Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • ایپسٹین اسکینڈل:ٹرمپ سے متعلق ویڈیوزواشنگٹن کی عمارت پر نشر

    ایپسٹین اسکینڈل:ٹرمپ سے متعلق ویڈیوزواشنگٹن کی عمارت پر نشر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ویڈیوز واشنگٹن ڈی سی کی ایک عمارت پر پروجیکٹ کر دی گئیں۔

    مناظر میں ایپسٹین سے منسلک تصاویر اور دستاویزات شامل تھیں، جبکہ پس منظر میں اس کی ای میلز کے اقتباسات پر مبنی آڈیو بھی سنائی گئی سڑک کے دوسری جانب ایک ہجوم جمع ہو گیا جو عمارت کی بیرونی دیوار پر چلنے والی ان پروجیکشنز کو دیکھتا رہا –

    مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے درمیان روابط کی نشاندہی کرتی تصاویر اور دستاویزات واشنگٹن ہلٹن کی عمارت پر دکھائیں، یہ احتجاج 24 اپریل کو پروجیکٹ کیا گیا جو سالانہ وائٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ڈنر سے عین پہلے کا وقت تھا،یہ ایک اہم تقریب ہے جس میں صحافی، سیاسی رہنما اور وہ شخصیات شریک ہوتی ہیں جو امریکی صدارت کا احاطہ کرتی ہیں۔

    اس سال کی تقریب اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ صدر ٹرمپ اس میں شرکت کرنے والے ہیں، جو بطور صدر ان کی پہلی حاضری ہوگی میڈیا کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات اور فیک نیوز کے خلاف ان کے بیانات کے باعث ان کی شرکت نے واشنگٹن میں حیرت اور دلچسپی پیدا کر دی ہے یہ تقریب وا ئٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد ہوتی ہے، اور روایتاً اس میں موجودہ صدر کی شرکت کو آزادیٔ صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران اس تقریب میں شرکت نہیں کی تھی اور 2025 میں بھی اسے نظر انداز کردیا تھا اس سال انہیں مدعو کرنے کے فیصلے پر کئی نیوز رومز میں تنقید سامنے آئی ہے سینکڑوں صحافیوں نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا ہےجس میں شرکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صدر سے میڈیا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے براہِ راست سوال کریں۔

    صدر ٹرمپ اور میڈیا کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، وہ متعدد خبر رساں اداروں کے خلاف مقدمات دائر کر چکے ہیں، اور تنقیدی رپورٹنگ کو فیک نیوز قرار دیتے رہے ہیں صدرٹرمپ صحافیوں کو ذاتی طور پر نشانہ بھی بناتے رہے ہیں، ان کی انتظامیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو وائٹ ہاؤس پریس پول سے خارج کرنے جیسے میڈیا کی رسائی محدود کرنے کے اقدامات بھی کیے۔

  • سینیٹر سیدال خان  قائم مقام چیئرمین سینیٹ مقرر

    سینیٹر سیدال خان قائم مقام چیئرمین سینیٹ مقرر

    سینیٹ سیکریٹریٹ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے سینیٹر سیدال خان کو قائم مقام چیئرمین سینیٹ مقرر کر دیا ہے۔

    جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 53(3) اور آرٹیکل 61 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، سینیٹر سیدال خان، جو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ہیں، 25 اپریل 2026 سے بطور قائم مقام چیئرمین سینیٹ ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی ان دنوں صدرِ پاکستان کی بیرونِ ملک سرکاری مصروفیات کے دوران ان کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جس کے باعث قائم مقام چیئرمین کی تقرری ضروری ہوئی اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں اور حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے جبکہ نوٹیفکیشن کو گزٹ آف پاکستان میں شائع کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

  • سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون  وسیع

    سپریم کورٹ پاکستان کا ترکیہ اور چین کے ساتھ عدالتی تعاون وسیع

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود ترکیہ اور چین کا دورہ کریں گے-

    ترکیہ اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک عدالتی شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے نظامِ انصاف کو جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آئینی عدالت ترکیہ اور Supreme People’s Court of China کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت عدالتی تبادلے، تربیت، ٹیکنالوجی انضمام اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    ان اقدامات کے تحت ضلعی عدلیہ کے میرٹ پر منتخب ججز کو عالمی سطح پر تربیتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں جیسے گوادر، لکی مروت، گھوٹکی، بنوں، کوئٹہ اور مٹھی سے تعلق رکھنے والےججز کو بھی بین الاقوامی فورمز میں نمائندگی دی جا رہی ہے۔ خواتین ججز کی عالمی سطح پر مؤثر اور بھرپور شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ پاکستانی عدالتی وفود ترکیہ اور چین میں کانفرنسز اور تربیتی پروگرامز میں شرکت کر رہے ہیں۔

    مزید برآں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے آئی ٹی افسران کے وفود بھی ان ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ جدید عدالتی ڈیجیٹل نظام اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا عملی جائزہ لیا جا سکے سپریم کورٹ کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشتیں نہ صرف فعال بلکہ نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں، اور اس عالمی تعاون کے ذریعے پاکستان کے نظامِ انصاف میں اصلاحات اور ادارہ جاتی ترقی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

    پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

    پاکستان نے خلائی پروگرام میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے، مقامی سطح پر تیار کردہ ’ای او تھری‘ سیٹلائٹ خلا میں روانہ کردیا گیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا مقامی طور پر تیار کردہ ‘الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ’ (ای او3) کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کردیا ہے اس تاریخی سیٹلائٹ کو چین کے تائی یوآن سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا، جو پاکستان کے خلائی پروگرام میں خود انحصاری اور تکنیکی مہارت کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    ای او تھری سیٹلائٹ کا کامیاب مشن پاکستان کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہے، جو ملک میں شہری منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے کے انتظام (ڈیزاسٹر مینجمنٹ)، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں انقلاب برپا کر دے گایہ سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے کے ایک مربوط نظام کی بنیاد بنے گا، جس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا قومی ترجیحات کو سہارا دینے اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    اس تاریخی موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے سپارکو کے انجینیئرز اور سائنسدانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے،وزیرِ اعظم نے عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے ساتھ ہی انہوں نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کے دیرینہ اور ہر موسم کے آزمودہ دوست ملک چین کے تعاون کو بھی سراہا، جس نے اس اہم منصوبے کی تکمیل میں بھرپور مدد فراہم کی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کی مدد سے اب پاکستان خلا سے حاصل ہونے والی تصاویر اور ڈیٹا کے لیے غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم کر سکے گا۔

  • سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج

    سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج

    سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج ہوا-

    سورج نے7 گھنٹوں کےاندر 2 طاقتور ایکس 2.5 درجے کےشمسی شعلے خارج کیے، جو گزشتہ 78 دنوں میں سب سےشدید شمسی سرگرمی سمجھی جا رہی ہے دونوں دھماکے سورج کے ایک غیر مستحکم سن اسپاٹ ریجن اے آر 4419 سے خارج ہوئے، جو اس وقت سورج کے مغربی کنارے پر واقع ہےپہلا شمسی شعلہ 23 اپریل کو رات 9:07 بجے اپنے عروج پر پہنچا، جبکہ دوسرا 24 اپریل کو صبح 4:14 بجے ظاہر ہوا۔

    طبیعیات دان ریان فرنچ کے مطابق، یہ گزشتہ 78 دنوں میں دیکھے گئے سب سے طاقتور شعلے ہیں ان دھماکوں سے خارج ہونے والی شعاعوں نے زمین کے روشن حصے میں شدید ریڈیو بلیک آؤٹس پیدا کیے پہلا بلیک آؤٹ بحرالکاہل اور آسٹریلیا کے کچھ علاقوں میں محسوس کیا گیا، جبکہ دوسرے نے مشرقی ایشیا کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔

    23 اپریل کو ان ایکس درجے کے شعلوں سے قبل درمیانے درجے کے ایم کلاس شمسی شعلوں کی ایک لہر بھی دیکھی گئی، جس کے ساتھ ایک نایاب ‘سمپیتھیٹک فلیئر’ بھی سامنے آیا، جس میں سورج کے 2 مختلف حصوں میں بیک وقت دھماکے ہوئے۔

    ماہرین کے مطابق، ان شعلوں کے ممکنہ راستوں کا تجزیہ جاری ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ ان کے اثرات زمین کو جزوی طور پر متاثر کریں ایسی صورت میں جیومقناطیسی طوفان پیدا ہو سکتے ہیں اور آسمان پر خوبصورت قطبی روشنیاں نظر آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ شمسی شعلے سورج پر ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکے ہوتے ہیں، جو روشنی اور توانائی کے شدید اخراج کا سبب بنتے ہیں۔ان میں ایکس ریز اور بالائے بنفشی شعاعیں شامل ہوتی ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں جب یہ شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں تو فضا کی بالائی تہہ یعنی آئنوسفیئر کو متاثر کرتی ہیں عام حالات میں، طویل فاصلے تک جانے والے ریڈیو سگنلز آئنوسفیئر سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف آتے ہیں، لیکن شمسی شعاعوں کے اثر سے یہ نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ریڈیوسگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں اور شارٹ ویو ریڈیو بلیک آؤٹ ہو سکتا ہے۔

  • مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کی پیشگوئی

    مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کی پیشگوئی

    ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ”ایل نینو“ نامی موسمی نظام مئی کے اوائل میں دوبارہ ظاہر ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اور موسم کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔

    ایل نینو دراصل بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا ایک قدرتی موسمی چکر ہے جو ہر دو سے سات سال کے درمیان سامنے آتا ہےیہ نظام ایل نینو اور لا نینا کے مراحل کے درمیان گھومتا رہتا ہے ایل نینو کے دوران سمندر کے پانی کا درجہ حرارت خاص طور پر وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں بڑھ جاتا ہے، جس سے ہواؤں کا نظام متاثر ہوتا ہے اور دنیا بھر میں بارشوں اور درجہ حرارت کے پیٹرن بدل جاتے ہیں۔

    عالمی موسمیاتی ادارے کی جانب سے 21 اپریل کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مئی سے جولائی کے درمیان ایل نینو کے بننے کے امکانات واضح ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ ایک مضبوط ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے، جس کی شدت آنے والے مہینوں میں مزید بڑھ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق سال کے آغاز میں موسم نسبتاً متوازن تھا، لیکن اب موسمی ماڈلز ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جس سے ایل نینو کے آغاز پر اعتماد بڑھ گیا ہے اس کے اثرات نہ صرف درجہ حرارت میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے بلکہ دنیا کے مختلف علاقوں میں بارشوں کے نظام کو بھی متاثر کریں گے۔

    اس سے قبل ایل نینو مئی 2023 سے مارچ 2024 تک جاری رہا تھا، جس نے 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال بنانے میں اہم کردار ادا کیا، نئی رپورٹ کے مطابق آئندہ مئی، جون اور جولائی میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر جنوبی شمالی امریکا، وسطی امریکا، کیریبین، یورپ اور شمالی افریقہ میں، بارشوں کے حوالے سے صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے کچھ علاقوں میں بارشیں زیادہ ہو سکتی ہیں جبکہ بعض جگہوں پر غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے، جس کی وجہ سے حتمی پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔

    امریکی موسمیاتی ادارے نے بھی اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ جون سے اگست کے درمیان ایل نینو کے بننے کے امکانات ساٹھ فیصد سے زیادہ ہیں، جبکہ مئی سے جولائی کے دوران اس کے ظاہر ہونے اور سال کے باقی حصے میں جاری رہنے کا امکان بھی موجود ہے، مزید یہ کہ سال کے آخر میں ایک انتہائی مضبوط ایل نینو بننے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں مزید ڈیٹا آنے کے بعد پیشگوئی کو مزید واضح کیا جائے گا، جبکہ عالمی موسمیاتی ادارہ مئی کے آخر میں اس حوالے سے تازہ رپورٹ جاری کرے گا-

