Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری

    بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری

    وزارتِ خارجہ نے بیرون ممالک جیلوں سے رہا پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات جاری کر دی.

    وزارت خارجہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بیرون ممالک کے جیلوں سے رہا ہونے والے شہریوں کی تفصیلات پیش کیں وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ1 سال کے دوران ساڑھے 12 ہزار سے زائد پاکستانی قیدی بیرون ملک جیلوں سے رہا ہوئے جبکہ 21 ہزار 480 تاحال قید ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق بغداد سے سب سے زیادہ 4863، جدہ 1947 پاکستانی قیدی رہا ہوئے اس کے بعد کوالالمپور سے 1650 ، دبئی سے 1899، ریاض سے 863، مسقط سے 371، ماسکو سے 93 پاکستانی رہائی ہوئے، استنبول سے 30، زمبابوےسے 67, نیویارک سے 18 پاکستانی قیدی رہا ہوئے جبکہ ہیرس سے 91، بنکاک سے 16، انقرہ سے 125 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

    وزارت خارجہ نے بتایا کہ 21480 پاکستانی قیدی تا حال بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں جن میں سے متحدہ عرب امارات میں 5297 جبکہ سعودی عرب کی جیلوں میں 10 ہزار 745 پاکستانی قید ہیں ترکیہ میں 190، عمان 578، قطر میں 601، ملائیشیا میں 448، بھارت میں 738، یونان میں 516، چین میں 452، بحرین میں 218، جرمنی میں 105 ایران میں 169، امریکہ میں 131 جبکہ عراق میں 81 پاکستانی قید ہیں۔

  • راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ

    راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ

    راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے اڈیالہ جیل اور حساس تنصیبات کے اطراف ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے اڈیالہ جیل، ریڈ زون اور حساس تنصیبات کے اطراف جلسے، جلوس، دھرنے اور ریلیاں ممنوع قرار دے دیں ،اسلحہ، لاٹھیاں، پتھر، پٹرول بم اور دھماکا خیز مواد لے کر چلنے اور پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے یا ٹریفک میں خلل ڈالنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہےدفعہ 144 انیس مئی 2026 تک نافذ العمل رہے گی، امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر فوری اقدامات ناگزیر قرار دے دیے گئے۔

  • سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ نافذ العمل

    سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ نافذ العمل

    سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ آج سےنافذ العمل ہوگیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کےشہری 90 دن تک ایک دوسرےکے ملک کا سفر کر سکتے ہیں، ویزا استثنا سے سرکاری، سفارتی، عام پاسپورٹ کے حامل افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں، دونوں ممالک کے شہری بغیر ویزے کے سیاحت،کاروبار کےلیے جاسکتے ہیں وزٹ ویزے پر دونوں ملکوں کے شہری ایک دوسرےکے ملکوں میں داخل ہوسکتے ہیں، ویزا استثنا معاہدہ یکم دسمبر 2025 میں سعودی دارالحکومت ریاض میں طے پایاتھا معاہدے پر روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دستخط کیے تھے۔

  • نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

    نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار کردیا ہے۔

    امریکی ٹی وی کو دیےگئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ایران جنگ میں بہت کچھ حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوئی، ایران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجود ہے جسے ایران سے نکالنا ضروری ہے، یورینیم افزودگی کے ایسے مراکز موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا، اب بھی ایسے گروہ موجود ہیں جن کی ایران حمایت کرتا ہے اور ایسے بیلسٹک میزائل بھی ہیں جنہیں وہ مزید بنانا چاہتے ہیں، ابھی بہت کام باقی ہے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ بھی فوجی آپریشن کے ذریعے ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے پر آمادہ ہیں اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرےگا جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی تو ہو جائے لیکن لبنان میں حزب اللہ برقرار رہے ایران چاہتا ہےکہ اگر یہاں جنگ بندی ہو جائے تو وہاں بھی جنگ بندی ہوجائے،کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ حزب اللہ وہاں رہے اور لبنان کو مسلسل اذیت دیتی رہے اور اس کے عو ام کو ‘ یرغمال’ بنائے رکھے اس حوالے سے ٹرمپ میری بات سمجھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی حکومت کمزور یا ختم ہو جاتی ہے تو اس کا پورا پراکسی نیٹ ورک بھی ختم ہو جائےگا، حزب اللہ، حماس اور شاید حوثیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے، ایران نے پراکسی گروپوں کا جو پورا ڈھانچہ کھڑا کیا ہے، وہ ایرانی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی گرجائےگا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے تسلیم کیا کہ جنگ سے پہلے کی منصوبہ بندی میں آبنائے ہرمز کی بندش کے مسئلےکا مکمل اندازہ نہیں لگایا گیا تھا چین میزائل کی تیاری میں ایران کی مدد کررہا ہے چین نے میزائل سازی کے کچھ مخصوص پرزے فراہم کیے، لیکن میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا بعض عرب مما لک کی جانب سے ایسے پیغامات مل رہے ہیں جن میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ آئندہ 10 برسوں میں اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار سے آزاد کرنا چاہتاہوں میں چاہتا ہوں کہ امریکا کی مالی مدد خاص طور پر فوجی تعاون کے مالی حصےکو صفر تک لایا جائے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم باقی ماندہ فوجی امداد پر انحصار ختم کریں اور امداد کے تعلق کو شراکت داری میں بدل دیں، اسرائیل کو ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد ملتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا نے 2018 سے 2028 تک اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

  • وائٹ ہاؤس نے  ایلون مسک  کو  دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی

    وائٹ ہاؤس نے ایلون مسک کو دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی

    وائٹ ہاؤس نے ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اور ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹِم کک کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں ہفتے ہونے والے دورۂ چین میں شرکت کی دعوت دے دی۔

    بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایک وائٹ ہاؤس عہدیدار کا کہنا ہے کہ گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومن، بلیک اسٹون کے اسٹیفن شوارزمین، بلیک راک کے لیری فنک، سٹی گروپ کی جین فریزر اور میٹا پلیٹ فارمز کی ڈینا پاول میک کارمک بھی ٹرمپ کے وفد میں شامل ہونے والے اہم کاروباری رہنماؤں میں شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ایک درجن سے زائد اعلیٰ کاروباری شخصیات پر مشتمل یہ وفد صدر ٹرمپ کے ساتھ چین جا رہا ہے، جہاں امریکی صدر کو امید ہے کہ بیجنگ کے ساتھ مختلف کاروباری معاہدے اور خریداری کے سمجھوتے طے پائیں گے متعلقہ کمپنیوں نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ 13 سے 15 مئی کے دوران چین کا دورہ کریں گے، جسے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے باوجود سفارتی روابط کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے،جبکہ ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل امریکی فضائیہ کے C-17 گلوب ماسٹر III طیارے بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچ گئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بڑے فوجی ٹرانسپورٹ طیارے ٹرمپ کے دورے کے لیے درکار گاڑیاں، سکیورٹی آلات اور دیگر لاجسٹک سامان لے کر آئےہیں یہ طیارے امریکی صدور کے دوروں کے لیے سکیورٹی اور آپریشنل تیاریوں کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔

  • صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

    صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں –

    پیر کو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع کرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن 4 مئی کو روک دیا گیا تھا تاہم اب بڑے فوجی آپریشن کے حصے کے طور پر اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا، کارروائی آبنائے ہرمز عبور کرنے والے جہازوں تک محدود نہیں رہے گی، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران پر دباؤ جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا-

    امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر “پروجیکٹ فریڈم” دوبارہ شروع کیا گیا تو اس کا دائرہ کار صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے،ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔

    انہوں نے ایرانی تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پہلے یورینیم دینے پر راضی تھا اور اب انکاری ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں کیوں کہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی تجویز احمقانہ ہے، اومابا اور بائیڈن ہوتے تو شاید ایرانی تجویز قبول کرلیتے ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ایران کے ساتھ نمٹ کر دنیا کے لیے خدمات پیش کر رہے ہیں،ایران کے حوالے سے کوئی دباؤ یا کوفت محسوس نہیں کر رہا ہوں، ہم نے بڑی فوجی کامیابی حاصل کی ہے۔

  • برطانیہ نے ایران سے وابستہ 12 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں

    برطانیہ نے ایران سے وابستہ مبینہ نیٹ ورک کے 12 افراد اور اداروں پر برطانیہ اور دیگر ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق برطانوی دفترخارجہ نے بتایا کہ پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد اور ادارے ایران سے منسلک ایک مبینہ مجرمانہ نیٹ ورک سے تعلق رکھتے ہیں، جسے “زندشتی نیٹ ورک” کے نام سے بیان کیا گیا ہے ان افراد اور اداروں پر عائد پابندیوں کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونِ ملک دشمنانہ سرگرمیوں اور برطانیہ کے خلاف مبینہ خطرات کو روکنا ہے۔

    برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد پر حملوں کی منصوبہ بندی، خفیہ کارروائیاں اور ایسے گروہوں کی مالی معاونت شامل ہے جن پر عدم استحکام پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں کچھ افراد براہ راست حملوں میں شریک رہے جب کہ دیگر نے مالی خدمات یا معاونت فراہم کی عائد کی گئی پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور بعض افراد کے لیے کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    برطانیہ کے موجودہ قوانین کے تحت برطانوی شہریوں، کمپنیوں اور اداروں کو پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا تنظیموں کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے یہ کارروائی ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر یورپ میں حملوں اور خفیہ آپریشنز میں ملوث ہونے کے شبہات ہیں۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمز نے بتایا کہ ان کی حکومت پہلے ہی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے خلاف سخت قانون سازی پر غور کر رہی ہےان کے بقول ان قوانین کے تحت ایران سے منسلک پراکسی گروہوں کو غیر ملکی خفیہ نیٹ ورکس قرار دے کر ان کے لیے کام کرنے والوں کو 14 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی۔

    واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں برطانیہ میں یہودی عبادت گاہوں، کمیونٹی مراکز اور دیگر مقامات پر حملوں اور آتش زنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن کے پیچھے بعض ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کا شبہ ظاہر کیا گیا برطانوی حکومت اس قبل متعدد بار اعتراض اُٹھا چکی ہے کہ ایران سے وابستہ عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کرکے تخریب کاری، جاسوسی اور حملوں کی کوششیں کر رہے ہیں۔

  • ایرانی وزیرِ خارجہ کاسعودی ہم منصب سے رابطہ

    ایرانی وزیرِ خارجہ کاسعودی ہم منصب سے رابطہ

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے –

    ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی رابطوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے، خطے میں جاری کشیدگی اور ثالثی کوششوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے صرف 24 گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

    دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی تازہ گفتگو میں خطے کی مجموعی صورتِ حال، حالیہ علاقائی پیش رفت اور ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا گفتگو کے دوران پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی کوششوں اور ان کی تازہ ترین پیشرفت پر بھی مشاورت کی گئی۔

    رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی اور شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان اس سے قبل بھی رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد 24 گھنٹوں میں یہ دوسرا ٹیلیفونک رابطہ ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے اس سے قبل 10 مئی کو بھی ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب، قطر اور نیدرلینڈز کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فونک رابطے کیے تھے، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

  • امریکی صدر  چین جاتے ہوئےچند گھنٹوں کیلئے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    امریکی صدر چین جاتے ہوئےچند گھنٹوں کیلئے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے وہ تاریخی سنگ میل عبور کیے ہیں جن کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ہوسکتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین جاتے ہوئے 2 گھنٹے کے لیے پاکستان میں قیام کریں۔

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اللہ کے فضل سے دشمن کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ جیتی ہے جس کا اعتراف پوری دنیا بشمول امریکی صدر نے کیا ہے، جنہوں نے متعدد بار بھارت کو اس کے ہونے والے بھاری جانی و مالی نقصان اور تباہ شدہ طیاروں کی یاد دہانی کرائی، یہ فتح اتنی واضح تھی کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی اور اس سے بین الاقوامی تعلقات میں پاکستان کا قد کاٹھ نمایاں طور پر بلند ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عالمی تشخص اب مکمل طور پر تبدیل ہوچکا ہے کیونکہ ماضی میں جس ملک پر روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جاتے تھے، آج وہی پاکستان خطے میں امن کا علمبردار بن کر ابھرا ہے اور جنگوں کو ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان اس وقت امریکہ اور برادر اسلامی ملک ایران کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک ثالث اور دفاعی پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کی بدولت جنگ بندی ممکن ہوئی ہے،اس پائیدار امن کے ثمرات سعودی عرب، خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں، شام اور مصر سمیت پوری مسلم امہ تک پہنچیں گے اور خطے کے عوام سکھ کا سانس لیں گے۔

    خواجہ آصف نے ان کامیابیوں اور امن کی کوششوں کا سہرا وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں کے باہمی تعاون سے پاکستان ایک نئی سمت میں گامزن ہے انہوں نے پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کی قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جن کی بدولت ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنا۔

    وفاقی وزیر نے مزید انکشاف کیا کہ ایسی اطلاعات بھی گردش کررہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوران چند گھنٹوں کے لیے پاکستان میں قیام کرسکتے ہیں، جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک مزید دشمنی یا جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ عالمی سطح پر مہنگائی اور تیل کی فراہمی کے بحران نے معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    خواجہ آصف نےکہا کہ اب یورپ کے رویے میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے اور وہ دشمنی کے بجائے مفاہمت اور امن کی بات کر رہے ہیں جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے ،پاکستان اب ایک محفوظ متبادل تجارتی اور سفارتی گیٹ وے کے طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے اور ان شاء اللہ دشمنیوں کے اس خاتمے سے ملک و قوم کے لیے خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے۔

  • حکومت نے مستقبل میں لگنے والے بڑے آئی پی پیز منصوبوں کو روک دیا ہے،اویس لغاری

    حکومت نے مستقبل میں لگنے والے بڑے آئی پی پیز منصوبوں کو روک دیا ہے،اویس لغاری

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت سبسڈی کے نظام میں بہتری لا رہی ہے اور نجی کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جا رہی ہے تاکہ نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

    لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی میں منعقدہ پاور کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں اور اس مقصد کے لیے حکومت مختلف اقدامات کررہی ہے حکومت سبسڈی کے نظام میں بہتری لا رہی ہے اور نجی کمپنیوں کو اسمارٹ میٹرنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جا رہی ہے تاکہ نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ خراب میٹرز کے باعث بلنگ کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس لیے یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی خراب میٹر طویل عرصے تک فعال نہ رہے تاکہ صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے حکومت نے مستقبل میں لگنے والے بڑے آئی پی پیز منصوبوں کو روک دیا ہے اور توانائی کے شعبے میں حکومتی کردار کو کم کیا جا رہا ہے آئندہ ایک سے 2 سال میں کئی توانائی کمپنیاں نجی شعبے کے حوالے کی جائیں گی۔

    انہوں نے بتایا کہ صنعت اور زراعت کے لیے بجلی کے الگ نرخ مقرر کیے جائیں گے جبکہ دن کے اوقات میں مخصوص کیٹیگریز کو نسبتاً سستی بجلی فراہم کی جائے گی حکومت کا ہدف بجلی کو اس حد تک سستا اور قابلِ رسائی بنانا ہے کہ صارفین اسے بیٹری میں ذخیرہ کرکے بعد میں استعمال کر سکیں میٹرز کی خریداری میں نمایاں بچت کی گئی ہے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے۔