Baaghi TV

Tag: تحقیق

  • اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں،تحقیق

    تل ابیب: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ و بکا کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماضی میں کی جانے والے ایک تحقیق میں سینسر کو استعمال کرتے ہوئے پودوں سے نکلنے والی الٹرا سونک لہروں کو ریکارڈ کیا جاچکا ہےحال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں پہلی بار یہ بات سامنے آئی ہے کہ پودے آواز نکالتے ہیں جس کے متعلق محققین نے اندازہ لگایا کہ تیز سماعت رکھنے والے جانور یہ آوازیں 16 فٹ کی دوری سے سن سکتے ہیں۔

    100 دن کیلئےزیرآب موجود سائنسدان کا نئی نوع دریافت کرنےکا دعویٰ

    سائنسئ جرنل نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں مصنفین نے پایا کہ جن پودوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے یا جن کے تنوں کو حال ہی میں کاٹا گیا ہے وہ فی گھنٹہ تقریباً 35 آوازیں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اچھی طرح سے ہائیڈریٹڈ اور کٹے ہوئے پودے زیادہ پرسکون ہوتے ہیں، جو فی گھنٹہ صرف ایک آواز پیدا کرتے ہیں۔

    آپ نے شاید کبھی پیاسے پودے کو شور کرتے نہیں سنا ہوگا کہ آوازیں الٹراسونک ہیں تقریباً 20-100 کلو ہرٹز۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اتنے اونچے ہیں کہ بہت کم انسان انہیں سن سکتے ہیں۔ کچھ جانور، تاہم، شاید کر سکتے ہیں چمگادڑ، چوہے اور کیڑے ممکنہ طور پر پودوں کی آوازوں سے بھری ہوئی دنیا میں رہ سکتے ہیں، اور اسی ٹیم کےپچھلے کام سے پتہ چلا ہےکہ پودے بھی جانوروں کی آوازوں کا جواب دیتے ہیں۔

    انسان چوںکہ بلند فریکوئنسی کی آواز نہیں سکتا اس لیے محققین نے ان آوازوں کی فریکوئنسی کم کی تاکہ ان آوازوں کی سماعت کی جاسکے اور اس طرح معلوم ہوا کہ ان آوازوں کی تیزی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی انسانی گفتگو کی ہوتی ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    عام طور پر پودے پاپ کارن کے پھٹنے جیسی آوازیں ہر گھنٹے میں اوسطاً ایک سے کم بار نکالتے ہیں۔ ان آوازوں کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تنے میں بننے والے بلبلوں کے پھٹنے سے پیدا ہوتی ہیں۔

    لیکن تحقیق میں دیکھا گیا کہ ٹماٹر کے پودے جن کو پانچ دنوں تک پانی نہیں دیا گیا ان پودوں میں سے آوازیں زیادہ شدت کے ساتھ نکلیں۔ یہ پودے ہر دو منٹ میں اوسطاً ایک سے زیادہ بار ایسی آوازیں نکالتے تھے جب ان پودوں کو کاٹا جاتا تب یہ پودے ہر ڈھائی منٹ میں ایک تنبیہی آواز نکالتے تھے۔

    تحقیق میں شامل محقق ہاڈنی کا کہنا ہے کہ پودوں میں آواز کی ہڈی یا پھیپھڑے نہیں ہوتے ہیں۔ موجودہ نظریہ کہ پودے اپنے زائلم پر شور کا مرکز کیسے بناتے ہیں، وہ ٹیوبیں جو پانی اور غذائی اجزاء کو اپنی جڑوں سے اپنے تنوں اور پتوں تک پہنچاتی ہیں۔ زائلم میں پانی کو سطح کے تناؤ سے ایک ساتھ رکھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے پانی پینے کے تنکے سے چوسا جاتا ہے۔ جب زائلم میں ہوا کا بلبلہ بنتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے، تو یہ تھوڑا سا پاپنگ شور کر سکتا ہے، اور خشک سالی کے دباؤ کے دوران بلبلے کی تشکیل کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن درست طریقہ کار کو مزید مطالعہ کی ضرورت ہے-

    پاکستان میں فیس بک اور انسٹاگرام کو ویریفائیڈ کروانے کی فیس کتنی اور کن شرائط …

  • نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق

    نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق

    ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں میں نزلہ زکام کی تشخیص ہو ان میں ایک ہفتے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ نزلے سے متاثرہ ہونے کے بعد ایک ہفتے میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 6 گنا بڑھ جاتا ہے یہ تحقیق نزلہ زکام کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو دل کے دورے کی علامات سے متعلق آگاہی بھی دیتی ہے۔ماہرین کی ٹیم نے 16 لیبارٹریز سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا اور اس کا موازنہ اموات سے کیا۔2008 سے 2019 کے درمیان 26 ہزار 221 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اس گروہ میں 401 مریضوں کو ایک سال قبل یا نزلے کے دورانیے کے بعد دل کا دورہ پڑا تھا کچھ مریضوں کو ایک سے زیادہ دل کے دورے پر پڑے تھے یوں ٹوٹل 419 افراد کو دل کے دورے پڑے تھے۔

  • شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شکر کرنا شدید ذہنی تناؤ کی کیفیت کو کم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: مغربی دنیا میں اس موضوع پر بڑی تحقیق ہوئی ہے۔ اور اس سلسلے میں لکھنے یا تحقیق کرنے والے دو باتوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ پہلی بات کہ شکرگزاری ایک ایسی اخلاقی قدر یا نیکی ہے جس کو بہت کمتر یا بے معنی سمجھا جاتا ہے اور دوسری بات کہ دنیا کے تمام عظیم انسانوں میں یہ خوبی عام لوگوں کی نسبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایک چھوٹے سے گروہ پر تحقیق کی گئی ہے لیکن اس کی اہمیت نظرانداز نہیں کی جاسکتی سائنسدانوں نے نے 18 سے 57 سال کے 68 افراد کو بھرتی کیا جن میں 24 مرد اور 44 خواتین شامل تھی اس کے لیے تجربہ گاہ میں ایک فرضی ماحول بنایا گیا تھا ڈیزائن کے تحت تجربہ گاہ میں کچھ ایسے کام کئے گئے جو تناؤ کی وجہ بنے اور اس کے بعد شرکا کے دل کے ردِ عمل اور بحالی کو نوٹ کیا گیا۔ اس طرح پوری ترتیب کے ساتھ یہ تجربہ انجام دیا گیا۔

    مطالعے میں نوٹ کیا گیا کہ جو لوگ اسٹریس سے گزرے لیکن شکر کا دامن تھامے رکھا تب بھی ان کا بلڈ پریشر معمول کے تحت تھا۔ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس کی صورت میں قلبی ردِ عمل اور بحالی میں جذبہ تشکر ایک دیوار کی طرح حائل رہا۔

    محققین کےمطابق اگرکوئی شخص شدید نفسیاتی تناؤ (اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس) کا شکار ہے تو بھی شکر کا جذبہ اسے کیفیت سے تحفظ فراہم کرتا ہےچونکہ دماغ جسم کا صدر مقام ہے تو ڈپریشن اور تناؤ پورے جسم کومتاثرکرتا ہےپھر اس سے بلڈ پریشر، ذیابیطس اور امراضِ قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اسی لیےماہرین اسٹریس بفر یعنی تناؤ سے مزاحم عوامل بہت زور دیتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مے نوتھ سے وابستہ برائن لیوی اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ اگرچہ شکراورڈپریشن میں کمی میں تعلق پر بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن حقیقی طور پر نفسیاتی تناؤ اور امراضِ قلب سے بحالی پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔

    جذبہ شکرایک طاقتورکیفیت ہے جو ہمیں بہت سے مسائل سے بچاتی ہے۔ 2010 میں کی گئی تحقیق کے مطابق شکر کے چھوٹے چھوٹے عمل ہماری صحت کو بہتر کرتی ہے۔ اسی طرح 2016 میں امراضِ قلب کے شکار افراد سے شکرانے کی ڈائری لکھنے کو کہا تو ان کی کیفیت بہتر ہونے لگی اور وہ تیزی سے بحال ہوئے-

    رابرٹ ایمنذ ، میک کلااور ان کے کئی ایک ساتھیوں نے شکرگزاری کے موضوع پر کافی تحقیق کی ہے ۔ان کے مطابق دنیا کے تمام مذاہب میں شکرگزاری ایک ایسی نیکی ہے جوبہترین انسانی کردار کی ضمانت کے طور پر جانی جاتی ہے یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا لازمی جز وہ خوشگوار احساس ہے جو نعمت پہنچانے والے کے ساتھ منسلک ہوتاہے ۔

    پچھلی دو دہائیوں میں نفسیات کے میدان میں انسانی جذبات اور انہیں سمجھنے پر کافی تحقیق ہوئی ہے اور اس موضوع پر لکھی گئی کئی ایک کتابیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ ایک اہم انسانی صفت ہے جسے ما ہرِ نفسیات اور فلاسفرز مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں شکرگزاری کی تعریف کئی مشہور شخصیات سے منسوب ہے ڈیوڈ ہارنیڈ (1997) کے مطابق شکر گزاری ایک ایسےرویے کو ظاہر کرتا ہے جوبذاتِ خود نعمت یا تحفے کی طرف اور نعمت دینے والے کی طرف اس عزم کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس نعمت یا احسان یا تحفے کو دینے والے کی مرضی کے مطابق بہترین انداز میں استعمال کیا جائے ۔

    ۔اوپرا ونفری امریکہ کی مشہور ایکٹریس، مصنفہ اور ٹاک شو ہوسٹ ہے، اس کے مطابق اگر’’ہم اس (نعمت)کے شکر گزار ہیں جو ہمارے پاس ہے تو ہمیں مزید ملے گا‘‘۔امریکہ ہی کے مشہور روحانی پیشوا نارمن ونسنٹ پیل کے مطابق’’ ایک بنیادی قانون (یہ ہے کہ) جتنا زیادہ تم شکر ادا کرو گے اتنے زیادہ تمہیں شکر ادا کرنے کے موقعے ملتے رہیں گے‘‘۔

    سیلف ہیلپ پر کئی کتابیں لکھنے والی مصنفہ میلوڈی بیٹی کے مطابق ، ’’شکر گزاری ماضی کو قابلِ فہم، آج کو پرسکون اور آنے والے کل کو مقاصد تخلیق کرنے کے قابل بناتی ہے-

    فرانسیسی جرنلسٹ اور ناولسٹ الفونسی کار شکرگزاری کے جذبے کے تحت زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے کے عادی ہے اور کہتے ہیں کہ کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گلاب کے پھولوں کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں جبکہ میں اس بات کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کانٹوں کے ساتھ گلاب ہیں-

    ۔رابرٹ ایمنذ اپنی کتاب، ’شکریہ‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو شکر ادا کرنے والے یا شکرگزاری کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں وہ دوسروں سے محبت کرنے والے، آسانی سے معاف کرنے والے، پرجوش اور خوشی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ یہی جوش اور خوشی انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔

  • ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    ماؤنٹ ایورسٹ پر صدیوں سے کوہ پیماؤں کی کھانسی اور چھینک کے جراثیم محفوظ، تحقیق

    امریکی یونیورسٹی کی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہاڑوں پر جمی برف میں انسان کے کھانسنے اور چھینکنے کے جراثیم صدیوں تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی:"ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی یونیورسٹی آف کولاراڈو کے محققین نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے حاصل کردہ مٹی کے نمونوں کا تجزیہ کیا جس میں انسانوں سے وابستہ جراثیم پائے گئے۔

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود …

    ماضی میں محققین نے زمین پر سرد ترین علاقوں میں مٹی کا مطالعہ کیا لیکن اس میں انسانوں سےوابستہ جراثیم کی تعداد نہ ہونے کے برابر پائی گئی اب آرکٹک، انٹارکٹک، اور الپائن ریسرچ میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق میں امریکی ٹیم نے جدید ترین جین ترتیب دینے والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کا تجزیہ کیانیہ مٹی کے نمونے 2019 میں ایورسٹ مہم کےدوران ماؤنٹ ایورسٹ کےساؤتھ کول سے جمع کیے گئے تھے۔

    ساؤتھ کول ماؤنٹ ایورسٹ اور لوٹسے چوٹی کے درمیان ایک چٹانی فاصلہ ہے،جو کوہ پیماؤں کے لیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ پر اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے آخری اسٹاپ ہے۔

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی کے نمونوں میں ملنے والے یہ جراثیم (Staphylococcus جو کہ فوڈ پوائزننگ اور نمونیا سے منسلک ہے) اور (Streptococcus جو گلے کی سوزش کا سبب بنتا ہے) کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    محقیقن کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ کی مٹی میں جو جراثیم پائےگئے ان میں سے زیادہ تر کو غیر فعال سمجھا جاتا تھا لیکن یہ برفانی حصے میں انسانی سرگرمیوں کے قریب کافی وقت سے محفوظ رہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے حاصل کردہ نتائج سے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ دنیا سے باہر دوسرے منجمد سیاروں پر زندگی کے آثار موجود ہو سکتے ہے۔

    تحقیق میں معلوم ہوا کہ اس مٹی سے جو انسانی جراثیم پائے گئے وہ کوہ پیماؤں کے چھینکنے اور کھانسنے کی صورت میں وہاں محفوظ رہے۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

  • پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود ہو سکتے ہیں،ماہرین

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود ہو سکتے ہیں،ماہرین

    امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے نکشاف کیا ہے کہ پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود ہو سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: تحقیق میں تو پانی کی بار بار استعمال ہونے والی بوتلوں کو لیبارٹریز میں جراثیموں کو محفوظ رکھنے والی پیٹری ڈش قرار دیا گیا۔

    "ڈیلی میل” کے مطابق واٹر فلٹر گرو نامی ویب سائٹ کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان بوتلوں میں 2 اقسام کے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں جو gram-negative rods اور bacillus ہیں۔

    gram-negative بیکٹریا کی متعدد اقسام ہوتی ہیں اور وہ سنگین امراض جیسے نمونیا کا خطرہ بڑھاتے ہیں اسی طرح bacillus کی کچھ اقسام متلی، قے اور ہیضے سمیت نظام ہاضمہ کے مختلف امراض کا باعث بنتی ہیں اس تحقیق میں عام استعمال کی جانے والی 4 اقسام کی پانی کی بوتلوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی کی بوتلوں میں اوسطاً 2 کروڑ سے زائد جراثیم موجود ہوتے ہیں جبکہ ایک ٹوائلٹ میں یہ تعداد 515 ہوتی ہے،اسی طرح بوتلوں میں جراثیموں کی تعداد کمپیوٹر ماؤس (50 لاکھ) سے 4 گنا سے زیادہ ہوتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ پانی کی بوتلوں میں جراثیموں کی تعداد بہت زیادہ ہوسکتی ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں، کیونکہ انسانی منہ میں بڑی تعداد میں مختلف اقسام کے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں۔

    البتہ انہوں نے مشورہ دیا کہ بوتلوں میں بیکٹریا کو جمع ہونے سے روکنے کے لیے انہیں روزانہ گرم پانی سے دھونا عادت بنائیں۔

    گرام منفی بیکٹیریا ایسی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں جو دوائیوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ مزاحم ہوتی جا رہی ہیں، جب کہ کچھ بیسیلس انواع ہاضمہ کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

    بوتلوں کی صفائی کا عام گھریلو اشیاء سے موازنہ کرنے سے بھی ایک بھیانک تصویر سامنے آئی: وہ کمپیوٹر کے ماؤس سے دوگنا جراثیم، کچن کے سنک سے دوگنا، اور پالتو جانوروں کے پانی کے برتن سے 14 گنا زیادہ جراثیم رکھتے ہیں۔

    امپیریل کالج لندن کے مالیکیولر مائیکروبائیولوجسٹ ڈاکٹر اینڈریو ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ “انسانی منہ بڑی تعداد میں مختلف بیکٹیریا کا گھر ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہم جو برتن استعمال کرتے ہیں وہ جراثیم سےڈھکے ہوئے ہیں۔

    رپورٹ میں ایک اور مائکرو بایولوجسٹ ڈاکٹر سائمن کلارک کا حوالہ دیا گیا جنہوں نے کہا کہ اگرچہ بوتلیں بیکٹیریا کی افزائش کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، لیکن یہ ہمیشہ خطرناک نہیں ہوتیں۔

    کلارک نے کہا کہ اس نے کبھی پانی کی بوتل سے کسی کے بیمار ہونے کے بارے میں نہیں سنا پانی کی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلیں ان جراثیمز کی وجہ سے آلودہ ہوسکتی ہیں جو پہلے ہی لوگوں کے منہ میں موجود ہوں۔

    محققین نے دوبارہ قابل استعمال بوتل کو دن میں کم از کم ایک بار گرم صابن والے پانی سے دھونے اور ہفتے میں کم از کم ایک بار اسے صاف کرنے کی تجویز دی ہے۔

  • چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں،تحقیق

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ چوہے بھی کورونا وائرس کے ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امیرکن سوسائٹی فار مائیکروبایولوجی میں شائع ہونےوالی تحقیق میں معلوم ہوا ہےکہ نیویارک شہر میں کورونا وائرس جنگلی چوہوں کو متاثر کر چکا ہے تحقیق میں محققین نے وائرسز کے ساتھ ممکنہ تعلق دریافت کیا جو عالمی وباء کے ابتدائی دنوں کے دوران انسانوں میں پھیل رہا تھا۔

    سعودی عرب کا ایران میں جلد بڑی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ

    امریکی دفترِ زراعت اورجانور اور پودوں کی ہیلتھ انسپیکشن سروس نے 79 ناروییئن چوہوں کےنمونوں کا تجزیہ کیا تاکہ کوویڈ 19 انفیکشن کے شواہد دیکھے جاسکیں۔ حاصل کیے گئے 79 نمونوں میں 13 چوہوں کا کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا۔

    تحقیق میں محققین کے سامنے یہ بات آئی کہ ایلفا، ڈیلٹا اور اومیکرون ویریئنٹس چوہوں میں انفیکشن کا سبب بن سکتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مِزری کے پروفیسر ڈاکٹر ہینری وین کا کہنا تھا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس ویریئنٹس امریکا کے شہری علاقوں کے بڑے حصے میں جنگلی چوہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    شہد کی بچہ مکھیاں بڑی مکھیوں سے رقص‌ سیکھتی ہیں،رپورٹ

  • فضائی آلودگی سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے. تحقیق

    فضائی آلودگی سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے. تحقیق

    فضائی آلودگی سے معمر افراد میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
    جرنل JAMA Network Open میں شائع ہونی والی تحقیق کے مطابق ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں طویل عرصے تک فضائی آلودگی سے متاثرہ جگہ پر رہنے اور بڑھاپے میں ڈپریشن کی تشخیص کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔ جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں

    ڈپریشن ایک سنگین بیماری ہے جو دماغ کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس تحقیق کے لیے 89 لاکھ افراد کے طبی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گی جن میں سے 15 لاکھ میں ڈپریشن کی تشخیص ہوئی تھی۔ محققین نے یہ بھی جائزہ لیا کہ جن افراد میں ڈپریشن کی تشخیص ہوئی تھی، ان کے علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال کیا تھی۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے افراد میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ فضائی آلودگی کی تمام اقسام سے بڑھاپے میں ڈپریشن کی تشخیص کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ فضائی آلودگی کس طرح معمر افراد میں ڈپریشن کا باعث بنتی ہے۔

  • سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سائنس دانوں نے سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی تہہ دریافت کی ہے جس سے سیارے کا تقریباً 44 فیصد حصہ ڈھکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق پگھلی ہوئی چٹانوں کا یہ خطہ، جس کے متعلق پہلے کچھ معلوم نہیں تھا، ایستھینواسفیئر کا حصہ ہے جو ٹیکٹونک پلیٹوں کے نیچے اور مینٹل کے اوپری حصے میں موجود ہے۔ یہ خطہ نرم سرحد تشکیل دیتا ہے جس کے سبب ٹھوس چٹانوں کی سلیں حرکت کرتی ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    یہ نئی دریافت عرصے سے رکھے جانے والے ان نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ پگھلی ہوئی چٹانیں ایستھینواسفیئر کے گاڑھے پن کو متاثر کرتی ہیں۔

    محققین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کون سے عوامل asthenosphere کو نرم بناتے ہیں اور پگھلی ہوئی چٹانوں کو اس کا حصہسمجھتے ہیں۔ اگرچہ زمین کا اندرونی حصہ زیادہ تر ٹھوس ہے، چٹانیں وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ منتقل اور حرکت کر سکتی ہیں۔

    جیونلن ہوا، آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے جیکسن اسکول آف جیو سائنسز میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے لیے ترکی کے نیچے واقع زمین کے پردے کی زلزلہ کی تصاویر کا مطالعہ کر رہے تھے جب انھوں نے جزوی طور پر پگھلی ہوئی چٹان کے آثار دیکھے۔ اس نے اپنا کام 2020 میں شروع کیا جب وہ براؤن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    جیونلِن ہوا کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جب ہم کسی چیز کے پگھلنے کے متعلق سوچتے ہیں تو ہم خود بخود یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یہ مائع مادے کے گاڑھے ہونے میں بڑا کردار ادا کرتا ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جہاں پر پگھلا ہوا مادہ زیادہ مقدار میں بھی تھا وہاں بھی مینٹل کے بہاؤ پر انتہائی معمولی اثر ڈال رہا تھا۔

    سائنسدانوں نے پہلے اس چٹان کی تہہ کے کچھ حصوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ یہ ایک بے ضابطگی ہے، لیکن جیونلن اور اس کے ساتھی محققین کو اس بات کا ثبوت ملا کہ اس کی وسیع تر موجودگی تھی۔

    تحقیقی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ asthenosphere ٹھوس اور پگھلی ہوئی چٹان دونوں پر مشتمل ہے اور اگرچہ یہ چٹان بعد میں جزوی طور پر پگھلی ہوئی ہے، لیکن یہ پلیٹوں کی نقل و حرکت میں حصہ نہیں ڈالتی اور نہ ہی ان کے لیے حرکت کرنا آسان بناتی ہے۔

    اس سے قبل یہ نظریہ تھا کہ ان ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات ان پگھلی ہوئی چٹانوں سے منتقل ہونے والی تپش کے سبب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نئی دریافت واضح کرے گی کہ ٹھوس چٹانوں کی سلیں سطح کے نیچے کس طرح بآسانی حرکت کرتی ہیں۔

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

  • 4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    4.6 ارب سال قبل نظام شمسی سے آنے والےبڑے بڑے آگ کے گولوں نے زمین پر زندگی کی بنیاد رکھی

    ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نظامِ شمسی کے باہر کے حصے جس میں مشتری، زحل اور یورینس شامل ہیں سے آنے والے بڑے بڑے آگ کے گولوں نے 4.6 ارب سال قبل زمین زندگی کی بنیاد رکھی۔

    باغی ٹی وی: میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اور امپیریئل کالج لندن کے سائنسدانوں کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ یہ قدیم شہابیے کاربنیسیئس کونڈرائٹ سے بنے ہوئے تھے جو پوٹاشیم اور زِنک کے عناصر پر مشتمل تھا پوٹاشیم خلیے کے مائع کو بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ زِنک ڈی این اے کی تخلیق کے لیے اہم جزو ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    اتار چڑھاؤ ایسے عناصر یا مرکبات ہیں جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع حالت سے بخارات میں تبدیل ہوتے ہیں ان میں جانداروں کے ساتھ ساتھ پانی میں پائے جانے والے چھ سب سے عام عناصر شامل ہیں۔ اس طرح، اس مواد کا اضافہ زمین پر زندگی کے ظہور کے لیے اہم رہے گا۔

    اس سے پہلے، محققین کا خیال تھا کہ زمین کے زیادہ تر اتار چڑھاؤ ان سیاروں سے آتے ہیں جو زمین کے قریب بنتے ہیں۔ نتائج سے اس بارے میں اہم سراغ ملتے ہیں کہ زمین زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار خصوصی حالات کو کس طرح سہارا دیتی ہے۔

    حالیہ تحقیق میں سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ ہماری زمین جب تخلیق کے مراحل میں تھی تب اس سے ٹکرائی جانے والی خلائی چٹانوں میں 10فیصد وہ خلائی چٹانیں تھیں جوکاربنیسیئس کونڈرائٹ سےبنی تھیں جبکہ دیگر90 فیصد چٹانیں ایسےنظاموں سے آئیں تھیں جو کاربنیسیئس مواد سے نہیں بنے تھے ان شہابیوں نے زمین کو 20 فی صد پوٹاشیم اور زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار فراہم کی۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ ڈاکٹرنِکول نائی کےمطابق پوٹاشیم کم غیرمستحکم جبکہ زنک سب سے زیادہ غیر مستحکم عنصر ہے دونوں عناصر غیر مستحکم سمجھے جاتے ہے جو نسبتاً کم درجہ حرارت پر ٹھوس یا مائع صورت سے بھانپ می تبدیل ہوجاتے ہیں۔

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    تحقیق کےسینئر مصنف اور امپیریئل کالج لندن کے پروفیسر مارک ریہکمپر نے ایک بیان میں کہا کہ تحقیق میں حاصل ہونے والی معلومات بتاتی ہے کہ زمین پر موجود زِنک کی نصف مقدار نظامِ شمسی کے بیرونی حصے سے آنے والے مواد نے فراہم کی ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ کے سینئر مصنف پروفیسر مارک ریہکا نے کہا: "ہمارے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہےکہ زمین کی زنک انوینٹری کاتقریباً نصف حصہ مشتری کےمدار سےباہر بیرونی نظام شمسی سے مواد کے ذریعے پہنچایا گیا تھا۔ ابتدائی شمسی نظام کی ترقی کے موجودہ ماڈلز کی بنیاد پر، یہ مکمل طور پر غیر متوقع تھا اس کے برعکس، نئے نتائج بتاتے ہیں کہ بیرونی نظام شمسی نے پہلے سوچنے سے کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کیا۔

    پروفیسر ریہکا نے مزید کہا کہ بیرونی نظام شمسی کے مواد کی اس شراکت نے زمین کی غیر مستحکم کیمیکلز کی انوینٹری کو قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ایسا لگتا ہے جیسے بیرونی نظام شمسی کے مواد کی شراکت کے بغیر، زمین میں اتار چڑھاؤ کی مقدار اس سے کہیں کم ہوگی جو آج ہم جانتے ہیں – یہ خشک اور ممکنہ طور پر زندگی کی پرورش اور برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہے۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    اس تحقیق کے لیے، محققین نے مختلف ماخذ کے 18 شہابیوں کا جائزہ لیا – گیارہ نظامِ شمسی سے، جو غیر کاربوناسیئس میٹورائٹس کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور سات بیرونی نظامِ شمسی سے، جنہیں کاربوناسیئس میٹیورائٹس کہا جاتا ہے۔

    اس مقالے کی پہلی مصنفہ رائیسا مارٹنز، شعبہ ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی امیدوار نے کہا کہ ہم طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ زمین میں کچھ کاربونیسیئس مواد شامل کیا گیا تھالیکن ہمارے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مواد نے زمین کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہمارے غیر مستحکم عناصر کا بجٹ، جن میں سے کچھ زندگی کے پھلنے پھولنے کے لیے ضروری ہیں۔

    اس کے بعد محققین مریخ کی چٹانوں کا تجزیہ کریں گے جن میں 4.1 سے 3 بلین سال پہلے خشک ہونے سے پہلے پانی موجود تھا-

    پروفیسر ریہکا ایمپر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر رائج نظریہ یہ ہے کہ چاند کی تشکیل اس وقت ہوئی جب تقریباً 4.5 بلین سال پہلے ایک بہت بڑا سیارچہ ایک برانن زمین سے ٹکرا گیا۔ چاند کی چٹانوں میں زنک آسوٹوپس کا تجزیہ کرنے سے ہمیں اس مفروضے کو جانچنے اور یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ آیا ٹکرانے والے شہابیے نے پانی سمیت اتار چڑھاؤ کو زمین تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت

  • ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں اضافے کے اثرات کے نتیجے میں بعض قسم کے کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کی پتے، آنتوں یا جگر کے سرطان سے موت واقع ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    جرنل ڈائبیٹولوجیا میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پرذیابیطس میں مبتلا افراد کی کینسر سے موت واقع ہونے کے امکانات 18 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جبکہ وہ خواتین جو ذیابیطس میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی موت اینڈومیٹریل کینسر سے واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگرچہ پچھلے مطالعات میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں قلبی نتائج کے بارے میں بڑے پیمانے پر چھان بین کی گئی ہے، لیکن اس بارے میں کم معلوم ہے کہ آیا کینسر کی شرح اموات کے لیے ایسی عدم مساوات موجود ہے۔

    یونیورسٹی آف لیسٹر کے محققین کا کہنا تھا کہ کینسر کے خطرے کو بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیئے جتنی ذیابیطس سے پیش آنے والی دیگر پیچیدگیوں، جیسے کہ قلبی مرض، کو دی جاتی ہے۔

    ہوپ اگینسٹ کینسر نامی خیراتی ادارے کی مالی اعانت سے کیے جانے والے مطالعے میں یہ معلوم ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا خواتین کی چھاتی کے سرطان سے موت واقع ہونے کے خطرات 9 فی صد زیادہ تھے اور ان خطرات میں اضافہ سامنے آرہاتھا۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    سائنس دانوں نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کے معائنے کا دائرہ وسیع کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے(جو فی الحال انگلینڈ میں 50 سے 71 سال کی خواتین کا کیا جاتا ہے) تاکہ ذیابیطس میں مبتلا کم عمر خواتین کا معائنہ کیا جاسکے۔

    1998 سے 2018 تک جاری رہنے والی تحقیق میں محققین کی ٹیم نے ذیابیطس میں مبتلا 1 لاکھ 37 ہزار 804 برطانوی شہریوں کے ڈیٹا کا معائنہ کیا جنس، موٹاپا، نسل، سماجی و اقتصادی حیثیت، اور تمباکو نوشی کی حیثیت جیسے عوامل کا استعمال کرتے ہوئے تمام وجوہات، تمام کینسر، اور کینسر سے متعلق شرح اموات کے رجحانات کا تجزیہ کیا جن کی اوسط عمر 64 برس تھی اور ان کو اوسطاً 8.4 سال تک دیکھا گیا۔معائنے کے اس دورانیے میں تحقیق میں شریک 39 ہزار سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی۔

    تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مطالعے کے دوران 55 سے 65 سال کے درمیان ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں کینسر سے ہونے والی اموات معمولی سی کم ہوئیں لیکن 75 سے 85 سال کے دوران اس تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق