وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ایک اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری ہے،اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت اہم حکومتی شخصیات شریک ہیں۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پنجاب کی نمائندگی کے لیے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب شریک ہیں،اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال بھی شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں مالی سال 27-2026 کے لیے قومی سرمایہ کاری کا فریم ورک، مالی سال 26-2025 کے لیے جی ڈی پی (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کے عارضی تخمینے اور مالی سال 25-2024 کے معاشی ڈیٹا کو حتمی شکل دینا شامل ہے کونسل انفراسٹرکچر، توانائی، آبی وسائل اور سما جی ترقی کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پبلک سیکٹر کے جاری منصوبوں اور ترقیاتی منصوبہ بندی کی تجاویز کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
اجلاس میں ملک بھر کے لیے مجموعی طور پر 4,194 ارب روپے کا خطیر ترقیاتی بجٹ پیش کیے جانے کا امکان ہےاس ترقیاتی آؤٹ لے میں وفاق کا حصہ 1,050 ارب روپے جبکہ صوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3,138 ارب روپے مختص کیے جا سکتے ہیں۔
صوبائی ترقیاتی پروگراموں میں پنجاب کے لیے سب سے زیادہ 1,450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ سندھ کے لیے 816 ارب روپے، خیبرپختونخوا کے لیے 564 ارب روپے اور بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہونے کا امکان ہے تاکہ تمام خطوں میں متوازن ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
