Baaghi TV

Tag: تازہ ترین

  • کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا عوام دشمن ایجنڈا بے نقاب،ویڈیو وائرل

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا عوام دشمن ایجنڈا بے نقاب،ویڈیو وائرل

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی نئی ویڈیوز سامنے آئیں جو نوجوانوں کو تعلیم سے دُوررکھنے کی مذموم سازش افغان طالبان اورفتنہ الہندوستان جیسی انتہاپسندانہ ذہنیت کی عکاس ہے۔

    سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کالعدم تنظیم کا سرغنہ امان آزادکشمیرکے لوگوں کواپنے بچے اسکول بھیجنے سے منع کررہا ہے ویڈیومیں شر پسند تنظیم کے سرغنہ امان کویہ کہتے دیکھا جاسکتا ہے کہ اپنے بچوں کوسکول بھیج کرکیا کروگے؟سردار امان کہتا ہے کہ میں کے کرساں بچیاں کی سکول بھیجی تے پڑھائی لکھائی کے؟”بچے اسکول جا کر کیا سیکھیں گے؟ اسکول بند کرو اور سڑکوں پر نکلو-

    ماہرین کے مطابق کالعدم کمیٹی کی طرف سے آزادکشمیرکےلوگوں کو ان کے بچے اسکول بھیجنے سے منع کرنا شرپسند ٹولے کی عوام دشمنی کا سب سے بڑا ثبوت ہے، آزاد کشمیر میں اسکولوں کا بائیکاٹ نوجوانوں کو ریاست مخالف ایجنڈے کا ایندھن بنانے کی مذموم سازش ہے،فتنہ الہندوستان بھی اسی مکروہ پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے شرپسند کمیٹی عوامی حقوق کی جدوجہد کے دعووں کے برعکس اپنے بھارتی سرپرستوں کی ایماء پرآزادکشمیرکے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرناچاہتی ہے۔

  • وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ایک سال میں قومی خزانے پر 7 ہزار ارب روپے قرض کا اضافہ ہوگیا ہے، وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح 81 ہزار 930 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

    ملکی معاشی اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 6 ہزار 994 ارب روپے کا ہو شر با اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، مالیاتی ماہرین اس صورتحال کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں کیونکہ قرضوں کا حجم مسلسل بڑھتا جا رہا ہے،علاوہ ازیں صرف اپریل 2026 کے ایک ماہ کے دوران ہی مرکزی حکومت کے قرضوں میں 1406 ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا ہے۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بیرونی اور ملکی قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے لیا جانے والا یہ بھاری قرض ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔

  • وزیر اعظم کی صدارت میں  قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جاری

    وزیر اعظم کی صدارت میں قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جاری

    وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ایک اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری ہے،اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت اہم حکومتی شخصیات شریک ہیں۔

    اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پنجاب کی نمائندگی کے لیے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب شریک ہیں،اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال بھی شریک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں مالی سال 27-2026 کے لیے قومی سرمایہ کاری کا فریم ورک، مالی سال 26-2025 کے لیے جی ڈی پی (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کے عارضی تخمینے اور مالی سال 25-2024 کے معاشی ڈیٹا کو حتمی شکل دینا شامل ہے کونسل انفراسٹرکچر، توانائی، آبی وسائل اور سما جی ترقی کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پبلک سیکٹر کے جاری منصوبوں اور ترقیاتی منصوبہ بندی کی تجاویز کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

    اجلاس میں ملک بھر کے لیے مجموعی طور پر 4,194 ارب روپے کا خطیر ترقیاتی بجٹ پیش کیے جانے کا امکان ہےاس ترقیاتی آؤٹ لے میں وفاق کا حصہ 1,050 ارب روپے جبکہ صوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3,138 ارب روپے مختص کیے جا سکتے ہیں۔

    صوبائی ترقیاتی پروگراموں میں پنجاب کے لیے سب سے زیادہ 1,450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ سندھ کے لیے 816 ارب روپے، خیبرپختونخوا کے لیے 564 ارب روپے اور بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہونے کا امکان ہے تاکہ تمام خطوں میں متوازن ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں اضافہ

    قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں اضافہ

    حکومت نے قومی بچت اسکیموں (نیشنل سیونگز) کی شرح منافع میں اضافہ کر دیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، منافع کی ان نئی اور بڑھی ہوئی شرحوں کا اطلاق فوری طور پر آج سے ہی کر دیا گیا ہے اس فیصلے سے ان لاکھوں عام شہریوں، پنشنرز اور بیواؤں کو فائدہ پہنچے گا جنہوں نے اپنی جمع پونجی سرکاری بچت اسکیموں میں رکھوائی ہوئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق، اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ اکاؤنٹ کی شرح منافع بڑھا دی گئی ہے جس کے تحت اب سالانہ شرح منافع کو 12.4 فیصد سے بڑھا کر 13.6 فیصد مقرر کیا گیا ہےاس اسکیم کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کو منافع کی ادائیگی ہر چھ ماہ بعد یعنی ششماہی بنیادوں پر کی جائے گی۔

    حکام نے وضاحت کی ہے کہ اب ایک لاکھ روپے کے سرٹیفکیٹ پر پہلی ششماہی میں 6200 روپے منافع ملے گا، جبکہ اسی ایک لاکھ روپے کے سر ٹیفکیٹ پر دوسری ششماہی میں منافع بڑھ کر 6800 روپے ہو جائے گا اس منافع پر ٹیکس کی کٹوتی کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا ہے کہ فائلرز سے 15 فیصد جبکہ نان فائلرز سے 30 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا اسی طرح دیگر اہم اسکیموں کے منافع میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ پر سالانہ منافع کی شرح 10 فیصد مقرر کی گئی ہے، اور اگر کوئی سرمایہ کار اسے طویل مدت کے لیے رکھتا ہے تو ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ پر پانچویں سال تک یہ شرح بڑھ کر 67 فیصد تک پہنچ جائے گی اس کے علاوہ، ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر سالانہ منافع 12.24 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں معاشرے کےمعذور، بزرگ اور شہدا کے خاندانوں کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہےجس کے تحت بہبود سیونگ، پنشنرز اور شہدا فیملی سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح 13.20 فیصد مقرر کر دی گئی ہے تاکہ ان طبقات کو بہتر مالی سہارا مل سکے۔

  • وفاقی بجٹ  2026–27: 20 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    وفاقی بجٹ 2026–27: 20 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز

    وفاقی حکومت نے مالی سال 2026–27 کے بجٹ میں 20 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے-

    سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے 10 جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2.5 ارب روپے اور 10 نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 24.5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے نئے منصوبوں کے لیے مختص رقم میں 21.3 ارب روپے غیر ملکی فنڈنگ اور 3.2 ارب روپے مقامی فنڈنگ شامل ہے۔

    بزنس ریکارڈ کے مطابق نئے منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کے پروگرام کے تحت بلوچستان میں ریزیلینس امپروومنٹ اینڈ لائیولی ہُڈ ڈائیور سفیکیشن کے لیے 21 ارب روپے یعنی مکمل طور پر غیر ملکی فنڈنگمختص کرنے کی تجویز ہے حکومت نے ملک کے 20 غریب ترین اضلاع کی ترقی کے لیے رائزنگ ٹوگیدر پروجیکٹ کے لیے 1 ارب روپے مختص کرنے کی بھی تجویز دی ہے، جو 50:50 کی لاگت شیئرنگ بنیاد پر ہوگا۔

    اسی طرح غذائی قلت اور بچوں میں نشوونما کی کمی کے خاتمے کے لیے نیشنل ملٹی سیکٹرل نیوٹریشن پروگرام کے لیے 30 کروڑ روپے، نیشنل سینٹر فار برانڈ ڈویلپمنٹ کے قیام کے لیے 40 کروڑ روپے، وزیرِاعظم انوویشن سپورٹ اور اسٹارٹ اپ گرانٹس پروگرام کے لیے 40 کروڑ روپے، اور سوشل سیکٹر ایکسیلیر یٹر (ایچ این ای وائی جی–نیشنل پرائرٹی انیشیٹوز) کے لیے 94 کروڑ 82 لاکھ 70 ہزار روپے اور سی پیک سیکرٹریٹ کے لیے 30 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

    جاری ترقیاتی منصوبوں میں وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 40 کروڑ روپے، ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن پروجیکٹ کے لیے 50 کروڑ روپے، وزارت کے آئی ٹی انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے 40 کروڑ روپے اور نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن اینڈ 5 ایز یونٹ (این ای ٹی یو) کے نظرثانی شدہ منصوبے کے لیے 35 کروڑ روپے سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔

  • بڑے  ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    بڑے ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    وزیراعظم شہباز شریف نےمتعلقہ حکام کوبجلی تقسیم کار بڑے اداروں(ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے-

    بجلی تقسیم کار سرکاری کمپنیوں(ڈسکوز) کی نجکاری سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی حصص کی فروخت شفاف اور مؤثر انداز میں کی جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے اور عوام کا اعتماد بھی برقرار رہےانہوں نے ہدایت دی کہ نجکاری کے بعد ایک مضبوط ریگولیٹری نظام قائم کیا جائے تاکہ صارفین کے مفادات کا تحفظ ہو اور بجلی تقسیم کے نظام میں بہتری آئے،ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے، تاکہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کو تیزی سے آگے بڑھایا جا سکے اور معیشت پر مالی دباؤ کم ہو۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپگو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) سمیت متعدد کمپنیوں کی نجکاری کی منصوبہ بندی جاری ہے ان تینوں کمپنیوں کے لیے اظہارِ دلچسپی (ای او آئی) پہلے ہی قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں جاری کیے جا چکے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جا سکے۔

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

    اجلاس کو بتایا گیا کہ کابینہ کی نجکاری کمیٹی ان کمپنیوں کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے چکی ہے، جبکہ اس وقت مارکیٹ انگیجمنٹ اور سرمایہ کاروں سے رابطے کا عمل جاری ہےاس ماہ مختلف روڈ شوز بھی منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے سعودی عرب، ترکیہ اور چین میں خصو صی سیشنز بھی طے کیے گئے ہیں تاکہ اس عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت اور مسابقت کو یقینی بنایا جا سکے اس اقدام سے حکومت پر مالی دباؤ کم ہوگا اور بجلی کی تقسیم کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

    اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیرِاعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی-

    ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انتظامی بحران کا شکار،وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

  • نیپال میں بھی بھارتی آموں پر پابندی

    نیپال میں بھی بھارتی آموں پر پابندی

    نیپال نےبھارتی آموں کی امپورٹ پر اپنے ملک میں پابندی عائد کر دی ہے جبکہ نیپال حکومت کے اس اچانک فیصلے کی وجہ سے مقامی بازاروں میں پھلوں کی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم بھارتی آموں میں کیڑے مار ادویات کی ضرورت سے زیادہ مقدار پائے جانے اور سرحدی علاقوں میں ضروری ٹیسٹنگ یعنی کوارنٹائن کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے اس کے علاوہ اس فیصلے کے پیچھے ایک اور مقصد مقامی سطح پر اگائے جانے والے پھلوں کو فروغ دینا بھی بتایا جا رہا ہے۔

    نیپالی نیوز ویب سائٹ ’دی رائسنگ نیپال‘ کے مطابق اس پابندی کے بعد نیپال کے شہر جنک پور دھام کے بازاروں میں مقامی آم تو نظر آ رہے ہیں، لیکن پھل فروشوں کا کہنا ہے کہ وہ کاروبار اور سپلائی کو لے کر شدید پریشان ہیں مقامی تاجروں کا ماننا ہے کہ ملکی پیداوار کو بڑھاوا دینا اچھی بات ہے، لیکن بغیر کسی طویل مدتی منصوبے کے اچانک امپورٹ روکنے سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

    بڑے ڈسکوز کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے،وزیراعظم کی ہدایت

    نیپال میں آموں کی اپنی پیداوار صرف دو مہینے ہی چلتی ہے،اس لیے ملک میں آم کی بڑی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بھارت سے آنے والا مال بہت ضروری سمجھا جاتا ہے جنک پور دھام کے فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری بھوبنیشور پُربے کے مطابق گرمیوں کے موسم میں آم کی مانگ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

    انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی امپورٹ پر پابندی کی وجہ سے مارکیٹ میں مال کی شدید کمی ہو سکتی ہےسپتری، سیراہا، مہوتری، دھنوشا اور سرلاہی جیسے اضلاع سے روزانہ 50 ٹن سے زیادہ آم جنک پور دھام پہنچ رہا ہے، لیکن صرف مقامی پیداوار سے پورے بازار کی مانگ کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوگا،امپورٹ پر پوری طرح پابندی لگانے کے بجائے حکومت کو سرحدوں پر کوارنٹائن سسٹم کو مضبوط کرنا چاہیے اور بھارتی پھلوں کو کوالٹی ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد ملک میں آنے کی اجازت دینی چاہیے اگر آموں پر یہ پابندی زیادہ عرصے تک برقرار رہی تو عام گاہکوں کو دگنی قیمتیں چکانی ہوں گی اور کاروباریوں کو بھی بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    منشیات ڈیلر پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے

    دوسری طرف، بھارت کو صرف نیپال ہی سے نہیں بلکہ جاپان سے بھی دھچکا لگا ہے جاپان حکومت نے کیڑوں پر قابو پانے کے ناقص انتظامات اور ’ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ‘ کےمعیار پر پورا نہ اترنے کا حوالہ دیتے ہوئے 25 مارچ 2026 کےبعد جاری ہونے والےسرٹیفکیٹ والے بھارتی آموں کی کھیپ پر روک لگا دی ہے جاپان نے یہ سخت قدم تقریباً دو دہائیوں کے طویل عرصے کے بعد اٹھایا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے ضلع امروہہ کے وسیع باغات سے ہر سال بڑی مقدار میں آم خلیجی ممالک، امریکہ، جاپان اور یورپ بھیجے جاتے ہیں-

  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں مزید ایک فیصد بڑھ گئی ہیں برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 83 سینٹ یا 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 92.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 68 سینٹ یا 0.8 فیصد بڑھ کر 88.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

    گزشتہ روز برطانوی تیل کی قیمت سات ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوئی تھی جبکہ امریکی تیل مئی کے آخر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گیا تھاایران کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کے بعد امریکا نے ایران پر فضائی حملہ کیا، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں-

    واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر بھی پڑتا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

  • منشیات ڈیلر  پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے

    منشیات ڈیلر پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے

    منشیات فروش پنکی کے خواتین سمیت مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آ گئے۔

    سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے مقدمے کی سماعت کے دوران پولیس نے نئی رپورٹ جمع کرا دی، جس میں ملزمہ کے مزید 7 قریبی ساتھیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق انمول عرف پنکی کو 12 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا گرفتاری کے بعد اس کے 3 سہولت کاروں کو بھی حراست میں لیا گیا، جن میں ذیشا ن، سہیل اور سمیر شامل ہیں انمول عرف پنکی کے مزید 7 قریبی ساتھی تاحال مفرور ہیں اور پولیس نے انہیں سہولت کار قرار دیتے ہوئے مفروروں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے مفرور ملزمان میں فیاض، عاقب، حمزہ، اعزاز، زید اور 2 خواتین صابرہ اور اینا شامل ہیں ان تمام ملزمان کی گرفتاری کے لیے کو ششیں جاری ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔

  • فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں،خواجہ آصف

    فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں،خواجہ آصف

    خواجہ آصف نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے عناصر عوامی رائے یعنی انتخابات کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں۔

    ایکس اکاؤنٹ پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں کہا ہے کہ انتخابات قریب ہوں تو متنازع معاملات کو عوام کی عدالت میں لے جانا ہی جمہوری سوچ کا بنیادی تقاضا ہے عوامی رائے کے بجائے قتل و غارت اور لوٹ مار کے ذریعے اپنے نظریات مسلط کرنے والے عناصر کے عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسے عناصر عوامی رائے یعنی انتخابات کے راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں ، اگر کوئی شخص یا گروہ تشدد اور مسلح جتھوں کے ذریعے اپنے غیر آئینی اور ریاست مخالف ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوشش کرے گا تو ریاست پوری قوت سے قانون پر عملدرآمد کرے گی،کشمیری عوام کو اپنی رائے کے آزادانہ اظہار کا موقع فراہم کیا جائے گا اور فیصلے عوامی رائے کے ذریعے ہی ہونے چاہئیں۔