Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • فیفا کا ورلڈ کپ فائنل کے بعد اسٹیڈیم کی گھاس فروخت کرنے کا اعلان

    فیفا کا ورلڈ کپ فائنل کے بعد اسٹیڈیم کی گھاس فروخت کرنے کا اعلان

    فیفا نے 2026 ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد اسٹیڈیم کی اصل گھاس کے ٹکڑوں کو یادگاری اشیاء کے طور پر فروخت کرنے کا اعلان کر دیا ہےان ٹکڑوں کی قیمت 450 سے 3 ہزار ڈالر تک رکھی گئی ہے، اس منصوبے سے فیفا کو ایک کروڑ ڈالر سے زائد آمدن ہونے کی توقع ہے۔

    فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے 2026 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد آمدن حاصل کرنے کے لیے منفرد منصوبہ متعارف کراتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فائنل میچ میں استعمال ہونے والی پچ کی اصل گھاس کے ٹکڑوں کو یادگاری اشیاء (میمورابیلیا) کے طور پر فروخت کیا جائے گا شائقین 450، 900، 1200 اور 3 ہزار امریکی ڈالر تک کی مختلف قیمتوں میں پچ کے محفوظ کیے گئے ٹکڑے خرید سکیں گے ، ہر ٹکڑے کو خصوصی ایکرائلک کیس میں محفوظ کیا جائے گا، جس میں اس کی اصلیت کا تصدیقی سرٹیفکیٹ بھی شامل ہو گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فیفا کو اس فروخت سے ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے زائد آمدن ہونے کی توقع ہے، ہر قیمت کے درجے میں زیادہ سے زیادہ 2 ہزار 26 ٹکڑے فروخت کیے جائیں گے، جو 2026 ورلڈ کپ کی مناسبت سے مخصوص تعداد رکھی گئی ہے۔

    فیفا کا کہنا ہے کہ یہ یادگاری اشیا خصوصی طور پر ان شائقین اور کلیکٹرز کے لیے تیار کی گئی ہیں جو ورلڈ کپ فائنل کی تاریخی یاد کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ، مہنگے ترین پیکیج میں پچ کے ٹکڑے کے ساتھ سونے کی نقاشی والا یادگاری ٹکٹ، ورلڈ کپ کی منی گیند اور کرسٹل سے تیار کردہ ورلڈ کپ ٹرافی کی نقل بھی شامل ہو گی۔

    ورلڈ کپ 2026 کا فائنل امریکا کے نیو جرسی نیو یارک اسٹیڈیم (سابقہ میٹ لائف اسٹیڈیم) میں کھیلا جائے گا، اس اسٹیڈیم کی پچ کے حوالے سے کھلاڑ یوں اور کوچز کی جانب سے پہلے بھی تحفظات سامنے آ چکے ہیں، کیونکہ یہاں امریکی فٹبال کے مقابلوں کے لیے عام طور پر مصنوعی گھاس استعمال کی جاتی ہے، تاہم ورلڈ کپ کے لیے قدرتی گھاس بچھائی گئی ہے۔

  • پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد نااہل قرار

    پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد نااہل قرار

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے سپریم اپیلٹ کورٹ کے فیصلےکے تحت پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد کو نااہل قرار دے دیا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کے مطابق اثاثے چھپانے پر فدا محمد ناشاد صادق اور امین نہیں رہے، سپریم اپیلٹ کورٹ کے فیصلےکے تحت فدا محمد کو نااہل قرار دے دیا گیا ہے،چیف الیکشن کمشنر کے مطابق فدا محمد ناشاد حلقہ جی بی اے-9 اسکردو 3 سےکامیاب ہوئے تھےخالی نشست پر ضمنی انتخاب کا باقاعدہ شیڈول کل جاری کیا جائےگا۔

    یاد رہے حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6314 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے،دوسری جانب حلقہ GBA-15 اور GBA-17 میں دوبارہ پولنگ کا عمل شروع ہوگیا،سپریم اپیلیٹ کورٹ کے حکم پر ری پو لنگ صبح 8 بجے باقاعدہ شروع کردی گئی۔

