ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ امریکا کی شکست کا اعلان ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کسی کے دباؤ یا زبردستی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ ایرانی قوم کی ہمت، پکی طاقت اور ڈٹے رہنے کا ثبوت ہے-
باقر قالیباف نے نے آذربائیجان میں اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے ایک بڑے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کسی کے دباؤ یا زبردستی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ ایرانی قوم کی ہمت، پکی طاقت اور ڈٹے رہنے کا ثبوت ہے اسلام آباد کا یہ معاہدہ اصل میں امریکا کی ہار کا اعلان بن چکا ہے انہوں نے خطے کے دیگر ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے علاقے کی حفاظت کی ذمہ داری خود سنبھالیں اور باہر کے ملکوں کی مداخلت کو بالکل قبول نہ کریں، اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ برابری اور ایک دوسرے کی عزت کی بنیاد پر ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے بڑے رہنما چک شومر نے اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ کر امریکی عوام کو پریشانی، افراتفری اور بہت بڑے نقصان کے سوا کچھ نہیں دیااس لڑائی کے ہر ایک سیکنڈ کے ساتھ امریکی عوام کے پیسوں کا خرچہ بڑھتا جا رہا ہے اور عوام ٹرمپ کی اس تاریخی غلطی کا بھاری نقصان اٹھا رہے ہیں۔
چک شومر نے اس جنگ کو دنیا کی تاریخ کی سب سے بری پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا مذاق اور مہنگی جنگ ہے جس کا کوئی فائدہ یا مقصد ہی نہیں تھا حکومت نے جنگ شروع کرتے وقت جو فائدے سوچے تھے، ان میں سے ایک بھی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وزیر خارجہ اب عوام کے سا منے آ کر جواب دینے سے بھاگ رہے ہیں اور کسی کو بھی نہیں معلوم کہ پسِ پردہ کیا خفیہ سودا ہوا ہے اس نام نہاد سمجھوتے کی تفصیلات اس لیے چھپائی جا رہی ہیں کیونکہ حکو مت یہ سب دکھانے سے ڈرتی ہے اور وہ خود جانتے ہیں کہ انہوں نے کتنی بری کارکردگی دکھائی ہے، ایران جنگ کو اب فوراً ختم ہونا چاہیے اور ٹرمپ کو یہ لڑائی کبھی شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔
