Baaghi TV

Tag: جاپان

  • جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام

    جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام

    جزیرہ نما کوریا کوکشیدگی سے بچایا جائے:چین کا پیغام، اس حوالے سے چین نے منگل کو جزیرہ نما کوریائی ملکوں کے متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کو ہوا دینا بند کریں۔

    پہلے امریکی دفاعی ادارے پینٹا گان پھرچینی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے گزشتہ ہفتے ہوائی کے ساحل پر ایک مشترکہ بیلسٹک میزائل دفاعی مشق کا انعقاد کیا، 2017 کے بعد پہلی بار تینوں ممالک نے اس طرح کی مشقیں کی ہیں۔

     

    شمالی کوریا کا مزید 2 کروز میزائلوں کا تجربہ

    یہ بھی معلوم ہے کہ اس موقع پر یہ پوچھے جانے پر کہ باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران فوجی مشقوں میں کس کو نشانہ بنایا گیا، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب امریکہ کو دینا چاہیے۔وانگ نے کہا، لیکن جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پر مشترکہ فوجی مشقوں کے منفی اثرات توجہ کے مستحق ہیں۔

    روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیاں

    انہوں نے کہا، "متعلقہ فریقین کو ہوشیاری سے کام لینا چاہیے، اور ایسے اقدامات کو روکنا چاہیے جو کشیدگی اور تصادم کو بڑھاتے ہیں اور فریقین کے درمیان باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔”

    دوسری طرف شمالی کوریا نے طویل عرصے سے جنوبی کوریا ، جاپان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ مشقوں کی مذمت کی ہے اور جزیرہ نما کوریا سے امریکی فوجیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    صدرجوبائیڈن کےدورے کےموقع پر شمالی کوریا جوہری تجربہ کرسکتا ہے:جنوبی کوریا

  • جاپان میں شدید سیلاب سے تباہی،کئی سڑکیں اور پل تباہ، گاڑیاں بہہ گئیں

    جاپان میں شدید سیلاب سے تباہی،کئی سڑکیں اور پل تباہ، گاڑیاں بہہ گئیں

    ٹوکیو:جاپان کو ایک طرف خطے میں تائیوان اور چین کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے سخت صورتحال کا سامنا ہے تو دوسری طرف جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں بارش اور سیلاب کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔

    جاپان کے شمال مشرقی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں نے ہر شے پانی پانی کردی، رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہونے کے باعث ہزاروں افراد کو نقل مکانی کی ہدایت کردی گئی۔

    قاتلانہ حملے میں ہلاک سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کی آخری رسومات ادا

    لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے دریا ابل پڑے،کئی سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے، گاڑیاں ڈوبنے سے لوگوں کا بھاری مالی نقصان ہوا ہے، کئی علاقوں کا رابطہ منقطع ہوگیا، تین افراد لاپتا ہوگئے۔

    جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    گھروں اور کاروباری مراکز میں پانی داخل ہوگیا، جاپانی میڈیا کے مطابق 5 لاکھ چالیس ہزار افراد کو نقل مکانی کی ہدایت کی گئی ہے، حکام کے مطابق سیلاب کے باعث 2000 گھروں کی بجلی اور پانی منقطع ہوگیا ہے۔

    بارشوں سے سڑکیں زیر آب آگئیں اور لوگ گھروں میں محصور ہیں ، سیلابی ریلہ عمر رسیدہ افراد کی رہائش گاہ میں بھی داخل ہوگیا ۔جاپانی حکام کے مطابق شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلے سے شدید تباہی ہوئی ہے ،

    چین کی جانب سے تائیوان پرداغے گئے5 میزائل جاپان کی حدود میں گرگئے

    سیلاب سے متاثر ہونے والے بعض علاقوں امدادی کارکنوں کو پہنچنے کے لیے بھی شدید مشکلات پیش آرہی ہیں جبکہ بعض شہروں میں پانی جمع ہونے سے سڑٖکوں زیر آب آگئیں اور عمارتوں کے اطراف میں پانی جمع ہونے سے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں تاہم امدادی ادارے لاپتہ لوگوں کو تلاش کرنے اور محصور لوگوں کو عمارتوں سے نکالنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔

  • جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    جاپان کا زمین سے چاند و مریخ تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

    چاند پرجانے کی خواہش تو تقریبا ہرانسان میں پائی جاتی ہے۔ اسی خواہش کو دیکھتے ہوئے دنیا کے ارب پتی افراد جیف بیزوز نے بلیو اوریجن تو اور ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے ذریعے تجارتی بنیادوں پر خلائی سیاحت کے پروگرام کے فروغ پر کام کیا۔

    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان تمام ترٹیکنالوجی کے باجوود عام آدمی کوکبھی اس بات کا اہل بنا سکے گا کہ وہ کسی خلائی جہازیا راکٹ کے بغیرٹرین سے چاند تک کا سفرایسے کرسکے جیسے ایک شہرسے دوسرے شہرتک کیا جاتا ہے۔

    جاپانی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے چاند سے زمین تک کے سفرکوبہ ذریعہ ٹرین ممکن بنانے کے انوکھے منصوبے پرکام کا آغازکردیا ہے۔

    کیوٹویونیورسٹی کے ریسرچرزنے ایک پریس کانفرنس میں اس مستقبل بین منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تعمیراتی کمپنی کاجیما کنسٹرکشنزکے ساتھ مصنوعی خلائی رہائش گاہوں، زمین، چاند اورمریخ کوایک دوسرے سے مربوط کرنے کا حامل بین الاسیارتی ٹرین کا نظام بنا نے پرکام کررہے ہیں۔

    کیوٹویونیورسٹی کے مرکزبرائے ایس آئی سی ہیومن اسپیسولوجی کے ڈائریکٹریوسوکی یامیشیکا کا اس بابت کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ پے جس پرتاحال کوئی ملک کام نہیں کررہا۔

    ’ دی گلاس کڈ‘ کے نام سے پیش کیا گیا یہ منصوبہ 2050 تک مکمل ہوگا۔ تاہم، اسے مکمل طورپرفعال پونے میں مزید 70 سال لگیں گے۔

     

     

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا یہ منصوبہ ان تمام اہم ٹیکنالوجیزکی نمائندگی کرتا ہے جومستقبل میں بنی نوع انسان کی خلا میں منتقلی کو یقینی بناتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق جاپانی محققین اس کے لیے شیشے کی بنی ایسی قابل رہائش جگہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، جہاں زندگی کا اسٹرکچرزمین کی کشش ثقل، خطے اور ایٹموسفیئرکی طرح انسانی ڈھانچے کے نظام کوزیرواورکم کشش ثقل کے ماحول میں کم زور ہونے سے تحفظ فراہم کرسکے۔

    اس مقصد کے محققین سینٹری فیوجل فورس (مرکزگریزقُوت، کسی گھومنے یا چکرکھانے والے نظام میں مرکز سے دور ہٹانے والی قُوت) کو استعمال کرتے ہوئے گردشی حرکت کو ترتیب دیتے ہوئے زمین کی کشش ثقل کو دوبارہ تخلیق کریں گے۔ جوکہ چاند کی کشش ثقل سے 6 گنا زائد ہے۔

    ریسرچرزکا مقصد مصنوعی کشش ثقل کے ساتھ شیشے کا ایسا مخروطی فعال ڈھانچہ تیار کرنا ہے جو پبلک ٹرانسپورٹیشن، سرسبزعلاقے اورہمارے سیارے پرموجود آبی اجسام پر مشتمل ہو۔ اوراس کا چاند پرموجود حصہ ’ لیونا گلاس‘ اورمریخ پرموجود حصہ ’ مارس گلاس‘ کہلائے گا۔

    دوسری جانب جاپان کا یہ منفرد منصوبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھرکے بیش تر ممالک چاند پرمستقل رہائش اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کا انسانوں کو چاند کی سطح سے واپس لانا 2025 سے قبل ممکن نہیں۔ جب کہ ایسے ہی ٹائم فریم پرانٹرنیشنل لیونرریسرچ اسٹیشن بھی کام کررہا ہے جو کہ چین اورروس کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔

  • چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    چین کی ہائی ٹیک اندسٹری کی ترقی کا رجحان برقرار

    بیجنگ:چین کے قومی ترقیاتی و اصلاحاتی کمیشن نے کہا ہےکہ ملک کی صنعتی چین اور سپلائی چین مجموعی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے ہوئے ہے، اور ہائی ٹیک صنعتیں اور تکنیکی تبدیلی سرمایہ کاری کے لیے ترقی کے نئے نکات بن چکے ہیں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق رواں سال کی پہلی ششماہی میں معاشی صورتحال پر میڈیا بر یفنگ میں کمیشن کے شعبہ ہائی ٹیک کے اہلکار نے کہا کہ ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کی اضافی قدر میں سالانہ بنیادوں پر 9.9 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ 2019 کی اسی مدت کی سطح سے تجاوز کر چکا ہے۔ کئی بڑی اختراعی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں، اور ہائی ٹیک انڈسٹریز اور تکنیکی تبدیلی سرمایہ کاری کے نئے گروتھ پوائنٹس بن چکے ہیں، جو صنعتی اور سپلائی چینز کی اصلاح اور اپ گریڈنگ کو مضبوط قوت فراہم کریں گے۔چین نیٹ ورک کی سہولیات اور ایپلی کیشنز کے اعتبار سے دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ ڈسپلے انڈسٹری کا پیمانہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ فوٹو وولٹک ماڈیولز کی عالمی پیداوار تین چوتھائی سے زیادہ ہے، اور مجموعی نصب شدہ صلاحیت دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ پاور ٹرانسمیشن ، ٹرانسفارمیشن آلات اور ریل ٹرانزٹ آلات کی تکنیکی سطح عالمی معیار پر انتہائی جدید ہے۔

    جاپان کی جانب سے جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج پر بحرالکاہل جزائر ممالک فورم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ چین نے جاپان کی جانب سے جوہری آلودہ پانی کے سمندر میں اخراج کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ میڈیا بریفنگ میں کہا کہ چین کے بھی یہی احساسات ہیں ۔ یہ جاپانی فیصلے پر عالمی برادری کی شدید تشویش کی عکاسی کرتا ہے اور ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ یہ مسئلہ عالمی سمندری ماحول اور متعلقہ ممالک کی صحت عامہ کے لیے تشویش کا باعث ہے، اس مسئلے کا تعلق محض جاپان سے نہیں ہے۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایک سال سے زائد عرصے میں، جاپانی حکومت نے جوہری آلودہ پانی کو صاف کرنے والے آلات کی تاثیر، اور ماحولیاتی اثرات کی غیر یقینی صورتحال جیسے اہم مسائل پر سائنسی اور قابل اعتبار وضاحتیں نہیں پیش کی ہیں ، بلکہ اس منصوبے کو زبردستی فروغ دیا ہے۔ جوہری آلودہ پانی کے اخراج کے حوالے سے تمام فریقوں کے تحفظات کو نظر انداز کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔

     

  • قاتلانہ حملے میں ہلاک سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کی آخری رسومات ادا

    قاتلانہ حملے میں ہلاک سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کی آخری رسومات ادا

    ٹوکیو:قاتلانہ حملے میں ہلاک سابق جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کی آخری رسومات ادا کردی گئی یہن اور ان رسومات مین بڑی تعداد مین لوگوں نے شرکت کی ہے ، جاپانی عوام نے آج اپنے سابق وزیراعظم شنزو ایبے کو آخری بار الوداع کہا۔ شنزو ایبے چند روز قبل ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایبے ملک کے طویل عرصے تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے رہنما تھے۔ اُنہیں گزشتہ جمعہ کو مغربی شہر نارا میں ایک انتخابی مہم کی تقریب سے خطاب کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

    منگل 12 جولائی کو آبے کے جنازے میں روایتی سیاہ لباس میں ملبوس ہزاروں افراد نے شرکت کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ٹوکیو کے مرکز میں واقع زوجوجی مندر کے سامنے ان کا جنازہ جلوس کی شکل میں پہنچایا گیا۔ شنزو ایبے پہلی بار 1991ء میں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ دو برس قبل عہدے سے مُستعفی ہونے کے باوجود وہ انتہائی بااثر سیاستدان مانے جاتے تھے۔

    شنزو ایبے کی آخری رسومات میں بیوہ، خاندان کے قریبی اراکین، موجودہ وزیراعظم فومیو کیشیدا اور سینیئر پارٹی اراکین نے شرکت کی۔ ایبے کے تابوت کو گاڑی پر رکھ کر پہلے ٹوکیو کے مرکزی سیاسی ہیڈکوارٹر نگاتاچو کے گرد چکر لگایا گیا۔ یہاں ایبے نے تین دہائیوں سے زیادہ وقت گزارا تھا۔ ان کی سیاسی پارٹی کے سینیئر اراکین اور قانون ساز قطار میں کھڑے تھے۔ اس کے بعد ایبے کے تابوت کو وزیراعظم کے دفتر کی طرف لے جایا گیا جہاں اُنہوں نے تقریباً ایک عشرے تک ملک و قوم کے لیے خدمات انجام دی تھیں۔

    موجودہ وزیراعظم فومیو کیشیدا اور ان کی کابینہ کے اراکین نے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے تابوت کے سامنے احتراماً سر جھکایا جس کے بعد آبے کے جسد خاکی کو آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے زوجوجی مندر لے جایا گیا۔

    ایبے کی چونکا دینے والی موت کے دو دن بعد اتوار کو ان کی حکمراں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے بھاری اکثریت سے ایوان بالا میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سے وزیراعظم فومیو کیشیدا کو 2025ء میں ہونے والے انتخابات تک بلاتعطل حکومت کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

  • جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں

    جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں

    ٹوکیو: جاپان کوامریکی حمایت پرپیغام یا کچھ اورسہی:روسی بحریہ نے جاپانی سمندری حدود پامال کردیں ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے نبردآزما روس نے جاپان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرڈالی۔

    جاپان کی وزارت دفاع کی جانب سے غیر ملکی میڈیا کو بتایا گیا کہ روسی بحری جہاز جاپانی سمندری حدود کے عین باہر جنوبی جزیرے اوکینوتوری شیما کے قریبی پانیوں میں داخل ہوا۔

    جاپان کی بحری سیلف ڈیفنس فورس نے تصدیق کی کہ بدھ کی صبح پانچ بجے کے قریب خفیہ معلومات جمع کرنے والے روسی بحری جہاز تقریباً پینتالیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع جزیرے سے متصل زون میں داخل ہوا اور بعد ازاں مغرب کی جانب روانہ ہوگیا۔جاپانی وزارت دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ بحری جہاز کتنی دیر تک اس زون میں رہا؟

    اس سے قبل وزارت نے بحری سیلف ڈیفنس فورس نے انکشاف کیا کہ تین روسی بحری جہاز بحیرۂ مشرقی چین سے بحیرۂ جاپان میں داخل ہونے کے لیے منگل سے بدھ کے روز آبنائے تسُوشیما سے گزرے تھے، یہ آبنائے جاپان کے مرکزی جنوب مغربی جزیرے کیُوشُو اور جزیرہ نما کوریا کے درمیان واقع ہے۔

    وزارت کا کہنا تھا کہ ان بحری جہازوں میں ایک تباہ کن اور ایک فریگیٹ شامل تھا، وہ پیر کی شام کو بحیرۂ مشرقی چین میں سینکاکُو جزائر سے متصل زون میں بھی داخل ہوئے جبکہ ایک پیر کو پہلے ہی زون میں تھا۔

    وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ جنگی بحری جہازوں کا اس زون سے گزرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے تاہم حکام روسی بحری جہازوں یہاں آنے کے مقصد کا تجزیہ کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ جزائر جاپان کے زیر انتظام ہیں، چین اور تائیوان ان کی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں، جاپانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان کی خود مختاری کا کوئی حل طلب معاملہ وجود نہیں رکھتا۔

  • چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    بیجنگ :امریکی خلائی ادارے ناسا کے چیف آف اسٹاف بل نیلسن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین کے خلائی منصوبے فوجی آپریشن کے تحت جاری ہیں جب کہ امریکہ پرامن،غیر فوجی خلائی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس بیان کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بل نیلسن کا بیان حقائق کے منافی ہے۔خلا میں فوجی مشق امریکہ کرتا ہے جب کہ چین خلا کا پرامن استعمال کر رہا ہے اور اس میں عالمی تعاون کو بھی مثبت انداز میں فروغ دے رہا ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں چاؤ لی جیان نے کہا کہ تین مشترکہ اعلامیے، چین -امریکہ تعلقات کا ” حفاظتی حصار” ہیں اور ان کی پاسداری کی جانی چاہیئے۔

    اس سے پہلے چائنا سینٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج کے زیر اہتمام 7 ویں عالمی تھنک ٹینک سمٹ میں کئی سیمینار منعقد ہوئے۔ “عالمی معیشت کی متوازن بحالی” کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں شریک ملکی اور غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز کا خیال تھا کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی اقتصادی بحالی کی بنیاد کمزور ہے اور ترقیاتی عدم توازن بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو عالمی معیشت کی متوازن بحالی کو فروغ دینے کے لیے اتفاق رائے کو بڑھانا چاہیے، تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کےمطا بق کوریا انسٹی ٹیوٹ فار فارن اکنامک پالیسی کے ڈائریکٹر کم ہیونگ جونگ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ چین کی جدت طرازی کی قیادت میں پیداوری قوت میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ افراطِ زر کے دور میں، تخلیقی ٹیکنالوجیز کی زیادہ ضرورت ہے، اور بین الاقوامی تعاون اس طرح کی تکنیکی کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ روز ایک سمپوزیم بعنوان ’’عالمی تجارت کے لیے نئے قوانین بنانے کے لیے گفت و شنید کریں‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ماہرین کا خیال تھا کہ بین الاقوامی تجارت میں نئے حالات کے پیشِ نظر، موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی ترقی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کے قوانین میں بہتری کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔

    چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر لونگ گو چھیانگ نے کہا کہ چین کاربن میں کمی اور کم کاربن کی تبدیلی کو مؤثر طریقے سے فروغ دے گا، جو عالمی سبز اور کم کاربن کی تبدیلی کے لیے ایک اہم محرک ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ سبز ترقی کا تصور بین الاقوامی تجارت پر زیادہ اثرات ڈالے گا۔
    آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اپنے دورہ سنکیانگ میں ای لی قازق خوداختیار پریفیکچر کا دورہ کیا جو قدیم شاہراہ ریشم کے شمالی حصے کا اہم گڑھ تھا۔ای لی اپنے خوبصورت مناظر اور مختلف قومیتوں کی رنگا رنگ ثقافت کی بدولت سیاحوں کے لیے بے حد کشش رکھتا ہے۔

    جمعرات کےروزچینی میڈ یا کےمطابق آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 صحافی سنکیانگ میں اقتصادی ترقی، قومی اتحاد،سماجی ہم آہنگی ، ماحولیاتی تحفظ،دیہی احیاء اور ثقافتی ترقی کے حوالے سے کی جانے والی تبدیلیوں اور حاصل کردہ کامیابیوں کی شاندار کہانیاں جاننے کے لیےتین جولائی سے سنکیانگ کے مشترکہ دورے پر ہیں ۔ 1992 میں شروع ہونے والی یہ سرگرمی اب آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان صحافیوں کے تبادلوں کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

    85سال پہلے آج کے دن چینیوں کے جزبہ کوسلام پیش کرتے ہیں :چین حکومت کا پیغام ،اطلاعات کے مطابق چینی میڈ یا کے مطا بق 7 جولائی کے سانحے کی 85 ویں برسی جمعرات کے روز منا ئی گئی ۔ اسی روز 7 جولائی 1937 کو جاپانی عسکریت پسندوں نے چین کے خلاف جارحیت کی ہمہ جہت جنگ کا آغاز کیا تھا۔جاپان مخالف آٹھ سالہ سخت اور کٹھن جنگ کے دوران، چینی فوج اور عوام نے خونریز لڑائیاں لڑیں، عظیم قومی قربانی کے ساتھ فسطائیت مخالف جنگ میں حتمی فتح حاصل کی، اور اپنے خون سے چینی تہذیب اور عالمی امن کا دفاع کیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 7 جولائی کو چینی عوام اس دن کو مختلف طریقوں سے مناتے ہیں، کیونکہ صرف تاریخ کو ذہن میں رکھ کر اور ایک مضبوط ملک بنا کر ہی تاریخی سانحات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم اپنی قومی تذلیل کو نہیں بھولیں گے، اس لئے ہم امن کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ چینی عوام کی امن سے محبت اور دفاع کے عزم کا اظہار ہے .

     

    تاہم، چین کے پرامن ابھرنے کے پیشِ نظر، مغربی ممالک میں کچھ لوگ ہمیشہ چین کو سمجھنے کے لیے مغربی طرز فکر اور منطق کا استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ چین کے پرامن ابھرنے کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اور چین کو ایک مغربی طرز کا تسلط پسند ملک سمجھتے ہیں جو موجودہ ورلڈ آرڈر پر حملہ کرنے والا ہے۔ نام نہاد “تھوسیڈائڈز ٹریپ”تھیوری سے لے کر مختلف “چین کے خطرے کے نظریات” تک، ان غلط فہمیوں نے چین کے ترقی کے رجحان اور مشرق اور مغرب کے درمیان معقول تبادلے اور تعلقات کے بارے میں لوگوں کی عقلی سمجھ کو شدید متاثر کیا ہے۔

     

     

     

    اس حوالے سے چین کے صدر شی جن پھنگ نے 2015 میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک تقریر میں نشاندہی کی تھی کہ دنیا میں کوئی “تھوسیڈائڈز ٹریپ” نہیں ہے، لیکن بڑی طاقتوں کے درمیان بار بار ہونے والی تزویراتی غلط فہمیاں اپنے لیے “تھوسیڈائڈز ٹریپ” پیدا کر سکتی ہیں۔ ” بعد میں ایک انٹرویو میں، صدر شی نے دوبارہ زور دیا “ہم سب کو “تھوسیڈائڈز ٹریپ” میں پھنسنے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نظریہ کہ ایک طاقتور ملک ضرور تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرےگا، چین پر لاگو نہیں ہوتا، اور چین کے پاس اس طرح کے اقدامات کرنے کے لئے جینز نہیں ہیں۔ ”

    غیر ملکیوں کے جارحیت کے تاریخی سانحے اور قومی مصائب کی دردناک یاد کے پیشِ نظر ،چینی عوام امن کی قدر کو اور بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ 5000 سال سے زائد عرصے سے تہذیب کے عمل میں چینی قوم نے ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کے تصور کی پیروی کی ہے ۔ چین کبھی تسلط کی کوشش نہیں کرے گا، چین کبھی توسیع میں مشغول نہیں ہو گا ، اور ہم کبھی بھی دوسرے لوگوں پر اس المناک تجربے کو مسلط نہیں کریں گے جس کا تجربہ ہم نے خود کیا ہے۔دوسری طرف ، بلاشبہ بالادست طاقتوں کی غنڈہ گردی کے سامنے چینی عوام کبھی سر نہیں جھکائیں گے، ہم قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی اور جدیدیت پر انحصار کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ، ہم دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر عالمی امن اور استحکام کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے۔

     

     

    یہ لکھتے ہوئے مجھے ایک “موت کا جھنڈا” یاد آ رہا ہے جو میں نے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوامی جنگ کے

  • جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    ٹوکیو:توانائی کا بحرانی عالمی صورتحال اختیارکرگیا ہے اور یہ بھی پشین گوئی کی جارہی ہے کہ یہ بحران ابھی مزید بڑھے گا جس کی صورت میں عالمی سطح پرایک بہت ہیجانی کی کیفیت پیدا ہوجائے گی،ترقی پزیرممالک میں تویہ تصورتھاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوسکتی ہے لیکن جاپان جیسے ملک کے بارے میں سوچنا احمقانہ تصورکیاجاتا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جاپان میں بھی لوڈشیڈنگ یا بجلی کا بحران ہومگراب یہ سب کچھ ہورہا ہے ، جاپان کو اس وقت جون کی ریکارڈ توڑ ’بدترین‘ گرمی کی لہر کا سامنا ہے جہاں بجلی کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کچھ مینوفیکچررز نے بجلی کی بچت کے لیے پیداوار کو کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے

    گرمی کی لہر کے پانچویں دن ٹوکیو کے قریبی علاقوں میں 40 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

    جاپان کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ دارالحکومت ٹوکیو کا درجہ حرارت 5 جولائی تک 30 سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آئے گا۔ صنعت کی وزارت کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بجلی کی طلب اور رسد کی صورت حال گزشتہ تین دنوں میں (رواں ہفتے کے) سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوکیو اور اس کے قریبی علاقوں میں بدھ کی دوپہر کے اوائل میں بجلی کی طلب گزشتہ چند سالوں کے موسم گرما کی بلند ترین سطح کے برابر ہو سکتی ہے

    نیشنل گرڈ مانیٹر کے مطابق منصوبہ بند بجلی کی سپلائی میں پہلے سے ہی وہ سب کچھ شامل کر لیا گیا ہے جو بدھ تک اضافی اقدامات کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار کراس ریجنل کوآرڈینیشن آف ٹرانسمیشن آپریٹرز (او سی سی ٹی او) کے مطابق دوپہر تخمینے نے ظاہر کیا ہے کہ ٹوکیو کے علاقے کے لیے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا ریزرو تناسب شام ساڑھے چار اور پانچ بجے کے درمیان 2.6 فیصد تک گر سکتا ہے۔ جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا نے گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ جاپان میں بجلی کی وافر فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

    دریں اثنا، پاور کمپنیاں تھرمل پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں جو بن کر دیے گئے تھے جبکہ ری ایکٹرز کو دوبارہ فعال کرنے سمیت متبادل توانائی کے ذرائع کے اضافی استعمال کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • جاپان : ٹوکیو میں ہیٹ ویو کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    جاپان : ٹوکیو میں ہیٹ ویو کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    جاپان کا دارالحکومت ٹوکیو ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے یہاں تک کہ شہر میں ہیٹ ویو کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: "الجزیرہ” کے مطابق ٹوکیو میں لگاتار تین دن درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا،جو 150 سالوں میں جون کے مہینے میں گرم موسم کا بدترین سلسلہ تھا۔

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال

    لگاتار تین دن درجہ حرارت 35 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد منگل کو ٹوکیو میں 36 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی تھی،1875 کے بعد یہ جون میں گرمی کا بدترین سلسلہ ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق اتوار کے روز ہیٹ ویو سے متاثرہ 250 سےزائد شہریوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ کم از کم دو افراد ہیٹ اسٹروک سے ہلاک ہوئے جبکہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے تک مزید 13 افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب حکام نے ٹوکیو میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ پاور کٹ ہونے سے بچنے کے لیے بجلی محفوظ کریں جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ٹوکیو میں آئندہ دنوں کے اندر درجہ حرارت میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

    ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    جاپان کے بیشتر حصوں میں عام طور پر سال کے اس وقت بارش کا موسم ہوتا ہے، لیکن جاپان کی موسمیاتی ایجنسی (JMA) نے پیر کے روز کانٹو کے علاقے، ٹوکیو کے گھر، اور پڑوسی کوشین کے علاقے میں موسم ختم ہونے کا اعلان کیا۔ 1951 میں ریکارڈز شروع ہونے کے بعد سے یہ سیزن کا ابتدائی اختتام تھا لیکن معمول سے مکمل 22 دن پہلے۔

    جے ایم اے نے وسطی جاپان کے ٹوکائی اور جنوبی کیوشو کے کچھ حصے میں بھی بارش کے موسم کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ان علاقوں میں بارش کا موسم تھا اور کانٹو کوشین ریکارڈ پر سب سے کم بارش تھی۔

    شدید گرمی کے درمیان، جاپانی حکومت نے بجلی کے بحران کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا ہے، حکام نے منگل کو ٹوکیو کے علاقے میں صارفین سے دوسرے دن بجلی بچانے کے لیے کہا ہے۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ رہائشیوں کو وہ کرنا چاہیے جو ٹھنڈا رہنے اور ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے ضروری تھا۔

    آٓئی ایم ایف سے 1.9 ارب ڈالر بہت جلد ملیں گے لیکن بوجھ عوام کو ہی اٹھانا ہوگا. وزیراعظم

  • جاپان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    جاپان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    جاپان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چونکہ پاکستان کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جاپان نے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کی مدد کرنے کیلئے جاپان نے 2.3 ملین ڈالرز دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مزید برآں یہ کہ جاپان ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سکالرشپ پروجیکٹ” کے لیے 2.3 ملین امریکی ڈالر کی امداد دے گا۔ اور اس معاہدے پر دستخط سیکرٹری اقتصادی امور ڈویڑن سیکرٹری میاں اسد حیا الدین اور جاپانی ناظم الامور ایشی کینسو نے کیے ہیں۔
    اور یہ کہ جاپان کی حکومت نے پاکستانی افسران کیلئے ایک اچھے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جاپانی حکومت جاپان میں تمام اعلی سطح کی یونیورسٹیوں میں دو سال کے لیے ماسٹر ڈگری پروگرام کے لیے 17 اور ڈاکٹریٹ پروگرام کے لیے 3 سال کے لیے پاکستانی افسران کو ایک اسکالر شپ فراہم کرے گی۔

    مزید برآں یہ کہ اس خاص مقصد کیلئے پاکستان کے انسانی وسائل کو ترقی دینے کے مقصد کیلئے اسکالرشپ کے منصوبہ کے تحت جاپانی گرانٹ ایڈ کے لیے وزارت اقتصادی امور میں دستخط کی تقریب منعقد کی گئی۔اسی کے تحت ہی جاپان کی حکومت نے “مالی سال 2022 کے لیے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اسکالرشپ کے پروجیکٹ” کے لیے پاکستان کی حکومت کو 313 ملین جاپانی ین فراہم کیے۔ جو کہ 23 لاکھ امریکی ڈالرکی امداد فراہم کرے گی۔