Baaghi TV

Tag: جنگ

  • روسی حملہ:کیف کا نصف حصہ بجلی اور پانی  سے محروم

    روسی حملہ:کیف کا نصف حصہ بجلی اور پانی سے محروم

    روس کے رات گئے شدید حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف کا تقریباً نصف حصہ بجلی، پانی اور حرارت سے محروم ہو گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منفی 14 ڈگری سینٹی گریڈ کی شدید سردی میں ہزاروں رہائشی عمارتیں اور پارلیمنٹ سمیت اہم سرکاری عمارتیں متاثر ہوئیں،یوکرینی حکام کے مطابق روس نے سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں سے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کیف کے قریب ایک 50 سالہ شخص ہلاک ہو گیا۔ شہر کے میئر ویتالی کلیچکو نے بتایا کہ رواں ماہ روس کے شدید ترین حملوں کے باعث پانچ لاکھ سے زائد افراد دارالحکومت چھوڑ چکے ہیں۔

    حملے کے دوران شہر بھر میں سائرن بجتے رہے اور یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی، شہریوں کی مدد کے لیے کیف انتظامیہ نے مختلف علاقوں میں خیمے نصب کیے ہیں جہاں لوگ خود کو گرم رکھ سکتے ہیں، موبائل فون چارج کر سکتے ہیں، گرم مشروبات اور نفسیاتی مدد حاصل کر سکتے ہیں-

    یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ روس خواتین، بچوں اور بزرگوں کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہےسات علاقوں میں توانائی کا انفراسٹرکچر نشانہ بنایا گیا، اور اتحادی ممالک سے فضائی دفاع مضبوط کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس موقع پر تشویش ظاہر کی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق بیانات عالمی توجہ کو یوکرین جنگ سے ہٹا سکتے ہی یوکرین ایک مکمل جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور عالمی توجہ میں کمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے انہوں نے امریکا اور یورپ کے درمیان سفارتی ہم آہنگی پر زور دیا، وہ حالیہ حملے کے بعد حالات کے باعث ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت نہ بھی کریں، تاہم اگر امریکا کے ساتھ جنگ کے بعد کے معاشی اور سکیورٹی معاہدوں پر پیش رفت ہوئی تو شرکت کا امکان موجود ہے۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ   گیا

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑی جنگ کے پھیلنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران برطانیہ نے اسرائیل کی مدد کے لیے فوجی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ بھڑکنے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔

    برطانوی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ لڑاکا طیاروں، عسکری ساز و سامان اور A400M ملٹری ٹرانسپورٹ وہیکل سمیت دیگر دفاعی وسائل کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ری فیولنگ کے لیے KC-3 طیارہ قبرص منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے میں فضائی آپریشنز کو جاری رکھا جا سکے۔

    ادھر ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک برطانوی جنگی بحری جہاز خلیج فارس کے قریب پہنچ گیا تھا، جو اسرائیل کی حمایت کے لیے خطے میں داخل ہونا چاہتا تھا ایرانی فوج کے مطابق، یہ جنگی جہاز صہیونی میزائلوں کی رہنمائی کے لیے لایا گیا تھا۔

    بھارتی شہر کیدرناتھ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ، 7 افراد ہلاک

    ایرانی بحریہ نے عمان کے سمندری حدود میں اس جہاز کو روکا اور مسلح ڈرونز کو اس کی جانب بھیج کر وارننگ دی۔ ایرانی بیان کے مطابق، ڈرونز کی پرواز اور تنبیہ کے بعد برطانوی بحری جہاز کو رخ بدلنے پر مجبور کر دیا گیاایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر علاقائی طاقت کی مداخلت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور خطے کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

    اسرائیلی حملوں میں امریکا برابر کا شریک ، اسکا خمیازہ بھگتنا ہوگا،ایرانی وزیر خارجہ

  • روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ  کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    امریکا کے پاس مہلک ترین بی 83 جوہری ہتھیار ہے، اگر یہ طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی-

    باغی ٹی وی: امریکی جریدے نیوز ویک نے بی 83 نیو کلیئر بم سے تباہی کا تخمینہ پیش کردیا، جریدے کے مطابق امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر ہتھیار بی 83 ہے، اس نیوکلیئر بم سے جو شعلہ بلند ہوگا وہ 4 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور تباہی اس قدر ہوگی کہ 175 اسکوائر کلومیٹر رقبے میں عمارتیں تباہ یا جل جائیں گی۔