  • آبنائےہرمز  میں ایران کے زیر قبضہ  جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    آبنائےہرمز میں ایران کے زیر قبضہ جہاز کے مناظر سامنے آ گئے

    ایران کی جانب سے آبنائےہرمز سے قبضے میں لیے گئے جہاز کے مناظر سامنے آگئے۔

    ایرانی پریس ٹی وی کے صحافی نے زیرقبضہ جہا ز سے خصوصی رپورٹ پیش کی جس میں جہاز پر لدے کنٹینرز دکھائے گئے ایرانی پریس ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں جہاز کےاندرونی مناظربھی دیکھے جاسکتےہیں ایرانی صحافی کےمطابق اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ پر ایران کامکمل کنٹرول ہے۔

    دوسری جانب ترکیے نے امریکا ایران معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کردی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ امن معاہدے کے بعد ترکیے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر غور کرسکتا ہے یہ کام مختلف ممالک کی تکنیکی ٹیمیں انجام دیں گی، ایسے میں ترکیے کو بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائیوں میں حصہ لینے میں مسئلہ نہیں ہوگا، ترکیے ایسے اقدامات کو انسانی ہمدردی کی ذمہ داری کے طور پر مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔

  • ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ

    امریکا میں ایک نئے عوامی جائزے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی حمایت اکثریت کر رہی ہے-

    امریکی میگزین ’نیوز ویک‘ کے مطابق امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے معاملے پرعوامی حمایت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں اس کے عملی امکانات اب بھی محدود ہیں ایک حالیہ عوامی جائزے کے مطابق 55 فی صد افراد صدر کے مواخذے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 37 فی صد اس کی مخالفت کرتے ہیں آزاد حیثیت کے ووٹرز میں بھی 50 فیصد نے مواخذے کی حمایت کی، جبکہ 28 فیصد اس کے خلاف رہے۔

    جائزے میں شامل حکمران جماعت کے حامیوں میں سے 21 فی صد نے مواخذے کی حمایت کی، تاہم 72 فی صد نے اس کی مخالفت کی یہ سروے اپریل 2026 کے وسط میں 1514 افراد سے کیا گیا جس میں آزاد حیثیت رکھنے والے ووٹرز کی بڑی تعداد نے بھی مواخذے کی حمایت کی۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق عوامی سطح پر عدم اطمینان کے باوجود مواخذہ ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ایوان نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کو اکثریت حاصل ہے اور اس جماعت کے کسی رکن نے مواخذے کی حمایت کا عندیہ نہیں دیا عوام سیاسی کشمکش سے تھک چکے ہیں اور مواخذے کا عمل ایوان نمائندگان سے آگے بڑھنا مشکل ہو سکتا ہے سینیٹ میں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جو موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتی۔

    پیشگوئی کرنے والے مالیاتی اندازوں کے مطابق 2027 سے پہلے صدر کے مواخذے کا امکان تقریباً 13 فی صد ہے، جب کہ 2028 سے پہلے اس امکان میں اضافہ ہو کر تقریباً دو تہائی تک جا سکتا ہے تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں یہ معاملہ اہم سیاسی موضوع بن سکتا ہے، خصوصاً اگر ڈیموکریٹک جماعت کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اگرچہ ڈیموکریٹک جماعت کے اندر مواخذے کے لیے دباؤ موجود ہے، تاہم سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کیے بغیر صدر کو عہدے سے ہٹانا ممکن نہیں، جس سے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اس معاملے کو کم اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مخالف جماعت طویل عرصے سے مواخذے کی بات کر رہی ہے، تاہم اس کے لیے درکار سیاسی حمایت موجود نہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ مواخذے کی مسلسل بحث آئندہ انتخابات میں سیاسی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے اور جماعتوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

  • سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    ملک میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 2 ہزار 300 روپے کے اضافے کے بعد 4 لاکھ 93 ہزار 162 روپے ہو گئی اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 1 ہزار 971 روپے بڑھنے کے بعد 4 لاکھ 22 ہزار 806 روپے ہو گئی جبکہ عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونے کا بھاؤ 23 ڈالرز اضافے سے 4708 ڈالرز فی اونس ہو گیا گزشتہ روز سونے کی قیمت میں 2900 روپے کی کمی ہوئی تھی۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی 92 روپے مہنگی ہو کر 8 ہزار 49 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 79 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 900 روپے ہو گئی ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 75 اعشاریہ 65 ڈالر پر ٹریڈ کر رہی ہے، جو قیمتوں میں اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

  • چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

    دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کو 4 دہائیاں گزرنے کے باوجود چرنوبل نیوکلئیر پاور پلانٹ ایک بار پھر عالمی خطرے کا مرکز بن گیا ہے یوکرین پر روسی حملے اور حالیہ ڈرون حملوں نے اس حساس مقام کی حفاظت پر مامور ‘نیو سیف کنفائنمنٹ’ نامی دیوہیکل حفاظتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے تابکاری کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    فروری 2025 میں ایک روسی ڈرون نے اس ڈھانچے کی چھت کو نشانہ بنایا، جس سے 15 مربع میٹر کا سوراخ ہو گیا، یہ ڈھانچہ، جو ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا، سنہ 1986 کے دھماکے سے تباہ ہونے والے ری ایکٹر نمبر 4 کے گرد بنائے گئے عارضی کنکریٹ کے تابوت (سارکوفیگس) کو ڈھانپنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    پلانٹ کے ڈائریکٹر جنرل سرہی تاراکانوف کے مطابق، اس حملے سے ڈھانچے کے اندر نمی کنٹرول کرنے والا نظام تباہ ہوگیا ہے، جو اسٹیل کے اس ڈھا نچے کو زنگ سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے اگر یہ ڈھانچہ کمزور ہو کر گرتا ہے، تو اس کے اندر موجود 180 ٹن سے زائد ایٹمی ایندھن اور تابکار گرد فضا میں شا مل ہوسکتی ہے، جو ایک بار پھر عالمی تباہی کا سبب بنے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے4 سالوں میں اس کی مکمل مرمت ضروری ہے، بصورتِ دیگر اس ڈھانچے کی 100 سالہ زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکے گی اس مرمت کے لیے تقریباً 50 کروڑ یورو درکار ہیں، جو جنگ زدہ یوکرین کے لیے ایک بھاری بوجھ ہےمرمت کا کام انتہائی خطرناک ہے کیونکہ متاثرہ مقام پر تابکاری کی سطح اتنی بلند ہے کہ ایک مزدور سال بھر میں وہاں صرف چند گھنٹے ہی کام کرسکتا ہے اس پیچیدہ کام کے لیے 100 سے زیادہ ماہر تعمیراتی عملے کی ضرورت ہے جو مختصر دورانیے کے لیے باری باری کام کرسکیں،روسی افواج نے 2022 کے حملے کے آغاز میں ہی اس مقام پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں خندقیں کھودیں، جس سے تابکار مٹی فضا میں بکھرنے کا خطرہ پیدا ہوا۔

    اگرچہ بعد ازاں روسی فوج وہاں سے نکل گئی، لیکن اب بھی روسی میزائل اور ڈرون اس علاقے کے قریب سے گزرتے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثاتی یا دانستہ طور پر پلانٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں،اکتوبر 2024 سے اب تک بجلی کے گرڈ پر حملوں کی وجہ سے پلانٹ 4 بار مکمل بلیک آؤٹ کا شکار ہوچکا ہے، جس کے دوران ایٹمی فضلے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹرز کا سہارا لینا پڑا۔

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