    GBA-15 کے خواتین پولنگ اسٹیشن لوشی تھک پر ووٹنگ جاری ہے، GBA-17 کے آٹھ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں پولنگ کا عمل پرامن ماحول میں جاری ہے، ووٹرز کی آمد کا سلسلہ برقرار ہے ، الیکشن کمیشن کی نگرانی میں پولنگ کا عمل مقررہ ضابطہ کار کے مطابق جاری ہے،انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، پاک آرمی، پولیس اور دیگر اہلکار تعینات ہیں۔

    ووٹرز سے بروقت پولنگ اسٹیشن پہنچ کر اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔دوبارہ پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج مرتب کیے جائیں گے اس کے علاوہ جی بی اے 15 اور17میں غیرمتعلقہ افراد کےداخلےپرپابندی عائد کردی گئی ،دفعہ 144کےتحت صرف مجازافراد کو پولنگ اسٹیشنوں میں داخلے کی اجازت ہوگی۔

    انتظامیہ نے شہریوں سے دفعہ144 پرعمل اورامن برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔

  • قطر کےسابق امیرشیخ حمدبن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے

    قطر کےسابق امیرشیخ حمدبن خلیفہ آل ثانی انتقال کر گئے

    قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی وفات کی تصدیق قطری سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کی ہے، تاہم انتقال کی وجہ فوری طور پر نہیں بتائی گئی،شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو جدید قطر کا معمار تصور کیا جاتا ہے انہوں نے اپنے تقریباً 18 سالہ دورِ حکومت(1995 سے 2013 ) میں خلیجی ریاست کو عالمی سفارت کاری، سرما یہ کاری، توانائی اور میڈیا کے میدان میں نمایاں مقام دلایا، ان کے دور میں قطر نے نہ صرف اقتصادی ترقی کی نئی مثال قائم کی بلکہ عالمی سطح پر اپنا سیا سی اور سفارتی اثر و رسوخ بھی بڑھایا۔

    شیخ حمد نے 1995 میں اپنے والد شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی سے اقتدار سنبھالا، بعد ازاں جون 2013 میں انہوں نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے رضاکار ا نہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے اور موجودہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا مشرق وسطیٰ میں اقتدار کی اس پرامن منتقلی کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا گیا تھا۔

    اقتدار منتقل کرتے ہوئے اپنے خطاب میں شیخ حمد نے کہا تھا کہ اب نئی نسل کے لیے آگے بڑھنے اور ملک کی قیادت سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے، اس وقت شیخ تمیم کی عمر صرف 33 برس تھی، شیخ حمد کے دور میں قطر نے عالمی شہرت یافتہ نشریاتی ادارہ ’’الجزیرہ‘‘ قائم کیا، جس نے عرب دنیا میں آزاد صحا فت کے ایک نئے باب کا آغاز کیا اگرچہ الجزیرہ کی جرات مندانہ رپورٹنگ کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا، تاہم کئی عرب ممالک اور مغربی حکومتوں نے اس کی پالیسیوں پر اعتراضات بھی اٹھائے۔

    ان کے دورِ حکومت میں قطر ایئرویز دنیا کی صفِ اول کی فضائی کمپنیوں میں شامل ہوئی، جبکہ دوحہ کا جدید بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی تعمیر کیا گیا، جسے بعد میں ان کے نام سے منسوب کیا گیا اسی دور میں قطر نے برطانیہ کے معروف ڈپارٹمنٹل اسٹور ہیروڈز سمیت دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی۔

    شیخ حمد نے قطر کو عالمی سفارتی مرکز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ان کی قیادت میں قطر نے سوڈان، لبنان، فلسطین اور افغانستان سمیت مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کیں 2012 میں وہ غزہ کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہِ مملکت بنے، جہاں انہوں نے تعمیراتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لیے 40 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔

    قطر نے ان کے دور میں مختلف علاقائی تنازعات میں بھی فعال کردار ادا کیا عرب بہار کے دوران لیبیا میں نیٹو کارروائیوں کی حمایت اور شام میں اپوزیشن کی سیاسی معاونت نے قطر کی خارجہ پالیسی کو نمایاں کیا، تاہم ایران، حماس اور اخوان المسلمون سے تعلقات کے باعث بعض عرب ممالک اور مغربی اتحاد یو ں کے ساتھ اختلافات بھی پیدا ہوئے۔

