Baaghi TV

Tag: جنگ

  • ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    ٹرمپ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی آڑ میں الجھا کر ایران پر زمینی حملوں کا منصوبہ بنا لیا ہے جبکہ ہزاروں امریکی فوجی پہلے ہی خطے میں پہنچ چکے ہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف دو بڑے زمینی آپریشنز کی منصوبہ بندی کی ہے پہلا آپریشن ایران کے اہم تیل بردار مرکز خارگ جزیرے پر قبضے کے لیے ہوگا جبکہ دوسرا آپریشن افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے مقصد سے کیا جائے گا, امریکا پہلے ہی ساڑ ھے تین ہزار میرینز اور نیول اہلکار خطے میں تعینات کرچکا ہے، جبکہ آئندہ ہفتوں میں مزید ساڑھے تین ہزار فوجیوں کی آمد متوقع ہے، جس سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ جائے گی۔

    رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ مکمل حملے سے کم درجے کا ہے، تاہم اس کے دوران امریکی اہلکاروں کو ایرانی ڈرونز، میزائلوں، زمینی فائرنگ اور بارودی سرنگوں جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے, وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ پینٹاگون کا کام مختلف آپشنز تیار کرنا ہے تاکہ صدر کو فیصلے کے لیے مکمل اختیارات حاصل ہوں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ نے کوئی حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق خارگ جزیرے پر قبضہ ایران کے لیے شدید معاشی دھچکا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے ایران کے فوجی آپریشنز کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں نے انہیں خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر قدم رکھنا ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ مشن ہوگا،ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی آپریشن سے نہ تو ایران کی حکومت گرے گی اور نہ ہی آبنائے ہرمز کھلنے کی ضمانت دی جاسکتی ہے اگر امریکا نے زمینی کارروائی کی تو یہ جنگ جلد ختم ہونے کے بجائے طویل ہوسکتی ہے اور اسے ہفتوں میں سمیٹنا ممکن نہیں ہوگا۔

    دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن بظاہر مذاکرات کی بات کرتا ہے لیکن خفیہ طور پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایرانی افواج امریکی فوجیوں کے انتظار میں ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گ ایران کی عسکری تیاری مکمل ہے، میزائل نظام فعال ہے اور دشمن کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا بیان ابراہ راست واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے ردعمل میں دیا گیا یا نہیں۔

  • ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ایران کی فوجی قیادت نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی حقیقی عسکری طاقت سے ناواقف ہیں-

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن ایران کی وسیع اور اسٹریٹجک طاقت سے پوری طرح آگاہ نہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائل مراکز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، جدید فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں ایران کی اسٹریٹجک عسکری پیداوار ایسے مقامات پر ہو رہی ہے جن کے بار ے میں دشمن کو علم نہیں اور نہ ہی وہ وہاں تک پہنچ سکتا ہے۔

    ایران کی فوجی قیادت کا امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام

    ترجمان کے مطابق اب تک جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ “غیر اہم” تھے ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ آئندہ کارروائیاں مزید سخت، وسیع اور تباہ کن ہوں گی ایران اس جنگ کو اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک دشمن کو مکمل اور حتمی شکست نہیں دی جاتی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہیں،امریکی سفارت کاری محض ایک ڈھونگ ہے۔

    پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھارتی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کہا کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں ایران کے ساتھ کیے گئے سفارتی وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی، جن میں 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی بھی شامل ہے امریکا نے مذاکرات کے دوران ہی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائیاں کیں۔

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے برطانیہ میں آج 30 سے زائد ممالک کا اجلاس

    ترجمان نے ایران پر جاری امریکی حملوں کو ’’وحشیانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت کوئی بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں،ثالثوں کے ذریعے ملنے والے پیغامات میں امریکا کی جانب سے غیر معقول اور یکطرفہ مطالبات کیے جا رہے ہیں، جن میں ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو ترک کرنا اور اس کے میزائل دفاعی نظام کو محدود کرنا شامل ہے۔

    ایران کیخلاف جنگ سے انکار،ٹرمپ فرانسیسی صدر کو بیوی سےمار کےطعنےدینے لگے

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ایرانی عوام ان پیغامات کو شدید شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس وقت ایران کی پوری توجہ اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع پر مرکوز ہے حالیہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران نے ’’آپریشن ٹرو پرومس 4‘‘ کے تحت جوابی اقدامات شروع کیے ہیں، جن کے دوران اب تک درجنوں مراحل میں اہم امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

  • ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

    ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے –

    جاپان کی نکی 225 میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کوسپی 2.6 فیصد نیچے آ گئی، اسی طرح ہانک کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی،مارکیٹ ماہرین کے مطابق خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اس وقت سے جاری ہے جب فروری کے آخر میں ایران سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہواایشیا کی معیشتیں توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتی ہیں، اسی لیے کسی بھی تنازع کے اثرات فوری طور پر مالیاتی منڈیوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس کے کراس ہال میں اعلیٰ امریکی عسکری اور سیاسی قیادت بھی موجود رہی برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق خطاب کے دوران امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین اور پیٹ ہیگسیٹ نے بھی خطاب کو براہ راست سنا اس کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت ٹرمپ کابینہ کے دیگر ارکان نے بھی اس موقع پر شرکت کی تقریب کے دوران اعلیٰ فوجی حکام کی موجودگی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب قوم سے خطاب میں امریکا کی معیشت، ایران کی صورتحال اور تیل سے متعلق کئی بڑے دعوے کیے، تاہم حقائق جانچنے والے تجزیوں میں ان کے کئی بیانات کو گمراہ کن یا مبالغہ آمیز قرار دیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ حکومت میں امریکا ایک مردہ اور تباہ حال ملک تھا جسے انہوں نے دنیا کی سب سے مضبوط معیشت میں تبدیل کردیا اور مہنگائی کا مکمل خاتمہ کردیا تاہم حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے آخری سال 2024 میں امریکی معیشت (جی ڈی پی) میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جو دنیا کے امیر ممالک میں نمایاں تھا۔ 2021 سے 2023 کے دوران بھی امریکی معیشت مستحکم رہی۔

    خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھا، تاہم جنگ کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج ہوچکا اور نئی قیادت پہلے سے زیادہ معتدل ہےحقیقت میں یہ دعویٰ بھی متنازع قرار دیا جارہا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنایا گیا، جنہیں زیادہ سخت مؤقف رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب (ریولوشنری گارڈ) کا اثر و رسوخ مزید بڑھا ہے، جبکہ سویلین حکومت کا کنٹرول محدود بتایا جاتا ہےیہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا اشارہ دیا گیا تھا، تاہم ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت نے حالیہ مظاہروں میں اپنے ہی 45 ہزار شہریوں کو ہلاک کیا، تاہم اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

    امریکا میں قائم تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسنی کے مطابق ملک گیر مظاہروں میں تقریباً 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ہزاروں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ان کی تصدیق ممکن نہیں۔ اسی تنظیم کے مطابق 53 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ایرانی حکومت نے 21 جنوری کو اپنی رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 113 بتائی تھی اس سے قبل بھی ٹرمپ 32 ہزار ہلاکتوں کا دعویٰ کرچکے ہیں، تاہم اس کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

  • اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر اسماعیل ہاشم شہید

    اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر اسماعیل ہاشم شہید

    بیروت میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر یوسف اسماعیل ہاشم شہید ہو گئے، جس کی تنظیم نے تصدیق کی ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بیروت میں ایک حملے کے دوران حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر الحاج یوسف اسماعیل ہاشم (الحاج صادق) کو شہید کر دیا ہے، جس کی بعد میں حزب اللہ نے بھی تصدیق کرتے ہوئے انہیں اسلامی مزاحمت کا چراغ قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اسماعیل ہاشم حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر تھے اور انہیں اسرائیلی بحریہ نے نشانہ بنایا، یہ حالیہ جنگ کے دوران حزب اللہ کو پہنچنے والے بڑے دھچکوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

    لبنانی حکام کے مطابق اسماعیل ہاشم اس وقت دیگر کمانڈرز کے ساتھ ایک اجلاس میں موجود تھے جب حملہ کیا گیا، جس میں مزید کئی اہلکار بھی مارے گئے۔ اس حملے میں کم از کم سات افراد جاں بحق اور 26 بھی زخمی ہوئے ہیں-

    ادھر اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ لبنان میں جاری جھڑپوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں 48 اہلکار زخمی ہوئے، جب کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 10 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 309 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے، جن میں رباعہ ثلاثین کے علاقے میں ایک توپ خانے کے مرکز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جنگجوؤں نے عیناتا کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا اور بفلے کے علاقے میں ایک جنگی طیارے کا بھی مقابلہ کیا۔

  • ایران نے ٹرمپ کے  جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کردیا

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی کوئی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیرِ غور ہے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’آئی آر آئی بی نیوز‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی فریق کو جنگ بندی کی پیشکش نہیں کی، امریکا اور اسرائیل کو سزا اور ایران کو ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ نہ ملنے تک جنگ جاری رہے گی، میڈیا میں سامنے آنے والے مبینہ پانچ نکاتی پلان کی خبریں سچائی پر مبنی نہیں بلکہ قیاس آرائی ہیں۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ابھی امریکا کے ساتھ مذاکرات یا سفارت کاری کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ امریکا نے ماضی میں بھی مذاکرات کو اپنے مطالبات منوانے یا حملوں کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔

    مصر کے روزنامے ’المصری الیوم‘ کو دیے گئے انٹرویو اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں اب کسی کو بھی امریکی سفارت کاری پر بھروسہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ طاقت کے استعمال سے پہلے دھیان بھٹکانے کے لیے مذاکرات کرتے ہیں۔

    ایران کی جانب سے یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے نئے رہنما نے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، تاہم وہ جنگ بندی پر تب ہی غور کریں گے جب آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گااس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے دعوے کرچکے ہیں تاہم ایرانی حکام مسلسل ان دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ عنقریب ختم کرنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آگئی۔

    بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین فی صد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں تیل کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیان کے بعد واقع ہوئی ہےامریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ’بہت جلد‘ ایران سے نکل جائے گا اور فوجی کارروائیاں دو یا تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی 39 فی صد زیادہ ہیں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کیا ہوا ہے عالمی تیل کی تجارت کا 20 فی صد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

  • ایران کیساتھ جنگ پرانا منصوبہ؟صدر ٹرمپ نے1987 میں اپنے انٹرویو کا ویڈیو کلپ  شئیر کردیا

    ایران کیساتھ جنگ پرانا منصوبہ؟صدر ٹرمپ نے1987 میں اپنے انٹرویو کا ویڈیو کلپ شئیر کردیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک 38 سال پرانا انٹرویو شیئر کیا ہے، انٹرویو میں ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہاں جائیں، تیل پر قبضہ کریں اور ایران کو اپنی جنگ خود لڑنے دیں، اس طرح ہم اپنی تمام کسر نکال سکتے ہیں-

    یہ ویڈیو کلپ 1987 کا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ محض ایک کاروباری شخصیت تھے، لیکن اس وقت بھی ان کی سوچ ایران کے حوالے سے انتہائی سخت تھی، 1987 میں معروف صحافی باربرا والٹرز کو دیے گئے اس انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے خطرات نہیں بڑھیں گے، تو ٹرمپ کا جواب تھا کہ ہمیں ایرانی سمندروں میں داخل ہو کر ان کے تیل پر قبضہ کر لینا چاہیے، آپ وہاں جائیں اور تیل لے لیں، کمزوری دکھانے سے ہی مسائل پیدا ہوتے ہیں،اگر ایران دوبارہ حملہ کرے تو ہمیں ان کی تیل کی تنصیبات پر قبضہ کر کے اسے اپنے پاس رکھ لینا چاہیے-

    صدر ٹرمپ نے یہ کلپ ایک ایسے وقت میں خود شیئر کیا ہے جب امریکی افواج ایران کے ساتھ ایک فعال جنگ میں مصروف ہیں موجودہ حالات میں اس ویڈیو کو شیئر کرنا صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے،ایک طرف صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی نئی قیادت کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور وہ لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ معقول نظر آتے ہیں، لیکن دوسری طرف انہوں نے ایک سنگین دھمکی بھی دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر جلد ہی کوئی معاہدہ طے نہ پایا اور تیل کی تجارت کے لیے اہم راستہ آبنائے ہرمز نہ کھولا گیا تو امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور خاص طور پر ان کی سب سے بڑی بندرگاہ خارگ آئی لینڈ کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ چار دہائیاں گزرنے کے باوجود ایران کے بارے میں ان کا بنیادی نظریہ تبدیل نہیں ہوا جہاں وہ ایک طرف مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وہ ایرانی تیل پر براہِ راست حملے کی دھمکی دے کر تہران پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔

  • امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا کا ایران میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم سے حملہ

    امریکا نے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم سے اصفہاں پر حملہ کردیا ہے۔

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے اصفہان میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے،اس حملے کا ہدف اصفہان میں اسلحہ ڈپو تھا حملے کے بعد زوردار دھماکے ہوئے اور دھماکوں کی ویڈیوز سامنے آئیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جس کا مقصد ایران کو مزید سخت پیغام بھی دینا تھا۔

    واضح رہے کہ کچھ رپورٹس میں اصفہان کو جوہری تنصیبات کا حامل علاقہ بتایا گیا ہے تاہم اس مخصوص حملے کا ہدف زیادہ تر اسلحہ ڈپو اور فوجی انفراسٹرکچر بتایا جا رہا ہے۔

  • ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

    ایرانی حملوں میں 261 فوجی اور 6000 شہری زخمی ہوئے،اسرائیلی فوج

    اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 261 اسرائیلی فوجی اور6000 سے زائد سویلین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے121 افراد اب بھی زیر علاج ہیں،اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 232 افراد زخمی ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے، جس کے بعد جنگ کے دوران ہسپتالوں میں داخل شدگان کی تعداد 6000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    ان زخمیوں میں سے 2 افراد کی حالت تشویشناک،8افراد کی حالت تسلی بخش اور 215 افراد کی حالت بہتر بتائی گئی ہےجبکہ 7 افراد کو گھبراہٹ کے علاج کے لیے اسپتال لایا گیاوزارت صحت نے زخمی ہونے کی وجوہات کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم کہا گیا ہے کہ بعض افراد کو پناہ گاہ تک پہنچنے کی کوشش کے دوران بھی چوٹیں لگی ہیں۔

    علاوہ ازیں، اسرائیل نے بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اس کے 261 اسرائیلی فوجی زخمی ہو چکے ہیں، تاہم فوج نے اب تک ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد ظاہر نہیں کی ہےدوسری جانب اسرائیل نے اپنے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ منظور کیا ہے جو 271 ارب ڈالر پر مشتمل ہےماہرین کا خیال ہے کہ اتنا بڑا بجٹ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل خود کو کسی ایک مختصر کارروائی کے بجائے ایک طویل اور کثیر الجہتی جنگ کے لیے تیار کر رہا ہے۔

    دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے ماہر محمد المصری نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا کہا کہ اسرائیل کا یہ تاریخی بجٹ اُس کی اِس نیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مختلف محاذوں پر کئی جنگیں لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے تاریخی طور پر امریکا اسرائیل کو ہر سال 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا رہا ہے اور جنگ کے دوران یہ رقم مزید بڑھ جاتی ہے، لیکن اب اسرائیل کے اندر یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ شاید حالات ہمیشہ ایسے نہ رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کا سیاسی منظرنامہ بدل رہا ہے اور وہاں کے عوام نہ صرف اسرائیل بلکہ اسے ملنے والی امریکی امداد پر بھی تنقید کر رہے ہیں اس بجٹ سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اسرائیل خود کو جنگ کے خاتمے پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ وہ شاید ابھی جنگ کے وسط یا محض آغاز میں ہے سرائیلی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ شام، لبنان، فلسطینی علاقوں اور ایران کے ساتھ ایک طویل المدتی جنگ کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنے ’گریٹر اسرائیل‘ کے خواب کو حقیقت بنا سکیں۔

  • ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    ٹرمپ کے مذاکرات جنگ کا اشارہ ہیں،ایران

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ امن مذاکرات کے دعوؤں پر ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب بھی امریکی صدر قریب الوقوع امن کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب درحقیقت جنگ کے مزید قریب ہونے سے لیا جاتا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ لڑائی پہلے ہی جاری ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے ایران کو معقول قرار دینے اور مذاکرات کے قریب ہونے کے بیانات کے بعد انہیں خدشہ ہے کہ جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، یہ امریکی پالیسی، خصوصاً ٹرمپ کے دور میں، ایک مخصوص طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے۔

    ایرانی حکام اس وقت اسلام آباد میں ہونے والی سرگرمیوں کے بجائے ممکنہ زمینی حملے کے خدشے پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، ان کے بیانات کا مرکز بھی زیادہ تر ایران کی دفاعی تیاریوں اور زمینی جنگ کے لیے آمادگی پر ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امن معاہدے کے بجائے یہی صورتحال زیادہ متوقع ہے۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے زمینی کارروائی کی تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں بدل جائے گی،صورتحال ٹرمپ کے لیے بدترین ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور جنگ پہلے ہی امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے۔ مزید یہ کہ امریکی کانگریس نے بھی تاحال اس جنگ کی باقاعدہ منظوری نہیں دی۔

    ایرانی حکام اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکی افواج ایران میں داخل ہوئیں تو یہ ایک براہِ راست اور برابر کی لڑائی ہوگی ایران کے پاس لاکھوں کی تعداد میں فوجی اہلکار اور بڑی تعداد میں بسیج نیم فوجی فورس موجود ہے، جو ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں، ایسی کسی بھی زمینی جنگ کی صورت میں امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو نہ صرف جنگ کو طول دے گا بلکہ اسے امریکی قیادت، خصوصاً ٹرمپ کے لیے سیا سی طور پر نقصان دہ بھی بنا دے گا۔