Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ملک پر قرضوں کا بوجھ کم، زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں بہتری

    ملک پر قرضوں کا بوجھ کم، زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں بہتری

    اسلام آباد: حالیہ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں قومی خزانے پر قرضوں کا دباؤ نسبتاً کم ہوا ہے، مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومتی قرضوں کی شرح نمو گزشتہ 15 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستان کا مرکزی حکومتی قرض 81.9 کھرب روپے ہے، جبکہ 97 سے 100 کھرب روپے کے جن اعداد و شمار کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں نجی شعبے کے واجبات بھی شامل ہوتے ہیں۔

    مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے معاشی اعشاریوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری کی تصدیق کی ہے کہا کہ پاکستان کا قرض اور جی ڈی پی تناسب جو پہلے 76 فیصد تھا، اب نمایاں طور پر کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا ہے سال 2023 میں حکومتی قرض بڑھنے کی رفتار 23 فیصد کی تشویشناک سطح پر تھی، جو موجودہ معاشی اقدامات کی بدولت اب محض 5 فیصد پر آ گئی ہے، جو کہ گزشتہ 15 سالوں میں سب سے کم رفتار ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق مقامی قرضوں کی اوسط مدت 2.8 سال سے بڑھا کر 3.8 سال کر دی گئی ہے، جس سے قرضوں کی فوری واپسی کا خطرہ اور دباؤ کم ہوا ہے،اس کے علاوہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں پہلی بار 4.7 کھرب روپے کے قرضے قبل از وقت ختم یا واپس کر دیے گئے ہیں انہی اقدامات کی بدولت مالی سال 2026 میں سودی اخراجات 8.89 کھرب روپے سے کم ہو کر 6.94 کھرب روپے رہ گئے ہیں، جس سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 2 کھرب روپے کی خطیر بچت ہوئی ہے۔

    مشیر وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2023 میں وفاقی آمدن کا 64 فیصد حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہوتا تھا، جو اب کم ہو کر تقریباً 40 فیصد رہ گیا ہے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث درآمدی بل کی ادائیگی کی گنجائش 2 ہفتوں سے بڑھ کر تقریباً 3 ماہ تک پہنچ گئی ہے ، قرضوں کی واپسی میں مثبت پیش رفت اور ذخائر میں اضافہ دیرپا حکومتی پالیسیوں اور مؤثر معاشی اقدامات کا نتیجہ ہے،زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہونے سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ بہتر ہوئی ہے اور ملکی معیشت صحیح سمت کی طرف گامزن ہے۔

  • اٹلی: دو معصوم بچوں کی جان بچانے والے پاکستانی نوجوان کے لیے سرکاری اعزاز

    اٹلی: دو معصوم بچوں کی جان بچانے والے پاکستانی نوجوان کے لیے سرکاری اعزاز

    اٹلی کے شہر بریشیا میں گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک 29 سالہ پاکستانی نوجوان نوید اسلم نے بہادری سے نہ صرف اٹلی بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

    چند روز قبل بریشیا کے ایک پارک میں معصوم بچے کھیل رہے تھے کہ اچانک ایک نائجیرین شہری نے ان پر حملہ کر دیا اور بچوں کی گردن دبانے کی کوشش کی اس خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہی وہاں موجود نوید اسلم نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حملہ آور پر جھپٹ پڑے اور اسے دبوچ لیا انہوں نے پولیس کے آنے تک اس وحشی حملہ آور کو پوری طرح قابو میں رکھا، بچوں کو بچانے کی اس جدوجہد کے دوران نوید اسلم خود بھی زخمی ہوئے لیکن انہوں نے معصوم بچوں پر آنچ نہیں آنے دی۔

    پاکستانی نوجوان کی اس غیر معمولی بہادری اور انسانی خدمت کے اعتراف میں بریشیا شہر کی میئر لورا کاسٹیلیٹی نے نوید اسلم کو اپنے دفتر بلایا اور انہیں خصوصی اعزازی شیلڈ سے نوازا تقریب کے دوران میئر لورا کاسٹیلیٹی نے نوید اسلم کی جرات کو دل کھول کر سراہا اور کہا کہ نوید اسلم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر معصوم بچوں کو بچایا، ان کی یہ غیر معمولی بہادر ی اور بروقت انسانی خدمت واقعی تعریف کے قابل ہے جس پر پورا شہر ان کا شکر گزار ہے۔

    اس موقع پر اعزاز حاصل کرنے کے بعد گجرات کے شیر دل نوجوان نوید اسلم نے انتہائی سادگی اور عاجزی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ان بچوں کی جان بچانا ان کی انسانی ذمہ داری تھی، انہوں نے کچھ الگ نہیں کیا بلکہ جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے لیے کرنا چاہیے، وہی کیا۔

  • ثانیہ اشفاق کے سابق شوہر عماد وسیم پر نئے الزامات، کرکٹر کا سخت ردِعمل

    ثانیہ اشفاق کے سابق شوہر عماد وسیم پر نئے الزامات، کرکٹر کا سخت ردِعمل

    پاکستانی کرکٹر عماد وسیم اور ان کی سابقہ اہلیہ، ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسر ثانیہ اشفاق کے درمیان تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا ہے۔

    انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں ثانیہ اشفاق نے کہا کہ شادی کے دوران انہیں شدید ذہنی دباؤ، کنٹرول کرنے والے رویے اور نامناسب سلوک کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب عماد وسیم نہ صرف بچوں کے اخراجات اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں بلکہ ان سے ملاقات یا رابطے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتے، تاہم اس کے باوجود بچوں کی تحویل حا صل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،دنیا جانتی ہے کہ عماد وسیم کے موجودہ اہلیہ نائلہ راجہ کے ساتھ تعلقات کب شروع ہوئے۔

    انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ حمل کے دوران انہیں دھوکا دیا گیا اور اسی عرصے میں سابق شوہر کے حد سے زیادہ کنٹرول کرنے والے رویے نے ان کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا جولائی 2025 میں برطانیہ میں گھریلو تشدد اور رویے سے متعلق الزامات کے باعث عماد وسیم کو گرفتار کیا گیا تھا،انہیں خدشہ تھا کہ ان سے بچوں کو الگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ان پر اپنا مؤقف واپس لینے کے لیے بھی دباؤ ڈالا گیا، جس کے بعد سوشل سروسز کو معاملے میں مداخلت کرنا پڑی۔

    ثانیہ اشفاق کا کہنا تھا کہ حال ہی میں سوشل ورکرز نے عماد وسیم سے بچوں سے رابطے کے حوالے سے پوچھا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا وہ نہ بچوں سے ملنا چاہتے ہیں اور نہ ہی بات کرنا چاہتے ہیں، تاہم ان کی زندگی مسلسل مشکل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ بچوں کی تحویل چھوڑ دیں ایک ماں کے طور پر وہ ہر حال میں اپنے بچوں کی حفاظت کریں گی اور امید کرتی ہیں کہ حقیقت ایک دن سب کے سامنے آ جائے گی۔

    دوسری جانب عماد وسیم نے بھی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طلاق اپنی ذاتی وجوہات کی بنیاد پر دی تھی اور ان کی زندگی کا یہ باب ختم ہو چکا ہے ان کی موجودہ زندگی، اہلیہ اور اہلِ خانہ کو اس تنازع سے دور رکھا جائے،عماد وسیم نے واضح کیا کہ ان کی موجودہ اہلیہ نائلہ راجہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ وہ ان کی زندگی میں طلاق کے بعد آئیں۔ انہوں نے سابقہ اہلیہ سے کہا کہ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر حقیقت کو قبول کریں اور روزانہ عوامی سطح پر اس معاملے کو اچھالنے کا سلسلہ بند کریں، یہ آخری مرتبہ ہے جب وہ اس تنازع پر عوامی طور پر اپنا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔

  • سونے کی قیمت میں کمی

    سونے کی قیمت میں کمی

    کراچی: سونے کی عالمی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں قیمت کم ہو گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 1000روپے کی کمی سے 4لاکھ 31ہزار 236روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 730روپے گھٹ کر 3لاکھ 68ہزار 230روپے کی سطح پر آگئی جبکہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت 10 ڈالر کی کمی سے 4ہزار 88ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی –اسی طرح مقامی سطح پر فی تولہ چاندی کی قیمت 271 روپے کی کمی سے 6ہزار 393 روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 161روپے کی کمی سے 5ہزار 480روپے کی سطح پر آگئی۔

    ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھات کی قیمت بڑھنے کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔

  • برطانیہ:’لیری دی کیٹ‘  10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بِلّا

    برطانیہ:’لیری دی کیٹ‘ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بِلّا

    برطانیہ کا مشہور بِلّا ’لیری دی کیٹ‘ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا سب سے پرانا رہائشی بن گیا۔

    مشہور بِلّے ’لیری دی کیٹ‘ کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں رہتے ہوئے 15 سال مکمل ہو گئے، اس دوران وزیرِ اعظم آفس میں 6 وزرائے اعظم آئے اور گئے، لیکن یہ بِلّا 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں اپنے ’چیف ماؤزر‘ کے عہدے پر براجمان رہا ’لیری دی کیٹ‘ نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں چیف ماؤزر کے طور پر 6 مختلف وزرائے اعظم کے ساتھ خدمات انجام دیں،اس دوران ’لیری دی کیٹ‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنماؤں کی توجہ بھی حاصل کر چکا ہے۔

    اس کو فروری 2011ء میں سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور ان کی اہلیہ سمانتھا نے اپنے بچوں کے لیے پالتو جانور کے طور پر ’بیٹر سی ڈاگز اینڈ کیٹس ہوم‘ سے گود لیا تھااب 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بطور چیف ماؤزر ’لیری دی کیٹ‘ کی ذمے داری چوہوں کی تعداد کو قابو میں رکھنا ہے۔

    برطانیہ میں 1920ء کی دہائی سے اس سرکاری عہدے پر کوئی نہ کوئی بلی فائز رہتی ہے ، اسی لیے اب یہ 19 سالہ بِلّا اس عہدے پر فائز ہےیہ بِلّا مرکزی لندن میں وزیرِاعظم کے گھر کے دروازے کے باہر بار بار دکھائی دینے کی وجہ سے عوام کی خصوصی توجہ کا مرکز بھی بن گیا ہے اس کا سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک آفیشل اکاؤنٹ بھی موجود ہے اور اسے لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں۔

  • اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اصل میں امریکا کی ہار کا اعلان بن چکا ہے،محمد باقر قالیباف

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اصل میں امریکا کی ہار کا اعلان بن چکا ہے،محمد باقر قالیباف

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ امریکا کی شکست کا اعلان ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کسی کے دباؤ یا زبردستی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ ایرانی قوم کی ہمت، پکی طاقت اور ڈٹے رہنے کا ثبوت ہے-

    باقر قالیباف نے نے آذربائیجان میں اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے ایک بڑے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کسی کے دباؤ یا زبردستی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ ایرانی قوم کی ہمت، پکی طاقت اور ڈٹے رہنے کا ثبوت ہے اسلام آباد کا یہ معاہدہ اصل میں امریکا کی ہار کا اعلان بن چکا ہے انہوں نے خطے کے دیگر ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے علاقے کی حفاظت کی ذمہ داری خود سنبھالیں اور باہر کے ملکوں کی مداخلت کو بالکل قبول نہ کریں، اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ برابری اور ایک دوسرے کی عزت کی بنیاد پر ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

    امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے بڑے رہنما چک شومر نے اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ کر امریکی عوام کو پریشانی، افراتفری اور بہت بڑے نقصان کے سوا کچھ نہیں دیااس لڑائی کے ہر ایک سیکنڈ کے ساتھ امریکی عوام کے پیسوں کا خرچہ بڑھتا جا رہا ہے اور عوام ٹرمپ کی اس تاریخی غلطی کا بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں۔

    چک شومر نے اس جنگ کو دنیا کی تاریخ کی سب سے بری پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا مذاق اور مہنگی جنگ ہے جس کا کوئی فائدہ یا مقصد ہی نہیں تھا حکومت نے جنگ شروع کرتے وقت جو فائدے سوچے تھے، ان میں سے ایک بھی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وزیر خارجہ اب عوام کے سا منے آ کر جواب دینے سے بھاگ رہے ہیں اور کسی کو بھی نہیں معلوم کہ پسِ پردہ کیا خفیہ سودا ہوا ہے اس نام نہاد سمجھوتے کی تفصیلات اس لیے چھپائی جا رہی ہیں کیونکہ حکو مت یہ سب دکھانے سے ڈرتی ہے اور وہ خود جانتے ہیں کہ انہوں نے کتنی بری کارکردگی دکھائی ہے، ایران جنگ کو اب فوراً ختم ہونا چاہیے اور ٹرمپ کو یہ لڑائی کبھی شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔

  • ائیر لائنز کو ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود میں پروازیں چلانے سے گریزکا مشورہ

    ائیر لائنز کو ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود میں پروازیں چلانے سے گریزکا مشورہ

    یورپی یونین کی فضائی تحفظ کی ایجنسی نے ایئرلائنز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود میں پروازیں چلانے سے گریز کریں-

    ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے طے پانے والی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور کسی بھی وقت حالات دوبارہ خراب ہونے کا خدشہ موجود ہے ای اے ایس اے نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان، قطر، بحرین، کویت، اردن اور اسرائیل کے فضائی آپریشنز کے حوالے سے بھی ایئرلائنز کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    ایجنسی کے مطابق خطے میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا امکان اب بھی موجود ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے اطراف کسی بھی اچانک کشیدگی کے باعث فضائی اور بحری نقل و حمل متاثر ہو سکتی ہے فضائی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مسلسل سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں، خطرات کا تازہ تجزیہ تیار رکھیں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے متبادل منصو بے بھی تیار رکھیں۔

    ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ سفارتی پیش رفت کے باوجود علاقائی صورتحال ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی، جس کے باعث بین الاقوامی فضائی ادارے احتیاطی تدابیر برقرار رکھے ہوئے ہیںفضائی حدود سے متعلق ایسی ہدایات عالمی مسافروں، ایئرلائنز اور کارگو آپریٹرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور ان کا مقصد ممکنہ خطرات سے قبل تیاری کرنا ہوتا ہے۔

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ،سروے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ،سروے

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت پر دنیا بھر میں اعتماد بدستور کمزور ہے، جبکہ امریکا کو ایک قابلِ اعتماد عالمی شراکت دار سمجھنے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

    یہ انکشاف امریکی تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کے تازہ عالمی سروے میں ہوا ہے سروے فروری سے مئی 2026 کے درمیان دنیا کے 36 ممالک میں 42 ہزار 151 بالغ افراد سے کیا گیا یہ وہ عرصہ تھا جب ایک جانب چین اور امریکا کے درمیان جغرافیائی سیاسی رقابت شدت اختیار کر رہی تھی، جبکہ دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلا ف فوجی کارروائی بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔

    سروے کے نتائج کے مطابق اوسطاً صرف 23 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں عالمی معاملات میں درست فیصلے کرنے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتماد ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی شرکاء نے ان پر کم یا بالکل اعتماد نہ ہونے کا اظہار کیا جبکہ 24 ممالک میں سے 16 میں ٹرمپ پر اعتماد میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کسی بھی ملک میں اس حوالے سے بہتری نہیں دیکھی گئی۔

    امریکا کے بارے میں عالمی رائے بھی زیادہ مثبت نہیں رہی سروے میں شامل 36 ممالک میں صرف 37 فیصد افراد نے امریکا کے بارے میں موافق رائے دی، جبکہ 57 فیصد نے منفی تاثر کا اظہار کیا۔ انڈونیشیا، اٹلی، نائجیریا، جنوبی افریقا، جنوبی کوریا اور ترکی سمیت کئی ممالک میں امریکا کی مقبولیت میں دوہرے ہندسوں کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امریکا کے کردار کے بارے میں بھی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے صرف 35 فیصد افراد کا خیال تھا کہ امریکا دنیا میں امن اور استحکام کے فروغ میں مثبت کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ صرف 32 فیصد نے کہا کہ واشنگٹن اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت دیگر ممالک کے مفادات کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔

    امریکی جمہوریت کے حوالے سے بھی عالمی تاثر منفی ہوا ہے سروے میں 39 فیصد افراد نے کہا کہ امریکی حکومت اپنے شہریوں کی شخصی آزادیوں کا احترام کرتی ہے، جبکہ 56 فیصد اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ جن 13 ممالک میں یہ سوال 2021 میں بھی پوچھا گیا تھا، ان میں سے 12 میں امریکا کے بارے میں مثبت رائے میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

    امریکا کے قریبی اتحادی ممالک میں بھی اس پر اعتماد کم ہوا ہے کینیڈا میں 2022 میں 83 فیصد افراد امریکا کو قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتے تھے، لیکن 2026 میں یہ شرح کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی آسٹریلیا، جاپان اور سنگاپور سمیت ایشیا پیسیفک خطے کے اہم اتحادی ممالک میں بھی اسی نوعیت کی کمی سامنے آئی آسٹریلیا میں 2023 کے بعد سے امریکا کو عالمی امن و استحکام میں مثبت کردار ادا کرنے والا ملک سمجھنے والوں کی تعداد میں 30 پوائنٹس سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی فلپائن اس رجحان سے نمایاں طور پر مختلف رہا وہاں 77 فیصد افراد نے امریکا کو عالمی امن و استحکام میں معاون قرار دیا، جبکہ یہی وہ ملک تھا جہاں ٹرمپ کو سب سے زیادہ حمایت بھی حاصل رہی۔

    سروے کے مطابق ٹرمپ پر سب سے زیادہ اعتماد فلپائن، اسرائیل، نائجیریا، کینیا اور گھانا میں دیکھا گیا نائجیریا میں مذہبی بنیادوں پر واضح فرق سامنے آیا، جہاں 87 فیصد مسیحیوں نے ٹرمپ پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح صرف 33 فیصد رہی اس کے برعکس ترکی اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں مقیم فلسطینیوں کے درمیان ٹرمپ پر اعتماد انتہائی کم، یعنی سنگل ڈیجٹ سطح تک محدود رہا۔

    سیاسی نظریات کے لحاظ سے بھی ٹرمپ کے بارے میں آراء مختلف رہیں 27 ممالک میں سے 18 میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے افراد نے بائیں بازو کے افراد کے مقابلے میں ٹرمپ پر زیادہ اعتماد ظاہر کیا یورپ کی دائیں بازو کی مقبول جماعتوں کے حامی بھی ان کے حامیوں میں شامل تھے، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں ان حلقوں میں بھی حمایت میں کمی دیکھی گئی۔

    سروے میں بین الاقوامی معاملات پر ٹرمپ کی کارکردگی کو بھی وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا رہا 74 فیصد شرکاء نے ایران کے حوالے سے ان کی پالیسی کو ناپسند کیا اسی طرح تجارتی محصولات (ٹیرف)، روس یوکرین جنگ، غزہ کی صورتحال اور دیگر اہم خارجہ پالیسی معاملات پر بھی اکثریت نے ان کی حکمت عملی کو مسترد کیا۔

    البتہ اسرائیل اس معاملے میں ایک استثنا رہا، جہاں ایران کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی کو 73 فیصد افراد کی حمایت حاصل تھی انسانی امداد اور امیگریشن کے معاملات میں بعض ممالک میں ٹرمپ کو نسبتاً بہتر درجہ بندی ملی، تاہم مجموعی طور پر اکثریت نے ان کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔

    سابق امریکی صدور کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو فرانس، جرمنی، اسپین اور برطانیہ میں ٹرمپ کی مقبولیت اب بھی کم سطح پر ہے، اگرچہ یہ ان کے پہلے دورِ صدارت کے اختتام کے مقابلے میں قدرے بہتر رہی، ان کی درجہ بندی سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے آخری دورِ حکومت کے برابر یا اس سے کچھ بہتر رہی، تاہم سابق صدر باراک اوباما کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی، جنہیں عالمی سطح پر مسلسل زیادہ پذیرائی حاصل رہی تھی۔

  • کراچی میں قتل کی جانیوالی 3 سالہ بچی سے زیادتی کی تصدیق، مقدمہ درج،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    کراچی میں قتل کی جانیوالی 3 سالہ بچی سے زیادتی کی تصدیق، مقدمہ درج،تحقیقاتی کمیٹی قائم

    کراچی کے علاقے ملیر قائد آباد میں 3 سال کی بچی سے مبینہ زیادتی اور تشدد کے بعد قتل کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔

    مقدمہ اغوا، قتل، زیادتی، تشدد اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، معصوم بچی کی تشدد زدہ لاش بوری میں بند ملی تھی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ یہ کیس بدترین اور سفاکانہ زیادتی کی مثال ہے، مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں زیادتی اور تشدد کی تصدیق ہوئی ہے، وجہ موت کے تعین کیلئے پوسٹ مارٹم رپورٹ محفوظ کرلی گئی ہے جبکہ کیمیکل ایگزا من رپورٹ آنے پر موت کی وجہ کا تعین ہوگا۔

    ایف آئی آر میں والد نے بتایا ہے کہ بیٹی 12 بجے گھر سے باہر کھیلنے گئی تھی واپس نہیں آئی، جس پر اہلیہ نے کال کرکے اطلاع دی، میں فوری گھر آیا، بیٹی کو کافی تلاش کیا مگر وہ نہیں ملی، پونے 8 بجے جب گھر واپس آئے تو گلی میں ہجوم تھا، محلے والوں نے بتایاکہ نامعلوم افراد بیٹی کی لاش بوری میں پھینک کرگئے ہیں، بچی کے دادا نے میری بیٹی کلثوم کی لاش کی تصدیق کی تھی۔

    آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے، کمیٹی میں ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی اور ایس ایس پی اسپیشل برانچ سمیت دیگر ادارے بھی شامل ہیں، کمیٹی تمام پہلوؤں کاجائزہ لےکر جلد رپورٹ پیش کرے گی جبکہ کمیٹی روزانہ کیس میں ہونیوالی پیش رفت سے آئی جی سندھ کو آگاہ کرے گی۔

    اس حوالے سے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ قتل میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ملزمان کو سخت سزا دلانے کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے، متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی سندھ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

  • طلاق کے بعد کسی نئے رشتے کے بارے میں سوچنا میرے لیے آسان نہیں رہا،کنول فاروق

    طلاق کے بعد کسی نئے رشتے کے بارے میں سوچنا میرے لیے آسان نہیں رہا،کنول فاروق

    پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ریئلٹی ٹی وی اسٹار کنول فاروق نے انکشاف کیا کہ میری شادی ناکام ثابت ہوئی اور اس تجربے نے مجھے جذباتی طور پر شدید متاثر کیا۔

    کنول فاروق نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی ناکام شادی اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں کھل کر گفتگو کی ہے، اپنی گفتگو کے دوران وہ کئی مواقع پر آبدیدہ بھی ہو گئیں اور کہا کہ اس تجربے کے بعد کسی نئے رشتے کے بارے میں سوچنا میرے لیے آسان نہیں رہا۔

    کنول فاروق نے انکشاف کیا کہ میری شادی ناکام ثابت ہوئی اور اس تجربے نے مجھے جذباتی طور پر شدید متاثر کیا، میں نے اپنے سابق شوہر سے اس وقت شادی کی جب میرے پاس زیادہ مالی وسائل موجود نہیں تھے میرے دوستوں نے ہمارے لیے انگوٹھی کا انتظام کیا تاکہ میں اپنے اہلِ خانہ کو رشتہ دکھا سکوں میں نے اپنے شریکِ حیات کی محبت اور وعدوں پر مکمل اعتماد کیا، لیکن بعد ازاں مجھے شدید دل آزاری کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر یہ رشتہ طلاق پر ختم ہوا،کنول فاروق نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم ماضی کی یاد یں اب بھی انہیں جذباتی کر دیتی ہیں۔

    واضح رہے کہ کنول فاروق کو ریئلٹی شو ’تماشہ سیزن 4‘ میں شرکت کے بعد ملک بھر میں خاصی شہرت حاصل ہوئی-