    شیخ حمد کی قیادت میں قطر نے 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل کیا، جسے دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے افتتاحی تقریب میں سابق امیر کی موجودگی پر شائقین نے بھرپور خیر مقدم کیا تھا۔

    شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے محدود آبادی اور رقبے والے قطر کو عالمی سیاست، معیشت، کھیل اور میڈیا میں ایک بااثر ملک کی حیثیت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

  • طوفان ’باوی‘ : چین میں شدید بارشوں کا ریڈ الرٹ جاری

    طوفان ’باوی‘ : چین میں شدید بارشوں کا ریڈ الرٹ جاری

    چین نے سمندری طوفان ’باوی‘ کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے سے قبل شدید بارشوں کے خدشے کے پیش نظر ملک بھر میں بارشوں کا اعلیٰ ترین ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چین کے قومی موسمیاتی مرکز نے ہفتے کے روز شدید بارشوں کے لیے 4 درجوں پر مشتمل انتباہی نظام کا اعلیٰ ترین ریڈ الرٹ جاری کر دیا محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان ’باوی‘ کے اتوار کی علی الصبح مشرقی چین کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا امکان ہے ، جس کے باعث متعدد علاقوں میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں اتوار دوپہر 2 بجے تک کے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں موسلاد ھار اور بعض مقامات پر انتہا ئی شدید بارشیں ہوں گی، جس سے شہری علاقوں میں سیلاب، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ژی جیانگ، شمالی فوجیان، شمال مشرقی جیانگ شی، جنوبی آن ہوئی، بیجنگ کے بعض علاقوں اور صوبہ ہیبئی میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے،حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی اور جنوبی ژی جیانگ کے بعض علاقوں اور شمالی فوجیان میں مجموعی بارش 250 سے 500 ملی میٹر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ تائیوان کے وسطی اور شمالی علاقوں میں 250 سے 800 ملی میٹر تک بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو سیلابی صورتحال پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔

    چینی حکام نے مقامی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنے، ریسکیو ٹیموں کو الرٹ رکھنے اور عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین بھی کی گئی ہے،ماہرین کے مطابق طوفان ’باوی‘ کے ساتھ آنے والی تیز ہوائیں اور شدید بارشیں مشرقی چین کے ساحلی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ زرعی اراضی، ٹرانسپورٹ کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

  • ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر  میزائل اور ڈرون حملے

    ایران کے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے

    ایران نے اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوج کے اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز برسا دیئے-

    ایرانی حکام کے مطابق ایران نے قطر، کویت، بحرین اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بارود سے بھرے ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی جبکہ قطر نے کہا ہے کہ اس کی فضائی دفاعی نظام نے اپنی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اتوار کی صبح قطر، کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا یہ حملے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مواصلاتی تنصیبات پر امریکا کی جانب سے مبینہ بمباری کے جواب میں کیے گئے ہیں،قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید کو خطرناک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جہاں جنگی طیاروں کی مرمت کے مرکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کو تباہ کر دیا گیا۔

    تاہم قطر کی وزارتِ دفاع نے ایران کے اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق قطری مسلح افواج نے ملک کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک میزائل کو کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس کے باعث کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی فوج نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر بھی ڈرون حملے کیے ایرانی دعو ے کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، اسلحہ گودام اور ریڈار مرکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بحرین میں امریکی فوج کے ریڈار اور مواصلاتی نظام پر حملہ کیا گیا۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں واقع پرنس حسن ایئربیس پر کئی بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ ایرانی بیان کے مطابق اس حملے میں کمانڈ سینٹر اور وہ ہینگرز نشانہ بنائے گئے جہاں امریکی ساختہ ایم کیو-9 ڈرون طیارے موجود تھے،ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے مزید فوجی کارروائی کی تو اس کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ قطر کے علاوہ دیگر متعلقہ ممالک اور امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں یا نقصانات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

  • آپریشن شعبان: فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید 7 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

    آپریشن شعبان: فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید 7 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کا مشترکہ آپریشن ”شعبان“ کامیابی سے جاری ہے فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید 7 خارجی دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد آپریشن شعبان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 64 ہو گئی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جاری مشترکہ آپریشن شعبان کے دوران پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں تازہ آپریشن میں مزید 7 خارجی دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 64 خارجی دہشت گرد مارے جا چکے ہیں 5 جولائی سے جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران اب تک مجموعی طور پر 102 خارجی دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشنز مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے جائیں گے۔

  • بلوچستان میں نئے ڈویژنز اور نئے اضلاع کا قیام ، نوٹیفکیشن جاری

    بلوچستان میں نئے ڈویژنز اور نئے اضلاع کا قیام ، نوٹیفکیشن جاری

    بلوچستان حکومت کے نئے ڈویژنز اور نئے اضلاع کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا۔

    صوبائی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن مطابق بلوچستان اب 11 ڈویژنز اور 41 اضلاع پر مشتمل ہوگا، 11 ڈویژنز میں کوئٹہ، رخشان، مکران، نصیر آباد، ژوب، لور الائی، کوہ سلیمان، پشین، لسبیلہ، سیوی اور خضدار شامل ہیں،جبکہ کوئٹہ ڈویژن اب تین اضلاع پر مشتمل ہوگا، ضلع مستونگ کوقلات ڈویژن سےعلیحدہ کر کے کوئٹہ میں شامل کردیاگیا ہے اور ضلع کوئٹہ کو دواضلاع میں تقسیم کیا گیا جو کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ اضلاع پر مشتمل ہوگا،کوئٹہ ایسٹ میں سریاب، صدر اورسٹی سب ڈویژنزشامل کی گئی ہیں جبکہ کوئٹہ ویسٹ میں کچلاک، بروری اورپنجپائی سب ڈویژنزشامل کی گئی ہیں۔

    بلوچستان حکومت نے قلات ڈویژن کو ختم کرکے دو نئے ڈویژن خضدار اور لسبیلہ بنادیے، خضدار ڈویژن خضدار، قلات، سوراب اور نیا ضلع وڈھ پر مشتمل ہوگا جبکہ لسبیلہ ڈویژن میں لسبیلہ، حب اور آواران اضلاع شامل ہوں گے۔نیا ڈویژن پشین قلعہ عبداللہ، پشین، چمن اور نیا ضلع برشور پرمشتمل ہوگاحکومت بلوچستا ن نے سبی ڈویژن کا نام تبدیل کرکے سیوی رکھ دیا ہے اور سیوی ڈویژن سیوی، ڈیرہ بگٹی ساؤتھ اور کچھی اضلاع پر مشتمل ہوگا۔

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 کھیلنے والا نوجوان فٹبالر اچانک انتقال کرگیا

    فیفا ورلڈ کپ 2026 کھیلنے والا نوجوان فٹبالر اچانک انتقال کرگیا

    فیفا ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی افریقا کی نمائندگی کرنے والے فٹبالر جے ڈن ایڈمز 25 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نوجوان فٹبالر جے ڈن ایڈمز نے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 میں جنوبی افریقا کی قومی ٹیم کی نمائندگی کی تھی تاہم ان کے انتقال کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔

    جنوبی افریقا کے وزیر کھیل گیٹن میک کینزی نے فٹبالر کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مامیلودی سن ڈاؤنز اور بافانا بافانا کے باصلاحیت مڈفیلڈر جے ڈن ایڈمز کی وفات قومی فٹبال کے لیے بڑا نقصان ہے جنوبی افریقا نے ایک بہترین اور ہونہار نوجوان ٹیلنٹ کھو دیا ہےجبکہ پوری قوم ان کے اہل خانہ، ساتھی کھلاڑیوں اور لاکھوں مداحوں کے غم میں برابر کی شریک ہے، جنہوں نے انہیں ایک ابھرتے ہوئے اکیڈمی کھلاڑی سے قو می ٹیم کے اہم رکن بنتے دیکھا۔

    وزیر کھیل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور اس مشکل وقت میں مرحوم کے اہل خانہ اور ان کے کلب مامیلوڈی سن ڈاؤنز کی نجی زندگی کا احترام کریں۔

    جنوبی افریقی فٹبال پلیئرز یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کا فٹبال ایک باصلاحیت کھلاڑی، کھیل کا مخلص نمائندہ اور ایک ایسی نوجوان شخصیت سے محروم ہو گیا ہے، جس کے پاس مستقبل میں بہت کچھ کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔

    فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے بھی انسٹاگرام پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ فیفا اور عالمی فٹبال برادری کی ہمدردیاں جیڈن ایڈمز کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق جے ڈن ایڈمز کی لاش ان کے گھر سے ملی ہے، جبکہ ان کی اچانک موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق جنوبی افریقی کلب میملوڈی سن ڈاؤنز کے مڈ فیلڈر جیڈن ایڈمز نے چند روز قبل ہی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں جاری فیفا ورلڈ کپ 2026 میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا سب سے بڑا سنگِ میل عبور کیا تھا۔

    جیڈن ایڈمز نے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقا کی تاریخی مہم میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی ٹیم کے تینوں گروپ مرحلے کے میچز میں حصہ لیا جب کہ راؤنڈ آف 32 میں کینیڈا کے خلاف میچ میں وہ متبادل کھلاڑی کے طور پر بینچ پر موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں جنوبی افریقی ٹیم پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    جیڈن ایڈمز نے ورلڈ کپ کے گروپ اے میں میکسیکو اور جمہوریہ چیک کے خلاف میچز میں ابتدائی الیون کا حصہ بنے جب کہ جنوبی کوریا کے خلاف 1-0 کی کامیابی میں بطور متبادل میدان میں اترے تھے اس فتح کے نتیجے میں جنوبی افریقا نے پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا، جہاں اسے کینیڈا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا جمہوریہ چیک کے خلاف میچ سے ایک روز قبل جیڈن ایڈمز کی دادی انتقال کر گئی تھیں، جس کے باعث وہ اس میچ میں ہاف ٹائم پر تبدیل کر دیے گئے تھے۔

    جیڈن ایڈمز جنوبی افریقا کے شہر پریٹوریا کے کلب میملوڈی سن ڈاؤنز سے وابستہ تھے اور انہوں نے 2025-26 کے سیزن میں ٹیم کو افریقی چیمپئنز لیگ کا ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا،جیڈن ایڈمز نے اپنے فٹبال کیریئر کا آغاز اسٹیلن بوش ایف سی کے یوتھ سسٹم سے کیا اور جنوری 2025 میں میملوڈی سن ڈاؤنز میں شمولیت اختیار کی انہوں نے 2022 میں موزمبیق کے خلاف جنوبی افریقا کی قومی ٹیم کے لیے ڈیبیو کیا، 13 بین الاقوامی میچز کھیلے اور دو گول اسکور کیے، جو دونوں 2026 فیفا ورلڈ کپ کوالیفائرز میں آئے تھے۔

  • جیو نیوز کی معطلی ختم، ایک کروڑ جرمانہ عائد، پیمرا کا فیصلہ جاری

    جیو نیوز کی معطلی ختم، ایک کروڑ جرمانہ عائد، پیمرا کا فیصلہ جاری

    مذہبی تصویر کشی – جیو نیوز بندش کیس پیمرا اتھارٹی نے جیو نیوز کی بابت حتمی فیصلہ جاری کر دیا –

    معاملہ جیو نیوز کے پروگرام “سفر عشق” کی 10 محرم الحرام کی نشریات میں مذہبی تصویری کشی سے متعلق تھ،اتھارٹی نے 11 جولائی کو ہونے والے اپنے 191ویں اجلاس میں معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا،اجلاس میں کونسل آف کمپلینٹس لاہور کی سفارشات، کارروائی کے ریکارڈ، لائسنس ہولڈر کے تحریری و زبانی مؤقف اور پیمرا آرڈیننس 2002، متعلقہ قواعد اور الیکٹرانک میڈیا (پروگرامز اینڈ ایڈورٹائزمنٹس) کوڈ آف کنڈکٹ 2015 کی متعلقہ شقوں کو مدنظر رکھا گیا

    کونسل نے اس معاملے پر بالترتیب 30 جون، 2 جولائی اور 10 جولائی 2026 کو منعقد ہونے والے اپنے 127ویں، 128ویں اور 129ویں اجلاسوں میں غور کیا،لائسنس ہولڈر کے نمائندگان کا مؤقف سننے، ریکارڈ کا جائزہ لینے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو مدنظر رکھنے کے بعد کونسل نے اپنی سفارشات اتھار ٹی کو پیش کیں-

    فیصلے میں کہا گیا کہ جیو نیوز اور اس کے نمائندگان کو وضاحت کا مناسب موقع فراہم کیا گیا، اتھارٹی نے قرار دیا کہ مذکورہ خلاف ورزی سنگین نوعیت کی ہے جو ذمہ دارانہ نشریات کے تقاضوں اور پیمرا قوانین کے تحت لائسنس ہولڈر کی ذمہ داریوں کے منافی ہے-

    پیمرا نے جیو نیوز کی جانب سے غفلت تسلیم کرنے، اظہار ندامت اور تمام میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر مشروط معذرت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں تخفیفی عوامل قرار دیا تاہم واضح کیا کہ یہ عوامل خلاف ورزی یا اس کے قانونی نتائج کو ختم نہیں کرتے-

    فیصلے کے مطابق 27 جون 2026 کو جیو نیوز کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کرنے کا حکم صحیح قرار دیامعطلی آج رات 12 بجے تک برقرار رہے گی چینل کی نشریات معطلی کی مدت مکمل ہونے اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی ادائیگی کے بعد ہی بحال کی جا سکیں گی-

    پیمرا نے ہدایت کی کہ جیو نیوز انتظامیہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکامی پر متعلقہ افراد کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی مکمل کر کے ان کو بر طرف کرے، کارروائی کے نتیجے میں ملازمت سے فارغ کیے جانے والے افراد پیمرا کے زیر نگرانی کسی بھی لائسنس یافتہ، رجسٹرڈ یا مجاز سروس سے براہ راست یا بالواسطہ کسی حیثیت میں دوبارہ منسلک نہیں ہو سکیں گے جیو نیوز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اگر آئندہ ایسی غفلت برتی گئی تو ان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا-

    پیمرا نے ہدایت کی کہ جیو نیوز سمیت تمام لائسنس یافتگان غیر جانبدار اور باصلاحیت ان ہاؤس مانیٹرنگ کمیٹی یا ایڈیٹوریل بورڈ تشکیل دیں تمام چینلز یہ تفصیلا ت پیمرا کو فراہم کریں اور ہر نشریاتی مواد کی پیشگی ادارتی جانچ یقینی بنائیں،تمام لائسنس یافتگان کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ازخود نوٹس کیس نمبر 28 آف 2018 (PLD 2019 SC 1) کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کے لیے علیحدہ ہدایت نامہ جاری کیا جائے گا-

    پیمرا نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے-

  • امریکا نے اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب پہنچا دیے

    امریکا نے اپنے دو طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب پہنچا دیے

    امریکا نے یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش نامی طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کر دیے ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق اس نگرانی کا مقصد مقصد خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا، تجارتی جہازوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور ضرورت پڑنے پر ایران پر عسکری و سفارتی دباؤ بڑھانا ہے،بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں نے بتایا کہ دونوں امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپس خلیجِ عمان میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے وہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھ سکیں گے۔

    یہ آبی گزرگاہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ دنیا میں سمندر کے راستے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے اگرچہ امریکی حکام نے کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی تاہم خطے میں جنگی اثاثوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہوچکی ہے اگرچہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے مختلف سمندری علاقوں میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز تعینات ہیں اور امریکی افواج اپنے مشن کے مطابق معمول کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    جب امریکی حکام سے یہ پوچھا گیا کہ آیا بحری قوت میں یہ اضافہ ایران کے خلاف ممکنہ بحری ناکہ بندی کی تیاری ہے تو سینٹ کام نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