ایکڑ زمین اس وقت پانی میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ سیلاب متاثرین کو مزید امداد کے معاملے پر بات کروں گا۔ سیلاب ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے ،مگر مل کر مشکل سے نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مچھردانیاں فراہم کی جائیں۔ اپنے نمائندوں سے کہتاہوں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جائیں، اس وقت سیلاب متاثرین کو مدد کی ضرورت ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہر جگہ سیلاب سے متاثر ہے ۔ ہمیں ڈیموں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کارکنوں کو نعرے لگانے سے روکتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ نہیں ہے۔ اللہ نے ہمیں بڑے امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں ہر جگہ پانی میں ڈوبی ہوئی ہے، تاہم جب یہ پانی اترے گا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب لوگ اس زمین میں اپنی گندم کاشت کریں گے تو فصل بڑی زرخیز ہوگی۔

  • مظفرگڑھ کے سیلاب متاثرین بے یارومددگار ،پنجاب حکومت عمران خان کو خوش کرنے میں مصروف

    مظفرگڑھ کے سیلاب متاثرین بے یارومددگار ،پنجاب حکومت عمران خان کو خوش کرنے میں مصروف

    شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے ملک بھر میں تباہی مچارکھی ہے، لاکھوں گھر تباہ ہونے کے لوگ پریشان حال ہیں، ہزاروں افراد زخمی اور لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں سیلاب کے باعث وبائی امرایض پھوٹ پڑے ہیں پینے کے لئے صاف پانی دستیاب نہیں-

    باغی ٹی وی : سندھ اور بلوچستان کے علاوہ جنوبی پنجاب میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی ہے جہاں سیلاب متاثرین بے یارومددگار امداد کے منتظر ہیں، لیکن محکمہ صحت کے افسر نے ایک ہفتے تک کسی سیلابی کیمپ کا دورہ تک نہ کیا۔

    عمران خان کا کل گجرات میں جلسہ،پرویزالہیٰ اور مونس انتظامات کا جائزہ لینے پہنچ گئے

    دوسری جانب پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی فکرچھوڑ کرعمران خان کے جلسوں میں مصروف ہے، اور جنوبی پنجاب جہاں سیلاب نے تباہی مچادی ہے، مظفرگڑھ میں قائم کیا گیا فلڈ کنٹرول سیل فعال نہ ہونے کاانکشاف ہوا ہے۔

    محکمہ صحت نے اس حوالے سے جاری کئے گئے مراسلے میں انکشاف کیا ہے کہ مظفر گڑھ میں فلڈ کنٹرول سیل میں کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پرموجود نہیں ہے، اور نہ ہی محکمہ صحت کے کسی ایک افسر نے ایک ہفتے تک کسی سیلابی کیمپ کا دور کیا اور سیلاب میں کام کرنے کے لیے کسی کو گائیڈلائنز جاری ہی نہیں کی گئیں۔

    مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ صحت کے افسر نے ایک ہفتے تک کسی سیلابی کیمپ کا دورہ تک نہ کیا، سیلاب زدگان کے لیے ادویات کے اسٹاک کا کسی کو معلوم نہیں،نہ ادویات کو درست سٹور کیا گیا ہےافسران کی غلطی نے انسانی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔

    محکمہ صحت نے مظفرگڑھ کے افسران کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے، اور معاملے پر تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

    سکھربیراج پر اونچےدرجےکا سیلاب،کوٹری بیراج کی طرف بڑھنے لگا

    واضح رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے ملک بھر میں تباہی مچا رکھی ہے بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک میں24 گھنٹے کے دوران مزید 57 افراد جان کی بازی ہار گئے رپورٹ کے مطابق سیلاب اور بارشوں کے باعث 14 جون سے اب تک ایک ہزار 265 ا موات ہوئیں 12 ہزار 577 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    بارشوں اورسیلاب کےباعث آزاد کشمیرمیں 42،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہارگئے، بلوچستان میں 257،سندھ میں 470،پنجاب میں 188 اور خیبر پختونخوا میں 285 افراد جاں بحق ہوئے 7 لاکھ 35 ہزار 584 مویشی مر چکے ہیں،اب تک بارشوں اور سیلاب سے 14 لاکھ 27 ہزار 39 مکانات کو مکمل اور جزوی نقصان پہنچا،

    رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پلوں کو نقصان پہنچا،پنجاب میں 130 کلومیٹر،خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 589 کلومیٹر شاہرائیں متاثر ہوئیں ،سندھ میں 2 ہزار 328 کلومیٹر شاہرائیں متاثر،60 پلوں کو نقصان پہنچا،بلوچستان میں ایک ہزار 500 کلومیٹر شاہرائیں متاثر،18 پلوں کو نقصان پہنچا-

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    یونیسیف پاکستان کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلاب نے ایک صدی کاریکارڈ توڑ دیا ہے،ملک کے کچھ صوبوں میں 30 سال کی اوسط سے 5 گناہ زیادہ بارش ہوئی بارشوں اور سیلاب سے 400 بچوں سمیت ایک ہزار 200 افراد جاں بحق ہوئے پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے 11 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا، پانی سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں کے مزید تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے ڈائریا ،ہیضہ، ڈینگی،ملیریاپھیلنے کے زیادہ خدشات ہیں-

  • شوکت ترین جیسے ملک دشمن  کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے. ن لیگی رہنما جاوید لطیف

    شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے. ن لیگی رہنما جاوید لطیف

    شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے.

    مسلم لیگ ن کے رہنماء میاں جاوید لطیف کا شوکت ترین کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے. ملک کو دیوالیہ کرنے، سری لنکا بنانے کی پلاننگ آڈیو لیک میں بےنقاب ہو چکی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین میڈیا پر بیٹھ کر بھاشن دے رہے ہیں.

    واضح رہے کہ سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ستمبر 2022 تک آئی ایم ایف کی چھٹی کرادینی تھی کیوں کہ آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔ کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے شوکت ترین نے سخت انداز میں آئی ایم ایف پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف تو اپنا چورن بیچتا رہے گا اور کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔

    انھوں نے کہا کہ جنوری 2022 تک ہمارے لئے یہ ہی آئی ایم ایف بہت اچھی رپورٹ دے رہا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں ہم آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے لیکن موجودہ حکمران بالکل لیٹ گئے ہیں۔ شوکت ترین نے تجویز دی کہ اب حکومت یہ کرے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے اور کہیں کہ ملک میں سیلاب کے باعث ہمیں عوام کو ریلیف دینا ہے، آئی ایم ایف سے شرائط نرم کروائی جائیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ روس سمیت جہاں سے سستا تیل مل سکتا ہے اس کو حاصل کرنا چاہئے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھا کر ٹیکس ریونیو بڑھایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین کو غدار کہنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ شوکت ترین پاکستان کیلئے تھائی لینڈ سے ایک ملین ڈالر کی نوکری چھوڑ کر آیا۔ اپنی آڈیو سے متعلق انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے اورمیری گفتگو ٹیپ کرنا غیرقانونی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ کے ساتھ گفتگو کٹ اینڈ پیسٹ اور ڈاکٹرڈ تھی۔اس لیک ٹیپ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور وقت آنے پر یہ کارروائی کروں گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ٹیپ خود لیک کرکے آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں ڈالا اور اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو یہ آڈیو ایسے موقع پر لیک نہ کی جاتی،یہ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام پر بہت کچھ بول چکے ہیں تو ہم نے تو انہیں غدار نہیں کہا تھا۔