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی، اگر اسے ماسکو پر پھینکا گیا تو 14 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے،نیوکلیئر بم بیجنگ پر پھینکا گیا تو 15 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے، اسی طرح اگر یہ بم پیانگ یانگ پر پھینکا گیا تو 13 لاکھ شہری ہلاک اور 11 لاکھ زخمی ہوں گے۔

    جریدے کا کہنا ہے کہ دھماکے کے 211 مربع میل کے اندر موجود افراد جل جائیں گے، دھماکا کئی افراد کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے، دھماکے کے 535 مربع میل کے فاصلے پر موجود عمارتوں میں لگے شیشے ٹوٹ سکتے ہیں اور لوگ زخمی ہوسکتے ہیں، امریکا نادانستہ طور پر اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد تنازعات میں ملوث ہے، چین کے ساتھ تجارت سمیت متعدد مسائل پر تناؤ کا بھی سامنا ہے۔

    دوسری جانب روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے خدشے کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا اور واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش بحال کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے یہ بات امریکی جریدے کی جانب سے روس پر ممکنہ نیوکلیئر حملے سے تباہی کے تخمینے پر ردعمل میں کہی یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے واقعات کو ماڈل کیا گیا ہے، یہ خدشات موجود ہیں لیکن روس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ایسی تباہ کن صورتحال سے گریز کیا جائے۔

    نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا انحصار روس پر نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا دشمن کیسے برتاؤ کرتا ہے، اگر وہ اُس صورتحال کی طرف بڑھتے ہیں جس کا روسی نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں ذکر کیا گیا ہے تو یہ دشمن پر منحصر ہوگا،اب پہلی بار نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش کرنے پر غور کررہا ہے؟ سوال پر نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ یہی سوال اس وقت درپیش ہے اور صورتحال کافی مشکل ہے،اس پر مستقل طور پر غور کیا جارہا ہے۔

  • روسی جنگی جہاز ہم نے روسی حدود میں‌گرایا،یوکرین کا دعویٰ

    روسی جنگی جہاز ہم نے روسی حدود میں‌گرایا،یوکرین کا دعویٰ

    یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے روس کے انتہائی اہم اور دور تک حملہ کرنے والے جنگی جہاز Tu–22M3 کو میزائل کے ذریعے تباہ کردیا ہے

    یوکرین کے حکام کے دعوے کے مطابق انہوں نے روس کے جنگی طیارے کو یوکرین کی سرحد سے 300 کلومیٹر دور روسی فضائی حدود میں ہی تباہ کیا ہے، یوکرینی دعوے پر روس کا کہنا ہے کہ روسی جہاز یوکرین نے تباہ نہیں کیا بلکہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر روسی جہاز تباہ ہوا ہے،جو روسی جنگی جہاز تباہ ہوا اس میں چار افراد سوار تھے جس میں سے ایک کی موت ہو گئی ہے ، دو زخمی ہوئے ہیں جنکو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاز میں سوار ایک شخص لاپتہ ہے جس کو تلاش کیا جا رہا ہے

    یوکرین نے پہلے بھی روسی جہاز گرائے ہیں لیکن وہ جو یوکرین کی حدود میں داخل ہو چکے تھے اب پہلی بار یوکرین نے دعویٰ کیا کہ روسی حدود کے اندر ہی اس نے روسی جہاز کو گرایا ہے،

    روس کا Tu–22M3 جنگی طیارہ 22 کروز میزائلوں سے لیس ہوتا ہے اور یہ دور تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس روسی طیارے کو سب سے پہلے 1977 میں استعمال کیا گیا تھا مگر پھر سال 2018 میں اسے مزید بہتر اور جدید بنایا گیا ہے، عالمی ادارہ برائے اسٹریٹیجک اسٹیڈیز کے مطابق روس کے پاس 57 ایسے جہاز ہیں

    روس اور یوکرین کے درمیان آپسی جنگ کا آغاز فروری 2022 میں ہوا تھا، ایک اندازے کے مطابق دونوں ممالک کے مابین جنگ میں اب تک دونوں کے 50 ہزار سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے

    نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کو جنگ زدہ ممالک میں شامل کر لیا

    آئی ایم ایف نے پاکستان کو جنگ زدہ ممالک میں شامل کر لیا

    آئی ایم ایف نے پاکستان کو دنیا کے چھ جنگ زدہ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جو شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں پاکستان کو عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا ہے اور کہا ہے کہ تنازعات اور سخت میکرو اکنامک پالیسی حالات ان کی معاشی پیداوار پر اثر انداز ہوں گے

    نجی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کوواشنگٹن میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی، وفاقی وزیر خزانہ نے ایک اور طویل المدتی بیل آؤٹ پیکج کے حصول میں پاکستان کی دلچسپی ظاہر کی، وزارت خزانہ نے اس ملاقات کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازور نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ آئی ایم ایف پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کا پیکیج اب نئے پروگرام کے حجم سے زیادہ اہم ہے

    آئی ایم ایف 2024 کے موسم بہار کے اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے ازور نے کہا تھا کہ میرے خیال میں اس مرحلے پر جو چیز اہم ہے وہ اصلاحات کو تیز کرنا ہے، اصلاحات کے ڈھانچے کو دوگنا کرنا ہے تاکہ پاکستان کو ترقی کی مکمل صلاحیت فراہم کی جا سکے، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے خطے سے متعلق اپنی رپورٹ میں آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ خطے کے لیے 2024 کے لیے معاشی پیش گوئی پر نظر ثانی کی گئی ہے کیونکہ تنازعات، کچھ معیشتوں میں سخت پالیسی ترتیب اور ہائیڈرو کاربن کی کم پیداوار کی وجہ سے شرح نمو پر اثر پڑ رہا ہے،مغربی کنارے اور غزہ کے علاوہ مینا "مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ” اور پاکستان کی 6 معیشتوں کو 2024 کے آغاز میں تنازعات کا سامنا کرنا پڑا، یہ عراق، پاکستان، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن ہیں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے موسم بہار کے اجلاسوں کے موقع پر جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے ،پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ جوڑنا جو خانہ جنگی سمیت سنگین تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں، ملک کے عالمی امیج کے لیے اچھا نہیں ہوسکتا ہے اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اس سے وزارتِ خزانہ کی جانب سے آئی ایم ایف کے معاملات کو ناقص طریقے سے سنبھالنے کا پتا چلتا ہے۔

    آئی ایم ایف نے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یکم جنوری 2024 سے 8 مارچ 2024 کے درمیان مسلح تنازعات کے مقام اور ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ کے ذریعے جنگ سے متعلق کم از کم 25 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں تو کسی ملک کو جنگ میں سمجھا جاتا ہے،پاکستان میں سول اور مسلح افواج پر دہشت گرد حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس میں چینی شہریوں پر مہلک حملہ بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ ماہ 5 چینی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ اور اسرائیل کے تنازع نے پہلے سے ہی چیلنجنگ ماحول کو مزید خراب کر دیا ہے اور بحیرہ احمر کے ذریعے جہاز رانی میں رکاوٹوں نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کٹوتی اور تنازعات کے اثرات آہستہ آہستہ کم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ درمیانی مدت میں یہ تاریخی اوسط سے نیچے رہیں گے،رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلح تنازعات، ہائیڈرو کاربن پر انحصار اور مسلسل ساختی چیلنجز کے پس منظر میں خطے اور پاکستان کے لیے معاشی نمو کا نقطہ نظر غیر مساوی بحالی کی علامت ہے۔ 2023 میں سکڑنے کے بعد 2024 میں پاکستان کی شرح نمو 2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جس سے زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں مسلسل مثبت بنیادی اثرات سامنے آئیں گے۔

    پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.6 فیصد تھی اور 2 فیصد کی کم شرح نمو کا مطلب ملک میں مزید بے روزگاری اور غربت تھی جو افراط زر کی مسلسل لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ سخت معاشی حالات کے باوجود، آئی ایم ایف نے ایک بار پھر پاکستان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی مانیٹری پالیسی کو سخت رکھے – ایک ایسی پالیسی جس نے پہلے ہی صنعتی پیداوار اور حکومت کے بجٹ پر بھاری اثر ڈالا تھاجہاں افراط زر کا دباؤ برقرار رہتا ہے، وہاں مانیٹری پالیسی کو سخت رہنا چاہئے اور مصر، قازقستان، پاکستان، تیونس، ازبکستان کی طرح اعداد و شمار پر منحصر نقطہ نظر پر عمل کرنا چاہیے، جبکہ افراط زر کی تبدیلی کے خطرات کا قریب سے جائزہ لینا چاہیے،پاکستان میں افراط زر کی شرح مارچ میں کم ہو کر 20.7 فیصد رہ گئی جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے شرح سود میں کمی کی گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے پھر بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عالمی قرض دہندہ نے کہا کہ اگر افراط زر توقع سے زیادہ تیزی سے کم ہوتا ہے تو ممالک کو احتیاط سے پیش رفت پر نظر رکھنی چاہیے اور اگر حالات سازگار ہوتے ہیں تو جلد ہی مانیٹری پالیسی میں نرمی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی افراط زر کی شرح 24.8 فیصد اور آئندہ مالی سال کے لیے 12.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ بیرونی شعبے میں استحکام حاصل کرنے کے حکومتی دعوے کے برعکس آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کے بیرونی شعبے کے بفرز خراب ہو چکے ہیں،آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بیرونی بفرز میں کمی آئی ہے جس سے زیادہ تر یورو بانڈ کی ادائیگیوں سمیت جاری قرضوں کی ادائیگی کی عکاسی ہوتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بہت سے ممالک کا کریڈٹ رسک گزشتہ سال کے دوران کم ہوا ہے اور یہ 2023 کے اوائل کی سطح کے قریب ہے لیکن وہ لبنان، پاکستان اور تیونس کے لیے پریشان کن سطح ایک ہزار بنیادی پوائنٹس سے زیادہ پر ہیں،عالمی قرض دہندہ کا کہنا ہے کہ مقامی فنانسنگ پر مسلسل انحصار سے خود مختار بینکوں کے گٹھ جوڑ میں مزید اضافہ ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ مصر اور پاکستان میں خود مختار قرضوں میں بینکوں کا پہلے ہی زیادہ حصہ ہے،ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق بینکوں نے اپنی بیلنس شیٹ کا اوسطا تین چوتھائی حصہ سرکاری قرضوں میں لگایا ہے۔ زیادہ قرضوں کی ضروریات میں کوئی کمی نہیں ہوسکتی ہے ، کیونکہ آئی ایم ایف نے بھی اگلے مالی سال کے لیے جی ڈی پی بجٹ خسارے کا 7.3 فیصد پیش گوئی کی تھی،گزشتہ 4 دن سے امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر ایک بار پھر گرنے لگی تھی، حالانکہ اس کی رفتار سست تھی۔ واشنگٹن میں بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ روپے کی قدر میں 6 سے 8 فیصد کی حد سے زیادہ کمی کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے

    صحافی و اینکر حامد میر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اہل وطن کسی دھوکے میں نہ رہیں آئی ایم ایف نے پاکستان کو دنیا کے ان چھ جنگ زدہ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جو شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں پاکستان کو عراق، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا ہے یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ہمارے امیر حکمران اپنے خرچے کم کریں

     

  • جنگ بذات خود انسانیت کے خلاف جرم ہے،پوپ فرانسس

    جنگ بذات خود انسانیت کے خلاف جرم ہے،پوپ فرانسس

    عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ جنگ بذات خود انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

    باغی ٹی وی: ویٹی کن میں ہفتہ وار دعائیہ خطاب کےدوران پوپ فرانسس نےکہا دعا ہےکہ بااختیار لوگ یہ حقیقت جان لیں کہ جنگ تنازعات حل کرنے کا راستہ نہیں، امن کی خواہش کے باوجود ہتھیاروں سے ہلاکتوں اور تباہی کا سلسلہ جاری ہے، جنگ سے صرف شہریوں کی اموات اور رہائشی علاقوں کی تباہی ہوتی ہے، دنیا اور لوگوں کو امن کی ضرورت ہے، ہمیں امن کی تعلیم دینی چاہیے، دنیا میں جنگ روکنے کی تعلیم دینا ہے-

    ایمازون جنگل میں گمشدہ شہر دریافت

    واضح رہے کہ غزہ میں وزارت صحت نے سات اکتوبر 2023 سے اب تک کے ایک سو دنوں کے دوران فلسطینی شہداء کے اعدادو شمار جاری کر دیے ہیں اتوار کے روز جاری کردہ ان اعدادو شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر تصدیق شدہ اور معلوم شہادتوں کی تعداد 23968 ہے۔ اسرائیل کی پچھلی کسی بھی جنگ میں فلسطینیوں کی جانیں لینے کی تعداد اور بچوں کی تعداد کے حوالے سے بھی بلند تر شرح ہے۔

    گلے پانچ سال میں تحریک انصاف مکمل طور پر ختم ہوجائے گی،پرویز خٹک

    غزہ میں شہید ہونے والوں کی اس تعداد کو اگر سو دنوں کے حوالے سے اوسطاً دیکھا جائے تو ہر روز غزہ میں 239 فلسطینیوں کی شہادتیں بنتی ہیں، ان میں گھریلو فلسطینی عورتوں اور فلسطینی بچوں کی تعداد کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

    غربت کی ماری عوام ، الیکشن کا ماحول؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

  • غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ  حزب اللہ

    غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے،سربراہ حزب اللہ

    حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، حزب اللہ 8 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے اچانک حملے کے ایک دن بعد جنگ میں داخل ہوئی تھی غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے-

    باغی ٹی وی : لبنان کے دارلحکومت بیروت میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد پہلی بار عوامی اجتماع سے خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھاکہ لبنانی اور فلسطینی شہیدوں کے اہلخانہ کو رتبہ شہادت حاصل کرنے پرمبارکباد اور تعزیت پیش کرتے ہیں، شہدا کا رتبہ منفرد رتبہ ہوتا ہے، صرف مسلمان ہی اس رتبے کو سمجھ سکتا ہے۔

    حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں شہری شہید ہوئے ہیں مسجد اقصیٰ کیلئے جاری جنگ کا دائرہ طویل ہوگیا ہے، مسجد اقصیٰ کیلئے جنگ میں مزید محاذ کھول دیئے ہیں ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، ہمیں شہدا کےاہل خانہ کےعزم اور ہمت پر فخر ہے۔

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

    ان کا کہنا تھا کہ شہادت ہماری طاقت ہے جس پر ہمیں فخر ہے، اس بات پر بھی فخر ہے کہ عراقی اور یمنی براہ راست جنگ میں شامل ہوچکے ہیں دنیا بھر میں اسرائیل کی مذمت کی جارہی ہے، حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے۔

    طوفان اقصیٰ کی جنگ وسیع تر ہوکر مختلف محاذوں اور میدانوں تک پہنچ گئی، اسرائیل کےخلاف طوفان الاقصیٰ کی جنگ انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے جائز اور حق کی جنگ ہے، صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر بھی شبہ نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی اسرائیل کی قید میں ہیں، طوفان الاقصیٰ آپریشن صرف فلسطین اور فلسطینیوں کیلئے تھا، اس آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بےنقاب کر دیا ہے، دنیا نے اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ طور پر آنکھیں بند کرلی ہیں، امریکا اسرائیل کی پوری طرح سے مدد کر رہا ہے، اسرائیل کےخلاف جنگ حق کی جنگ ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر گرفتار

    سربراہ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیل کی حماقت اور نااہلی کا عکاس ہے، کیونکہ وہ بچوں اور خواتین کو قتل کر رہا ہے انہوں نے اسرائیل کو ”کمزور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے ایک مہینے تک وہ ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکا، اسرائیل مذاکرات کے ذریعے غزہ میں قید اپنے لوگوں کو واپس لا سکتا ہے۔

    حسن نصراللہ کا کہنا تھاکہ 7 اکتوبر واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا اور حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا ضروی ہے، ہزاروں فلسطینی طویل عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں، 20 لاکھ فلسطینی 20 سال سے اسرائیلی محاصرے میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔

    ان کا کہنا تھاکہ طوفان الاقصیٰ فلسطینی مزاحمتی گروپ القسام بریگیڈز کا کامیاب کارنامہ ہے، حزب اللہ کو7 اکتوبر آپریشن سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی، 7 اکتوبر کے آپریشن کو انتہائی رازداری سے انجام دیا گیا، طوفان الاقصیٰ آپریشن فلسطینیوں کی جنگ ہے، اس کا علاقائی ممالک سے کوئی تعلق نہیں ایران کی حزب اللہ اور دیگرمزاحمتی گروپوں پرکوئی اجارہ داری نہیں، حزب اللہ کا اسرائیل کے خلا ف 7 اکتوبرکےآپریشن سےکوئی تعلق نہیں۔

    ایک ہفتے میں 12اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور 14 سستی ہوئیں،ادارہ شماریات

    ان کا کہنا تھاکہ طوفان الاقصیٰ آپریشن نے اسرائیل کو ہر سطح پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اسرائیلی کارروائیاں اس کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والے منفی اثرات کو ختم نہیں کرسکتیں، اس آپریشن نے اسرائیلی طاقت کی اصل حقیقت کھول کربیان کردی اور اسرائیل کا دفاعی نظام مکڑی کےجال سے زیادہ کمزور ثابت ہوا، اسرائیل کی بدترین ناکامی پر اسرائیلی عوام اور اسرائیل کے حامی تک کوشرمندگی ہوئی۔

    حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے یہ پچھلی جنگوں کی طرح نہیں ہے۔ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ دو مقاصد ہیں پہلا غزہ میں جنگ کو روکنا اور دوسرا حماس کو اس جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ اپنی کارروائیوں میں روز بروز اضافہ کر رہی ہے اور اسرائیل کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے کے بجائے لبنان کی سرحد کے قریب اپنی افواج رکھےحزب اللہ 8 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے اچانک حملے کے ایک دن بعد جنگ میں داخل ہوئی تھی لبنان کی سرحد پر اسرائیلی افواج کے ساتھ روزانہ فائرنگ کا تبادلہ معمولی لگ سکتا ہے لیکن یہ بہت اہم ہے اور اسے 1948 کے بعد سے بے مثال قرار دیا ہے۔

    ذکا اشرف سے شاہد آفریدی کی ملاقات

    نصراللہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اب تک حزب اللہ کے 57 جنگجو شہید ہوچکے ہیں لبنانی محاذ پر مزید کشیدگی کا حقیقی امکان ہے، اس طرح کی پیش رفت کا انحصار غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر ہے، لبنانی محاذ پر تمام آپشنز کھلے ہیں، حزب اللہ تمام امکانات کے لیے تیار ہے۔

    خطے میں امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی سے متعلق بات کرتے ہوئے نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ خوفزدہ نہیں ہے، جو کوئی بھی علاقائی جنگ کو روکنا چاہتا ہے اسے غزہ کی پٹی پر جنگ فوری طور پر بند کرنی چاہیےدوسری طرف لبنان اسرائیل سرحد پر شدید لڑائی جاری ہے تقریر کے موقع پر حزب اللہ نے تین ہفتوں سے زائد عرصے کی لڑائی میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر بیک وقت 19 حملے کیے اور پہلی بار دھماکہ خیز ڈرونز کا استعمال کیا۔

    خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حمایت یافتہ لبنان کی ایک طاقتور فوجی قوت حزب اللہ سرحد پر اسرائیلی افواج سے رابطے میں ہے، جہاں 2006 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ لڑنے کے بعد سے اب تک اس کے 55 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ جنگ کے آغاز کے بعد اپنی پہلی عوامی تقریر کرنے والے ہیں جبکہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن حالیہ ہفتوں میں ان کا تیسرا دورہ اسرائیل ہے۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ،14 جوان شہید

    الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 9,227 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیل میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • طوفان الاقصیٰ واحد حملہ نہیں،اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے

    طوفان الاقصیٰ واحد حملہ نہیں،اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے

    غزہ: حماس کے ایک عہدیدار غازی حماد نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر کا حملہ طوفان الاقصیٰ واحد آخری نہیں، اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (MEMRI) کی ایک رپورٹ کے مطابق غازی حماد نے کہا کہ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس کی ہماری زمین پر کوئی جگہ نہیں ہےہمیں اس ملک کو ختم کرنا ہوگا‘ہمیں اسرائیل کو سبق سکھانا چاہیے، اور ہم یہ بار بار کریں گے۔ طوفان الاقصیٰ واحد (حملہ) نہیں ہے، ہم دوسری، تیسری، چوتھی بار آئیں گے،کیونکہ ہمارا عزم ہے کہ لڑو۔
    https://x.com/MEMRIReports/status/1719662664090075199?s=20

    نیتن یاہو کا غزہ پلان کیا ہے؟ خفیہ دستاویزات لیک

    حماد نے اس حملے میں جانی قیمت کے بارے میں بھی بات کی، جو جنگ کے دونوں فریقوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے انہوں نے کہا کہ ریئم میوزک فیسٹیول میں ہونے والی ہلاکتیں ’زمین پر پیدا ہونے والی پیچیدگیوں‘ کا نتیجہ تھیں کیا ہمیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی؟ ہاں، اور ہم اسے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں شہیدوں کی قوم کہا جاتا ہے اور ہمیں شہداء کی قربانی پر فخر ہے اسرائیل کا وجود ہی اس سارے درد، خون اور آنسوؤں کا سبب بنتا ہے، یہ اسرائیل ہے، ہم نہیں۔ ہم قبضے کے شکار ہیں، کسی کو بھی ہم پر الزام نہیں لگانا چاہیے 7 اکتوبر، 10 اکتوبر، 10 لاکھ اکتوبر ، ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ جائز ہے۔

