Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو  ’’یسوع مسیح‘‘ کا اوتارسمجھتا تھا

    وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والا نوجوان خود کو ’’یسوع مسیح‘‘ کا اوتارسمجھتا تھا

    واشنگٹن ڈی سی میں واقع وائٹ ہاؤس کے باہر سیکرٹ سروس کے چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے میں 21 سالہ نوجوان کی شناخت منظر عام پر آ گئی ،حملہ آور کو نسائر بیسٹ کو حملہ آور کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور نے فائرنگ سے قبل یا دوران خود کو ’’حضرت عیسیٰ ‘‘ کا اوتار قرار دیا اور ذہنی طور پر غیر مستحکم سمجھا جا رہا تھاجبکہ وہ پہلے بھی وائٹ ہاؤس کے اطراف مشکوک سرگرمیوں اور غیر قانونی داخلے کی کوششوں کے باعث متعدد بار نشان دہی میں آ چکا تھا، جبکہ اسے پہلے بھی گرفتا ر کیا گیا تھا۔

    اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال اسے دو مرتبہ حراست میں لیا گیا تھا، جن میں ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے اور ممنوعہ علاقے میں داخل ہونے جیسے الزاما ت شامل تھے اس کے خلاف وائٹ ہاؤس کے قریب جانے پر عدالتی پابندی بھی عائد تھی، جس کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کی گئی واقعے کے دن سیکر ٹ سروس اہلکاروں نے اسے 17ویں اسٹریٹ نارتھ ویسٹ کے قریب مشکوک حالت میں دیکھا، جہاں اس نے اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک راہ گیر شدید زخمی ہوا۔

    جوابی کارروائی میں سیکرٹ سروس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو موقع پر ہی بے اثر کر دیا بعد ازاں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

  • روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلسنکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین، خصوصاً دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ہائپرسونک ’’اوریشنک ‘‘ بیلسٹک میزائل سمیت مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معلومات یوکرین، امریکا اور یورپی ممالک کی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں روس مشترکہ نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا کہ روس کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف جنگ کو طول دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ممکنہ جارح ممالک کے لیے خطرنا ک مثال بھی قائم کر رہا ہے انہوں نے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بعد از وقوع ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات کریں تاکہ روس کو مزید کشیدگی بڑھانے سے روکا جا سکے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیرپیوٹن نے مشرقی یوکرین کے روس کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک میں طلبہ کے ہاسٹل پر ڈرون حملے کے بعد جوابی کارروائی کے آپشنز تیار کرنے کا حکم دیا تھا تاہم یوکرینی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    روس اس سے قبل بھی دو مرتبہ “اوریشنک” ہائپرسونک میزائل استعمال کر چکا ہے روسی صدر پیوٹن اس میزائل کو ناقابلِ روک قرار دے چکے ہیں، کیونکہ اس کی رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً دس گنا زیادہ بتائی جاتی ہے روس نے پہلی بار نومبر 2024 میں یوکرین کی ایک فوجی فیکٹری کو نشانہ بنانے کے لیے ’’اوریشنک‘‘ میزائل داغا تھا اس وقت یوکرینی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ میزائل میں اصلی دھماکا خیز مواد کے بجائے ڈمی وار ہیڈز نصب تھے، جس کے باعث نقصان محدود رہا،جبکہ دوسرا حملہ جنوری 2026 میں مغربی یوکرین کے علاقے لیف میں کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے رہنماؤں نے مغربی یوکرین میں ’’اوریشنک‘‘ میزائل کے استعمال کو ’’اشتعال انگیز اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا تھا۔

  • ملک بھر میں فضائی آپریشن متاثر، 83 پروازیں منسوخ

    ملک بھر میں فضائی آپریشن متاثر، 83 پروازیں منسوخ

    پاکستان بھر میں فضائی آپریشن متاثر رہا جس کے باعث اندرون اور بیرون ملک مجموعی طور پر 83 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ صرف 430 پروازیں آپریٹ ہو سکیں۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی، اسلام آباد اور لاہور سمیت بڑے شہروں سے سینکڑوں پروازیں آپریٹ کی گئیں تاہم فلا ئٹ شیڈول میں انتظامی اور آپریشنل وجوہات کے باعث بڑی تعداد میں پروازیں متاثر ہوئیں کراچی سے 20، لاہور سے 15، اسلام آباد سے 19 اور ملتان سے 11 پروازیں منسوخ کی گئیں،اسی طرح کوئٹہ، فیصل آباد، پشاور، سکھر اور گلگت کی متعدد پروازیں بھی منسوخ یا ری شیڈول ہوئیں۔

    جبکہ ملتان سے 23، پشاور سے 16، سیالکوٹ سے 20، فیصل آباد سے 4 اور کوئٹہ سے 10 پروازیں آپریٹ کی گئیں، تاہم مجموعی طور پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری نہ رہ سکا علاوہ ازیں بعض روٹس پر لوڈ میں کمی کے باعث جدہ کی 20 سے زائد پروازیں بھی منسوخ کی گئیں ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کی نگرانی جاری ہے اور شیڈول کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • بہاولپور: کھیتوں میں بکریاں جانے پر ملزمان کا خاتون پر تشدد،  گھر نذرِ آتش کردیا

    بہاولپور: کھیتوں میں بکریاں جانے پر ملزمان کا خاتون پر تشدد، گھر نذرِ آتش کردیا

    بہاولپور کے علاقے یزمان میں کھیتوں میں بکریاں داخل ہونے کے تنازع پر مبینہ طور پر ملزمان نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے گھر کو آگ لگا دی۔

    پولیس کے مطابق بہاولپور کے نواحی علاقے یزمان میں کھیتوں میں بکریاں جانے کے تنازع پر مبینہ طور پر خاتون کے گھر کو آگ لگا دی گئی آگ نے مزید دو گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان نے پہلے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اس کے گھر کو آگ لگا دی آگ تیزی سے پھیلی اور قریبی دو مکانات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا متاثرہ گھروں میں موجود نقدی، زیورات اور دیگر سا ما ن جل کر خاکستر ہوگیا متاثرین نے الزام عائد کیا کہ ملزمان جاتے ہوئے 30 بکریاں بھی ساتھ لے گئے۔

    متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے نوٹس لینے اور انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • ملک کے  مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں آج شدید گرمی اور موسم خشک رہنے کا امکان ہے جبکہ کشمیر، گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں درجہ حرارت میں اضافہ ہو گا –

    محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور کے چند علاقوں میں گرد آلود ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے، جس سے موسم میں قدرے بہتری آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہےمحکمہ موسمیات نے شہریوں کو موسم کی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    آئندہ ہفتے کے دوران پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے میدانی اضلاع میں موسم مزید گرم ہونے کا امکان ہے، جبکہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث شہریوں کو احتیا طی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے دوسری جانب خیبرپختونخوا کے بالائی اضلاع میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے محکمہ موسمیات کے مطابق دیر، سوات، چترال اور بنوں کے مختلف علاقوں میں بارش ہونے کا امکان ہے، جس سے گرمی کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔

  • ثاقب چدھڑ نے  کروڑوں روپے کے انتہائی قیمتی تحائف مومنہ اقبال کو دیئے،ارشاد بھٹی کا بڑا دعوٰی

    ثاقب چدھڑ نے کروڑوں روپے کے انتہائی قیمتی تحائف مومنہ اقبال کو دیئے،ارشاد بھٹی کا بڑا دعوٰی

    معروف صحافی ارشاد بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ معروف پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کو دیے گئےکروڑوں کی مالیت کے تحائف اور سفری اخراجات کی قانونی طور پر واپسی چاہتے ہیں۔

    ارشاد بھٹی نے ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ سابق ایم پی اے نے شادی کی نیت سے مومنہ اقبال کو انتہائی قیمتی تحائف دیئے تھےان تحائف میں ایک فارچیونر گاڑی، ایک ہونڈا سوک اور 84 لاکھ روپے مالیت کی ایک قیمتی گھڑی سمیت دیگر لگژری اشیاء شامل ہیں ارشاد بھٹی کے مطابق فارچیونر گاڑی آج کل مومنہ کی والدہ کے زیر استعمال ہے اس کے علاوہ شمار ٹریولنگ اور سفری اخراجات کی ایک لمبی فہرست ہے۔

    ارشاد بھٹی کے مطابق ثاقب چڈھر کے وکیل میاں علی اشفاق نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال اور ثاقب چدھڑ کے درمیان تقریباً پانچ سال تک تعلقا ت رہے اور بات شادی تک پہنچ گئی تھی ثاقب چدھڑ اداکارہ کے گھر رشتہ لے کر بھی گئے تھے اور دونوں خاندان اس رشتے پر رضامند بھی تھے تاہم بعد ازاں ثاقب چدھڑ کو معلوم ہوا کہ مومنہ اقبال کی پہلے بھی دو شادیاں ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک سے طلاق پہلے ہو چکی تھی جبکہ دوسری شادی کا خاتمہ بھی اسی دوران ہوا جب دونوں کے درمیان تعلقات موجود تھے۔

    ارشاد بھٹی کے مطابق وکیل کا کہنا ہے کہ انکشافات سامنے آنے کے بعد دونوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، تاہم بعد میں معاملات دوبارہ بہتر ہو گئے اور شادی کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی تھیں لیکن صورتحال اس وقت دوبارہ خراب ہوئی جب ثاقب چدھڑ کو مبینہ طور پر مومنہ اقبال کی کسی اور جگہ شاد ی طے ہونے کا علم ہوا۔

    ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے وکیل کے مطابق جب انہوں نے مومنہ اقبال سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو بعد ازاں مومنہ کے ہونے والے شوہر کی جانب سے انہیں مبینہ دھمکیاں دی گئیں، جن کے خلاف ثاقب چدھڑ نے باقاعدہ مقدمہ بھی درج کروا دیا ہے جس کا دونوں فریقین اعتراف کر چکے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال یکم جون 2026 کو شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی ہیں، ان کی بہن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام تنازعات اور خبروں کے باوجود مومنہ کی شادی اپنی مقررہ تاریخ پر ہی ہوگی اوردھوم دھام سے ہوگی۔

    ابتدائی طور پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ مومنہ اقبال کی جانب سے شادی کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد ایم پی اے ثاقب چدھڑ مبینہ طور پر انہیں ہراساں کر رہے ہیں، تاہم ارشاد بھٹی کے مطابق ثاقب چدھڑ کے وکیل نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ثاقب چدھڑ مومنہ اقبال کو ہراساں نہیں کر رہے بلکہ صرف اپنے دیئے گئے تحائف واپس مانگ رہے ہیں مومنہ اگر کسی اور سے شادی کر رہی ہیں تو انہیں اس پر کو ئی اعتراض نہیں، اب وہ ان تمام اخراجات اور تحائف کی باقاعدہ واپسی کے لیے درخواست دینے جا رہے ہیں۔

  • ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری  پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    ایران اپنے یورینیم سے دستبرداری پر راضی ہو گیا،امریکی اخبار کا دعویٰ

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے دو امریکی حکام کے جاری مغربی ایشیائی تنازع کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ہونے والے وسیع تر امن معاہدے کے تحت اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق اس پیش رفت کی تصدیق دو امریکی حکام نے کی ہے یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اور تہران ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں جس کا مقصد جنگی کشیدگی ختم کرنا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے، تاہم ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، البتہ امریکی حکام کے مطابق ایران اصولی طور پر اپنے اس یورینیم ذخیرے سے دستبردار ہونے پر تیار ہوگیا ہے جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان صرف ایک وسیع فہم موجود ہے جبکہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے حتمی طریقہ کار پر ابھی بات چیت ہونا باقی ہے مستقبل میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات میں یہ طے کیا جائے گا کہ ایران یورینیم کو منتقل کرے گا، اس کی افزودگی کم کرے گا یا کسی اور طریقے سے اسے غیر مؤثر بنایا جائے گا۔

    اس پیش رفت کو مذاکرات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت دی تھی کہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کے پاس اس وقت تقریباً 400 کلوگرام یورینیم موجود ہے جس کی افزودگی 60 فیصد تک کی جاچکی ہے، جو ہتھیاروں کے معیار کے قریب تصور کی جاتی ہے جبکہ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اس ذخیرے کو مزید افزودہ کرکے کئی ایٹمی بموں کے لیے مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔

    یہ معاملہ مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ بن چکا تھا ایرانی مذاکرات کار مبینہ طور پر یورینیم ذخیرے سے متعلق کسی بھی عزم کو مذاکرات کے اگلے مرحلے تک مؤخر کرنا چاہتے تھے، تاہم امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے زور دیا کہ ابتدائی معاہدے میں تہران کو کم از کم ایک ابتدائی وعدہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں اور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوسکتی ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے یورینیم ذخائر کو نشانہ بنانے کے مختلف آپشنز تیار کیے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ذخیرہ زیادہ تر اصفہان کی زیرِ زمین جوہری تنصیب میں محفوظ ہے، جسے گزشتہ سال امریکی ٹوماہاک میزائلوں سے نشانہ بنایا جاچکا ہے زیر غور آپشنز میں بنکر شکن بموں کے استعمال کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ زیرِ زمین ذخیرے کو مکمل طور پر تباہ کیا جاسکے۔

    رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر صدر ٹرمپ نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کمانڈو کارروائی کی منظوری دینے پر بھی غور کیا تھا تاکہ ایران کے دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے بعد یورینیم ذخیرے پر قبضہ کیا جاسکے، تاہم زیادہ خطرات کے باعث اس آپریشن کی منظوری نہیں دی گئی زیر غور ایک ممکنہ راستہ 2015 کے اس جوہری معاہدے جیسا ہے جو سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا، جس کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے بڑے حصے روس منتقل کردیے تھے ایک اور تجویز یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرکے اسے ہتھیاروں کے لیے ناقابلِ استعمال بنانا ہے۔

    مجوزہ معاہدے میں بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے اربوں ڈالر کی رہائی بھی شامل ہونے کا امکان ہے رپورٹ کے مطابق تعمیرِ نو سے متعلق زیادہ تر فنڈز اسی وقت جاری کیے جائیں گے جب حتمی جوہری معاہدہ مکمل ہوجائے گا، تاکہ تہران مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ رہے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو آزادانہ تیل فروخت کی اجازت دی جا سکتی ہے،تاہم خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا-

    امریکی خبر ایجنسی ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا بتانا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے جس کی مدت 60 روز ہوگی اور اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی معاہدے کے تحت ان 60 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جائے گا اور ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کر سکے اور اس اقدام سے ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا تاہم عالمی تیل مارکیٹ کو بھی نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری تجارت بحال کرے گا، امریکا اسی رفتار سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا۔

    خبر ایجنسی کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایران فوری طور پر منجمد فنڈز کی بحالی اور مستقل پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں تھا تاہم امریکی مؤقف یہ ہے کہ یہ اقدامات صرف عملی رعایتوں کے بعد کیے جائیں گے مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی پروگرام کی معطلی اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے سے متعلق مذاکرات بھی ہوں گے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے امریکا کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور حساس جوہری مواد سے متعلق رعایتوں پر آمادہ ہے امریکی حکام کا بتانا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے میں لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل ہے پاکستانی فریق اس معاہدے میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے جس کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں اور فیلڈ مارشل معاہدے کو حتمی شکل دلوانے کی کوششوں کے سلسلے میں جمعہ اور ہفتے کو تہران میں موجود رہےامریکی حکام کا کہنا ہےکہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ باقی معاملات آئندہ چند گھنٹوں میں حل ہو جائیں گے اور معاہدے کا اعلان آج اتوار کے دن کیا جا سکتا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہی۔

    اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امن کے فروغ کے لیے غیرمعمولی کوششوں‘ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کے ساتھ ہونے والا حالیہ ٹیلیفونک رابطہ انتہائی مفید اور مثبت رہا،انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان جلد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس رابطے میں پاکستان کی نمائندگی کی انہوں نے امن عمل کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’انتھک کوششوں‘ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا،انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری امن کوششوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ خطے میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے پاکستان مکمل خلوص کے ساتھ اپنی امن کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد ہوگا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششوں کے سلسلے میں کی جانے والی غیرمعمولی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کرلی انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ممکن ہوا۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم بات چیت تعطل کا شکار بھی نہیں ہوئی تھی۔

    بعدازاں صدر ٹرمپ نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کردیا تھا، جہاں ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونا تھا۔ تاہم انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں غیرمعینہ مدت تک توسیع کردی تھی۔

    تازہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور اس کے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں محدود وقت کے اندر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دی تھی اسی ہفتے کے اختتام پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جبکہ اس معاہدے کی مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    دریں اثنا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کے روز تہران کا اعلیٰ سطحی دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں ’حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیشرفت‘ ہوئی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مسلسل ان سے رابطے میں ہے اور امریکی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو ’قابلِ تعریف‘ قرار دیا۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات اب محض سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر تفصیلی امور پر بات چیت کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خلاف ضمانتیں شامل ہیں پاکستان نے مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ کو ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ تہران بھیجا گیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر، اسپیکر پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں تاکہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص  جوابی کارروائی میں ہلاک

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالا مسلح شخص جوابی کارروائی میں ہلاک

    امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے انتہائی سخت حفاظتی حصار کے قریب ایک مسلح شخص نے سیکیورٹی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس پر امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔

    حکام کے مطابق ہفتے کی شام وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح شخص نے فائرنگ کر دی، جس کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں نے جوابی فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے اندر موجود تھے تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہاں موجود ایک راہ گیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔

    سیکرٹ سروس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ انتھونی گوگلیلمی نے ایک بیان میں بتایا کہ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے اور ایران کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کر رہے تھے، تاہم وہ اس واقعے سے مکمل محفوظ رہے اور ان پر کوئی آنچ نہیں آئی۔

    یہ جھڑپ شام 6 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح 3 بجے) کے فوراً بعد اس وقت ہوئی جب وائٹ ہاؤس کے حفاظتی حصار کے قریب موجود ایک شخص نے ’اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔

    گوگلیلمی نے راہ گیر کی حالت کے بارے میں تفاصیل فراہم کیے بغیر بتایا کہ سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو نشانہ بنایا، جسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی فائرنگ کے دوران ایک راہ گیر کو بھی گولی لگی۔‘ واقعے میں سیکرٹ سروس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

    متعدد امریکی میڈیا اداروں نے مشتبہ شخص کی شناخت ریاست میری لینڈ کے 21 سالہ نصیر بیسٹ کے نام سے کی ہے اور رپورٹ کیا ہے کہ نصیر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا اور ماضی میں بھی کئی بار سیکرٹ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ اس کا سامنا ہو چکا تھا۔

    واقعے کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر راستے سیل کر دیے، جبکہ نیشنل گارڈز کے اہلکاروں نے اے ایف پی کے رپورٹر کو واشنگٹن ڈاؤن ٹاؤن کے اس علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا فائرنگ کا یہ واقعہ 17 ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو این ڈبلیو کے قریب آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ سے متصل علاقے میں پیش آیا، یہ ایک بہت بڑا سرکاری کمپلیکس ہے جو وائٹ ہاؤس کی عمارت کے بالکل ساتھ واقع ہے۔

    یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکرٹ سروس کے مطابق، مشتبہ شخص بیگ میں ہتھیار چھپا کر سیکرٹ سروس کی سیکیورٹی چوکی کے قریب آیا اور سیکیورٹی بوتھ کے اندر موجود اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ ایجنٹوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو شدید زخمی کر دیا، جو بعد میں مقامی اسپتال میں دم توڑ گیا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران 15 سے 30 راؤنڈ فائر کیے گئے۔ وائٹ ہاؤس کے شمالی لان (North Lawn) پر موجود صحافیوں نے بتایا کہ انہوں نے یکے بعد دیگرے فائرنگ کی آوازیں سنیں، جس کے فوراً بعد سیکرٹ سروس کے عملے نے میڈیا نمائندوں کو عجلت میں عمارت کے اندر منتقل کر دیا اور پورے وائٹ ہاؤس کمپلیکس میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔ یہ لاک ڈاؤن شام 7 بجے سے کچھ دیر پہلے ختم کیا گیا۔

    یہ سنسنی خیز واقعہ ایک انتہائی حساس وقت پر پیش آیا دنیا بھر کے میڈیا مینڈوبین وائٹ ہاؤس میں جمع تھے کیونکہ صدر ٹرمپ نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن، ایران کے ساتھ ایک ممکنہ امن معاہدے یا تاریخی پیش رفت کو حتمی شکل دینے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے میڈیا کی غیر معمولی موجودگی کی وجہ سے کئی صحافیوں نے وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد شام کے پرسکون ماحول میں گولیوں کی تھرتھراہٹ سے پھیلنے والی اس افراتفری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

    ابتدائی خدشات کے باوجود، حکام نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی ذات کو کبھی بھی کوئی براہ راست سنگین خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ رپورٹس کے مطابق جب فائرنگ ہوئی تو صدر وائٹ ہاؤس کے اندر، ممکنہ طور پر اوول آفس (صدارتی دفتر) یا اس کے قریب موجود تھے۔ تاہم، اوول آفس پنسلوانیا ایونیو کی اس بیرونی حد سے کافی فاصلے پر واقع ہے جہاں یہ حملہ ہوا۔

    وائٹ ہاؤس سے قربت کی وجہ سے یہ علاقہ ایک بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ اس کے آس پاس ریسٹورنٹس، سووینئر شاپس، کیفے، دفتری عمارتیں اور آرٹ گیلری سمیت ثقافتی مراکز موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے سامنے واقع تاریخی پارک ’لافائیٹ اسکوائر‘ عام طور پر سیاحوں، مظاہرین، پولیس کے گشتی دستوں اور ٹیلی ویژن کروز سے بھرا رہتا ہے۔ اس ضلع میں عام طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول سیکرٹ سروس، ایف بی آئی (FBI) ایجنٹس، یونیفارم میں ملبوس پولیس افسران اور مختلف وفاقی سیکیورٹی یونٹس کی بھاری نفری تعینات رہتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھا، تاہم ہفتے کی دیر رات تک تفتیش کاروں نے باضابطہ طور پر اس کی شناخت (میڈیا کے سامنے) ظاہر نہیں کی تھی اور نہ ہی حملے کا کوئی مقصد سامنے آسکا تھا۔

    واقعے کے بعد پولیس کی گاڑیاں، ایمبولینسز اور وفاقی ایجنٹس بڑی تعداد میں علاقے میں پہنچ گئے، فضا میں ہیلی کاپٹر چکر لگاتے رہے اور وائٹ ہاؤس کمپلیکس کے گرد سڑکوں کو عارضی طور پر سیل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کے خلاف سیکریٹ سروس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کی ، جس پر سیکریٹ سروس اہلکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، حملہ آور کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، اسے اہم عمارتوں میں غیر معمولی دلچسپی تھی، مستقبل میں صدور کیلئے انتہائی محفوظ اورمضبوط سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے، ہمارے ملک کی قومی سلامتی اس کا مطالبہ کرتی ہے-