  • امریکہ نے تائیوان کے لیےمزید1 ارب 10 کروڑ ڈالرکا جدید اسلحہ روانہ کردیا

    امریکہ نے تائیوان کے لیےمزید1 ارب 10 کروڑ ڈالرکا جدید اسلحہ روانہ کردیا

    بیجنگ:امریکا نے تائیوان کے لیے 1 ارب 10 کروڑ ڈالر کے آرمز پیکج کا اعلان کر دیا۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکا نے تائیوان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کی منظوری دے دی جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے تائیوان کے لیے سب بڑا اسلحہ پیکج ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان 60 ہرپون بلاک ٹو میزائل کی خریداری پر 355 ملین ڈالر خرچ کرے گا۔ اس سسٹم کے ذریعے سمندر کے راستے کسی بھی حملے کو ناکام بنایا جاسکے گا۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسلحہ پیکج میں 856 ملین ڈالر کے 100 سے زائد سائیڈونڈر میزائل بھی شامل ہیں۔

     

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    واضح رہے کہ امریکہ تائیوان کو چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور تائیوان کے حوالے سے امریکہ اور چین کے مابین کچھ عرصے سے سرد جنگ جاری ہے تاہم اس میں شدت اس وقت آئی جب گزشتہ مہینے امریکی کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی نے چین کے سخت انتباہ کے باوجود تائیوان کا دورہ کیا۔

    دوسری طرف ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اس ملک کی افواج روس کی جانب سے منعقدہ فوجی مشقوں میں شرکت کر رہی ہیں اور ماسکو کے ساتھ نئی دہلی کا فوجی تعاون کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    قابل ذکر ہے کہ روس کی جانب سے بحر جاپان اور روس کے مشرقی سمندروں میں ووسٹوک دو ہزار بائیس فوجی مشقوں کا سلسلہ جمعرات کی صبح سے شروع ہوچکا ہے جس میں چین اور ہندوستان سمیت گیارہ ممالک نے شرکت کی ہے۔

    ادھر یوکرین کی جنگ کے بہانے واشنگٹن مشقوں میں شریک ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا تاہم تیرہ ممالک اس وسیع برّی، بحری اور فضائی فوجی مشقوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ یہ مشقیں سات ستمبر تک جاری رہیں گی۔

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے

    پاک فضائیہ کےخیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں تیزی سے کام جاری ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیئے سول انتظامیہ کی مدد کر رہی ہیں، علاقے میں راشن کے پیکٹ گرانے کے لیئے ہیلی کاپٹر آپریشنز بھی جاری ہے، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 2272 مریضوں کا طبی معائنہ کیا۔

    پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے ضرورتمند خاندانوں میں 3765 خشک راشن کے پیکٹ اور 13800 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ تقسیم کیئے، سیلاب سے متاثرہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو مفت کپڑے بھی فراہم کیئے گئے ہیں، ائیر مارشل حامد راشد رندھاوا، ڈپٹی چیف آف ائیر سٹاف ایڈمنسٹریشن نے ضلع راجن پور میں پاک فضائیہ کے فلڈ ریلیف کیمپ کا معائنہ کیا۔

    ڈپٹی چیف آف ائیر سٹاف ایڈمنسٹریشن نے سیلاب متاثرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہارکیا ہے، ائیر مارشل حامد رندھاوا نے پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کی بروقت اور انتھک امدادی کاروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب تک سیلاب سے متاثرہ تمام پریشان حال ہم وطنوں کی بحالی مکمل نہیں ہو جاتی، پاک فضائیہ امدادی کاروائیاں جاری رکھے گی.

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق مون سون کی ریکارڈ بارشوں اور شمال کے پہاڑوں میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب آیا جس سے 14 جون سے اب تک کم از کم ایک ہزار 265 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 57 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ اب تک زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 12 ہزار 577 ہے

    علاوہ ازیں پاکستان شدید سیلاب سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، جس سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد یا آبادی کا 15 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔اس سلسلے میں اقوام متحدہ نے 16 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے تاکہ سیلاب کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کی جا سکے جسے اس نے ایک ‘بے مثال موسمیاتی تباہی’ قرار دیا۔