    آرمی چیف کی آذربائیجان کے صدر اور وزیردفاع سے ملاقاتیں

    دوسری جانب فلسطینی سیاسی کارکن احد تمیمی نے پیر کو ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی آباد کاروں کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    احد تمیمی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں لکھا کہ ’ہم مغربی کنارے کے تمام شہروں میں ہیبرون سے جینین تک آپ کا انتظار کر رہے ہیں، ہم آپ کو ذبح کر دیں گے اور آپ کہیں گے کہ ہٹلر نے آپ کے ساتھ جو کیا وہ ایک مذاق تھاہم تمہارا خون پی جائیں گے اور تمہاری کھوپڑی کو چبائیں گے۔ آجاؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔

    مارچ 2018 میں، احد تمیمی کو ایک اسرائیلی فوجی افسر اور سپاہی پر حملہ کرنے، تشدد کیلئے اکسانے، اور اسرائیلی فورسز کے سامنے مزاحمت کے چار الزامات پر آٹھ ماہ قید اور آٹھ ماہ پروبیشن کی سزا سنائی گئی انہیں 29 جولائی 2018 کو سزا پوری کرنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے افراد کی تعداد 8796 ہوگئی ہےفلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مجموعی طور پر غزہ میں اب تک 2290 خواتین اور 3648 بچے شہید ہو چکے ہیں کم از کم 22 ہزار 219 افراد زخمی ہیں، 2 ہزار 30 افراد اب بھی تباہ شدہ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن میں 1120 بچے بھی شامل ہیں۔

    حکام کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 130 ورکرز شہید ہو چکے ہیں جبکہ 28 ایمبولینسیں تباہ ہوچکی ہیں اب تک غزہ کے طبی نظام پر 270 سے زائد حملے کیے گئے ہیں جس کے باعث 35 میں سے 16 اسپتال اور 72 میں سے 51 طبی مراکز بند ہو چکے ہیں-

    بھارت میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور

  • اسرائیل کا وجود دنیا کیلئے کینسر کی مانند ہے. ایران

    اسرائیل کا وجود دنیا کیلئے کینسر کی مانند ہے. ایران

    ایران نے اسرائیل کو دنیا کے لیے کینسر کا پھوڑا قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک اس کے وجود کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جائے گا اسرائیل پر حملے جاری رہیں گے کیونکہ یہ ایک ظالم اور ناجائز ریاست ہے ۔ اس امر کا اظہار پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر علی فداوی نے کیا اور اس بیان کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ یہ پاسداران انقلاب کور کی طرف سے سامنے آیا ہے جس کے بارے میں تصور ہے کہ یہ کور ناصرف 1979 کے ایرانی انقلاب کی محافظ مانی جاتی ہے بلکہ اسے سپریم لیڈر کا غیر معمولی اعتماد بھی حاصل ہوتا ہے نیز یہ ایران سے باہر ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کی بھی سرپرستی کرنے والا ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔

    عالمی ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر کا یہ بیان سے ایک روز قبل ایرانی سپریم کمانڈر کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ پر بمباری نہیں روکتا تو مزاحمتی گروپوں کو اسرائیل پر حملے سے روکنا مشکل ہو جائے گا جبکہ پاسداران کمانڈر نے کہا ‘ مزاحمتی قوتیں اس وقت تک اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی جب تک دنیا کے نقشے سے اس سرطانی پھوڑے کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔’

    علاوہ ازیں ایران عام طور پر علاقائی سطح پر سرگرم اپنی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں کے لیے ‘ مزاحمتی قوتوں، مزاحمتی گروپوں اور مزاحمتی محاذ کی اصلاحات استعمال کرتا ہے۔ ‘ ان میں ایران کا حامی فلسطینی گروپ حماس بھی شامل ہے۔ جبکہ لبنان کی حزب اللہ وغیرہ بھی انہیں گروپوں میں شمار ہوتے ہیں اور ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر نے اسرائیل کو انتباہ کیا ہے ۔ اگر اسرائیل نے غزہ پر حملے جاری رکھے تو اسرا ئیل کو مزید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    خیال رہے کہ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ‘ اسرائیل حالیہ دنوں ہونے والے غیر معمولی حملوں کے بعد ابھی اپنے اوسان بحال نہیں کر پایا ہے۔ یہ اسرائیل کی ایک بڑی شکست ہے جو اسے حماس سے کھانا پڑی ہے۔ علی فداوی کا کہنا تھا اگر غزہ میں جرم جاری رہا تو دوسرے ممالک کے مسلمان بھی صہیونیوں کے خلاف مزاحمت کا حصہ بن جائیں گے۔ ہوسکتا ہے اسرائیل پر ایک اور حملہ راستے پر ہو یعنی کیا ہی جانے والا ہو۔
    ورلڈ کپ 2023: 256 رنز کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی آؤٹ
    سولہ سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی اور زہریلی اشیاء کھلانے کے واقعہ میں اہم ہیشرفت
    کورکمانڈر کانفرنس: دشمن عناصر کیخلاف پوری قوت سے نمٹنے کا عزم
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت

    علی فداوی نے اسرائل کے بارے میں کہا وہ غزہ میں سویلینز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کیونکہ مزاحمت کاروں کو نقصان پہنچانے میں ناکام ہو چکا ہے، دنیا کے مسلمان اس صورت حال کو ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ اسرائیل پر سات اکتوبر جیسے مزید حملے ہو سکیں، ادھر اسرائیل نے اپنے لاکھوں فوجی غزہ کی سرحد پر تعینات کر دیے ہیں۔ یہ تیاری اسرائیل نے غزہ پر ایک بھر پور زمینی حملے کے سلسلے میں کی ہے۔اسی سبب گیارہ لاکھ فلسطینوں کو غزہ سے نکل جانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

  • روس، یوکرین جنگ 24 گھنٹے میں ختم کروا سکتا ہوں،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوٰی

    روس، یوکرین جنگ 24 گھنٹے میں ختم کروا سکتا ہوں،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوٰی

    واشنگٹن : امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ روس اور یوکرین تنازعہ کو 24 گھنٹوں کے اندر ختم کروا سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :یرو شلم پوسٹ کے مطابق پیر کو فاکس نیوز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کیا کہ وہ 24 گھنٹوں میں روس یوکرین جنگ ختم کروا سکتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ ختم کرنے کا طریقہ بیان نہیں کیا تاہم انہوں نے کہا کہ وہ امن مذاکرات کی صدارت کرتے ہوئے ایسا کریں گے۔

    روس کے دفاعی نظام نے یوکرین کے داغے گئے امریکی ’ گائیڈڈ میزائل‘ کو ناکارہ .

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر 2024 کے صدارتی انتخابات کے اختتام تک جنگ ختم نہیں ہوتی ہےاوراگر وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس کے لیے منتخب ہو جاتے ہیں، تو وہ ایک دن کے اندر امن سمجھوتہ کر لیں گے۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، یوکرین کے زیلینسکی اور ان کے خود کے درمیان بات چیت آسان ہوگی تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں آپ کو یہ نہیں بتانا چاہتا کہ یہ کیا ہے کیونکہ تب میں اس مذاکرات کو استعمال نہیں کر سکتا-

    ایران اورسعودی وزیر خارجہ کا ماہِ رمضان میں ہی ملاقات پراتفاق

    ٹرمپ کا خیال ہے کہ جنگ اگلے سال کے آخر تک ختم نہیں ہوگی، یہ کہتے ہوئے کہ "یہ بھی ممکن ہے کہ ہم ان بیوقوفوں کے ساتھ تیسری جنگ عظیم میں ہوں گے جو وہ کر رہے ہیں آپ ایک ایٹمی دنیا میں ختم ہو سکتے ہیں ایس جنگ جس کے بعد پہلی اور دوسری جنگ عظیم پیٹی کیک کی طرح نظر آئے گی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر وہ 2020 میں وائٹ ہاؤس کے لیے منتخب ہوتے تو جنگ کبھی نہ ہوتی، اس دعوے کو دہراتے ہوئے جو انھوں نے چند ہفتے قبل کیا تھا جب انھوں نے کہا تھا کہ وہ روس کو یوکرین کے کچھ حصوں کو ضم کرنے کی اجازت دیتے تاکہ حملے کو روکا جا سکے۔

    شہزادہ ولیم کا یوکرین اورپولینڈ کی سرحد کے قریب اچانک دورہ

    اب تک کوئی کامیاب مذاکرات نہیں ہوئےترکی کی طرح دوسرے ممالک نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی کوشش کی ہے یوکرین نے کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے یوکرین میں جنگی جرائم کے الزام میں پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے تک وہ روس کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا-